بیداری اسلامی
 
بیداری اسلامی در احساس دانشمندان اسلامی

محل درج آگهی و تبلیغات
 
نوشته شده در تاريخ 2015/8/28 توسط عسکری ممتاز

انسان کو شروع سے ہی اپنے بارے میں ایک بڑی غلط فہمی میں رہی ہے اور اب تک اس کی یہ غلط فہمی  بدستور موجود ہے۔اور اس غلط فہمی کانتیجہ جس کا ہم طول تاریخ میں مطالعہ کرسکتے ہیں۔کبھی انسان اسی غلط فہمی کے تئیں افراط  پراتر آتا ہے تو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ بلند ہستی سمجھ لیتا ہے۔غرور ،تکبر اور سرکشی کی ہوا  اس کے دماغ میں بھر جاتی ہے۔کسی بھی طاقت کو اپنے سے بالاتر جاننا  تو دور کی بات ہے مدمقابل بھی نہیں سمجھتا ۔اور اناربکم الاعلیٰ کی صدا بلند کرتا ہے۔اور یوں اپنے آپ کو  کاملاً غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ سمجھتے ہوئے  وہ جبر و قہر کا دیوتا،ظلم و جور اور شر و فساد کا مجسمہ بن جاتا ہے۔جنکی بارز  مثال نمرود ،فرعون اور شداد  وغیرہ ہیں۔اور طول تاریخ میں انکے جیسے اور انکے راہ پر چلنے والوں کی کمی نہیں رہی اور اب بھی موجود ہیں۔انٹرنیشنل لیول سے لیکر علاقائی لیول پر انکے پیروکار مختلف رنگ و روپ میں پائے جاتے ہیں بس ان کو دیکھنے کے لیے ایک چشم بصیرت کی ضرورت  ہے  تاکہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ عبرت بھی حاصل ہو        فاعتبروا  یا اولی الابصار حق و باطل کی جنگ ہمیشہ سے رہی ہے اور رہے گی۔

بقول علامہ اقبال

                        موسی و  فرعون شبیر  و  یزید

                        این دو قوت از اذل آمد پدید

      اور ان طاقتوں میں آج بھی اسی انداز میں نبردآزما ہونے کی ضرورت باقی ہے۔اور دوسری طرف کبھی انسان اپنی اسی متذکرہ بڑی غلط فہمی کی وجہ سے اس قدر تفریط کی جانب مائل ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ ذلیل ہستی سمجھ لیتا ہے اور درخت ،دریا،پہاڑ،جانور،ہوا،آگ ،بادل ،بجلی،چاند ،سورج،تارے ،کیڑے مکوڑے،اعضائے جسمانی غرض ہر اس چیز کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور گردن جھکا دیتا ہے۔جس کے اندر کسی قسم کی طاقت ،نفع و ضرر موجود نہیں جو بظاہر انکو نظر آتی ہے نیز اپنے جیسے انسان میں بھی کوئی قوت دیکھتا ہے تو ان کو بھی دیوتا اور معبود کے طور پر قبول کرنے میں تامل نہیں کرتا۔اور اس کی مثال دیکھنے کیلئے اپنے پڑوس میں ہندوستان ہی کافی ہے جہاں  ایک تجزیہ کے مطابق پانچ ہزار سے زاید اشیاٗ ،حیوانات  اور نباتات کی بعنوان معبود  پرستش کی جاتی ہے  جبکہ دنیا بھر میں یہ عمل مختلف رنگ و روپ میں جاری ہے  جن میں اکثر  مادیات کے حصول کیلئے اپنی عزت آبرو انسانی کرامات پر داؤ لگاتے ہیں  دنیا کو حاصل کرنے کے غرض سے مکروفریب ،دھاندلی،جھوٹ،غیبت،تہمت،چغلی،چوری،عہد شکنی، غرض ہر وہ برائی گناہ اور جرم کو ذریعہ بناکر کسی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یا جہالت کی وجہ سے بحرحال ان سب کا شمار بے شک اسی متذکرہ انسانوں میں ہوتا ہے۔جو ہر چیز کے سامنے جھکنے کیلئے تیار رہتا ہے جبکہ خدا نے اس انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور زمین پر اپنا نمائندہ بناکر بھیجا ہے۔ حضرت علی ؑ کا فرمان ہے( ائے انسان تم غیروں کا غلام من بنو کیونکہ خدانے تجھے آزاد پیدا کیا ہے) غلامی ایک بہت بری عادت ہے اور اس عادت کی مذمت اسلام میں بھی ہوئی ہے اور دنیا کا کوئی بھی معاشرہ اس خوی غلامی کو قبول نہیں کرتا۔

بقول علامہ اقبال  

      آدم   از   بی  بصری    بندگی   آدم کرد               گوہری  داشت  مگر  نذر قبادو جم کرد

      آدم از خوی غلامی زسگاں خوار تراست               من ندیدم کہ سگی  پیش سگی  سرخم کرد۔

     فرماتے ہیں انسان کی بصریت جب ختم ہوجاتی ہے تو دوسروں کی غلامی شروع کردیتا ہے۔کیونکہ آزادی ایک گراں بہا گوہر ہے جو انسان کے پاس ہے اور جب انسان کی بصیرت چلی جاتی ہے تو وہ اس گوہر گراں بہا کو دوسروں کی قدموں میں نچھاور کردیتا ہے۔اور غلامی کی عادت اس میں پیدا ہوجاتی ہے جب یہ عادت اس میں آجائے تو وہ انسان کتوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوجاتاہے حتی کہ میں نے کسی کتے کو کسی دوسرے کتے کے سامنے جھکتے ہوئے نہیں دیکھا جبکہ انسان انسان ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے سامنے جھک جاتا ہے۔اوریہ بڑی افسوس کی بات ہے۔اور اس غلامی کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہے کوئی پیسے کا غلام ہوتا ہے کوئی ظاہری عزت کا غلام،کوئی شہرت کا غلام،کوئی عہدے کا غلام،کوئی شہوت کا غلام اور کوئی طاقت کا غلام  ہوتا ہے۔اور یہ غلامی چاہے جس شکل میں بھی ہو اور جس انسان میں غلامی کی صفت آجائے وہ انسان قرآن کی نظر میں ذلیل اور وہ حیوانات سے بھی بدتر ہوکر رہ جاتا ہے۔اسی لیئے اسلام نے ان دونوں انتہائی تصورات (افراط و تفریط) کو باطل قرار دیکر انسان کی اصلی حقیقت اس کے سامنے پیش کیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

        انسان اپنی حقیقت تو دیکھے کہ کس چیز سے پیدا ہوا؟ایک اچھلتے ہوئے پانی سے جو پشت اورسینے کی ہڈیوں کے درمیان سے کھینچ کر آتا ہے (‎طارق 6و7)۔

        کیا انسان یہ نہیں دیکھتا کہ ہم نے اس کو ایک قطرہ آب سے بنایا ہے اور اب وہ کھلم کھلا حریف بنتا ہے اور ہمارے لئے مثالیں دیتا ہے۔اور اپنی اصل کو بھول گیا ہے ۔(یس 77و78)

         انسان کی ابتداء مٹی سے کی پھر مٹی کے نچوڑ سے جو پست پانی ہے اس کی نسل چلائی پھر اس کی بناؤٹ درست کی اور اس میں روح پھونکی۔(سجدہ 7و8و9)

      اور لاتعداد آیتیں ان آیات میں انسان کے غرور اور تکبر کو توڑا گیا ہے اور دوسری طرف سے یہ توجہ بھی دلائی گئی ہے کہ ذرا اپنی حقیقت کو تو دیکھ۔ایک نجس اور حقیر بدبو دار پانی کا قطرہ جو رحم مادر میں مختلف نجاستوں سے پرورش پاکر گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے۔خدا چاہے تو اس لوتھڑے میں جان ہی ڈال دیں ورنہ یونہی غیر مکمل حالت میں خارج ہوجائے۔خدا اپنی قدرت سے اس لوتھڑے میں جان ڈالتا ہے اس میں حواس پیدا کرتے ہے۔اور ان آلات اور ان قوتوں سے اس کو مسلح کرتا ہے۔جن کی انسان کو دنیوی زندگی میں ضرورت ہوتی ہے۔اس طرح انسان دنیا میں ا ٓتا ہے مگر اسکی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک بے بس بچہ ہوتا ہے۔جس میں اپنی کوئی حاجت پوری کرنے کی قدرت نہیں ہوتی بے چارہ ہوتا ہے۔خدا ہی نے اپنی قدرت سے ایسا اہتمام کیا کہ اے انسان تیری نشودنما ہوتی ہے تو بڑھتا ہے توجوان ہوتا ہے طاقتور اور قادر ہوتا ہے۔پھر ان قوتون میں انحطاط کا عمل شروع  ہوتا ہے تو جوانی سے بڑھاپے کی طرف جاتا ہے۔یہا ں تک کہ ایک وقت میں تجھ پر پھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔جو بچپن میں تھی۔تیر ے حواس آہستہ آہستہ جواب دے دیتے ہیں تیری قوتیں ضعیف ہوجاتی ہے تیرا علم نسیا منسیاََ ہوجاتا ہے۔اور آخر کار تیری شمع حیات خاموش ہوجاتی ہے۔مال ،اولاد،عزیز ،دوست،اقارب  اور ہمیشہ تجھ پر  مرمٹنے کی قسم کھانے والے تیری پارٹی کارکن یا لیڈر ،تجھ کو قرض دینے والے یاتجھ سے قرض لینے والے تجھ سے مدد مانگنے والے یا تیری مدد کرنے والے،تمہاری سفارش کرنے والے یا جو تم سے سفارش کے طالب تھے الغرض سب کو چھوڑ کر قبر میں جاپہنچتا ہے۔اس مختصر حیات میں تو  ایک سکینڈ کیلئے بھی اپنے آپ کو مزید زندہ رکھنے پر قادر نہیں ہے۔تجھ سے بالاتر ایک قوت ہے جو تجھے زندہ رکھتی ہے اورجب وہ چاہتی ہے تجھ کو دنیا چھوڑنے پر مجبور کردیتی ہے۔پھر جتنی مدت تو زندہ رہتا ہے قوانین قدرت سے جکڑا رہتا ہے۔یہ ہوا ،یہ پانی،یہ روشنی،یہ حرارت ،یہ زمین کی پیداوار،یہ قدرتی سازوسامان،جن پر تیری زندگی کا انحصار ہے ان میں کوئی ایک چیز بھی تیرے بس میں نہیں۔نہ تو ان کو پیدا کرتا ہے نہ تیرے احکام کے طابع ہیں۔یہی چیزیں سب تیرے قدرت  کے خلاف آمادہ پیکار ہوجاتی ہے توتو اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں بے بس پاتا ہے۔ایک ہوا کا جھکڑ تیری بستیوں کو تہہ و بالا کردیتا ہے ایک پانی کا طوفان تجھے غرق کردیتا ہے۔ایک زلزلے کا جھٹکا تجھے پیوند خاک کردیتا ہے۔شہر کے شہر کو خاک یکسان کردیتا ہے۔تو خواہ کتنے ہی آلات سے مسلح ہو اپنے علم سے انسان (جوکہ خود تیرا اپنا پیدا کیا ہوا نہیں ہے) کیسی ہی تدبیریں ایجاد کرلے۔قدرت کی طاقتوں کے سامنے یہ سب چیزیں  ہیچ  ہیں اور تو ان عاریہ  میں ملی ہوئی چیزوں کے بل بوتے پر اکڑتا ہے۔پھولے نہیں سماتا کسی طاقت کو خاطر میں نہیں لاتا ،فرعونیت ،نمرودیت اور شدادیت کا دم بھرتا ہے۔جبار وقہار بنتا ہے۔ظالم اور سرکش بنتا ہے۔خدا کے مقابلے میں بغاوت کرتا ہے ،خدا کے بندوں کا معبود بنتا ہے۔اور خدا کی زمین میں فساد پھیلاتا ہے ظلم کرتا ہے  ظالموں کی حمایت کرتا ہے  یتیموں کمزوروں اور ناداروں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالتا ہے الغرض کسی بھی جنایت سے باز نہیں رہتا۔اب ان معروضات کی روشنی میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ معاشرے میں ہم کیا کردار ادا ررہے ہیں۔خدا نخواستہ دانستہ یا نادانستہ طور پر ہم افراط اور تفریط کے شکار تو نہیں ہورہے یا ایسے افراد کو ہم نے اپنا آئیڈیل تو قرار نہیں دیا ِ  یا خود  ا نجانے میں ایسے افراد کا آلہ کار تو نہیں بنا ہوا ہے  بڑا ہی نکتہ ہے یاران نکتہ داں کیلئے۔

راقم نے پچھلے سال سیاست اور اسلامی طرز زندگی کے عنوان سے کچھ عرائض جوکہ قبل از انتخابات میری  ناقص نظر میں لوگوں کے جاننے کی ضروری باتیں تھیں۔مختصر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی اب جبکہ انتخابات کے بعد جبکہ کافی وقت گذرجانے اور حکومت سازی بھی ختم ہونے کے بعد بھی ہم موسم انتخابات سے نہیں نکلے ہیں ہونا یہ چاہئے  اور ضرورت اس بات کی ہے  ہمیں اب نئی سیاسی زمین پر اپنے معاشرتی ،معاشی،مذہبی،اخلاقی امور کو ارتقاء کی منزلوں کی طرف لیجانے  کے لیئے بھرپور کوشش کرنی ہے اور اس بات کی ضرورت ہے اس ضرورت کی تکمیل کیلئے معاشرے میں موجود افراد میں سے ایک فرد کی حیثیت سے کم از کم ہماری جو ذمہ داری بنتی ہے مختلف حوالوں سے اس ذمہ داری کو پوری کرنے کی سعی اور تلاش اور حد الامکان کوشش کی جائے اب انتخابات کو رونے سے کیا فایدہ جو ہوا سو ہوا۔اور یہ سوچ درست نہیں کی میں اکیلا بھلا معاشرے کے لیئے کیا کرسکتا ہوں؟

بقول شاعر

            افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر         

            ہر  فرد  ہے   ملت   کی   مقدر کا ستارہ

     ہمیں ایک دوسرے کو کو سنے الزام تراشی کرنے کسی کی ناکامی کو کسی سے جوڑنے اور کسی کی کامیابی کو کسی کی کوشش جاننے جیسی باتوں کو بالائے طاق رکھ کر مل جل کر اگے بڑھنے کی کوش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہارنے والا سیاستدان یہ نہ سمجھے اب جبکہ میں میدان سیاست میں اس بار ہار گیا ہوں تو میری کوئی ذمہ داری نہیں ایسی فکر کا انسان سیاستدان کجا  انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں بلکہ اسے ہرمیدان میں آگے آگے رہ کر عوام کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے  اب اس کے پاس کافی وقت بھی موجود ہے اور اپنی ناکامی کے اسباب کا بغور مطالعہ کرنے کیلئے بھی اس فرصت سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے یہ کہ اس کا کون سا اقدام درست اور کون سا کام غلط تھا کس کے مشورے پر عمل پیرا ہونے کا کیا صلہ ملا کیونکہ جو زندگی کے تجربیات سے سبق حاصل نہیں کرتا وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتاحتی وہ ظاہری طور پر کامیاب ہوکر بھی ہمیشہ ناکام ہی رہتا ہے۔اور جن لوگوں نے بظاہر اس میدان میں اس مرحلے میں کامیابی حاصل کی ہے انکی ذمہ داری دوچندان ہے  وہ جہاں سے جس پلیٹ فارم یا جس پارٹی کے ٹکٹ سے کامیاب ہوا جن جن لوگوں کی حمایت اور ہماہنگی انکی کامیابی میں شامل ہے یاد رکھنا  انکا احترام قابل قدر  اقدام ضرور ہے لیکن اب جبکہ وہ کامیاب ہوکر علاقے کا نمائندہ بن کر ایک مجلس قانون ساز کا  ممبر یا رکن بنا ہے تو وہ اب علاقے بھر کا نمائندہ ہے۔نہ پارٹی کا نہ کسی شخصیت کا نہ کسی خاندان کانہ کسی قوم کا نہ کسی مکتب فکر یا مذہب کا بلکہ ہر اس فرد کا جن کا اس علاقے سے تعلق ہو خواہ  وہ اس کا ووٹر ہو یا مخالف کا وہ اس علاقے کے ہر فرد کے تمام تر حقوق کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اور منتخب نمائندئے کو ہر فورم پرلوگوں کو انکے حقیقی حقوق دلانے کی اپنی پوری کوشش اور اپنی تمام تر توانائیوں کو برؤ کار لانے کی ضرورت ہے۔اور یہ انکی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی ان پر شرعاََ و قانوناََ اور اخلاقی طور پر لازم  اور ضروری ہے۔اگر وہ ذلیلانہ حرکتوں،انتقام جوئی،اقراء پروری،عیش و عشرت،غرورو تکبر جیسی نیچ حرکتوں پر اتر آئے تو نہ علاقے میں کوئی ترقی ہوسکتا ہے نہ معاشرے میں کوئی بہتری آسکتی ہے۔نہ خود اسکو کو ئی اس عمل کا فایدہ ہوسکتاہے بلکہ آئندہ شکست فاش سے دوچار ہونیکی وجہ سے بھی بن سکتی ہے اور یہ سب عملًا ہوتا ہے اور ہمارے سامنے کی باتیں ہیں یہ قانون فطرت ہے اور فطرت کے قوانین سے کسی کو بھی فرار حاصل نہیں ۔

     اسی طرح سیاستدانوں کے علاوہ معاشرے میں کردار ادا کرنے والے دوسری شخصیات علماء کرام ۔دانشور حضرات،سماجی شخصیات،لوکل انتظامیہ کے ذمہ دار افراد ،اساتذہ،طلاب،تاجر،صحافی برادری،ملازمین، زمیندار،  مزدوراور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی سے مربوط افراد کو بہتری کیلئے سوچنے،فکر کرنے نظریہ دینے  اور تعاون کرنے کی ضرورت ہے جو جہاں جس حد تک کردار ادا کرسکتا ہے وہ کردار ادا کرے بھرپور کردار ادا کرے۔منفی سوچوں اور منفی فکر کو ہر اسٹیج پر دبانے اور سرکوب کرنے کی کوشش کرے،مفاد عامہ کو اجاگر کرنے اور اس فکر کو عام کرنے کیلئے کوششیں کی جائیں۔جہالت،ظلم،ناانصافی،زیادتی اور تمام معاشرتی اخلاقی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے یک قلب و یک جان ہوں۔اور اس کام کیلئے ضروری ہے ہر کوئی تمام تر تعصبات لسانی،علاقائی اور مذہبی تفرقات سے دوری اختیار کرتے ہوئےاتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرے وگرنہ زبانی جمع خرچ جو کہ اکثر لوگ کرتے ہیں اور میدان عمل میں برعکس عمل کرتے ہیں  اس عمل سے لوگوں کو ایک دوسرے دور اور بدظن کرنے کا علاوہ کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

    گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات جون 2015کو ختم ہونے کے بعد جو نتائج سامنے آئے وہ سب کے سامنے ہیں نتائج برخلاف بعض تجزیہ کار جو مختلف انداز سے اخباروں،ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر پیش گوئی کرتے رہے اور انقلاب کی باتیں ہوتی رہی۔اور اپنی باتوں کی تصدیق کیلئے انتخاباتی دوروں جلسوں ،جلوسوں کو دلیل بناکر پیش کرتے رہے۔تو دوسری طرف لوگوں کی حمایت اور مخالفت کے اعلانات اور اخباری اشتہاروں اور بیانات کو کسی کی ہارجیت کیلئے سنگ میل قرار دیتے رہے ہارنے والوں کو جیت کی نوید سناتے رہے اورجیتنے والوں کو ہارنے کی خبریں سننے کو ملتی رہیں۔اور یہ بھی حقیقت ہے ہر جماعت یا امیدوار نے حسب استطاعت پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کیا اور یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں البتہ مقدار اور طریقہ کار میں اختلاف ضرور ہوسکتا ہے۔اس دوران فوج نے امن و امان کی صورت حال پر کنٹرول کی کامیاب کوشش کی اور اس لحاظ سے پرامن انتخابات پر ہماری فوج قابل تحسین ہے البتہ ایک ادہ واقعات بھی رونماء ہوئے جوکہ افسوس ناک اور کسی حد تک طبیعی بات تھی۔البتہ دھاندلی بھی ہوئی ہوگی اور اس بات سے منکر کی عقل پر شک کیا جاسکتا ہے۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ دھاندلی کس حد تک ہوئی اور دوسرے انتخابات کی نسبت اس کا ریشو موجودہ انتخابات میں کیا تھا قابل بحث ہے اور ہماری بحث سے خارج ایک موضوع ہے۔

     ہمارا خطہ تاریخی اورجعرافیائی لحاظ سے ایک مذہبی خطہ اور مخصوص رسومات اپنی زبان اور ثقافت سے مالا مال ہونے کیساتھ ساتھ دلفریب قدرتی مناظر ،دلکش تفریحی مقامات،بلند ترین پہاڑی چوٹیوں ،قیمتی پتھروں  سے لبریز چٹانوں،زرخیززمینوں ،انواع و اقسام کے پھلوں پھولوں ،گرم و سرد چشموں اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے ساتھ ہی یہ علاقہ ہنداور چین کی سرحدوں کی وجہ سے بین الاقوامی اہمیت کا حامل خطہ بھی ہے۔بام فلک دیوسائی ہو یا کے ٹو ،دریائے سندھ کا منبع ہو یاکارگل کا محاذ، سیاچن کا عالمی شہرت یافتہ میدان جنگ ہویا شاہراہ ریشم کی زمین الحق اتنی بڑی اہمیت اور اتنی زیادہ بے مثل خصوصیات شاید ہی دنیا کے کسی خطہ کی قسمت میں یکجا لکھی گئی ہو بعید ہے اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بغیرمبالغہ کے اس خطہ زمین کو دنیا کی مہم ترین خطہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔دنیا کے تین ایٹمی اور دو اقتصادی اوربڑی آبادی والی قوتوں کو ملانے والا مرکز کوئی معمولی بات نہیں ساتھ ہی ساتھ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے یہ عظیم ترین خطہ محروم ترین خطہ بھی ہے ہر لحاذ سے۔اس علاقے میں ترقیاتی کام آزادی کے 67سالوں کے بعد بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ان علاقوں میں اب تک بے پناہ پانی ہونے کی باؤجود لوگ پینے کے صاف پانی کیلئے ترستے ہیں۔سڑکوں کی حالت ناگفتہ ہ بہ ہے پروازوں کا نظام یہاں کے عوام کیساتھ کھلم کھلا تذلیل اور مزاق کے علاوہ کچھ نہیں۔اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر نہ بجلی کافی ہے نہ ایندھن کا انتظام خلاصہ جس شعبہ میں دیکھے خرابی ،دھاندلی ،بدنظمی،افراد تفری،کا م چوری اور من مانی کے علاوہ کچھ نہیں ان تمام تر محرومیوں اور خرابیوں کی جڑ یہاں کے عوام کو ظالمانہ طور پرآئینی اور قانونی حقوق سے محروم رکھنا ہے اور مقامی طور پر تعلیم کی کمی سیاست دانوں کی خراب کارکردگی اور بہت ساری چیزیں ہوسکتی ہیں۔حکومتیں 1948سے جب یہاں کے لوگوں نے اپنی مدد آپ اس مہم ترین علاقے کو ڈوگرہ کی ظالم اور غاصب حکومت سے آزاد کیا پھرانتہائی خلوص نیّت کیساتھ اسلام کے نام پر بننے والا دنیا کا پہلا ملک اور پہلی اسلامی جمہوری حکومت کے ہاتھوں میں سونپ دیا لیکں حکومتیں آج تک مختلف بہانوں سے اس خطے کو آئین اور قانون سے محروم رکھتی آئی ہیں ان بہانوں کی قیمت کوڑی کے برابر بھی نہیں اور جس جس کا اس سارے تعصب آمیز اور ظالمانہ عمل میں ہاتھ ہے وہ اس خطے کے اور خطے کے عوام کے مجرم ہیں اور یہ ایک الگ داستان ہے بہرحال اس خطے سے جو بھی فرد اس ظلم پر راضی ہو یا خاموش رہے وہ سب بھی قوم کے غدار ہیں اور ویسے بھی ملک کے نالایق حکمرانوں سے کیا خیر کی امید ہو سکتی ہے جنہوں نے اس عظیم الشان ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے وہ بھلا ہمارے لئے کیا کرینگے لیکن آئینی حق کوئی خیرات نہیں جو یہ نالایق لوگ ہمین دیں گے بلکہ یہ ہمارا حق ہے اور ٹھوس حکمت عملی ،اتحاد اور وحدت  کے ذریعہ اس حق کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ جمہوریت کا تقضابھی ہے عوامی طاقت سے حقوق کا حصول اور محرومیوں سے نجات۔

اسلامی  جمہور  کا  آتا  ہے  زمانہ

جونقش کہن تم کو نظر آئے مٹادو

     ہم مسلمان ہیں اسلامی،قرآنی اورآحادیث کی تعلیمات،علماء اور حکماء کے اقوال منطق اور عقل کی روشنی میں یہ ایک واضح فارمولا ہے ہر چیزاسلام پر قربان ہوسکتی ہے لیکن اسلام کو کسی چیز پر قربان نہیں کیا جاسکتا اور کسی مسلمان کواس بات سے اختلاف نہیں ہو سکتا ہم دیواروں پر لکھتے ہیں تقریروں میں بولتے ہیں مضامیں میں ذکر کرتے ہیں گفتگو میں برملا اظہار کرتے ہیں لیکن میدان عمل میں برعکس عمل کرتے ہیں ۔

    مذہبی سیاسی جماعتوں کے بارے میں یہ بات بڑی اہمیت کے حامل ہے کہ اس بار تمام تر تاریخی عقلی اور اخلاقی اقدار اور عقل و منطق کے برخلاف عمل کرتے ہوئے دو مذہبی بڑی پارٹیاں آپس میں دست وگریبان ہوئی اور خالص فائدہ اس اختلاف کا حکمران پارٹی کو حاصل ہوا متذکرہ دونوں پارٹیاں اپنی اصالت اور حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے کیا کیا کرتی رہیں اور انکے حامیوں نے کیا کہا لکھا اور پڑھا گیاوہ سب دہرانے کی ضرورت نہیں اور ایک الگ بحث ہے کونسی پارٹی آئین قانونی ضوابط اور اداروں پر یقین رکھتی ہے اور کونسی نہیں یہ باتیں ہماری بحث سے خارج  پرانی باتیں ہیں اورہم اس بارے میں اظہار رائے سے قاصر ہیں جو جاننا چاہے وہ مختصر تاریخی مطالعے سے پتہ لگا سکتا ہے۔ہاں ایک بہت بڑا مغالطہ ہے میری نظر میں یہ کہنا کہ ہر پارٹی اپنی جواز وجودیّت کیے لئے یہ کہتی نظر آتی ہے ہمارا ہدف اور مقصد ایک ہے راہ اور روش میں اختلاف ہوسکتا ہے بالکل ٹھیک ہے لیکن روش میں اختلاف سے مراد یہ تو نہیں ایک کام میں دونوں کود پڑیں اور آپس میں جگڑا ،فساد،غیبت ،تہمت ،ہتک عزت،کردار کشی ،نازیبا الفاظ کا استعمال ،ضد،حسادت اور دشمنی جیسی چیزوں کا بہتات ہو اور وہ بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اور پھر کون ان پہ یقین کرسکتا ہے اور اوپر سے یہ سب مذہب ،مکتب اور دین کے نام پر الاعیاذباللہ۔کہ ان کا ہدف اور مقصد ومنزل ایک ہو جبکہ یہ پارٹی کے مفادات پر قومی اور ملت کے مفادات کو ہر آن قربان کرنے کیلئے تیار نظر آئیں اور اس بازی میں اس حد تک آگے بڑھ جائیں اور اپنی ہر غلطی کو وحی منزل اور مخالف کی حتی صحیح بات کو بھی ماننے کیلئے تیار نہ ہواغیار کی حمایت ممکن اور اپنے ہی لوگوں پر الزامات کی بوچھاڑ کیساتھ مسترد کردے جہاں اختلاف برائے اختلاف ہو وہاں یہ باتیں معمول کی ہوا کرتی ہیں اور اس طرح کی حرکتوں سے ملت کو نہ قومی سطح پر نہ علاقائی سطح پر نقصان کے بجائے کوئی فائدہ نہیں ہوا ابھی نقصانات کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے ۔

ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا

اگے اگے دیکھئیے ہوتا  ہے کیا

      خیر یہ بات تو اظہر من الشمس ہے اور سب سے بڑی افسوک کی بات یہ ہے کہ ہم حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے حضرت علی ؑ  فرماتےہیں(عبرت حاصل کرنے کی چیزیں کتنی زیادہ ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے بہت کم) اتنا سرمایہ قوم کا مادی بھی اور معنوی بھی فقط اس انتخابات میں صرف ہوا جس کا کوئی حد و مرز نہیں اور جتنا بڑانقصان ہوا وہ بھی ناقابل تلافی نقصان ہے آخر کیوں۔ان باتوں کی تفصیل پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔یہ پارٹیاں واقعا اگر کچھ کرنا چاہتی ہیں تو قومی سطح پر اور خاص طور پر علاقائی سطح پر اپنا محاسبہ کریں احیاناً اپنی صفوں میں موجود مفاد پرست اور اختلاف پسند عناصر کو تلاش کریں اور ایسے لوگوں کو اپنی صفوں سے فلفور خارج کریں عملی طور پر مثبت کردار اورعملی اصلاحات کے ذریعہ کھوئے ہوے مقام کو پانے کی کوشش اوربرتری دکھانے والی سیاست چھوڑ کر حسن نیّت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے کے کلیدی مسائل کو حل کرنے کی ہرممکن کوشش کریں الزام تراشی، تہمت، غیبت ،حسد ،اخباری بیان بازی اورمیڈیا پرایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے نہ کسی کو فائدہ ملا ہے نہ ملے گا ورنہ ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔

    اور وہ تمام افراد جنہوں نے مختلف عناوین کے تحت ان پارٹیوں کیلئے عملی میداں میں کام کیا کوششیں کی دن رات ایک کردیے وہ بھی سوچیں کہ آیا ان کی محنتیں اکارت گئی ہیں یا واقعاً ملت اور قوم کا کوئی فائدہ ہوا ہے ؟انکا کردار کیسا تھا اور اب کیا کرنا چاہیے اور یہ جب ممکن ہوگا بشرطیکہ آپ نے اپنی حمایت کسی شخصی مفاد کے تحت پارٹی سے نہ کی ہوبلکہ اپنی ذمہ داری سمجھ کر خالصانہ اورفی سبیل اللہ کی ہو۔

    ان تمام تر حالات میں ایک طرف ہماری بعض محترم شخصیات تھیں اور کچھ ادارے تھے جو غیر سیاسی تھے کچھ غیر سیاسی تنظیمیں تھیں جو بہتری کیلئے کردار ادا کرسکتی تھیں جنہوں نے غیر جانب دار انہ کردار ادا کیا اور مذہبی پارٹیوں کے حوالے سے مساوات سے کام لیتے ہوئے دونوں کوایک آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی جوکہ بذات خود قابل ستائش عمل تھا اور اس عمل کے نتیجے میں میرے نزدیک کافی ممکنہ خطرات اور نقصانات کا روک تھام بھی ہوا پھر بھی اس رویے کے بارے میں بعض لوگ تنقیدی نگاہ رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس عمل کو سراہتے نظر آتے ہیں اس بارے میں عرض خدمت یہ ہے کہ تمام تر حالات واقعات اور سامنے آنے والے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے انکے لیئے اپنے عمل پر نظر ثانی کی گنجایش موجود ہے وہ حضرات ادارے اور تنظیمیں اور انکے ذمہ دار افراد اس سارے معاملات پر نظر ثانی کی روشنی میں جو کردار انہوں نے ادا کیا ہے کتنا مناسب اور مفید ثابت ہوا ؟یا اس سے بھی زیادہ مناسب کردار ہوسکتا تھا جو مفادعامہ میں زیادہ سود مندہوسکتا تھا ؟فائدہ یہ ہوگااس باز بینی کے نتیجے میں آئندہ کیلئے کوئی بہتر لائحہ عمل ترتیب دینے میں آسانی ہوگی۔

کچھ لوگوں نے خالص نیت کے تحت انتخابات کے قریب قریب عجلت میں مذہبی رقباء میں مصالحت کے لئے کچھ کرنے کی اپنی سی کوشش کی تاکہ کم از کم یہ لوگ آپس میں دست و گریباں نہ ہوں البتہ یہ انکی قانونی ذمہ داری نہیں بنتی تھی اور نتیجہ یہ کہ ہر ناسنجیدہ اورناپختہ ارادوں کو اہمیت دیتے ہوئے عجلت میں انجام پانے والا کسی بھی عمل کا مثمر ثمر نہ ہونا ایک سیدھی سی بات سمجھی جاتی ہے لذا یہ کوشش ناکام ہوئی البتہ اخلاقی طور پر ایک مستحسن کوشش تھی جوکہ طرفین کی عدم توجہ اور وعدہ خلافیوں اور اس عمل کو نظر انداز کرنے کی نتیجہ میں کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی اور عدم اتفاق کی کئی طرح کی جوہات تھیں مندرجہ بالا کے تحت لیکن جو لوگ تنہا حکومت بنانے کی باتیں کرتے ہوئے ان باتوں کو نظر انداز کرتے رہے انکو کم از کم اب اس بات کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہوجانا چاہئے تاکہ آئندہ خیالی پلاؤ کھانے کی عادت سے باز رہے۔

      خلاصہ کے طورپر اہلیاں شمال سے یہ عرض کرنا مقصود تھا وہ یہ کہ انتخابات ہوتے رہیں گے۔اور سیاسی مذہبی غیر مذہبی پارٹیاں یہاں آتی رہیں گی اور ہم انکو جتواتے رہیں گے۔اور انکی حکومتیں یہاں بنتی رہیں گی ہم کسی کی حمایت کسی کی مخالفت میں اپنی کرامت حیثیت،عزت،آبرؤ  انسانیت حتی دوستیاں، رشتہ داریاں ،محبت اور مروّت داؤ پر لگاتے رہیں گے۔اور آپس میں لڑتے جھگڑتے،تہمت،ناروانسبت اور الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔افراط و تفریط کا شکار ہوتے رہیں گے مگر ایساکب تک ہوتا رہے گا اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔کیا ہم اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کیا ہماری ذمہ داری یہ ہے یا ہمیں خواب گراں اب سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے اگر ہم آج بھی اس ترقیافتہ دور میں بھی خواب گراں سے نہیں اٹھیں گے اور نو ظہور چیلنجز سے مقابلہ کرنے کیلئے خود کو تیار نہیں کریں گے۔مذہبی علاقائی،خاندانی پارٹی بازی اور غیر منطقی فکری نظریاتی اختلافات کی نفرتوں سے نجات حاصل نہیں کرینگے۔اور کما فی السابق شخصی مفادات کو مفاد عامہ پر ترجیح دیتے رہیں گے تو ترقی امن ،آشتی،آئینی حقوق کا حصول ،جہالت سے نجات،محبت بھائی بندی کا فروغ ،عدالت ،اجتماعی کا قیام ،ظلم بربریت سے نجات،روزگار،اعلی تعلیم،علاج ومعالجہ کے امکانات کا حصول ،ذرائع آمدرورفت کے امکانات میں بہتری،مقامی صنعتوں ،سیاحت وغیرہ کا فروغ اور خاص کر ثقافت ، اخلاق دین و مذہب کا تحفظ اورافراط و تفریط سے دوری جیسے خواب کبھی بھی کسی قیمت پر شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔دشمنی ،نفرت ،جہالت، اختلافات ،حسد ،بغض اور منافقت جیسی بیماریوں سے نجات پائے بغیر صدیوں کا وقت گذرجائیگا لیکن ہم یہیں ہوں گے جہاں آج کھڑے ہیں (جب چڑیا چک گئی کھیت اب پچھتاوے کیا ہوت) پھرپچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔

      کیونکہ قانون الہی کبھی متغیر نہیں ہوتا اور قرآن کا ارشاد کبھی ناحق نہیں ہو سکتا بیشک اللہ کسی قوم (کی حالت) کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اس (کی حالت) کو نہ بدلیں۔سورۃ الرعد آیت نمبر11

شاعر نے آیہ کریمہ کو بہتریں پیرائے میں یوں کہا ہے کہ۔

خدا نے آج  تک اس  قوم کی حالت نہیں  بدلی  

نہ ہو جس کو خیال خود اپنی  حالت کے بدلنے کا

    اور اس معاملے میں معاشرے میں جو خواص کا طبقہ ہے علماء ،زعماء،دانشور،سیاستدان،سرمایہ داراور طلباء  وغیرہ انکی ذمہ داریاں بہت زیادہ حساس اور باقی سب باتوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں اور اس طبقے کی ذمہ داریاں اگر بطریق احسن پوری ہوجائیں تو بہت سارے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔اور یہ جنت نظیر وادیاں حقیقت میں جنت نظیر بن سکتی ہیں۔

حکیم امت علامہ اقبال کے مطابق     

 نہیں ہے نامید اقبال اپنی  کشت  و یراں  سے

    ذرا  نم  ہو  تو  یہ  مٹی بڑی  زرخیز  ہے   ساقی


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز


سياست راهبردی آمريكا در مقابله با بيداری اسلامی

نويسنده:دكتر جواد منصوری*
چكيده
پديده‌ی بيداری اسلامی كه با عبارات احيای اسلام، جنبش اسلامی و بينادگرايی مطرح می‌شود، حدود يك قرن است كه يكی از مسائل خاورميانه می‌باشد. پيروزی انقلاب اسلامی در ايران ابعاد بيداری اسلامی را بين‌المللی و شتاب و تأثیر شگرفی بر تحولات سياسی و فرهنگی داشته است.
دولت آمريكا برای تسلط خاورميانه به عنوان اولين گام در راستای تسلط بر جهان و اجرای استراتژی تك‌قطبی كردن جهان و خود را «قلدر محله كردن»؛ با سه هدف مشخص،‌ اقدامات خود را آغاز كرده است:
1.تسلط بر مراكز نفتی و دولتهای صاحب نفت برای تأمین هزينه‌های سلطه‌ی جهانی خود و جلوگيری از قدرت گرفتن دولتهای صادركننده نفت.
2. تأمين امنيت و سلطه‌ی اسرائيل و صهيونيسم بر خاورميانه كه بخشی از سياست مشترك جهانی آمريكا می‌باشد.
3. مهار و يا انحراف اسلام سیاسی و كنترل جنبش‌های اسلامی برای جلوگيری از نفوذ اين جريان به خارج از منطقه خاورميانه.
اگرچه اقدامات انجام شده برای سركوب موج گرايش به اسلام سياسی ـ انقلابی موفقيتی نداشته اما استحاله فرهنگی، غلبه‌ی تفكر سكولاريسم، نفوذ عوامل خود در مراكز‌ آموزشی، فرهنگی و رسانه‌ها و به راه انداختن جنگ روانی ـ تبليغاتی بر ضد اسلامو مسلمانان، تحت عناوين مبارزه با تروريسم، دفاع از حقوق بشر، نابودی سلاح‌های كشتار جمعی و هسته‌ای، برقراری دموكراسی،‌ برنامه راهبردی آمريكا در قرن 21 می‌باشد كه تلاش‌های زيادی در جهت اجرای آنها در جريان است و به اين دليل چالش‌های گسترده در منطقه وجود دارد.
مقدمه
ابتدای قرن چهاردهم نقطه‌ی آغاز تحول و حركت جديدی در جهان اسلام بود. اگرچه حركت مزبور كندوتا حدودی نامحسوس بود ولی به تدريج احيای حيات سياسی و اجتماعی مسلمانان و حضور آنان در صحنه‌های مبارزاتی و طرح گفتمان‌های حكومت دينی، عدالت‌خواهی،‌ استقلال‌طلبی،‌ اصطلاح بيداری اسلامی را در فرهنگ سياسی و بين‌المللی وارد كرد.
بيداری اسلامی كه در ابتدا بيشتر جنبه داخلی و مرتبط با مسائل اجتماعی مسلمانان داشت، پس از چند حركت سياسی بر ضد سلطه نيروهای خارجی و استعماری به موضوع مهم و حياتی دولت‌های بزرگ تبديل شد. با اجرای طرح‌های كوتاه‌مدت و بلندمدت توسط قدرتهای بزرگ استعماری، جريان بيداريو جنبش‌های اسلامی حدود يك قرن مبارزات و مشكلات بسياری را پشت سر گذاشت و سرانجام در آخرين سال قرن چهاردهم هجری با پيروزی انقلاب اسلامی در ايران، اوضاع و احوال جديدی شكل گرفت كه در ادامه‌ی خود تحولات و دستاوردهای فرهنگی، اقتصادی، سياسی و بين‌المللی زيادی داشته است. به گونه‌ای كه بازتاب و پيامدهای اين پديده، موضوع مستقلی است كه در غالب مراكز تحقيقات استراتژيك جهان اكنون مورد پژوهش درگفتگو و كتاب‌ها و مقالات بسياری در اين زمينه چاپ و منتشر شده است. آنچه در اين نوشتار مورد بررسی قرار می‌گيرد، سياست راهبردی سلطه‌ی استكباری سرمايه‌داری و به ويژه ايالات متحده آمريكا به عنوان بزرگترين دولت استكباری و رهبر جهان سرمايه‌داری، در قبال بيداری اسلامی و استراتژی مقابله با حركت‌های مبارزات ناشی از آن می‌باشد.

انقلاب اسلامی و پيامدهای آن
 

قريب چهل سال دوران پس از جنگ جهانی دوم، بيشترين اهتمام و برنامه‌ريزی‌های سلطه‌ی سرمايه‌داری معطوف به مبارزات با كمونيسم و اداره‌ی جهان دوقطبی بود. به گونه‌ای كه تماميمسائل در چگونگی روابط شرق و غرب و به عبارت ديگر سرمايه‌داری و كمونيسم خلاصه و هر تحولی در اين چارچوب تجزيه و تحليل می‌شد. در حالی كه جهان اسلام جنگ در سه جبهه را كه از ابتدای قرن چهاردهم آغاز كرده بود، همچنان ادامه می‌داد. جنگ با حكومت‌های فاسد و وابسته كه همچنان در اشكال مختلف ادامه دارد؛ و جنگ با جريان‌های فكری و فرهنگی وارداتی كه توسط قدرتهای استعماری و عوامل نفوذی آنها هدايت می‌شد و بالاخره جنگ با جهل و خرافات و عقب‌ماندگی‌های گوناگون كه جنگی بسيار سختو نيازمند زمانی طولانی می‌باشد. قدرت‌های استكباری ادامه‌ی سلطهو حاكميت خود را بر سرزمين‌های مسلمانان در حكومت‌های وابسته و ضد مردمی می‌ديدند و رويكرد آنها به سركوب حركت‌های مردمی و گسترش فرهنگ و ارزش‌های غربی بود. مسلمانان مبارز در قالب تشكل‌های غيررسمی،‌ غيرمتمركز و تا حدودی ناشناخته برای قدرتهای استعماری به آموزش و اجرای فرایض دينی پرداختند و به تدريج با توسعه‌ی آگاهی‌ها و احيای روح دينی و انگيزه‌های اسلامی، فعاليت‌ها و تأثیرات اجتماعی و سياسی خود را گسترش دادند.
انقلاب اسلامی در ايران از نظر تحليل‌گران سياسيو اجتماعی و قدرتهای بزرگ نه تنها پديده‌ای مهم و فوق‌العاده بلكه عجيب و باورنكردنی بود. انقلابی كه عليرغم حاكميت نظام دوقطبی در جهان، شعار استقلال و نفی سلطه‌ی شرق و غرب، و با وجود دو قرن مبارزه با دين، خواستار حضور دين در صحنه‌های اجتماعی،‌سياسی و بين‌المللی شده وشعار حكومت دينی می‌دهد. بيداری اسلامی در واقع جريان ناشناخته و نيرومندی بر ضد سلطه‌ی فكری، سياسی و اقتصادی شرق و غرب بود كه انقلاب اسلامی در ايران يكی از ثمرات و آثار برجسته و توسعه‌دهنده‌ی آن بوده است.
«مايكل برانت» يكی از معاونان سابق سازمان اطلاعت مركزی آمريكا (سيا) در مصاحبه‌ای گفت: «جهان اسلام از قرن‌ها پيش تحت سيطره‌ی دول غربی بوده است و اگرچه در يك قرن اخير اغلب كشورهای اسلامی به ظاهر استقلال خود را به دست آورده‌اند ولی نظامهای سياسی و اقتصادی و به خصوص فرهنگ اين جوامع، هنوز در كنترل غربی‌هاست و از آنها پيروی می‌كنند.
در سال 1357 با وقوع انقلاب اسلامی در ايران، آمريكاييها متحمل خسارات سنگينی شدند. ابتدا ما فكر می‌كرديم اين انقلاب خواست طبيعی جامعه مذهبی ايران است كه رهبران مذهبی آن قصد بهره‌گيری از شرايط را دارند، و با كناره رفتن شاه ما می‌توانيم به مرور افراد مطلوب خود را [نظير ساير كشورها و انقلاب‌ها] بر روی كار بياوريم و سياست‌های خود را در ايران تداوم بخشيم. اما با گذشت زمان و گسترش فرهنگ انقلاب اسلامی در كشورهای منطقه به خصوص در عراق، پاكستان،‌ لبنان و كويت و ديگر كشورها، متوجه شديم كه در تحليل‌های خود اشتباه كرديم.
در يك گردهمايی كه با حضور مقامات سازمان «سيا» برگزار شد و در آن نماينده‌ای از سرويس اطلاعاتی انگليس ـ به علت تجارت زياد اين كشور در جوامع اسلامی ـ نيز حضور داشت، به اين نتيجه رسيديم كه پيروزی انقلاب اسلامی ايران فقط نتيجه‌ی سياست‌های اشتباه شاه در مقابله با اين انقلاب نبوده است؛ بلكه عوامل ديگری مانند قدرت رهبر مذهبی آن و استفاده از فرهنگ شهادت دخيل بودند كه اين فرهنگ از هزار و چهارصد سال پيش توسط نوه پيامبر اسلام (امام حسين(ع)) به وجود آمده و هر ساله با عزاداری در ايام محرم اين فرهنگ ترويج و گسترش می‌يابد. ما همچنين به اين نتيجه دست يافتيم كه شيعيان بيشتر از ديگر مذاهب فعال و پويا هستند. در اين گردهمايی تصويب شد كه بر روی مذهب شيعه تحقيقات بيشتری صورت گيرد و طبق اين تحقيقات برنامه‌ريزی داشته باشيم. به همين منظور 40 ميليون دلار بودجه برای آن اختصاص داديم. اين پروژه در سه مرحله به ترتيب زير انجام شد:
1ـ جمع‌آوری اطلاعات و آمار
2ـ اجرای اهداف كوتاه‌مدت با انجام تبليغات عليه شيعيان و راه‌اندازی اختلافات مذهبی ميان شيعيان با ديگر مذاهب اسلامی
3ـ اجرای اهداف بلندمدت جهت از بين بردن اين مذهب.» (1)
بيداری اسلامی كه در واقع بازگشت به اسلام (و به تعبيری ديگر «احيای اسلام») پس از يك دوره سكون و سكوت است، عامل ظهور جنبش‌های اسلامی می‌باشد و شرايط جديدی را شكل داد كه نه تنها غيرمنتظره بود، بلكه با وجود بيش از يك قرن از آغاز آن و ربع قرن پس از پيروزی مرحله‌ای آن، هنوز هم برای شناخت و برای مقابله با آن با معضلات پيچيده و متعددی روبرو هستند. زيرا فرهنگ و ارزش‌های درونی اين حركت علاوه بر انطباق با فطرت الهی انسان، برتر و نيرومندتر از فرهنگ و ارزش‌های مادی است و برای ديگران كه فقط در سطح تئوری و نظری مسائل را می‌بينند تا حدودی قابل درك و محسوس نمی‌باشد. از اين رو برداشتهای متفاوت و در نتيجه شيوه‌های مختلفی برای برخورد با اين پديده تبيين و تحليل شده است. طبعا در اين نوشته برخوردهای مجموعه‌ی قدرت‌های سرمايه‌داری و به ويژه آمريكا مورد بررسی خواهد بود زيرا بلوك كمونيسم كه ديگر موجوديتی ندارد و ديگر كشورها يا از خود توان ندارند و يا تابع و از اقمار غرب می‌باشند.

شيوه‌های مقابله با بيداری اسلامی
 

دو گرايش عمده در برخورد با بيداری، احياگری و جنبش‌های اسلامی ـ و در تعبير تبليغاتی و انحرافی آن بنيادگرايی اسلامی ـ در ميان دولتهای بزرگ و سياستمداران و استراتژيست‌ها وجود دارد. اگرچه هر دو گرايش هدف واحدی ـ‌كه حذف و از بين بردن نفوذ و حضور اسلام در صحنه‌های سياسی و بين‌المللی است‌ـ را دنبال می‌كنند، گروهی معتقد به تقابل و گروه ديگری معتقد به تعامل می‌باشند. گروه اول چنين باور دارند و تبليغ می‌كنند كه اسلام و مسلمانان همچون كمونيسم انحصارطلب،‌ استبدادی و عميقا سازش‌ناپذير و ضد سرمايه‌داری و در نهايت ضد غرب (2) می‌باشند. به اين ترتيب اسلام ضد دموكراسی و ليبراليسم و طبعا مخالف سكولاريسم رايج و مورد حمايت غرب می‌باشد. تقابل‌گرايان در واقع معتقدند تهديد اسلام مشابه تهديد كمونيسم است.
« از منظر اين گروه، اسلام به عنوان يك تهديد راهبردی عمده در دوره‌ی پس از جنگ سرد جانشين كمونيسم شده است... «دانيل پايپتس» ـ‌از مشاوران شورای امنيت آمريكا در دوران نومحافظه‌كاران‌ـ بر اين نكته تأكید می‌ورزد كه چالش بنيادگرايان اسلامی نسبت به غرب ژرف‌تر از چالش كمونيست‌ها است. كمونيست‌ها صرفا با سياست‌های ما مخالف بودند و نه با كل جهان‌بينی، شيوه‌ی لباس پوشيدن، شيوه‌ی عبادت و شيوه‌ی همسرگزينی ما! از نظر او اسلام ذاتاً با غرب مخالف است. آمريكايی‌ها به اسلام به عنوان يك دشمن می‌نگرند و همانند كمونيسم دوران جنگ سرد، اسلام را تهديدی عليه غرب می‌دانند.
اين خط فكری توسط معاون پيشين «ريچارد نيكسون»، «واتر مك دوگال» ايجاد شد كه روسيه‌ی شوروی را به اتحاد با جبهه‌ی مسيحيت عليه دشمن مشتركشان يعنی اسلام دعوت كرد.
تقابل‌گرايان با توجه به اين باور كه دموكراسی با اسلام ناسازگار است، از ايالات متحده می‌خواهند به متحدين خاورميانه‌ای خود برای تحقق حقوق بشر و اصلاحات دموكراتيك فشار نياورد. فشار برای دموكراتيزاسيون زودرس می‌تواند باعث تضعيف چشمگير رژيم‌های طرفدار ايالات متحده و ظهور نظام‌های ديكتاتوری، تئوكراتيك و متعصب‌تر گردد. در اين ديدگاه دموكراسی در خاورمیانه كالايی است كه راه رژيم‌های ضددموكراتيك را برای كسب قدرت هموار می‌سازد.» (3) طرفداران درگيری فيزيكی و همه‌جانبه برای نابودی جريان بيداری اسلامی و حركتهای مردم اسلامگرا به دلایل متعددی علاوه بر موارد اشاره شده، نگران آينده‌ای می‌باشند كه اوضاع از كنترل آنان خارج و گسترش موج گرايش به اسلام به حدينيرومند و نافذ باشند كه نظام فكری، اقتصادی و حتی امنيتی و سياسی آنان را تحت تأثیر قرار دهد. «ساموئل هانتينگتون» از نظريه‌پردازان معروف تقابل‌گرا با بيداری و جنبش‌های اسلامی، می‌گويد: «در جهان جديد منبع اصلی تعارض، ايدئولوژی يا اقتصاد نخواهد بود. شكاف‌های بزرگ ميان بشريت و منبع اصلی تعارض، فرهنگی خواهد بود. رويارويی تمدن‌ها، سياست جهانی را تحت‌الشعاع قرار خواهد داد! در هر دو سوی، تعامل اسلام و غرب با عنوان برخورد تمدن‌ها تلقی می‌شود.» (4) وی پيش‌بينی می‌كند كه جنگ جهانی آينده جنگ تمدن‌ها است.»

اهداف سلطه بر خاورميانه
 

از طرف ديگر ايالات متحده برای تحقق استراتژی تك‌قطبی كردن جهان و به اصطلاح خودشان «قلدر محله شدن» به دلائل زير تسلط بر خاورميانه را ضرورتی اجتناب‌ناپذير می‌داند.

1ـ مقابله با بيداری اسلامی
 

روند گسترش بيداری اسلامی به گونه‌ای می‌باشد كه بعد از فروپاشی شوروی و محو كمونيسم به يكی از جدی‌ترين مباحث بين‌المللی درآمده است، زيرا نه تنها مسلمانان را در شرايط جديدی قرار داد، بلكه ساير اديان نيز به تدريج نقش اجتماعی و سياسی بيشتری يافتند و مهمتر آنكه مقوله‌ی دين به يكی از موضوعات مطرح و مؤثر در صحنه‌ی بين‌المللی درآمد. (5)
امروز اصطلاحاتی نظير «اسلام سياسی»، «اسلام انقلابی»، «اسلام خمينی» و «اسلام ايرانی»‌را نظام استكبار سرمايه‌داری جايگزين اصطلاحاتی نظير «غول كمونيسم»، «بلوك شرق»، «دنيای پشت پرده‌ی آهنين» كرده است.
فلسفه‌ی اصلی رويكرد به جايگزينی تهديد بيداری اسلامی بلافاصله پس از فروپاشی شوروی به دو سياست استراتژيك بلندمدت غرب برمی‌گردد.

1ـ 1ـ دشمن نيرومند خارجی
 

اروپا و آمريكا در دو قرن اخير برای توجيه جنايات استعماری و اقدامات سلطه‌جويانه خود و برای جلب حمايت مردم خود و جلب آرای آنان و برای به حداكثر رساندن منافع خود، جريانی را به صورت تهديد مشترك خود معرفی می‌نمايند. لذا پس از اضمحلال كمونيسم و بلوك شرق، ‌اسلام به عنوان دشمن اصلی غرب و حتی جهان بشريت معرفی شد. اگرچه به دلايلی و از جمله منافع عظيم و دولتهای دست‌نشانده در جهان اسلام، مجبور به انتخاب كلمه‌ی «تروريسم» شدند. بنابراين در ذهنيت و تصور زمامداران و مردم، اسلام همان تروريسم و به همين علت محكوم به نابودی است؛ از اينروبايد جنگ صليبی جديد راه‌اندازی شود.
«دولت بوش بعد از حوادث 11 سپتامبر 2001 (20 شهريور 1380) به گونه‌ای عمل كرد كه نشان دهد جهان اسلام در قالب تروريسم به جنگ آمريكا آمده است. ابتدا از ورود به جنگ صليبی خبر دادو آنگاه انگشت اتهام را متوجه مسلمانان و گروه‌های اسلامی كرد. اما عملكرد بعدی آن در سه بخش نظامی، سياسی و تبليغاتی نشان داد كه اتخاذ سياست نظامی‌گری فصلی تنظيم شده از پرونده‌ی تغيير در نظم جهانی برای ارتقای نقش و موقيعت آمريكا به عنوان تنها ابرقدرت باقيمانده از جنگ سرد است.» (6)
آنچه كه در چند سال انجام شد و همچنان ادامه دارد ـكه خسارات و مصائب بسياری بر امت اسلام بر جای گذاشت ـ‌در راستای اجرای اين سياست بوده است. مقاومت مسلمانان در مقابل سلطه‌ی غرب و حمايت استكبار سرمايه‌داری از دولتهای دست‌نشانده و احتمال قطع منافع آنان در جهان اسلام،‌ از جمله دلايل رويكرد به اين سياست استراتژيك می‌باشد. منافع غرب در اين منطقه به اندازه‌ای گسترده و استراتژيك می‌باشد كه تصور نمی‌كنند بدون سلطه‌ی كامل بر جهان اسلام و متوقف كردن روند بيداری اسلامی بتوانند به حيات سياسی و اقتصادی خود ادامه دهند.

