|
کلونجی کے فوائد
کلونجی کے متعلق ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے اور زمانہ قدیم سے یہ اطباء کے زیر استعمال بھی رہی ہے مگر فی زمانہ اب اس کے استعمال میں کمی کی وجہ اس سے متعلق معلومات کا مفقودہونا ہےآج ہم کلونجی پر بات کریں گے یہ ایک خودرو پودا ہے جو تقریبا 35 سے 40 سنیٹی میٹر تک ہوتا ہے، ایک طرح کی گھاس سے مشابہت رکھتا ہے اسکا پھول زردی مائل ہوتا ہے، اور اسکے بیچوں کا رنگ سیاہ ہوتا ہے ہمارے یہاں یہ اچار اور چٹنی میں استعمال ہوتا ہے اس کی خوشبو تیز اور تاثیر ایک محتاط اندازے کے مطابق 7 سے 9 سال تک قائم رہتی ہے یہ بہت سریع الاثر ادویات کے زمرے میں آتی ہےقدیم یونانی اور عرب حکما نے اس کو رومیوں سے حاصل کیا کیونکہ رومی اس کے استعمال سے بخوبی واقف تھے پھر یہ ساری دنیا میں کاشت ہونے لگا۔کلونجی کے بیج معدہ اورپیٹ کےامراض مثلا پیٹ میں ریاح گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، کثرت ایام، استقاء، یادداشت میں کمی رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے رہے ہیںٍ،ہیں۔ رسول اللہ ۖ کے حوالے سے کتب سیرت میں ملتا ہے کہ آپ ۖ شہد کے شربت کے ساتھ کلونجی کا استعمال فرماتے تھے۔ حضرت سالم بن عبداللہ (رض) اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا تم ان کالے دانوں کو اپنے اوپرلازم کرلو ان میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے۔کلونجی کی یہ اہم خاصیت ہےکہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے۔ جبکہ اسکا اپنا مزاج گرم ہے اورسردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے۔کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لیے اکسیرکا درجہ رکھتی ہے، ریاح گیس اور قبص میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کےبعد پیٹ میں بھاری پن گیس ریاح بھرجانے اور اپھارہ کی شکایت محسوس ہوتی ہو ایسےحضرات کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کےبعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدہ کی اصلاح بھی ہوگی۔ کلونجی کو سرکہ کے ساتھ ملا کر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں جب تھوڑی سی سردی لگنے سے زکام ہونے لگتاہے تو ایسی صورت میں کلونجی کو بھون کر باریک پیس لیں اور کپڑے میں باندھ کر پوٹلی بنا کر باربار سونگھنے سے زکام دور ہوجاتا ہے۔ اگر چھینکیں آرہی ہوں تو کلونجی بھونکر باریک پیس کر روغنِ زیتون میں ملا کر اس کے تین چار قطرے ناک میں ٹپکانے سےچھینکیں جاتی رہتی ہیں۔کلونجی مدر بول( پیشاب آور) بھی ہے اس کا جوشاندہ شہد ملا کرپینےسے گردہ و مثانہ کی پتھری بھی خارج ہوجاتی ہے۔ اگر دانتوں میں ٹھنڈا پانی لگنےکی شکایت ہوتو کلونجی کو سرکہ میں ملا کر کلیاں کرانے سے فائدہ ہوتا ہے۔چہرے کی رنگت میں نکھار پیداکرنے کے لیے باریک پیس کر گھی میں ملا کر چہرے پر لیپ کرنے سےفائدہ ہوتا ہے۔ آج کل نوجوان لڑکے لڑکیوں میں کیل دانوں اورمہاسوں کی شکایت عام ہےاور مختلف بازاری کریمیں استعمال کرکے چہرے کی جلد کو خراب کرلیتے ہیں۔ ایسے نوجوان کلونجی باریک پیس کر سرکہ میں ملا کر سونےسے قبل چہرے پر لیپ کر لیا کریں اور صبح اٹھ کر چہرہ دھولیا کریں۔ چند دنوں میں ہی اچھے اثرات سامنے آئیں گے۔اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرہ کی رنگت صاف اور مہاسے ختم ہونگے بلکہ جلد میں نکھار بھی آئےگا۔جلدی امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے۔جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کوتوے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانےسے نہ صرف زخم مندمل ہوجائیں گے بلکہ نشان بھی جاتے رہیں گے۔ جو خواتین ایام رضاعت میں ہوں اور چھوٹے بچوں کو اپنا دودھ پلا رہی ہوں اور ان کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو جس سے ان کا بچہ بھوکارہ جاتا ہوںتو ایسی خواتین کلونجی کو چھ دانے صبح نہار منہ و رات سونے سے قبل دودھ کے ساتھاستعمال کرلیا کریں تو ان کے دودھ کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا البتہ حاملہ خواتین کوکلونجی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔جن خواتین کو ماہانہ ایام کم آتے ہوںیا درد کے ساتھ آتے ہوں، پیشاب کم یا تکلیف کے ساتھ آتا ہو، وہ کلونجی کا سفوف تین گرام روزانہ استعمال کرلیا کریں ماہانہ ایام کا نظام درست ہوجائے گا۔