1ـ 2ـ ضديت با اسلام
 

ضديت و دشمنی آشكار و تاريخی غالب مسيحيان و يهوديان با اسلام و مسلمين در قرن اخير با بيداری اسلامی و حركت اجتماعی ـ‌ سياسی و با حضور مسلمانان در صحنه‌ی بين‌المللی تشديد شد. اقدامات اروپا و اخيراً آمريكا در جنگ با اسلام بسيار گسترده و جدی است. فروپاشی خلافت عثمانی، تأسيس رژيم غاصب اسرائيل،‌ تأسيس سلسله‌ی پهلوی، نابودی ثروت‌های مادی و معنوی مسلمانان،ايجاد تفرقه و جنگ مستمر در ميان مسلمانان، رواج ناسيوناليسم و ملت‌پرستی و جلوگيری از تحقق امت به معنای واقعی آن، مبارزه‌ی همه‌جانبه و گسترده با انقلاب اسلامی و جمهوری اسلامی ايران و تبليغ بر ضد مسلمانان بخشی از اقداماتی است كه ناشی از دشمنی دولتهای استكباری با اسلامو حضور مسلمانان در صحنه‌های ملی و بين‌المللی برای حفاظت و دفاع از هويت و منافع خود می‌باشد.
كوشش برای شكل دادن و بنيانگذاری نظامی جديد كه با جهان‌بينی مادی و سلطه‌گرا در تضاد است و تلاش برای تحقق نظام ديگری متفاوت از نظام تحميلی «دولت ـ‌ملت» به عبارت ديگر حركت در جهت همگرايی و در نهايت وحدت جهان اسلام به منظور مقابله با سلطه‌ی فرهنگی و ارزشی غرب و احيای فرهنگ و ارزش‌های دينی ـ توحيدی، نگرانی ديگر است كه علت بسيج امكانات و جنگ بر ضد بيداری اسلامی شده است. زيرا اسلام انقلابی مستقيما فهم رايج از نقش خنثی و خاموش مذهب در سياست و اخلاق را هدف قرار می‌دهد. تغيير برنامه‌های آموزشی، ايجاد شبكه‌های ماهواره‌ای ويژه‌ی مسلمانان، اعراب و ايرانيان به زبان‌های فارسی و عربی، تغيير اسامی اسلامی، حذف مفاهيمی همچون جهاد، امر به معروف و نهی از منكر و شهادت، ترويج سكولاريسم و لائيسم، رواج گسترده‌ی فساد و فحشا بخشی از اقدامات در حال اجرا در راستای استراتژی بلندمدت غرب برای «استحاله‌ی فرهنگی جهان اسلام و جلوگيری از گسترش بيداری جنبش‌های اسلامی»‌می‌باشد.
«مايكل برانت» معاون سابق سيا در اين زمينه می‌گويد: «مراجع شيعه در طول تاريخ هيچگاه از حاكم غيراسلامی و ظالم تبعيت نكرده‌‌اند. در ايران با فتوای آيت‌الله شيرازی سياستهای انگليس با شكست مواجه شد و حكومت شاه كه هم‌پيمان با آمريكا بود توسط آيت‌الله خمينی برچيده شد. در عراق صدام با تمام توان نتوانست حوزه‌ی علميه‌ی نجف را مجبور به تبعيت از خود كند، و به همين منظور موسی صدر ارتش‌های انگليس، فرانسه و اسرائيل را مجبور به فرار از اين كشور كرد و حزب‌الله لبنان نيز صدمات سنگينی را به ارتش اسرائيل در جنوب اين كشور وارد كرد. اين تحقيقات ما را به اين نتيجه رساند كه به طور مستقيم نمی‌توان با مذهب شيعه رودرو شد و امكان پيروزی بر آن بسيار سخت است و بايد پشت پرده كار كنيم.
ما به جای ضرب‌المثل انگليسی «اختلاف بينداز و حكومت كن» از سياست «اختلاف بينداز و نابود كن» استفاده می‌كنيم. در همين راستا برنامه‌ريزی‌های گسترده‌ای را برای سياست‌های بلندمدت خود طرح كرديم. حمايت از افرادی كه با مذهب شيعه اختلاف دارند، ترويج كافر بودن شيعيان به گونه‌ای كه در زمان مناسب عليه آنان توسط ديگر مذاهب اعلام جهاد شود. همچنين بايد تبليغات گسترده‌ای را عليه مراجع و رهبران دينی شيعه صورت دهيم تا آنان مقبوليت خود را در ميان مردم از دست بدهند.
يكی ديگر از مواردی كه بايد روی آن كار می‌كرديم، موضوع فرهنگ عاشورا و شهادت‌طلبی بود كه هر ساله شيعيان با برگزاری مراسمی اين فرهنگ را زنده نگاه می‌دارند. ما تصميم گرفتيم با حمايت‌های مالی از برخی سخنرانان و مداحان و برگزاركنندگان اصلی اينگونه مراسم كه افرادی سودجو و شهرت‌طلب هستند،‌ عقايد و بنيان‌های شيعه و فرهنگ شهادت‌طلبی را سست و متزلزل كنيم و مسائلی انحرافی در آن به وجود آوريم، به گونه‌ای كه شيعه يك گروه جاهل و خرافاتی در نظرآيد. در مرحله‌ی بعد، بايد مطالب فراوانی عليه مراجع شيعه جمع‌آوری شده و به وسيله‌ی مداحان و نويسندگان سودجو انتشار دهيم و تا سال 1389 (2010 ميلادی) مرجعيت را كه سد راه اصلی اهداف ما می‌باشند تضعيف كرده و آنان را با دست خود شيعيان و ديگر مذاهب اسلامی نابود كنيمو در نهايت تير خلاص را بر اين فرهنگ و مذهب بزنيم. (7)

2ـ‌تسلط بر نفت و بازار منطقه
 

پس از جنگ جهانی اول و با شدت بيشتری بعد از جنگ جهانی دوم، نفت به صورت كالايی استراتژيك، مهم و حياتی برای اقتصاد قدرت‌های بزرگ شد. به گونه‌ای كه تسلط بر كشورهای صادركننده نفت به ويژه در خاورميانه، محور سياست خارجی و بين‌المللی دولتهای بزرگ گرديد. غرب تلاشگسترده‌ای كرد تا منافع دسترسی شوروی به منافع منطقه بشود و لذا تسلط بر ايران برای شرق و غرب به صورت اساسی‌ترين سياست ثابت آنها درآمده بود. از اين رو اتحاد موضع شرق و غرب در مقابله به نهضت اسلامی ملت ايران از معدود مواردی بود كه پس از جنگ جهانی دوم اتفاق ‌افتاد. زيرا خود را در مقابل دشمن مشتركی می‌ديدند كه سلطه‌جويی استكبار را نمی‌پذيرفت و با فرهنگ و ارزش‌های جديدی به صحنه‌ی سياسی و مبارزاتی آمده است.
استخراج و صدور نفت و سودهای حاصل از آن به اندازه‌ای از اهميت و وضعيت مناطق نفت‌خير و دولتهای صادركننده‌ی نفتدارد. هرگونه تحول مهمی در خاورميانه و به ويژه در خليج فارس تأثیر زيادی بر وضعيت بازار نفت، اعم قيمت آن، قيمت سهام در بازارهای بورس، وضعيت اقتصادی و تراز بازرگانی بسياری از كشورها خواهد داشت. از اين رو منطقه‌ی خاورميانه به دليل برخورداری از حدود دو سوم ذخاير شناخته شده‌ی نفتی، توليدو صدور روزانه بيش از نيمی از نفت مصرفی جهان در مراكز ثقل سياست‌های نظام سرمايه‌داری به ويژه آمريكا و اروپا قرار دارد.
در ارتباط با اين جريان موضوع ديگری كه اهميت نفت را مضاعف می‌كند، بازگرداندان دلارهای حاصل از فروش نفت به غرب، برای به گردش درآوردن چرخ‌های نظام سرمايه‌داری است. به عبارت ديكر دلارهای نفتی برای توليد كالا و ايجاد اشتغال و فروش محصولات غرب به قيمت‌های تحميلی به كشورهای صادركننده كه در واقع استثمار مضاعف می‌باشد. به همين دليل بخش عمده‌ای از سياست‌ها و اقدامات دولتهای بزرگ در خاورميانه به سياستهای‌ نفتی معروف است. اكنون در صحنه‌ی بين‌المللی سه مقوله‌ی بيداری اسلامی، نفت و خاورميانه آن چنان به يكديگر وابسته شده‌اند كه مسائل و جريان‌های فكری،‌ اقتصادی و ژئوپلتيكی جهان را تحت‌الشعاع خود قرار داده و به گونه‌ای است كه امكان جدا كردن آنها از يكديگر غيرممكن شده است.
ارائه طرح «خاورميانه بزرگ» در راستای تحقق دو هدف مهم و حل دو معضل جدی استكبار غرب در منطقه می‌باشد. تسلط بر خاورميانه به منزله‌ی اولين مرحله‌ی اجرای تك قطبی كردن جهان، و بهره‌گيری از نفت و دلارهای حاصل از فروش آن برای تأمین هزينه‌های اجرای پروژه قلدر محله شدن است. مهار و يا انحراف بيداری اسلامی و پياده كردن فرهنگ و ارزش‌های آمريكايی دو هدف راهبردی ديگر برای پيروزی در اولين مرحله اجرای طرح استراتژيك قرن 21 آمريكا و سياست منزوی كردن رقبا و انحصاری كردن قدرت ايالات متحده می‌باشد. در واقع آمريكا باتسلط بر نفت و بازار خاورميانه، از كليه‌ی دولتهای ديگر باج ارزان‌فروشی نفت و دريافت مابه‌التفاوت با قيمت واقعی، و دريافت بخشی از سود حاصل از فروش كالاها را در اين منطقه، به عنوان ژاندارم و حافظ و حاكم منطقه خواهد گرفت. اگرچه تاكنون عليرغم تلاش‌ها و هزينه‌های بسيار و از دست دادن حيثيت و آبرو نتوانسته كاملا به خواسته‌های خود برسد ولی از آنجا كه طرح بلندمدت می‌باشد، لذا ممكن است كه با وجود تهديدات و معضلات پيچيده اين تلاش‌ها ادامه پيدا كند. ميزان و چگونگی موفقيت يا شكست طرح بستگی به قدرت جنبش‌های اسلامی و مقاومت آنها و گسترش و تعميق بيداری اسلامی دارد. (8)

3ـ ‌براندازی جمهوری اسلامی ايران
 

موقعيت استراتژيك و ژئواستراتژيك ايران هميشه و به ويژه در دو قرن اخير مورد توجه دولت‌های بزرگ بوده است. تلاش پرتغالی‌ها، هلندی‌ها، روس‌ها، عثمانی‌ها، انگليسی‌ها، آمريكايی‌ها و حتی افغان‌ها! (در دوره‌ی صفويه) برای تسلط بر ايران بخشی از تاريخ پرفراز و نشيب قرون معاصر اين كشور است. با تسلط مشترك آمريكا ـ انگليس بعد از كودتای 28 مرداد 1332، ايران در سياست جهانی قدرتهای بزرگ از موقعيت ويژه‌ای برخوردار شد و رژيم وابسته و فاسد پهلوی آنچنان در خدمت منافع غرب به ويژه آمريكا بود كه كيسينجر گفت: «شاه نادرترين متحد آمريكا در جهان و يك هم‌پيمان نامشروط بود.» (9)
انقلاب اسلامی در ايران به دلايل متعدد نمی‌توانست برای غرب به ويژه آمريكا قابل قبول و قابل تحمل باشد. لذا از همان اولين روزهای پس از پيروزی انقلاب تلاشهای گسترده در اشكال گوناگون برای براندازی و يا حداقل تغيير رفتار و استحاله‌ی فرهنگی آغاز شد. مجموعه‌ی اقدامات و چالش‌های آمريكا و ايران و دلايل هريك از آنها خود به تنهايی تحقير جداگانه‌ای را می‌طلبد. «... آمريكا ايران را نيروی هدايت‌كننده در پشت خيلی از ستيره‌جويی‌های اسلام‌گرايان در جهان می‌بيند. اين دغدغه و عطف توجه به ايران تحت حاكميت روحانيون نه تنها ناشی از تجربه‌ی تلخ اين كشور درطول بحران گروگان‌ها، بلكه به دلايل هراس اين كشور از ايدئولوژی اسلام انقلاب ايران نيز هست... از اين رو، تمايز نظری كه مقامات ايالات متحده بين اسلامگرايان ميانه‌رو و جنگ سالار قائل می‌شوند در مورد ايران كاربرد ندارد. ... مسأله ايران رويكردی را كه ايالات متحده به اسلام‌گرايان داشته است روشن می‌سازد. سردرگمی فكری ايالات متحده درباره‌ی بيداری اسلامی و سوءظن اين كشور به اسلام‌گرايان را نمی‌توان بدون رمزگشايی از علل هراس عميق دستگاه سياست خارجی آمريكا از ايران فهميد. چنين به نظر می‌رسد كه واشنگتن از انقلاب ايران به عنوان معيار اوليه برای سنجش اسلام‌گرای احيا شده در سراسر خاورميانه و شمال آفريقا، استفاده می‌كند. در اين زمينه، سياست آمريكا در قبال ايران، پيامدهای گسترده‌تری برای روابط آمريكا با اسلام‌گرايان در همه مناطق جهان دارد.» (10)
چالش‌های سياسی، اقتصادی و امنيتی آمريكا با ايران در 25 سال گذشته به اعتراف بعضی از مقامات ايالات متحده نتوانست از گسترش بيداری اسلامی حتی در داخل اروپا و آمريكا جلوگيری كند. به گونه‌ای كه امروز يكياز مباحث و عناوين همايش‌ها و تحقيقات پيرامون راه‌های مقابله بااين پديده به ويژه آمريكا و اروپاست. وزارت خارجه‌ی انگليس در يك تحقيق راهبردی برای دولت، روند تحولات آينده را چنين تحليل می‌كند: «رويارويی احتمالی ايده‌های مذهبی و فرهنگی به احتمال قوی انگلستان و دموكراسی‌های غربی را تحت تأثیر قرار خواهد داد. عقايد مذهبی مجددا به نيروهای محرك روابط بين‌الملل بدل خواهد شد. در پاره‌ای از موارد اين نيرو با اهداف و انگيزه‌های سياسی درهم می‌آميزد. به نظر می‌رسد مسائلی در روابط ميان دموكراسی غربی و پاره‌ای از كشورهاو گروه‌های اسلامی بروز خواهد كرد. علل تنش در روابط بسيار پيچيده‌اند. مساله‌‌ی اسرائيل ـ‌فلسطين اگر حل نشود به قوت خود باقی خواهد ماند. تنش‌های مذهبی خارجی می‌توانند به صورت مستقيم و غيرمستقيم اوضاع انگلستان را تحت تأثیر قرار دهد.
مديريت روابط با كشورهای اسلامی و ملل مسلمان يكی از چالش‌های مهم و استراتژيك جهان غرب طی دهه‌ی آينده و پس از آن خواهد بود. جهان بايد شناخت مذهبی و انگيزه‌های سياسی ناشی از آن را تقويت كند.
علی‌رغم اشتراكات ارزشی موجود در مذاهب، اهميت پاسخ دادن به تعامل ميان دموكراسی‌های غربی با كشورهای اسلامی به سرعت رو به افزايش است.به همين دليل تنظيم روابطبا كشورهاياسلامی و مسلمانان يكی از مهمترين چالش‌های راهبردی انگليس و جهان غرب در آينده خواهد بود...» (11)
برخوردهای غيرقانونی و غيردموكراتيك با گروه‌ها و مراكز و مظاهر اسلامی ـ از جمله غيرقانونی اعلام كردن حجاب در چند كشور اروپايی و محدوديت‌های فوق‌العاده برای تمامی مسلمان و مراكز آنان در آمريكا ـ نمودی از نگرانی‌های غرب در اين زمينه می‌باشد. اگرچه تاكنون نتوانسته‌اند در كنترل اين جريان توفيق داشته باشند، اما همچنان به تشديد تبليغات بر ضد اسلام، مسلمانان و ايران می‌پردازند. از اين رو قرن 21 را بعضی دوران ظهور قدرت فكری و معنوی اسلام و مقابله با سلطه‌ی فرهنگی و ارزشی غرب می‌دانند. سرانجام پيام قرآن كريم است كه فرمود: يريدون ليطفئوا بافواهمم والله متم نوره ولو كره الكافرون. خواست دائمی كفار اين است كه نور خدا را با تبليغات و فريب‌هايشان خاموش كنند.در حالی كه اراده‌ی پرودگار اين است كه نور حق را گسترده و كامل كند، اگرچه كفار ناراحت و مخالف باشند. (12)

پي نوشت ها :
 

*مشاور سابق وزیر امور خارجه
1.«نقشه‌ای برای جدايی مكاتب الهی» به نقل از روزنامه جمهوری اسلامی، 4/3/83، ص 16.
2. منظور از غرب، جنبه‌ی جغرافيايی آن نيست، بلكه مجموعه قدرت‌ها و دولتهای در چارچوب نظام سرمايه‌داری می‌باشد كه غالباً در غرب جغرافيايی جهان اسلام قرار گرفته‌اند.
3. جرجييس، فؤاز، ای. «آمريكا و اسلام سياسی»، ترجمه، سيدمحمدكمال سروريان، (تهران: انتشارات پژوهشكده مطالعات راهبردی،‌چاپ) صص 59 ـ 56.
4. همان منبع، ص 54.
5. در همين ارتباط سازمان ملل توجه ويژه‌ای به مسأله دين و اديان پيدا كرد و تاكنون دو سمینار بين‌المللی تشكيل و قرار شد صاحبان اديان نقش بيشتری در حل معضلات كنونی جهان داشته باشند.
6. دكتر محمدی، منوچهر، «استراتژی نظامی آمريكا بعد از 11 سپتامبر» (تهران:‌ انتشارات سروش، 1382)، چاپ اول، ص 182
7.روزنامه جمهوری اسلامی،‌ مورخ 4/3/83، ص 16
8. حضرت امام خمينی(ره) به پيروزی اين حركت و شكست قدرتهای استكباری ايمان داشتند و بارها با اطمينان نسبت به آيين‌ موفقيت‌آميز بيداری اسلامی و پيروزی مسلمانان مطالبی را با تأكید بيان كرده‌اند.
9. زونيس، ماروين؛ «شكست شاهانه». ترجمه‌ی عباس مخبر، (تهران:‌ نشر طرح نو، چاپ دوم، 1370)، ص 396
10. آمريكا و اسلام سياسی، ص 237.
11. جهان يك دهه‌ی آينده: ديدگاه بلندمدت و استراتژيك انگلستان.
12. سوره‌ی صف، آيه‌ی 8.

فهرست منابع
1.قرآن كريم
2. آمريكا و اسلام سياسی، نوشته‌ی جرجييس فؤاز،‌ای؛ ترجمه‌ی سيدمحمدكمال سروريان
2. نقشه‌ای برای جدايی مكاتب الهی، به نقل از روزنامه‌ی جمهوری اسلامی، 4/3/83
4. استراتژی نظامی آمريكا بعد از 11 سپتامبر،‌ نوشته‌ی دكتر منوچهر محمدی
5. شكست شاهانه، نوشته‌ی ماروين زونيس، ترجمه‌ی عباس مخبر
6. جهان يك دهه‌ی آينده، ديدگاه بلندمدت و استراتژيك انگلستان
7. نهضت‌های اسلامی معاصر، نوشته‌ی كليم صديقی، ترجمه‌ی سيدهادی خسروشاهی.
فصلنامه انقلاب اسلامی . شماره 10


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

بیداری اسلامی و موانع آن در اندیشه امام خمینی (ره)

نویسنده: دكتر محمدحسن شیبانی‌فر

چكيده
مطالعه بيداری اسلامی و بررسی و تجزيه و تحليل آن از مدت‌ها پيش در دستور كار قدرت‌هايی قرار گرفته كه از آن احساس بيم و هراس داشته‌اند و هم اينان برای فهم و شناساسی بيداری اسلامی و يافتن راه‌های مقابله و انهدام و يا به انزوا كشاندن اين موج، تلاش‌های گسترده‌ای را شروع كرده‌اند. بسياری از صاحبنظران در پديده‌ی جنبش‌های اسلامی معاصر معتقدند كه انقلاب اسلامی ايران، يكی از عوامل مهم و تأثیرگذار در پيشبرد روند بيداری و آگاهی مسلمانان و ازدياد فعاليت‌های مؤثر در جوامع عربی و اسلامی بوده است.
حديث اين ماجرا را رهبر معظم انقلاب، اينگونه ترسيم كرده‌اند: «قبل از انقلاب اسلامی در بسياری از كشورها و از جمله كشورهای اسلامی، گروه‌ها و جوانها و ناراضی‌ها و آزادی‌طلبها يا ايدئولوژی‌های چپ وارد ميدان می‌‌شدند اما بعد از انقلاب اسلامی، پايه و مبنای حركت‌ها و نهضت‌های آزادی‌بخش، اسلام شد. امروز در هر نقطه‌ای از دنيای وسيع اسلام ـ‌ كه جمعيت يا گروهی، به انگيزه آزادی‌خواهی و ضديت با استكبار حركت می‌كندـ‌مبنا و قاعده كار و اميد و ركنشان تفكر اسلامی است.»

برخی از موانع بيداری اسلامی از ديدگاه امام خمينی(ره) عبارت است از:
 

1ـ تحريف اسلام و وارونه جلوه دادن مفاهيم دينی
2ـ حكام كشورهای اسلامی
3ـ‌تفرق
4ـ تحجر و جمود مقدس‌نماها
5ـ روشنفكرنماها
6ـ آخوندهای وابسته به قدرتها و دنياطلب
مقدمه
بيداری اسلامی در دهه‌های اخير در كشورهای اسلامی و در بين مسلمانان ساير كشورها پديده‌ای است كه شگفتی آفريده است. مطالعه اين پديده و بررسی و تجزيه و تحليل آن از مدتها پيش در دستور كار قدرت‌هايی قرار گرفته كه از آن احساس بيم و هراس داشته‌اند و هم اينان برای فهم و شناسايی بيداری اسلامی و يافتن راه‌های مقابله و انهدام و يا به انزوا كشاندن اين موج؛ تلاش‌های گسترده‌ای را شروع كرده‌اند. نشست، كنفرانس، ميزگرد، مصاحبه و سمينارهای علمی با شركت صاحب‌نظران و انديشمندان در جهت شناسايی هر چه بيشتر گرايشات فزاينده دينی تنها بخشی از اين تلاش را نشان می‌دهد. سفارش كتاب، پايان‌نامه و فراخوان مقالات، بخش علنی ديگر اين كوشش است.
در بخش پنهان اين ماجرا، قطعا صدها پروژه مطالعاتی امنيتی و عملياتی در دستوركار سرويس‌های اطلاعاتی ـ امنيتی قدرتهای مخالف اسلام بوده و در حال اجرا می‌باشد كه احيانا برخی از اين عمليات به دلايلی آشكار شده است. اين تلاش گسترده همپای پيروزی انقلاب اسلامی ايران، در راستای محدود كردن اين تحول و جلوگيری از گسترش بيشتر بيداری اسلامی با حساسيت بيشتر و شدت مضاعفی پيگيری گرديد. در همان سالهای نخست پيروزی انقلاب، سران كشورهای سلطه‌گر به موضع‌گيری و تهاجم عليه انقلاب پرداخته و راه مقابله با آن را در پيش گرفتند. زيرا كارشناسان و نظريه‌پردازان اين كشورها دريافته بودندكه انقلاب اسلامی ايران نقش اساسی در دامن زدن به شعله آزادی‌خواهی، استقلال‌طلبی، هويت‌جويی اسلامی و گسترش و تعميق آن در كشورهای ديگر دارد.

تأثیر انقلاب اسلامی دربيداری اسلامی
 

بسياری از صاحبنظران در پديده جنبش‌های اسلامی معاصر معتقدند كه انقلاب اسلامی ايران يكی از عوامل مهم و تأثیرگذار در پيشبرد روند بيداری و آگاهی مسلمانان و ازدياد فعاليت‌های مؤثر در جوامع عربی و اسلامی بوده است. نظريه تأثیرپذيری كشورهای اسلامی از انقلاب، مبتنی بر سخنان رهبران جنبش‌های آزادی‌بخش و الگوبرداری آنان از انقلاب ايرانو مطالعه‌ی تحولات و رويدادهايی است كه در كشورهای اسلامی رخ داده است. امام خمينی خود بر اين نكته واقف بودند و به آن افتخار داشتند. «آوای انقلاب بزرگ ايران در كشورهای اسلامی و ديگر كشورها طنين‌انداز و افتخارساز است...» (1) همين نكته را خبرنگاری يك ماه قبل از پيروی انقلاب از امام سؤال می‌كند: «سوال: آيا فكر می‌كنيددامنه‌ی حوادث ايران به تركيه نيز كشيده شود؟ جواب: نهضت مقدس ايران نهضتی اسلامی است و از اين جهت بديهی است كه همه مسلمين جهان تحت تأثیر آن قرار می‌گيرند.» (2)
خودآگاهی مسلمانان به ويژه در كشورهای اسلامی از قدرت خويش، بازگشت به قرآن، تكيه به فرهنگ غنی اسلامی و الهام‌گيری از انقلاب ايران مسأله‌ای نبود كه هضم آن برای صاحبان قدرت آسان باشد. الكساندر هيك می‌گويد: «به نظر من خطرناك‌تر از اين (مشكلات بين‌المللی) عواقب گسترش بنيادگرايی اسلامی است كه در ايران پا گرفته و اكنون عراق و ثبات تمام رژيم‌های عرب ميانه‌رو را در منطقه تهديد می‌كند. اين پديده اگر از كنترل خارج شود منافع ابرقدرت‌ها را به خطرناك‌ترين وجه به مخاطره خواهد انداخت.» (3) الهام‌گيری مسلمانان از ايران همچنان در تدوين كتاب‌ها و تيراژ و حجم فروش اين دست از كتابها، و نيز در رسانه‌ها و مطبوعات چشمگير بوده است.

مجيب‌الرحمان شامی ـ روزنامه‌نگار
 

«هيچ كس باور نداشت كه در عصر حاضر اصول اسلام، عملی باشد... انقلاب ايران جان تازه‌ای به انديشه اسلامی بخشيد و ثابت كرد كه اصول اسلامی كماكان كاربرد دارد و می‌تواند مبنای جامعه امروزی قرار گيرد....» (4). «مهمترين اثر و كار امام اين بود كه ديكتاتوری در اسلام مجاز نمی‌باشد. مردم حق انتخاب دارند و نمی‌توانحقوق ايشان را رعايت نكرد.» (5)

حسن سليمان ـ ‌امام مسجد كيپ تاون آفريقای جنوبی
 

«الهام و الگو گرفتن از ايران به ويژه دركيپ تاون نقش بسزايی در براندازی رژيم آپارتاید ايفا نمود...» (6)
وی تأثیرگذاری امام را بر كشورها،‌ ناشی از اسلام می‌داند: «منشأ تفكرات انقلاب امام دين مبين اسلام بود. بدون شك اين تفكرات و هم‌چنين رهبری امام به مسلمانان خصوصا جوانان انگيزه مبارزه بخشيد...» (7)
دكتر شقاقی در كتاب «امام خمينی راه‌حل جديد جهان اسلام» روش انقلاب ايران را مؤثر دانسته و برای تداوم مبارزه، ‌انقلاب اسلامی ايران را شايسته پيروی، معرفی می‌كند. وی در بخشی از كتاب، امام را اينگونه معرفی می‌كند: «مظهر جريانی نو بود كه اسلام را به عنوان يك ايدئولوژی مطرح می‌كرد تا از طريق برپايی حكومت اسلامی، همه ابعاد زندگی و مشكلات آن را حل و فصل نمايد.» آنگاه كه روشنفكران و مبارزين برای تداوم كار خود و توجيه پيروان خويش به ناسيوناليسم و مكاتب فكری چپ‌گرايانه روی می‌آوردند،‌ انقلاب اسلامی را نمونه‌ای جديد از تمدن بشری دانسته كه: «پايان كار انديشه‌های لائيك و همه ديگر انواع انديشه‌هايی را كهمی‌خواستند جايگزين اسلام شوند اعلام كرد.» (8)
حديث اين ماجرا را رهبر معظم انقلاب اينگونه ترسيم كرده‌اند: «قبل از انقلاب اسلامی در بسياری از كشورها و از جمله كشورهای اسلامی، گروه‌ها و جوانها و ناراضی‌ها و آزادی‌طلب‌ها با ايدئولوژی‌های چپ وارد ميدان می‌شدند، اما بعد از انقلاب اسلامی پايه و مبنای حركت‌ها و نهضتی‌های آزادی‌بخش اسلام شد. امروز درهر نقطه‌ای از دنيای وسيع اسلام كه جمعيت يا گروهی به انگيزه آزادی‌خواهی و ضديت با استكبار حركت می‌كنند، مبنا و قاعده كار و اميد و ركنشان، تفكر اسلامی است.» (9)
امام بنيان ارزش‌های مادی را در دنیا لرزانيده است. رهبر كمونيست كشوری دوردست،با قدرت مادی بالا و دارای پيشرفت‌های زياد، می‌گويد: خواهش می‌كنم كتابی درباره اسلام بدهيدتا مطالعه كنم.»
... امروز نماينده مجلس يك كشور مادی كه هفتاد سال بر مبنای ماترياليسم ديالكتيك اداره شده است به من می‌گويد: «به بركت امام شما، در پارلمان كشورم، سخنرانی‌ها با «بسم‌‌الله الرحمن الرحيم» شروع می‌شود.» (10) امام عزم آن داشتند كه تجربه‌های به دست آمده از انقلاب را به جهان صادر كنند و با اطمينان بر اين عقيده بودند كه اسلام سنگرهای كليدی جهان را فتح خواهد كرد: «ما به تمام جهان تجربه‌هايمان را صادر می‌كنيم و نتيجه مبارزه و دفاع با ستمگران را بدون كوچكترين چشمداشتی به مبارزان راه حق انتقال می‌دهيم و مسلماً محصول صدور اين تجربه‌ها جز شكوفه‌های پيروزی و استقلال و پياده شدن احكام اسلامی برای ملت‌های دربند نيست. روشنفكران اسلامی همگی با علم و آگاهی بايد راه پرفراز و نشيب دگرگون كردن جهان سرمايه‌داری و كمونيزم را بپيمايند و تمام آزاديخواهان بايد با روشن‌بينی و روشنگری، راه سیلی زدن بر گونه ابرقدرت‌ها خصوصا آمريكا را بر مردم سيلی‌خورده كشورهای اسلامی و جهان سومی ترسيم كنند. من با اطمينان می‌گويم اسلام ابرقدرت را به خاك مذلت می‌نشاند. اسلام موانع بزرگ داخل و خارج محدوده‌ی خود را يكيپس از ديگری برطرف و سنگرهای كليدی جهان را فتح خواهد كرد.» (11)
بيداری اسلامی هر چند پيش از انقلاب در ايران، و در دو سده‌ی اخير در كشورهای مختلف شكل گرفته بوداما اگر بيداری اسلامی را در يك منحنی رسم كنيم، امام را در طی اين 200 سال در قله‌ی اين منحنی می‌توان ترسيم نمود. با توجه به رهبری بی‌نظير امام در رويارويی با قدرت‌ها و به پيروزی نشاندن يك انقلاب و راهبری موج بيداری اسلامی و مواجهه با مسائل آن، بررسی مشكلات و موانع اين پديده از ديدگاه آن بزرگ‌مرد تاريخ، از اهميت زيادی برخورداراست. تحليل و بررسی اين موانع، مبتنی بر يافته‌های امام، بايد دستاوردی گران‌سنگ برای اسلام‌‌خواهان، صاحب‌نظران و رهبران جنبش‌های اسلامی تلقی شود.

موانع بيداری اسلامی
 

1ـ‌ تحريف اسلام و وارونگی مفاهيم دينی
با دور شدن تدریجی جوامع اسلامی از مفاهيم و آموزه‌های اصلی و اصيل اسلامی و دگرگون شدن پيام اوليه عدالت‌خواهانه اسلام، اين مكتب به آرامی از بالندگی افتاد، دچار انحراف گشت و به خمودی گراييد. مفاهيم ارزشمندی از قبيل عدالت، قسط، جهاد، حج ابراهيمی، شهادت،‌ امر معروف و.... به دليل خطرآفرين بودن برای قدرتمداران، يا به آفت تحريف دچار گشت و يا به بوته فراموشی سپرده شد؛ و به جای آن مباحثی از قبيل تقدير و جبر، حدوث و يا قديم بودن قرآن و مسائلی از اين دست، سالها مهمترين موضوع تفكر دينی و اسلامی می‌گردد،؛ توسط اينگونه مباحث دغدغه‌های دينی مردم كنترل شده و محوری برای مشغول كردن انديشمندان گرديده است.
از طرف ديگر، تمايلات فرقه‌ای و عربی، ورود افكار و انديشه‌های يونانی و فرهنگ غيراسلامی، الهام‌گيری از آموزش و جهان‌بينی غربی، آرمان‌های اسلامی را به انزوا كشانيد. بعدها اين مسائل، موجب اين پندار شدكه اسلام با دوره‌ی معاصر، سنخيت ندارد.
بيشتر تحصيل‌كرده‌ها، غافل از داشته‌ها و اندوخته‌های غنی فرهنگ اسلامی خويش، كليد توسعه و حتی نجات جامعه را در اتخاذ علوم، ارزش‌ها و فلسفه غربی ديدند. امام در ديداری كه با برخی مسئولين دارد به اين نكته اشاره می‌كنند كه دشمنان راه نجات خود را در اين ديده‌اند كه يا اسلام در اين كشورها نباشد و يا لااقل محتوا نداشته باشد. هرچند در بخش اول توفيقی نداشته‌اند، اما نسبت به بی‌محتوا كردن اسلام موفق بوده‌‌اند. (12)
از اين رو بسياری از افراد كه به دنبال احيای دينو تفكر دينی در جامعه بوده‌اند از بازنگری در برخی از مفاهيم كليدی انديشه اسلامی كه پيش از آن به دليل تعبيرهای غلط موجب ابهام و ركود شده بود شروع كردند. افرادی از قبيل سيدجمال، محمد عبده، محمد اقبال، دكتر علی شريعتی، و.... به دليل همين دريافت، چنان روشی را در سرلوحه‌ی فعاليت‌های خويش برگزيدند. امام در پاسخ به سؤال چيستی ريشه‌های انقلاب، به محتوای اصيل تشيع اشاره دارند: «سؤال: تصور می‌‌كنم كه آنچه امروز در حيات يك جنبش توده‌ای در ايران اتفاق می‌افتد، ريشه‌هايش در يك نوع رنسانس شيعه يافت می‌شود. ممكن است شرح دهيد كه چه فعاليت‌ها و بحث‌ها و مبارزاتی در سی سال اخير فعاليت شما را تشكيل داده است؟ جواب: يكی از خصلت‌های ذاتی تشيع از آغاز تاكنون مقاومت و قيام در برابر ديكتاتوری و ظلم است كه در تمامی تاريخ شيعه به چشم می‌خورد، هر چند كه اوج اين مبارزات در بعضی از مقطع‌های زمانی بوده است. در صد سال اخير حوادثی اتفاق افتاده است كه هركدام در جنبش امروز ملت ايران تأثیری داشته است. انقلاب مشروطيت، جنبش تنباكو و.... قابل اهميت فراوان است....» (13)
«... اسلام دين افراد مجاهدی است كه به دنبا حق و عدالتند، دين كسانی است كه آزادی و استقلال می‌‌خواهند، مكتب مبارزان و مردم ضد استعمار است. اما اينها اسلام را طور ديگری معرفی كرده‌‌اند... برای اين منظور كه خاصيت انقلابی و حياتی اسلام را از آن بگيرند و نگذارند مسلمانان در كوشش و جنبش و نهضت باشند... تبليغ كرده‌اند كه اسلام دين جامعی نيست، دين زندگی نيست، برای جامعه نظامات و قوانين ندارد. طرز حكومت و قوانين حكومتی نياورده است. اسلام فقط احكام حيض و نفاس است، اخلاقياتی هم دارد، اما راجع به زندگی و اداره جامعه چيزی ندارد....» (14) همه كوشش امام در مردمی بودن حكومت و ايجاد يك نظام جمهوری از جايگاه يك اسلام‌شناس و مجتهدی انديشه‌ور، برای بسياری تازگی داشته و شگفت‌آور بود. آنچه او در مورد زنان و نقش آنان در جامعه، فقه حكومتی و اجتهاد، نفی تحجر و واپسگرايان و مقدس‌مآبان، اسلام پابرهنگان و... می‌انديشيد موجب طرح دوباره اسلام در صحنه حيات بشری به ويژه در جهان اسلام شدودر آن روحی تازه دميد.
«همه توطئه‌های جهان خواران عليه ما از جنگ تحميلی گرفته تا حصر اقتصادی و غيره برای اين بوده است كه ما نگوييم: اسلام، جوابگوی جامعه است و حتما در مسائل و اقدامات خود از آنان مجوز بگيريم.» (15)
2ـ حكام كشورهای اسلامی
يكی از موانع در فراروی نهضت بيداری، حاكمان و سران كشورهای اسلامی است. اينان استقرار اسلام ناب را مغاير با منافع شخصی و حكومتی خود می‌پندارند. «مشكل مسلمين حكومت‌های مسلمين است. اين حكومت‌ها هستند كه مسلمين را به اين روز رسانده‌اند....» (16) «كارنامه سياه و ننگين حاكمان بی‌درد كشورهای اسلامی، حكايت از افزودن درد و مصيبت بر پيكره نيمه جان اسلام و مسلمين دارد.» «ما اميد اين را داريم كه اين نهضت ايران روشن كند مسائل را به همه ملتها وروشن كرده است... ملتها الان با ما هستند، اگر سر نيزه را از اين ملتها بردارند از عراق بردارند از ـ نمی‌دانم ـ تركيه بردارند ، همه يكصدا با ما موافقند. سرنيزه جلو را گرفته است، منتها ايران سر نيزه را شكست، ايران ايستاد....» 17 امام حكومتهای منحرف اسلامی را عامل قدرتهای شيطانی دانسته كه برای اغفال مردم از راه اسلام وارد می‌شوند.
3ـ‌تفرقه
برخلاف تصور برخی از سطحی‌نگران، امام وحدت را يك تاكتيك يا ابزار مصلحتی برای پيشبرد اهداف و مقاصد سياسی انقلاب نمی‌بيند. وحدت را يك اصل اسلامی تعريف كرده و لازمه‌ی توفيق در مبارزه با دشمن اصلی و موفقيت در رهايی از وضعيت اسفبار كنونی مسلمين را در گرو همبستگی دانسته است. وی با تمام ارادتی كه به اهل بيت دارد، حاضر نيست در مجالس تفرقه‌افكنانه‌ای كه به عنوان حمايت از اهل بيت تشكيل می‌شود، شركت كند.بالاتر از آن امام در پی ايجاد جبهه متحد اسلامی بود: «من به صراحت اعلام می‌كنم كه جمهوری اسلامی ايران، با تمام وجود برای احيای هويت اسلامی مسلمانان در سراسر جهان سرمايه‌گذاری می‌كند و دليلی هم ندارد كه مسلمانان جهان را به پيروی از اصول تصاحب قدرت در جهان دعوت نكند و جلوی جاه‌طلبی و فزون‌طلبی صاحبان قدرت و پول و فريب را نگيرد. ما بايد برای پيشبرد اهداف و منافع ملت مردم ايران برنامه‌ريزی كنيم. ما بايد در ارتباط با مردم جهان و رسيدگی به مشكلات و مسائل مسلمانان و حمايت از مبارزانوگرسنگان و محرومان، با تمام وجود تلاش كنيم...ما بايد خود را آماده كنيم تا در برابر جبهه متحد شرق و غرب، جبهه قدرتمند اسلامی انسانی، با همان نام و نشان اسلام و انقلاب ما تشكيل شود وآقايی و سروری محرومين و پابرهنگان جهان جشن گرفته شود.» (18)
دست‌های ناپاكی كه به ايجاد اختلاف ميان شيعه و سنی می‌پردازند درصدد «محدود كردن تأثیر انقلاب اسلامی و جلوگيری از گسترش آثار آن در مناطق سنی مذهب (هم بخش‌های نفت‌خير آن و هم كشورهای در حال نبرد با اسرائيل) بوده است.» (19)
امام برای تحقق آرمان وحدت مسلمين از امكانات موجود بهره می‌جستند و در اين راستا مسأله فلسطين، روز قدس و حج ابراهيمی و... را مطرح كرده‌اند.
4ـ تحجر و جمود مقدس‌نماها
امام از مقدس‌نماها به عنوان يكی از موانع شناخت و بيداری اسلامی نام می‌برد و برای گسترش اسلام ناب محمدی، شناخت اين مشعل‌داران تحجر و حماقت و مبارزه با آنان را ضروری می‌دانند. «... آمريكا و استكبار، در تمامی زمينه‌ها افرادی را در آستين دارند. در حوزه‌ها و در دانشگاه‌ها، مقدس‌نماها را كه خطر آنان را بارها و بارها گوشزد كرده‌ام،‌ اينان با تزويرشان،‌از درون محتوای انقلاب و اسلام را نابود می‌كنند. اينها با قيافه حق به جانب و طرفدار دين و ولايت همه را بی‌دين معرفی می‌كنند. بايد از شر اينها به خدا پناه ببريم... امروز جهان تشنه اسلام ناب محمدی است....» (20)
اين عده با تظاهر به تعبد و زهد كه از ويژگی‌های اين گروه است، بزرگترين ضربه را درطول تاريخ بر پيكره دين وارد آورده‌اند. نمونه بزرگ اين گروه را مارقين، در زمان حكومت حضرت علی(ع)‌تشكيل می‌دادند. چهره‌هايی آراسته و متظاهر به ديانت و زهد كه ضربه‌ای بزرگ بر پيكر عدل‌گستر حكومت علی وارد آوردند. خطر اين گروه را نبايد كوچك شمرد. اينان به راحتی ابزار دست دشمنان اسلام واقع می‌شوند. بزرگترين ضربه‌ها را اسلام درطول تاريخ حيات خود، از اين مقدس‌نماها خورده است. اينان زود فريب می‌‌خورند و زود تحريك می‌شوند و شايعه را به زودی قبول می‌كنند و پس از آن احساس تكليف می‌‌كنند!
«... امروز جامعه مسلمين طوری شده كه مقدسين ساختگی جلو نفوذ اسلام و مسلمين را می‌گيرند و به اسم اسلام به اسلام ضربه می‌زنند... روحيه و افكار خود را به نام اسلام در جامعه سرايت می‌دهند....» (21)
5ـ روشنفكرنماها
همانگونه كه تحجر و جمود از ديدگاه امام مانع بيداری است، دلبستگی به شرق و غرب و خودباختگی در برابر آنان ملتها را از نزديك شدن به اسلام باز می‌دارد. ... امروز زمانی است كه ملتها چراغ راه روشنفكرانشان شوند و آنان را از خوباختگی و زبونی در مقابل شرق و غرب نجات دهند كه امروز روز حركت ملتهاست. (22) اما در مواردی به روشنفكران توصيه می‌كنند،‌ معيار روشنفكری را، پيروی از داده‌های غربی ندانند. معرفی درست اسلام را وظيفه آنان دانسته و در استمرار يك حكومت عدل برای روشنفكران نقش اساسی قائلند. و از طرف ديگر انتقادهايی از روشنفكران دارند؛ بی‌تفاوتی نسبت به اسلام، غربگرايی، خودباختگی، بی‌اطلاعی از اسلام، بريدن از مردم از جمله مسائلی است كه امام به اين قشر گوشزد می‌كنند.
6ـ آخوندهای وابسته
امام در عين حمايت كامل از روحانيت اصيل و متعهد، انتقادهای بسيار تندی از روحانی‌نماهای وابسته به دربار و قدرت دارند. امام ضمن ابراز تنفر از روحانيت غيرمهذّب و متعهد، آنان را از ساواكی‌ها هم بدتر می‌دانند. اينها بهترين ابزاری هستند كه خواسته يا ناخواسته مجری اهداف قرار می‌گيرند: «طرح اختلاف بين مذاهب اسلامی از جنايانی است كه به دست قدرتمندان كه از اختلاف بين مسلمانان سود می‌برند و عمّال از خدا بی‌خبر آنان از آن جمله وعاظ‌السلاطين كه از سلاطين جور سياه‌روی‌ترند، ريخته شده و هر روز بر آن دامن می‌زنند و گريبان چاك می‌كنند و در هر مقطع به اميد آنكه اساس وحدت بين مسلمين را از پايه ويران نمايند طرحی برای ايجاد اختلاف عرضه می‌دارند.» (23) «... ما گرفتار بعضی اشخاص كه دعوی اسلامی می‌كنند، بعضی‌ها كه در راس روحانيت بعضی ممالك واقع هستند... ما را تكفير می‌كنند... متاسفانه در لباس مفتی هستند.... اين كارها بر ضد اسلام و بر وفاق ميل ابرقدرت‌هاست... اگر چنانچه وعاظ‌السلاطين بگذارند و اتحاد ما را به هم نزنند، ان‌شاءالله پيروز خواهيم شد.» (24)

پي نوشت ها :
 

1.امام خمينی،‌1/9/57
2.صحيفه نور، 4/114
3. روزنامه اطلاعات،1/12/61
4. مجله‌ی حضور، ش 34،ص15
5. همان، ص 13.
6 و 7. همان، ص 22.
8. دكتر شقاقی، امام خمينی راه‌حل جديد جهان اسلام، ص 37. اين كتاب در سال 1357 (1979) از سوی دارالمختار الاسلامی در قاهره به چاپ رسيده است.
9. حديث ولايت، ج 2، ص 296
10. همان، ج 1، صص 63 و 62.
11. صحيفه نور، 20/118
12. همان، 12/10/61
13. همان، 19/10/57
14. ولايت فقيه، ص 3 ـ 5
15. پيام امام به حوزه‌های علميه، 3/12/67
16. صحيفه نور، 12/278
17. همان، 26/9/58.
18. صحيفه امام، ج 21، ص 91
19. مقاله «شيعه و سنی؛ فريادی اسفناك و بی‌اثر» نوشته عزالدين ابراهيم؛ مجله الطليعه الاسلاميه؛ سال اول، پيش شماره 1983، ص 28
20. صحيفه امام، ج 21، ص 78
21. ولايت فقيه، حضرت امام، ص 73
22. پيام امام به زائران بيت‌الله‌الحرام، 21/6/59
23.15/6/60
24. 20/5/59.

منبع:فصلنامه اندیشه انقلاب اسلامی. شماره 10


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

بیداری اسلامی از منظر مقام معظم رهبری(1)

بیانات در مراسم بيعت وزير آموزش و پرورش و معلمان و جمعى از دانش آموزان استان تهران‌، 26/3/68

امروز استكبار جهانى و قلدرهاى سياسى عالم و امپراتوريهاى زر و زور در سرتاسر جهان كه در فساد و انحطاط غرقند، با اسلام و نظام اسلامى دشمن هستند؛ زيرا افشاگر و تهديد كننده‌ى آنها، اسلام و بيدارى مسلمين است. طبيعى است هر كارى كه عليه اسلام و نظام اسلامى و جمهورى اسلامى از عهده‌ى آنها برآيد، مى‌كنند.

پيام به حجاج بيت‌اللَّه الحرام، 14/4/68

دشمنان زخم‌خورده‌ى انقلاب، انتظار روز فقدان او را مى‌كشيدند، تا در غيبت آن ديده‌بان بيدار و نگاهبان نيرومند، به مولود و ميراث و تلاش او - يعنى جمهورى اسلامى در ايران و نهضت بيدارى مسلمين در جهان - دستبرد زنند و چشم‌زخم وارد آورند؛ اما بيدارى انقلابى و ايمان آگاهانه و وفاى عاشقانه‌ى ملت بزرگ ايران كه در تشييع جنازه‌ى بى‌نظير و عزادارى تاريخى آن بزرگوار و حوادث پس از آن بروز كرد، و نيز پيوند و رابطه‌ى عميقى كه مسلمانان جهان در آسيا و اروپا و آفريقا نسبت به ملت ايران و امام فقيد نشان دادند، دشمنان را مأيوس، و تحليلها و پيش‌بينيهاى آنان را افسانه و پندار ساخت.

بیانات در مراسم چهلمين روز ارتحال امام(ره)، 22/4/68
 

مسلمانان سراسر عالم، پيوند خود را با برادرانشان در جمهورى اسلامى مستحكم كنند. دلهاى آحاد امت بزرگ اسلامى بايد روزبه‌روز به هم نزديك شود. وسايل و ابزارهاى تفرقه و اختلاف كه به وسيله‌ى دشمن بر ملتهاى مسلمان تحميل شده است، نبايد در فضاى بيدارى امروز مسلمانان مؤثر افتد. مسلمين على‌رغم بعد منطقه‌يى و جغرافيايى و اختلاف زبانى و نژادى، بايد با يكديگر همدل و همزبان و همفكر و همگام باشند و به سمت هدفهاى بزرگ اسلامى حركت كنند.
... دولتهاى استكبارى تصور مى‌كنند با تحميل جنگ هشت‌ساله بر ما و محاصره‌ى اقتصادى و تبليغاتى و شايعه‌پراكنى و تهمت در سطح عالم، خواهند توانست به ما ضربه زنند؛ غافل از آن‌كه اسلام و بيدارى مسلمانان، تختهاى قدرت آنها را به لرزه درآورده است، و هر روز كه بگذرد، امواج سهمگين بيدارى اسلامى، تختهاى قدرت فرعونهاى عالم را بيشتر خواهد لرزاند.

بيانات در ديدار جمعى از مسؤولان نهادها و سازمانهاى خدماتى و حمايت‌كننده از مستضعفان و محرومان، 12/7/68
 

شما مى‌بينيد همه‌ى قدرتمندان عالم، همان كسانى كه در دنيا به دخالت در كشورها و اقدام عليه مصالح آنها شناخته شده‌اند و استعمار را به وجود آوردند و جنگهاى خونين را به راه انداختند و ملتها را ذليل كردند و سرمايه‌هاى مردم را نابود و ضايع كردند، در تلاشند تا به قول خودشان براى مسأله‌ى لبنان راه حلى پيدا كنند. اين راه حل چيست؟ آيا راه حل مشكل مردم است يا راه حل مشكل استكبار؟! چون در لبنان فقط مردم نيستند كه مشكل دارند؛ امريكا و دولتهاى مرتجع هم در لبنان به‌خاطر بيدارى مردم و شيوع و رواج تفكر اسلام ناب محمدى(صلى‌الله‌عليه‌واله‌و سلم) و اعتقاد مردم به مجاهدت و مبارزه و عدم سكوت و عدم ذلت، مشكل پيدا كرده‌اند. اين راه حلى كه مى‌خواهند پيدا كنند، راه حل كيست؟ آيا راه حل مشكل استكبار را مى‌خواهند جستجو كنند يا راه حل مشكل مردم را؟ اين‌جاست كه حق و باطل، ملاك و معيار و علامت پيدا مى‌كند.

بیانات مقام معظم رهبری در خطبه‌هاى نماز جمعه‌ى تهران، 20/11/68‌
 

ما از بيدارى اسلامى در سراسر دنيا حمايت مى‌كنيم و مسلمانهايى را كه در نقاط مختلف عالم مى‌خواهند به زندگى و فرهنگ اسلامى خود برگردند، تأييد مى‌كنيم؛ چون حق آنهاست. آنچه كه امروز در دنيا شنيده مى‌شود، همه يك‌طور نيست. شعارها، همه به يك حقيقت اشاره نمى‌كنند. قضاوت درباره‌ى مسائل مسلمانها در عالم، قضاوت يكسانى نسبت به همه نيست؛ اما آنچه براى ما محترم است، همان بازگشت به اسلام از سوى مسلمانهاست. امروز، مسلمانان عالم حق دارند اسلام و قرآن را گرامى و عزيز بدارند و گرامى و عزيز هم خواهند داشت و به زندگى اسلامى هم برخواهند گشت و تلاشها و سركوبها هم هيچ فايده‌يى نخواهد داشت.

بیانات در ديدار جمع كثيرى از علما و طلاب حوزه‌ى علميه‌ى قم و مدارس علميه‌ى تهران‌، 2/12/68
 

همين حركتى كه امام بزرگوارمان كرد، امروز دنيا را در يك كوره‌ى عظيم التهاب انداخته و شرق و غرب را دور خودشان مى‌چرخاند. اين حوادث دنيا - بعضى مستقيم و بعضى غيرمستقيم - به انقلاب اسلامى ما مربوط است. اين‌كه امروز در دنياى شكل گرفته‌ى دو قطبى، يك قطب از صحنه‌ى سياسى عالم برداشته شد و ديگر چيزى به نام بلوك شرق و سوسياليسم وجود ندارد، اين‌كه معادلات جهانى در روابط قدرتها و دولتها و كشورهاى كوچك و ملتها و رژيمهاى گوناگون، كاملا به هم ريخته، مربوط به پيروزى انقلاب اسلامى و دين در ايران و مربوط به بيدارى مسلمانها و آگاه شدن حس دينى در وجدانهاست.

بیانات در ديدار جمع كثيرى از پاسداران در سالروز ميلاد امام حسين(ع)، 10/12/68
 

عصبانيت دستگاه استكبار و بخصوص امريكا از اين است كه مى‌بينند در سرتاسر جهان اسلام، بيدارى اسلامى روزبه‌روز بيشتر مى‌شود. اينها اميدوار بودند كه با گذشت زمان، شعارهاى جمهورى اسلامى در دنيا كهنه و بى‌اثر بشود؛ ولى ديدند كه نشد. اينها دل بسته بودند كه با رحلت و فقدان امام - كه شمع جمع مشتاقان در سرتاسر دنيا بود - شعارهاى اسلامى بى‌اثر و فراموش بشود؛ ولى ديدند كه نشد.

بیانات مقام معظم رهبری در خطبه‏هاى نماز جمعه‏ى تهران، 10/1/69
 

جمهورى اسلامى، در مقابل اين همه خصومت و دشمنى، با قدرت و استحكام ايستاد، ضعيف نشد، بلكه قويتر شد و در خارج از وجود خود، مسلمانان را هم بيدار كرد و ما امروز شاهد بيدارى مسلمين هستيم. هميشه عرض كرده‌ايم، باز هم تأكيد مى‌كنيم كه اين دوران، دوران پيشرفت و بيدارى و پيروزى اسلام و مسلمين است، و اين به بركت جمهورى اسلامى است.

پيام به مناسبت روزجهانى قدس، 24/1/69
 

خوشبختانه بيدارى اسلامى ملت فلسطين، افقهاى آينده را تا حدود زيادى روشن كرده است. امروز نسل نوين ملت فلسطين، با نام خدا و تمسك به ايمان اسلامى مبارزه مى‌كند و اين مبارزه‌يى بسيار اميدبخش است و چنانچه مشهود است، دشمن - چه حكام صهيونيست، چه امريكا و ديگر پشتيبانان اسرائيل و چه خيانتكاران منطقه - از اين حركت جديد كاملا سراسيمه و دهشت‌زده است و براى لوث كردن و پوشاندن جهت اصلى مبارزه، به هر شيوه‌يى متوسل مى‌شود كه آخرين آن، همين شعار توخالى و دروغين حمله به اسرائيل است كه حكام دست‌نشانده‌ى عراق بر زبان آوردند.

بیانات مقام معظم رهبری در خطبه‏هاى نماز عيد فطر، 7/2/69
 

عظمت اسلام در طول تاريخ، به مسلمانان ساخته و پرداخته و حقيقتا آماده‌ى براى بندگى خداست. اگر ملت ايران آماده‌ى بندگى خدا نبود، نمى‌توانست اين حركت عظيم را انجام بدهد و امروز به عنوان الگو و نمونه‌ى جامعه‌ى اسلامى در ميان مسلمانان سرتاسر عالم، بلكه نمونه‌ى مجاهدت و فداكارى و بيدارى و آگاهى در ميان همه‌ى ملتهاى مستضعف، معرفى بشود. اگر امروز هم ملت ايران بخواهد اين بار سنگين امانت را بر دوش خود حمل كند و به سرمقصد مطلوب برساند، جز خودسازى هيچ راهى ندارد.

بیانات در ديدار ميهمانان و شركت‌كنندگان كنفرانس جهانى اهل‌‌بيت(ع)، 4/3/69
 

در دنياى اسلام، بحمدالله بيدارى اسلامى به وجود آمده است. صهيونيستهاى غاصب، تقريبا بعد از چهل سال آسايش، كه جز گاهى چند روزى مختصر حمله‌يى از طرف دولتها شده بود و بعد هم خساراتشان به اضعاف مضاعف از طرف امريكا جبران شده بود، امروز در داخل سرزمينهاى فلسطين، از سوى اسلام تهديد مى‌شوند. اين اسلام است كه آنها را تهديد مى‌كند. سازمانهاى فلسطينى، آنها كه از دين فارغ و نسبت به آن بيگانه بودند، ناتوانى خودشان را نشان دادند. امروز كار به جايى رسيده است كه سردمداران به اصطلاح سازمانهاى فلسطينى، به فلسطينيهاى داخل سرزمينهاى اشغالى و بعضى مناطق ديگر پيغام مى‌دهند كه كار را سخت نكنيد، ايجاد مشكل نكنيد. آنها براى خودشان، مبارزه‌ى حقيقى را مشكل به حساب مى‌آورند! سرنوشت حركتى كه از دين جدا باشد، بهتر از اين نيست. اما دين، فلسطين را نجات خواهد داد. اسلام، فلسطين را از دست متجاوزان پس خواهد گرفت.
شما ببينيد، در هر گوشه‌ى عالم كه مجموعه‌ى مسلمانى هست، از يك طرف احساس هويت اسلامى مى‌كند، و از طرف ديگر سختگيرى نسبت به آنها، بيش از ديگران است. نمونه‌ى ديروزى آن، مناطق آذربايجان شوروى و بعضى مناطق ديگر، و نمونه‌ى امروزى آن، كشمير است. مسلمانان در آن‌جا، حرف حق خودشان را مى‌زنند. آن كسى كه از قضايا و سرگذشت كشمير مطلع باشد، مى‌داند كه آنچه مسلمانان بيچاره‌ى كشمير مى‌گويند، يك سر سوزن از حق دور نيست. كسانى كه آنها را خاموش مى‌كنند، ناحق مى‌گويند. كسانى كه به آنها حمله مى‌كنند، عمل ناحق انجام مى‌دهند. متأسفانه دنيا هم به اين قضايا، با خونسردى نگاه مى‌كند.

پيام به مناسبت اولين سالگرد ارتحال حضرت امام خمينى(ره)، 10/3/69
 

راز بزرگ در اعتلاى امروزين اسلام و بيدارى عمومى مسلمين، اين بود كه در كانون اين حركت - يعنى ايران اسلامى - مولود مبارك انقلاب بار ديگر از شجره‌ى طيبه‌ى اسلام به وجود آمد و محصول آن - يعنى جمهورى اسلامى - با بنيه‌ى مستحكمى كه از ايمان اسلامى رهبر و ملت يافته بود، در راه و جهت درست پايدار ماند و وسوسه‌ى شيطانها و تيغ خشم و كين آنان بر او كارگر نشد و با مظلوميتى قدرتمندانه و سرافراز، چهره‌ى منور خود را در برابر چشم جهانيان قرارداد و با وجود و بقا و استقامت و صلابت خود، مبلغ اسلام شد.

پيام به حجاج بيت‏اللَّه‏الحرام‏، 7/4/69
 

از خداوند متعال، پيروزى اسلام و مسلمين را مسألت نموده و اميدواريم با پايدارى و استقامت و بيدارى و آگاهى مسلمانان، مخصوصا علما و متفكران و روشنفكران و نويسندگان و شعرا و هنرمندان در كشورهاى اسلامى، و توجه به عظمت وظيفه‌يى كه بر دوش آنان است، دست كفار و مستكبرين از جوامع اسلامى قطع شود و عزت و عظمتى كه خداوند براى مؤمنان مقدر فرموده، به جوامع مسلمان برگرداند.
... امروز هم كه روز بيدارى مسلمانان و طرح شعارهاى اساسى اسلام است، حج - اين فريضه‌ى بزرگ امت‌ساز و دشمن‌شكن - از مضمون واقعى خود بركنار بماند و قالبى به اين عظمت و شكوه، معنايى به تناسب خود نداشته باشد.

بیانات در ديدار با فرزندان ممتاز شاهد، جانبازان شهرهاى مشهد و تهران و استان كردستان، 21/6/69
 

بسيارى از دولتهايى كه در طول ده سال گذشته به عراق كمك كرده بودند، امروز اعتراف مى‌كنند كه اين كمك، عليه ايران و براى كوبيدن اسلام و انقلاب اسلامى ايران بوده است! امروز اعتراف مى‌كنند كه با حركت اسلامى ملت ايران، دشمنى و خصومت داشتند.
اين خصومت از طرف كيست؟ از طرف قدرتها؛ كسانى كه مى‌خواستند دنيا و ملتها را بچاپند؛ ولى اسلام و بيدارى اسلامى و حركت اسلامى را مزاحم خودشان به حساب مى‌آوردند؛ حقيقت هم همين است. اسلام و بيدارى اسلامى، در مقابل هرگونه سلطه‌گرى ايستاده است و خواهد ايستاد. هر حركت اسلامى كه صادقانه باشد، مسلمانان دنيا را كه جمعيت كثيرى هستند، به خود جلب خواهد كرد و اين براى قدرتهاى بزرگ، يك خطر است. براى همين است كه استكبار جهانى، از انقلابهاى ديگر در ساير نقاط عالم، به قدر انقلاب متكى به اسلام واهمه نداشته است.
امروز بخش عظيمى از حساسترين نقاط دنيا به لحاظ اقتصادى، منابع، سوق‌الجيشى و وضعيت اجتماعى، در اختيار مسلمانان است. نقاط التقاى سه قاره‌ى بزرگ و مهم عالم - يعنى آسيا و آفريقا و اروپا - در اختيار مسلمانان است. مهمترين منابع نفت و بسيارى از منابع ديگر عالم، در اختيار مسلمانان است. امروز دنياى استكبارى و امپراتوريهاى زر و زور مى‌دانند كه اگر اسلام در دل مسلمانان و جوامع اسلامى حيات دوباره پيدا بكند، منافع آنها - منافع متكى به سلطه و زورگويى و دو قطبى بودن عالم - به خطر خواهد افتاد.

بیانات در ديدار با روحانيون و طلاب آزاده، 5/8/69
 

اگر روزى اين حرفها، گنده‌گويى و مبالغه و دور از ذهن به نظر مى‌رسيد، امروز ديگر با پيروزى انقلاب اسلامى و با بيدارى مسلمين در همه جا و با آشكار شدن ضعف ذاتى استكبار و قدرتهاى جهانى، اين حرف، حرف شگفت‌آورى نيست. ممكن است كه طول بكشد، اما خواهد شد و ملتهاى مسلمان و جوامع اسلامى، زودتر از همه نجات خواهند يافت.

بیامات در سمينار «تبيين حكم تاريخى حضرت امام خمينى(ره)»، در سالروز ميلاد امام عصر(عج)، 11/12/69
 

امروز دولت ظالمى مثل امريكا، با اين‌كه ثروتش زياد، تجهيزاتش مدرن، و تكنولوژى و علم و امكاناتش هم فراوان است؛ اما همين ظالم و شيطان متجاوزى كه ملتهاى دنيا را قدرتمندانه تحقير مى‌كند، براحتى قابل سركوب شدن در منطقه‌ى اسلامى ماست؛ به شرط اين‌كه ملتهاى مسلمان، به آينده‌ى خود اميد داشته باشند و با دلگرمى و اميد، اقدام و قيام و حركت كنند. خوشبختانه ملتها خيلى بيدار شده‌اند؛ اما فقط بيدار شدن كافى نيست. بعد از بيدارى، بايد حركت كنند و اين حركت، به اميدوارى احتياج دارد.

بیانات در ديدار با جمعى از روحانيون، ائمه‏ى جماعات و وعاظ در آستانه‏ى ماه مبارك رمضان‏، 22/12/69
 

امروز ملتها به احكام اسلامى نياز دارند. امروز حتى ملتهاى غيرمسلمان، به احكام اسلامى نياز دارند؛ چه برسد به ملتهاى مسلمان. اين ملتهايى كه مى‌بينيد پشتشان زير بار قدرتهاى بزرگ خم شده و زجر مى‌كشند، به‌خاطر دورى از اسلام است. بيدارى اسلامى، ملتها را نجات خواهد داد. به همين‌خاطر است كه امروز هوشمندترين انسانها در كشورهاى مختلف، به خط اسلام - همان راهى كه قرآن به آنها نشان مى‌دهد - رو آورده‌اند؛ چون راه عزت و راه نجات است. در حال حاضر، دنياى اسلام با تمام وجود، به نقشى كه ممكن است امروز معممان و روحانيون و علما و گويندگان و وعاظ و طلاب علوم دينيه و ائمه‌ى جماعت و همه‌ى ملبسان به لباس تبليغ و دعوت و دين ايفا كنند، نيازمند است.

پيام به حجاج بيت‌اللَّه‌الحرام‌، 26/3/70
 

از خداوند متعال، بيدارى همه‌ى مسلمانان عالم و شرف و عزت و رهايى آنان از چنگال استكبار و پيروزى آنان در مصاف دشمنان خدا را مسألت مى‌كنم... آخرين سخن، مسأله‌ى بسيار مهم سلطه‌ى روزافزون شيطان بزرگ بر ذخاير كشورهاى اسلامى و حضور بيش‌ازپيش سياسى و اقتصادى و حتى نظامى آن در اين كشورهاست. اين ابرقدرت ظالم و سلطه‌طلب، پس از تحولات اخير جهان كه منتهى به فرو ريختن نظامهاى الحادى كمونيستى شد و شوروى از موضع رقابت با امريكا فرو افتاد، درصدد است كه سراسر جهان و بخصوص مناطق زرخيز اسلامى را به منطقه‌ى نفوذ بى‌رقيب خود مبدل سازد و پس از فراغت از - به اصطلاح - جنگ سرد، به جنگ همه‌جانبه‌يى با بيدارى اسلامى - كه مانع مستحكمى در راه اين نفوذ است - كمر بسته است.
... امروز كه ملتهاى مسلمان، پس از چند قرن انحطاط و ركود و ذلت، در چهارگوشه‌ى جهان اسلام، به بيدارى و قيام لله گراييده‌اند و عطر آزادى و استقلال و بازگشت به اسلام و قرآن، در فضاى بسيارى از كشورهاى اسلامى منتشر گشته است، بيش از هميشه مسلمانان نياز دارند كه پيوند خود را با آن گذشته‌ى نورانى و معجزنشان، با دوران قيام لله و مبارزه‌ى اسلامى دوران نخستين اسلام مستحكم كنند. خاطرات اسلامى در اين سرزمين، براى هر مسلمان متدبر، در حكم داروى شفابخشى است كه او را از ضعف و زبونى و يأس و بدبينى نجات مى‌دهد و راه دستيابى به هدفهاى اسلام را - كه هميشه براى هر انسان برخوردار از عمق و حكمت، هدف زندگى و تلاش است - نشان مى‌دهد.

بیانات در ديدار با مسؤولان و كارگزاران نظام جمهورى اسلامى ايران‏، 23/5/70
 

امروز كوچكترين ناكامى براى ملت ما، پنجاه سال يا بيشتر نهضت بيدارى اسلام را به عقب خواهد انداخت. اين جوانانى كه در آفريقا و آسيا و خاورميانه و حتى شهرهاى كشورهاى اروپايى، به نام اسلام شعار مى‌دهند و به اسم جمهورى اسلامى به هيجان مى‌آيند، اينها اسلام را با پيشرفتش، با آن امام، با آن چهره‌ى نورانى، با آن كلمات نورانى، با آن اداره‌ى الهى جامعه و با آن تقوايى كه به بركت انقلاب از قله‌ى جامعه‌ى ما مى‌ريخت و تمام اقشار جامعه را كم و بيش فرا مى‌گرفت، ديده‌اند. اگر شكستى باشد، ناكامى‌يى باشد، عمل بدى باشد، همه دگرگون خواهد شد و دشمن جرى خواهد گرديد.

بیانات در ديدار با خانواده‏هاى شهدا، جانبازان و آزادگان، 17/7/70
 

امروز اگرچه قدرتهاى استكبارى در يك ميدان بى‌رقيب و بى‌منازع، چهار اسبه مى‌تازند، اما در دنيا كار به جايى رسيده است كه بزرگترين قدرتهاى استكبارى هم از احساسات معنوى و دينى ملتها مى‌ترسند! در مقابل قدرت بى‌مهار و بى‌رقيب امريكا، امروز تنها چيزى كه ايستاده است و مقاومت مى‌كند و امريكا را مى‌ترساند، همين بيدارى معنوى انسانهاست؛ بخصوص در مناطق اسلامى. اين روح دينى و گرايش به معنويت كه در ميان بسيارى از ملتها پيدا شده است، اينها را شما كرديد؛ مبارزه‌ى شما كرد.

پیام در پی برگزاری كنفرانس صلح خاورمیانه، 25/7/70
 

دشمن درصدد است فلسطين را يكباره از پيكر دنياى اسلام جدا كند و شجره‌ى ملعونه‌ى صهيونيسم را در خانه‌ى مسلمين ماندگار سازد. امريكا درصدد است با تثبيت رژيم اشغالگر، همه‌ى سررشته‌هاى زندگى در اين منطقه‌ى حساس را به دست گيرد و خود را از نگرانى خيزش اسلامى در خاورميانه و آفريقا نجات دهد. دشمنان اسلام مى‌خواهند همه‌ى كينه‌ى ديرين خود با اسلام و شكستهايى را كه در سالهاى اخير بر اثر بيدارى مسلمين تحمل كرده‌اند، در اين‌جا جبران كنند. اين حادثه با هيچيك از توطئه‌هاى چند سال اخير درباره‌ى خاورميانه قابل مقايسه نيست؛ اين‌جا سخن از غصب يك كشور و دربه‌درى مستمر و ابدى يك ملت و جداسازى نهايى پاره‌ى تن جهان اسلام و مركز جغرافيايى وطن بزرگ اسلامى و قبله‌ى اولاى مسلمين است.

بیانات در جمع روحانيون و طلاب حوزه‏ى علميه و ائمه‏ى جمعه و جماعات استان بوشهر، 11/10/70
 

آينده بحمدالله آينده‌ى خوبى است. آنچه كه ما در افق آينده مى‌بينيم، اين است كه به فضل الهى دشمن در دنيا محاصره خواهد شد. سعى كردند ما را در منطقه محاصره كنند؛ اما خداى متعال از اطراف اينها را محاصره خواهد كرد؛ «يغشيهم العذاب من فوقهم و من تحت ارجلهم»؛ حالا نمونه‌هايش را در اين‌جا داريد مشاهده مى‌كنيد؛ اين بيدارى اسلامى از اين قبيل است؛ اين تلاشى كشور اتحاد جماهير شوروى سابق از اين قبيل است؛ اين اختلافات داخلى و نژادى و قومى در اروپا از اين قبيل است. ما آرزوى جنگ براى كسى نمى‌كنيم؛ اما كار خدا تماشايى است!

بیانات در ديدار با مسؤولان و كارگزاران نظام جمهورى اسلامى در سالروز عيد سعيد مبعث‏، 13/11/70
 

ما بحمدالله افق را روشن مى‌بينيم. ما اين بيدارى را، بيدارى مباركى به‌حساب مى‌آوريم. ما احساس مى‌كنيم كه حربه‌ى ابرقدرتها روزبه‌روز كندتر مى‌شود؛ همچنان كه آن ابرقدرت متلاشى شد و آن مجموعه‌ى عظيم از جغرافياى عالم محو گرديد و آن ابرقدرتى كه آن‌گونه در دنيا حكم مى‌راند، امروز از او عين و اثرى نيست؛ اين، رفتار عالم را به ما نشان مى‌دهد.
... ملتهاى اسلامى بايد به اسلام برگردند. البته دروازه‌ها گشوده شده است. قرن گذشته - يعنى قرن سيزدهم هجرى - قرن فريادگرى فريادگران اسلام بود. از اوايل قرن كه ميرزاى شيرازى - مرجع تقليد بزرگ اسلام - در برخورد با كمپانى انگليسى، آن فتواى قاطع را داد و يك ملت را به حركت درآورد، تا واقعه‌ى مشروطيت در ايران، تا حركتهاى اسلامى در هند، تا بيدارى اسلامى در غرب دنياى اسلام - در خاورميانه و در منطقه‌ى شمال آفريقا - و بزرگانى كه سخن گفتند و سيد جمال‌الدين‌ها و ديگران و ديگران، تقريبا قرن فرياد و قرن مبارزات بود، و قرن بعد، قرن تجربه است. اين قرنى كه ما امروز در آن قرار داريم، قرن تجربه است. قرن چهاردهم هجرى، قرن فرياد و بيدارگرى و اعلام بود، و اين قرن پانزدهم - از آغاز و از افتتاح آن - قرن تجربه و عملكرد است.
مى‌بينيم كه ملتهاى اسلامى مجرب شده‌اند و دارند عمل مى‌كنند؛ يك نمونه، جمهورى اسلامى بود؛ و اين نمونه‌ى اول بود. ما به خاطر اين‌كه اولين نمونه بوديم، مشكلات بسيارى را گذرانديم. مسلمانان بايد از اين نمونه، تجربه بيندوزند. آن ملتهايى كه امروز بخواهند در كشورهاى خودشان حركت اسلامى را تحقق ببخشند، مى‌توانند كار جامعترى از ملت ايران نشان بدهند و به منصه‌ى ظهور بياورند؛ اگر خدا كمك كند و اگر آنها همت كنند.

گفت و شنود مقام معظم رهبری با ميهمانان خارجى شركت كننده در مراسم دهه‏ى فجر، 14/11/70
 

امروز خوشبختانه بيدارى وسيعى در دنياى اسلام به وجود آمده است؛ بايستى اين بيدارى را به سمت صحيحى هدايت كرد؛ مسؤوليت اين كار با علما و متفكران و انديشمندان عالم اسلام است؛ بايد كارى كنند كه اين بيدارى به سمت حاكميت اسلام منتهى بشود. البته كار مشكل است؛ شما نمونه‌اش را در الجزاير مشاهده كرديد. در الجزاير انتخابات آزادى برگزار شد كه يك گروه بكلى جداى از حكومت برنده شدند؛ و گروهى كه خودشان انتخابات را اجرا مى‌كردند، مغلوب شدند؛ اين خودش بهترين دليل براى اين است كه انتخابات، انتخابات صحيحى بود؛ درعين‌حال اين انتخابات را به هم زدند! البته استدلالى هم درست مى‌كنند؛ مى‌گويند اين دمكراسى‌يى است كه به سمت استبداد خواهد رفت! در حالى كه آنها حكومتهاى استبدادى را در كشورهاى ديگرى كه با خودشان همپيمانند، كاملا پذيرفته‌اند و شايد هم مى‌دانند كه حكومت اسلامى، حكومت استبدادى نيست؛ ليكن بالاخره بايد بهانه‌يى آورده بشود، و آن بهانه اين است! اينها احتمال مى‌دهند كه اين وضعيت در كشورهاى ديگر اسلامى هم تكرار بشود؛ لذا زمزمه‌ى حضور سازمان ملل در برگزارى انتخابات كشورها را مى‌كنند. سازمان ملل، يعنى امريكا؛ يعنى دولتهاى داراى «حق وتو» و در رأسشان امريكا! اين معنايش آن است كه اگر در كشورهايى احتمال اين وجود دارد كه اسلام با انتخابات پيروز بشود، بايستى امريكا يك طريق به ظاهر قانونى درست كند، آن‌جا حضور پيدا كند و مانع از اين كار بشود! مسلمانان بايد در مقابل چنين توطئه‌يى بايستند.

پيام به كنفرانس انديشه‏ى اسلامى، 15/11/70
 

اين انقلاب، حجت را بر همه‌ى مسلمانان جهان تمام كرد. اين انقلاب و شجره‌ى طيبه‌ى جمهورى اسلامى در اين سرزمين، نشان داد كه اقتدار و هيمنه و خشونت خداوندان زر و زور نمى‌تواند بر اراده‌ى قاهر ملتهاى برخوردار از آگاهى و صبر و خلوص و فداكارى غلبه كند و در مبارزه‌ى ناگزير ميان حركت اسلامى و دشمنان ثروتمند و مسلح اسلام، پيروزى با اسلام است. البته با رعايت آن شروط، از هيچ‌كس اين عذر پذيرفته نيست كه از ترس خشونت و قدرت دشمن، از دفاع از اسلام و تلاش براى حاكميت اسلام دست بكشد.
بحمداللَّه ملتها بيدار شده و در راه اسلام قدم گذاشته‌اند؛ نمونه‌ى زنده، ملتهاى شمال آفريقا، مخصوصاً سودان و الجزايرند. مقاومت اين ملتها و پذيرفتن ابتلائاتى كه خداوند در قرآن فرموده است، سرنوشت قطعى آنان را پيروزى خواهد ساخت؛ «و لنبلونّكم بشى‌ء من الخوف و الجوع ونقص من الأموال و الأنفس و الثّمرات و بشّر الصّابرين».
مسلمانان بايد آگاه باشند و بمانند؛ فريب دشمن و تبليغات ترفندآميز او را نخورند. وحدت و همدلى ما، نخستين آماج آنهاست. بايد اجازه نداد كه بهانه‌هاى فرقه‌يى و مذهبى و طايفه‌يى، بهانه‌هاى اختلاف شود. بايد اجازه نداد كه فشارهاى توأم با وعده از سوى استكبار، اراده‌ها را ضعيف كند. بايد اجازه نداد كه بى‌خبران از اسلام و دشمنان خصلتى آن، درباره‌ى حلال و حرام خدا و تفسير آيات خدا، به لاطائلات بپردازند و اسلام را به ميل خود و در خلاف جهت پيام و رسالت اسلام و قرآن، تحريف و معنى كنند. اگر اين كارها بشود - كه البته نيز خواهد شد - اسلام پرچم نجات بشر را در بخش عظيمى از جهان خواهد گسترانيد. به اميد آن روز و با تكيه و اعتماد به وعده‌ى الهى، شما را به خدا مى‌سپارم.

بیانات در اجتماع بزرگ مردم قم، در سالروز ميلاد حضرت مهدى (عج)، 30/11/70
 

امروز كار دشمنان اسلام و حاكميت قرآن به جايى رسيده است كه پوشيده نمى‌دارند كه با اسلام و حاكميت اسلام مخالف و دشمنند؛ يك روز اين را مخفى مى‌كردند؛ يك روز ادعا مى‌كردند كه هرچه ملتها بخواهند؛ يك روز مى‌گفتند كه ما با اديان، با مذاهب و با افكار و عقايد مردم مخالفتى نداريم؛ اما گذشت زمان موجب شد كه سنتهاى الهى عمل كند. امروز بيدارى مردم، اسلامخواهى مردم، حضور مردم در صحنه‌ها، فعاليتهاى تلاشگرانه‌ى ملتهاى مسلمان، استكبار را در موضع ضعف و انفعال قرار داده است؛ مجبورند صريحا بگويند كه ما با حكومت اسلامى و با حاكميت اسلام مخالفيم؛ ناگزيرند اين را اعتراف كنند؛ اين يكى از تناقضهايى است كه در زندگى آنها وجود دارد؛ اين يكى از چيزهايى است كه سنتهاى الهى بر آنها تحميل مى‌كند.
اگر قدرتهاى استكبارى عالم مى‌توانستند، مى‌خواستند به ملتها اين‌طور وانمود كنند كه به مقدسات و دين و عقايد آنها احترام مى‌گذارند؛ براى اين‌كه ملتها را فريب بدهند! اما پيشرفت كارها، بيدارى ملتها و مبارزات پيگير ملتهاى مسلمان موجب شده است كه آنها ديگر نتوانند مافى‌الضمير خودشان را كتمان كنند؛ حالا صريح مى‌گويند كه ما با حكومت اسلامى، با نظام اسلامى، با جمهورى اسلامى، با روى كار آمدن اسلامگرايان و به قدرت رسيدن طرفداران اسلام مخالفيم؛ اين را صريح بيان مى‌كنند! چهره‌ى آنها در مقابل ملتها بايد روزبه‌روز بيشتر افشاء بشود؛ يعنى آن سرانجام تلخى كه در انتظار مستكبران است، بايد نزديكتر بشود و نزديكتر خواهد شد.
منبع:www. khamenei.ir


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

بیداری اسلامی از منظر مقام معظم رهبری(2)

پيام به سمينار در پاكستان‏، 20/2/71

انقلاب اسلامى به رهبرى حضرت امام خمينى قدس‌الله‌نفسه‌الزكيه احياگر اسلام ناب محمدى(ص) و سرآغاز تحولات عميق و سريع در جهان و مبشر سقوط و اضمحلال قدرتها و امپراتورى‌هاى بزرگ شد. بيدارى و خوديابى و ايستادگى مسلمانان موجب شد كه ما جلوه‌هائى از قدرت و حكمت الهى را شاهد باشيم و وعده‌ى حتمى خداوند در ظهور دين و مكنت مسلمين و وراثت صالحين و خلافت مستضعفين را در آينه‌ى تجارب زمانه، به يقين دريابيم و قيام مهدى موعود ارواحنافداه و استقرار دولت الهى جهانى آن حضرت را به حقيقت منتظر باشيم.

بيانات در ديدار مهمانان خارجى شركت كننده در مراسم سالگرد ارتحال حضرت امام(ره)، 13/3/71
 

ببينيد امروز در دنيا عليه مسلمانان چگونه عمل مى‌شود! اين به خاطر آن است كه در هر نقطه، جلادان مسلمانان فهميده‌اند كه دستگاه استكبار از فشار بر مسلمانان و قتل عام آنها خشنود مى‌شود؛ لذا آزادانه به مسلمين آسيب مى‌رسانند! اين وضعيت مسلمانان قفقاز است؛ اين وضعيت مردم بوسنى و هرزگوين است؛ اين وضعيت مسلمانان انقلابى در الجزاير است؛ اين وضعيت دولت انقلابى در سودان است؛ اين وضعيت مردم شريف و مجاهد افغانستان است؛ اين وضعيت مردم مظلوم كشمير است؛ اين وضعيت مسلمانان مظلوم عراق است! در كدام نقطه‌ى عالم است كه مسلمانان از قبل خباثت استكبار جهانى و دستگاه سلطه‌ى جهانى به نحوى آسيب نبينند و فشار بر آنها وارد نشود؟! علاج چيست جز ايستادگى خود مسلمانان؛ جز همپيمانى مسلمانان؛ جز اتحاد مسلمين با يكديگر؛ جز بيدارى جوامع اسلامى و جز به كار گرفتن نيروى عظيم اسلام در سراسر عالم؟

پيام به حجاج بيت‏اللَّه الحرام، 13/3/71
 

ارتباطات فشرده‌ى امريكا و عواملش با دولتهاى تازه مستقل آسياى ميانه، براى ترساندن آنان از گرايشهاى اسلامى و آنچه آنان نام «بنيادگرايى» بر آن مى‌گذارند؛ موضعگيريهاى خصمانه‌ى آنان در برابر بيدارى اسلامى در همه‌جا و به عنوان نمونه‌اى بارز با حركت سياسى پيروزمندانه‌ى مسلمانان، در الجزاير؛ رفتار حيله‌گرانه و غدرآميز آنان با ملت عراق و افكندن آنان در وضعيت غم‌انگيز و مظلومانه‌ى كنونى؛ دشمنى عنادآميز آنان با زمامداران سودان كه صرفا عكس‌العمل گرايش اسلامى آنان است و دهها نمونه‌ى ديگر در سرتاسر جهان، مجموعا شواهد انكارناپذيرى بر خصومت علنى امريكا و ديگر سلطه‌گران، نسبت به اسلام و بيدارى اسلامى و بازيافتن هويت اسلامى از سوى مسلمين جهان است.
... سال گذشته‌ى ما، سرشار از چنين حوادث كم‌نظير و شگفت‌آورى بود و به جز آن، رشد حركتهاى اسلامى و بيدارى مسلمين و اصرار آنان بر بازيافتن هويت اسلامى و مبارزه با قدرتهاى قلدر و معارض در بسيارى از مناطق عالم، بخصوص در فلسطين عزيز و برخى كشورهاى شمال آفريقا و خاورميانه نيز، از مميزات برجسته‌ى اين سال بود.

بيانات مقام معظم رهبرى در مراسم سالگرد ارتحال حضرت‏امام(ره)، 14/3/71
 

آنچه كه من احساس مى‌كنم و شواهد بر آن گواهى مى‌دهد، اين است كه امريكا و دستيارانش احساس مى‌كنند كه اسلام، بزرگترين مانع بر سر راه اين جهانخوارى است. لذا در نظم نوين جهانى و در منطق امريكايى، مبارزه‌ى با اسلام، يك عنصر اساسى و اصلى است. بنا دارند با اسلام مبارزه كنند. بنا دارند نهضتهاى اسلامى را، در هرجاى عالم كه ملتها به پا خاستند، سركوب كنند و هرجا حكومتى استبدادى و قدرت ظالمى در مقابل مسلمانان قرار گيرد، از آن دولت و قدرت ظالم، بى‌قيد و شرط حمايت و تشويق كنند. به زبان، حرف ديگرى مى‌زنند، اما باطن‌قضيه اين است. استكبار تحمل نمى‌كند كه مسلمانان يكپارچه شوند. تحمل نمى‌كند كه احساسات اسلامى، در ميان ملتها رشد پيدا كند؛ چه در آسيا باشد، چه در آفريقا باشد و چه مخصوصا در اروپا. خواهيد ديد كه با مسلمانان بوسنى هرزگوين چه خواهند كرد. يقينا روزى هم در اروپا، مسلمانان آلبانى و ديگر مسلمانانى كه در كشورهاى اروپايى هستند دچار سرنوشتهاى تلخ و آزمايشهاى دشوارى خواهند بود. اين، ناشى از همين سياست است؛ سياست اسلام‌زدايى. در آفريقا نهضتهاى اسلامى به شدت مورد نفرت استكبار جهانى است. هرجا بيدارى اسلامى احساس مى‌شود، اينها نسبت به آن حساسند.

بيانات مقام معظم رهبرى در ديدار علما و روحانيان‏، 7/5/71
 

درست است كه ضعفهاى درونى يك جامعه، زمينه‌ساز حمله دشمن است؛ اما همين ضعفها را هم، دشمن با ابزارها و امكانات خود بر يك جامعه سالم تحميل مى‌كند. نبايد دچار اشتباه شويم. جهت حركت جامعه اسلامى، امروز بايد همان جهت ضد استكبارى و ضد سلطه جهانى باشد كه متأسفانه پنجه بر همه دنياى اسلام افكنده است. با اسلام دشمنند؛ با بيدارى مسلمين دشمنند؛ باايران اسلامى، به خاطر اسلامى بودنش دشمنند. همه تلاش آنها اين است كه حركت اسلامى در دنيا زنده نشود. در رأس اين خصومت - البته - دولت متجبر و متجاوز امريكاست و پشت سر او، همه قدرتهاى كوچك وبزرگى كه نسبت به اسلام، خصومت ديرين دارند، يا اصطكاك منافع دارند، يا از اسلام مى‌ترسند. با ايران اسلامى هم كه دشمنند، به سبب همين است كه بيدارى اسلامى، از اين‌جا جوشيد و امروز ملتهاى مسلمان در هرجاى دنيا كه هستند، اميدشان را از اين حركت و اين انقلاب پيروز مى‌گيرند و گامهايشان را محكم مى‌كنند و به پيش مى‌روند. اگر بتوانند، اسلام را در اين نقطه، العياذبالله، شكست دهند، بزرگترين پيروزى خود را در مقابل موج اسلامى در سرتاسر عالم به دست آورده‌اند. اين، آن حقيقتى است كه امروز وجود دارد.
... جهت حركت جامعه اسلامى، امروز بايد همان جهت ضد استكبارى و ضد سلطه جهانى باشد كه متأسفانه پنجه بر همه دنياى اسلام افكنده است. با اسلام دشمنند؛ با بيدارى مسلمين دشمنند؛ باايران اسلامى، به خاطر اسلامى بودنش دشمنند. همه تلاش آنها اين است كه حركت اسلامى در دنيا زنده نشود. در رأس اين خصومت - البته - دولت متجبر و متجاوز امريكاست و پشت سر او، همه قدرتهاى كوچك وبزرگى كه نسبت به اسلام، خصومت ديرين دارند، يا اصطكاك منافع دارند، يا از اسلام مى‌ترسند. با ايران اسلامى هم كه دشمنند، به سبب همين است كه بيدارى اسلامى، از اين‌جا جوشيد و امروز ملتهاى مسلمان در هرجاى دنيا كه هستند، اميدشان را از اين حركت و اين انقلاب پيروز مى‌گيرند و گامهايشان را محكم مى‌كنند و به پيش مى‌روند. اگر بتوانند، اسلام را در اين نقطه، العياذبالله، شكست دهند، بزرگترين پيروزى خود را در مقابل موج اسلامى در سرتاسر عالم به دست آورده‌اند. اين، آن حقيقتى است كه امروز وجود دارد.

انتصاب نماينده ولى‌فقيه در بنياد شهيد، 9/8/71
 

وظيفه‌ى مهم آن نمايندگى رسيدگى به امور معنوى و فرهنگى عزيزان شاهد است كه وارثان شهادت و سرمايه‌گذاران اصلى انقلاب و استقلال كشورند. تلاش فرهنگى آن نمايندگى بايد آكندن فضاى جامعه از عطر شهادت و تبيين حق عظيم شهيدان و خانواده‌هاى آنان بر گردن ملت ايران را هدف قرار دهد، تا همه بدانند كه حيات جامعه و عزت و اقتدار ايران اسلامى، بلكه بيدارى و سربلندى مسلمين در سراسر جهان مرهون فداكارى اين فرزندان شايسته‌ى ميهن و كسان و نزديكان آنها است و همه آحاد جامعه خود را موظف به اداى حق معنوى آنان بشمارند و خود اين خانواده‌هاى مكرم نيز حس كنند كه در خط مقدم انقلاب قرار دارند و سهمى مؤثر و ارزشمند از تلاش افتخار آميز ملت ايران را بر عهده گرفته‌اند و براى عمل به تكاليف انقلابى خود بايد همواره به كمك و اعانت پروردگار متكى و اميدوار باشند و والدين و همسران و فرزندان شهدا با معرفت به رتبه‌ى والاى شهادت و پايبندى به لوازم اين ارزش بزرگ اسلامى، حيات جاودانه و حضور دائم شهيد خود را در عرصه زندگى احساس كنند.

پيام به كنگره‌ى جهانى هزاره‌ى شيخ مفيد، 28/1/72
 

امروزه قلمهاى زهرآگين و مزدور دشمن يا مأمور كين و حقد، چندان دروغ و افتراء در باب معتقدات شيعه كه يكى از بزرگترين مذاهب اسلامى و امروزه پيشقراول بيدارى مسلمين است نوشته و پخش كرده‌اند كه با همه‌ى آنچه در طول تاريخ انجام گرفته قابل مقايسه است.

بيانات مقام معظم رهبرى در ديدار مسؤولان و كارگزاران حج‏، 8/2/72
 

هيچ‌وقت مسلمانان مثل امروز احتياج به اجتماع كردن و تماس گرفتن با همديگر و ارتباط پيداكردن با هم، نداشته‌اند. مدتها بود كه مسلمانان خواب بودند؛ غافل بودند؛ نورى نبود؛ برقى نبود؛ بيدار نبودند. نه اين‌كه گرفتارى نداشتند؛ گرفتارى بود، اما نه آن‌قدر كه مايه‌ى تنبه و بيدارى شود و آن گرفتاريها را درك كنند و دنبال علاج باشند. آن دوره، كه دوران ركود بود گذشت؛ در حالى كه اجتماع حج برايشان فايده‌اى نداشت. يك عده آدم خواب، ملتهاى در خواب غفلت نگه داشته شده و غافل از وضعيت خود، به فكر اين بودند كه گليمشان را از آب حج بيرون بكشند و واجبشان را انجام بدهند و بروند.

پيام به حجاج بيت‏اللَّه الحرام، 28/2/72
 

مبارزه با بيدارى اسلامى در سطح جهان، شكلهاى گوناگون دارد: در الجزاير، اكثريت قاطع مردم در انتخاباتى آزاد و كاملا دموكراتيك به حاكميت جبهه‌ى اسلامى رأى مى‌دهند، كودتايى خشن، انتخابات را باطل و منتخبين را زندانى و محكوم و مردم را سركوب مى‌كند، و آنگاه قدرتهاى مستكبر امريكا و اروپا نفس راحت كشيده بطور كامل پشت سر كودتاگران قرار مى‌گيرند و دست پنهان خود در آن را افشاء مى‌كنند. در سودان گروه‌هاى اسلامى با پشتيبانى قاطع ملت به حكومت مى‌رسند، و آنگاه غرب انواع تحريكات خود را شروع مى‌كند و از داخل و خارج مرزهاشان آنان را بطور دائم تهديد مى‌كند. در فلسطين و لبنان، فلسطينيان مسلمان از سوى صهيونيستهاى غاصب به وحشيانه‌ترين وجهى سركوب و شكنجه مى‌شوند، آنگاه امريكا، آن آدم كشان ددصفت و شكنجه‌گر را كمك و آن مظلومان مسلمان يا مدافعان لبنانى آنان را به تروريسم متهم مى‌كند. در جنوب عراق، بخش عظيمى از ملت عراق، كه مبارزه با رژيم بعثى را، با انگيزه‌ها و شعارهاى اسلامى در پيش گرفته‌اند، از سوى آن رژيم مورد وحشيانه‌ترين حملات قرار مى‌گيرند، و امريكا و غرب، كه انگيزه‌ى خود براى برخورد قدرتمندانه با صدام را در قضاياى ديگر، آشكارانشان داده‌اند، اين‌جا با سكوتى رضايت‌آميز و تشويق كننده ظاهر مى‌شوند. در كشمير و هند، تعصب كور و جهالتبار هندوها، با استفاده از اغماض و گاه كمك دولت، به ناموس و جان و مقدسات مسلمين تعرض مى‌كند و اين با خونسردى و لبخند بى‌تفاوت امريكا و غرب مواجه مى‌شود. در مصر روشنفكرترين نسلهاى مسلمان، مورد تعقيب خشن و خشم‌آلود رژيم فاسد و نالايق آن كشور قرار مى‌گيرند، و حكومت وابسته و حقير آن كشور بزرگ مورد تشويق و كمك مالى و امنيتى امريكا قرار مى‌گيرد. در تاجيكستان اكثريت مردم مسلمان و مشتاق زندگى در سايه‌ى اسلام، به وسيله‌ى پس مانده‌هاى رژيم كمونيستى، بشدت سركوب و جمع كثيرى از آنان از خانه و كاشانه‌ى خود آواره مى‌شوند و غرب با همه‌ى دغدغه‌اش از بازگشت كمونيستها در شوروى سابق، اين حركت آنان را مغتنم مى‌شمرد و در مقايسه ميان اسلام و كمونيزم، آشكارا جانب دشمنان اسلام را مى‌گيرد. در امريكا و اروپا مسلمانان و گروههاى اسلامى مورد اهانت و تهمت قرار مى‌گيرند و در مواردى تظاهر به پايبنديهاى اسلامى از قبيل حجاب زنان ممنوع مى‌گردد. اهانت علنى به اسلام در قالب حجاب تحريم شده و به وسيله‌ى نويسنده‌يى مهدورالدم مكرر مورد حمايت علنى سردمداران رژيم‌هاى اروپايى قرار مى‌گيرد و حتى رئيس رژيم بدنام و بدسابقه‌ى انگليس، با آن نويسنده‌ى قلم‌به‌مزد و بى‌ارزش ملاقات مى‌كند. از اينها همه بدتر، فاجعه‌ى بى‌سابقه‌ى نسل كشى مسلمين در بوسنى است، بيش از يكسال است كه صربهاى نژادپرست و اخيرا با همراهى كرواتها با تكيه بر سلاح و امكانات رژيم صربستان و كمكهاى خارجى، زشت‌ترين و غير انسانى‌ترين نوع كشتار و ظلم و قساوت را با مسلمانان، يعنى صاحبان اصلى بوسنى و هرزگوين انجام مى‌دهند، و غرب و امريكا، نه تنها هيچ كمكى به آنان نكرده و هيچ ممانعتى از جنايت صربها نشان نداده‌اند، بلكه با استفاده از امكانات شوراى امنيت از رسيدن سلاح به مسلمانان مظلوم نيز جلوگيرى كرده و با اعزام نيروهاى سازمان ملل، محاصره‌ى آنان را كامل كرده‌اند. مسلمانان، امروز و در آينده بدانند، كه امريكا و دول بزرگ اروپايى در فاجعه‌ى بى‌نظير بوسنى، مقصر و مسؤول مستقيم‌اند. در اين يكسال مشتى حرف پوچ و وعده‌ى دروغ تحويل داده اما از كشته شدن حتى يك نفر از هزاران نفر كشته‌ى مظلوم آن سرزمين جلوگيرى نكرده، و بالاتر، از قدرت دفاع يافتن آنان نيز ممانعت كرده‌اند. اين تصوير مجملى از دشمنى غرب و امريكا با اسلام و مسلمين در روزگار ما است. نه التماس، نه تسليم، نه مذاكره و نه هيچيك از راههايى كه بعضى ساده‌لوحانه آن را به مسلمانان پيشنهاد مى‌كنند، گره‌گشا و مايه‌ى نجات مسلمين نيست. تنها يك چيز علاج است و بس، و آن اتحاد مسلمانان، پافشارى بر اسلام و ارزشها و اصول آن، مقاومت در برابر فشارها و تنگ كردن عرصه، در بلند مدت بر دشمن است. و امروز چشم اميد دنياى اسلام، به جوانان غيور و بسيجى در سراسر كشورهاى اسلامى است، كه از كيان اسلام دفاع كنند و نقش تاريخى خود را ايفا نمايند.
نكته‌ى مهم ديگرى كه بايد مورد تكيد قرار گيرد آن است كه استكبار با همه‌ى تدابير شيطانى‌اش و با وجود بكارگيرى زور و ترفند سياسى و تبليغات دروغ، نتوانسته و هرگز نخواهد توانست، جريان رو به رشد بيدارى اسلامى و نهضت گرايش به اسلام را متوقف سازد. فعاليت همه جانبه‌ى سياسى و امنيتى و بيش از همه، تبليغاتى امريكا و ديگر كشورهاى استكبارى و ايادى منطقه‌يى آنان بر ضد نهضت اسلامى در كشورهاى مختلف و از جمله بر ضد نظام مقدس جمهورى اسلامى در ايران، در سالهاى اخير، بى‌سابقه و بسيار وسيع بوده است.

بيانات مقام معظم رهبرى در خطبه‏هاى نماز جمعه تهران‏، 14/3/72
 

آنچه كه دشمنان جهانى اسلام و نهضت اسلامى و بيدارى اسلامى، به عنوان علل و دلايل دشمنى خودشان مى‌شمارند، سخن بى‌جا و بيهوده‌اى است. خود آنها هم اين را مى‌دانند. جالب اين‌جاست كه بسيارى از همين رجال و شخصيتهاى سياسى كه در كشورهاى غربى چه امريكا و چه بعضى از كشورهاى اروپايى جمهورى اسلامى و مسلمانان را با تهمتهاى ناروا، متهم به نقض حقوق بشر مى‌كنند، چند صباحى كه مى‌گذرد و دوران مسؤوليت و رياستشان به سر مى‌آيد، ناگهان معلوم مى‌شود كه مثلا با مافيا مرتبط بوده‌اند يا در فلان معاملات قاچاق سلاح و يا در فروش مواد سلاحهاى شيميايى دخالت داشته‌اند! مثلا در فروش مواد شيميايى به عراق و كشتار مردم حلبچه، خودشان دخالت داشتند و آن را تصويب يا تسهيل كردند. چه كسانى؟ همين كسانى كه دهان باز مى‌كنند و به‌خلاف حقيقت و واقعيت سخن مى‌گويند و مسلمين و اسلام و ملتهاى حق‌طلب و جمهورى اسلامى را متهم مى‌كنند! گذشت زمان نه زمانهاى بسيار طولانى؛ بلكه زمانهاى كوتاه ثابت خواهد كرد كه خود آنها به آن چيزى كه تهمت آن را به مردمان و دامنهاى پاك مى‌زدند، آلوده بوده‌اند.
در باب علل دشمنى استكبار جهانى با ما، حقيقت چيز ديگرى است كه مى‌توانيم آن را به‌طور روشن بيان كنيم. ما مى‌دانيم چرا امريكا با جمهورى اسلامى در ايران دشمن است. مى‌دانيم چرا با نهضت بيدارى اسلامى در هر كشور از كشورهاى اسلامى كه اتفاق بيفتد دشمن است. مى‌دانيم چرا كشورهاى استكبارى، اگر ببينند در كشورى، اسلام پيروز مى‌شود ولو با شيوه‌هاى دمكراسى براى مقابله با آن، هرچه بتوانند انجام مى‌دهند.
... جريان دوم عبارت است از جريان گسترش نهضت گرايش به اسلام و پيوستن نسلهاى جوان در بسيارى از كشورهاى اسلامى به نهضت امام رضوان‌الله‌تعالى‌عليه كه اين جريان هم در زمان امام، با وسعت و گسترش و سرعت بسيار وجود داشت و امروز هم كه چهارسال از در گذشت امام مى‌گذرد، باز همين جريان ادامه دارد. وقتى شما به سطح عالم نگاه كنيد، مى‌بينيد هر روز كه مى‌گذرد، در كشورهاى اسلامى، جمعى به نهضت بيدارى اسلامى، كه امام بزرگوار ما برانگيزاننده‌ى آن بود، مى‌پيوندند و آن را توسعه مى‌دهند.
در باب خصومت دشمنان استكبارى ما و شيوه‌هاى دشمنى آنها با جمهورى اسلامى و انقلاب، سخن زياد گفته‌ايم و مطالب براى مردم خود ما و شايد بسيارى از ملتهاى علاقه‌مند به انقلاب و جمهورى اسلامى، روشن است. فقط همين اندازه لازم است تأكيد كنيم كه در رأس اين خصومت و دشمنى با اسلام، بيدارى اسلامى و نيز جمهورى اسلامى، رژيم امريكا و كسانى كه به آن رژيم چه در كشورهاى پيشرفته‌ى دنيا و چه در ميان كشورهاى عقب‌افتاده‌ى عالم وابسته‌اند، قرار دارند. علت اين خصومت هم روشن است: چون انقلاب اسلامى، جمهورى مستقلى را بر پايه‌ى اسلام بنيان گذاشت، به نفوذ امريكا در اين كشور پايان داد و شايد در بسيارى از مناطق جهان، چنان نفوذى را به خطر انداخت.

بيانات مقام معظم رهبرى در ديدار روحانيان و مبلّغان اعزامى به مناسبت فرارسيدن ماه مبارك رمضان‏، 17/11/72
 

اين‌كه مى‌بينيد مسلمانان در اقطار عالم در فلسطين، بوسنى، لبنان، الجزاير، كشمير و نظام جمهورى اسلامى مورد بغض شديد دشمنان اسلامند، براى اين است كه ظلم و طغيان، از بيدارى ايمان به شدت خائف و ترسان است. لذا از خود عكس‌العمل نشان مى‌دهد. راه چاره اين است كه آحاد ملت بزرگ و عزيز ايران؛ اين كسانى كه نعمت و لطف الهى را بارها در زندگى خود تجربه كرده‌اند؛ اين ملتى كه امام را ديده است؛ اين ملتى كه دوران انقلاب را ديده است؛ اين ملتى كه دوران هشت ساله‌ى جنگ را ديده است؛ اين ملتى كه حوادث اعجاب‌انگيز و معجزه‌آساى بعد از جنگ را ديده است، به ديده‌ى تأمل نگاه كند.

بيانات مقام معظم رهبرى در خطبه‏هاى نماز «عيد فطر»، 22/12/72
 

امروز، در صحنه‌ى سياست بين المللى دولتها و قدرتهاى جهانى از يك طرف و ملتها و جمعيتهاى انبوه مردمى از طرف ديگر هم خصوصيات زيبا وجود دارد و هم خصوصيات زشت. خصوصيات زيبا، بيدارى ملتها، اسلامگرايى ملتهاى مسلمان و تحمل‌ناپذيرى مظلومان است، و خصوصيات زشت، ستمگرى ستمگران، زورگويى قلدران و توطئه‌ى بددلان و بدخواهان ملتهاست. در بين نقاط نامطلوب و زشت در صحنه‌ى جهانى، يك نقطه به نظر من زشت‌تر از همه است.
منبع:www. khamenei.ir


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

بيداري اسلامي و معادلات جهاني

نويسنده: علي حسن حيدري
تحولات سياسي اخير منطقه استراتژيك خاورميانه بار ديگر اين منطقه را به كانون خبرساز منطقه‌اي و جهاني تبديل كرده است. بحث ارزيابي سفر دكتر احمدي‌نژاد رئيس‌جمهور ايران به عراق و تحليل چرايي و چگونگي استقبال مردم عراق از اين سفر و مقايسه آن با نتايج و واكنش‌هاي مردمي به سفر بوش كه به صورت مخفيانه و در حصاري از امنيت انجام مي‌گيرد، يكي از تحولات مهم است.
توجه به مسائل لبنان و فلسطين و ارتباط آن با قدرتهاي مختلف از ديگر موضوعات با اهميت تلقي مي‌شود. دليل توجه بسياري از قدرتهاي جهاني به تحولات خاورميانه اين است كه معادلات آتي منطقه و به تبع آن معادلات جهان از اين شاهراه رقم خواهد خورد. معاون وزير خارجه آمريكا در خصوص رئيس‌جمهور آينده لبنان مي‌گويد: «بايد وي مخالف سوريه، ايران و مقاومت باشد. » حلقه‌اي ديگر از اين سلسله تحولات طرح مشترك عربستان و آمريكا در خصوص حزب‌الله و استقرار كشتي آمريكائي در ساحل لبنان است. بن بست استراتژيك غرب و رژيم صهيونيستي در بحران و فاجعه انساني غزه و كشتار وحشيانه فلسطينيان نيز از جمله تحولاتي است كه توجه افكار عمومي دنيا را به همراهي با آنها عليه مسببان اين واقعه، يعني آمريكا و رژيم صهيونيستي و حاميان غربي آن تحريك مي‌نمايد.
اين تحولات در كنار اقدامات تروئيكاي عربي (عربستان، مصر و اردن) كه تحت مديريت ديپلماتيك آمريكا و با تكيه بر بازيگران داخلي لبنان از جمله گروه 14 مارس و سعدحريري با تقويت و گسترش تفكر مقاومت مخالفت مي‌كنند و در صدد ممانعت از تبديل مقاومت از سطح يك جنبش به سطح يك نهاد سياسي هستند، نشان مي‌دهد كه قدرتهاي غربي خطر آينده منافع خود را از بازيگران منطقه‌اي مي‌دانند.
اما فصل مشترك ويژگي اين بازيگران كه موجبات ترس و واهمه غرب و آمريكا را برمي‌انگيزد و آنها را وادار به مقاومت و مقابله با تفكر اسلامي در منطقه مي‌نمايد، «بيداري اسلامي» و خيزش اسلامي ملل مسلمان منطقه است كه به تأسي از انقلاب اسلامي و الگوي موفق نظام‌سازي اسلامي در جمهوري اسلامي ايران به منصه ظهور رسيده است. از اين رو اين مطلب در صدد تبيين بيداري اسلامي در منطقه، تاثيرات فرا منطقه‌اي آن و نمودهاي اين بيداري كه طليعه قرني اسلامي را نويد مي‌دهد، مي‌باشد.

چيستي و گستره بيداي اسلامي

حركت «بيداري اسلامي» يا خيزش اسلامي پديده‌ عظيم و فراگيري است كه حدود دو قرن از پيدايش آن مي‌گذرد. در اين دو قرن فراز و نشيب‌هاي فراواني فرا روي اين حركت بوده و با ضعف وقوتهايي همراه شده است. اين حركت در ابتدا در مناطق جغرافيايي خاص و محدودي ظهور يافت، سپس در طول دهه‌هاي گذشته دامنه آن گسترش يافت و به تدريج به سراسر دنياي اسلام از شرق آسيا تا جنوب و غرب آفريقا و حتي در بين اقليت‌هاي مسلمان در ساير كشورها توسعه يافت. در آغاز، فعالان آن جمعي از علماي دين، نخبگان و انديشمندان بودند، اما امروزه توده‌هاي مسلمان، اعم از عالم و عامي، در سراسر جهان به حركت در آمده‌اند.
با پيروزي انقلاب اسلامي ايران، جنبش بيداري اسلامي، وارد مرحله‌اي جديد شد و جهش توأم با عمق فكري را در جغرافياي اسلام بويژه در ميان توده‌ها و لايه‌هاي خفته جوامع اسلامي بوجود آورد. به گونه‌اي كه بيداري اسلامي از حالت دفاع انفعالي خارج و در موضع تهاجم فكري و رفتاري قرار گرفت و در اشكال جريانها ونهادهاي سياسي و حتي جنبش‌هاي مقاومت رخ عيان نمود.
بيداري منتج از انرژي آزاد شده از انقلاب اسلامي كه براي اولين بار در شكل يك نظام سياسي ظاهر شد، به زودي به حوزه مديريت سياسي و ديپلماتيك وارد شد و ساير نظامهاي سياسي جهان اسلام را متأثر كرد. در شرايط كنوني حضور قدرتمند حركت بيداري اسلامي با محوريت نظام جمهوري اسلامي ايران و كاركرد آن در شكل مردم سالاري ديني و تحت مديريت جنبش‌ها و جريانهاي سياسي و مقاومت، معادلات قدرت در روابط بين‌الملل را دچار تحول كرده است و در حال سامان دادن معادله جديدي است كه معارض با معادلات تعريف شده از سوي ليبرال دموكراسي به محوريت غرب است. اين وضعيت به وضوح قدرتهاي بزرگ و مدعي هژمون جهان را به وحشت انداخته است، بطوريكه تمام امكان خود را بسيج كرده‌اند كه از تكميل سيكل معادله جديد قدرت در منطقه با مديريت «اسلام سياسي» تحت نفوذ و هدايتگري ايران جلوگيري بعمل آورند، چرا كه آنها اين بيداري اسلامي را كه هم اكنون در چهره جنبش‌هاي مقاومت در لبنان، فلسطين، عراق با قدرت رخ نموده است، بزرگ‌ترين چالش براي مديريت سياسي و ديپلماتيك غرب به محوريت آمريكا و جدي‌ترين تهديد براي مباني و پايه‌هاي ليبرال دموكراسي مي‌دانند و از اين رو آن را بزرگ‌ترين هدف سياست‌هاي خصمانه غرب در شرايط فعلي به حساب مي‌آورند. بردن مقاومت در قالب تروريسم و تلاش مبرهن غرب براي پيشگيري از مبدل شدن اين جريان فكري به نظام سياسي وظهور آن در قالب يك هژمون منطقه‌اي و هشدار نسبت به هلال شيعه در واقع همان نگراني آمريكا و متحدان منطقه‌اي آن است كه بدليل احتياط به جاي زنجير خيزش اسلامي از آن استفاده مي‌كنند تا ضمن تقسيم جريانهاي ليدر بيداري اسلامي از مواجه آشكار با بيداري اسلامي در امان بمانند.

نقش ايران در بيداري اسلامي

ايران به عنوان يك كشور بدليل موقعيت ژئوپليتيك، ژئواستراتژيك و ژئوكالچر بر تحولات بين‌المللي اثر گذار بوده است. اين ويژگي‌ها باعث شده كه كشورمان منطقه‌گرايي را محور سياست خود قرار دهد. ايران توانست در زمينه‌هاي تاثيرگذاري فكري، صدور تفكر مقاومت و مبارزه با استعمار نوين و استبداد و بازگشت به اسلام در ادوار مختلف به نوعي اعمال مديريت كند. مديريت كشورهاي تازه استقلال يافته عربي و اسلامي، به ترتيب در جريان مشروطه، ملي شدن صعنت نفت و نهضت 15 خرداد 42 از نمونه هاي تاريخي نقش هدايتگري ايران است. در اين مقاطع جريان تاثيرگذار جدايي از سياستهاي دولت و حاكمان بود، كه از ناحيه علماي دين و روشنفكران مذهبي و بعضاً ملي مديريت مي‌شد. چرا كه در اين مقاطع بويژه در عصر پهلوي دولت بيشتر از بيرون (پيروي از مدل آتاتورك در تركيه) الگو مي‌گرفت. از اين رو تاثيرگذاري در اين دوره تاريخي محدود به منطقه و علي‌الخصوص كشورهاي اسلامي بود.
انقلاب اسلامي، به عنوان پديده‌اي كه بر بنياد ارزش‌هاي دين با تكيه به روش‌ها و شيوهاي نوين دموكراسي، شكل گرفت والگوي جديد از مقاومت و مبارزه با استبداد و استعمار را به نمايش گذاشت، الگوي جديدي از مديريت در عرصه قدرت، سياست و حاكميت را متجلي و شكل جديدي از تاثيرگذاري و متفاوت از كاركرد تاريخي مزبور را بنا نهاد و نوعي از جريان احياگري، بيداري فكري و ايدئولوژيك را سامان داد و هدايت كرد.
جمهوري اسلامي، براي اولين بار اصطلاح «امت اسلامي» به عنوان يك مفهوم انقلابي را وارد ادبيات سياسي جهان كرد. در همين چارچوب تفكر منطقه‌گرايي به شكل نوين را در دستور كار قرار داد و فرايند تبديل شدن به يك قدرت هژمون را پيشه كرد كه امروز پس از سه دهه توانسته است به عنوان الگوي مسلط منطقه جايگاه خود را تعريف كند. الگويي كه با وجود هژمونهاي برون‌زا و مداخله‌گر مزاحم توانست به تقويت موقعيت و توسعه نفوذ خود ادامه دهد و حوزه نفوذ منطقه‌اي خود را به حوزه‌ جهاني اسلام ارتقا دهد. ايران نوين در شرايط فعلي نظم نويني را نويد مي‌دهد كه بنيادهاي معادلات سياسي و امنيتي موجود را در اشكال نرم و سخت با چالش‌ها جدي و بي‌سابقه مواجه كرده است.
بيداري اسلامي به عنوان يك پديده متاثر از نهضت فكري جمهوري اسلامي در عصر حال در قالب يك جنبش اجتماعي، سازماني و نهادهاي نظامي مدعي رخ نموده است. اين جريان در عرصه منازعات سياسي و امنيتي علاوه بر اينكه موجوديت و نفوذ خود را به اثبات رسانيده است، مي‌رود تا به قدرت بلامنازع نقش آفرين در سطح جهاني تبديل شود. در ظهور، قوام و توسعه پديده بيداري اسلامي زمينه‌ها و عواملي چند دخيل بوده است كه اهم آنها باختصار مورد اشاره قرار مي‌گيرد:

ريشه‌ها و عوامل بيداري اسلامي

1- ورود نسل جديد با ويژگي‌هاي انقلابي به عرصه منازعات كه فهم ريشه‌اي و واقعي‌تري از علل عقب افتادگي‌هاي علمي، اقتصادي و اجتماعي جوامع خود بويژه در حوزه فكر و فرهنگي دارند.
2- توجه به وحدت ديني و بن مايه‌هاي انسجام ايدئولوژيك و درك درست از راهبردهاي قدرتهاي خصم و استكبار براي ايجاد گسست در جهان اسلام.
3- حوادث بيدار كننده منطقه‌اي و جهاني از جمله بحران فلسطين، 11 سپتامبر، اشغال عراق و افغانستان و راهبرد نبرد ايدئولوژيك غرب به محوريت آمريكا كه با هدف تسلط بر جهان اسلام انجام مي‌شود، آثار چشم‌گيري بر بيداري اسلامي دارد.
4- رشد و توسعه وسايل ارتباط جمعي و تكامل شيوه‌هاي تبليغ اسلام.
5- انقلاب اسلامي عامل عمده بيداري اسلامي مطرح است، نقش ويژه‌اي در حركت بيداري ملل مسلمان ايفا كرده است. عوامل ذكر شده در مرتبه كاركرد خود معلول عله‌العللي به عنوان انقلاب اسلامي هستند كه در دهه 1979 در يك حركت متكي به اراده عمومي، تمامي زير ساختهاي سياسي، اجتماعي، فكري و حتي امنيتي كشورهاي هژمون و عوامل مستبد وابسته به آنها را دگرگون كرد و در يك زايش تاريخي الگويي مقتدر، هوشمند با مديريت كار آمد را به جريانها و اذهان منتظر ارائه كرد.
پديده انقلاب اسلامي، پس از چند سده به شكل عملي و عيني، اسلام و جوامع اسلامي را از انزوا و سكون خارج كرد. انرژي آزاد شده از آن به عنوان موتور محركه همه تحركات و خيزش جريانها و جنبش‌هاي اسلامي از يكسو مردم مسلمان منطقه را نسبت به حق و حقوق و توانايي‌هاي خود آگاه كرد و از سوي ديگر طلسم شكست‌ ناپذير بودن غول استبداد و اختاپوس استعمار و امپرياليسم را ابطال كرد و اين مسئله خود «جسارت و اعتماد به نفس» را به ملتهاي مسلمان برگرداند. در چنين وضعيتي بود كه به تعبير اقبال لاهوري، تهران قرارگاه مسلمانان شد و جمهوري اسلامي در فرايند ظهور، تثبيت و توسعه خود در داخل به عامل منحصر به فردي در احياء، پاي‌داري و توسعه بيداري اسلامي و در شرايط كنوني به مركز سازماندهي تمدن نوين اسلامي تبديل شد.
اينكه انقلاب اسلامي كه خود از دل مذهب بيرون آمده است، به احياء دين و تجدد حيات اسلامي در ايران و جهان مدد رسانده است، در تولد، تجديد حيات و تداوم جريانها و جريان سياسي اسلامي معاصر در سه دهه اخير نقش كليدي داشته است، مورد اتفاق نظر تمام محافل سياسي جهان اعم از دوستداران ايران، رقيبان و كشورهاي خصم است. اما پرسش اين است، كه چرا انقلاب اسلامي بر جريانها و جنبش‌هاي پيش برنده پديده بيداري اسلامي و حتي حركت‌هاي سياسي معاصر تاثير گذاشته است؟ و ميزان اين تاثيرگذاري چقدر بوده است؟

زمينه‌ها و علل تاثيرپذيري جنبش‌هاي اسلامي از انقلاب اسلامي

در پاسخ به چرايي تاثيرگذاري انقلاب اسلامي بر فرايند تكاملي بيداري اسلامي، بايد به اشتراكات فراوان سياسي و فرهنگي ميان ايران به عنوان عامل و جنبش‌هاي سياسي به عنوان محركهاي متأثر توجه داشت، از جمله اين اشتراكات:
1- ايدئولوژي و عقيده مشترك: انقلاب اسلامي گر چه يك انقلاب شيعي بود اما در اصول دين، توحيد، نبوت، معاد، قبله و قرآن با ديگر هسته‌ها و جنبش‌هاي اسلامي وحدت ماهوي داشت و رفتار و عملكرد چند دهه‌ي انقلاب نيز جديت و توانمندي ايران در دفاع از حدود و ثغور انديشه اسلامي را به نمايش گذاشت و مواضع روشن، مستقل و مبتني بر احياي دين ايران اسلامي اعتماد و تعميق اعتقاد آنها به صداقت ديني انقلاب اسلامي را تقويت كرد.
2- دشمن مشترك: انقلاب اسلامي به عنوان سكاندار جبهه اسلام و مسلمانان و جنبش‌هاي اسلامي در مواجهه با جبهه غرب به محوريت آمريكا داراي دشمن مشتركي هستند كه در صدد تسلط بر حدود جغرافيايي و به حاشيه راندن ايدئولوژي دين اسلام است.
انقلاب اسلامي از همان اوان شكل‌گيري سياست خارجي خود را با محوريت شعار نه شرقي و نه غربي براي جنبش‌هاي آزادي بخش تعريف كرد و با اعلام رسمي حمايت از نهضت‌هاي رهايي بخش و تبديل آن به اصل قانوني، خود را به عنوان هدايتگر صادق معرفي كرد. رهبران جنبش‌هاي اسلامي با الگو پذيري از اين تعبير امام(ره) كه فرمودند: «دشمن مشترك ما امروز اسرائيل و آمريكا و امثال اين‌هاست كه مي‌خواهند حيثيت ما را از بين ببرند و ما را تحت ستم دوباره قرار بدهند. اين دشمن مشترك را دفع كنيد. »، همنوايي خود را با اهداف ضد استعماري و ضد استكباري رهبر انقلاب اسلامي اعلام كردند.
3- طرح ايده وحدت اسلامي: طرح وحدت مسلمانان به عنوان رمز پيروزي انقلاب، تداوم و توسعه آن به جهان اسلام عامل مؤثر درگرايش نهضتهاي اسلامي به ايران بود. وحدت در ابتدا به عنوان يك رمز پيروزي از انقلاب اسلامي الگوي كاري جريانها شد، آنها دريافتند كه اراده واحد و منسجم مي‌تواند حلال مشكلات باشد، ايران همواره به عنوان خاستگاه و منادي وحدت محل رجوع جريانها براي مديريت فرايند وحدت بوده است.
4- مديريت بحران‌هاي خاورميانه‌اي مثل فلسطين، لبنان و عراق از سوي ايران بود: جمهوري اسلامي ايران همواره با اقتدار و استقلال و با پذيرش هزينه‌هاي سياسي بسيار، همچنان از جبهه مقاومت و مردم فلسطين و مصالح جهان اسلام دفاع كرده است، در سخت‌ترين شرايط فارغ از مذهب و عقيده آنها مدافع و حامي آنها بوده است. مديريت جمهوري اسلامي ايران در لبنان در هيأت حزب‌الله و در فلسطين در قالب حماس و جهاد اسلامي به عنوان جبهه مقاومت موفق عمل كرده است و تحت درايت هنرمندانه جمهوري اسلامي و عملكرد جريان‌هاي مقاومت، جهان اسلام و جغرافياي عرب پس از 6 دهه در حال خروج از انزوا و انفعال است، در حالي كه جبهه رعب‌آور صهيونيزم مسيحي به محوريت آمريكا و اسرائيل در دشوارترين شرايط سياسي خود در تاريخ هدايت منطقه بسر مي‌برند.
كاركرد منطقي و نتيجه بخش جمهوري اسلامي باعث اعتماد بيشتر جنبش‌ها به ايران به عنوان كانون مديريت و الگوي كارآمد شده است. به گونه‌اي كه جنبش‌ها، حركت خود را با افتخار متأثر و ملهم از الگوي ايران مي‌دانند.
5- الگوي مردم سالاري ديني: عامل ديگر، به نمايش گذاشتن الگوي مديريت جديد سياسي با عنوان مردم‌سالاري ديني و مديريت ديني در ايران است. ايران در دوران مديريت نظام سياسي متأثر از دين اسلام، توانسته است به قدرت برتر علمي منطقه تبديل شود. استقلال و اقتدار خود را در مديريت بحرانهاي داخلي، منطقه‌اي و جهاني به اثبات برساند و پس از قرنها به عنوان يك كشور جهان سومي نوعي نظم نوين در موضع هژموني به جهانيان ارائه كند و تمامي معادلات سياسي و امنيتي را به چالش بكشد.

ابعاد تاثير (چيستي تاثير)

انقلاب اسلامي چه تاثيري بر جنبش‌هاي سياسي اسلامي و بيداري بخشي به مسلمانان داشته است، در پاسخ به اين پرسش مي‌توان به آثار متعدد و متنوع با ابعاد سياسي، فرهنگي و امنيتي اشاره داشت:
الف- تاثيرات سياسي: يكي از دستاوردهاي انقلاب اسلامي ايران تجديد حيات سياسي اسلام در گستره جغرافياي اسلام بودكه جريانها و جنبش‌هاي سياسي محور آن بود اما عمق اين پديده را بايد در متن توده مسلمان جست‌وجو كرد كه در سه شكل در شرايط فعلي نمود عيني پيدا كرده است.
1- انتخاب اسلام به عنوان ايدئولوژي مبارزه و مقاومت
2- تلاش براي دستيابي به حكومت اسلامي (ارائه طرح حكومت اسلامي)
3- نقش انقلاب بر جنبش‌هاي سياسي و جريانهاي فكري در لايه‌هاي مختلف جوامع اسلامي.
ب- تاثيرات فرهنگي: نهضت‌هاي اسلامي و جريانهاي فعال متاثر از متن مردم جوامع اسلامي، شعائر وشعارهاي انقلابي ايران مانند، جهاد، شهادت و ايثار را به عنوان اصول اساسي مبارزاتي خود پذيرفته‌اند. به تعبير سخنگوي جهاد اسلامي فلسطين در ديدار حضرت امام(ره)، با ظهور انقلاب شما (اسلامي) ملت مسلمان و بزرگ ما فهميد كه راهش جهاد و مبارزه است. انتفاضه بارقه‌اي از نور و بازتابي از پيروزيهاي بزرگ انقلاب شماست، انقلابي كه بزرگترين تحول را در عصر ما به وجود آورد.
شعارهاي لاشرقيه و لاغربيه، الله‌اكبر، هيهات من‌الذلة، الموت‌الامريكا و اسرائيل،... و ديگر شعارهاي با صبغه مذهبي از جمله شعارهاي صادراتي انقلاب اسلامي است كه جنبش‌ها و جريانها در تحركات و راهپيمايهاي خود همواره به آن تكيه مي‌كنند، اين مضامين كه خود هر يك محتوايي به فراخي يك مدل و الگوي سياسي و مقاومتي در برخورد با رخدادها و عوامل آن دارد، در ميان نسل جوان مسلمانان نيز رسوخ پيدا كرده و تاثير مثبت و كارآمدي خود را به اثبات رسانده است.
انقلاب اسلامي ايران به عنوان يك پديده حائز خصلت فراملي، مرزهاي جغرافيايي را در نورديد و در سطح كلان، فرهنگ، سياست و نظام حاكم بر روابط بين‌المللي را دستخوش تغييرات بنيادين كرد. در اين ميان جغرافياي اسلام بطور ويژه متأثر شد. از نمودهاي اين تاثيرات:
1- حيات مجدد اسلام بر عرصه جهاني و گرايش روز افزون مردمي براي تشرف به دين اسلام.
2- زنده كردن احساسات آزادي خواهانه و استقلال طلبانه در مستضعفان و محرومان جهان.
3- گرايش به مذهب، فروپاشي افكار و انديشه‌هاي بلوك شرق و به چالش كشيده شدن انديشه‌هاي ليبراليسم، اومانيسم و بلوك غرب.
4- گرايش شديد و پررنگ به حجاب و ظهور آن در هيأت يك جنبش فعال و چالش‌زا براي كشورهاي غربي، ليبرال و لائيك.
5- بهم ريختن معادلات سياسي و امنيتي قديمي و به اثبات رساندن ناكار آمدي راهبردها و طرحهاي نرم و سخت ليبرال دموكراسي و سرمايه داري به محوريت قدرتهاي هژمون تاريخي در منطقه و جهان.

تاثير انقلاب اسلامي بر راهبردهاي امنيتي آمريكا

آمريكايي‌ها يا بهتر بگويم جبهه صهيونيزم مسيحي به بهانه رخداد يازده سپتامبر به منظور تثبيت و استمرار هژموني سياسي و امنيتي و اقتصادي بر منطقه و حفظ وضع موجود در روابط بين‌الملل، طرح خاورميانه بزرگ (خاورميانه جديد) را با چند هدف مشخص تعريف و ارائه كرد؛ مركز ثقل اين طرح جغرافياي اسلام بود كه خاورميانه نقطه آغازين براي استقرار اين طرح با اهداف ذيل بود:
1- تسلط بر مراكز نفتي و دولت‌هاي منطقه براي تامين فرايند ارزان، مطمئن و مستمر انرژي
2- تامين امنيت و سلطه رژيم صهيونيستي بر منطقه خاورميانه
3- مهار و يا انحراف جنبش‌هاي اسلامي براي جلوگيري از توسعه نفوذ آنها
4- براندازي و يا مهار و محدودسازي جمهوري اسلامي ايران به عنوان موتور محرك جريان بيداري اسلامي
اما اين اهداف خود تابع عوامل ديگر بودند؛
1- درك و آگاهي از عمق بيداري اسلامي و نگراني از تبديل شدن اين جنبش‌ فكري به كارگردانان قدرت و مديران و سياستمداران آينده.
2- نگراني از تسلط عوامل بيداري اسلامي به عنوان قدرتهاي هژمون سياسي و امنيتي در منطقه خاورميانه به عنوان هارتلند جهان اسلام و نقطه رقم زننده معادلات آينده.
3- نقش برخي از سران منطقه و رژيم‌هاي و ابسته در جهان اسلام در تقويت نگراني از رشد اسلام‌گرايي.
4- نقش رسانه‌ها و بنگاه‌هاي غربي و صهيونيستي در معرفي بيداري اسلامي به عنوان تروريسم و نماد خشونت.
5- مهمترين دليل، ظهور ايده صهيونيزم مسيحي به عنوان يك الگوي عقيدتي و ايدئولوژي با ويژگيهاي افراطي‌گري، تصلب فكري و سياسي است كه پيگير يك جنگ ايدئولوژيك و صليبي است.
آمريكا كه با راهبردها و طرحهاي استراتژيك از پيش طراحي شده به دنبال مديريت بحران و چالش‌هاي خاورميانه بود، با ناكامي بي‌سابقه‌ا‌ي مواجه شد. راهبرد آمريكا در دو چهره سياست مشت آهنين و جنگ نرم يا نبرد فرهنگي با تكيه به ابزار رسانه و انتخابات نمود يافت. در هر دو شكل با چالش جدي مواجه و كاملاً بي‌نتيجه بود، تجربه افغانستان و ظهور مجدد طالبان، تجربه عراق و روي آمدن اكثريت شيعه با گرايش اسلامي، تجربه فلسطين و تقويت موقعيت سياسي و اجتماعي جنبش سياسي اسلامي حماس و جهاد اسلامي و بالاخره تجربه جنگ 33 روزه و شكست تاريخي رژيم صهيونيستي و ايده‌هاي آمريكا از جمله شواهد عيني شكست‌هاي استراتژيك آمريكا در نيل به اهداف از پيش تعريف شده بود.

پيامدهاي بيداري اسلامي براي آمريكا

1- آمريكايي‌ها با شعار حقوق بشر و دموكراسي‌سازي، طرح‌هاي خود را براي منطقه خاورميانه معرفي مي‌كردند و در تحقق آن به دنبال تقويت جايگاه خود در ميان افكار عمومي جهان اسلام بودند اما در دست يابي به اين هدف ناكام ماندند.
2- آمريكا در چارچوب سياست تثبيت هژموني منطقه‌اي خود به دنبال سركوب جريانهاي اصيل بيداري اسلامي بود اما امروز جريانهاي اصيل اسلامي در تمام كشورهاي اسلامي و عربي بويژه كشورهاي هدف «لبنان، فلسطين و عراق» به مهمترين نيروهاي سياسي و اجتماعي جهان عرب مبدل شده‌اند، جريانهاي شيعه و سني اصيل با تكيه به تاكتيك‌ها و روش‌هاي عقلايي و كارساز جهان تشيع به محوريت ايران جبهه مقاومت در برابر هژمون طلبي آمريكا را شكل داده‌اند.
3- نكته سوم، اينكه بيداري اسلامي باعث بحران مشروعيت و مقبوليت سياسي براي پايگاههاي سياسي و فرهنگي و حتي امنيتي آمريكا و عوامل آن در منطقه شده است.
4- نكته مهمتر اينكه؛ ظهور بيداري اسلامي باعث بهم خوردن ثبات و دوام و كار آمدي راهبردهاي غرب در سطح بين‌المللي و مديريت بحرانها از ناحيه آمريكا و متحدانش شده است. به همين دليل است كه جبهه صهيونيزم مسيحي تمام امكانات خود را بسيج كرده است تا منازعه خود با جهان اسلام و جبهه مقاومت راكه در نقطه سرنوشت‌ساز خود قرار دارد به نفع خود تغيير دهد. مقاومت نيز با علم به اين مقاصد غرب، چشم‌انداز آينده را در نتيجه فينال تقابل با غرب تصور مي‌كند.

آسيب‌شناسي بيداري اسلامي

حدود بيش از سه دهه است كه گروههاي منسجم و سازمان يافته كوچك و بزرگ تحت عنوان جنبش‌هاي اسلامي با استناد و با اعتقاد به اسلام، در سطح محلي، ملي، منطقه‌اي و بين‌المللي ظاهر شده‌اند. اين جنبش كه از حمايت و آگاهي جمعي در ميان توده جوامع خود نيز بهره‌مند هستند، به سبب اقداماتشان كه آثار عميق و گسترده‌اي را به جاگذاشته‌اند، به شدت در كانون توجه كشورها و متفكران قرار گرفته‌اند. يكي از مسايل مطرح و حائز تامل در خصوص بيداري اسلامي، آسيب‌ها و آفت‌هاي پيش روي آنها مي‌باشد كه چالش‌هاي بسياري را براي جريان اصيل بيداري اسلامي بوجود آورده است.
بنيانگذار انقلاب اسلامي در بررسي آسيب‌ها و آفت‌هاي بيداري اسلامي و جنبش‌هاي سياسي اسلامي به عنوان مصداق عيني آن به چند آسيب كليدي اشاره دارند:
1- تحريف اسلام و وارونه جلوه دادن مفاهيم ديني از سوي رهبران
2- گرايش سياسي حاكمان كشورهاي اسلامي (لائيك، ملي مذهبي، پادشاهي، دنباله رو قدرتهاي بزرگ)
3- تحجر و جمود فكري مقدس نماها
4- نخبگان و روشنفكر نماهاي مذهبي و ملي
5- تفرقه و اختلافات فرقه‌اي و قومي
6- آخوندهاي دنياطلب وابسته به قدرتها
7- تكيه به راديكاليسم و تملك به شيوه‌هاي غير حقوقي و غير شرعي و طرفداري از شيوه‌هاي تندروانه در پوشش عنوان جهاد كه موجبات تخريب چهره جريانهاي اصيل را فراهم آورده و هزينه‌هاي بسياري بر جهان اسلام تحميل كرده است. 8- بي‌برنامگي عمده جريانهاي اسلامي و نداشتن يك راهبرد و استراتژي تئوريزه شده، البته در مواردي شاهد حضور فكر راهبردي در ميان جريانهاي بيداري بوده‌ايم كه حزب‌الله لبنان و جنبش مقاومت فلسطين از جمله آنها است كه فوائد بسياري را عايد خود و جهان اسلام كرده و تاثير بي‌سابقه‌اي بر شكل‌گيري معادلات سيال بين‌المللي كه در حال گذار به نظم نوين داشته است.

نتيجه:

بيداري اسلامي به عنوان يك آگاهي جمعي با تكيه به اراده عمومي و متاثر از اسلام اصيل تحت مديريت جمهوري اسلامي در شرايط كنوني تبديل به رفتار سياسي شده و در شكل يك ايده سياسي سامان داده شده است. تئوريزه شدن اين نهضت فكري مرحله فرموليته‌اي را پشت سر گذاشته و به عنوان يك مدل سياسي رخ نموده است. بطوريكه، شرايط كاملاً نسبت به يك دهه گذشته متحول شده است. وضعيت معادلات منطقه در حركت رو به پيش خود همسو با منافع و مصالح اسلام و جنبش‌هاي اسلامي و كاملاً به ضرر غرب در حال رقم خوردن است. اين موج فزاينده نهضتي، در صدد شكستن موانع نهضتي غرب براي رسيدن به يك جامعه دين محور است. اين مسئله خود باعث تغيير موازنه قدرت در ميان جنبش‌هاي اسلامگرا به نفع جنبش هاي شيعه با پشتوانه فرهنگي انقلاب اسلامي شده است.
نكته پاياني اين كه جبهه‌بندي فكري و رفتار سياسي جديدي ميان جريانها و جنبش‌هاي اصيل اسلامي با آمريكا و جريانهاي وابسته به آن شكل گرفته است و يك نوع نبرد فرهنگي و عقيدتي و سياسي با آمريكا رخ عيان كرده است. جهان اسلام با غرب در مرحله فينال نبرد به سر مي‌برد، مرحله‌اي سرنوشت ساز كه نياز به درايت و مديريت هنرمندانه و خود محور دارد.
غرب به عنوان نماد جبهه ليبراليسم در مرحله نهايي كاركرد سياسي و مديريتي‌اش قرار دارد و در نقطه اوج منحني رشد خود، دوران افول را آغاز كرده است. به همين دليل در موضع دفاع انفعالي قرار دارد اما نهضت بيداري، در آغاز خيزش انقلابي، به سرعت حركت تكاملي را تجربه مي‌كند، حركتي كه هر چه پيش مي‌رود به چشم‌انداز آرماني خود نزديك مي‌شود و به همين دليل بر عكس ليبراليسم و جبهه غرب كه در تمام ابعاد سياسي، فكري و حتي نظامي در موضع نقد و تهاجم مدبرانه قرار دارد، بيداري اسلامي با اعتماد به نفس تام در حال ويران سازي بنيادهاي سياسي و حقوقي دست‌ساز غرب در منطقه است.


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

انقلاب اسلامي و بيداري اسلامي: تأثير گذاري و نمونه ها

نويسنده:مرتضي شيرودي
چکيده
هم اينک گروه هاي اسلامي، فعال ترين جريان هاي سياسي جهان اند. علت اين فعاليت که جدي و فراگير است، آگاه شدن مسلمانان از عقب ماندگي ها، توسعه نيافتگي ها و کاستي هاي موجود در جهان اسلام است. اين آگاهي ها، آنان را به جنبش و تلاش بيشتر در يک صدساله اخير، واداشت. اين تلاش، همان پديده ايي است که جنبش بيداري اسلامي اش مي نامند. حاصل اين جنبش، قيام ها، شورش ها و انقلاب هاي مختلف در سراسر جهان اسلام بود که گسترده ترين انقلاب برآمده از آن، انقلاب اسلامي است و البته انقلاب اسلامي خود نيز در يک گستره جهاني، به افزايش آگاهي و بيداري اسلامي دامن زد. ابعاد تأثير انقلاب اسلامي بر بيداري عميق و گسترده است. اين تأثيرات در دو بخش تأثيرات کلي (جهاني) و تأثير بنيادي بر برخي گروه هاي اسلامي چون حزب الله و حماس پديد آمد:
واژه گان کليدي: انقلاب اسلامي، بيداري اسلامي، امام خميني (ره)، ايران، جهان اسلام، مسلمانان و جنبش هاي اسلامي.

تعريف واژه بيداري اسلامي

بيداري، ضد خواب است، پس بيداري به معناي حيات و زندگي است و نيز، به معناي فعال شدن هوش (آگاهي) به کار مي رود و اسلامي به مفهوم تبعيت و پيروي از آموزه هاي برترين دين الهي است در نتيجه، بيداري اسلامي به معني حيات برتر (برين) و يا تلاش براي دستيابي به آن است و اين حيات، تنها از دين، قابل دريافت است زيرا، خدا به انسان و جهان حيات بخشيده و پيامبرش ما را به آنچه زنده مي کند، فرامي خواند. به بيان ديگر، بيداري اسلامي زنده شدن دوباره در پرتو اسلام اصيل و تجديدحيات اسلام، معنا مي دهد که در پناه آن، استقلال، عدالت و همه آموزه ها و ارزش هاي متعالي الهي، بار ديگر زنده مي شود و يا حيات مي يابد. بيداري يا احياگري اسلامي نوعي اصلاح گري ديني است. البته نه آن اصلاح ديني اتفاق افتاده در غرب. در اصلاح ديني به معنا غربي، دين، به گونه ايي دستخوش تغيير و تبديل قرار مي گيرد و در پي آن، جامعه، ديني نمي شود بلکه دين به قلمرو شخصي رانده مي شود و در اين صورت، دين از عرصه حيات اجتماعي بيرون مي رود، اما بيداري و احياگري اسلامي، زنده داشتن انسان و حيات اجتماعي بر مبناي دين و به شيوه ديني است و به همين دليل، بايد غبار از سيماي دين زدوده شود و صورت و سيرت دين هويدا گردد که در نتيجه اين اقدام، دين به عرصه حيات آدمي باز مي گردد. به سخني ديگر، بيداري اسلامي مهجوريت زدايي از دين يا بازپيرايي و واخواني گزاره ها و آموزه هاي اسلامي از اجمال و ابهاماتي است که بر سيماي دين نشسته است. (1)
بيداري اسلامي علي رغم تنوع گرايش ها و زيرمجموعه هاي متفاوت، پيام واحدي به تاريخ، مخابره مي کند که مضمون آن، اين است که: ما دوباره برگشتيم تا دين را به عرصه زندگي فردي و بيشتر اجتماعي انسان بازگردانيم. اين احساس و خودآگاهي، ترکيبي از دو حالت شرمندگي و عزم بازگشت به ارزش هاي ناب و راستين گذشته دارد. شرمندگي در برابر عزتي که زماني آن را در اختيار داشته و امروز مسلمين، فاقد آن اند و دوم، بازگشت به اسلام به اين معنا که عقب افتادگي ما ناشي از دور شدن از اسلام است. اگر بخواهيم دو عنصر شرمندگي و بازگشت را در يک عبارت، جمع بندي کنيم، مي گوييم معنا و پيام بيداري اسلامي اين است که به اسلام با همه جامعيت آن و با همه ابعادش بازگرديم تا عزت گذشته خويش را باز يابيم و يا به عزت بر بادرفته خويش دست يابيم. همان گونه که از معنايي که از بيداري اسلامي کرديم، هويداست، مراد از کلمه بازگشت، سيرارتجاعي و معکوس در تاريخ نيست. يعني مراد از بازگشت، بازگشت به گذشته و سير قهقرايي در تاريخ نخواهد بود بلکه منظور، بازگشت به اسلام، و توبه از کم توجهي به اسلام و يا جبران عمل نکردن کامل به دين نبوي است. يعني بيداري اسلامي مترادف است با اين سخن که ما فاصله عظيمي در عقيده، اخلاق و عمل اجتماعي از مفاهيم و ارزش هاي اسلامي گرفته ايم و براي جبران کوتاهي هاي چند قرن اخير، بايد تلاش کنيم. هدف از اين بازگشت، ساختن يک تمدن جديد اسلامي با به کارگيري ارزش هاي خالص اسلامي و تجربه انساني تمدن بشري است. نهضت بيداري اسلامي هدفش تشکيل يک تمدن محمدي جهاني است که در آن، عقلانيت با معنويت، قدرت با اخلاق، دانش با ارش و علم با عمل، جمع شود. (2)

تاريخچه بيداري اسلامي

از شرح گذشته آشکار است که پديده بيداري اسلامي، گرچه ريشه در تاريخ دارد ولي در دهه هاي اخير به دلايل مختلفي چون هجوم استعمار غربي به کشورهاي اسلامي، توسعه يافته است. با مرور تاريخ بيداري اسلامي، هم مي توان به ريشه هاي تاريخي بيداري اسلامي پي برد و هم علت توسعه اش را در دهه هاي اخير دريافت:
با ظهور اسلام، تحولي عظيم در تاريخ بشريت اتفاق افتاد به آن علت که: اسلام، مرزهاي نژادي، جغرافيايي و قومي را در نور ديد و برپايه کلمه الله، جوامع مختلف را به يکديگر نزديک کرد و قدرت مادي و معنوي شگرف و شگفت در ايمان آورندگان، به وجود آورد. به ديگر بيان، در ميان اقوامي که نه بهره اي از فرهنگ و تمدن آن زمان برده بودند و نه داراي قدرت مادي بودند، هم عزت دنيوي پديد آورد و هم آنان را به اوج معنويت برد و نيز، در شرايطي که هم تمدن يونان در اوج شهرت بود و هم قدرت هايي مانند امپراتوري ايران و روم، ابر قدرت هاي زمان بودند، اسلام ظهور کرد و اولا، آن دو قدرت بزرگ را شکست داد و ثانيا، به سرعت در جغرافياي زمين گسترش يافت و ديري نپاييد که بخش بزرگي از دنياي آن زمان را در اختيار گرفت. اين گسترش تنها ارضي و مرزي نبود بلکه دنياي فکر و انديشه اسلامي به موازات قدرت نظامي و اقتصادي جهان اسلام توسعه پيدا کرد و اين زماني بود که اروپاي آن دوران، دوران افول خود را طي مي کرد ولي فرهنگ و تمدن اسلامي همچنان رو به توسعه بود و حتي زماني که تمدن اسلامي در اوج شهرت و معروفيت خود قرار گرفت، تمدن غرب در خواب فرو رفت به گونه اي که بعدها غربي ها آن دوران را «عصر تاريکي در غرب»، نام نهادند زيرا در برابر اسلام، آنان چيزي براي ارائه کردن به جهان بشريت نداشتند. جنگ هاي صليبي در حقيقت، پاتکي بودکه غرب به جهان اسلام زد، البته اگرچه در طول دو قرن نتوانست آنچه را که از نظر نظامي مي خواست به دست آورد اما با فرهنگ و ادبيات و پيشرفت هاي فکري جهان اسلام به تدريج آشنا شد و اين خودزمينه اي براي بيداري غرب شد. به همين دليل، دوره رنسانس به معني پشت سرگذاشتن عصرتاريکي و آغاز دوره اي بود که به آن، عصر روشنايي يا روشنگري گفته اند و بدين ترتيب، غربي ها تحت تأثير جهان اسلام و با الگوگيري از آن، کم کم توانستند پيشرفت هاي شگرفي در قرون هفده، هيجده و نوزده به وجود آورند. (3)
در اين دوران به آهستگي جهان اسلام، تحت تأثير دو عامل به خواب فرو رفت و عقب افتاد: يکي استعمار و استثماري بود که غرب در اين منطقه مهم جغرافيايي و فکري انجام داد و دوم استبداد و انحرافي که حکام مسلمان به آن روي آوردند و اين دو، موجب دور افتادن مسلمانان از افکار و انديشه هاي ناب اسلامي گرديد و لذا ضربه مهمي بر پيکر جهان ا سلام وارد آمد و اين ضربه، در جنگ جهاني اول به اوج خود رسيد چون که امپراتوري عثماني عمدتا به همان دو دليل مهم، منقرض شد و مسلمانان پناهگاه اندکي که عثماني ها فراهم آورده بودند، از دست دادند و لذا تهاجمي دهشتناک از لحاظ نظامي و از لحاظ فکري از ناحيه غرب برجهان اسلام آغاز گرديد به طوري که مسلمانان بسياري از خودبيگانه شده، اسلام را عامل عقب ماندگي ديده و در نتيجه، نگاه به دست غرب کرده و اميدوار بودند که شايد با الگو گرفتن از غرب بتوانند عقب افتادگي خود را جبران کنند. البته در اين دوران، کساني هم بودند که با هوشياري و درک عميق از اوضاع و شرايط به اين نتيجه دست يافتند: علت عقب افتادگي و به خواب رفتن جهان اسلام، از اسلام نيست بلکه بدان خاطر است که مسلمانان از اسلام، دور شده و از انديشه هاي اسلامي فاصله گرفته اند. شخصيت هايي مانند سيدجمال الدين اسدآبادي، سيد قطب، حسن البنا و امثالهم در اين دوره و در اين راستا، تلاش زيادي کردند تا مسلمانان را از خواب سنگين بيدار و به آنها بفهمانند که علت شکست و عقب افتادگي آنها چيست و چه بايد کرد؟ (4)
آخرين ضربه اساسي که جهان غرب برجهان اسلام زد شکل دادن و تحميل، صهيونيسم بود که بذر آن را در سرزمين مقدس فلسطين کاشت. در اين زمان، آرنولد توين بي-مورخ معروف انگليسي- در بررسي تمدن ها و در کتاب تمدن در بوته آزمايش، جمله بسيار مهم و تاريخي زير را مطرح ساخت: پان اسلاميزم خوابيده است اما اگر مستضعفين جهان بر ضدسلطه غرب، شورش کنند و تحت يک رهبري قرار گيرند، اين خفته، بيدار خواهد شد و بانگ اين شورش، ممکن است در برانگيختن روح نظامي اسلام مؤثر افتاد و اسلام بار ديگر براي ايفاي نقش تاريخي خود، قيام کند. (5)
پيش بيني توين بي در 1979 با انقلاب اسلامي ايران که انفجار نور بود، به وقوع پيوست. انقلابي که با دست خالي و با تکيه بر شعار الله اکبر و بازگشت به ارزش هاي اسلامي در مقابل همه قدرت هاي بزرگ و ابر قدرت ها ايستاد و توانست نه تنها نقطه عطفي در تاريخ تحولات ايران بلکه نقطه عطفي در جهان اسلام و بلکه در کل تاريخ بشري گردد. با اين حرکت، آن خفته، بيدار شد و به سرعت در سراسر جهان اسلام گسترش پيدا کرد و لذا هنوز دو سالي از انقلاب نگذشته بود که در لبنان، عده اي جوان با ايمان، پنج قدرت بزرگ آن زمان را که در آن کشور پايگاه داشتند، يعني آمريکا، انگليس، فرانسه، ايتاليا و اسرائيل را به زانو درآورند و بدون دادن کوچک ترين امتيازي، آن ها را وادار به فرار کردند. در افغانستان، امپراتوري انگليس و روسيه به زانو درآمده و اينک مي رود که امپراتوري آمريکا را از حمله و اشغال افغانستان پشيمان نمايد و به شکست آن کشور در اين بخش از جهان منجر شود. در ترکيه، الجزاير و ساير کشورهاي اسلامي، تنها بانگي که امروز بلند مي شود نداي اسلام است و در فلسطين اشغالي، انتفاضه، امان را از صهيونيسم و امپرياليسم گرفته است. بنابراين بايد گفت: اگر آمريکا امروز به فکر تداوم اشغال عراق است، هدف واقعي اش ضربه زدن به بيداري و آگاهي اسلامي است. در واقع، مسلمان ها بيدار شده اند و بر پايه سه اصل مهم، کار بزرگ خويش آغاز کرده اند: يکي، «بازگشت به اسلام ناب» که همين اسلام، در دوره هاي اوليه اسلامي توانست بر قدرت هاي بزرگ آن زمان غلبه کند، دوم، «وحدت جهان اسلام» است که امپرياليسم و استعمار، ساليان دراز سعي کرد با تکيه براصولي چون تفرقه بينداز و حکومت کن، بين فرقه هاي مختلف اسلامي فاصله بيشتر بيندازد. سوم، «استکبار ستيزي» و مقابله با کفر و الحاد و طاغوت و طاغوتيان زمان است. اين حرکت يقينا به پيروزي اسلام و شکست استکبار ختم خواهد شد. (6)

دليل تأثير گذاري انقلاب اسلامي بر بيداري اسلامي

آن گاه که معمار انقلاب اسلامي مي کوشيد بر بيدارسازي مستضعفان و مسلمانان، تأثير بگذارد شايد اين سئوال به ذهن مي آمد که دليل يا دلايل اين تأثيرگذاري چيست؟ بخشي از پاسخ هايي که مي توان به اين پرسش داد عبارت است از:
1. تأثير حضرت امام خميني از جنبه ديني و اسلامي بر مسلمانان، کم نظير است. در واقع، از قرن پانزدهم در دنياي غرب و شايد کمي پس از صدر اسلام، شخصيتي را نمي بينيم که اين همه، نهضت، افکار و عملکرد و راهبردهايش در سطح جهان اعم از جهان غرب (ليبراليسم)، جهان شرق(کمونيسم) و جهان اسلام تأثير گذاشته باشد.
2. حضرت امام خميني، مفهوم و معناي قدرت را در سطح جهاني و نيز، در جهان اسلام، تغيير داد. معناي قدرت قبل از او بر منابع مادي تکيه داشت ولي پس از انقلاب اسلامي ايران و تأثير گفتمان حضرت امام بر جهان، معنا و تعريف قدرت از تکيه بر منابع ملموس (مادي) به غيرملموس (معنوي) از قبيل عقايد، پرورش افکار و اطلاع رساني، تغيير پيدا کرد.
3. در شش و هفت قرن گذشته، يک شخصيت ديني و علمي که انقلابي کند، ملتي را رهبري نمايد، همه و حتي مخالفينش، مشروعيت و مقبوليت او را کاملا تصديق کنند، پيدا نمي شود. به واقع، مي توان گفت: مشروعيت سياسي و ديني امام در سطح جهان و در قرون اخير، بي نظير بود.
4. با مطالعه زندگي رهبران انقلاب هاي گذشته در مي يابيم، هيچ يک از آن ها به توانايي امام خميني در برقراري ارتباط صميمانه و مردمي با مستضعفين و ديگر طبقات اجتماعي در ايران نمي رسند. ايشان بيش از هر قائد ديگري موفق شد پيام هاي قرآني را به زبان بسيار ساده به توده هاي مسلمان برسانند و اين از اسرار بزرگ پيروزي انقلاب اسلامي به شمار مي رود.
5. زندگي بي تجمل وي، صلاحيت رهبري مستضعفان و توده هاي مسلمان را به او عطا کرد. درواقع، زندگي او همواره بي تجمل بود،
چه موقعي که يک طلبه ساده بود و چه زماني که مرجع تقليد انسان هاي زيادي قرار گرفت و چه هنگامي که خود را در رأس هرم قدرت يافت. به علاوه، تقوا و اخلاق اسلامي امام خميني تأثيرات فراوان و شاياني بر مردم گذاشت و اين تأثير، انسان هاي زيادي را به حرکت و قيامي واداشت که امام منادي آن بود.
6. امام خميني، تنها به امت و تمدن اسلامي و نجات آن از گمراهي و عقب ماندگي مادي و معنوي نمي انديشيد بلکه در فکر نجات همه ملت ها و تمدن ها بود. پيامش به گورباچوف و پاپ، گوياي دغدغه انساني و الهي وي در نجات انسان ها و فرهنگ هايي بوده که از جاده هدايت انسان به سوي سعادت دنيا خارج شده بودند. اين دلسوزي، ارتباط و تأثير انقلاب اسلامي ايران را با ساير بخش هاي جهان برقرار کرد.
7. امام خميني هم بر جهان شمولي نهضت اسلامي مردم ايران تأکيد مي کرد و آن را تنها مختص مسلمانان جهان نمي ديد و هم، جهان شمولي الگوهاي غربي را رد مي نمود و توانايي الگوهاي غربي را براي هدايت و نجات انسان ها نمي پذيرفت در حالي که در ميان خيلي از متفکرين مسلمان، اين اصرار (جهان شمولي اسلام) و اين نوع نظريه پردازي (ناتواني غرب در اداره جهان) به چشم نمي آيد.
8 . امام خميني تنها متفکري است که در پنج يا شش قرن گذشته، هم به نظريه پردازي انقلاب پرداخته و هم خود آن را به عرصه عمل آورد. در تاريخ، کمتر مي يابيم انسان هايي را که هم بنويسند که چرا بايد انقلاب کرد و بعد خودشان، به ميدان آيند و انقلابي که از آن سخن مي گفتند را پديد آورند. در حقيقت، پيوندنظر و عمل، از دلايل مهم موفقيت امام در برپايي انقلاب اسلامي است. بهره گيري از دين در ايجاد تحول اجتماعي مطلوب، مهم ترين تأثير امام خميني و انقلاب اسلامي بر جنبش گران مسلمان و جنبش بيداري اسلامي است در حالي که قبل از آن و در فضاي جهاني آلوده به ليبراليسم و کمونيسم، کمتر کسي به توانايي دين در پديدآوري انقلاب ايمان داشت. برپايه تکيه بر دين به مفهوم فوق، مفاهيم قدرت دگرگون شد و مسلمانان دريافتند، قدرت واقعي تکيه بر قدرت الهي است و به کمک چنين قدرتي مي توانند به حقوق از بر بادرفته خويش دست يابند. امام خميني به همه مسلمانان و مستضعفان نشان داد، تنها راه دست يابي به: مشروعيت و مقبوليت، زندگي ساده و بي آلايش، نجات انسان ها و تمدن ها و ترکيب سازي نظر و عمل برپايه آخرين دين الهي يعني اسلام است. ديني که براي همه جهان، برنامه و سخن دارد. به ديگر سخن، امام و انقلاب اسلامي ايران به خوبي نشان دادند که تنها راه نجات، اسلام است و اين رمز بيدارشدن جهان خسته از گمراهي مسلک ها و مکتب هاي ديگر است. (7)

مصداق هايي از تأثير انقلاب اسلامي بر مسلمانان

تأثير انقلاب اسلامي بر بيداري اسلامي را مي توان در دوبخش کلي و نشانه هاي عيني اين تأثير، پي گرفت. در بخش نخست، تنها به اثرات کلي انقلاب اسلامي بر هوشياري مسلمان ها اشاره مي شود و در بخشي که در پي آن مي آيد، به دو نمونه عيني، ملموس و پراهميت از آثار انقلاب اسلامي بر جهان اسلام مي پردازيم:
هوشياري سياسي: مردان و زنان ايراني از فرداي پيروزي انقلاب اسلامي، با ايجاد تشکل هاي متعدد انقلابي و خودجوش، باب ارتباط و تبادل آراء و تجارب با مردان و زنان در اقصي نقاط جهان را گشودند که اين مسأله خشم و عکس العمل هاي تند بسياري از محافل غربي را که در شعار و به دروغ، زن ومرد را فعال و حاضر درصحنه مي خواهند، برانگيخت، ولي مردان و زنان ايراني بدون توجه به برآشفتگي غرب، به صدور معنوي بيداري اسلامي ادامه دادند تا حدي که به برکت الگويي که انقلاب اسلامي براي حضور سياسي اجتماعي مرد و زن ارائه داد، زنان لبناني به تدريج به آن چه از دست داده بودند، آگاه شدند و آن را بار ديگر به دست آوردند. جنبش بيداري، زنان لبناني را به کلاشينفک و بمب هاي مولوتوف مجهز کرد. زنان ترکيه هم برپايه بيداري اسلامي، هم حجاب را مي خواهند و هم حضور در اجتماع را، يعني اين که زنان نمي خواهند با پذيرفتن حجاب از جامعه قطع رابطه نمايند و اين همان الگويي است که زنان انقلابي ايران به آن عمل مي کنند. به همين روي، يک زن بنگالي بر آن بود: زنان مسلمان چيزي بيشتر از برابري مورد نظر قوانين غربي مي خواهند و آن، اين که خواهان ايفاي نقش فعال تري در زندگي مذهبي و اسلامي هستند. (8)
تنها زنان مسلمان نبودند که هويت اسلامي خود را در پرتو بيدارگري زنان انقلابي ايران بدست آوردند، بلکه ده هاهزار زن غربي در نهضت اخلاقي واسلامي، ارزش هاي الهي اسلام را کشف کردند و به دين اسلام مشرف شدند. مثلاً نزديک به صدهزار نفر آلماني به اسلام گرويدند که بيش از نيمي از آنان را زنان تشکيل مي دهند، اين زنان همانند زنان تازه مسلمان شده آمريکايي، نه تنها مراقب پوشش اسلامي خود هستند، در خورد و خوراک خود براساس اسلام هم دقت بسيار دارند، آن ها حتي در انتخاب برنامه هاي تلويزيوني، دقت زياد به خرج مي دهند، و اغلب از تماشاي سريال هاي ضداسلامي يا ضداخلاقي اجتناب مي کنند. فعاليت اجتماعي اين دسته از زنان، معمولاً با گرد آمدن در خانه هاي همديگر شکل مي گيرد و گاه هم در بيرون از خانه، به دور هم جمع مي شوند و به فعاليت هاي اجتماعي مي پردازند. (9)
برخي در تأثير بيداري زنان ايراني بر بيداري اسلامي شک دارند! اما يک روزنامه آلماني در اين باره توضيح قابل قبولي ارائه مي کند و آن که نخست مي پرسد چرا بيداري اسلامي و جنبش حمايت از حجاب در دهه 1340/1960 اتفاق نيفتاد؟ سپس پاسخ مي دهد: مگر اين که بگوييم: حجاب زنان ايران پس از انقلاب اسلامي در اين امر دخالت دارد. در واقع، در تمام دنيا به ويژه در دنياي اسلام، زنان در عرصه زنده کردن ارزش هاي اسلامي، در حال ايجاد و اداره جنبشي هستند که قبل از انقلاب 1357/1979 ايران وجود نداشت. (10)
پوشش اسلامي: تصويري که انقلاب اسلامي از زن ارائه کرده دو تأثير مهم برجاي گذاشته است: اول-جهان دريافته که زن مسلمان ايراني خانه نشين و منفعل نيست. خانم دانيل کشار، مدير جشنواره مونتران کانادا معتقد است: تصويري غلط از حضور زنان در ايران، در ذهن خارجي ها وجود دارد، غربي ها فکر مي کنند که زنان ايراني فعاليت هاي اجتماعي چنداني ندارند و در خانه نشسته اند و تنها به خانه داري مشغولند. (11)
دوم- نگرش هاي منفي درباره زنان مسلمان کاهش يافته است. روزنامه نيويورک تايمز، جنبش احياي حقوق اسلامي زنان در کنفرانس جهاني پکن را جالب ترين پديده کنفرانس معرفي مي کند که همه جهانيان را سخت تأثير قرار داد، زيرا سخنراناني که از دنياي اسلام آمده بودند، حرف هاي مهمي درباره زنان داشتند. (12) در اين کنفرانس، سخنراني يک زن محجبه ايراني، تأثير خوبي در تبليغ حجاب اسلامي برجاي گذاشت. قضاوت ها هم نشان مي دهد که حضور جهاني زنان مسلمان ايران، توأم بامؤفقيت بوده است. به اين جهت مي توان گفت: تلاش زن ايراني ارائه يک الگوي مشارکت سياسي- اجتماعي براي زن مسلمان به جهانيان مؤفق بوده است. در واقع، آنچه در ايران پس از انقلاب اسلامي درباره زنان رخ داده، در همه جاي جهان تأثير گذارده است.(13)
دنياي اسلام تأثير بيشتري از الگوي حجاب اسلامي زنان پس از انقلاب ايران پذيرفته است از جمله: ليز مارکوس از فعالان جنبش هاي زنان در اندونزي، بي پرده اعتراف مي کند که به دليل اثرمستقيم پخش تصاوير زنان ايراني در رسانه هاي گروهي کشورش، رويکرد به حجاب اسلامي در اندونزي بيشتر شده، و به تدريج تقليد از حجاب بانوان ايراني در آن کشور به يک مد تبديل گرديده و اينک در ميان دانشجويان دانشگاه ها هواداران بسيار يافته است. زنان انقلاب اسلامي، الگويي براي زنان ترک شده و آنان را به شعارگويي در خيابان ها و رعايت پوشش اسلامي واداشته و پوشش زنان انقلابي و مسلمان ايران، برلباس و به ويژه روسري در بعضي از کشورهاي خليج فارس، به طرزعميقي تأثير گذاشته است. در سال هاي اخير، تعداد دانشجويان با حجاب در دانشگاه هاي اردن افزايش يافته. در ليبي، گرايش به حجاب اسلامي بالا رفته، بنابراين، ترديدي نيست که حجاب اسلامي ايراني به اقصي نقاط جهان و به ويژه به کشورهاي اسلامي سرايت کرده است. (14)
حجاب زنان جمهوري اسلامي به شيوه هاي مختلفي به وراي مرزهاي ايران رفته است مثلا، بخشي از اشاعه حجاب ايران اسلامي از طريق فيلم هاي ايراني اتفاق افتاده. رويکرد به حجاب اسلامي ايراني به استثناي تبديل آن به نماد مخالفت با دولت ها، دلايل ديگري هم دارد. از جمله:
1.پوشش اسلامي به عنوان اظهار وجود فردي يا مذهبي به کار مي رود.
2. توجه به حجاب، پاسخي به جنبش افسار گسيخته فمينيسم است.
3. مهم تر از همه، دليل گرايش و تشرف به دين مبين اسلام است. (15)
اتحاد دين و دولت: هم اينک جريان هاي اسلامي در ميان مهم ترين گروه هاي سياسي جهان قرار دارند. اين جريان هاي مذهبي بر اين اعتقادند که سياست و مذهب ارتباط تنگاتنگ دارند. اين باور متأثر از انقلاب اسلامي و نظريه جهان گرايي (تلفيق دين و سياست در عرصه جهان) آن است. به بيان ديگر، از همان روزهاي نخستين پس از پيروزي انقلاب اسلامي، امام خميني (ره) نظريه جهان گرايي انقلاب اسلامي را به عنوان عالي ترين و وسيع ترين مظهر پيوند دين و دولت مطرح ساخت، وي براساس آموزه هاي ديني بر اين باور بود: اراده مستضعفان سرانجام رهبري جهان را از آن خود خواهد کرد و حتي نويد مي داد وعده خداوند بزودي تحقق خواهد يافت و محرومان جايگزين ثروتمندان خواهند شد. البته پي بردن به همراهي اسلام گرايي (دين) و جهان گرايي (سياست) در انديشه انقلاب اسلامي دشوار نيست، زيرا تأسيس امت اسلامي که مي تواند مسلمانان را صرف نظر از مليت هاي مختلف و نيز موانع قومي و سياسي موجود به هم پيوند دهد، از ارزش ها و شعارهاي انقلاب اسلامي است. به علاوه، تأکيد شديد انقلاب اسلامي به لزوم پيروي از کتاب مقدس (قرآن) و احکام اسلامي، شکي باقي نمي گذارد که اين انقلاب در پي تحکيم جهاني اصول بنيادين اسلام در جهان است. اين پديده همان چيزي است که برخي از انديشمندان مغرب زمين و از جمله هنيز در سال 1372/1993 آن را تجديد حيات جهاني مذهب (اسلام) خواند. (16)
به همين دليل (پيوند خوردن مذهب و سياست اسلامي ناشي از انقلاب اسلامي) دولت آمريکا را بر آن داشت که اسلام گرايي را از عوامل نابودي جهان بخواند و فعالان مسلمان را به عنوان رزمندگان شرکت کننده در جنگ اسلام و غرب نام ببرد. رهبران اتحاد جماهير شوروي سابق نيز، ترس خويش از اسلام انقلابي الهام يافته از انقلاب اسلامي و خطرات آن براي شوروي را کتمان نمي کردند. بعدها يک تحليل گر آمريکايي از اين پديده به عنوان انتفاضه جهاني يادکرد. نتيجه اين که هم شرق و هم غرب، اسلام سياسي (اسلام معتقد به پيونددين و سياست (ناشي از انقلاب اسلامي را خطر عمده اي براي منافع خود تلقي مي کردند، و هر کدام تلاش بسياري انجام دادند تا از دشمنان جنبش هاي اسلامي سياسي حمايت نمايند. (17)
هانتينگتون در سال 1372/1993 و در راستاي تعميق بخشي به دشمني غرب با اسلام سياسي ملهم از انقلاب اسلامي، گفت: بلوک اسلامي که خود را رقيب کهن غرب مي داند، خطر اصلي فرا روي نظم جهاني آمريکايي است که آن، دين و سياست را جدا از هم مي خواهد. در واقع بعد از مرگ کمونيسم، اسلام شخصيت اصلي سناريوي موردنظر آمريکاست. توجه شديد غرب به اين مسأله، ظاهراً پاسخي است به آنچه که يک انديشمند غربي (لارونس) در 1369/19990 آن را ضربه انقلاب 1357/1979 ايران، شگفتي پديده امام خميني (ره) و دشواري کنار آمدن با اسلام گرايي ايراني مي خواند. از اين رو، پس از انقلاب اسلامي مطالعات وسيعي براي شناخت رابطه بين دين و دولت الهام گرفته از انقلاب اسلامي در آمريکا به مرکزيت دانشگاه شيکاگو آغاز گشته است، ولي با هم ديدن و با هم خواستن دين و سياست در دنيا (مانند جنبش الهيات رهايي بخش آمريکاي لاتين) و به ويژه دنياي اسلام (مانند حماس و حزب الله) به يک ارزش نهادينه تبديل شده است. (18)
اسلام مبارز: انتخاب اسلام براي مبارزه با استبداد و استکبار تحول نويني است که پس از انقلاب اسلامي روي داده، قبل از آن حتي گروه هاي سياسي ايراني چون مجاهدين ديروز و منافقين امروز هم اعتقاد راسخي به توانا بودن اسلام در مبارزه عليه بيداد و ستم نداشتند، ولي انقلاب اسلامي ايران نشان داد که اگر اسلام به خوبي تفسير شود مي تواند مقتدرترين رژيم هاي سياسي را براندازد و خود بر جاي آن، حکومت تشکيل دهد. اين حادثه مورد توجه گروه ها و جنبش هايي قرار گرفت که سال ها به دليل انتخاب ناسيوناليسم، کمونيسم و غيره توفيقي در نيل به آرمان هاي سياسي خود نداشتند. در اين ميان، تبديل مسأله فلسطين از يک مسأله ناسيوناليستي و کمونيستي به يک مسأله اسلامي يکي از برجسته ترين ارزش هايي است که از انقلاب اسلامي به عاريت گرفته شد. بنابراين، جنبش فلسطين براي خارج شدن از بن بست مبارزه بي فرجام خود، اسلام را تنها ابزار کارآمد يافته است. (19)
نشانه هايي بسيار از تغيير ماهيت جنبش فلسطيني در دست است که انتفاضه و شيوه و ويژگي هايش، يکي از آن هاست. وابسته نبودن انتفاضه به گروه هاي داخلي و کشورهاي خارجي و جايگزيني يک روش همه جانبه سياسي، نظامي و فرهنگي به جاي روش هاي صرفاً مسلحانه يا مسالمت آميز، تبديل مساجد به منابع الهام بخش روحيه جهاد اسلامي، ثبات و پيوستگي مبارزان، گسترش شمار مساجد به عنوان پايگاه مجاهدان، توسعه حضور مردم در نمازهاي جمعه و جماعات، انتشار مجله هاي انقلابي چون الطليعه الاسلاميه و حمله مکرر به مشروب فروشي ها در دو دهه اخير، از نشانه هاي رويکرد جنبش فلسطين به اسلام و به کارگيري شيوه هاي اسلامي انقلاب اسلامي ايران در مبارزه عليه اسرائيل است. (20) در واقع و همان گونه که يکي از رهبران فلسطيني گفته است، انقلاب ايران بود که عصر جديدي را پيش روي جنبش فلسطين گشود و باعث شد که مسأله فلسطين تنها از زوايه اسلام نگاه شود. (21)
بنابراين، انقلاب اسلامي برداشتي نوين از اسلام و قرآن در جهان، جوامع اسلامي و نيز در جامعه سنّي مذهب فلسطين پديدآورد؛ چنان که روند مخالفت با دولت هاي فاسد و سرکوب گر را تشديد کرد، به مبارزه آشکار عليه آموزه هاي تحميلي ضدديني دامن زد، تلاش براي تحقق برابري و عدالت اجتماعي را شدت بخشيد، واکنش مسلمانان در برابر غرب و غرب زدگي را توسعه داد و يأس و نااميدي سال هاي پاياني دهه 1350/1970را از عرصه مبارزه حذف کرد. در واقع انقلاب اسلامي ايران، اين حقيقت را که اسلام راه حل و جهاد وسيله اصلي است، به سرزمين هاي در حال مبارزه بااستکبار به ويژه کشورهاي مسلمان برد. (22)
گرايش به حکومت الله: نظام اسلامي که پس از پيروزي انقلاب اسلامي در ايران شکل گرفت. به صورت بهترين الگو و مهم ترين خواسته سياسي مبارزان مسلمان درآمد. يکي از رهبراي مجلس اعلاي انقلاب اسلامي عراق در اين باره گفت: «ما در آن موقع مي گفتيم، اسلام در ايران پيروز شده است. و به زودي و به دنبال آن در عراق نيز پيروز خواهد شد. بنابراين، بايد از آن درس بگيريم و آن را سرمشق خود قرار دهيم. (23)
به بيان ديگر، انقلاب اسلامي، حدود 5/1 ميليارد مسلمان را برانگيخته و آنان را براي تشکيل حکومت الله در کره زمين به حرکت درآورد اين رويکرد، در اساس نامه، گفتار وعمل سياسي جنبش هاي اسلامي سياسي معاصر به شکل هاي مختلفي مشاهده مي شود.
علاقه جنبش گران مسلمانان به ايجاد حکومت اسلامي به صورت هاي مختلف ابراز شده است، از جمله: بعضي از گروه هاي اسلامي با ترجمه کتاب حکومت اسلامي امام خميني (ره) (مانند اليسار الاسلامي مصر) و يا با تأکيد بر جمهوري اسلامي ايران به عنوان تنها راه حلّ (مانندجبهه نجات اسلامي الجزاير) علاقه مندي خود را براي برپاکردن يک حکومت اسلامي ابراز کرده اند. آيت الله محمدباقر صدر هم قبل از شروع جنگ تحميلي در تلاش بود، رژيم عراق را سرنگون و يک حکومت اسلامي به شيوه حکومت ايران يعني جمهوري اسلامي برپايه ولايت فقيه به وجود آورد. (24)
برخي از حرکت هاي ديگر اسلامي براساس اصل ولايت فقيه و قبول آن، از رهبري انقلاب اسلامي ايران پيروي مي کنند. اين دسته از گروه ها، دو گونه اند. دسته اي که از لحاظ عقيدتي و مذهبي خود را مقلد رهبري انقلاب اسلامي ايران مي دانند (مانند جنبش امل در لبنان)، و دسته اي که هم از لحاظ سياسي و هم مذهبي، از رهبري انقلاب اسلامي ايران تبعيت مي کنند (مانند جنبش حزب الله لبنان) (25)
گروه ها و سازمان هاي اسلامي مذکور، براي نيل به يک نظام مبتني بر اسلام، شيوه و روش هاي مختلفي را در پيش گرفته اند.برخي تنها از طريق اقدام قهرآميز و مسلحانه (مانند حزب الله حجاز) و کودتا (مانند جنبش آزادي بخش بحرين) درصدد نابود کردن رژيم حاکم بوده اند. در نقطه مقابل، گروه هايي قرار دارند که شرايط فعلي را براي دست زدن به اقدامات مسلحانه مساعد نمي دانند، و با توسل به شيوه هاي مسالمت آميز از قبيل شرکت در انتخابات پارلماني در پي تغيير نظام موجود هستند (مانند حزب اسلام گراي رفاه)، اما گروه هاي ديگر هم وجود دارند که به هر دو روش پايبندند، جنبش حزب الله نمونه اي از اين گروه هاست که در مصاف با اسرائيل و حکومت ماروني لبنان و به منظور استقرار حکومت اسلامي به دو روش متمايز و در عين حال مکمل هم، يعني جنگ با اسرائيل و شرکت در انتخابات مجلس لبنان روي آورده است. (26)
ساختار شکني: انقلاب اسلامي به صور مختلف به شکستن ساختارهاي پذيرفته شده جهاني دست زد و البته ساختارهاي ارزشي جديدي را جايگزين ساختارهاي پيشين ساخت از جمله:
1. در انديشه مدرنيته براي انتقال جامعه سنتي به مدرن، نياز به يک الگوي جهاني توسعه است، آن هم الگويي برگرفته از غرب پيشرفته، چرا که عقيده بر اين است که دنياي غيرعربي توسعه نيافته، بايد همان مسير توسعه در اروپا و آمريکا را بپيمايد.در اين ديدگاه، نوسازي با دنيا گرايي مفرط همراه است، و ليکن انقلاب اسلامي ايران مباني توسعه غرب را زير سؤال برد و فرياد زد که دين جهت گيري هاي اساسي درخصوص اداره دنيا دارد، البته دنيا گرايي افراطي را هم نفي مي کند. به اين صورت، انقلاب اسلامي ارزش نويني در توسعه آفريد و آن که در توسعه اجتماعي نيازي به توسل به الگوهاي غربي نيست. (27)
2. انقلاب اسلامي در ايران در دوره اي به وقع پيوست که جريان پست مدرنيسم در ربع آخر قرن بيستم وارد مرحله جديدتر و جدي تر شده بود. از اين رو، انقلاب اسلامي ايران به عقيده بسياري از انديمشندان غرب، انقلابي است پست مدرنيسمي و لذا در روايت و تفسير مدرنيته جاي نمي گيرد، و به همين دليل انقلاب اسلامي ايران مورد توجه افرادي چون ميشل فوکو، دريدا، ادوارد سعيد و... قرار گرفت. فوکو از جمله اشخاصي بود که يافته هاي نظري خود را در انقلاب اسلامي پيدا کرد و با چاپ مقالاتي، حمايت خود را نسبت به مردم ايران نشان داد، اگرچه با حملات شديد و تند هم کيشان خود مواجه شد. به نظر او، انقلاب اسلامي در ايران در قالب معنويت گرايي سياسي جاي مي گيرد، در حالي که عنصر معنويت قرن ها در غرب به فراموشي سپرده شده بود. بنابراين، انقلاب اسلامي نظريه و ديدگاه انقلاب، توسعه و زندگي بدون معنويت را طرد کرد و فضاي ارزشي تازه اي را به روي جهانيان گشود که در آن هم به نيازهاي مادي و هم به نيازهاي معنوي پاسخ داده مي شود. (28)
3. تا پيش از پيدايش انقلاب اسلامي، عمده نظريه پردازان انقلاب در عرصه جامعه شناسي گرايش هاي ساختار گرايانه داشتند يعني سعي مي کردند با بررسي گزينشي انقلاب ها به يک تئوري دست يابند تا بتوانند هر انقلاب جديدي راکه در جهان رخ مي دهد با آن تبيين و حتي وقوع آن را پيش بيني کنند. خانم اسکاچپول از جمله اين نظريه پردازان بود که انقلاب ها را عملي اتفاقي و خارج از اراده مي دانست و بر آن بود که انقلاب ها مي آيند نه اين که ساخته شوند، ولي با پيروزي انقلاب اسلامي ايران که با نوعي ساخته شدن و معماري همراه بود، اسکاچپول تئوري خود را به اين صورت تغيير داد: انقلاب ها مي آيند نه اين که ساخته شوند الا انقلاب اسلامي ايران. بنابراين، انقلاب اسلامي نشان داد که مي توان يک پديده عظيم اجتماعي را ساخت و اين ارزش و مفهوم جديدي است که انقلاب اسلامي به عرصه تئوري پردازي جهاني عرضه کرده است. (29)
توجه به مردم: مردمي بودن که يکي از ويژگي ها و ارزش هاي انقلاب اسلامي ايران است، در جنبش ها و گروه هاي سياسي متعددي راه يافته است. به عبارت ديگر، اين جنبش ها و گروه ها دريافته اند که اسلام توانايي بسيج توده هاي مردم را دارد. بر اين اساس، آن ها از اتکاء به قشر روشنفکر به سوي اتکاء به مردم گرايش يافته اند و در نتيجه، پايگاه مردمي خود را گسترش داده اند. به عقيده دکتر حسن الترابي رهبر جبهه اسلامي سودان، انقلاب اسلامي انديشه کار مردمي و استفاده از توده هاي مردم را به عنوان هديه اي گران بها به تجارب دعوت اسلامي در جهان اسلام عطاء کرد. گرايش به انديشه کار مردمي، جنبش هاي اسلامي را به سوي وحدت طلبي مذهبي و قومي سوق داده، اين امر، جنبش هاي اسلامي سياسي را از اختلاف و تفرقه دورتر ساخته و آن ها را از تشکيلات قوي تر، امکانات وسيع تر، حمايت گسترده تر و پايداري بيشتر برخوردار ساخته است. (30)
نمونه هاي فراواني از رويکرد به مردم در حرکت هاي سياسي ديده مي شوند از جمله: مردم مسلمان ترکيه قبل از کودتاي 1359 آن کشور، به خيابان ها مي ريزند و شعار استقلال، آزادي و جمهوري اسلامي سرمي دهند. مردم کشمير در راهپيمايي دويست هزار نفري 1369 شعار الله اکبر و خميني رهبر را مطرح کردند. جنبش جهاد اسلامي فلسطين بر آن است که فلسطيني ها همان شعارهايي را سر مي دهند که انقلاب اسلامي منادي آن بود. آن ها فرياد مي زنند، لا اله الا الله، الله اکبر، پيروزي از آن اسلام است. در واقع، آن ها شعارهاي قوم گرايي و الحادي را به دور انداختند، و شعارهاي انقلاب اسلامي را برگزيدند. در سال هاي 1369 تا 1379 در خيابان هاي کيپ تاون آفريقاي جنوبي شعار و نداي الله اکبر، بسيار شنيده شد. اين يادآور و مؤيد اين کلام رهبري انقلاب است که فرياد الله اکبر مردم الجزاير بر پشت بام ها درس گرفته از ملت انقلابي ايران است. (31)
انقلاب اسلامي به جهانيان آموخت که مشروعيت نظام سياسي بايد بر آراي واقعي مردم استوار باشد و به همين دليل بودکه اصل خود را به رفراندوم گذاشت، به رفراندوم گذاشتن يک نظام نه فقط عملي شگفت، شجاعانه و سخني نو، بلکه انديشه اي بود که فراتر از دموکراسي غربي است، و از اين رو، به عنوان بديلي براي جهان خسته از ليبرال دموکراسي مطرح شد. در اين انقلاب، حتي مردم خبرگاني را انتخاب مي کنند تا تدوين قانون اساسي براساس رأي مردم باشد. پس از تدوين نيز، مراجعه به آراي عمومي صورت مي گيرد. در اوج جنگ، امام اجازه نداد مجلس از حق قانوني خود براي استيضاح اولين رييس جمهور بگذرد. اجازه نداد پيشنهاد دولت نظامي به بهانه بهتر اداره شدن جنگ، طرح گردد، حتي اجازه نداد، مخارج انتخابات در دوران جنگ و تحريم، صرف جبهه ها شود، بلکه برعکس توصيه مي کردکه حتي يک روز، انتخابات مجلس شورا، مجلس خبرگان، و رياست جمهوري عقب نيفتد. (32)
اشاعه دين گرايي: در قرن بيستم کمونيسم و فاشيسم به عنوان ايدئولوژ هاي سکولار در جهان مسيحيت سر برآورند. با شکست فاشيسم (1324/1945) و کمونيسم (1370/1991) نظام دموکراسي ليبرال خود را بي رقيب مي ديد اما انقلاب اسلامي نظام ليبرال دموکراسي را به چالش طلبيد، زيرا رويداد انقلاب اسلامي، نظريه و تئوري پردازان ليبرال را که معتقد بودند با دين نمي توان به اداره حکومت پرداخت، و دين به تدريج اهميت سياسي اجتماعي خود را از دست مي دهد باطل ساخت. به بيان ديگر، مدت ها در رابطه با توسعه اجتماعي اعتقاد بر اين بود که ملت ها به طور اجتناب ناپذير، همزمان با مدرن شدن، سکولار مي شوند، ولي انقلاب اسلامي پيام و ارزش ديگري را به جهان عرضه کرد و اين که: اجتماعاتي که به دين روي مي آورند لزوماً همگام با مدرن شدن سکولار نمي شوند. به همين دليل، هم در کشورهاي پيشرفته، و هم در جهان در حال توسعه، تعداد کثيري از مردم معتقد شدند که مي توانند با عضويت در گروه ها و يا جنبش هاي ديني، به طور مؤثرتري هدف هاي مادي و معنوي خود را دنبال کنند. (33)
بعد از جنگ سرد، ارزش هاي دين گرايانه و دين مدارانه انقلاب اسلامي گسترش يافت زيرا وسايل ارتباط جمعي چون تلگراف، تلفن و به ويژه، اينترنت، فاکس و ايميل توسعه بيشتري پيدا کرد. به ديگر بيان، توسعه وسايل ارتباط جمعي موجب شد ارتباط بين جوامع ديني و غيرديني و همکاري فعالان مذهبي و سياسي، بيش از گذشته، در زمينه هاي مختلف افزايش يابد. همچنين پس از جنگ سرد مسائل جديدي در روابط بين المللي پديد آمد از جمله محيط زيست، داروهاي غير مجاز، ايدز، تروريسم، مهاجرت، پناهندگان و حقوق بشر، که مي طلبيد براي حل و فصل آن ها، حضور فعالان ديني با هدف هاي سياسي تشديد گردد، در حالي که دموکراسي آمريکايي توانايي خود را در حل آن ها نشان نداده است. (34)
به هر روي، اکنون دين در ابعاد ملي، فراملي (منطقه اي و جهان) تأثير قدرتمندي بر روي سياست دارد. مهم ترين جلوه اين تأثير را بايد در بنيادگرايي ديني ديد. بنيادگرايي ديني، دلالت بر نوعي استراتژي ويژه دارد که مي کوشد هويت دين داران را به عنوان يک جمعيت و يک گروه در مقابل کساني که مي خواهند آنان را به محيط غيرديني بکشانند، حفظ کند. گاهي اوقات يک چنين حالت تدافعي ممکن است تغيير يابد و منجر به نوعي تهاجم سياسي شود که در جست و جوي تغيير نظام هاي سياسي يا اجتماعي و اقتصادي موجود است. البته مجدداً بايد تأکيد کرد که پديدار شدن دوباره دين، يا بنياد گرايي ديني به عنوان يک اصل در سياست جهاني، بيش از آن که به فروپاشي کمونيسم مربوط باشد، به پيروزي انقلاب اسلامي برمي گردد. از اين رو، به راه انداختن جنگ عليه ايران که از حمايت کشورهاي قدرتمند جهان برخوردار بود را مي توان اقدامي براي سرکوب يا متوقف کردن بنيادگرايي اسلامي برآمده از انقلاب اسلامي تلقي کرد. (35)
الگوي جديد جهاني: انقلاب اسلامي در پي ايجاد يک نظم جهاني برپايه دين در جهان است. براي تحقق اين هدف، دو استراتژي (راهبرد) را در پيش گرفته است. نخست از يک برنامه کوتاه مدت پيروي مي کند که در اين برنامه کوتاه مدت، مي کوشد به مقابله با جهاني سازي به مفهوم غربي بپردازد و در اين راه، در تلاش است از به ثمر نشستن يک نظام جهاني مبتني برآموزه ها و ارزش هاي غربي جلوگيري نمايد. دوم، انقلاب اسلامي در مواجهه با جهاني شدن غربي و يا تضعيف آن، از يک برنامه درازمدت تبعيت مي کند و اين برنامه عبارت است از اين که: ارائه تصويري از نظام مطلوب و آرماني اسلامي تا ميل به آن را در مسلمانان و مستضعفان جهان برانگيزد. انقلاب اسلامي اميدوار است با برانگيختن اشتياق به حکومت جهاني مطلوب (اسلامي) انگيزه و حرکت در مشتاقان براي دسترسي به آن آغاز شود. (36)
نظام جهاني مطلوب از ديدگاه انقلاب اسلامي نظامي است که برپايه موارد زير شکل مي گيرد:1. اين نظام که از آن مي توان به نظام امامت و امت يادکرد، به زعامت امام معصوم تشکيل مي شود و امام با بهره گيري از علم لدني، معصوميت و امدادهاي الهي، نظام عادلانه اي را پايه ريزي مي کند، و تمام ملت ها، دولت ها و سرزمين هارا تحت عنوان امت واحد به سوي کمال انساني و اسلامي سوق مي دهد. نتيجه اين که رهبري و امامت در نظام جهاني اسلام، از سه ويژگي برخوردار است: اولاً، رهبري، مرکز و قطب ايدئولوژيک، عقيدتي، معنوي و سياسي به شمار مي رود. ثانياً، رهبر، منتخب پيامبر و يا منتخب مستقيم (نواب خاص) و غيرمستقيم (نايبان عام) امام معصوم است. ثالثاً، تحقق امامت و به دست گرفتن حکومت، به پذيرش مردم مرتبط است. (37)
2. جامعه جهاني اسلامي، جامعه اي همگون و متکامل، شکوفا کننده استعدادها و ارزش هاي انساني و واجد استقلال کامل است و نيازهاي بنيادين و اساسي فطري و روحي انساني در آن برآورده مي گردد. در اين نظام از تعلقات ملي و ناسيوناليستي، رهبري هاي چندگانه و مزورانه، قانون هاي خطاپذير بشري، حاکميت شيطان و انسان که ريشه منازعات، مخاصمات، مشاجرات و مجادلات جهان است، خبري نيست. (38)
3. انسان ها در جامعه جهاني مطلوب اسلامي، اعمال حاکميت و قانون خدا بر روي زميني را به رهبر برگزيده و الهي وا مي گذارند. در واقع، حاکميت الهي به صورت اراده امام تجلي مي يابد و مرزهاي اعتباري و قراردادي موجود و حاکم بر دنياي کنوني، زايل مي شود. (39)
ويژگي هاي نظام جهاني مطلوب اسلامي با ويژگي هاي نظام هاي گذشته، حال و حتي نظام هاي احتمالي آينده قابل مقايسه نيست. ممکن است، ويژگي هاي اين نظام ها، شباهت هاي ظاهري، لفظي و شکلي داشته باشد، ولي از لحاظ محتوايي هيچ شباهتي با هم ندارند. اين نظامي است که انقلاب اسلامي مروج و منادي آن در جهان است و به علت ويژگي هاي الهي و انساني اش به بديل جهاني شدن مزورانه و فريب کارانه غربي درآمده است و به همين علت سردمداران جهاني شدن غربي، انقلاب اسلامي را تنها رقيب خود معرفي کرده اند زيرا اين انقلاب درصدد است ارزش هاي جديدي را در پهنه اداره جهان، جايگزين ارزش هاي قبلي غربي نمايد.
ستيز با استکبار: انقلاب اسلامي استقلال را از مهم ترين اصول توسعه و وابستگي را از اساسي ترين علت عقب ماندگي معرفي کرد و بارها در اين باره به ملت ها و دولت هاي دربند جهان سوم و جهان اسلام هشدار داد. امام خميني (ره) بر اين باور بود که اسلام مخالف و منکر وابستگي صنعتي، زراعتي (کشاورزي)، اداري، اقتصادي و فرهنگي است و البته وابستگي فکري را مهم تر از ساير وابستگي ها مي دانست و آن را مبداء ديگر وابستگي ها مي شمارد، و هشدار مي داد که استقلال با وابستگي قابل جمع نيست و تا زماني که استقلال در همه ابعاد اجتماعي اتفاق نيفتد نمي توان کشوري را مستقل ناميد. (40)
مواضع و تلاش امام خميني (ره) که با استقلال ايران از سلطه آمريکا همراه شد، به پيدايش جرأت و اعتماد به نفس ملت ها در برابر زورگويي ابرقدرت ها و شکستن بت هاي ظالمانه و بالندگي نهال قدرت واقعي انسان ها و سربرآوردن ارزش هاي معنوي و الهي گرديد. (41)
به اعتقاد مقام معظم رهبري، استقلال خواهي انقلاب اسلامي چنان تأثير گذاشته که برخي را وادار به اعتراف کرده به عنوان مثال، يکي از رهبران کشورهاي واقع در شرق آسيا در جريان اجلاس سران کشورهاي اسلامي در خطاب به معظم له، علت فقر کشورش را وابستگي سرمايه هاي موجود در کشورش به سرمايه دارهاي صهيونيستي و آمريکايي دانست. مقام معظم رهبري نتيجه مي گيرد که استکبار وقتي منافعش ايجاب کند نه به ملتي، نه به اقتصادي، نه به فرهنگي، نه به مردمي و نه به کسي رحم نمي کند. (42)
امروز ديگر شکي باقي نمانده که ايستادگي هاي دولت و ملت ونزوئلا در مقابل آمريکا، متأثر از انقلاب اسلامي است. کاسترو به پشت گرمي حمايت هاي جمهوري اسلامي (نظام برآمده از انقلاب اسلامي) به رويارويي انقلاب و کشورش با آمريکا ادامه مي دهد. حزب الله لبنان با درس گيري از استقلال طلبي انقلاب مردم ايران مي کوشد استقلال لنبان را در مقابل رژيم صهيونيستي حفظ کند، مسئولان سوريه بارها اعلام کرده اند درس ايستادگي در برابر اسرائيل غاصب را از انقلاب ايران آموخته اند. رزمندگان افغان بااتکاي به درس هاي انقلاب 1357 ايران توانستند روس ها را از سرزمني خود بيرون نمايند و به استقلال خود دست يابند. دستيابي ايران به استقلال سياسي، اقتصادي، فرهنگي و نظامي شيوه ايران انقلابي، به الگويي براي رزمندگاني تبديل شده که هم اينک در عراق، سودان، فلسطين و... با سلطه گران بر آب و خاک خود مي جنگند. جالب آن که آن ها در جنگ با متجاوزين با کشورشان با همان شعارها (مرگ بر آمريکا) شيوه ها (بسيج مردمي)، سلاح ها (تسليحات سبک و متعارف) و سمبل ها (توسل و توکل به خدا) انقلاب اسلامي مي رزمند، و همين هاست که استکبار را نگران وقوع يک يا چند پيروزي ديگر مشابه به پيروزي انقلاب اسلامي ايران مي کند. (43)
نتايجي که بايد از رابطه و يا تعامل انقلاب اسلامي با بيداري اسلامي دريافت، فراوان و متعدد است، از جمله:
1. بيداري اسلامي اگرچه قدمتي طولاني يا حداقل قدمتي صدساله دارد، ولي انقلاب اسلامي در گسترش و تعميق آن نقش تعيين کننده داشته است.
2. اثرگذاري انقلاب اسلامي بر بيداري اسلامي از جهات مختلف تأييد مي شود، مثلا از سخنان امام خميني و نيز از، مواضع مقام معظم رهبري و هم چنين از رشد تحولات اسلامي در دهه هاي اخير، تأثير انقلاب ايران بر جنبش بيدارگري اسلامي هويداست. اين در حالي که انقلاب اسلامي بارها اعلام کرده که هيچ تلاشي براي صدور انقلاب در دستور کار ندارد بلکه بر اين باور است که پيام هاي انقلاب اسلامي به جهت ارتباط با فطرت انساني و وحي الهي، نيازي به صدور به مفهوم فيزيکي ندارد.

نتيجه

انقلاب اسلامي و بيداري اسلامي، بررسي دو نمونه انقلاب اسلامي ارزش هايي چون حجاب، پيوند دين و سياست، اسلام به عنوان تنها راه مبارزه و ميل به حکومت اسلامي را در جهان زنده و يا خلق کرد، بدون آن که ناچار شود و يا نيازي ببيند در اين راه به اقدام فيزيکي (نظامي) متوسل گردد. اين مسأله نشان مي دهد که ارزش هاي اسلامي به دليل انطباق با فطرت انساني، در توسعه و تعميق تنها به يک احياءکننده نياز دارد، البته ارزش هاي ناشي از انقلاب اسلامي در سرزمين هاي اسلامي بيش از ممالک اثر گذاشت و گسترش يافت، بي شک يکي از مهم ترين علل آن، وجود عنصر اسلام و وجوه مشترک فراوان بين اسلام کشورهاي اسلامي و اسلام در ايران انقلابي است از جمله در لبنان و فلسطين.
الف- حزب الله به شدت تحت تأثير امام خميني (ره) و رهنمودهاي مقام معظم رهبري قرار دارد. در واقع برجسته ترين تأثير خارجي انقلاب اسلامي را مي توان در چهره و وجود حزب الله ديد. چرا انقلاب اسلامي به اين ميزان بر جنبش اسلامي حزب الله تأثير گذاشته است؟ در پاسخ به اين سئوال، مباحث زير را مرور مي کنيم:
بين ايرانيان و لبناني ها، علقه هاي فراواني چون پيوندهاي تاريخي علما و مردم جبل عامل با ايران دوران صفويه، فعاليت هاي سياسي، فرهنگي و اقتصادي روحاني بلند آوازه ايراني امام موسي صدر به عنوان رهبر شيعيان لبنان، تشکيلات برجاي مانده از او يعني جنبش امل،حضور شيعيان بسيار در لبنان، وجود دشمن مشترک (اسرائيل) حمله اسرائيل به جنوب لبنان، کمک هاي انسان دوستانه جمهوري اسلامي ايران به محرومان لبناني، مهاجرت و سکونت دائم تعدادي از اتباع لبنان در ايران و... وجود دارد. اين پيوندها باعث شده است که انقلاب اسلامي ايران بيش از هر جاي ديگر، در لبنان تأثير بگذارد. اين تأثير، در زمينه هاي متعددي مشاهده مي شود. در زمينه فرهنگي، تعداد زيادي از تصاويربزرگ امام خميني (ره) و مقام معظم رهبري در نقاط مختلف لبنان به چشم مي خورد. بر روي ديوارهاي آن کشور، عکس شهدايي ديده مي شود که جان خود را در راه مبارزه عليه آمريکا و رژيم صهيونيستي (دشمن شماره يک ايران) از دست داده اند. مردان با ظواهر اسلامي در خيابان ها در رفت و آمد هستند. زنان ملبس به حجاب اسلامي اند و در اجتماعات عمومي، جايگاه نشست و برخاست زنان از مردان جداست، و مردم لبنان از ايران به عنوان يک دولت انقلابي و اسلامي حمايت مي کنند. (44)
در لبنان، حزب الله بيش از هر گروه سياسي اسلامي ديگر، تحت تأثير انقلاب اسلامي ايران قرار دارد. علاو بر زمينه هاي مشترک موجود بين ايران و لبنان، انگيزه هاي ديگري موجب چنين تأثير شگرف شده است. اين انگيزه ها را مي توان در پذيرش رهبري انقلاب اسلامي به عنوان رهبر ديني و سياسي از سوي حزب الله و کمک هاي ايران به حزب الله ديد. هم چنين، حزب الله از لحاظ اقتصادي و اجتماعي بااعطاي کمک هاي تحصيلي به مستضعفان، توزيع داروي رايگان بين بيماران، تقسيم آب بين نيازمندان، ارائه خدمات درماني به محرومان، البته در پرتو حمايت ايران، به شدت فعال است. در عين حال، از لحاظ نظامي از اسلحه و جنگ جدا نيست. بلکه برپايه اصل جهاد، همواره آماده پاسخ گويي به حمله احتمالي دشمن صهيونيستي است، و در اين باره، اعضاي حزب الله لبنان براساس شعار اسلامي امام خميني (ره) يعني اسرائيل بايد از بين برود، قسم ياد کرده اند که جنگ با اسرائيل را تا آخرين لحظه ادامه دهند. در بعد فرهنگي، حزب الله شعارهايي را از انقلاب اسلامي به عاريت گرفته و سمبل هاي انقلاب اسلامي را سمبل خود مي داند. پيروزي حزب الله در دودهه از فعاليتش عليه اسرائيل، در مقايسه با فعاليت 40 و 50 ساله ساف، نشان از سودمندي استفاده از شعارهاي اسلامي و به کارگيري جهاد مقدس عليه اشغال گران و عدم اتکاء به کشورهاي ديگر در مبارزه ضداسرائيلي دارد. (45)
حزب الله لبنان در بعد سياسي هم به شدت از انقلاب اسلامي ايران تأثير پذيرفته است، رهبري انقلاب ايران را در دو بعد سياسي و مذهبي و برپايه اصل ولايت مطلقه فقيه پذيرفته. به همين جهت از مواضع منطقه اي و جهاني جمهوري اسلامي ايران حمايت به عمل مي آورد، و در پي تأسيس حکومت اسلامي مشابه جمهوري اسلامي در لبنان است. يکي از رهبران جنبش اسلامي لبنان برعقيده است: «ما به جهان اعلام مي کنيم که جمهوري اسلامي مادر ماست. دين ما، ملکه ما، خون ما و شريان حيات ماست. (46)
اولاً، به مبارزه رنگ اسلامي زد، شعارهاي اسلامي برگزيد، جهاد عليه اشغال گران را اعلام و ادامه داد.
ثانياً، بدون اتکاء به کشورهاي ديگر، مبارزه خود را اداره کرد و آن را به انجام رسانيد. که هر که يک از اين دو علت توفيق نيز، برگرفته از انقلاب اسلامي ايران است.
ب- بيداري اسلامي در فلسطين نيز، مرهون انقلاب اسلامي است. همچنين، سهمي قابل توجه از بيداري اسلامي در فلسطين، متأثر از اقدامات جمهوري اسلامي ايران درباره فلسطين است که پذيرش مقامات بلندپايه فلسطيني در روزهاي آغازين پيروزي انقلاب اسلامي، تبديل کنسول گري اسرائيل به سفارت فلسطين، اعطاي لقب سفير به نماينده ساف در ايران، اعلام آخرين جمعه ماه مبارک رمضان به عنوان روز جهاني قدس، ارائه کمک هاي مالي و انسان دوستانه، حمايت ها و پشتيباني هاي ديپلماتيک و سياسي از جنبش فلسطين، مخالفت با طرح هاي سازش و صلح خاورميانه و تأسيس صندوق حمايت از مردم فلسطين، بخشي از اين اقدامات به شمار مي رود. (47)
انقلاب اسلامي ايران انگيزه اصلي خيزش و رستاخيز اسلامي در فلسطين اشغالي، به ويژه در نوارغزّه و کرانه باختري رود اردن محسوب مي شود. شيخ عبدالعزيز عوده، رهبر معنوي جنبش جهاد اسلامي، مي گويد: «انقلاب امام خميني، مهم ترين و جديدترين تلاش در بيدارسازي اسلامي براي اتحاد ملت هاي مسلمان بود.» و نيز برژينسکي، مشاور امنيت ملي دولت کارتر مي نويسد: «تجديد حيات اسلام بنيادگرا در سراسر منطقه با سقوط شاه و تشنجات ناشي از ايران امام خميني، يک مخاطره مستمر براي منافع ما در منطقه اي که حيات جهان غرب کاملاً به آن وابسته است، ايجاد کرده است. (48)
بنابراين، انقلاب اسلامي برداشتي نوين از اسلام و قرآن در جوامع اسلامي و نيز در جامعه سنّي مذهب فلسطين پديد آورد؛ چنان که روند مخالفت با دولت هاي فاسد و سرکوب گر را تشديد کرد، به مبارزه آشکار عليه آموزه هاي تحميلي ضدديني دامن زد، تلاش برا ي تحقق برابري و عدالت اجتماعي را شدت بخشيد، واکنش مسلمانان در برابر غرب و غرب زدگي را توسعه داد و يأس و نااميدي سال هاي پاياني دهه 50 تا 70 را از ميان برد. يکي از مهم ترين علت هاي ناکامي ساف در مبارزات ضداسرائيلي نيز، برخوردار نبودن از درک شرايط نويني بوده است که انقلاب اسلامي در جهان آفريد. ولي به عکس ساف، حرکت اسلامي نوين فلسطين، شيوه هاي انقلاب اسلامي را مبناي مبارزات ضد صهيونيستي خويش قرار داده است. شيخ اسعد تميمي، از رهبران جنبش فلسطيني، بر آن است که تا زمان انقلاب ايران، اسلام از عرصه نبرد اعراب عليه اسرائيل غايب بود وحتي مسلمانان در عرصه واژگان، مثلاً به جاي واژه جهاد از واژه هايي همچون نضال (مبارزه) و کفاح(پيکار) بهره مي جستند و انقلاب ايران، اين حقيقت را که اسلام راه حل و جهاد وسيله اصلي است، به سرزمين فلسطين برد. شيخ عبدالله شامي، چهره برجسته اصول گراي فلسطيني مي گويد، پيروزي انقلاب اسلامي در ايران اثري ژرف بر انقلاب و بر مردم فلسطين داشته است و پس از آن مردم فلسطين دريافتند که براي آزادي فلسطين به قرآن و سلاح نيازمندند. اين انديشه، نخست در حرکت جهاد اسلامي فلسطين راه يافت و سپس همين سازمان بذر آن را در سرزمين فلسطين افشاند. (49)

پي نوشتها:

1. مفهوم شناسي بنيادگرايي اسلامي اثر غلامرضا بهروز لک منتشره در سايت باشگاه.
2. همان.
3. نهضت بيداري اسلامي اثر حميد مولانا منتشره در سايت امت اسلامي.
4. همان.
5. همان.
6. بيداري اسلامي، خودشناسي و دفاع از آن، اثر فهمي هويدي منتشر شده در سايت مرکز اسناد انقلاب اسلامي.
7. مولانا، همان.
8 . معصومه راغبي، چهره زن ايراني در مطبوعات بيگانه، ويژه نامه ماهنامه پيام زن، دفتر سوم، فروردين 1384، ص111. همان، به نقل از: روزنامه ساندي تلگراف مورخ 1993/8/22.
9. همان به نقل از: روزنامه ساندي تلگراف مورخ 1993/8/22.
10. همان به نقل از: روزنامه گاردين مورخ 2004/1/20.
11. معصومه عسگري، انقلاب اسلامي و ارائه الگويي مطلوب از زن مسلمان، ويژه نامه ماهنامه پيام زن، دفتر سوم، فروردين 1384، ص 96.
12. راغبي، همان به نقل از: روزنامه نيويورک تايمز آمريکا مورخ 1996/5/12.
13. عباس دلال، زن در جامعه معاصر ايراني، «ويژه نامه ماهنامه پيام زن»، دفتر سوم، فروردين 1384، ص 162.
14. محبوبه پلنگي، «زنان ايراني از نگاه زنان غيرايراني، گذري کوتاه،» ويژه نامه ماهنامه پيام زن، دفتر سوم، فروردين 1384، ص 186.
15. همان.
16. يحيي فوزي، انديشه سياسي امام خميني، قم: نشر معارف، 1381، مبحث دين و سياست.
17. ري کيلي و فيل مارفيلت، جهاني شدن و جهان سوم، ترجمه حسن نورائي بيدخت و محمدعلي شيخ عليان، تهران: دفتر مطالعات سياسي و بين المللي، 1380، ص 265.
18. همان.
19. امام خميني، فلسطين از ديدگاه امام خميني، تهران: موسسه تنظيم و نشر آثار امام خميني، 1369، ص 204.
20. کليم صديقي، نهضت هاي اسلامي و انقلاب اسلامي، ترجمه هادي خسروشاهي، تهران: اطلاعات، 1375، ص 70.
21. فتحي ابراهيم شقاقي، انتفاضه طرح اسلامي معاصر، ترجمه انتشارات بين المللي الهدي، تهران: هدي، 1371، ص 123.
22. جميله کديور، رويارويي انقلاب اسلامي با آمريکا، تهران: اطلاعات، 1374، ص 97.
23. محمدحسين جمشيدي، «ارتباط انقلاب اسلامي ايران و جنبش شيعيان عراق،» مجموعه مقالات انقلاب اسلامي و ريشه هاي آن، ج 2، قم: نهاد نمايندگي مقام معظم رهبري در دانشگاه ها، 1374، ص 391.
24.حميد احمدي، انقلاب اسلامي و جنبش اسلامي در خاورميانه عربي، «مجموعه مقالات پيرامون جهان سوم»، تهران: سفير، 1369، ص 117.
25. دستاوردهاي عظيم انقلاب شکوهمند اسلامي در گستره جهان، تهران: سازمان ارتباطات فرهنگي، بي تا، ص 3.
26. همان.
27. فرامز رفيع پور، توسعه و تضاد، تهران: دانشگاه شهيدبهشتي، 1376، ص 12.
28. همان.
29. عبدالوهاب فراتي، رهيافت هاي نظري برانقلاب اسلامي، قم: معاونت امور اساتيد و دروس معارف اسلامي، 1377، ص 184.
30. حسين دهکردي، «انتفاضه فلسطين مولود اصول گرايي اسلامي معاصر،» فصل نامه علوم سياسي، شماره 14، تابستان 1380، ص 199.
31. جمشيدي، همان.
32. امام خميني، صحيفه نور، جلدها و صفحات مختلف.
33. بريان وايت، ريچارد ليتل و ميشل اسميت، دين در جهان، ترجمه منيژه جلالي، روزنامه همشهري، 20 فروردين 1381، ص 6.
34. جيمز کرث، «مذهب و جهان» ترجمه حميد بشيريه، ماهنامه دانشگاه در آئينه مطبوعات، شماره 89 ،12 اسفند 1380، ص 15.
35. ژيل کپل، اراده خداوند: يهوديان، مسيحيان و مسلمانان در راه تسخير دوباره جهان، ترجمه عباس آگاهي، تهران: دفتر نشر فرهنگي اسلامي، 1370، ص 30.
36. رحيم کارگر، آينده جهان، قم: بنياد فرهنگي حضرت مهدي موعود، 1383، ص 101.
37. محمد حکيمي، «جهاني سازي اسلامي و جهاني سازي غربي»، فصل نامه کتاب نقد، شماره 24-25، پاييز و زمستان 1381، ص 105.
38. همان.
39. بهروز لک، همان.
40. امام خميني، صحيفه نور، ج 1، همان، ص 109.
41. مقام معظم رهبري، سخنراني 14 تير 1380.
42. همان، سخنراني 1 فروردين 1377.
43. ايووربنسون، «ايران: نگاهي به انقلاب اسلامي،» ترجمه وحيدرضا نعيمي، همشهري ديپلماتيک، نيمه دوم بهمن 1382، ص 12.
44. دستاوردهاي عظيم انقلاب شکوهمند اسلامي ايران، همان.
45. همان.
46. کديور، همان.
47. کديور، همان، ص 97.
48. همان، ص 114.
49. همان.

منبع: فصلنامه ي مربيان


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

بيداري اسلامي و نيازهاي فكري معاصر آن

نويسنده: عدنان بن عبدالله القحطان
اگر بخواهيم با نگاهي همه‌جانبه به چشم‌اندازهاي آينده‌ي امت اسلامي بنگريم، [بايد بدانيم كه] اين چشم‌اندازهاي آينده در گرو بيداري اسلامي معاصر و توسعه و رشد تمدني آن مي‌باشد. بنابراين براي اينكه بتوانيم با يك نگاه واقعي و متد علمي سنجيده در مسير آينده گام برداريم و به نقش بزرگي كه مؤسسات ديني، كميته‌هاي علمي و علماي اسلام در اين ساختار تمدني برعهده دارند، پي‌ببريم، لازم است مفهوم بيداري اسلامي را شناخته و عوامل دروني و بيروني آن را مورد بررسي قرار دهيم.
بيداري اسلامي پديده‌يي اجتماعي است كه به معناي بازگشت بيداري و هوشياري امت اسلامي است تا به خودباوري رسيده و به دين و كرامت و استقلال سياسي، اقتصادي و فكري خود مباهات كرده، و در راستاي ايفاي نقش طبيعي خود به عنوان «بهترين امت براي مردم» تلاش كند. اين بيداري فرخنده عوامل و ريشه‌هاي تاريخي دارد كه بايستي آنها را مورد بررسي قرار دهيم.

1- عوامل دروني:

منظور از عوامل دروني، برخورداري امت اسلامي از عناصر تمدني گنجينه‌هاي فرهنگي و فكري و آراء اجتهادي تكامل يافته‌يي است كه در قالب دين مبين اسلام تبلور يافته‌اند. ديني كه با دربرگرفتن ارزشها، افكار، عقيده، شريعت و اخلاق در ابعاد دنيوي و اخروي، [از ديگر اديان] متمايز است.
دين اسلام مشكلات رواني، جسماني، دنيوي و اخروي انسان را حل كرده است بطوري كه انسان مسلماني كه سلوك و نحوه‌ي زندگي او برگرفته از اسلام است در آرامش و آسايش بسر مي‌برد. اسلام با تربيت دروني انسان و [ايفاي] نقش در حفظ انسان از بيماري‌هاي اخلاقي و رفتاري، و كسب فضائل و صفات نيكو، و تقويت ارتباط با خدا (سبحانه و تعالي) و توكل بر او، و ايجاد انسجام در روابط اجتماعي، چشم‌اندازهاي كلي اخلاق را براي وي ترسيم مي‌نمايد.
همچنين اسلام با احياي بعد روحي و معنوي در انسان، از وي فردي اجتماعي مي‌سازد كه مي‌تواند در تربيت جامعه مشاركت جويد.
اسلام توانسته تمام نيازهاي انساني را پوشش دهد و نقش طبيعي او را در جانشيني خدا در زمين به وي عطا كند.
اين بعد سرنوشت انسان كه اسلام براي فرد و جامعه چه در بعد جهان‌بيني و چه در بعد تشريع و قانونگذاري تكامل يافته، و چه در بعد اخلاق نيك، منادي آن بوده سرآغازي براي بيداري [اسلامي] گرديده است.

2- عوامل بروني:

امت اسلامي در گرداب تمدن مادي وارد شده از شرق و غرب گرفتار شده و مورد تهاجم فكري قرار گرفته است كه فروكش كردن اسلام از صحنه، بر اثر عوامل متعدد و براي مدت زمان طولاني و عدم حضور رهبري امانت دار، پرداختن حاكمان مسلمان به امور شخصي و ضعف روحيه‌ي امر به معروف و نهي از منكر، خود در اين فرآيند سهيم بوده‌اند. چرا كه اين عوامل، و شعارهاي فريبنده‌يي كه استعمارگران در مورد آزاد ساختن و پيشرفته كردن مسلمانان سر مي‌دادند، و همزماني اين شعارها با پيشرفت تكنولوژيي كه استعمارگران به عنوان دليلي براي اثبات پيشرفت تمدني خود بدان استناد مي‌نمودند، همه و همه موجب دوچندان شدن جهل و ناداني امت نسبت به حقيقت اسلام گرديده‌اند.
اين ضعف، ناداني و آميختگي بين تمدن، فرهنگ و علم منجر شد به اين كه امت اسلامي تحت سيطره‌ي تمدن جديد قرار گيرد. تا جايي كه نويسندگان و روشنفكران [مسلمان] نيز فريفته‌ي آن شده و براي آن به نظريه‌پردازي پرداختند. بعد از مدتي نه چندان كوتاه سرپوش‌ها كنار رفته و چهره‌ي دروغين تمدن معاصر و كذب داعيان آن برملا شد و بعد از مصيبت‌ها و بحران‌هايي كه دامنگير امت اسلامي شده بود [تازه به خود آمد] و احساس كرد مغلوب و مورد استثمار قدرت‌هايي قرار گرفته كه ثروت‌ها و امكانات آن را به غارت برده‌اند. و براي امت اسلامي روشن شد كه همگان مي‌خواهند منافع آن را ربوده، و آن را استعمار كنند و آن را به ذلت بكشانند، و از ارزش‌ها، عقيده و فكر اسلامي‌اش دور سازند.
همانطور كه روشن شد برخورد تمدني كنوني، درگيري بر سر منافع است كه مسلمانان به جز شكست و پس رفت نصيبي از آن نبرده‌اند. اين حقايق چشم [بصيرت] بسياري از قربانيان مغلوب اين قدرت‌ها را گشوده و آنان را به سوي يافتن يك نجات‌دهنده داده است. در نتيجه بعضي از علما و انديشمندان اصلاح‌گر به مقابله با اين تهديد و برخورد تمدني معاصر پرداختند.
پيآمد عكس‌العمل‌هاي ناشي از برخورد تمدني و درگيري شديد ميان اسلام و تمدن ماترياليستي در مقابله با سلطه‌ي فكري و سيطره‌ي بيگانگان به نام اسلام و احساس مسئوليت امربه معروف و نهي از منكر و جهاد در راه خدا، سرآغاز ديگري براي بيداري اسلامي در عصر حاضر شده است. و از عوامل بيروني بيداري اسلامي مي‌توان به برخورد تمدن‌هاي نوين جهت سيطره بر جهان سوم و نتايج تلخي كه از اين درگيري‌ها عايد بشريت شده و ستم آشكارا و صريحي كه از آن رنج برده است، اشاره كرد.
دراين شرايط ملت‌ها به اين فكر افتادند كه انتقام كرامت از دست رفته‌ي خود را گرفته، و وحدت فكري، سياسي و اقتصادي خود را حفظ كنند. باشد كه بتوانند جايگزيني بيابند تا ايشان را از تجارب [تلخ و] تاريكي كه زير سلطه‌ي قدرت‌هاي مستكبري كه شعار تمدن و پيشرفت سر مي‌دادند، برهاند.
پس ملت‌هاي مسلمان، اسلام را بزرگترين نجات‌دهنده و آرمان خود يافتند و بر آن شدند كه انتقام اسلام را [از دشمنانش] بگيرند، و به دفاع از آن و مطالبه‌ي آن برخيزند. و نيز انتقام كرامت از دسته رفته‌ي خود تحت سلطه‌ي بيگانه را بگيرند. از اين روي در جاي جاي قلمرو اسلامي شاهد انقلاب‌هايي هستيم كه خواستار آزادي، استقلال و بناي تمدن اسلامي در سرزمين‌هاي اسلامي هستند. اين بود فرآيند شكل‌گيري بيداري اسلامي و برخي از عوامل پيدايش آن. بيداري اسلامي پديده‌اي ناگهاني نبوده بلكه بياني است از رنج و آلام ملت‌هاي اسلامي، از آن روزي كه كشورهايشان تحت سلطه‌ي بيگانگان قرار گرفت و فرامين غيراسلامي و حاكمان ناتوان به منظور پاشيدن بذر زهرآگين تمدن وارداتي در جوامع اسلامي، بر آن‌ها تحميل شدند.
بدين‌صورت ملت‌هاي مسلمان بين ايمان به رسالت و عقيده‌ي خود كه نوعي حيات ديني و التزامات شرعي ناشي از شريعت اسلامي را به آنان القاء مي‌كند از يك سو، و رشد فزاينده‌ي تمدني جديد كه در تلاش است آن‌ها را از هويت، عقيده و التزام به شريعت جدا كند، از ديگر سو، نوعي تناقض و دوگانگي بزرگ احساس كردند. در نتيجه، تمدن غربي در مقابل بيداري اسلامي كه در درون امت جاي گرفته بود، در لايه‌هاي سطحي جامعه [اسلامي] باقي ماند و هرگز نتوانست به اعماق آن نفوذ كند.
فرزندان بيدار و مخلص و دعوتگرا است اسلامي در مقابل هرآنچه از پيكره‌ي امت، انديشه و ارزشهاي تمدني جاويدانش بيگانه بود، در جاي‌جاي جهان اسلام نداي مخالفت سردادند.
جامعه‌شناسان، سياستمداران، مصلحان و انديشمندان، اين بيداري را پيش‌بيني كرده بودند. به عنوان نمونه، انديشمند شهيد سيدقطب در كتاب خود تحت عنوان «المستقبل لهذا الدين»(1) و نيز حامد ربيع، استاد علوم سياسي بشارت اين بيداري را داده‌اند. بلكه تمام رهبران فكري و سياسي جهان، از شصت سال پيش انتظار چنين بيداري را مي‌كشيدند.
اسميت، استاد دانشگاه مونتريال، كتابي با عنوان «اسلام امروزين» دارد كه در دهه‌ي پنجاه ميلادي به چاپ رسيده و در آن توجه مسئولان كشور متبوعش را به اين بيداري جلب كرده است.
همچنين خاورشناس انگليسي «مونتوكوملي وات» در سال 1964م كتابي را منتشر كرد و در آن اسلام قرون وسطي را مورد كنكاش قرار داده و انتظار بيداري اسلامي را داشته است و در توصيف آن مي‌گويد: «بيداري اسلامي ايدئولوژي چهارمي خواهد شد كه در پايان قرن بيستم بر جهان معاصر حاكم مي‌شود.»
البته مهم‌ترين مدرك در اين زمينه مربوط به دانشمند روسي «ژوگانوفسكي» است كه به دنبال انقلاب سوسياليستي كتابي را نوشت و به ارزيابي آن پرداخت و با اشاره به دو انقلاب فرانسه و سوسياليستي شوروي و شكست آن دو از يك جهت مشخص و نياز جهان به انقلاب ديگري كه بتواند اشتباهات مسير حركتي انسان را تصحيح كند، اين سؤال را مطرح مي‌كند كه انقلاب جهاني سوم كي و از كجا مي‌آيد؟ سپس پيش‌بيني كرده كه خيزش اين انقلاب [سومي] تنها از جهان اسلام خواهد بود. اين پيش‌بيني متعلق به سال 1919 مي‌باشد.
بعد از ارائه اين شرح كوتاه درباره‌ي عوامل بيداري اسلامي، محافظت از اين بيداري و هدايت رشد آن لازم است تا ضمن ايفاي نقش آتي خود دستاوردهاي خود را در نشر تمدن اسلامي در اقصي نقاط جهان بدور از ترور، خشونت و تندروي ارائه دهد. تا از اين راه، به آينده‌ي درخشاني براي اسلام و ملت‌هاي محروم از كمترين حقوق انساني، آزادي و استقلال، بشارت دهد.
بنابراين بايد مشكلات و موانعي كه بر سر راه اين بيداري نوين و مهد تمدن اسلامي وجود دارند، به درستي شناسايي شوند تا از آن‌ها حذر كرده و آنها را از ريشه بخشكانيم و تا عناصري باقي نماند كه مانع تأثيرگذاري اين بيداري و رشد آن و در نتيجه ركود امت اسلامي گردد.
از اين رو مي‌توان موانع بيداري اسلامي را در دو بخش عوامل دروني و بروني مطرح كرد.
اما موانع دروني فكري را مي‌توان به صورت زير خلاصه كرد.
1- عدم فهم و دركي عميق معتدل و متوازن مسلمانان از انديشه‌ي اسلامي؛
2- ظروف و شرايطي كه قبلاً بدان‌ها اشاره شد؛
3- عدم حضور رهبران رباني در تطبيق صحيح اسلام و فهم درست از شرايط و تحولات عصر حاضر و عواملي كه آن‌ها را به اتخاذ مواضع استثنائي واداشته و مكتب اسلام را از لحاظ تطبيقي، سياسي و اجتماعي در هاله‌يي از ابهام قرار داده است.
مطالعه و بررسي اين موضوع به تلاش و تأمل نياز دارد. اين وضعيت، براي مدتي طولاني، باعث عدم فهم و درك حقيقي و درست [از اسلام] گرديد. در نتيجه نظريه اسلامي در بعد تطبيقي اجتماعي- سياسي در ذهن بسياري از علماي مسلمان، به جز اندكي از ايشان، به صورت مبهم باقي ماند و [اين ابهام] در آراء اجتهادي آنان منعكس گرديد. و اين عدم فهم درست، در قالب توجه زياد آنان به مسائل عبادي و امور فردي و ناديده گرفتن مسائل مهم امت اسلامي نمايان شد. علاوه بر اين، اقدام برخي توطئه‌گران به تشويش چهره‌ي واقعي اسلام و تأثيرپذيري بعضي از ساده‌لوحان [مسلمان] از افكار انحرافي، همه و همه منجر به تندروي در فهم اسلام و عقايد آن مانند ترور، غلو و رفتار افراط‌گرايانه مثل كناره‌گيري از جامعه بمنظور حفظ هويت شخصيت اسلامي گرديد.
همچنان كه فهم نادرست برخورد با دشمنان اسلام، و اينكه همگي ايشان را در زمره‌ي [كفار] دارالحرب به حساب آوريم و برخورد خود را با آن‌ها برخوردي مسلحانه قلمداد كنيم، در طول تاريخ، نه تنها فرصت‌هاي زيادي را در راستاي نزديك كردن بسياري از ملت‌ها به اسلام و ملحق نمودن آن‌ها به صف مسلمانان، از ما سلب كرده، بلكه فرصت استفاده از بسياري از افكار و انديشه‌هاي متسامح اسلام را نيز از ما گرفته است.
بنابراين براي رسيدن به يك برنامه‌ي متكامل، بايد اسلام را به‌صورت موضوعي مورد مداقه و بررسي قرار دهيم تا به كمك آن يك تمدن اسلامي متسامح پايه‌ريزي كنيم كه با نيازهاي روز و دستاوردهاي دنياي واقع معاصر، همگام و هماهنگ بوده و از سطحي‌نگري بدور باشد و در عين حال با در برگرفتن روح شريعت و تكيه بر متون صحيح، بر جوهر دين حريص باشد تا ضمن برداشتن گام‌هاي زير، به راه‌حل‌هاي موفقيت‌آميز دست يابيم.
1- اهتمام به عقل و نقش و تأثير آن در تعيين بعد شرعي در پرتو مقاصد و اهداف احكام و به وسيله‌ي عقل و اجتهاد مي‌توان وضعيت رو به رشد و ميزان انطباق آن در قواعد كلي با شريعت عزا را با در نظر گرفتن عناصر متغير موجود در عالم واقع، مورد بررسي قرار داد تا با استفاده از سنتهاي تغيير، متدهاي خود را دگرگون سازيم و در نتيجه با دنياي واقع منسجم و هماهنگ شويم. همانگونه كه خداي متعال مي‌فرمايد:
«ان ‌الله لايغير مابقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم»(2)
«بي گمان خدا وضعيت هيچ قومي را تغيير نمي‌دهد مگر اينكه درون‌هاي خود را دگرگون سازند».
2- علماي مسلمان بايد با توجه به نصوص صحيح و قابل اعتماد و بعد از مطالعه‌ي موضوعي ظروف و شرايط نص و مقتضيات مرحله‌ي جاري، حقيقت و احكام را در شريعت جستجو نمايند.
3- مطالعه و بررسي افكار و انديشه‌ها به دور از اختلافات انباشته شده در ذهن و افكار گذشتگان و جستجوي دليل براي اثبات آنها بدون تقليد از آراء فقهاي گذشته، تقليدي كه راه نتيجه‌گيري سالم و درست را بر ما مي‌بندد. مانند استناد به روايات ضعيف و استدلال به دليلي كه در قوت ديگر ادله‌ي قطعي نباشد يا چشم‌پوشي از دليلي كه بايد در صدر ادله قرار گيرد كه به منظور تحميل نظر شخصي بر اسلام انجام مي‌گيرند. در فقه اسلامي نمونه‌هاي زيادي از اين قبيل وجود دارند. بنابراين، بايد اجتهاد شكل تخصصي به خود بگيرد، چرا كه اجتهاد مطلق موضوعي، در شرايط فعلي نزديك به محال است.
4- گذر از حالت روتيني فقه فردي مثل بخش عبادات كه بحث در آن تقريباً به تكامل رسيده است، و تأكيد بر بررسي فقه اولويات يعني فقه زندگي اجتماعي، سياسي و اقتصادي جهت ترسيم متدي متكامل در تمام اين زمينه‌ها.
5- تلاش در جهت بررسي تطبيقي موضوعات [فقهي] بدور از تعصب و تقليد كوركورانه اي كه روحيه‌ي ابداع و نوآوري را به تعطيلي مي‌كشاند و با حركت به سوي چشم‌اندازهاي گسترده و همه‌جانبه، چرا كه پژوهش‌هاي اسلامي مبتني بر يك مذهب معين و ناديده گرفتن مذاهب ديگر ما را از نتايج عقلي، اجتهادات و نوآوري‌هاي مجتهدين در عرصه‌هاي مهم زندگي محروم مي‌گرداند.
6- بررسي موضوعي وضعيت موجود و تلاش جهت تفكيك مسائل علمي و متدهايي كه مي‌توان آن‌ها را به مصلحت اسلام به كار گرفت از مسائلي كه داراي ريشه‌هاي تمدني مخالف اسلام مي‌باشند.
7- تأكيد بر متد عقلي و تجربي و پذيرش نقد در برنامه و روش، و دوري از توجيه غيبي مواضع و روش‌هاي نادرستي كه ارتباطي با غيب ندارند. و اين بدان خاطر است كه غيب در اذهان مردم از قداست برخوردار است و از طريق ايجاد اميدواري، ارتقاي زندگي انساني و مرتبط ساختن آن با روز قيامت و تعميق رضايت از قضا و قدرالهي در درون انسان، در مداواي بسياري از مشكلات رواني فرد و جامعه تأثير بسزايي دارد. پس غيب منبع قدرت انسان در پيمودن درست مسير پر پيچ‌وخم زندگي به شمار مي‌رود.
آنچه ما منكر آن هستيم دور كردن انسان از سنت‌هاي اجتماعي كه خداوند آن‌ها را ترسيم نموده، و نينديشيدن در مورد آن‌هاست كه با آنچه خدا براي روند زندگي انسان در نظر گرفته مخالفت دارد.
با اين وصف، شناخت سنت‌ها و قوانين الهي ما را از موضع‌گيري‌هاي نادرست زيادي در پيمودن مسير زندگي، وا مي‌دارد و با استفاده از تجارت موفقيت‌آميز و منسجم با سنت‌هاي الهي، راه رسيدن به آرمان‌‌ها براي ما كوتاه مي‌شود.
8- بررسي مثبت‌گرايانه و هوشيارانه تاريخ تا سنت‌هاي زندگي را از آن استخراج نموده، و آن را ميداني براي بررسي طرح‌هاي اسلامي و عوامل موفقيت و شكست آن‌ها قرار دهيم و از نقاط منفي و عوامل شكست، در برخي از برنامه ‌ها و نقشه‌هاي مسلمانان در اين مسير دوري جوييم.

بيماري‌هاي بيداري اسلامي

امراض و گرفتاري‌هايي كه مانع سرزندگي و نشاط بيداري اسلامي بوده، و لازم است كه كارگزاران (امور) از آثار منفي آن دوري جسته و بپرهيز اند، عبارت اند از:

1- اختلاف:

مرضي است كه به درازاي سير زندگي انسان بر روي زمين وجود داشته و ناشي از فهم نادرست، خودخواهي، پيروي از هواي نفس، سطحي‌نگري و يا عدم تفكيك امور مهم و مهم‌تر از يكديگر و… مي‌باشد.
پديده‌ي اختلاف در اين دوران به اوج خود رسيده است تا جايي كه اختلافات فكري به درگيري‌هاي خونيني تبديل شده كه پيكره‌ي امت را از هم متلاشي نمود و مسلمانان را به تكفير همديگر وا داشته است.
همه‌ي اين اختلافات در چارچوب مسائل جزئي و سطحي روي مي‌دهد حال آنكه مسائل حياتي مرتبط با سرنوشت و آينده‌ي امت اسلامي به حاشيه رانده شده‌اند.
به ديگر سخن، تعدد مكاتب و مذاهب فكري كه بايد وسيله‌يي براي پيشرفت فكر انساني، نوآوري در دنياي انديشه، كار كردن در زمينه‌هاي مشترك، و پذيرش عذر ديگران در مسائل اختلافي و منحصر كردن اختلاف در زمينه‌هاي مشخصي باشد همان‌طور كه قرآن بدان تصريح كرده است:
«قل يا أهل الكتاب تعالوا إلي كلمة سواء بيننا و بينكم أن لا نعبد إلا الله»(3) «بگو: اي اهل كتاب! بياييد به سوي سخن دادگرانه‌اي كه ميان ما و شما مشترك است، كه جز خداي يگانه را نپرستيم».
با اين وجود، اين مكاتب و مذاهب فكري وسيله‌اي براي اختلاف و فتنه‌انگيزي در محافل اسلامي و حتي در اساليب و روش‌هاي كاري گرديده است. هنوز هم امت اسلامي، عليرغم شعارها و فريادهايي كه مصلحان از قرن‌ها پيش براي وحدت سر داده‌اند، ناتوان است از اينكه اختلاف بين مذاهب اسلامي و مكاتب فكري را كاهش دهد.
همه‌ي اين‌ها از جهل و ناداني، پيروي از هواي نفس، عدم اخلاص و نبود فرهنگ برخورد با اختلاف و به ويژه سياست فتنه‌انگيزي دشمنان اسلام، نشأت گرفته است. ما خواهان بستن باب اختلاف نيستيم، چرا كه اختلاف از لوازم طبيعت بشري انسان است بلكه مي‌خواهيم بدانيم چگونه با اختلاف آراء برخورد كرده و نتايجي به سود امت اسلامي از آن بدست آوريم.

2- غرور و خودخواهي:

و اين گذرگاه شيطان به درون انسان است كه كارهاي وي را برايش آراسته و كار ديگران را در نگاه او ناچيز جلوه مي‌دهد. در نتيجه به يك نوع خودپسندي مي‌رسد تا جايي كه ديگر هيچ نقد و نصيحتي را از ديگران نمي‌پذيرد و با توجيه عملكرد خود از نقد و مواظبت بر نفس خود خودداري مي‌كند.
غرور، مسأله‌اي است كه گاهي افراد، جماعت‌ها و گروه‌ها بدان مبتلا گشته و موجب انزواي آن‌ها و بي‌توجهي به ديگران مي‌شود. و در نتيجه پذيراي هيچ‌گونه انتقادي نخواهند بود، چرا كه نقد را متوجه انديشه، ارزش‌ها و اصول خود مي‌داند.
موضوعيت قضيه مي‌طلبد كه انسان مسلماني كه خواستار اصلاح است و نيز جماعت‌ها و گروه‌هايي كه مي‌خواهند در مسير تكامل عملي و ميداني روند خدمت‌رساني به اسلام گام بردارند، زندگي را عرصه‌ي كسب تجارب قلمداد كنند تا از تجربه‌ها و اشتباهات و آموخته‌هاي ديگران استفاده نمايند. گروه‌ها بايد در تعامل با افراد خود صريح بوده و به‌طور واضح پيروزي‌ها و شكست‌هايشان را بدان‌ها اعلان كنند و به منظور علاج شكست‌ها و برطرف نمودن آن‌ها توسط گروه و اعضاي آن، عوامل شكست را تشريح نمايند. و اين كار با شروط زير شدني است:
1- هوشياري گروه و نااميد نشدن آن به سبب صراحت‌گويي؛
2 - افراد، خود، مسئوليت علاج را برعهده بگيرند و مسئوليت را به گردن ديگران نيندازند و تنها به صورت منتقد باقي نمانند. چون ماندن در سطح زندگي منتقدانه نوعي بيماري و توجيهي براي بازماندگان از كار و تلاش مي‌باشد. به اين ترتيب، پيروان گروه موضوعيت قضيه را درك كرده و شخصيت آن‌ها براساس اين تفكر و به دور از مغالطه و اصرار بر خطا شكل مي‌گيرد. و اين از بارزترين نمادهاي جامعه‌يي اسلامي است كه به دور از نخوت و غرور و براي خدا زندگي مي‌كند. نخوت و غروري كه از خطرناك‌ترين بيماري‌هاي اخلاقي فرا روي دعوت‌گران اسلامي به حساب مي‌آيند. تشكل اسلامي كه از مواجه با اشتباهات خود واصلاح آن‌ها سرباز مي‌زند با خطر ركود و انزوا از امت اسلامي و رضايت دادن به آنچه كه در اختيار دارد، دچار مي‌شود، در نتيجه از نوآوري و توسعه باز مانده و در جا مي‌زند و بدنبال آن اعضايش ريزش كرده و دشمنان بر آن چيره مي‌شوند. برخي تلاش كرده‌اند تا با فهمي نادرست اين شكست و درجازني را بنام قضا و قدر، محنت و راه پر مخاطره و دشوار پيامبران توجيه كنند. چرا كه قضا و قدر مستلزم تسليم در برابر شرايط و شانه خالي كردن از مسئوليت نبوده و محنت نتيجه‌ي طبيعي تلاش و جهاد مؤمنان برضد ظلم و فساد است نه رضايت دادن به ستم موجود و وضعيت منفي كارگزاران و عدم بررسي اشتباهات و استفاده نكردن از تجارب ديگران، و عدم شناخت شرايط موضوعي محيط كار و كارگزاران و حتي عدم برداشت درست از سنت‌ها و اسباب طبيعي كار.

3- سطحي نگري:

فهم سطحي و كوركورانه ي بسياري از مسلمانان امروزي از اسلام، و عكس‌العمل‌هاي هيجاني و ارتجالي كه مسلمانان در قبال وضعيت أسف‌بار و تحت فشار بسياري از ملت‌هاي مسلمان در فلسطين، قدس، چچن، فيليپين، كشمير وافغانستان گرفته تا عراق و… يكي ديگر از بيماري‌هاي بيداري اسلامي است. اگر چه نوع مقاومت و عمليات شهادت‌طلبانه عامل مهمي براي حفظ آبرو و بقاي بيداري اسلامي و برانگيختن روحيه‌ي جهاد در آنها و پيدايش نداي بازگشت به اسلام است، لكن بدون برنامه‌ريزي عميق و انجام بررسي‌هاي متناسب با دستاوردهاي روز و نيازمندي‌هاي دنياي واقع، براي ايجاد پروسه‌ي تغيير و رهايي از جمود فكري و اجتماعي فراگير، كافي نيست.
مشكل ما اين است كه از نياز شديد خود به اين مطالعات و هر چند بررسي‌هاي مدرن آگاهي نداريم و متكي به اصول و ثوابتي هستيم كه آن‌ها را در اختيار داريم، ولي نمي‌توانيم آن‌ها را در ظروف و شرايطي كه جامعه‌ي اسلامي امروزه در آن به سر مي‌برد جامه‌ي عمل بپوشانيم.
قرآن، سنت نبوي و ديگر منابع قانون گذاري اسلامي خطوطي كلي فراروي ما قرار مي‌دهند كه مي‌توان به وسيله آن‌ها برنامه‌ اي را ترسيم نمود كه موتور جامعه‌ي اسلامي‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ را در پرتو اسلام و مطابق با نيازهاي نوين و پيشرفته‌ي جامعه‌ي امروزي به حركت در آورد. لازمه‌ي اين امر فهم عميق و درك صحيح اين نيازها و استقبال از آنها با آغوش باز مي‌باشد. و اين چيزي است كه امروز بدان نيازمند هستيم. ما امروز، نيازمند يك برنامه‌ي اخلاقي هستيم كه با زباني قابل فهم براي همه، حركت فرد و جامعه‌ي امروزين را پوشش دهد. بايد مفاهيم خويش را در قالبي متناسب با ذهنيت مسلمان امروزي ارائه دهيم. و تمام تلاش خود را به خرج دهيم تا انديشه‌ي اسلامي و كتاب‌هاي عقيدتي را از بدعت‌ها، كجروي و غلو پاكسازي كنيم. و بر پژوهشگران عقيدتي و فقهي است كه بدانند كه بايد با برنامه‌يي جديد و زباني متناسب با ذهنيت انسان معاصر و چالش‌هاي فرا روي آن به ارزيابي مسائل فكري بپردازند.
اين برنامه‌ي پيشرفته‌ي نوين بايد در چارچوب قانونگذاري اسلامي تدوين شود و بايد مفاهيم و موضوعات متنوعي كه نسل امروزي جامعه‌ي اسلامي در جوانب مختلف زندگي ديني، فرهنگي، اقتصادي، اجتماعي و سياسي به آن‌ها نياز دارد، همراه با احكام شرعي آن‌ها كه نمايانگر ديدگاه و قوانين اسلامي است و مي‌توانند جامعه را اداره و تمام نيازهاي قانون‌گذاري آنرا بخوبي پوشش دهند، مشخص گردند.
از نشانه‌هاي سطحي‌نگري اين است كه اموري كه در هرم اولويات فعاليت اصلاح اجتماعي و فكري قرار دارند مشخص نگردند و به امور بي‌اهميت و حاشيه‌يي كه فرصت‌هاي زيادي را در راه رسيدن به اهداف و حاكم كردن اسلام از ما مي‌گيرند، بپردازيم.

4- ارتجالي و بي‌برنامه بودن:

مقصود از آن نداشتن برنامه‌ريزي و عدم بررسي مسائل، حوادث و موضع‌گيري‌ها و برخورد واكنشي و عاطفي، نه برخورد معتدل و برنامه‌ريزي شده با آن‌ها است، چون اقدامات ارتجالي و هيجاني در هدر دادن تلاش‌ها، نيروها و فرصت‌ها و نيز ضايع كردن عمر و مال و بدنبال آن نابودي امت اسلامي تأثير بسزايي دارند. و همه‌ي اين آفات، ناشي از موضع‌گيري‌هاي خام و خودسرانه است. ارتجالي بودن، آفت بزرگي است كه ريشه‌ي آن جهل، عقب‌ماندگي، عدم تعقل و نبود حكمت و دورانديشي در امور مي‌باشد.
دشمن با انجام تحقيقات و ارائه‌ي راه‌كارهاي علمي و تدوين نقشه‌ها در صدد مبارزه با اسلام و مسلمانان است. پس ما نيز بايد با تحقيقات و شگردهاي مبتني بر برنامه‌ريزي عقلي، عملي و موضوعي به مقابله با توطئه‌هاي آنان بپردازيم.
«أدع إلي سبيل ربّك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي أحسن»(4)
«مردم را با حكمت و موعظه‌ي نيكو به راه پروردگارت بخوان و با آنچه بهتر است با آن‌ها مجادله كن.»

راه‌هاي معالجه

اولاً: خروج از اين بحران بزرگي كه امت اسلامي در آن بسر مي‌برد، جز با اعاده‌ي عقل به حوزه‌ي پژوهش و تحقيق و استنتاج افكار و ديدگاه‌هاي عملي درست و متناسب با نيازهاي فرآيند اصلاحي، پيشبردي و مدرنيته‌ي امروزي و بدور از تقليد كوركورانه و پيروي از افكار ديگران و بدون دقت‌نظر و پالايش عملي آنها امكان‌پذير نيست. بنابراين، براي انجام پژوهش‌هاي علمي و مطالعات نوين اسلامي نيازمند ايجاد مؤسسات و بكارگيري تكنولوژي مدرن در خدمت دعوت اسلامي، هستيم.
مسلمانان ثروتمند و داراي توان مالي مي‌توانند با مشاركت و حمايت از اين پروژه‌هاي سازنده، به اسلام، دعوت اسلامي، محافظت بر آينده‌ي امت اسلامي، تلاش علما جهت تبلور انديشه‌ي اسلامي و تربيت نخبگان علمي خدمت كنند تا از اين راه به بهره‌ي دنيا و آخرت دست يابند و آينده‌ي تمدني شكوفايي را براي جامعه‌ي خودتضمين كنند.
ثانياً: بر علماي اسلام، دعوت‌گران و مصلحان روشنفكر است كه با طرح موضوعات مفيد و بررسي مسائل مربوط به انسان مسلمان امروزي با ساختاري نو و جذاب و روشي تشويق‌كننده نه ترساننده و متناسب با وضعيت متحول اجتماعي، مسئوليت خود را ادا كنند.
ثالثاً: مسئوليت گروه‌ها و مذاهب اسلامي اقتضا مي‌كند كه با هم متحد و يكپارچه شوند و بر آن‌هاست كه مطابق با وضعيت موجود امت اسلامي و با روحيه‌ي تفاهم فكري و گفتگوي موضوعي زندگي مسالمت‌آميز با هم داشته باشند. همچنين بايد روش‌هاي جذاب و گيراي مبتني بر فهم عميق اسلامي بكار گيرند و همواره در راستاي به روز كردن اين متدها، تعميق افكار، تربيت نسل نوين اسلامي و نجات دادن مسلمانان از چنگال تفرقه، جهل و فساد تلاش كنند.
فِرَق اسلامي بايد با در نظر گرفتن آرمان‌هاي بزرگ، آمادگي براي تفاهم، گفتگو با ديگران و هماهنگي با يكديگر، بطور جدي، از تفرقه و جدايي دوري جويند. و با اين كار مي‌توانند يك استراتژي پيشرفته را ترسيم كنند كه با تقسيم وظايف در آن، زمينه‌ي وحدت امت اسلامي، شكوفايي و حفظ آن از تفرقه و نابودي، فراهم مي‌گردد.
دشمن در تلاش است كه تمام فرصت‌ها را جهت نابودي جامعه‌ي اسلامي بكارگيرد. گاهي از اختلافات ما سود مي‌جويد و تاريخ اين كار را براي ما ثابت كرده است، چرا كه استكبار درصدد بوده با بهره‌برداري از اختلافات مذهبي و سياسي بين گروه‌هاي اسلامي، مسلمانان را از هم جدا كرده و آن‌ها را به جوامعي كوچكتر تبديل كند تا به آساني بتواند ايشان را شكار كرده و بر آن‌ها چيره شود.
مسئوليت ما در مواظبت از وحدت امت اسلامي از طريق ايجاد وحدت فكري و تفاهم بين كارگزاران و حفظ اهداف با روش‌هاي متناسب با روز، خلاصه مي‌شود. و با اين كار، از آينده‌ي امت اسلامي پاسداري مي‌كنيم. در غير اين‌صورت نمي‌توان انتظار خير و نيكي كشيد و همه بايد مسئوليت نابودي، هدر رفتن تلاش‌ها و توان‌مندي‌ها و سودجويي دشمن از ضعف و تفرقه‌ي ما را برعهده بگيرند.
بنابراين، جا دارد كه مسئوليت خطير علما، انديشمندان، دعوت‌گران و اصلاح‌گران در قبال ايفاي بجا و مقتدرانه، نقشي كه از آن‌ها انتظار مي‌رود، يادآور شويم، تا امت اسلامي را از وضعيت تلخ موجود نجات دهند و در مقابل چالشهاي خطرناكي كه فراروي آن قرار دارد، از آن محافظت نمايند.

پی نوشت:

(1) اين كتاب توسط رهبر انقلاب اسلامی ایران، آية الله سيدعلي خامنه‌اي تحت عنوان «آينده در قلمرو اسلام» به فارسي ترجمه شده و بارها به چاپ رسيده است.(مترجم)
(2) الرعد: 11.
(3) آل‌عمران: 64.
(4) النحل: 125.

منبع: http://www.rohama.org


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

تكاپو براي بيداري و وحدت اسلامي


انقلاب شکوهمند مردم ایران در فبروری سال 1979 با اهداف و شعارهای اسلامی به پیروزی رسید . این انقلاب ابعاد مختلف زندگی مردم ایران را تحت تأثير قرار داد و متحول ساخت . اما از آرمانهاي فراگير آن مشخص بود که دستاوردهاي انقلاب ، از سرحدات ايران فراتر خواهد رفت و بر مردم جهان به ویژه مسلمانان تأثير خواهد گذاشت . بازگشت به خویشتن ، اسلام خواهی و اتحاد ، ازجمله دستاوردها و آرمانهاي مهم انقلاب اسلامی ایران برای امت اسلامی بود. کشور ایران به لحاظ تمدن کهن ، وسعت و جمعیت فراوان ، غنای فرهنگی و پیشرو بودن در تحولات سیاسی و اجتماعی ، همواره کشوری تاثیرگذار در محيط پيرامون خود و منطقه خاورميانه بوده است . به همین دليل انقلاب مشروطیت در سال 1906 و نهضت ملی شدن صنعت نفت ایران در سال 1951 ، تاثیرات قابل توجهی بر دیگر کشورهای منطقه گذاشت . پيروزي انقلاب اسلامی در سال 1979 نيز حادثه اي بود كه باتوجه به گستره شعارها و پیامهای فراملي آن ، به نحو قابل توجهی کشورهای منطقه و جهان اسلام را تحت تاثير قرار داد . برخی از این تاثیرات ، کوتاه مدت و برخی بلند مدت بوده اند . بی شک دعوت انقلاب ایران به اسلام و احیای فرهنگ و تمدن اسلامی ، مهمترین پیام انقلاب اسلامي برای مسلمانان بوده است .
قبل از پيروزي انقلاب اسلامي ، در كشورهاي اسلامي نيز همسو با جهان غرب ، کوشش می شد تا مظاهر بی دینی و فساد تبلیغ شود . به همین دلیل ، فساد و غرب زدگی در اين كشورها رو به گسترش بود . در كشورهاي اسلامي اگر هم از اسلام سخني گفته می شد ، غالباً احکام فردی و شخصي دين ، مورد نظر بود . اما انقلاب بزرگ ایران ، مسلمانان را به سوی اسلام راستين فرا خواند كه در تمام شئون فردی و اجتماعی زندگی تاثیرگذار است . اگرچه قبل از انقلاب اسلامي نیز برخی شخصیتهای دینی ، مردم را به بازگشت به دین دعوت می کردند و روند بیداری اسلامی آغاز شده بود ، اما انقلاب اسلامی ایران ، موجی سرشار از انرژي بود كه خيزش اسلامي و حركت آگاهانه را درميان مسلمانان برانگيخت . موجی که با گذشت زمان ، عظیم تر مي شود و جمع بیشتری از مردم را فرا می گیرد .
آیت الله خامنه ای رهبر معظم انقلاب در این زمینه می فرماید : « انقلاب اسلامی در حقیقت دو کار بزرگ را انجام داده است : یکی تشکیل نظام اسلامی و دیگری زنده کردن هویت اسلامی در دنیا است . » این انقلاب برای تحقق بیداری اسلامی در جهان ، چند اقدام مهم انجام داده است .
توجه دادن امت اسلامي به عنصر آگاهی و ضرورت توجه به سرنوشت خود و جهان پيراموني ، از گامهاي نخست در روند بیداری اسلامی است . در طول سه دهه گذشته ، انقلاب کوشیده است غنا و جامعیت اسلام را به مسلمانان نشان دهد و ثابت کند که اين دین متعالي از هر مکتب دیگر شرقي يا غربی ، برتر و پویاتر است . در اثر رشد بيداري اسلامي ، امروزه اسلام با جمعیت عظیم پیرو آن ، به مهمترین رقیب لیبرالیزم غربی تبدیل شده است و مسلمانان خلاف گذشته ، به دین و هویت دینی خود افتخار و از آن صيانت می کنند .
بعد دیگر آگاهی بخشی به امت اسلامی ، شناخت دشمنان واقعی اين امت است. انقلاب اسلامی ایران و رهبران آن از ابتدا تاکید کردند که امروزه دولتهای غربی بویژه امریکا ، دشمن اصلی مسلمانان هستند و مي خواهند آنها را تحقير و منابعشان را چپاول كنند . با گسترش دامنه بيداري اسلامي، اکنون غالب مسلمانان ، امريكا و صهيونيزم را دشمن مشترک امت اسلامي مي دانند. نظرسنجیهای متعدد در کشورهای اسلامی نشان داده است که مسلمانان از دولت امریکا به شدت متنفر و با سیاستهای سلطه جویانه و ظالمانه قصر سفيد مخالف هستند . اما واقعيت اين است كه آگاهی از وضع موجود بدون تلاش برای تغییر آن ، كافي نيست . در همین راستا ، مردم انقلابی ایران به مسلمانان جهان نشان دادند که حتی با دست خالی ، می توان اوضاع نابسامان و مفسده انگیز را به وضعیت مطلوب تغییر داد .
انقلاب اسلامی ایران ، نيروي اعتماد به نفس و استقامت يك ملت را در مبارزه با ظلم و تعدی به نمايش گذاشت . مردم ایران نه تنها رژيم شاه مستبد و بی رحم را سرنگون کردند ، بلکه دست غارتگر امریکا را نیز از ايران كوتاه كردند و حکومتی مستقل ، آزاد و اسلامی را با نتخاب خود ، برپا داشتند . تاثیر این حرکت دليرانه مردم ایران را می توان در فلسطین ، لبنان ، عراق ، افغانستان و برخی دیگر از کشورهای اسلامی و حتی غیر اسلامی مشاهده کرد . امام خمینی (ره) بنیانگذار جمهوری اسلامی ایران در این زمینه می فرماید : « ما در ایران به پا خاستیم که به امید خداوند متعال ، مسلمانان جهان را در زیر بیرق توحید و متعهد به احکام مترقی اسلام جمع کنیم ، دست ابرقدرتها را از ممالک اسلامی کوتاه نماییم و مجد مسلمین صدر اسلام را باز گردانیم . سلطه ظالمانه کفار را از بلاد مسلمانان برچينيم و آزادی و استقلال را به مسلمین باز گردانیم . »
طرح اسلام اصیل و راستین ، از راهبردهاي اصلي انقلاب اسلامی است . متاسفانه برخی از علماي جهان اسلام ، برداشت همه جانبه و روشن بينانه اي از فرهنگ و ارزشهاي اسلام ندارند . آنها دين را از حوزه سياست جدا مي دانند و اسلام را به گونه ای متحجرانه ، راكد و يك بعدي معرفی می کنند . دولتهای غربی نیز براي تخريب چهره اسلام ، از روي عمد ، چنین برداشتی از اسلام را تبلیغ می كنند . اما انقلاب اسلامی ایران به رهبری امام خمینی (ره) از همان ابتدا اعلام کرد که اسلام ، دین سیاست و اجتماع است و مسلمانان باید فعالانه در مسایل سیاسی و اجتماعی كشورشان شرکت کنند . این واقعیت با استقرار جمهوری اسلامی در ایران ثابت شد و نظامی مبتنی بر ارزشها و تعالیم اسلام ، بوجود آمد . موج پرقدرت اسلامگرایی در جهان و شكل گيري احزاب و گروههای متعدد اسلامگرا در کشورهایی چون لبنان ، ترکیه ، عراق و الجزایر و همچنين در سرزمين فلسطين ، حاکی از ظهور و گسترش چشمگير پدیده بیداری اسلامی در جهان اسلام است .
تحقق بیداری اسلامی در میان مسلمانان ، قطعاً بسیار ارزشمند است ، اما این پدیده هنگامی مؤثر و كارآمد خواهد بود که با اتحاد و انسجام امت اسلام همراه باشد . چرا که دشمنان امت اسلامی تاکنون با سوء استفاده از تفرقه موجود در اين امت ، آسيبهاي فراواني را بر پيكره جهان اسلام وارد ساخته اند . دولتهای غربی با بهره گیری از تفرقه و تشتت درميان مسلمانان ، همچنان درصدد تداوم سياستهاي استعماري خود و اشغال كشورها و غارت منابع آنها هستند . آنچه امروز در فلسطین ، عراق ، افغانستان و برخي نقاط ديگر می گذرد ، در همین رابطه قابل تفسير است . به همین دلیل امام خمینی (ره) مسلمانان را به وحدت و برادری و کمک به یکدیگر فرا مي خواند . ایشان بویژه از مهمترین دستاوردهای این انقلاب را برقراري پیوند و ارتباط هرچه مستحكمتر ميان شیعه و سنی و تشکل آنها به عنوان یک نیروی منسجم و قدرتمند دربرابر دیگر قدرتها می دانست .
البته ندای وحدت طلبي انقلاب اسلامی علاوه بر امریکا و دیگر دولتهای غربی، مخالفین دیگری نیز دارد . برخی از حاکمان مستبد کشورهای اسلامي ، اتحاد و همدلی امت اسلام را به نفع خود و حکومتشان نمی دانند . همچنین تعدادی از عالمان جاهل و کج انديش و احتمالاً سرسپرده ، به جای مقابله با دشمنان مشترک مسلمانان ، مردم را به مخالفت با دیگر برادران دینی خود ، تشویق و حتی فتوای قتل دیگر مسلمانان را صادر می کنند . فجایعی که امروزه در برخي كشورهاي اسلامي رخ می دهد ، حاصل همین تفکر متعصبانه و تفرقه افکنانه است . با وجود این به موازات رشد آگاهی و بیداری اسلامی ، مسلمانان از زیانهای تفرقه آگاه شده و لزوم وحدت را بيش از پيش دریافته اند . دستاوردهاي مبارک این همبستگی و برادری را علاوه بر ایران در برخی کشورهای اسلامی دیگر نيز می توان مشاهده كرد . البته همانطور که آیت ا... خامنه ای می فرماید : « دشمنان جهانی اسلام از وحدت اسلامی و آشنایی ملتهای مسلمان با یکدیگر ، دچار وحشت شده اند . » به همین دلیل ، استکبار جهانی به سرکردگی امریکا ، همزمان با افزایش اسلام گرایی و اتحاد مسلمانان ، اقدامات خصمانه سیاسی ، اقتصادی و تبلیغی خود علیه آنان را شدت می بخشد و از طرف دیگر ، تمامی توان خود را برای مهار چشمه جوشان بیداری و اتحاد اسلامی یعنی انقلاب ایران ، بکار مي گيرد .
منبع: دستاوردهای انقلاب


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

چند پيش بيني محتمل درمورد آينده بيداري اسلامي

نویسنده : احمدرضا هدایت
تحولات رخ داده در این سال ها و بخصوص ماه های اخیر، چنان سریع و درعین حال شگرف می نمود که به یکباره نظر انبوهی از تحلیلگران سیاسی و غیرسیاسی را به سوی خود جلب و تحلیل های متفاوتی را از تغییرات مذکور ارائه کرد. درحالی که گروهی رخدادهای موردنظر را ناگهانی و غیرمنتظره تلقی می کردند، متقابلا گروهی دیگر، این تحولات را نتیجه بدیهی بی عدالتی و رفتار غیرانسانی کشورهای سلطه گر و رژیم های دیکتاتوری در جهان می دانستند و اگرچه بعضا قادر نبودند که زمان رخداد، گستره جغرافیایی و میزان تغییرات را به طور دقیق پیش بینی کنند، اما تردیدی در وقوع و بروز آن نداشتند.
اما با فراگیرشدن تدریجی بیداری اسلامی و انقلاب های رخ داده درسطح جهان، اینک این سؤال ها مطرح است که؛ آیا به راستی می توان حد مرز و پایانی قطعی برای این تحولات متصورشد؟ آیا نظام استکباری می تواند بار دیگر امواج خروشان این دریای متلاطم را کنترل و بر آن مدیریت کند؟ آیا دامنه این تحولات محدود به همین اندازه بوده و دیگران می توانند نتایج آن را تغییر داده و به نفع خود مصادره کنند؟
حال این سؤال مطرح خواهدشد که مهم ترین تحولات آینده جهان معاصر کدامند؟

نابودی رژیم اشغالگر قدس

دراین میان شاید بتوان از احتمال تغییرات اساسی در ساختار و ماهیت وجودی رژیم صهیونیستی به عنوان یکی از بزرگ ترین این تحولات نام برد، تحولاتی که تداوم حیات این رژیم جعلی را به چالش کشیده و به یاری خدا روند نابودی آن را تسریع خواهدکرد.

شواهد و قرائن حکایت از آن دارد که علاوه بر هزاران تهدید و مشکل قبلی مطرح برای رژیم خودساخته اسراییل، اینک بحران هویت، آشکارا و به طور جدی تداوم حیات این رژیم برای تحقق سرزمین یهودی از نیل تا فرات را ممکن ساخته است، رژیمی که با توسل به هزاران ترفند، تمام تلاش خود را به کار برد تا با جذب و کوچاندن معدود صهیونیست های متعصب و پراکنده در سطح جهان، کشوری مجعول را بنا کند، هم اکنون چنان از اصول اعتقادی دین یهود فاصله گرفته و در بحران بی هویتی ناشی از بی دینی و تنوع قومیت ها و نژادهای متفاوت گرفتارشده که خود به معضلی جدی و جدید در داخل تبدیل شده است.
اینک شواهد نشان می دهد که پس از سالها حضور تجاوزکارانه این رژیم در سرزمین فلسطین، اصول و مبانی شیطانی این فرقه ضاله نتوانسته است بر گرایش های قومیتی و سرزمینی افراد حاضر در آن که از اقصی نقاط دنیا گردهم آمده اند غلبه کند. به رغم شعارهای فریبکارانه، تبعیض نژادی و ایجاد طبقات برتر در واگذاری مناصب دولتی و توزیع تسهیلات و امکانات و همچنین اختلاف نظرهای شدید سیاسیون و حاکمان این رژیم، براین اوضاع آشفته دامن زده و برنامه های تدوین شده حول محور مبانی فرقه ای و حزبی که برای مسخ افکار و تربیت انسان هایی کاملا مطیع و گوش به فرمان اجرا شده نیز نتوانسته است از سهم خواهی طیف های مختلف ممانعت به عمل آورد.
از سوی دیگر همزمان با مشکلات اقتصادی و اجتماعی فراوان داخلی، انعکاس ابعاد مختلف رفتارهای خشونت بار صهیونیست ها برعلیه مردم مظلوم و بی دفاع فلسطین از یکسو و نزدیک شدن دامنه امواج نهضت بیداری اسلامی به نقاط مرزی این کشور جعلی، از سوی دیگر، چنان وحشتی را در دل ساکنین غاصب و فریب خورده آن ایجاد کرده است که نه تنها مهاجرت معکوس را تشدید کرده بلکه حتی مدافعان غربی و شرقی و سازشکاران و حامیان منطقه ای آنها را نیز نگران کرده و باعث شده تا برای در امان ماندن از آثار مخرب این امواج خروشان، تاحدممکن خود را از مواجهه با آن دور کنند و همین مسئله باعث شده تا مظلوم نمایی های رژیم اشغالگرقدس نیز کارایی خود را از دست داده و ماهیت واقعی این رژیم را هر روز بیش از پیش نزد مردم دنیا برملا شود.
مجموعه این عوامل و دهها عامل پنهان و آشکار دیگر کافی است تا به رغم اصلاحات ظاهری که احتمالا به زودی از سوی دولت اسراییل برای همراهی مجدد ساکنین غاصب فلسطین اشغالی و فریب افکار عمومی جهان انجام خواهدشد، حداقل انزوای شدید رژیم صهیونیستی در جریان یک همراهی گسترده درسطح دنیا و با یک اتحاد فراگیر در جهان اسلام (حتی در حد بروز جنگی مانند جنگ شش روزه اعراب و اسراییل)، به یکی از پیش بینی های قریب الوقوع مبدل شود.
طبیعی است که در این فرآیند، بروز هرگونه عمل جنایتکارانه توسط رژیم ضدبشری اسراییل برای برون رفت از این اوضاع آشفته، دور از انتظار نخواهدبود؛ اما بی تردید هر اقدامی برای رهایی از غرق شدن در گردابی خودساخته نتیجه بخش نبوده و تنها، اجماع جهانی برای محکومیت و منزوی ساختن این رژیم موثر واقع خواهدشد.

فراگیری موج بیداری اسلامی
 

اگرچه غرب و بخصوص آمریکا به دنبال از دست دادن سرسپردگی حاکمان دیکتاتوری همچون بن علی، مبارک، علی عبدالله صالح، قذافی و دیگر کسانی که آخرین روزهای حکومت خود را طی می کنند، تمام تلاش خود را برای تجهیز و حفظ رژیم های حکومتی اعراب و بخصوص آل سعود به عنوان آخرین و به ظاهر مطمئن ترین پایگاه موجود خود در منطقه بکار برده اند، اما وجود تبعیض در رفتار و عملکرد چند ده ساله حاکمان این کشورها و جانبداری و همراهی علنی آنان با دولت های فاسد غربی، بویژه دولت های آمریکا و اسرائیل که همواره به عنوان اصلی ترین دشمنان مسلمانان مطرح بوده اند از یک سو و گستردگی فساد در تار و پود نظام حکومتی آنها از سوی دیگر، شرایطی را بوجود آورده که نه تنها تغییر در ساختار سیاسی و اجتماعی این کشورها را اجتناب ناپذیر و قطعی کرده، بلکه تداوم آن می تواند به سرنگونی کامل تمام حکومت های دیکتاتور فعلی منجر گردد.
در این میان شاید دولتمردان عربستان با اتکاء به ثروت های بادآورده و حمایت های مصلحت طلبانه غرب، خود را از بروز چنین حوادثی مصون بدانند، اما در مورد این کشور علاوه بر مشکلات فوق باید به نارضایتی های مردم ناشی از خفقان حاکم بر جامعه شیعیان و حتی سنی های غیر وهابی، آثار سوء دخالت های چندساله حکام در امور دیگر کشورهای منطقه و نقش طولانی وهابیون افراطی برای تسلط بر ارکان حکومتی و تاثیر حضور آنان بر تشدید بحران هایی که به مثابه آتش زیر خاکستر، آماده اشتعال است نیز اشاره کرد.
بنابراین پیامدها و آثار رو به گسترش موج بیداری اسلامی حکایت از آن دارد که در صورت تداوم این وضعیت در کشورهای درگیر، نه تنها تسلیحات و تجهیزاتی که برای حفظ تاج و تخت آنها در اختیارشان قرار گرفته کارساز نخواهد بود بلکه حمایت های سیاسی و مشورتی اروپا و آمریکا نیز، نتیجه ای برای نجات آنها از موج عدالت خواهی و آتش خشم ملت های انقلابی دربرنخواهد داشت و چه بسا همین اقدامات با تاثیرگذاری بر چرخه تحولات بتواند به ابزاری برای سرعت بخشیدن به مبارزه علیه خود آنها و اربابانشان تبدیل و حکومتی مانند آل سعود را با شدت بیشتری سرنگون کند.

تاثیر انقلاب های مردمی
 

با اینکه برای اکثر مردم جوامع غربی تصور وجود نظامی کارآمدتر از نظام های سرمایه داری دور از ذهن به نظر می رسید و اگر چه در حال حاضر موج بیداری محرومین و کسانی که مورد بی عدالتی و تحت ظلم و ستم قرار گرفته اند به برخی از کشورهای خاص محدود می شود، اما قطعا با آشکارشدن دستاوردهای مثبت تحولات جاری در سطح دنیا، دامنه این امواج به سایر نقاط جهان نیز گسترش خواهد یافت و همان گونه که مقام معظم رهبری(دامه) نیز پیش بینی کردند، نه تنها خاورمیانه و آفریقا، بلکه اروپا و نیز از نتایج بیداری و قهر انقلابی ملت های تحت ستم در امان نخواهند بود.
غالباً ارتباط دولت های سلطه گر و سلطه پذیر، محدود به روابط بین حاکمان بوده و از پایگاه و جایگاه مردم بی بهره است؛ به همین دلیل شاید در گذشته دولت های استکباری توانسته باشند در تعاملات سیاسی، اقتصادی و یا نظامی با سایر دولت های سرسپرده، منافع و موقعیت خود را حفظ کنند، اما از آنجا که حضور آنها در نقاط مختلف جهان همواره با جنگ افروزی و حمایت از دولت های غربگرا و دیکتاتور برای چپاول و غارت منابع و امکانات این کشورها و تحمیل و ترویج فرهنگ منحط غربی همراه بوده است، این حضور نمی تواند در دراز مدت با ثبات و پایدار باشد.
این عملکرد وضعیتی را ایجاد کرده که علاوه بر مردم کشورهای مستضعف و محروم اقصی نقاط دنیا، مردم کشورهای غربی و اروپایی نیز با تأسی از فریاد عدالت طلبی مردم سایر کشورها، از ظلم و ستمی که سال ها از سوی حاکمان بر آنها روا داشته شده ، به خشم آمده و نابودی و تغییر حکومت های خود را فریاد بزنند.
به این ترتیب، احتمال فراگیر شدن بیداری عموم ملت های تحت ستم در مخالفت با استثمار و استکبار و نظام سست و در عین حال پرزرق و برق و فریبکارانه سرمایه داری در سراسر دنیا و تبدیل این حرکت مردمی و خودجوش به یک نهضت جهانی و عمومی، سخن گزافی نخواهد بود، اگرچه در مورد کشورهایی که فاقد شرایط لازم از جمله وحدت رهبری در انقلاب باشند، احتمال تداوم حرکت های قهر آمیز در قالب جنگ های داخلی نیز وجود دارد.

منزوی شدن دنیای غرب
 

معرفی اکثر کشورهای اروپایی و بویژه آمریکا به عنوان مقروض ترین کشورهای دنیا، سقوط ارزش دلار در برابر سایر ارزهای رایج، سقوط ارزش سهام شرکت ها و کاهش معاملات بازار بورس در کشورهای غربی، ورشکستگی ده ها بانک و تعطیلی صدها کمپانی اروپایی و آمریکایی، افزایش هزینه ها و کاهش شدید نقدینگی آمریکا و غرب، افزایش نرخ بیکاری در این کشورها و... شواهدی هستند که به روایت تحلیلگران بین المللی، امکان فروپاشی قریب الوقوع نظام سرمایه داری را در آینده ای نه چندان دور محتمل ساخته است.
صرف نظر از اطلاعات و آمار مورد اشاره، تسلط بی چون و چرای صهیونیست ها بر ارکان نظام حکومتی غرب و بخصوص آمریکا و کارکردهای اقلیت نگرانه و ظالمانه نظام سرمایه داری که منجر به پیدایش نظام برده داری نوین و ایجاد یک طبقه محدود فوق العاده متمول و ثروتمند و متقابلا اکثریتی برخوردار از درآمد و امکاناتی محدود و نسبی و بعضاً درحد فقر در این کشورها گردید، باعث شده تا به تدریج نقاط ضعف آن برای مردم این ممالک و سایر جهانیان اثبات و با ایجاد تزلزل در پایه و اساس این نظام، شرایط برای طغیان جوامع غربی و متلاشی شدن غده چرکینی که سال ها راه تنفس ملت های مسخ شده و تحت استثمار این بخش از کره خاکی را سد کرده بود، فراهم شود.
امروزه سؤال مشترک شهروندان آمریکایی و اروپایی این است که؛ با چه منطقی و تا چه زمانی باید هزینه سیاست های جنگ افروزانه سردمداران و حضور غیرقانونی و غیرمنطقی ارتش های خود در نقاط مختلف دنیا را بپردازند؟ چه کسی به آنها اجازه داده تا برای فروش بیشتر تسلیحات و تأمین منافع صاحبان شرکت ها، شهروندان خود را قربانی کنند؟ چرا باید مالیات شهروندان اروپایی صرف برنامه های غیرانسانی رژیم غاصبی شود که حمایت از او، دستاوردی غیر از تصاحب مناصب کلیدی کشورهایشان و استثمار شهروندان درجه دو سه اروپایی و آمریکایی و تحمیل هزینه های سنگین و در نهایت کاهش محبوبیت غرب در نزد افکار عمومی جهان را برای آنها درپی نداشته باشد؟
اگرچه جنبه های مثبت قابل توجهی از زندگی مدرن را نیز می توان در این کشورها ملاحظه کرد، اما اینک مردم کشورهایی که همواره به دروغ سرزمینشان برای دیگران به عنوان الگویی نوین از تمدن و آزادی و مدینه فاضله ای عاری از هرگونه مشکل برای یک زندگی عادلانه و ایده آل معرفی می شد، به ناکارآمدی این نظام در ایجاد یک زندگی انسانی و مطلوب پی برده و به همین دلیل با هر بهانه ای تلاش می کنند تا نارضایتی خود را از انبوه تبعیض ها، نژادپرستی ها و فریب کاری های دولتمردان خود بروز دهند.
به همین دلیل و با گسترش دامنه بیداری مسلمانان و محرومین و مستضعفین جهان که روزبه روز بر شدت آن افزوده می شود، بتدریج امکان حضور غرب در خاورمیانه و سایر کشورهای جهان کاهش و شمارش معکوس برای انزوا و در نهایت فروپاشی نظام سلطه نیز رقم خواهد خورد.

جنگ سرد جدید بین غرب و شرق
 

آمریکائی ها که زمانی به دور از تبعات جنگ های جهانی، تمام تلاش خود را معطوف تسلط تدریجی بر جهان و اعمال نفوذ بر ساختار سیاسی و اجتماعی کشورهای مختلف در جهت کسب منافع نامشروع کرده و بخصوص در چند سال اخیر با اتکاء به ثروت های بادآورده و قدرت بی حد و حصر نظامی، خود را حاکم بلامنازع جهان دانسته و با وقاحت تمام دخالت در تمام امور بین المللی و حتی داخلی کشورها را حق خود می دانستند، اکنون به علت عوارض ناشی از مشکلات متعدد داخلی و خارجی، در وضعیتی قرار گرفته اند که دیگر قادر نیستند، به راحتی و با اتکاء به قدرت اقتصادی یا نظامی، نظرات خود را به رقبای استراتژیک و حتی کشورهایی که قبلاً مستعمره آنها به حساب می آمدند، تحمیل نمایند.
ضعف ساختار حکومتی، آشکار شدن ناکارآمدی نظام سرمایه داری، بروز مشکلات عظیم اقتصادی، تشدید بحران های اجتماعی، جنگ افروزی و آثار نامطلوب حضور آمریکا در نقاط مختلف جهان، از یک طرف و دخالت در امور مختلف کشورها، تحقیر ملت ها و تنزل شدید جایگاه بین المللی آمریکا در میان افکار عمومی جهان، تحریک و حمایت مستقیم و غیرمستقیم از مخالفان زیاده خواهی و تداوم رفتار مستکبرانه دولتمردان آمریکایی برای اعمال نفوذ بر تصمیم های بخش های مختلف سازمان ملل، بیداری ملت ها و دهها دلیل دیگر، از طرف دیگر سبب شده تا این کشور به تدریج موقعیت استراتژیک خود به عنوان یک شریک مطمئن برای حکومت های وابسته را از دست داده و واقعیت امکان تقابل در ابعاد مختلف سیاسی، اقتصادی و حتی نظامی را بیش از پیش برای جهانیان و بخصوص رقبای قدر او فراهم کند.
هم اکنون رقبای شرقی آمریکا و همپیمانان او نیز بخوبی دریافته اند که معدود همراهی های صورت گرفته از سوی آمریکا و غرب در چالش های جهانی، تنها رفتاری کذب برای کسب فرصت های بهتر در جهت سلطه بیشتر بر جهان بوده و این وضعیت سبب شده تا بار دیگر زمینه ها برای احیاء مجدد جنگ سرد که سال ها بر روابط آمریکا و شوروی سابق حاکم بود، فراهم شود. اما آنچه درمورد آینده جهان معاصر قطعی به نظر می رسد این که، دنیا دیگر شاهد جهانی تک قطبی یا دو قطبی نخواهد بود.

منبع : روزنامه کیهان


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

قرآن و بيداري اسلامي

خداوند تبارك و تعالي در آيه 55 سوره مباركه نور حكومت بر جهان را به مستضعفان وعده داده و صالحان و مؤمنان را جانشين و خليفه خود بر زمين معرفي مي‌كند. همچنين، دين آييني استوار، محكم، ريشه‌دار و دين و جهاني ديگر وعده الهي در اين آيه است. برداشتن خوف و ترس از مستضعفان جهان و جايگزين كردن آن با آرامش، ديگر وعده الهي است. البته بايد مسير اصلي مؤمنان، عبادت خالص براي خداوند و تلاش براي ريشه‌كن كردن شرك باشد. اسلام به عنوان آخرين، اكمل و اتم اديان الهي براي كسب سعادت در هردو جهان آمده و در صدر اسلام رسالت پيامبر (ص) و نزول قرآن سرافرازي مسلمانان را فراهم كرده است. به گونه‌اي كه تمامي جهان مجذوب و مقهور اين مكتب شدند و اين دليلي جز نفوذ نورانيت قرآن در قلب‌ها ندارد. آنچنان كه اقبال لاهوري گفته است:

نقش قرآن چون در اين عالم نشست

نقش‌هاي پاپ و كاهن را شكست

فاش گويم آنچه در دل مضمر است

اين كتابي نيست چيزي ديگر است

چون كه در جان رفت جان ديگر شود

جان چو ديگر شد جهان ديگر شود

انديشمندان ديگر اديان نيز به اثرگذاري آيات الهي بر رشد و تعالي زندگي در جهان اسلام تأكيد داشته‌اند. اين مهم در آثار و انديشه متفكران غربي به خوبي ديده شده تا جايي كه گوستاولوبون مي‌گويد: «قابليت فنون در هيچ ملتي كه تازه حركت در مسير ترقي را آغاز كرده‌اند به كمال نمي‌رسد مگر با عبور سه نسل از آن، چراكه نسل اول دوره تقليد، نسل دوم دوره تكوين و نسل سوم دوره استقلال را طي مي‌كنند اما در اين ميان تنها مسلمانان اين سه دوره را توسط نسل اول خود طي كردند و اين تنها به دليل روشنگري‌هاي اسلام و قرآن است». غرب در پيشرفت‌هاي علمي خود جيره‌خوار اسلام و قرآن است البته تنها لوبون فرانسوي اين اعتراف را نكرده بلكه در تاريخ مشاهده مي‌كنيم زماني كه مسيحيت، خرافه و انحرافات فكري را كنار گذاشت و به علوم و دستاوردهاي مسلمين نظر كرد توانست رشد را تجربه كند و اين گواهي است بر اينكه در واقع غرب جيره‌خوار اسلام است. حتي در جنگ‌هاي صليبي مسيحيان با مشاهده دستاوردها و پيشرفت‌هاي مسلمانان به ويژه مداواي مجروحين جنگي متعجب مي‌شدند، از طرف ديگر مسلمان هم از عقب‌ماندگي مسيحيان شگفت‌زده بودند و اين نشان مي‌دهد كه مسلمانان به بركت تمسك به قرآن و سنت رسول الله در آن گام‌هاي بزرگ علمي را برداشته بودند و اين ادعاي ما نيست بلكه اذعان خود غربيان علي‌رغم علاقه به رشد جهان اسلام است. با اين وجود به دليل غفلت مسلمانان از اسلام، قرآن و معارف ناب آن، دوران سرشكستگي و خفتشان آغاز شد كه مهمترين دليل اين غفلت، اعتماد به يهود و نصارا بر خلاف تأكيدات صريح قرآن بر عدم دوستي با اين دو قوم بود و قرآن كريم در مورد زياده‌خواهي‌هاي آنان مي‌فرمايد: اي پيامبر يهود و نصاري هيچ‌گاه از تو راضي نمي‌شوند مگر اينكه از آيين آنها پيروي كني. (بقره آيه 120). قرآن بارها تأكيد كرده است كه با يهود و نصارا دوستي نكنيد چراكه آنها زماني احساس آرامش مي‌كنند كه مسلمانان تحت اختيار كامل آنها باشند. متأسفانه در شرايط كنوني و در ميان كشورهاي اسلامي تنها ايران اسلامي است كه به بركت انقلاب و رهبري‌هاي هوشمندانه و مدبرانه مبتني بر اسلام ناب محمدي، توانسته در برابر جهان استكبار بايستد و ديگر كشورهاي مسلمان متأسفانه ايادي و ابزار انتفاعي آنان‌اند.

ريشه كني حكومت جور

آيات متعددي در قرآن مسلمانان را به صراحت مخاطب قرار داده و آنان را به مبارزه با ظالمان، البته بر مبناي انديشه‌اي خدايي و پاك دعوت مي‌كند. از سوي ديگر آنها را به توكل و صبر در راه خدا و تلاش براي كسب رضايت الهي در مسير نبرد با ظالمان زمان تشويق مي‌كند. اين يعني كه در هر مبارزه‌اي عليه ظالمان بايد تسلط جهاني دين الهي، جانشيني صالحان بر زمين و براندازي حكومت‌هاي ظالمانه هدف اصلي باشد البته دوري از سستي و رخوت هم در كنار الگوگيري از روش قرآن در اين مسير بايد اصلي اساسي باشد: «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَ الَّذِينَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» (آيه 29 سوره مباركه فتح). براين اساس بايد نسبت به كفار و مشركان سخت بر خورد كرده و با يكديگر بر مواضع لطف و مهرباني بود.

سرنوشت حكومتهاي ستمگر

قرآن انظلام يعني پذيرفتن ظلم را نهي كرده و مظلومين مقصر را حتي بعد از مرگ معذب مي‌داند، چرا كه انسان به عنوان خليفه الهي بر زمين نبايد زيربار ظلم و ستم برود و خداوند در قرآن چه زيبا نتيجه چنين مبارزه‌اي را ترسيم كرده وقتي مي‌فرمايد: «اگر خداوند بعضي را به وسيله بعضي ديگر دفع نمي‌كرد زمين از فساد و تباهي انباشته مي‌شد.» از اين رو مي‌توان فهميد كه خداوند اراده كرده است تا ظالمان زمان به دست خود مردم دفع شوند: «إنَّ اللهَ لَايُغَيِّرُ مَا بِقَومِ حَتّي يُغَيِّرُوا ما بِاَنْفُسِهِمْ». البته در اين ميان رضايت الهي و سلطه دين الهي بر زمين با پرهيز از سستي در اين مسير هم بسيار مهم است. روش‌هاي قرآن در اين مسير بايد مدنظر باشد. «وَ قاتِلُوهُمْ حَتّي لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّهِ»0يعني بجنگيد با دشمنان تا فتنه نباشد و از روي زمين برداشته و دين خدا جايگزين شود كه اين هدف بالاتر از سلامت موجودات و رفاه آنان است و آخرين دين ابلاغي از سوي خدا بايد بر همه اديان تفوق پيدا كند و دين و روش غالب باشد و اين وظيفه همگاني است و هدف از اين مبارزات هم اين است. قرآن‌كريم در آيات متعدد بر مجاهده و جنگ با ظالمان به منظور ريشه كن‌ كردن فتنه‌ها و تثبيت حكومت حق تأكيد مي‌كند.

پرهيز از بروز انحراف

جنبش‌هاي آزادي خواهانه جهان اسلام براي حركت در مسير صحيح بايد رهبران ظالم را پيروي نكنند و نبايد پا جاي پاي گذشتگان گذاشت. متأسفانه سابقه اين اتفاقات در جهان اسلام بسيار است يعني در بسياري از موارد به هدر رفت خون شهداي انقلاب‌ها و نهضت‌ها انجاميده است. خداوند در آيه 8 سوره مباركه مائده مي‌فرمايد: «يا اَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُونُو قَوّامِينَ لِلّهَ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَ لَايَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَي اَلَّاتَعْدِلُوا اعْدِلُوا هَوُ اَقْرَبُ لِلتَّقْوي وَ اتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِما تَعْلَمُونَ». خداوند در اين آيه بر عطوفت، عدالت، برادري و حفظ كرامت نساني در جهاد با محور قرار دادن رضاي الهي تأكيد مي‌كند؛ يعني بايد از تجاوز به حقوق ديگران پرهيز شود، بايد رحمت و مهرورزي جايگزين شود تلاش و كوشش و جهاد براي اصلاح و رشد جامعه اولويت داشته باشد، البته در مسير رضاي الهي. در عين حال نبايد به افراد ستمگر، يعني كساني كه اسلام و مسلمين را به خفت و زبوني كشيده‌اند تمايل داشت وگرنه دچار عذاب مي‌شويد. در مراحل بعدي بايد كساني حكومت را بر عهده بگيرند كه آلوده به ظلم و ستم نباشند. البته مسائل مختلفي مثل دوري از قوميت‌گرايي، توجه به تلاش دشمنان داخلي و خارجي براي سركوب و انحراف جنبش‌هاي اسلامي بايد مدنظر باشد چون استكبار به راحتي از ميدان خارج نمي‌شود بلكه نقشه‌هاي بسيار مي‌كشد و وقتي از پس ملت‌ها بر نمي‌آيند نقشه مي‌كشند تا مهره‌هاي دست نشانده خود را در رأس قرار بدهند، كه اگر چنين شود انگار نه انگار كه نهضت و انقلابي آزادي خواهانه رخ داده باشد. استكبار براي تحقق اهداف خود از چهره‌هاي دست نشانده و مقبول در ميان مردم استفاده مي‌كند.

خنثي سازي توطئه‌هاي دشمنان

بايد از به كار گرفتن اسلام ستيزان و ايادي كفر و شرك و استكبار پرهيز كرد و گرنه عذاب الهي اتفاق مي‌افتد. از سوي ديگر بايد با انتخاب رهبري عادل و آگاه فتنه‌هاي خارجي را در كنار گمراهي‌هاي داخلي كنترل كرد چرا كه استكبار خارجي به راحتي و با استفاده از مهره‌هاي دست‌نشانده خود در داخل كشورهاي اسلامي كه عمدتاً از چهره‌اي مقبول نيز برخوردارند براي تحقق اهداف خود استفاده مي‌كند و در بعضي موارد آنچه را مي‌خواهد با پوشش مقبول اسلامي به اسلام و مسلمين تحميل مي‌كند. اين مسأله به خوبي در جريان انقلاب الجزاير پس از بيرون راندن فرانسويان مشهود است يا در انقلاب مصر كه انور سادات و حسني مبارك ياران عبدالناصر رهبر انقلاب مصر بودند كه مهر‌ه هاي آمريكا از آب درآمدند كه زمام امور را در دست گرفتند و اهداف استكبار را به بهترين وجه تأمين نمودند و همان خفت‌هاي گذشته را به جامعه اسلامي تحميل كردند و اينچنين مهره‌هاي استكبار جايگزين چهره‌هاي قبلي مي‌شوند يا به عبارتي «آش همان آش و كاسه همان». با كمي عقب‌تر رفتن و مطالعه تاريخ امويان و عباسيان نيز همين اتفاق مشاهده مي‌شود پس از رحلت پيامبر(ص) در مدتي كوتاه بني اميه در لباس خليفه مسلمين و در باطن با اهداف و رويكردهاي دوران جاهليت روي كار آمدند يعني تجمل‌گرايي، ظلم و ستم و تضييع حقوق مسلمين تجديد شد و دوباره‌ كسري‌ها و قيصرها احيا شدند و اين همان اسلام اموي و به تعبير امام خميني(ره) در زمان ما اسلام آمريكايي است. خوشبختانه مهره‌چيني اسكتبار در انقلاب شكوهمند اسلامي ايران با بهره‌گيري از آموزه‌هاي قرآن و اهل بيت عصمت و طهارت(ع) و زيركي و تدبير امام خميني(ره) شكست خورد و به بار ننشت. اسلام اموي يعني نوكري كردن و تبعيت از دستورات ظالمان زمان. از اين رو مبارزان اسلامي بايد دقت كنند كه مستكبران با نقشه‌هاي خود مسلمين را دور نزده و همان روش‌هاي قبلي را پياده نكنند. در اين ميان مي‌توان با اتخاذ تدابير ويژه توطئه‌هاي دشمنان داخلي و خارجي را دفع كرد آنچنان كه خواجه‌نصيرالدين طوسي در زمان شكست آخرين خليفه عباسي از هلاكوخان مغول، ‌اين تدبير را به كار برد كه جريان آن در تاريخ آمده است و نشان مي‌دهد بعضي افراد حتي با فروپاشي حكومت‌هاي خودكامه باز هم آنها را بحق مي‌دانند و خليفه ظالم و مستبد را خليفه خدا و مجازات و قتل او را مقدمه خشم خدا و نزول عذاب الهي مي‌دانستند. خوشبختانه الان جهان اسلام شفابخشي فرمول جمهوري اسلامي ايران براي رهايي از دست ظالمان را دريافته و در پي ايجاد علوي به جاي نوع‌ اموي آن است.

رسالت مسلمانان

آيات متعددي در قرآن بر اتحاد و همبستگي مسلمانان و حمايت از يكديگر در برابر ظالمان تأكيد دارد يعني حمايت از يكديگر از مسائل اصولي و حياتي در اسلام است. «يَا اَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَاتَمُوتُنَّ إِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ» «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا...» اي كساني كه ايمان آورده‌ايد حق تقواي خدا را به جاي آوريد...» و در ادامه بر تقوا و تمسك به ريسمان الهي تكليف شده است كه اسلام، قرآن و عترت(ع) تعابير در نظر گرفته شده براي ريسمان الهي است. تأكيد بر پيامبر اسلام بر همكاري مسلمانان با يكديگر به عنوان يك روح در قالب چندين پيكر كه در شعر سعدي «بني آدم اعضاي يك پيكرند كه در آفرينش زيك گوهرند...» به خوبي نظم يافته، بايد مورد توجه قرار گيرد نگاه قرآن و سنت در اين زمينه به خوبي واضح و روشن است و ريشه كن كردن فتنه‌ها از زمين ممكن نمي‌شود مگر با همدلي و همكاري و همياري مسلمانان.

وظايف مسلمانان نسبت به يكديگر

«وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ» يعني گسترش فتنه روي زمين از قتل و كشتار هم بدتر است از اين رو در اين مسير بايد به دو نكته اساسي توجه داشت نخست افشاي توطئه‌هاي دشمنان از طريق آگاهي‌دهي به مسلمانان و مستضعفان جهان، از سوي ديگر بنابر نص صريح قرآن‌كريم بايد از جهادگران حمايت‌هاي مختلف مادي و معنوي كرد تا آنها از ادامه مسير خود دلسرد نشده و با جديت پيش بروند. بايد با تبليغات گسترده، توطئه‌هاي دشمنان براي سركوبي مظلومان و مسلمين و مستضعفان را آشكار و نقشه‌هاي پليد آنها را رو كرد. همچنين انفاق براي حمايت مالي از جهادگران از دستورات صريح قرآن است. در قرآن آيه‌اي به طور خاص براي انفاق در مسير جهاد عليه دشمنان وجود دارد. ايران به عنوان يك كشور مستقل و مطرح در جهان كه كمتر كشوري از اين ويژگي ها برخوردار است و به ارزش‌هاي اسلامي توجه و تأكيد دارد، در كنار حمايت از مسلمين و مستضعفان، با اين نگاه قرآني و برگرفته از عترت(ع) همچون وصيت‌نامه اميرالمؤمنين(ع) خطاب به حسنين(ع) مي‌فرمايند: «كونالظالم خصما و للمظلوم عونا» يار مظلوم وخصم ظالم باشيد يعني صرف نظر از قرآن در سنت ائمه معصومين (ع) تكليف ما كاملاً‌مشخص شده است. در جهان امروزِ اهل سنت، فرمول شيعي است كه برادران اهل سنت در عمل به كار گرفته اند و نگاه‌هاي سرسپردگي و نوكرمآبانه جايي در اين سنت ندارد. تنها از اين طريق مي تـوان دامنه مبارزات عليه استكبار را گسترش داد كه خوشبختانه جمهوري اسلامي ايران به عنوان كشوري مسلمان و مستقل در اين مسير گام‌هاي مؤثري برداشته است. نگاه اهل بيت(ع) به ياري مظلومان و دشمني با ظالمان معطوف است و در مقابل برخي مسلمان نماها با اعتقاد به اين مسأله كه مسلمانان نبايد بر حاكمان خود حتي در صورت اعمال ظلم بشورند در راستاي خدمت به صهيونيست و استكبار جهاني حركت مي‌كنند و خروج بر حاكم فاسق ، فاسد و ظالم را از وظايف مسلمانان نمي‌دانند. بلكه مذموم و ناپسند مي‌شمرند و چه بسا در بازار انگ مشرك زدنشان، اين حق خواهان امروز جهان اسلام را مشرك بدانند و اين نگاه همان نگاه وهابيت و در راستاي نگاه امويان و عباسيان در صدر اسلام است. نبايد به اسم تقيه و به بهانه عدم دخالت، از ياري مسلمانان مظلوم سرباز زد.

بايد توجه داشت كه در حال حاضر مسلمانان جهان بيشترين انتظار را از نظام اسلامي ايران دارند. الان مسلمانان در نقاط مختلف به ويژه در بحرين كه اعتراضات مسالمت آميز مردم به خاك و خون كشيده مي‌شود نيازمند همكاري، همراهي و همفكري ما هستند. اگر مصالح ايجاب مي‌كند كه صريح وارد ميدان عمل نشويم بايد مدبرانه و هوشمندانه فراتر از چيزي كه هست عمل كنيم و با در نظر گرفتن همه جوانب امر همه جانبه مساعدت و كمك كنيم. همان طور كه شجاعت زياد تهور خوانده مي‌شود، احتياط زياد، به ترس تعبير شده و عوارض سوئي را در پي خواهد داشت. بيان اين جمله از سوي مقام محترم ديپلماسي كشور در وقايع اخير جهان اسلام كه ما تا كنون در كشوري دخالت نكرده‌ايم، نمي‌كنيم و نخواهيم كرد مبتني بر انديشه‌هاي اسلام ناب محمدي و در شأن ايران اسلامي نيست. چگونه است كه جهانخواران با همه عِده وعُده در كشورهاي اسلامي دخالت مي‌كنند و براي براندازي حكومت اسلامي علني بودجه تخصيص مي‌دهند و آن را اعلام مي‌كنند اما ما با اين همه تأكيدات قرآن‌كريم بايد اين گونه سخن بگوييم؟ البته بايد تدبير و احتياط را در نظر داشت و با صراحت هر حرفي را نزنيم. بعيد نيست با بيان اين گونه‌اي و به اين صراحت رعب و وحشت كفار و مشركان از مؤمنان – كه وعده خداوند در قرآن‌كريم است – را به آرامش تبديل كنيم و چه بسا مسلمين و مستضعفين جهان با تلقي از دست دادن ستون و پشتيباني چون ايران اسلامي ، احساس نگراني و ترس كنند و در پيگيري و استمرار مطالباتشان كوتاهي و سستي نمايند. بعضي راهكارها براي مقابله با دشمنان را مي‌توان از خودشان ياد گرفت. به لقمان گفتند «ادب از كه آموختي *** گفت از بي ادبان» آنها طي 32 سال عداوت و ستيزه با انقلاب اسلامي هيچ وقت بياني نداشته‌اند كه ما را آسوده خاطر كند. همواره با علم به اينكه مي‌دانند توان مبارزه با ايران اسلامي را ندارند و جنگ افروزي عليه انقلاب اسلامي مقدور نيست سياست چماق و هويج را رها نكردند و با گفتن اينكه گزينه جنگ روي ميز است، گزينه كذا در كشوي ميز است و گزينه بهمان زير ميز است و ... مسلمين و حق پرستان را در ترديد و دو دلي و حالت برزخي نگه داشته‌اند. تقيه و مصلحت‌انديشي كه از اصول اسلامي است و برگرفته از آيات قرآن‌كريم و روايات اهل بيت عصمت و طهارت (ع) است بايد در مرتبه مصلحت مسلمين باشد و تا در مراتب بالاتر تقيه ممكن است نبايد مرتبه پايين‌تر و احياناً كف تقيه را برگزيد.

چقدر خوب و پسنديده است كه اعضاء محترم شوراي عالي امنيت ملي و مسئوولان محترم ديپلماسي كشور كه تلاش‌هاي شبانه روزيشان بركسي پوشيده نيست به منظور دستيابي به اهداف مقدسشان همواره قران را بخوانند و با آن مأنوس باشند و بهره‌گيري از كلام الهي را در كارهاي حساس و خطيرشان همواره مدنظر داشته باشند كه پيامبر مكرم اسلام (ص) فرمود:

«اذا التبست عليكم الفتن كقطع الليل المظلم فعليكم بالقرآن». آن هنگام كه فتنه‌ها مانند شب تار شما را در برگرفت بر شماست كه به قرآن پناه ببريد.

منبع : http://www.telavat.co m

 نوشته : استاد محمد خواجوی


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

صحبت از بیداری اسلامی است. پدیده‌ای که در عرصه اندیشه و عمل، بخش عظیمی از پویش اندیشه اسلامی را به خود اختصاص داده است. این امر باعث شده است بیداری اسلامی از لحاظ عناوین که در صحنه دامن زده، مشکلاتی که ایجاد کرده، چالشهایی که فراروی آن قرار دارد یا دستاوردهایی که بدست آورده است، سؤالهای بسیاری پیرامون آن در دنیای بشری ایجاد شود.

سؤال این است که آیا این بیداری توانسته است انسان را وارد دنیای جدیدی نماید که داده‌های فکری و سیاسی و اقتصادی آن با گذشته فرق می‌نماید و در باب آزادی و عدالت مسائل اساسی او را تبلور ببخشد و در حرکت به سوی توازن، به او اصالت ببخشد؟

آیا بیداری اسلامی توانسته است که به مسأله ظلم بپردازد که در سراسر زمین پراکنده است تا اینکه از نحوه رویایی با آن سخن بگوید، مسأله بندگی را مطرح نماید و نحوه فائق آمدن بر آن را بیان نماید و به مساله جهل و راه حل‌های آن و عقب ماندگی و امکانات خروج از آن بپردازد و اینکه آیا بیداری اسلامی در حد و اندازه چالشهای مطرح شده از سوی اندیشه دیگر و واقعیتهای مخالف می‌باشد یا نه؟ آیا بیداری اسلامی توانسته است به اهداف خود برسد یا نه؟ آیا توانسته است خود را به عنوان جایگزین وضعیت حاکم بر دنیا مطرح نماید یا نه؟

 

بیداری اسلامی، آغاز و شکلگیری

سیمای بیداری اسلامی و ابعاد فکری آن

برای روبرو شدن با این نوع سؤالات، ابتدا باید ماهیت بیداری اسلامی و میزان حضور آن را در عرصه واقعیت درک کنیم تا بتوانیم سیما و ابعاد فکری و نتایج و دستاوردهای آن را تشخیص دهیم. از این رو باید پرسید که ماهیت و میزان حضور بیداری اسلامی چیست؟

وقتی که به دنیای اسلام نگاه می‌کنیم می‌بینیم که در نوعی رکود به سر می‌برد و اندیشه غرق در مسائل حاشیه‌ای و جزئیات است که بالندگی آن را از بین می‌برد. زیرا توجه آن فقط به میراث است و نه حرکت و پویایی. پرداخت اندیشه به مسائل و مشکلات ذهنی نیز غرق در ذهن گرایی است که حاصل اندیشه‌های جدالی می‌باشد. اندیشه¬هایی که اگر در جایی چشم انداز روشنی برای آن وجود دارد، در جایی دیگر گرفتار ابهام و تاریکی و ظلمت می‌باشد. همین امر باعث شده است که بعضی‌ها اسلام را در چارچوب عبادات و اخلاق عمومی و احکام فردی، آن هم به دور از مسؤولیتهای سیاسی و جهادی مطرح کنند. همین طور بعضی دیگر با اینکه به فراگیری اسلام عقیده دارند، اما پویایی آن را محدود کنند و در انتظار آخر الزمان بنشینند. آن هم به این دلیل که شرایط زمانی اجازه اجرای احکام آن را نمی‌دهند. گروه سوم نیز بر این عقیده هستند که دوره اسلام همه جانبه گذشته است. زیرا دورانهایی که انسان طی کرده است، او را با اوضاع تازه‌ای روبرو کرده است که اسلام درعصر شکلگیری و حرکت گذشته خود با آن روبرو نبوده است. از این رو اسلام باید از نقش خود به نفع اندیشه تازه‌ای دست بردارد که در بردارنده مشکلات تازه انسان هستند. در این صورت به جای اینکه اسلام منبع اعتقادات و قوانین شود، صرفاً به منبعی برای اندیشه‌ها و ارزشهای کلی انسان تبدیل می‌گردد. علاوه بر این، اندیشه اسلامی از غیب گریزان می‌شود. به این ترتیب انسان می‌تواند بین اندیشه اسلامی و اندیشه غربی که به واسطه ضعف و قوتهای موجود، خود را بر عرصه سیاسی تحمیل کرده است، وفاق ایجاد نماید تا این مسأله مطرح شود که اسلام با دستاوردهای تازه اندیشه انسانی و پیشرفتهای علمی همخوانی دارد و برای انسان مسلمان معاصر این مسأله به یک معیار تبدیل می‌شود. این گرایش نشان دهنده عدم اخلاص اینان به اسلام نیست بلکه به خاطر ذهنیت حاصل از شیفتگی در برابر تمدن غرب است و خواستشان این است که اسلام در عرصه تفسیر قرآن و جهت دادن به شریعت، از دستاوردهای جدید استفاده نماید. همزمان با شکلگیری این اندیشه تلفیقی، اندیشه انقلابی دیگری نیز شکل گرفت که هدف آن از بین بردن اندیشه عقب مانده‌ای بود که اسلام را از عرصه زندگی و رویارویی دور کرده بودند. در این رویارویی به خاطر یورش همه جانبه استکبار غربی مبتنی بر کفر و الحاد بر پایه‌های سیاسی اسلام، اسلام از عرصه حکومت و قانونگذاری بیرون شده بود تا اندیشه مسلمین از اسلام دور شده و به سوی ملی¬گرایی و قوم¬گرایی سوق یابد.

به این ترتیب مسلمانان آگاه برای ایجاد یک حرکت اسلامی سیاسی برنامه ریزی کردند که سعی دارد اسلام را به عرصه عام زندگی در جنبه‌های اندیشه و قانونگذاری و جهاد بازگرداند.

این حرکت اسلامی توانست در کشورهای اسلامی، زمینه فعالیتهای سیاسی و فکری را فراهم آورد تا این حرکت به حرکتهای گوناگونی که از نظر ذهنیت و جزئیات تشریعی و نگرش سیاسی تفاوت داشتند، تبدیل شود. ولی همه این‌ها نیز نتوانست جامعه اسلامی تحت سیطره استکبار را به حرکت وادارد تا اینکه بر اساس قواعد فکری و سیاسی اسلامی به آزادی و استقلال دست یابد. زیرا این حرکت‌ها بر اندیشه‌های جدید غربی در عرصه سیاسی متکی بودند. به همین دلیل شاهد بروز انقلابهای قومی و ملی و مارکسیستی در جاهای گوناگون بودیم. اما جنبش اسلامی بیش از اینکه در درگیریهای سیاسی حضور داشته باشد، گرفتار درگیریهای فکری بود. در این بین اگر به بعضی از نقاط قوت نیز دست یافت، رسانه‌های تابع غرب سعی کردند که آن را از صحنه دور کنند و دستگاههای جاسوسی نیز کوشیدند که با دامن زدن به نابسامانی داخلی، اسباب تضعیف آن را فراهم کنند و آن را از تأثیرگذاری بیندازند. در چنین فضای متزلزلی، جنبش اسلامی دچار بعضی مشکلات و ضعف‌هایی مانند انقلاب زدگی و سیاست زدگی گردید و این باعث شد که از سوی دستگاههای حاکم وابسته به غرب و ذهنتیهای غربزده که قائل به جدایی دین از سیاست و جلوی دخالت اسلام در سیاست را می‌گرفتند یا ذهنیتهای عقب افتاده‌ای که اسلام به دائره عبادات محدود دانسته و آن را از عرصه عمومی زندگی دور می‌دانستند، به محاصره در آمد.

 

تولد بیداری اسلامی

اما انقلاب اسلامی به رهبری امام خمینی، توانست که در تحقق هدف مرحله‌ای خود به صورتی گسترده با امت اسلامی وارد تعامل شود و حکومت شاهنشاهی را که نماینده استکبار آمریکایی در ایران به شمار می‌رفت و می‌خواست روح اسلامگرایی را به سود روح کفرگرایی که با دوران مجوسی‌گری و زردشتی‌گری پیوند داشت، ساقط نماید. سقوط این دولت به عنوان پایگاه قوی کفر و استکبار، توسط اسلام انقلابی برخاسته از مرجعیت دینی که از جایگاه مسؤولیت به همه زندگی نظر دارد، صدمه قوی بود که توانست زلزله ایجاد نماید و علامت سؤال بزرگی را برای همه دنیا در باره توان انقلاب آفرینی اسلام و انسان سازی و مقابله با چالش آفرینی دیگران و توان رویارویی، تحریک‌گری و تداوم ایجاد نماید. این انقلاب باعث شد که مسلمانان توان انقلاب آفرینی و پاسخگویی به چالش‌ها و چالش آفرینی و دولت سازی به خاطر خودکفایی در قانونگذاری اسلام بر اساس خط اجتهاد را درک کنند. این امر اعتماد مسلمانان به توان رهبری اسلام را زنده کرد و حس سیاسی متبلور در حس اسلامی آغازیدن گرفت. مسلمانان به این فکر افتادند که انقلاب ممکن است نزدیک‌ترین راه برای برپایی دولت اسلامی باشد و در باره فرایند اصلاحات در برابر فرایند تغییر همه جانبه که عنوان انقلاب و شورش در برابر منافع استکباری در کشورهای اسلامی را برگزیده است، به گونه‌ای منفی صحبت کردند. به این ترتیب بیداری اسلامی متولد شد که چشم مسلمانان را از خواب بیدار کرد. از این رو نوری را دیدند که اندیشه و خیزش اسلام را فراگرفته است. همین طور مسلمانان را از غفلتی که بر خرد‌ها و دل‌هایشان سایه افکنده بود دور نماید و آنان را واداشت که به سوی با تمام توان به سوی مواجهه با چالش‌ها بشتابند. توانی که به مصاف خطر‌ها می‌رفت، جراحت‌ها را به جان می‌خرید، درد‌ها را تحمل می‌کرد و با صبر و اخلاص مشکلات جهاد را پذیرا می‌شدند. مسلمانان به فکر ناگواریهای جامعه اسلامی در باب آزادی و عدالت افتادند که تابع برنامه ریزیهای اندیشه غربی غیر اسلامی بود. می‌گفتند که ضرورت دارد بر اساس مفاهیم اسلامی حرکتهای انقلابی صورت گیرد تا اینکه انسان مسلمان، اندیشه و عمل و نظریه و اجرایش یکی شود. طوری نباشد که در عبادت مسلمان و در سیاست کافر باشد و از راه منحرف باشد.

با توجه به این تلاش‌ها، پرده از باورهای فکری و معنوی مسلمانان برداشته شد و مسلمانان نسبت به اندیشه‌هایی که مطرح می‌شد، تبلیغاتی که در جوامعشان جریان داشت، بیم‌ها و هراسهایی که دامن زده می‌شد و طرحهایی که برایشان طراحی می‌شد، هوشیار شدند تا اینکه به صورت آگاهانه‌ای فکر کنند و همه آن‌ها را در چارچوب اندیشه‌های اسلامی و احکام دینی مورد مناقشه قرار دهند و در وابستگی و موقعیت و حرکت و تداوم، از استواری برخوردار شوند. به گونه‌ای که در اندیشه و موضعگیریشان هیچ انحراف و خللی وارد نیاید.

با این روح تازه که به دور از چارچوبهای حزبی تنگ و حرکات سیاسی محدود، اسلام را به جریانی خروشان و موجی پر سر و صدا تبدیل کرد، این دوائر پراکنده در دنیای اسلام توسعه یافتند و آغازیدن گرفتند و پویش حاصل کردند. به گونه‌ای که عموم امت اسلامی حرکت کردند و رهبران خود را مجبور کردند که به صورتی عمیق‌تر و گسترده‌تر به آن‌ها توجه کنند. زیرا نیازهای آن خیلی گسترده از گذشته شده بود. چه بسان مردم توانستند که در موضعگیری و حرکت از رهبران خود نیز پیش‌تر بروند. وضعیت به گونه‌ای شد به جای اینکه مردم به رهبران بپیوندند این رهبران بودند که به مردم ملحق شدند. انقلاب اسلامی ایران خاستگاهی برای حرکت و کارامدی و تأثیرگذاری مستقیم و غیر مستقیم این بیداری روی دنیای اسلام شد. خصوصاً بعد از اینکه انقلاب به دولت تبدیل شد باز هم از خط انقلاب فاصله نگرفت و در چالشهای بین آگاهی و عقب ماندگی به جایگاه مهمی را از آن خود کرد.

 

تعصب مانع بزرگی است

کم کم اندیشه‌های ارتجاعی و عقب ماندگی به سوی مراکز بیداری یورش آورد و استکبار شروع به برنامه ریزی برای به کنترل در آوردن این وضعیت نمود و اندیشه‌های مخالف نیز کوشیدند که در برابر این تحول استثنایی جدید، زمام امور را به دست بگیرند. تحولی که توانسته بود توده‌های مردم را به سوی اسلام بازگشت دهد. البته به خاطر خلأی که در نبود اسلام انقلابی ایحاد شده بود، این اندیشه‌های اسلامی نیز توانستند بعضی‌ها را به دور خود جمع کنند و به سرعت به بسیاری از علامتهای سؤال حاصل از مشکلات انسان معاصر پاسخ دهند.

یکی از نشانه‌های واپسگرایی و عقب ماندگی، اندیشه‌های فرقه گرایی است که به صورت تعصب آمیزی ارائه می‌شوند و مجال گفتگوی منطقی در باره مسائل اختلافی مذاهب در باب عقیده و شریعت را نمی‌دهند. بلکه سعی می‌کنند تا مراکز مذهبی را به صورت متحجرانه‌ای تحریک کنند و به هیچ جدال و مناقشه‌ای مجال ندهند و هر کسی را که بخواهد در باره مسلمات مذهبی سؤالی را مطرح نماید یا به روش قرآنی که انسان را وامی دارد که در طرح قضیه و جدال با دیگران بهترین روش را برگزیند، رفتار نماید، سنگ باران کنند.

در پرتو این شرایط بود که استکبار کوشید از ذهنیت عقب مانده متحجری که به لوازم و ابزارهای گفتگو باور نداشت استفاده برده و پیرامون انقلاب اسلامی دست به ابهام زایی بزند و آن را به مذهب گرایی متهم نماید. اینکه این انقلاب، اسلامی نیست بلکه انقلابی شیعی است که سایر مسلمانان هیچ نقشی در آن و مفاهیم آن و خاستگاههای آن ندارند. زیرا تشیع گرفتار غلوهای بسیاری است که از مبانی اساسی اسلام فاصله گرفته است. استکبار از طریق بعضی از همین دوائر تنگ و محدود مذهبی اسلامی کوشید که به محدود سازی انقلاب اسلامی بپردازد و آن را به جزئیاتی مشغول سازد که روحیه انقلابی را از بین می‌برد و حرکت اسلامگرایان در خط تغییر را مصادره می‌نماید تا اینکه آنان نتوانند به مصاف کسانی بروند که مستکبران کافر آنان را پاسداران اندیشه‌ها و امتیاز‌ها و منافع خود قرار داده‌اند و در برابر این خدمت زمینه پادشاهی و امیری و ریاست بر کشورهای اسلامی را برایشان فراهم ساخته‌اند. هر چند که این امر به ضرر اهداف بزرگ اسلام در زندگی باشد.

 

مشکلات و موانع گفتمان سیاسی و فکری

اما باید توجه داشت که گفتمان سیاسی بیداری اسلامی از حیث جزئیات گوناگونی داشته و در بردارنده اندیشه‌های متعددی بوده است و روش خشونت آمیزی را برای خود برگزیده بود. به گونه‌ای که خشونت به یکی از ویژگیهای خط انقلابی بیداری تبدیل گردید و روش هجومی به امری درونی و بیرونی مبدل شد و وضعیت به گونه‌ای شد که سخن گفتن آرام و منطقی در باره قضایای گوناگون نشان دهنده شکست بود که انقلاب آن را رد می‌کرد.

کسانی که حرکت خیزش جوشان بیداری اسلامی را زیر نظر داشتند، توانستند برای محتوای فکری آنکه از اندیشه اسلامی یکپارچه یا سطح فکری معقولی نشأت نگرفته بود، نقاط ضعف بسیاری را برشمارند. چرا که برنامه ریزی انقلابی برای یکپارچه سازی ایده‌های فکری یا حفاظت از برجستگی خاص سردمداران آن صورت نگرفته بود. همین امر باعث گردید که تصویر بیداری اسلامی در ذهن کسانی که جذب موضعگیریهای انقلاب شده بودند ولی در برابر اندیشه انقلاب دچار تحیر شده بودند، متزلزل گردد. زیرا نمی‌دانستند که این اندیشه از کجا نشأت گرفته است؟ مبنای غیبی دارد و یا حسی و یا هر دو؟ فرایند توزیع چگونه خواهد بود؟ مبنای دیگری که در آن دیگران استثنا به شمار می‌آیند، کدام است؟ غیر از این‌ها سؤالهای دیگری نیز وجود داشت که باعث تحیر عقلی می‌شد.

خشونت نیز مشکل کسانی بود که سیمای انقلابی بیداری اسلامی را دوست داشتند و اصل آن را رد نمی‌کردند. زیرا می‌دیدند که زندگی نیازمند آن است. در چالش‌ها، زبان مدارا در برابر زبان خشونت رنگ می‌باخت. از این رو چاره‌ای غیر از خشونت وجود نداشت. این خشونت بود که مخالفان را تضعیف می‌کرد و آن‌ها را به شکست وامی داشت. از سوی دیگر جنبش اسلامی نیز به این خشونت نیاز داشت تا به دیگران نشان دهد که نباید از قدرت دیگران هراس داشته باشند. چرا که اسلام نیز قدرت مقابله با آن‌ها را دارد. هدف این بود که مردم در فرایند انتخاب خود، با توجه به قدرتی که در دیگران می‌دیدند، از موضعگیریهای اسلامی دور نشوند.

آنان خشونتی را که در طبیعت وجود دارد، از قبل توفان‌ها و خروش امواج و بالا آمدن آب‌ها و زلزله را که هستی بدان‌ها نیاز دارند، رد نمی‌کنند. ولی استفاده از خشونت در همه جا و با همه مردم را به عنوان یک قاعده فراگیر رد می‌کنند. زیرا ممکن است که مدارا در جایی کارایی داشته باشد که خشونت چنین کارایی را نداشته باشد. همین طور بعضی از مردم دلشان جز با کلمات آرام و عاقلانه و اندیشه‌های منطقی و متوازن باز نمی‌شود. آنان در فضایی آرام و منطقی بودن اندیشه پذیرای این حرف‌ها می‌شوند. آنان می‌افزایند که اسلام مدارا را اساس روش و حرکت برگزیده است. مگر در جایی که انسان مجبور به استفاده از خشونت شود. این حقیقت در این حدیث مأثور نیز آمده است: «مدارا بر چیزی قرار نداده شد مگر اینکه بدان وزانت بخشید و از چیزی برداشته نشد مگر اینکه آن را سبک خواست.» و «خداوند مداراگر است و مدارا را دوست دارد و چیزی را که به واسطه مدارا می‌دهد به واسطه خشونت نمی‌دهد.» اینان تأکید می‌دارند که انقلابی بودن به معنای بیان کلمات درشت و اتخاذ روشهای خشن نیست بلکه باید از عناصری استفاده کرد که درتغییر دادن اندیشه‌ها و موضعگیری‌ها سهیم باشند. باید از روشهای حکیمانه‌ای استفاده شود که شرایط عینی زندگی و انسان را مورد بررسی قرار دهد و نتیجه بخش باشد.

 

بیداری اسلامی حاصل اجتهادهای گوناگون است

اما کسانی که از جایگاه رهبری روند بیداری اسلامی را پیگیری می‌کنند، با این منطق به این انتقادات پاسخ می‌دهند: ما نیز موافقیم که فقدان وحدت فکری در گفتمان اسلامی مشکل دشواری برای موافقان و مخالفان اسلام به شمار می‌آید. زیرا باعث می‌شود که موافقان نتوانند در باب وابستگی اعتقادی و التزام فکری، اندیشه اسلامی را به خوبی فرابگیرند و همین طور مخالفان نیز نتوانند این حرکت جدید را فهم کنند و اندیشه‌ها و موضعگیریهای آن را مورد مناقشه قرار دهند. گاهی موضعگیریهایی مورد نقد قرار می‌گیرند که موضعگیریهای حقیقی آن به شمار نمی‌آیند. زیرا تصویرهایی که از این حرکت تبارز یافته است به رهبران آن مربوط می‌شوند.

اسلامگرایان به خوبی این مشکل را درک کرده‌اند ولی به این نکته مهم نیز اشاره می‌دارند که بیداری اسلامی خاستگاه محدود و مشخصی ندارد که حرکت خود را در چارچوب وحدت اندیشه حزبی دارای نشانه‌ها و گرایش‌ها و روشهای بروز دهد. بلکه بیداری اسلامی یک حالت عام اسلامی است که نشان دهنده اجتهاد‌ها و برداشتهای مختلفی می‌باشد که مجتهدان در آن اختلاف نظر دارند. به این ترتیب مقلدان و نیز شعارهایی که مردم به تبع احساسات و اندیشه‌ها و وضعیتشان در عرصه اسلامی گسترده بدان ملتزم می‌شوند نیز دچار گونه گونی می‌شوند.

علاوه بر این باید بیفزاییم که انقلاب حاصل یک اندیشه کلی بود که پس از این با جزئیات سروکار نداشت و با چالشهای حاصل از انقلاب و حوادث گوناگون روبرو نشده بود و به صورت دقیق در باره آن‌ها اندیشه نکرده بود. زیرا داشت برای پیروزی آمادگی می‌گرفت و باید برای رویارویی موضعگیری می‌کرد و توانمندیهای مردم را منفجر می‌نمود و اوضاع سکون و جمود را به حرکت وامی داشت. اگر این ملاحظات را در نظر بگیریم آنگاه در این باره بعضی عذرهای انقلاب را خواهیم پذیرفت. به ویژه اینکه رهبران انقلاب به مانند هر رهبر دیگری، این توان را نداشتند که در انفجارهای انقلابی و زلزله‌های خشونتبار به صورت دقیق حرف‌ها و موضعگیری‌ها را مورد رصد قرار دهند و به کنترل و متحد کردن آن‌ها بپردازند. زیرا فضای پرالتهاب چنین اجازه‌ای را نمی‌دهد و نمی‌تواند به سهولت بدان دست یابد. چرا که مسأله یکپارچگی نیازمند فرصتهای مناسب است.

اما با گذشت زمان می‌توان برای این معایب نیز راه حلهایی را یافت. وقتی که رهبران فرص کافی بدست آورند، می‌توانند به سؤالهای موافقان و مخالفان پاسخ دهند یا اینکه هرگاه اندیشه‌های گوناگون مشکلاتی را ایجاد کردند، اندیشمندان می‌توانند به پالایش این میراث همت گمارند. زیرا این مسائل نتیجه اختلاف در ماهیت اندیشه انقلاب در موضعگیریهای رهبران نبوده بلکه حاصل اجتهادات گوناگون و تفاوت در ایده‌ها و نگرش‌ها به اوضاع عمومی اسلامی می‌باشد. ما انقلابی را در دنیا نمی‌بینیم مگر اینکه آن‌ها نیز دچاراختلاف در اندیشه و روش هستند که مردم نیز آن را در رفتار‌ها و اندیشه‌های خود نشان می‌دهند. زیرا مسأله تعدد یا وحدت اندیشه نیست بلکه نوع واکنش عقلی و احساسی مردم بعد از فهم از اندیشه می‌باشد که در حال و هوای انقلاب، امکان کنترل آن وجود ندارد. اما باید یک ملاحظه مهم را مد نظر قرار داد که ماهیت اسلام در عرصه فکری و انقلابی تفاوتهای گوناگونی را دارد. از این رو اختلاف یک حالت طبیعی به شمار می‌آید و در شرایط غیر عادی که انقلاب نیز یکی از آن‌ها به شمار می‌آید، این اختلاف طبیعی‌تر به نظر می‌آید. نکته مهم دیگری وجود دارد و باعث کاسته شدن از اختلافات می‌شود این است که اسلام منابع اصیلی به مانند کتاب خدا و سنت پیامبر دارد که در صورت بروز اختلاف می‌توان به آن‌ها مراجعه کرد بر خلاف بسیاری اندیشه‌های دیگر که تابع افراد هستند و این افراد خاستگاههای متنوعی دارند که رسیدن به نتیجه محدود و مشخص را دشوار می‌نماید.

 

ضرورتهای خشونت

بیداری و زبان خشونت

اما خشونت در روش و اندیشه، ممکن است برای آن دسته از کسانی که به روشهای آرام عادت کرده‌اند ناگوار باشد. زیرا آنان تاب تحمل درشتی و تعدی را ندارند. این امر ممکن است روی روند انقلاب تأثیر به جای بگذارد و به خاطر همین خشونت ممکن است بعضی از مردم از انقلاب دور شوند. زیرا خشونت را با برداشتی که از اسلام دارند و آن را دین رحمت می‌شمارند، متناسب نمی‌بینند.

ولی مسأله‌ای که ممکن است به صورت یک اشکال مطرح شود، موضوع جهاد در اسلام است. چه جهاد در دوران پیامبر گرامی اسلام و چه در دورانهای معاصر. کشتار‌ها و درد‌ها و پیامدهای ویرانگر حاصل از جنگ‌ها چیزهایی است که مردم را تکان می‌دهد. شاید مشکل همه این‌ها این باشد که وقتی شرایط منطقی و دشوار در نظر گرفته نشود، مردم متوجه پس زمینه‌ها و ابعاد پنهان مسأله نمی‌شوند و فقط صحنه‌های ناگوار آن را می‌بینند. این‌‌ همان چیزی است که بیداری اسلامی در حرکت انقلابی خود با آن روبرو می‌باشد. چالشهایی که بیداری اسلامی در عرصه‌های گوناگون با آن روبرو می‌باشند بسیار سخت و شدید است. حتی موجودیت و هویت بیداری اسلامی با چالش مواجه می‌باشد. از این رو بیداری اسلامی در وضعیت غیرعادی قرار دارد. وضعیتی که تابع هیچ یک از قوانین و معیارهای شناخته شده نمی‌باشد. بیداری اسلامی با خطراتی از همه جانبه روبرو می‌باشد مانند انسانی که در میدان نبرد از هر سوی توسط دشمن احاطه شده است. در این باره نکته قابل توجهی وجود دارد و آن این است که انقلاب دارای دو هدف اساسی می‌باشد.

هدف اول مقابله با چالشهایی است که به صورتی خشن و توان فرسا، از سوی کافران و مستکبرات ضد انقلاب دامن زده می‌شوند. این امر باعث می‌شود که انقلابیوت تحت تأثیر فشارهای روحی و روانی قرار بگیرند و احساس کنند اسلامی که در برابر عملی خود این همه روی مدارا تأکید دارد، مانعی نمی‌بیند به مانند دیگرانی که دست به خشونت علیه اسلام می‌زنند، از بالا‌ترین درجه خشونت سیاسی و جهادی استفاده کنند.

هدف دوم بسیج انسانی در مسائل مهم سیاسی است. در این مسائل نیاز است که احساسات و عواطف تحریک شوند و هیمنه مستکبران از جان مستضعفان زدوده شود و خوف و هراس از باور امت اسلامی از بین برود و در برابر ستم و ستمگران، حماسه مردم تحریک شود. این امر ایجاب می‌نماید که امت اسلامی در مراحل ابتدایی انقلاب خود، مورد فرهنگ سازی قرار گیرد تا اینکه احساس قدرت نماید و این احساس قدرت به موضعگیری بینجامد و این‌‌ همان چیزی است که در تربیت عاطفه و تقویت احساسات باید برای آن برنامه ریزی کرد.

البته وقتی که انسان از خط تعادل خارج می‌شود، طبیعی است که این روش نیز از دچار بعضی آسیب‌ها و معایبی شود و عواطف نیز در هنگام موضعگیری دچار فروپاشی گردد. ولی مزایای اسلامگرایی سیاسی در توان بسیج کردن آن است که عقل و باور و احساس و حرکت را سرشار از اسباب تنش و قدرت نماید. این مزایا بسیار بیشتر از میزان معایب آن است. بهترین مثال آن نیز شعار «مرگ بر آمریکا»، «مرگ بر شوروی»، «مرگ بر اسرائیل» یا «نه شرقی نه غربی جمهوری اسلامی» است. امتی که می‌خواهد برای بیداری اسلامی انقلابی برنامه ریزی نماید باید هر زمان این شعار‌ها را تکرار کنند. همین طور باید برای پایمال کردن نمادهای استکبار نیز رفتارعملی صورت دهد، به نحوی که مردم از روی آن‌ها عبور کنند و پا رویشان بگذارند.

بعضی از مردم ممکن است این شعار و اقدامات را افراطی بدانند و معتقد باشند که این کار‌ها رابطه انقلاب و دولتهای بزرگ را دچار خدشه می‌نماید. در حالی که نمی‌توان در هیچ زمینه‌ای از آن‌ها بی‌نیاز بود. زیرا مراکز اقتصادی و سیاسی و فرهنگی دست آن‌ها قرار دارند و آن‌ها می‌توانند همه دنیا را تحت فشار خود قرار دهند. از این رو نمی‌توان موضع منفی در قبال آن‌ها گرفت یا با آن‌ها قطع رابطه کرد. زیرا با این کار به جای اینکه کشورهای بزرگ در تنگنا و محاصره قرار گیرند، این دولتهای کوچک هستند که در تنگنا قرار می‌گیرند. لذا شعار نه شرقی و نه غربی شعاری غیر واقعی است. زیرا در بیشتر زمینه‌ها ما به آن‌ها نیاز داریم.

 

شعار سیاسی تغییری زبان قرآن است

ولی کسانی که در عرصه‌های سیاسی اسلامی فعالیت دارند پاسخشان این است که انقلاب اسلامی شورش علیه حاکمیت نبود که وضعیت خود را بهبود ببخشد و بعد از آن فضای عمومی هم چنان تابع حرکت سیاسی دولتهای بزرگ باقی بماند بلکه عملی تغییری است. اینکه در راستای وابستگی حقیقی به خط اسلام، انسان از درون خود را تغییر دهد و به عنوان بخشی از‌‌ رها شدن از شرک و بت پرستی، خود را از هیمنه معنوی و فکری مستکبران برهاند. خواست اسلام این است که انسان عقلانیت خود را از شرک به توحید تغییر دهد. آزادی درونی‌‌ همان آزادی اندیشه و احساس و آزادی بیرونی‌‌ همان آزادی حرکت و عمل است. از این رو اسلام حمله همه جانبه‌ای علیه بت‌ها صورت داد تا هیچ نوع بت پرستی حتی به صورت ظاهر نیز باقی نماند. به این ترتیب اسلام توانست علی رغم دشواریهایی که در آغاز دعوت دامنگیرش شد، انسان را به توحید ناب برساند. در آن زمان همه مشرکان در برابر اسلام ایستادند جلوی بسیاری از برنامه‌های آن را گرفتند و موانع بسیاری را در برابرش تراشیدند.

آنچه امروز باید در جامعه اسلامی معاصر مطرح باشد، ایجاد تغییر در ذهنیت مسلمانان در قبال خضوع در برابر هیمنه استکبار کافر است. زیرا با توجه به قدرت مادی مستکبران در برابر مستضعفان، بعضی از مردم این هیمنه را قضا و قدر و غیر قابل تغییر می‌دانند. در حالی که در این باره باید برنامه ریزی کرد و به نقاط ضعف مستکبران در برابر مستضعفان نیز پرداخت. باید شعاری را که با سقوط هیمنه آنان در جان مردم می‌شود، را تکرار کرد. باید این تصور را نیز در مردم ایجاد کرد که مستکبران نیز در معرض نابودی و فروپاشی هستند و با دست زدن به بعضی اقدامات می‌توان این حقیقت را مورد تأکید قرار داد. اگر این شعار اوهام سیاسی و خیالهای فکری باشد، همان واقعیتی که سیلی از شعار‌ها را متوجه آن کرده‌اند همه شعارهای آنان را در هم خواهد ریخت و دور از واقعیت بودن آنان را ثابت خواهد کرد.

اگر چه بعضی از مردم چنین حرفهایی را تکرار می‌کنند و این فکر را دامن می‌زنند که این موضعگیری خود به نوعی تکبر و خودبزرگ بینی تبدیل می‌شود که بعداً قابل از بین بردن نیست. در پاسخ باید گفت که یکی از اهداف اسلام آزاد کردن انسان از درون است. یعنی با تکانی معنوی و روحی او را به منبع قدرت پیوند دهد و قدرت نمایان الهی در هستی را به او نشان دهد. در این صورت از میزان تأثیر خداوندگاران [دروغینی] که بر قدرتهای مادی جاری در عالم حس، سیطره دارند کاسته خواهد شد. این خدایگانان تلاش می‌کنند که پایه‌های قدرت خود را بر روح و روان مردم تثبیت کنند تا هر گونه حرکت و فعالیت مخالف آنان را سست گردانند. این امر نیازمند مقابله قدرتمندانه‌ای است که خوف و ترس از اینان از روح و جان انسان مسلمان زدوده شود تا اینکه هماهنگ با خط اسلامی خود، آزادانه تصمیم بگیرند.‌‌ همان خطی که اراده الهی بر آن قرار گرفته است تا انسان مسلمان در آن حرکت نماید و به رضوان او نائل آید. روش قرآن نیز همین است. قرآن ضعف مستکبران را به نمایش می‌گذارد و عظمت الهی را که بر‌تر از قدرت بندگان او می‌باشد و بر همه چیزی سیطره و هیمنه دارد و از همه بی‌نیاز است و همه به او نیازمندند، مورد تأکید قرار می‌دهد. تأکید قرار بر این است که خداوند با پرهیزگاران و نیکوکاران است: «إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ» (اعراف/۱۹۴) و آنان «لَن یَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن یَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ» (حج/۷۳). غیر از این‌ها موارد دیگری نیز وجود دارد که از عظمت مطلق الهی سخن می‌گوید. در ادامه از موضعگیریهای عملی قدرت معنوی پیامبران سخن گفته می‌شود که تن دادن به خوف و هراس از مستکبران را نفی می‌کردند. خداوند متعال در باره موضع پیامبر اسلام در شب هجرت چنین می‌فرماید: «إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِینَ کَفَرُواْ ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ هُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَکِینَتَهُ عَلَیْهِ وَأَیَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ کَلِمَةَ الَّذِینَ کَفَرُواْ السُّفْلَى وَکَلِمَةُ اللّهِ هِیَ الْعُلْیَا» (توبه/۴۰).

در جایی دیگر خداوند در باره مؤمنانی سخن می‌گوید که تبلیغات مخالف سعی داشتند اراده روانی آنان را در هم بشکنند و و قدرت مسلط بر وضعیت عمومی را به آنان خاطر نشان کنند: «الَّذِینَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَکُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِیمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ* فَانقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُواْ رِضْوَانَ اللّهِ وَاللّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ*إِنَّمَا ذَلِکُمُ الشَّیْطَانُ یُخَوِّفُ أَوْلِیَاءهُ فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ» (آل عمران/۱۷۳-۱۷۵).

می‌بینیم که قرآن کریم این مسأله در زمینه عملی به عنوان تجربه‌ای زنده و کارامد نیز به تصویر می‌کشد. تجربه زنده‌ای که بر اساس اراده قوی برخاسته از ایمان، رویکرد به سوی خداوند، ثبات در موضعگیری، پرهیز از تزلزل و تن ندادن به ترس‌ها و هراس‌ها، پیامدهای مثبتی را به دست دهد. این امر باعث که پیامبر و مؤمنان از قدرت درونی خود استفاده کنند و به جایگاه پیشرفته‌ای از قدرت در زندگی تبدیل شوند و با این کار از کرامت الهی برخوردار شوند و به رضایت او دست یابند و از الطاف او قدرت بگیرند.

این خط الهام بخش از مؤمنان می‌خواهد که از تجربیات کسانی که سابقه در ایمان داشتند و در عرصه‌های درگیری از حضوری فعال برخوردار بودند، درس بگیرند و با استفاده از این درس، به معنویتی که قدرت عملی را در پی دارد، بیندیشند.

مجله المنطلق، شماره ۵۴، شوال ۱۴۰۹هـ برابر با ژوئن ۱۹۸۹م



نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

سایت مرکز اسناد انقلاب اسلامی

 محمد حاجی پور 

وقوع انقلاب اسلامی ایران با نگرانی جدی مقامات جنوب شرقی آسیا از جمله اندونزی روبه رو گردید. معهذا هیچیک از این دولتها مشخصاً به دنبال انتقاد علنی از پیروزی اسلام بر امپریالیسم غربی و مشی سکولار نبودند. واکنش رسمی اولیه دولت اندونزی سکوت بود. در دهه 1980 در سرتاسر جنوبشرقی آسیا علائمی به چشم می­خورد و ادعاهایی در مورد تلاش­های ایران به منظور جلب حمایت جوامع مسلمان محلی نسبت به انقلاب اسلامی مطرح می­شد؛ ولی هیچ مدرک قاطعی در مورد گروه­های آشوب­طلب خواستار جلب حمایت ایران ارائه نمی­گردید. در مجموع با وجود تمام موانعی که توسط دولت اندونزی ایجاد شده بود به اجماع ناظران مسائل جنوبشرقی آسیا انقلاب اسلامی نفوذ مهمی بر آگاهی مذهبی در این منطقه داشته است.


اندونزی بزرگترین مجمع الجزایر جهان است که بین قطعه خشکی جنوبشرق آسیا و استرالیا واقع شده و اقیانوس آرام و هند را به یکدیگر متصل می­کند. اندونزی بعد از فروپاشی شوروی، چهارمین کشور پر جمعیت جهان و پر جمعیت­ترین کشور اسلامی می­باشد. مسلمانان حدود 88% از جمعیت این کشور را تشکیل داده­اند.

 اسلام از طریق تجار مسلمان، عرب، ایرانی و هندی از همان قرون شوم هجری وارد این بلاد شد. در مجموع می­توان گفت یکی از عوامل پیروزی اسلام در بلادی چون اندونزی، روابط بازرگانی مسلمانان عرب، ایرانی و هندی از دریای سرخ، خلیج فارس و هندوستان با مردم این سرزمین بوده است.

 مسلمانان اندونزی از طریق افکار سید جمال­الدین اسدآبادی و همچنین تعالیم شیخ محمد عبده و رشیدرضا با جریان اصلاح طلبی و احیای تفکر دینی در مصر و هند آشنا شدند و نهضتهای فرهنگی، اجتماعی و سیاسی متنوعی را از اواخر قرن 19 میلادی در برخورد با انحطاط داخلی و بیش از آن استعمار خارجی آغاز کردند. به طورکلی احزاب و گروه­های اسلامی در گرایش­های مختلف اصلاح­طلبانه، بنیادگرا، و سنت گرای محافظه کاربا تعدادی از رهبران سیاسی برجسته نظیر جریانهای ملی و ضداستعماری به رهبری احمدسوکارنو نقش ارزنده­ و بسیار مهمی در استقلال اندونزی ایفا کردند.

 

_ انقلاب اسلامی و اندونزی

وقوع انقلاب اسلامی ایران با نگرانی جدی مقامات جنوبشرقی آسیا از جمله اندونزی روبه رو گردید. معهذا هیچیک از این دولتها مشخصاً به دنبال انتقاد علنی از پیروزی اسلام بر امپریالیسم غربی و مشی سکولار نبودند. واکنش رسمی اولیه دولت اندونزی سکوت بود. در دهه 1980 در سرتاسر جنوبشرقی آسیا علائمی به چشم می­خورد و ادعاهایی در مورد تلاش­های ایران به منظور جلب حمایت جوامع مسلمان محلی نسبت به انقلاب اسلامی مطرح می­شد؛ ولی هیچ مدرک قاطعی در مورد گروه­های آشوب­طلب خواستار جلب حمایت ایران ارائه نمی­گردید. در مجموع با وجود تمام موانعی که توسط دولت اندونزی ایجاد شده بود به اجماع ناظران مسائل جنوبشرقی آسیا انقلاب اسلامی نفوذ مهمی بر آگاهی مذهبی در این منطقه داشته است.

 _ تاثیرات فکری انقلاب اسلامی

انقلاب اسلامی تاثیرات عمیقی در حیات فکری مسلمانان در جنوبشرقی آسیا و از جمله اندونزی به جا گذارده است. ترجمه و انتشار آثار امام خمینی و دیگر متفکران ایرانی مثل شریعتی و مطهری باعث تغییر تدریجی گفتمان رایج اسلامی در منطقه شده است. آثار شریعتی به طور گسترده در اندونزی منتشر شده است، برای فهم شهرت شریعتی در میان نسل جوان اندونزی کافی است اشاره شود که عمادالدین عبدارحیم، یکی از روشنفکران مسلمان را شریعتی اندونزی نامیده­اند. از دیگر تاثیرات فکری می­توان به تغییر نگرش اسلامی اشاره کرد. متفکران مسلمان از طزح ایدئولوژی اسلامی به عنوان جایگزین نسخه­های غربی- اعم از مارکسیستی و لیبرالیستی- استقبال کرده و تلاش نمودند تا از طریق تفسیر مجدد مفاهیم اسلامی راه­حلهای جدیدی برای مسائل سیاسی و اقتصادی پیدا کنند. به طور کلی ما با یک رنسانس فکری از طریق ترجمه و نشر آثار متفکران ایرانی به همراه آثار دیگر متفکران جهان اسلام مواجهیم که باعث تحریک مباحث جدی فکری و غنای گفتمان رایج اسلامی شده و این پدیده به نوبه خود باعث تسریع فرآیند احیای اسلامی در اندونزی گردیده است.

 

جلوه­های اجتماعی تاثیر انقلاب اسلامی

مصادیقی از جلوه­های تاثیر اجتماعی را می­توان در رفتارهای مذهبی از جمله گرایش به حجاب اسلامی در میان زنان و افزایش اقبال عمومی نسبت به فرائض دینی مشاهده کرد.

 

تاثیرات سیاسی انقلاب اسلامی

در تقارن با بیستمین سال پیروزی انقلاب اسلامی، واقعه مهمی در کشور اندونزی رخ می­دهد که در رابطه با اسلام­گرایی و تاثیر انقلاب اسلامی با اهمیت هستند. سوهارتو حاکم نظامی این کشور پس از سه دهه حکومت بلامنازع در جریان فکری تنش­های اجتماعی و حزبی و در نهایت بروز بحران مالی آسیای شرقی و فشارهای اقتصادی و امواج اعتراض­های مردمی از سیاستها و شیوه کشورداری، سقوط می­کند. جانشین او یوسف حبیبی در دولت 17ماهه خود نتوانست به مطالبات مردمی پاسخی شایسته دهد و سرانجام طی انتخابات 1999 کنار رفت. عبدالرحمن وحید رهبر حزب بیداری ملی با 33 رای مجلس به عنوان رئیس جمهور جدید انتخاب شد. او یکی از رهبران مسلمان و رئیس نهضه العلما به معنای تجدید حیات فقهای اسلام بود. وحید به دلیل ضعف مدیریت اکثریت نمایندگان مجلس را به جرگه مخالفان خود روانه ساخت. نهایتاً به دنبال عزل وحید مگاواتی سوکارنو معاون او مطابق قانون اساسی به ریاست جمهوری برگزیده شد. نکته جالب اینکه معاون مگاواتی سوکارنو ریاست یک حزب اسلامی را بر عهده دارد که به گفته خودش رهبری یک زن را بر یک کشور مسلمان نمی­پذیرد. او حاج حمزه رهبر حزب اسلامی توسعه یکپارچه که آن را 26 سال پیش بنا نهاد  و در حال حاضر 26 میلیون عضو دارد است. او از اعضای اصلی نهضه العلما به رهبری وحید بود که از آن جدا شد و حزب اسلامی "توسعه یکپارچه" را بنا نهاد.

 

_ روابط با جمهوری اسلامی ایران

اندونزی در طول جنگ سیاست بی­طرفی را اتخاذ و در سالهای آخر جنگ نیز از اجرای کامل قطعنامه 598 حمایت می­کرد. در این مدت اندونزی تلاش نمود ضمن باز نگاه داشتن باب مراوده با ایران، به نحوی عمل کند که به روابط این کشور با کشورهای بزرگ لطمه­ای وارد نیاید، با اینحال با پایان یافتن جنگ تحمیلی و بروز تمایل و حسن نیت جمهوری اسلامی ایران مبنی بر توسعه روابط با کشورهای همسایه و دوست، رابطه دو کشور افزایش یافته است.

 _ چگونگی موضع­گیری در سازمانهای بین­المللی بر له یا علیه جمهوری اسلامی ایران

در مجموع ایران و اندونزی نسبت به درخواستهای حمایت از یکدیگر در سازمانهای بین­المللی جواب مثبت داده­اند. در بسیاری موارد شاهد بوده­ایم که دودولت با توافقات صورت داده از مواضع یکدیگر در سازمانهای بین­المللی حمایت کرده­اند که مشخص ترین آن حمایتهای اندونزی از مواضع جمهوری اسلامی ایران در قبال مسئله فلسطین بوده است.


نوشته شده در تاريخ 2014/1/28 توسط عسکری ممتاز

در خبرها آمده بود که ملک عبدالله، پادشاه عربستان، در جمع فرماندهان و مسئولان امنیتی این کشور گفت: «فتنه از همه طرف عربستان را احاطه کرده است و دشمنان عربستان در کمین نشسته‌اند تا امنیت کشور را برهم بزنند و وحدت موجود میان ملت عربستان را از بین ببرند و هیچ راهی برای مقابله با فتنه موجود جز رویارویی با آن وجود ندارد.» وی افزود: «دشمنان قصد دارند از تحولات منطقه سوءاستفاده کنند، اما باید در مقابل این‌گونه اقدامات ایستاد»! آنچه پادشاه سعودی را به اعتراف دیرهنگام مبنی بر احاطه نارضایتی‌ها(به گمان وی فتنه) واداشته، مسئله‌ای است که باید مورد موشکافی دقیق قرار گیرد و متن حاضر به اختصار به این مسئله می‌پردازد.

بیداری اسلامی و مواضع آل‌سعود

با وقوع تحولات موسوم به بیداری اسلامی در غرب آسیا(خاورمیانه) و شمال آفریقا، از همان ابتدا دو جبهه غرب و ارتجاع عرب که منافع خود را در خطر می‌دیدند، با همدستی یکدیگر، تمام تلاش خود را برای ناکام گذاشتن این انقلاب‌ها از طریق ایجاد انحراف در اهداف انقلاب‌ها و مهندسی هدفمند آن با استفاده از مهره‌چینی نیروهای خود به‌کار گرفتند. جبهه غرب و استعمار که ماهیت آن، قرن‌هاست برای آگاهان به مسائل سیاسی هویدا شده؛ اما ارتجاع عرب که گاه خود را در پس الفاظی چون ام‌القرا، خادم‌الحرمین و... پنهان کرده بودند، اکنون آشکارا به مقابله با این تحولات پرداخته‌اند تا مانع از سرایت بیداری اسلامی به کشورهای خود گردند ولی روند تحولات به گونه‌ای بود که برخی تحلیل‌گران را بر آن داشت تا از احتمال سرایت این تحولات به کشورهای مرتجع نیز سخن به میان بیاورند که عربستان سعودی از جمله این کشورهاست.

با وقوع تحولات موسوم به بیداری اسلامی در غرب آسیا(خاورمیانه) و شمال آفریقا، از همان ابتدا دو جبهه غرب و ارتجاع عرب که منافع خود را در خطر می‌دیدند، با همدستی یکدیگر، تمام تلاش خود را برای ناکام گذاشتن این انقلاب‌ها از طریق ایجاد انحراف در اهداف انقلاب‌ها و مهندسی هدفمند آن با استفاده از مهره‌چینی نیروهای خود به‌کار گرفتند.

عربستان از همان روزهای نخست تحولات منطقه با موضع‌گیری دلسوزانه و در ظاهر با حمایت نیم‌بند از اعتراضات مردمی، مواضع و عملکرد متناقض و منافقانه خود را نیز پیگیری می‌کرد، به‌طوری‌که پادشاه این کشور در اسفند 90 مدعی شد حوادثی که در جهان عرب روی می‌دهد، اسلام و اعراب را هدف قرار داده است؛ اما خداوند تمام کسانی را که این اقدامات را انجام می‌دهند، از بین برده و در آینده از بین خواهد برد!

اهم مواضع متناقض حکام آل‌سعود در تحولات بیداری اسلامی در محورهای زیر قابل احصا است:

1- پناه دادن به زین‌العابدین بن‌علی، دیکتاتور فراری تونس و لیلی طرابلسی، همسر بن‌علی؛

2- پناه دادن به علی عبدالله صالح، دیکتاتور جنایتکار یمن و مداوای وی در عربستان؛

3- حمایت مالی از جریان‌های مشکوک در تونس برای انحراف در انقلاب تونس؛

4- حمایت آشکار از حسنی مبارک، دیکتاتور مخلوع مصر؛

5- دخالت آشکار از جریان‌های سلفی و خط‌دهی سیاسی به آن‌ها برای به‌دست آوردن رأی در انتخابات ریاست‌جمهوری مصر؛

6- سنگ‌اندازی در روابط بین ایران و مصر، تونس و لیبی از طریق به میان کشیدن مباحث عربی – عجمی و شیعه – سنی کردن تحولات؛

7- بسیج تمام امکانات تبلیغاتی (رسانه‌ای و صدور فتواهای دینی)، مالی و تسلیحاتی خود در حمایت از دیکتاتورهایی مثل مبارک، بن‌علی، عبدالله صالح و آل‌خلیفه؛

8- لشکرکشی نظامی به بحرین و کشتار شیعیان مظلوم این کشور برای حفظ آل‌خلیفه به‌عنوان یکی از متحدان راهبردی خود؛

9- ایجاد یک جبهه مصنوعی در سوریه به‌عنوان یکی از محورهای مقاومت برای سرگرم کردن ایران و جبهه مقاومت و ارسال سلاح برای گروه‌های معارض دولت سوریه و شیعه و سنی کردن تحولات این کشور برای یارگیری.

آل‌سعود از چه می‌ترسد؟

عربستان سعودی از جمله کشورهایی بود که با وزیدن نسیم بیداری اسلامی، احتمال سرایت تأثیرات این تحولات بر این کشور به‌دلیل بسته بودن فضای سیاسی، متصور بود؛ اما این کشور به مدد دلارهای نفتی و چشم‌پوشی غرب از فساد سیاسی و اقتصادی خاندان آل‌سعود و حمایت بی‌قید و شرط غرب و دو شیوه تطمیع و خریدن وفاداری مردم، توانسته است تا حدودی سیر تحولات را به تأخیر بیندازد اما به عقیده ناظران، این کشور به دلایل زیر هرگز نخواهد توانست بر این مشکلات - که امروز ملک عبدالله از آن به‌عنوان احاطه فتنه‌ها یاد می‌کند - فائق آید:

1- به هم خوردن توازن قوا؛ بدون تردید یکی از پیامدهای آشکار بیداری اسلامی علاوه بر شعارها و نمادهای دینی مستتر در آن، روند ضد دیکتاتوری است که بیش از همه، تاج و تخت پادشاهان و سلاطین مادام‌العمر عربی را هدف قرار داده است. با سقوط بن‌علی، مبارک، قذافی، عبدالله صالح و تهدیدهای پیش روی آل‌خلیفه، عربستان متحدان منطقه‌ای خود را از دست داده است و محور مصر - عربستان دیگر محلی از اعراب ندارد و این موضوع بیش از هر چیز، توازن قوا را در منطقه به ضرر جبهه ارتجاع عرب به سردمداری آل‌سعود تغییر داده است و سخنان اخیر ملک عبدالله در ابتدای مقاله، دال بر این موضوع است. حقیقت این است که روند بیداری اسلامی، تشکیل جبهه‌ای مردمی اسلامی علیه جبهه غربی - عربی را نشان می‌دهد و اگرچه کشورهای غربی سعی دارند مهندسی این تحولات را مدیریت کنند تا با موج‌سواری، روند حوادث را به نفع خود مصادره کنند؛ اما به‌نظر می‌رسد نوع حوادث به وقوع پیوسته، چیز دیگری را نشان می‌دهد که همان تضعیف جبهه ضد مقاومت (غربی - عربی) است.

2- تعمیق اعتراضات و مطالبات عمومی؛ این اعتراضات که همزمان با اعتراضات در دیگر کشورهای دیکتاتور عرب آغاز شد، اکنون نه‌تنها مهار نشده، بلکه از منطقه شیعه‌نشین الشرقیه (قطیف، الاحساء و...) به دیگر مناطق مانند ریاض، عسیر، مدینه و شهرهای دیگر سرایت کرده و سرکوب شدید مطالبات مسالمت‌آمیز شهروندان ضمن اینکه تصویر شفافی از وحشی‌گری خاندان حاکم بر این کشور و بی‌توجهی‌اش به قوانین بین‌المللی و نقض آشکارحقوق بشر را به نمایش گذاشته، نتوانسته است معترضان را به عدم اعتراض متقاعد سازد و دستگیری علما و شهادت عده زیادی از شهروندان، به ادامه این روند شدت بخشیده است.

3- اختلافات داخلی خاندان آل‌سعود؛ خاندان قدرت‌طلب سعودی که از هیچ کوششی برای حفظ و توسعه قدرت دریغ نمی‌کنند، اکنون برای تقسیم قدرت دچار اختلافات عدیده داخلی شده‌اند و تشدید تنش‌های درون کاخ‌ها به‌گونه‌ای بوده که به‌راحتی به بیرون درز کرده و دیگر گریزی از کتمان و پنهان کردن آن‌ها نیست. این اختلافات در انتخاب نایف و سپس سلمان بن‌عبدالعزیز به ولیعهدی، بیشتر خودنمایی کرد.

 

4- پیر و فرتوت بودن سلاطین و امرا؛ پس از مرگ نایف و انتخاب سلمان به ولیعهدی اکنون دیگر فرزندان عبدالعزیز همه پیر و فرتوت شده‌اند و از 36 پسر عبدالعزیز، اکنون 18 پسر آن زنده‌اند که همگی در سنین بالا و در نوبت مرگ هستند. از ملک عبدالله 88 ساله تا امرای استان‌ها (محافظ) همگی با امراض مختلف جسمی دست‌وپنجه نرم می‌کنند و این موضوع می‌تواند به‌عنوان یک تهدید تلقی شود چراکه علاوه بر تشدید اختلافات بر سر قدرت، به‌دلیل عدم کادرسازی در سطوح بالا، می‌تواند کشور را با یک خلأ جدی مواجه کند و چه‌بسا کشور را به سوی هرج و مرج آشکار سوق دهد .

عربستان از همان روزهای نخست تحولات منطقه با موضع‌گیری دلسوزانه و در ظاهر با حمایت نیم‌بند از اعتراضات مردمی، مواضع و عملکرد متناقض و منافقانه خود را نیز پیگیری می‌کرد، به‌طوری‌که پادشاه این کشور در اسفند 90 مدعی شد حوادثی که در جهان عرب روی می‌دهد، اسلام و اعراب را هدف قرار داده است؛

به‌نظر می‌رسد علاوه بر موارد مذکور، اینکه امروز عربستان خود را در محاصره انقلاب‌های منطقه به‌خصوص بحرین و یمن می‌بیند که عمدتاً این دو کشور از ایران تأثیرپذیری فراوانی دارند، بر وحشت خاندان آل‌سعود افزوده است؛ چراکه احتمال تسری این اعتراضات به عربستان نیز فراوان است و نشانه‌های قوی آن مدت‌هاست که در شرق عربستان و حتی در پایتخت آن پدیدار شده و خواب را از چشم خاندان فاسد آل‌سعود گرفته است. اگر این عوامل را در کنار هم گذاشته و تجزیه و تحلیل کنیم، به‌خوبی به عمق سخنان پادشاه سعودی مبنی بر اینکه عربستان را فتنه احاطه کرده است، پی می‌بریم.  باتشکر نویسنده: حسن احمدی


نوشته شده در تاريخ 2013/3/30 توسط عسکری ممتاز

الف) موقعیت جغرافیایی فدک

فدک دهکده ای در شمال مدینه بود که تا آن شهر دو یا سه روز راه فاصله داشت .[1] این دهکده در شرق خیبر و در حدود هشت فرسنگی[2] آن واقع بود و ساکنانش همگی یهودی شمرده می شدند . امروزه فاصله خیبر تا مدینه را حدود 120 یا 160 کیلومتر ذکر می کنند[3] .

ب) فدک و رسول خدا (ص(

در سال هفتم هجرت، پیامبر خدا (ص( برای سرکوبی یهودیان خیبر که علاوه بر پناه دادن به یهودیان توطئه گر رانده شده، از مدینه به توطئه و تحریک قبایل مختلف علیه اسلام مشغول بودند، سپاهی به آن سمت گسیل داشت و پس از چند روز محاصره دژهای آن راتصرف کرد .

پس از پیروزی کامل سپاه اسلام - با آن که اختیار اموال و جان های شکست خوردگان همگی در دست پیامبر (ص) قرار داشت - رسول خدا (ص) با بزرگواری تمام، پیشنهاد آنان را پذیرفت و به آن ها اجازه داد نصف خیبر را در اختیار داشته باشند و نصف دیگر از آن مسلمانان باشد . بدین ترتیب، یهودیان در سرزمین خود باقی ماندند تا هر ساله نصف درآمد خیبر را به مدینه ارسال دارند .

با شنیدن خبر پیروزی سپاه اسلام، فدکیان که خود را همدست خیبریان می دیدند، به هراس افتادند; اما وقتی خبر برخورد بزرگوارانه پیامبر (ص) با خیبریان را شنیدند، شادمان شدند و از رسول خدا (ص) خواستند با آنان همانند خیبریان رفتار کند . پیامبر خدا (ص) این درخواست را پذیرفت[4] .

ج) تفاوت فقهی حکم خیبر و فدک

رفتار رسول خدا درباره فدک و خیبر یکسان می نماید; ولی این دو سرزمین حکم همسان ندارند . مناطقی که به دست مسلمانان تسخیر می شود، دو گونه است:

- 1   مکان های که با جنگ و نیروی نظامی گشوده می شود . این سرزمین ها که در اصطلاح مفتوح العنوة  (گشوده شده با قهر و سلطه) خوانده می شود، به منظور تقدیر از تلاش جنگجویان مسلمان در اختیار مسلمانان قرار می گیرد و رهبر جامعه اسلامی چگونگی تقسیم یا بهره برداری از آن را مشخص می سازد[5] . منطقه خیبر، جز دو دژ آن به نامه های وطیح  و سلالم  ،[6]  این گونه بود .

-2  مکان هایی که با صلح گشوده می شود; یعنی مردم منطقه ای با پیمان صلح خود را تسلیم می کنند و دروازه های خود را به روی مسلمانان می گشایند . قرآن کریم اختیار این نوع سرزمین ها را تنها به رسول خدا (ص) سپرده است[7] و مسلمانان در آن هیچ حقی ندارند .

فدک و دو دژپیش گفته خیبر این گونه فتح شد . بنابراین، ملک رسول خدا (ص) گشت . طبری مورخ بزرگ می گوید: و کانت فدک خالصة لرسول الله (ص) لانهم لم یجلبوا علیها بخیل و لا رکاب[8]; فدک ملک خالص پیامبر خدا (ص) بود . زیرا مسلمانان آن را با سواره نظام و پیاده نظام نگشودند .

د) ارزش اقتصادی فدک

درباره ارزش اقتصادی فدک بسیار سخن گفته اند . برخی از منابع شیعی درآمد سالیانه آن را بین بیست و چهار هزار تا هفتاد هزار دینار نوشته اند[9]  و برخی دیگر، نصف در آمد سالیانه آن را 24هزار دینار نگاشته اند . ابن ابی الحدید معتزلی[10]  از یکی از متکلمان امامی مذهب چنان نقل می کند که ارزش درختان خرمای این ناحیه با ارزش درختان خرمای شهر کوفه در قرن هفتم برابر بود[11] .

به نظر می رسد می توان تا حدودی ارزش واقعی اقتصادی آن را از یک گزارش تاریخی زمان خلافت عمربن خطاب دریافت . وقتی خلیفه دوم تصمیم گرفت فدکیان یهودی را از شبه جزیره عربستان اخراج کند، دستور داد نصف فدک را که سهم آنان بود، از نظر زمین و درختان و میوه ها قیمت گذاری کنند . کارشناسان ارزش آن را پنجاه هزار درهم تعیین کردند و عمر با پرداخت این مبلغ به یهودیان فدک، آن ها را از عربستان بیرون راند[12] .

بنابراین، می توان ارزش اقتصادی فدک در زمان رسول خدا (ص( و ابوبکر را چیزی نزدیک به این مقدار دانست .

اختلاف حضرت زهرا (س) با حکومت بر سر فدک چگونه بود؟

گزارش های منابع شیعی و سنی نشان می دهد حضرت زهرا (س( و حکومت هر یک دو ادعا درباره فدک داشتند.

الف) ادعاهای حضرت زهرا (س(

چنان که نزد شیعیان مشهور است، حضرت زهرا (س) فدک را ملک خود می دانست و برای اثبات مالکیت خود دو راه را به صورت طولی پیمود; یعنی وقتی از راه اول نتیجه نگرفت سراغ راه دوم رفت .[13] این دو راه عبارت است از بخشش و ارث .

 -1  بخشش (نحله(

عمده منابع شیعی و نیز منابع متعدد اهل سنت این نکته را بیان می کنند که نیمی از فدک در سال هفتم هجری به ملکیت شخص پیامبر اکرم (ص) درآمد و پیامبر (ص) - طبق آیه و آت ذالقربی حقه;[14] حق خویشان خود را بپرداز - آن را به حضرت فاطمه زهرا (س) بخشید[15] .

حضرت فاطمه (س) پس از پیامبر اکرم (ص) برای اثبات این ادعا حضرت علی (ع( و ام ایمن را گواه قرار داد . حکومت سخن حضرت زهرا (س) را نپذیرفت و بااین بهانه که اولا حضرت علی (ع) در این گواهی صاحب نفع است و ثانیا - حتی اگر شهادت علی (ع) پذیرفته شود - در اثبات امور مالی گواهی دو مرد یا یک مرد و دو زن لازم است، گواهی امام علی (ع) و ام ایمن را رد کرد .[16]

نقد رای دستگاه خلافت

کردار حکومت از نظر قوانین و سنت اسلامی مردود است; زیرا:

 -1  در آن زمان فدک در دست حضرت فاطمه (س) بود . در آیین دادرسی پیامبر اکرم (ص) - البینة علی المدعی و الیمین علی من انکر شاهد آوردن وظیفه مدعی و سوگند خوردن وظیفه منکر است . پس حضرت منکر به شمار می آمد و باید سوگند می خورد دیگری در این ملک حقی ندارد .

 -2  با توجه به آیه تطهیر[17] که مفسران شیعه و سنی شان نزول آن را درباره اهل بیت پیامبر اکرم (ص) می دانند،[18]  اهل بیت آن حضرت (ع) از هر گونه رجس و پلیدی دورند; و بدیهی است که مصداق این آیه نمی تواند ادعای نادرست مطرح کند .

 -3   محدثان شیعه و سنی بر این نکته اتفاق دارند که پیامبر اکرم (ص) درباره حضرت فاطمه زهرا (س) فرمود: ان الله یغضب لغضبها و یرضی لرضاها[19] خداوند برای خشم فاطمه خشمگین و برای خشنودی اش خشنود می شود . این جمله که حکومتگران نیز آن را شنیده بودند، نشان می دهد فاطمه (س) در همه شؤون زندگانی اش جز در مسیر خداوند گام بر نمی دارد و بی تردید چنین فردی هرگز ادعای دروغ بر زبان نمی راند .

4  - شاهد ادعاهای حضرت زهرا (س) شخصیتی مانند علی (ع) است که با آیاتی چون آیه ولایت[20]  و آیه تطهیر تایید گردیده و در آیه مباهله به منزله نفس پیامبر (ص) مطرح شده است[21] . افزون بر این، با بیش ترین تاییدات از سوی پیامبر (ص) روبه رو است . تنها حدیث علی مع الحق و الحق مع علی یدور حیث مادار[22];  علی با حق است و حق با علی است و حق بر محور علی می گردد . برای اثبات درستی گفتار و کردارش کافی است

این روایات در جامعه آن روز شایع بود و مسلما حکومتگران با آن ها آشنا بودند . بی تردید رد کردن شهادت چنین گواهی نشان دهنده بی اعتنایی به آیات و روایات و یا دست کم نا آگاهی از آن ها است . راستی آیا روا است تصور کنیم شخصیتی که از آغاز اسلام همه هستی اش را خالصانه در طبق اخلاق گذاشته و به درگاه خداوند پیشکش کرده است، بخواهد به سود همسرش گواهی دهد .

آیا می توان کسی را که در طول زندگانی اش از دنیا به حداقل اکتفا و اموال خود را عمدتا وقف کرده است، به دنیاطلبی و گواهی دروغین متهم کرد؟

5  - در میان اصحاب پیامبر خدا (ص) به نام خزیمة بن ثابت می خوریم که به جهت شدت ایمانش پیامبر (ص) او را به لقب ذوالشهادتین  مفتخر کرد و گواهی اش را با گواهی دو شاهد برابر شمرد[23] .

اگر پیامبر (ص) شهادت چنین شخصی را در همه موارد با گواهی دو شاهد برابر دانست، چرا حاکم پس از او نمی تواند گواهی حضرت علی (ع) را که به مراتب از خزیمه  برتر است، با شهادت دو شاهد برابر بداند؟

 -6  به گواهی حکومتگران، پیامبر خدا (ص) ام ایمن  را زن بهشتی معرفی کرد [24]واضح است چنین شخصیتی هیچ گاه گواهی دروغ نمی دهد .

در این جا از نظر تاریخی پرسشی اساسی رخ می نماید: به راستی اگر پیامبر اکرم (ص) فدک را به حضرت فاطمه )س) بخشیده بود، چرا آن حضرت (س) نتوانست شاهدان بیش تر بیاورد، با آن که از نظر زمان حدود چهار سال (7 - 11ه) فدک در اختیار وی قرار داشت؟

در پاسخ به این پرسش باید یاد آور شد:

-1   گزارش های این واقعه نشان می دهد این بخشش درون خانوادگی بوده و پیامبر (ص) صلاح ندید آن را آشکارا برای مردم اعلام کند . حضرت (ص) تنها افراد بسیار نزدیک را بر این امر گواه گرفت و حتی مصلحت ندید افرادی مانند عباس (عموی رسول خدا) و همسرانش را شاهد این بخش قرار دهد .

مصالح این امر را می توان اموری چون متهم شدن به ترجیح خانواده، حسادت های درون خانوادگی یا بالا رفتن سطح توقع بعضی از همسران دانست .

2  - ممکن است جمعی از شاهدان، با توجه به حاکمیت وقت، از شهامت لازم برای گواهی دادن بی بهره بودند; چنان که اکثریت جامعه آن روز از ابراز نص غدیر خم خودداری می کردند .

3  - گزارش های این واقعه نشان می دهد حضرت فاطمه زهرا (س) در زمان حیات پدر بزرگوارش - با توجه به این که در آمد فدک بسیار فراتر از نیازهایش بود، نیاز جامعه مسلمان آن روز و عدم امکان حضور فعال حضرتش در تدبیر اقتصادی آن سامان - اختیار آن را کلا به پدر واگذار کرد تا خود هر گونه صلاح می داند مازاد درآمد آن را مصرف کند . با این واگذاری بسیاری چنان پنداشتند که تصرفات پیامبر (ص) در فدک تصرفاتی حاکمانه و به عنوان رهبر جامعه مسلمانان است، در حالی که در واقع آن حضرت (ص) همه این امور را به نحو وکالت تام الاختیار از جانب دختر گرانقدرش انجام می داد .[25]

2  - ارث

پس از آن که حکومت شهادت گواهان حضرت (س) را نپذیرفت، حضرت زهرا (س) از راه دیگر وارد شد و از حکومت خواست میراث پدرش را که فدک نیز بخشی از آن است،[26] به او واگذار کند و در این مورد به نص آیه قرآن درباره ارث متمسک شد: یوصیکم الله فی الولادکم للذکر مثل حظ الانثیین .[27] خداوند به شمار درباره [ارث] فرزندانتان سفارش می کند که سهم پسر دو برابر دختر است . . . .

ظاهر این آیه عام است و انبیا و غیر انبیا را شامل می شود . ابوبکر در برابر این آیه چنان استدلال کرد که انبیا از خود ارث باقی نمی گذارند . حضرت زهرا (س) فرمود: چگونه است که هر گاه تو درگذشتی فرزندانت از تو ارث می برند; اما ما از رسول خدا (ص) ارث نمی بریم؟[28] ! آن گاه به آیات دیگر قرآن که در موارد مختلف از ارث پیامبران گذشته سخن به میان آورده است، تمسک جست; مانند آیه ششم سوره مریم و آیه شانزدهم سوره نمل . در آیه ششم سوره مریم، حضرت زکریا بیان می دارد که خداوندا، من از خویشانم که پس از من وارثانم خواهند شد، بیمناکم . . . پس فرزندی به من عطا کن که از من و آل یعقوب ارث برد[29] . در آیه شانزدهم سوره نمل از ارث بردن سلیمان پیامبر، از پدرش داوود پیامبر سخن به میان آمده است[30] . سؤالی که در این جا به ذهن می رسد، آن است که اگر حضرت زهرا (س) می توانست فدک را از طریق ارث به دست بیاورد، باید می دانست پیامبراکرم (ص)وارثان شرعی دیگری به عنوان همسران دارد و فدک تنها از آن حضرت (س) نمی گشت . پس چرا از ابوبکر می خواهد تمام فدک را از طریق ارث به او واگذار کند؟

در پاسخ باید گفت:

-1   حضرت (س) تمام فدک را شرعا از آن خود می دانست و چون ادعای بخشش او را نپذیرفتند، به ادعای ارث متوسل شد .

 -2 اگر آن را از راه ارث به او می دادند، در این هنگام طبق قانون ارث اسلام تنها 18 آن میان تمام همسران پیامبر (ص) تقسیم می شد[31] و 78 آن به حضرت (س) می رسید . بنابراین، طبیعی می نمود که حضرت (س) به جهت فراوانی سهمش ادعای خود را در ظاهر به صورت کلی بیان دارد .

ب) ادعاهای حکومت

حکومت در مقابل حضرت (س) عمدتا دو ادعا مطرح کرد:

-1   صدقه بودن فدک

معنای این عبارت آن است که پیامبر اکرم (ص) فدک را به کسی نبخشید و با آن به گونه صدقه جاریه برخورد کرد; یعنی رسول خدا (ص) از درآمد فدک زندگانی شخصی حضرت فاطمه زهرا (س) و دیگر بنی هاشم را تامین می کرد و مازاد آن را در راه خدا به مصرف می رساند[32] .

از آن جا که ابوبکر خود را جانشین مشروع پیامبر اکرم (ص) می دانست، می خواست با در اختیار گرفتن فدک، این مشروعیت ادعایی را برای همگان به اثبات برساند و چنان اعتقاد داشت که چشم پوشی از این زمین نوعی خلل در مشروعیت حکومتش پدید می آورد .

این ادعا با چالش های زیر روبه رو است:

-1   ظاهر آیه هفتم سوره حشر که قبلا به آن اشاره شد، آن است که این سرزمین از سوی خداوند ملک پیامبر اکرم (ص) قرار گرفت .

2 - روایات شیعه و سنی بر این نکته تصریح دارند که بانزول آیه و آت ذالقربی حقه  پیامبر اکرم (ص) این زمین را به صورت بخشش به فاطمه زهرا (س) واگذار کرد . جالب آن است در آیه از حق ذالقربی (خویشان نزدیک) سخن به میان آمده و آن را حق ایشان دانسته است .[33]

 -3  حتی اگر ظاهر رفتار پیامبر (ص) چیزی غیر از ملکیت و عدم بخشش را نشان دهد، وقتی شخصیتی مانند حضرت فاطمه (س) به همراه شاهدانی چون حضرت علی (ع) و ام ایمن ادعای بخشش می کنند باید ادعای آن ها بر ظاهر رفتار پیامبر مقدم شود .

-4  حتی اگر بپذیریم این ملک در زمان پیامبر اکرم (ص) صدقه بود، لزوما معنای آن این نیست که حکومت جانشین پیامبر اکرم (ص) سرپرست این صدقه خواهد بود; زیرا ممکن است آن را صدقه ای خانوادگی و در اصطلاح نوعی وقف خاص بدانیم که متولی آن افرادی از خود آن خاندانند .

چنان که طبق بعضی از گزارش های اهل سنت، عمر در زمان حکومت خود فدک را به حضرت علی (ع)و عباس واگذار کرد تا خود در میان خود همانند پیامبر اکرم (ص) با این سرزمین رفتار کنند .[34]

-5   حتی اگر تصرفات پیامبر اکرم (ص) راتصرفاتی حاکمانه بدانیم و معتقد باشیم آن حضرت به عنوان حاکم مسلمانان سرپرستی این ملک را به عهده گرفت، باید توجه داشت در آن زمان مهم ترین چالش میان حکومت و اهل بیت (ع) مشروعیت حکومت بود که اهل بیت (ع) آن را طبق نصوص پیامبر اکرم (ص) نمی پذیرفتند . در این موقعیت، بدیهی بود زیر بار لوازم این مشروعیت نیز نروند و به عهده گرفتن سرپرستی فدک از سوی حکومت را نپذیرند .

2  - حدیث نفی ارث پیامبران

منظور از این حدیث، روایتی است که ابوبکر آن را از پیامبر اکرم (ص) چنین نقل کرد: انا معاشر الانبیاء لانورث ما ترکناه صدقة[35]  ما جماعت پیامبران از خود ارث باقی نمی گذاریم . هر چه از ما ماند، صدقه است  .

درباره این حدیث باید یادآور شد:

 -1  تا آن زمان این حدیث را جز ابوبکر هیچ کس نشنیده بود . بسیاری از محدثان نیز بر این نکته اتفاق نظر دارند که راوی این حدیث تنها ابوبکر بود . البته بعدها پشتیبانانی چون مالک بن اوس یافت و در دهه های بعد عمر، زبیر، طلحه و عایشه نیز در شمار مؤیدان آن جای گرفتند .[36]

 -2  ابوبکر با نقل این حدیث ناقل سخن پیامبر اکرم (ص) بود و در طرف مقابل، حضرت فاطمه (س) و حضرت علی (ع) و ام ایمن ناقل سخن و کردار پیامبر اکرم (ص) مبنی بر بخشش فدک بودند . بدیهی است باتوجه به فزونی شمار ناقلان در این سمت و نیز شخصیت آن ها که بیش ترین تاییدات را از سوی پیامبر اکرم (ص) دارایند، باید قول آن ها بر قول ابوبکر مقدم شود .

 -3 این حدیث با آیات متعددی از قرآن که در آن میراث انبیا مطرح شده است، منافات دارد و بدیهی است نمی توان تنها با یک حدیث در مقابل این آیات صریح ایستادگی کرد .

 -4  اگر طبق این حدیث معتقد شویم پیامبر اکرم (ص) هیچ گونه مالی به ارث نگذاشت، چگونه است که طبق نقل اهل نت بعضی از اموال آن حضرت (ص) مانند وسایل شخصی و نیز حجره های آن حضرت (ص) به ارث می رسید؟[37] .

 

 



.[1] معجم البلدان، یاقوت حمومی، ج 5و6، ص 417 .

[2] . دانشنامه امام علی (ع)، ج 8، ص 355

[3] . همان، ص 351 .

[4] . تاریخ الطبری، محمدبن جریر طبری، ج 2، ص 302و303; فتوح البلدان، ابوالحسن بلاذری، ص 42; السقیفة و فدک، ابوبکر احمدبن عبدالعزیز جوهری، ص 97 .

[5] . الاحکام السلطانیة، ابوالحسن ماوردی، ص 139 .

[6] . تاریخ الطبری، ج 2، ص 302 .

[7] . حشر (59) : 6.

[8] . تاریخ الطبری، ج 2، ص 302 .

[9] . بحارالانوار، مجلسی، ج 29، ص 123 .

[10] . همان، ص 116

[11] . شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج 16، ص 236.

[12] . السقیفة و فدک، ص 98.

.[13] النص و الاجتهاد، سید عبدالحسین شرف الدین، ص 61.

.[14] اسرا (17) 26 .

[15] . شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 268و275 ..

.[16] همان، ص 214و220; فتوح البلدان . ص 44 .

[17] . احزاب (33) : 33 .

[18] . فدک فی التاریخ، شهید سیدمحمدباقر صدر، ص 189 .

[19] . برای اطلاع از مصادر این حدیث در کتب اهل سنت مراجعه شود به: فدک فی التاریخ، ص 118 .

[20] . مائده (5) : 55 .

[21] . بحارالانوار، مجلسی، ج 29، ص 123 .

[22] . موسوعة الامام علی بن ابی طالب (ع)، ج 2، ص 237 - 243

[23] . شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 273 .

[24] . الاحتجاج، طبرسی، ج 1، ص 121 .

.[25] شهید صدر احتمالاتی چون دوری فدک از مدینه و امکان عدم اطلاع مدنیان و نیز احتمال کشته شدن شاهدان ا حتمالی را ابراز می دارد . فدک فی التاریخ، ص 187.

.[26] شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 217 .

.[27] نساء (4) : 11 .

[28] . شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 218و251 ..

[29] . واضح است، با توجه به بیمناکی حضرت زکریا از وارثان فعلی خود، مراد او از ارث در این جا ارث در امور مالی است نه ارث نبوت و حکمت که این دو قابل ارث نیستند و خدا به هر کس بخواهد عطا می کند .

[30] . الاحتجاج، طبرسی، ج 1، ص 144 .

[31] . نساء (4) : 12 .

[32] . شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 216و219و225 ..

.[33] شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 268و.275 .

.[34] همان، ص 221 - 223 .

[35] . همان، ص 218 .

.[36] همان، ص 221 - 227 .

.[37] فدک فی التاریخ، ص 149 .


نوشته شده در تاريخ 2013/1/31 توسط عسکری ممتاز
   کلونجی کے فوائد

کلونجی کے متعلق ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے اور زمانہ قدیم سے یہ اطباء کے زیر استعمال بھی رہی ہے مگر فی زمانہ اب اس کے استعمال میں کمی کی وجہ اس سے متعلق معلومات کا مفقودہونا ہےآج ہم کلونجی پر بات کریں گے یہ ایک خودرو پودا ہے جو تقریبا 35 سے 40 سنیٹی میٹر تک ہوتا ہے، ایک طرح کی گھاس سے مشابہت رکھتا ہے اسکا پھول زردی مائل ہوتا ہے، اور اسکے بیچوں کا رنگ سیاہ ہوتا ہے ہمارے یہاں یہ اچار اور چٹنی میں استعمال ہوتا ہے اس کی خوشبو تیز اور تاثیر ایک محتاط اندازے کے مطابق 7 سے 9 سال تک قائم رہتی ہے یہ بہت سریع الاثر ادویات کے زمرے میں آتی ہےقدیم یونانی اور عرب حکما نے اس کو رومیوں سے حاصل کیا کیونکہ رومی اس کے استعمال سے بخوبی واقف تھے پھر یہ ساری دنیا میں کاشت ہونے لگا۔کلونجی کے بیج معدہ اورپیٹ کےامراض مثلا پیٹ میں ریاح گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، کثرت ایام، استقاء، یادداشت میں کمی رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے رہے ہیںٍ،ہیں۔ رسول اللہ ۖ کے حوالے سے کتب سیرت میں ملتا ہے کہ آپ ۖ  شہد کے شربت کے ساتھ کلونجی کا استعمال فرماتے تھے۔ حضرت سالم بن عبداللہ (رض) اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا تم ان کالے دانوں کو اپنے اوپرلازم کرلو ان میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے۔کلونجی کی یہ اہم خاصیت ہےکہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے۔ جبکہ اسکا اپنا مزاج گرم ہے اورسردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے۔کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لیے اکسیرکا درجہ رکھتی ہے، ریاح گیس اور قبص میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کےبعد پیٹ میں بھاری پن گیس ریاح بھرجانے اور اپھارہ کی شکایت محسوس ہوتی ہو ایسےحضرات کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کےبعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدہ کی اصلاح بھی ہوگی۔ کلونجی کو سرکہ کے ساتھ ملا کر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں جب تھوڑی سی سردی لگنے سے زکام ہونے لگتاہے تو ایسی صورت میں کلونجی کو بھون کر باریک پیس لیں اور کپڑے میں باندھ کر پوٹلی بنا کر باربار سونگھنے سے زکام دور ہوجاتا ہے۔ اگر چھینکیں آرہی ہوں تو کلونجی بھونکر باریک پیس کر روغنِ زیتون میں ملا کر اس کے تین چار قطرے ناک میں ٹپکانے سےچھینکیں جاتی رہتی ہیں۔کلونجی مدر بول( پیشاب آور) بھی ہے اس کا جوشاندہ شہد ملا کرپینےسے گردہ و مثانہ کی پتھری بھی خارج ہوجاتی ہے۔ اگر دانتوں میں ٹھنڈا پانی لگنےکی شکایت ہوتو کلونجی کو سرکہ میں ملا کر کلیاں کرانے سے فائدہ ہوتا ہے۔چہرے کی رنگت میں نکھار پیداکرنے کے لیے باریک پیس کر گھی میں ملا کر چہرے پر لیپ کرنے سےفائدہ ہوتا ہے۔ آج کل نوجوان لڑکے لڑکیوں میں کیل دانوں اورمہاسوں کی شکایت عام ہےاور مختلف بازاری کریمیں استعمال کرکے چہرے کی جلد کو خراب کرلیتے ہیں۔ ایسے نوجوان کلونجی باریک پیس کر سرکہ میں ملا کر سونےسے قبل چہرے پر لیپ کر لیا کریں اور صبح اٹھ کر چہرہ دھولیا کریں۔ چند دنوں میں ہی اچھے اثرات سامنے آئیں گے۔اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرہ کی رنگت صاف اور مہاسے ختم ہونگے بلکہ جلد میں نکھار بھی آئےگا۔جلدی امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے۔جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کوتوے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانےسے نہ صرف زخم مندمل ہوجائیں گے بلکہ نشان بھی جاتے رہیں گے۔ جو خواتین ایام رضاعت میں ہوں اور چھوٹے بچوں کو اپنا دودھ پلا رہی ہوں اور ان کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو جس سے ان کا بچہ بھوکارہ جاتا ہوںتو ایسی خواتین کلونجی کو چھ دانے صبح نہار منہ و رات سونے سے قبل دودھ کے ساتھاستعمال کرلیا کریں تو ان کے دودھ کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا البتہ حاملہ خواتین کوکلونجی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔جن خواتین کو ماہانہ ایام کم آتے ہوںیا درد کے ساتھ آتے ہوں، پیشاب کم یا تکلیف کے ساتھ آتا ہو، وہ کلونجی کا سفوف تین گرام روزانہ استعمال کرلیا کریں ماہانہ ایام کا نظام درست ہوجائے گا۔اعصابی دباؤ اور تناؤ میں مبتلا لوگ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کرلیاکریں۔چند دنوں میں بہتر محسوس کریں گے۔پیٹ اور معدہ کے امراض، پھیپھڑوں کی تکالیف اور خصوصًا دمہ کے مرض میں کلونجی بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل شہد کے ساتھ استعمال کر لیاجائے تو بہت مفید ہے۔ بعض اوقات کلونجی اور قسط شیری برابر وزن کا سفوف بنا کر صبح نہار منہ و رات سونے سے قبل استعمال کروایا جاتا ہے۔یہ نسخہ پرانی پیچش اور جنسی امراض میں بھی مفید ہے۔جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کا سفوف تین گرام مکھن ایک چمچ میں ملا کر کر استعمال کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔کلونجی کا تیل دو قسم کا ہوتاہے ایک سیاہ رنگ میں خوشبودار جو ہوا میں اٹھنے سے اڑنے لگتا ہے اور دوسری قسم انٹروی کے تیل جیسا جس کے دوائی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں، یہ تیل بیرونی طورپر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے جلدی امراض میں مفید ہے۔ یہ تیل بال خورہ کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے ۔ بال خورہ میں بال اڑ جاتے ہیں اور دائرے کی صورت میں نشان بن جاتا ہے پھر دائرہ دن بدن بڑھتا ہے اور عجیب سی ناخوشگواری کا احساس ہوتاہے۔یہ تیل سر کے گنج کو دور کرنے اور بال اگانے میں بھی مفید ہے ۔ مزید یہ کہ اس تیل کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے اور اس تیل کو مختلف طریقوں سے داد،اگزیما میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اگر جسم کو کوئی حصہ بے حس ہوجائے تو یہ تیل مفید ہے۔ کان کے ورم اور نسیان میں بھی یہ تیل مفید ہے۔ ماہرین طب و سائنس کلونجی پر تحقیقی کام کر رہے ہیں جنھوں نے اسے مختلف امراض میں مفید پاتا اور مزید تحقیق کا عمل جاری ہے۔کیمیا دانوں نے کلونجی پر تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ اسمیں ضروری روغن پائے جاتے ہیںِ اس کے علاوہ ونگشلین، الیوسن، ٹے نین، رال دار مادے،گلوکوز، ساپونین اور نامیاتی تیزاب بھی پائے جاتے ہیں جو کئی امراض میں موثر ہیں۔پاکستان کے ایک ممتاز سائنسدان نے جامعہ کراچی کے شعبہ کیمیاء میں کلونجی پر جوتحقیق کی اس کے مطابق کلونجی سے جو اسکائڈز حاصل ہوئے ہیں کسی اور شے سے نہیں مل سکے۔ حکماء نے کلونجی کو ہمیشہ موضوعِ تحقیق و علاج بنایا ہے اور اس کو مختلف طریقوں سے مختلف امراض کے علاج میں استعمال کرایا ہے۔ کلونجی سے طب یونانی کی معروف مرکب ادویہ میں حب حلیت، جوارش شونیز اور معجون کلکلانج شامل ہیں۔ کلونجی کےاستعمال سے لبلبہ (پانقراس) کے افرازات( لبلبہ سے خصوصی رطوبت) بڑھ جاتی ہے۔جس سےمرض ذیابیطس میں فائدہ ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے سات دانے روزانہ صبح نگل لیا کریں۔ذیابیظس میں بھی اس کے اچھے نتائج سامنے ائے ہیں، ذیابیطس کے مریضکلونجی کے سات دانے روزانہ صبح نگل لیا کریں۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے بیج تین حصے اور کانسی کے بیج ایک حصہ ملا کر استعمال کریں تو اس کے مفید نتائج سامنے اتےہیں کلونجی میں ورموں کو تحلیل کرنے اور گلٹیوں کو گھلانے کی بھی صفت ہے۔برص بڑا ہٹیلا مرض ہے۔ اس کے سفید داغ جسم کو بدصورت بنا دیتے ہیں۔ اگر برص کے مریض کلونجی اور ہالوں برابر برابر وزن لے کر توے پر بھون کر تھوڑا سرکہ ملا کر مرہم بناکر مسلسل تین چار ماہ برص کے نشانوں پر لگاتے رہیں اور کلونجی اور ہالون کاباریک سفوف شہد کے ساتھ روزانہ نہار منہ استعمال کیا کریں توجلد فائدہ ہوگا۔ کلونجی کی دھونی سے گھر میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔اسی خصوصیت کے سبب کلونجی کو گھروں میں قیمتی کپڑوں میں رکھا جاتا ہے تاہم کلونجی کے استعمال میں یہ امر پیش نظر رہے کہ یہ طویل عرصہ اور زیادہ مقدار میں استعمال نہ کی جائے کیونکہ اسمیں کچھ مادے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہوسکتے ہیں۔لہذا احتیاط ضروری ہے
طب نبویؐ اوریونانی (ہربل )سسٹم آف میڈیسن میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دواکلونجی پردنیا بھر میں ہزاروںمطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں۔کلونجی کےسلسلے میں رسول اللہؐ کا فرمان ہے کہ اس میں موت کے سوا  ہربیماری سے شفا ہے یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے ۔اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کےبیج کینسر‘لیوکیمیا‘ ایچ آئی وی ایڈز‘ذیا بیطس بلڈ پریشرہائپر کولیسٹرول ایمیااورمیٹا بولک ڈیزیززکے علاج میں انتہائی موثر پائی گئی ہے۔اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کینسر آگہی مہم کے آغاز کے موقع پر ہیلتھ پاک کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیا انہوں نے کہا کہ فلو ریڈا میں کی گئیایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کےمضراثرات و مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئیہے۔
 
علاوہازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردستاضافہ دیکھاگیا۔جن سنگ جنکوبلوبااور کلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایمیون سسٹم کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق سرطان کے حوالے سے کلونجی کے حوصلہ بخش نتائج  میں یقینی پیشرفت ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کلونجی پر آغا خان یونیورسٹی کراچی میں بھی تحقیق ہورہی ہے اورکلینکل ٹرائلز واسٹڈی نمبرNCT00327054کے مطابق کلونجی کوذیابیطس بلڈ پریشرہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیزمیں فائدہ مندقرار دیا گیا ہے۔ کلونجی کے کینسرکے حوالے سے مثبت نتائج پرعربی پریس میں بے شمار تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔میگزین ’’السرطان الوربی ‘‘کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق کلونجی آئل کو چوہوں میں معدہ کے کینسر پر مفید پایاگیا۔جبکہ میگزین ’’بحاث مضادات السرطان‘‘ میں کلونجی کے تیل سے کینسر کےورمکوختم کرنے کے متعلق ایک مصدقہ تحقیق شائع ہوئی ہے۔اسی طرح میگزین’’الاثن والدوائی‘‘ کے شمارہ میں کلونجی کے تیل سے انسانی دفاعی نظام میں بہتریاورسرطانی زہریلے اثرات میں کمی سے متعلق تحقیق شائع ہوئی ہے۔’’ النباتات الطبی‘‘ نامی میگزین میں کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کےسفیدگلوب پر ثیم وکینون کے مجموعہ کے اثرات پر کامیاب تجربہ شائع کیا گیاہے



نوشته شده در تاريخ 2013/1/31 توسط عسکری ممتاز
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کلونجی  کے فوائد
    اٍستھما۔
    اٍستھما کیلئے دس قطرے کلونجی کا تیل اور ایک چائے کا چمچ شہد کو ایک گلاس نیم گرم پانی میں مکس کرکے دن میں دو بار پئیں۔ ایک مرتبہ صبح نہار منہ اور رات کھانے کے بعد۔ چالیسں دن تک اِسے پینے سے مثبت نتائج آئیں گے۔

    ناک سے خون نکلنا۔
    عام طور پر گرمیوں کے موسم میں بچوں کے ناک سے خون نکلنے لگ جاتا ہے اْسے روکنے کیلئے ایک سفید کاغذ کو جلا کے راکھ بنا لیں اور اس راکھ میں دو قطرے کلونجی تیل کے مکس کریں اور اسے ناک میں لگائیں۔

    جسم کا جلا ہوا حصہ۔
    اگر جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اس پر یہ مرہم لگائیں۔ پانچ گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل، پندرہ گرام  Calamus اَسّی گرام مہندی کے پتے باہم ملا کے مرہم بنا لیں اور اِسے متاثرہ جلے ہوئے حصے پر لگائیں۔

    سینے کی جلن اور معدے کی گرانی۔
    آدھا چائے کا چمچ کلونجی کے تیل کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں ڈال کے دن میں دو مرتبہ پئیں۔ تین دن تک پینے سے سینے کی جلن اور معدے کی گرانی میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔

    کھانسی اور ریشہ۔
    کھانسی اور ریشہ کو کنٹرول کرنے کیلئے تھوڑے سے کلونجی کے تیل میں دیسی گھی اور تھوڑا سا نمک مکس کریں اس سے گلے اور سینے پر دن میں ایک بار مالش کریں۔ آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل روزانہ صبح کے وقت لینا بھی فائدہ مند ہے۔

    قبض۔
    قبض کے خاتمے کیلئے دس قطرے کلونجی کے تیل، ایک چائے کا چمچ کسٹر آئل کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں ملا کے پئیں۔


    سر میں خشکی۔
    دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام مہندی پاؤڈر مکس کریں۔ اِسے ہلکا سا گرم کریں اور جب ٹھنڈا ہو جائے تو سر کی جلد پر لگائیں۔ ایک گھنٹہ بعد شمپو سے اچھی طرح دھو لیں۔

    ذیابیطس۔
    ایک کپ کالی چائے میں ایک چائے کا چمچ کلونجی کا تیل ڈالیں اور اِسے دن میں دو بار استعمال کریں صبح کے وقت اور رات سونے سے پہلے۔ اِسے چالیسں دن تک مسلسل استعمال کرنے کے بعد تھوڑی مقدار میں میٹھا کھا کے شوگر لیول چیک کریں۔ اگر نارمل ہو تو اس نسخہ کا استعمال بند کر دیں۔

    کان کا انفیکشن۔
    کان کا انفیکشن کیلئے کلونجی کا تیل اور زیتون کا تیل برابر مقدار میں لیں اور اِسے نیم گرم کرکے کان میں چند قطرے ڈالیں۔ اس سے درد میں افاقہ ہو گا۔

    بخار کا علاج۔
    بخار کے علاج کیلئے آدھا کپ پانی میں آدھا لیموں کا رس، آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل شامل کرکے دن میں دو بار پئیں۔ اِس کا استعمال اْس وقت تک جاری رکھیں جب تک بخار ٹھیک نہ ہو جائے۔

    تروتازہ چہرہ۔
    چہرے کی تروتازگی کیلئے یہ ٹوٹکہ بہت کارآمد ہے۔ ایک بوتل میں تین کھانے کے چمچ شہد، آدھا کھانے کا چمچ کلونجی کا تیل اور آدھا چائے کا چمچ زیتون کا تیل مکس کریں اور اِسے دن میں دو بار اپنے چہرے پر لگائیں۔ چالیسں دن تک استعمال جاری رکھیں۔

    بالوں کا گِرنا اور عمر سے پہلے سفید ہونا۔
    آجکل بہت سے لوگوں کو بالوں کا گِرنا اور عمر سے پہلے سفید ہونا جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کا ایک مؤثر حل کلونجی کا تیل ہے۔ پہلے لیموں کا رس سر کی کھال پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد بالوں کو شیمپو کر لیں۔ جب بال خشک ہو جائیں تو کلونجی کا تیل بالوں کی جڑوں میں لگا لیں۔ چھ ہفتے تک یہ عمل جاری رکھیں۔

    سر کا درد۔
    سر کے درد سے نجات کیلئے جس وقت درد ہو رہا ہو کلونجی کے تیل سے پیشانی اور کان کے اطراف مساج کریں۔ اگر آپ پھر بھی بہتر محسوس نہ کریں تو آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل دن میں دو بار لیں۔

    ہارٹ اٹیک۔
    ہارٹ اٹیک سے بچاؤ کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کے تیل کو ایک کپ بکری کے دودھ میں شامل کرکے دن میں دو بار استعمال کریں۔ یہ نسخہ چربی کو پگھلا کے دل کی شریانیں کھولنے میں مدد کر تا ہے۔ بہتر نتائج کیلئے چکنائی سے پرہیز کریں۔ دس دن تک دن میں دو بار لیں اور پھر استعمال ایک بار کر دیں۔

    جوڑوں کا درد۔
    جوڑوں کا درد نا قابلِ برداشت درد ہوتا ہے۔ اس کیلئے یہ نسخہ تیار کریں۔ ایک چائے کا چمچ سفید سرکہ، دو چائے کے چمچ شہد اور آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل باہم ملائیں۔ دن میں دو بار ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں اور اِسی تیل سے جوڑوں پر مساج بھی کریں۔ گیس پیدا کرنے والے اجزاء سے اکیس دن تک پرہیز کریں۔

    یاداشت بڑھانا۔
    یاداشت کم ہونا اور بھول جانا بڑھتی عمر کے اہم مسائل ہیں۔ اپنی یاداشت کو بہتر بنانے کیلئے دس گرام پودینہ کو آدھا کپ پانی میں اْبال کے چھان لیں اور اس میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل شامل کرکے دن میں دو بار پئیں۔ بیس دن تک استعمال کریں۔

    میگرین۔
    کلونجی کے تیل کا ایک قطرہ سر کے جس طرف درد ہو اْس کی مخالف سمت ناک میں ڈالیں۔ سر کا مساج کریں اور دن میں دس قطرے کلونجی کے تیل کو میگرین سے نجات کیلئے پئیں۔


    اوبیسٹی۔
    اوبیسٹی پر قابو پانے کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور دو چائے کے چمچ شہد کو اپک کپ نیم گرم پانی میں مکس کرکے استعمال کریں۔ فرائی اور بیکری کی چیزوں سے پرہیز کریں۔

    رات کی نیند۔
    رات کو اچھی نیند کیلئے رات کے کھانے کے بعد آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور ایک چائے کا چمچ شہد لیں اور پْرسکون نیند سوئیں۔

    بواسیر کا علاج۔
    بواسیر کے علاج کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل، ایک کپ چائے کے قہوے میں ڈال کے دن میں دو بار ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ گرم تاثیر اور تیز مصالحے والی غذاؤں سے پرہیز کریں۔

    چہرے کے دانے اور دھبے۔
    ایک کپ پائن ایپل جوس میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل ملا کے دن میں دو بار لیں۔ اسے ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔

    زْکام۔
    شدید زْکام کے علاج کیلئے آدھا کپ پانی میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور چوتھائی چائے کا چمچ زیتون کا تیل مکس کرکے اِسے چھان لیں۔ اس مکسچر کے دو قطرے ناک میں ڈالیں۔ جلد افاقہ کیلئے دن میں دو بار استعمال کریں۔

    دانت کا درد اور مسوڑوں کا پھولنا۔
    آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل نیم گرم پانی میں مکس کرکے غرارے کریں۔ اس کے علاوہ متاثرہ دانتوں پر کلونجی کا تیل لگائیں یہ درد کم کرنے میں مدد دے گا۔


    دماغی کمزوری۔
    دماغی کمزوری دور کرنے کیلئے ایک چائے کا چمچ دیسی گھی یا دو چائے کے چمچ کریم کو دو قطرے کلونجی کے تیل میں مکس کریں ساتھ ہی ذائقے کیلئے تھوڑی سی چینی بھی ڈال لیں اور اِسے روزانہ ناشتے سے پہلے استعمال کریں۔

    جلد پر سیاہ اور سفید نشانات۔
    اِن کو ختم کرنے کیلئے ایک کپ سفید سرکہ میں ایک چائے کا چمچ کلونجی کا تیل مکس کریں اور رات کو سونے سے پہلے متاثرہ حصے پر لگائیں اور صبح دھو لیں۔ یہ عمل اْس وقت تک دْہرائیں جب تک چہرہ صاف اور شفاف نہیں ہو جاتا۔


برچسب‌ها: کلونجی کے فوائد

ادامه مطلب
نوشته شده در تاريخ 2013/1/24 توسط عسکری ممتاز



نوشته شده در تاريخ 2013/1/16 توسط عسکری ممتاز

 گفتم ...گفتی

گفتم: خسته‌ام.

گفتي: لاتقنطوا من رحمة الله

از رحمت خدا نا اميد نشيد (زمر/53)

گفتم: هيشكي نمي‌دونه تو دلم چي مي‌گذره.

گفتي: ان الله يحول بين المرء و قلبه

خدا حائل هست بين انسان و قلبش! (انفال/24)

گفتم: غير از تو كسي رو ندارم.

گفتي: نحن اقرب اليه من حبل الوريد

ما از رگ گردن به انسان نزديك‌تريم (ق/16)

گفتم: ولي انگار اصلا منو فراموش كردي!

گفتي: فاذكروني اذكركم

منو ياد كنيد تا ياد شما باشم (بقره/152)

گفتم: تا كي بايد صبر كرد؟

گفتي: و ما يدريك لعل الساعة تكون قريبا

تو چه مي‌دوني! شايد موعدش نزديك باشه (احزاب/63)

گفتم: تو بزرگي و نزديكت براي منِ كوچيك خيلي دوره! تا اون موقع چيكار كنم؟

گفتي: واتبع ما يوحي اليك واصبر حتي يحكم الله.

كارايي كه بهت گفتم انجام بده و صبر كن تا خدا خودش حكم كنه (يونس/109)

گفتم: خيلي خونسردي! تو خدايي و صبور! من بنده‌ات هستم و ظرف صبرم كوچيك... يه اشاره‌ كني تمومه!

گفتي: عسي ان تحبوا شيئا و هو شر لكم

شايد چيزي كه تو دوست داري، به صلاحت نباشه (بقره/216)

گفتم: انا عبدك الضعيف الذليل... اصلا چطور دلت مياد؟

گفتي: ان الله بالناس لرئوف رحيم

خدا نسبت به همه‌ي مردم - نسبت به همه - مهربونه (بقره/143)

 گفتم: دلم گرفته.

گفتي: بفضل الله و برحمته فبذلك فليفرحوا

مردم به چي دلخوش كردن؟!) بايد به فضل و رحمت خدا شاد باشن (يونس/58)

گفتم: اصلا بي‌خيال! توكلت علي الله.

گفتي: ان الله يحب المتوكلين

خدا اونايي رو كه توكل مي‌كنن دوست داره (آل عمران/159)

گفتم: خيلي چاكريم!

ولي اين بار، انگار گفتي: حواست رو خوب جمع كن! يادت باشه كه:

و من الناس من يعبد الله علي حرف فان اصابه خير اطمأن به و ان اصابته فتنة انقلب علي وجهه خسر الدنيا و الآخره

بعضي از مردم خدا رو فقط به زبون عبادت مي‌كنن. اگه خيري بهشون برسه، امن و آرامش پيدا مي‌كنن و اگه بلايي سرشون بياد تا امتحان شن، رو گردون ميشن. خودشون تو دنيا و آخرت ضرر مي‌كنن (حج/11)

گفتم: چقدر احساس تنهايي مي‌كنم.

گفتي: فاني قريب

من كه نزديكم (بقره/186)

گفتم: تو هميشه نزديكي؛ من دورم... كاش مي‌شد بهت نزديك شم.

گفتي: و اذكر ربك في نفسك تضرعا و خيفة و دون الجهر من القول بالغدو و الأصال

هر صبح و عصر، پروردگارت رو پيش خودت، با خوف و تضرع، و با صداي آهسته ياد كن (اعراف/205)

گفتم: اين هم توفيق مي‌خواهد!

گفتي: ألا تحبون ان يغفرالله لكم

دوست نداريد خدا ببخشدتون؟! (نور/22).

گفتم: معلومه كه دوست دارم منو ببخشي.

گفتي: و استغفروا ربكم ثم توبوا اليه

پس از خدا بخوايد ببخشدتون و بعد توبه كنيد (هود/90)

گفتم: با اين همه گناه... آخه چيكار مي‌تونم بكنم؟

گفتي: الم يعلموا ان الله هو يقبل التوبة عن عباده

مگه نمي‌دونيد خداست كه توبه رو از بنده‌هاش قبول مي‌كنه؟! (توبه/104)

 گفتم: ديگه روي توبه ندارم.

گفتي: الله العزيز العليم غافر الذنب و قابل التوب

ولي خدا عزيزه و دانا، او آمرزنده‌ي گناه هست و پذيرنده‌ي توبه (غافر/2-3)

گفتم: با اين همه گناه، براي كدوم گناهم توبه كنم؟

گفتي: ان الله يغفر الذنوب جميعا

خدا همه‌ي گناه‌ها رو مي‌بخشه (زمر/53)

گفتم: يعني بازم بيام؟ بازم منو مي‌بخشي؟

گفتي: و من يغفر الذنوب الا الله

به جز خدا كيه كه گناهان رو ببخشه؟ (آل عمران/135)

گفتم: نمي‌دونم چرا هميشه در مقابل اين كلامت كم ميارم! آتيشم مي‌زنه؛ ذوبم مي‌كنه؛ عاشق مي‌شم! ... توبه مي‌كنم: يا غافر الذنب، اغفر ذنوبي جميعا

گفتي: ان الله يحب التوابين و يحب المتطهرين

خدا هم توبه‌كننده‌ها و هم اونايي كه پاك هستند رو دوست داره (بقره/222)

ناخواسته گفتم: الهي و ربي من لي غيرك

گفتي: اليس الله بكاف عبده

خدا براي بنده‌اش كافي نيست؟ (زمر/36)

گفتم: در برابر اين همه مهربونيت چيكار مي‌تونم بكنم؟

گفتي: يا ايها الذين آمنوا اذكروا الله ذكرا كثيرا و سبحوه بكرة و اصيلا هو الذي يصلي عليكم و ملائكته ليخرجكم من الظلمت الي النور و كان بالمؤمنين رحيما

اي مؤمنين! خدا رو زياد ياد كنيد و صبح و شب تسبيحش كنيد. او كسي هست كه خودش و فرشته‌هاش بر شما درود و رحمت مي‌فرستن تا شما رو از تاريكي‌ها به سوي روشنايي بيرون بيارن. خدا نسبت به مؤمنين مهربونه (احزاب/42-43)

(1) نظر

 چرا ما با وجود اين كه نماز ميخوانيم، آثار آن را در وجود خود مشاهده نميكنيم؟ - كلاه بزرگي كه سر همه مسلمان ها رفته است!

 



ادامه مطلب
نوشته شده در تاريخ 2012/10/14 توسط عسکری ممتاز

خطر از بین رفتن بیداری!

شنبه 22 مهر 1391 ساعت 21:32

 

کسانیکه گمان می کنند انقلابهای بهار عربی بدون دخالت بیگانه سرنوشت ملل عرب را تعیین می کند در اشتباه هستند . این اشتباه زمانی افزایش می یابد اگر کسی نتواند روند " کیمیای تحول " در جهان عرب را درک نماید بویژه اینکه درآمدهای نفتی نقش برجسته ای در

 

کسانیکه گمان می کنند انقلابهای بهار عربی بدون دخالت بیگانه سرنوشت ملل عرب را تعیین می کند در اشتباه هستند . این اشتباه زمانی افزایش می یابد اگر کسی نتواند روند " کیمیای تحول " در جهان عرب را درک نماید بویژه اینکه درآمدهای نفتی نقش برجسته ای در آن بر عهده دارد که اهمیت آن از دخالتهای خارجی کمتر نیست و در حقیقت این دو مکمل یکدیگر هستند . هرچه درباره اوضاع کنونی گفته شود باید اقرار کرد که روند این انقلابها از سوی ضد انقلاب تحت کنترل درآمده است و تنها یکی دو انقلاب همچنان به روند خود ادامه می دهند.

این یکی دو انقلاب نیز در عین حال ، با دخالتها و حملات ضد انقلاب روبرو هستند و این ضد انقلاب تمامی امکانات خود را بکار میگیرد تا آرمانهای مردم انقلابی و نقش نخبگان سیاسی و اندیشمند را به گونه بیسابقه سرکوب نماید . احساس غرب در به کنترل در آوردن این انقلابها را می توان از دستور مقامات غربی به رژیمهای عربی در مورد خودداری از هرگونه حمله به رژیم صهیونیستی طی اجلاس اخیر مجمع عمومی سازمان ملل متحد در نیویورکبدست می آید. البته اگر انقلابهای عربی همگی به بار می نشستند امکان نداشت چنین تقاضائی مطرح گردد . چگونه می توان باور کرد که بی شرمی غرب بدانجا برسد که چنین دستوری به کشورهای عربی بدهد که حتى در اجلاس سالانه آژانس بین المللی انرژی اتمی در وین ، رژیم اشغالگر قدس را مورد حمله قرار ندهند. این موضعگیری با توجه به پشتیبانی گسترده و همه جانبه غرب از رژیم صهیونیستی در این آژانس صورت میگیرد . با این همه ، چنین اوضاعی با تحولات چند روز اخیر روبرو شده که طی آن سفارتخانه های امریکا مورد حمله قرار گرفتند و در یکی از آنها سفیر واشنگتن در لیبی و سه از دیپلماتها بقتل رسیدند . البته این رویداد با توجه به همسوئی امریکا و تسلط آن بر انقلابهای عربی قابل پیش بینی نبود .

شاید زودهنگام باشد که بخواهیم درباره آینده موازنه سیاسی در کشورهای عربی در حال تحول ، پیش بینی نمائیم بخصوص پس از رویدادهای مربوط به اهانت به رسول اکرم (ص) ولی در عین حال نشان دهنده خشم گسترده گروههای مردمی دربرابر ایالات متحده امریکاست . غرب و بویژه واشنگتن از آن بیم داشت که انقلابهای عربی احساسات ضد امریکائی در جهان عرب را گسترش دهد که البته در وضعیت انقلابها قابل پیش بینی بود اما انقلاب واقعی نمی تواند با منطق دوستی با امریکا که خود مخالف منطق انقلابی است همسو شود . بهار عربی برای عده ای غیر قابل پیش بینی بود ولی در واقع نتیجه و پیامد طبیعی چندین دهه از بی توجهی غرب درباره اوضاع جهان عرب بشمار می آید . این بی توجهی در سه زمینه صورت گرفته است : آزادیهای عمومی و مسائل حقوق بشری ، رویاروئی با اشغالگران صهیونیست در فلسطین ، وموضعگیری در برابر تسلط غرب و بخصوص امریکا در زمینه های سیاسی و اقتصادی جهان عرب .

پیش بینی نمی شد که گستاخی واشنگتن و هم پیمانان غرب آن تا بدانجا برسد که از کشورهای عربی بخواهند رژیم صهیونیستی را در اجلاس سالیانه مجمع عمومی سازمان ملل مورد حمله و انتقاد قرار ندهند. اینان هیچگاه چنین تقاضائی را مطرح نمی کردند اگر اطمینان نداشتند که این درخواست مورد قبول قرار نمیگیرد و اینکه رژیمهای عربی برای سرکوب انقلابها نیازمند پشتیبانی و کمک غرب و بویژه امریکا هستند .

دولت اوباما به این رژیمها ثابت کرده است تا چه اندازه می تواند از گسترش دامنه انقلابها جلوگیری نماید . امریکا در دهه 1950 و 1960 برای جلوگیری از گسترش کمونیسم و طی سه دهه پس از پیروزی انقلاب اسلامی ایران ، نیز دست به چنین اقداماتی زده بود. سیاستهای غرب برهبری امریکا همواره نقش اصلی را در جلوگیری از وقوع انقلابهای علیه رژیمهای استبدادگر عرب بر عهده داشته است و در کنار آن ایالات متحده توانست با تضعیف سیاستهای رژیمهای عربی و مطرح کردن طرحهائی درباره " صلح" با تل آویو ، فشارها را بر رژیم صهیونیستی کاهش دهد . اما برانگیختن انقلابها در کشورهای عرب که از دوسال پیش آغاز گردید ، غرب را دچار ترس و وحشت شدیدی نمود. البته طبیعی بود که سیاستمداران غربی و بر اساس تجربه خود در برابر انقلاب اسلامی ایران که پیش از سه دهه گذشته بوقوع پیوست چنین احساسی را داشته باشند . در نتیجه انقلاب ایران در سال 1979 غربی ها معنی انقلاب را چنین دانسته اند : برهم زدن موازنه قوا به گونه ای غیر قابل پیش بینی . در عین حال طرح اسلام سیاسی در سال 1979پس از پیروزی انقلاب ایران مطرح گردید و سیاستهای غربی در خاورمیانه با ضربات هولناک و دردناکی روبروشد از جمله اینکه رژیم صهیونیستی بزرگترین هم پیمان خود در خاورمیانه را از دست داد که همانا شاه ایران بود ، و با قطع روابط تل آویو تهران ، مقاومت فلسطین یک گام بسوی شناسائی آن بعنوان نماینده ملت فلسطین و برقراری روابط دیپلماتیک با آن پیش رفت که همانا گشایش سفارت فلسطین در تهران بجای سفارت اسرائیل بود و نخستین سفارت فلسطین در جهان فعالیت خود را آغاز کرد. این موضوع همانند توفانی بود که همواره سیاستمداران غربی را نگران می کرد و در عین حال سردمداران عرب ناراحت بودند چون در زمینه بهبود روابط با اسرائیل وبرقرار صلح با تل آویو همه گونه سرمایه گذاری کرده بودند . با وجود امکانات غرب در زمینه برنامه ریزیهای استراتژیک ، اینان نتوانستند درک کنند که قوانین و سنتهای ما را نمی توانند تغییر دهند . از جمله این موارد و سنتها اینکه بهنگام اتخاذ مواضع سیاسی سرنوشت ساز و استراتژیک ، نمی توان مردم را نادیده گرفت و یا آنها را به اتخاذ موضعگیریهای بیطرفانه وادار کرد تا سیاستهای غرب تا پایان جهان از رژیمهای استبدادگر عرب پشتیبانی نماید . البته موضعگیری خردمندانه ، چنین حکم می کرد که دیپلماسی غربی همسوئی را بر گزید و دست به اصلاحات سیاسی و امنیتی در جهان عرب بزند ، از جمله ، اصلاحاتی که از خود کامگی سردمداران می کاست و اوضاع حقوق بشری را بهبود می بخشید و به مردم اطمینان می داد که دارای نقشی در مدیریت جامعه خود هستند . اما غربی ها چنین نکردند وانقلابهای کنونی ، نتیجه طبیعی عملکردهای انان بود که هیچ نیروئی در جهان نمی تواند از وقوع آن جلوگیری نماید . این درست است که بخش بزرگی از انقلابها وادار به اتخاذ موضعگیری بیطرفانه گردیدند اما علت اصلی همانا سقوط نخبگان عرب در دام نیروهای ضد انقلاب بود که در نتیجه نتوانستند بدرستی بکارگیری درآمدهای نفتی در توطئه علیه انقلاب را درک کنند.

عملکرد تحول وبازسازی انقلابهای عربی بسیار دیر صورت گرفت و در نتیجه برای مردم رسوا گردید . روند بازنگری و بازسازی انقلابهای مردمی و تغییر سیستم های حکومتی سیاسی و سرنگون کردن رژیمها و برقراری حکومتهای منتخب مردمی در چندین کشور عربی طی بیست ماه اخیر دیر بوقوع پیوست. با توجه به اینکه سیاستهای غربی از دوران استعمار براساس تسلط غرب صورت گرفت ، در این دوران نیز غرب ناگزیر گردید از سلطه گران داخلی طرفداری نماید تا تسلط خود را در کشورهای عربی همچنان پایدار نگهدارد و از برقراری رژیمهای مردمی که مشروعیت خود را از خواست مردم بدست بدست می آورند جلوگیری کند. هدف از انقلابهای عربی دستیابی به حکومت مردمی بود اما با عملیات ومانورهای انگلو ـ امریکائی وبازنگری در سیستم های سیاسی بعضی تغییرات در رأس قدرت صورت گرفت اما سیستمهای حکومتی همانگونه باقی ماندند . و اینچنین کوششهای انقلابیون با تغییر رأس قدرت پایان یافت و سیاستهای خارجی بر اساس واقع گرائی و همسوئی ادامه یافت وخون شهداء پایمال گردید اما گفته شد که تغییراتی در آینده صورت خواهد گرفت.

این سیاستهائی است که نمی تواند قدرت خود را در تحقق خواسته های مردم به اثبات برساند . از سوئی واقعیتهای دیگری وجود دارد که به حمله غرب علیه انقلابهای عربی انجامیده است و بعضی از آنها را بصورت وابسته به غرب در آورده است . غرب همچنان و طبق معمول خود روند برگزیدن رژیمها جدید و سرنگون کردن رژیمهای موجود در کشورهای عربی را ادامه می دهد . البته در این میان تحولات و تغییرهای جزئی نیز بوجود می آورد . از جمله تغییرات مذکور ، موضوع پایبندی به امنیت اسرائیل و پذیرفتن برتری نظامی و استراتژیک آنست . در عین حال انقلابی که دخالت غرب را نپذیرد ، از سوی هم پیمانهای غربی حکومتهای استبدادی عرب مورد محاصره قرار میگیرد وهمچنان تهمتهای طایفه گرائی و مذهبی درباره آن مطرح می شود تا آنکه از هواداری اعراب و مسلمانان محروم گردد.

چه کسی مسئولیت دگرگونی وتحول در کشورهای عربی را به امریکا و هم پیمانانش واگذار کرده است ؟ آیا انقلابیون عرب خرد را از دست داده اند به گونه ای که اینچنین در دام غربی ها گرفتار شوند ؟ عواملی وجود دارند که به تضعیف رهبریهای انقلابیون و برتری ضد انقلاب انجامیده است و این روند همچنان ادامه خواهد یافت مگر اینکه انقلابیون در عملکردهای خود تجدید نظر نمایند و با بیداری در برابر دشمنان موضعگیری کنند . از جمله این عملکردها جدی نبودن جنبشهای سیاسی سنتی در برابر روند تغییر و تحول و بیم آنها از تحویل قدرت به مردم است . این واقعیت هنگامی بروشنی عیان گردید که بعضی از جنبشهای انقلابی در برابر فشارهای ضد انقلاب کوتاه آمدند و در نتیجه روند انقلاب از هم گسیخت بخصوص که ضد انقلابیون از اهرمهای دین و مذهب و نژادبهره برداری کردند. در اینجا بهتر بود خردمندان و رهبران جنبشهای اسلامی تمامی آن ادعاها را رد می کردند و نمی پذیرفتند و بعکس آن عمل می کردند و از آسیب پذیری انقلاب و میهن خود جلوگیری می نمودند . واقعیت دیگری که رهبریهای انقلابهای عربی باید از آن آگاه می شدند همانا اینکه حکومتهای قبیله ای و یا شخصی ، علت اصلی عقب ماندگی ملتهای عرب هستند و اصلاح چنین حکومتهائی محال می باشد. رهبریهای انقلابها باید از احساساتی برخوردار باشند که تحول سیاسی را در مقدمه هدفهای خود قرار دهند و بدانند رژیمهای استبدادگر بدترین و وقیحانه ترین فساد و انحراف را در بر دارند. و بجای برخورد منفی با اختلافهای دینی وذهبی و نژادی ، آنرا پیامد رشد اندیشه وتمدن بشمار آورند همچنانکه در کشورهای غربی با آن برخورد می شود . علت دیگر در سقوط نقش نخبگان همانا روند به ثمر رسیدن کوششهای غرب در سیاستهای پرورش اندیشمندان و نویسندگان و ازادیخواهان وابسته به درآمدهای نفتی است به گونه ای که بصورت حربه اساسی ضد انقلاب در برابر انقلابیون در آیند. خاموشی این اندیشمندان و خودداری از همسوئی آنان با انقلابهای مردمی در برابر دریافت پول نفت اکنون بصورت ننگی بر پیشانی اندیشمندان عرب در آمده است و در عین حال سردمداران و دیکتاتورها از آن بعنوان اسلحه ای علیه مخالفان خود استفاده می کنند . بعد سوم این روند همانا امپراتوریهای رسانه ای هستند که در برابر  انقلابها ایستادگی کردند و در آغاز خود را بصورت پشتیبان انقلاب معرفی نمودند اما در عین حال برای منحرف کردن این انقلابها کوشش کردند. این رسانه ها با پول نفت اقدام به گمراه کردن افکار عمومی و برپائی اشوبهای مذهبی و افراطی و تکفیری وقبیله گرائی کردند و تمامی این کوششها در حقیقت جزو عملکردهای رژیمهای استبدادی علیه مردم ستمدیده ماست . بعد چهارم همانا پشتیبانی امنیتی و سیاسی غرب از رژیمهای هم پیمان آنهاست که در نتیجه از هرگونه آسیب رسانی به این رژیمها جلوگیری می نماید وبرای غربی ها اهمیتی ندارد که جویهای خون در منطقه براه بیفتد چون موضوع اصلی ادامه نفت رسانی به صنایع غربی است .

از نتایج این دخالتهای آشکارغربی ، اقدام مسئولان غربی برای تحمیل برنامه های خود بر روند سیاسی و اندیشه ای منطقه است . فشارهای کنونی بر هیئتهای عربی شرکت کننده در اجلاس آژانس بین المللی انرژی هسته ای و نیز اجلاس شصت وهفتم مجمع عمومی سازمان ملل نشان از آن روش و سیاست دارد . دیپلماتها می گویند که فرستادگان غربی کوشش کردند کشورهای عربی را از موضعگیری خشونت بار علیه اسرائیل بعلت داشتن زرادخانه هسته ای باز دارند به این بهانه که چنین عملکردی ممکن است کوششهای بعمل آمده برای پاکسازی منطقه خاورمیانه از سلاحهای هسته ای را با ناکامی روبرو سازد ، که البته این ادعا بسیار گمراه کننده است . پیش بینی می شود که بعضی کشورهای عرب در این زمینه اسرائیل را مورد انتقاد قرار دهند اما درباره مطرح کردن پیشنهادی در این زمینه اتفاق نظر ندارند . در اجلاس سال گذشته کشورهای عربی از مطرح کردن لایحه ای در این زمینه علیه رژیم صهیونیستی  و زرادخانه هسته ای آن خودداری کردند . گزارشهای رسیده حاکیست که همان کشورهای غربی اقدام به وارد کردن فشارهائی بر روسیه وچین برای پیوستن به طرح محکوم کردن برنامه هسته ای ایران نمودند . این دو موضعگیری نشان دهنده دو گانگی موضعگیری کشورهای غربی از یکسو و آمادگی بعضی رژیمهای عربی برای همسوئی با فشارهای غرب مقابل دریافت پشتیبانی وکمک  برای سرکوب انقلابهای عربی است . پس چگونه می توان به خاورمیانه خالی از سلاحهای هسته ای دست یافت در حالیکه رژیم صهیونیستی همچنان از امضای قرارداد ان پی تی خودداری می کند و از بازرسی تأسیسات هسته ای خود جلوگیری می نماید؟ چگونه می توان به این دو موضوع تحقق بخشید درحالیکه امریکائیان به برتری استراتژیک اسرائیل بعنوان یک سیاست استوار پایبند هستند ؟ سیاست تغییر وتحول غربی ها برای جلوگیری از پیروزی انقلابهای عربی از همین جا سرچشمه میگیرد وبهمین علت است که اهمیت وقوع بیداری مجدد در افکار عمومی عرب ضروری بنظر می رسد تا از کوششهای ضد انقلاب عربی جلوگیری شود . چگونه انقلابیون عرب همچنان انقلابی خواهند ماند اما از پشتیبانی از روند ازادی فلسطین و رویاروئی با اشغالگران  حتى با سخن خالی خودداری می کنند ؟  انقلاب یک ضرورت تاریخی است در منطقه ای که نخست با استعمار روبرو شد و پس از آن با اشغالگری و سپس با رژیمهای استبدادی مواجه گردید . در اینجاست که انقلابها فقط با استواری و پایبندی انقلابیون و بیداری نخبگان اندیشمندان و مسئولان رسانه ها و دانستن روشهای وعملکردهای ضد انقلاب و اصرار وتأکید بر موضعگریهای اصولی و سیاستهای استوار بدور از هرگونه ترس و بیم از عکس العملهای غرب و دخالتهای آن برای پشتیبانی از اشغالگران صهیونیست از یکسو و شکافتن جبهه عربی ـ اسلامی از سوی دیگراست. شاید بعضی ها این تحلیل را به پذیرند اما اگر سیاستها و موضعگیریها در برابر روند تغییر و تحول  بر  اساس این تحول صورت نگیرد ، روند تغییر وتحول همچنان درجا بزند وهدفهای انقلاب برباد برود و خونهای شهدا پایمال شود. بدور از این ، پذیرفتن این تحول ، برنامه های تغییر و تحول در منطقه را وارد دوران آشوب و توفان خواهد کرد وآنرا وارد یک روند پوچ و توخالی می نماید همچنانکه یمن و بحرین وسوریه با آن روبرو هستند .

 


.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک
  • دانلود فیلم
  • دانلود نرم افزار
  • قالب وبلاگ