اعصابی دباؤ اور تناؤ میں مبتلا لوگ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کرلیاکریں۔چند دنوں میں بہتر محسوس کریں گے۔پیٹ اور معدہ کے امراض، پھیپھڑوں کی تکالیف اور خصوصًا دمہ کے مرض میں کلونجی بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل شہد کے ساتھ استعمال کر لیاجائے تو بہت مفید ہے۔ بعض اوقات کلونجی اور قسط شیری برابر وزن کا سفوف بنا کر صبح نہار منہ و رات سونے سے قبل استعمال کروایا جاتا ہے۔یہ نسخہ پرانی پیچش اور جنسی امراض میں بھی مفید ہے۔جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کا سفوف تین گرام مکھن ایک چمچ میں ملا کر کر استعمال کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔کلونجی کا تیل دو قسم کا ہوتاہے ایک سیاہ رنگ میں خوشبودار جو ہوا میں اٹھنے سے اڑنے لگتا ہے اور دوسری قسم انٹروی کے تیل جیسا جس کے دوائی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں، یہ تیل بیرونی طورپر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے جلدی امراض میں مفید ہے۔ یہ تیل بال خورہ کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے ۔ بال خورہ میں بال اڑ جاتے ہیں اور دائرے کی صورت میں نشان بن جاتا ہے پھر دائرہ دن بدن بڑھتا ہے اور عجیب سی ناخوشگواری کا احساس ہوتاہے۔یہ تیل سر کے گنج کو دور کرنے اور بال اگانے میں بھی مفید ہے ۔ مزید یہ کہ اس تیل کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے اور اس تیل کو مختلف طریقوں سے داد،اگزیما میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اگر جسم کو کوئی حصہ بے حس ہوجائے تو یہ تیل مفید ہے۔ کان کے ورم اور نسیان میں بھی یہ تیل مفید ہے۔ ماہرین طب و سائنس کلونجی پر تحقیقی کام کر رہے ہیں جنھوں نے اسے مختلف امراض میں مفید پاتا اور مزید تحقیق کا عمل جاری ہے۔کیمیا دانوں نے کلونجی پر تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ اسمیں ضروری روغن پائے جاتے ہیںِ اس کے علاوہ ونگشلین، الیوسن، ٹے نین، رال دار مادے،گلوکوز، ساپونین اور نامیاتی تیزاب بھی پائے جاتے ہیں جو کئی امراض میں موثر ہیں۔پاکستان کے ایک ممتاز سائنسدان نے جامعہ کراچی کے شعبہ کیمیاء میں کلونجی پر جوتحقیق کی اس کے مطابق کلونجی سے جو اسکائڈز حاصل ہوئے ہیں کسی اور شے سے نہیں مل سکے۔ حکماء نے کلونجی کو ہمیشہ موضوعِ تحقیق و علاج بنایا ہے اور اس کو مختلف طریقوں سے مختلف امراض کے علاج میں استعمال کرایا ہے۔ کلونجی سے طب یونانی کی معروف مرکب ادویہ میں حب حلیت، جوارش شونیز اور معجون کلکلانج شامل ہیں۔ کلونجی کےاستعمال سے لبلبہ (پانقراس) کے افرازات( لبلبہ سے خصوصی رطوبت) بڑھ جاتی ہے۔جس سےمرض ذیابیطس میں فائدہ ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے سات دانے روزانہ صبح نگل لیا کریں۔ذیابیظس میں بھی اس کے اچھے نتائج سامنے ائے ہیں، ذیابیطس کے مریضکلونجی کے سات دانے روزانہ صبح نگل لیا کریں۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے بیج تین حصے اور کانسی کے بیج ایک حصہ ملا کر استعمال کریں تو اس کے مفید نتائج سامنے اتےہیں کلونجی میں ورموں کو تحلیل کرنے اور گلٹیوں کو گھلانے کی بھی صفت ہے۔برص بڑا ہٹیلا مرض ہے۔ اس کے سفید داغ جسم کو بدصورت بنا دیتے ہیں۔ اگر برص کے مریض کلونجی اور ہالوں برابر برابر وزن لے کر توے پر بھون کر تھوڑا سرکہ ملا کر مرہم بناکر مسلسل تین چار ماہ برص کے نشانوں پر لگاتے رہیں اور کلونجی اور ہالون کاباریک سفوف شہد کے ساتھ روزانہ نہار منہ استعمال کیا کریں توجلد فائدہ ہوگا۔ کلونجی کی دھونی سے گھر میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔اسی خصوصیت کے سبب کلونجی کو گھروں میں قیمتی کپڑوں میں رکھا جاتا ہے تاہم کلونجی کے استعمال میں یہ امر پیش نظر رہے کہ یہ طویل عرصہ اور زیادہ مقدار میں استعمال نہ کی جائے کیونکہ اسمیں کچھ مادے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہوسکتے ہیں۔لہذا احتیاط ضروری ہے طب نبویؐ اوریونانی (ہربل )سسٹم آف میڈیسن میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دواکلونجی پردنیا بھر میں ہزاروںمطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں۔کلونجی کےسلسلے میں رسول اللہؐ کا فرمان ہے کہ اس میں موت کے سوا ہربیماری سے شفا ہے یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے ۔اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کےبیج کینسر‘لیوکیمیا‘ ایچ آئی وی ایڈز‘ذیا بیطس بلڈ پریشرہائپر کولیسٹرول ایمیااورمیٹا بولک ڈیزیززکے علاج میں انتہائی موثر پائی گئی ہے۔اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کینسر آگہی مہم کے آغاز کے موقع پر ہیلتھ پاک کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیا انہوں نے کہا کہ فلو ریڈا میں کی گئیایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کےمضراثرات و مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئیہے۔ علاوہازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردستاضافہ دیکھاگیا۔جن سنگ جنکوبلوبااور کلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایمیون سسٹم کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق سرطان کے حوالے سے کلونجی کے حوصلہ بخش نتائج میں یقینی پیشرفت ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کلونجی پر آغا خان یونیورسٹی کراچی میں بھی تحقیق ہورہی ہے اورکلینکل ٹرائلز واسٹڈی نمبرNCT00327054کے مطابق کلونجی کوذیابیطس بلڈ پریشرہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیزمیں فائدہ مندقرار دیا گیا ہے۔ کلونجی کے کینسرکے حوالے سے مثبت نتائج پرعربی پریس میں بے شمار تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔میگزین ’’السرطان الوربی ‘‘کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق کلونجی آئل کو چوہوں میں معدہ کے کینسر پر مفید پایاگیا۔جبکہ میگزین ’’بحاث مضادات السرطان‘‘ میں کلونجی کے تیل سے کینسر کےورمکوختم کرنے کے متعلق ایک مصدقہ تحقیق شائع ہوئی ہے۔اسی طرح میگزین’’الاثن والدوائی‘‘ کے شمارہ میں کلونجی کے تیل سے انسانی دفاعی نظام میں بہتریاورسرطانی زہریلے اثرات میں کمی سے متعلق تحقیق شائع ہوئی ہے۔’’ النباتات الطبی‘‘ نامی میگزین میں کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کےسفیدگلوب پر ثیم وکینون کے مجموعہ کے اثرات پر کامیاب تجربہ شائع کیا گیاہے بسم اللہ الرحمن الرحیم
کلونجی کے فوائد اٍستھما۔ اٍستھما کیلئے دس قطرے کلونجی کا تیل اور ایک چائے کا چمچ شہد کو ایک گلاس نیم گرم پانی میں مکس کرکے دن میں دو بار پئیں۔ ایک مرتبہ صبح نہار منہ اور رات کھانے کے بعد۔ چالیسں دن تک اِسے پینے سے مثبت نتائج آئیں گے۔ ناک سے خون نکلنا۔ عام طور پر گرمیوں کے موسم میں بچوں کے ناک سے خون نکلنے لگ جاتا ہے اْسے روکنے کیلئے ایک سفید کاغذ کو جلا کے راکھ بنا لیں اور اس راکھ میں دو قطرے کلونجی تیل کے مکس کریں اور اسے ناک میں لگائیں۔ جسم کا جلا ہوا حصہ۔ اگر جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اس پر یہ مرہم لگائیں۔ پانچ گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل، پندرہ گرام Calamus اَسّی گرام مہندی کے پتے باہم ملا کے مرہم بنا لیں اور اِسے متاثرہ جلے ہوئے حصے پر لگائیں۔ سینے کی جلن اور معدے کی گرانی۔ آدھا چائے کا چمچ کلونجی کے تیل کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں ڈال کے دن میں دو مرتبہ پئیں۔ تین دن تک پینے سے سینے کی جلن اور معدے کی گرانی میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔ کھانسی اور ریشہ۔ کھانسی اور ریشہ کو کنٹرول کرنے کیلئے تھوڑے سے کلونجی کے تیل میں دیسی گھی اور تھوڑا سا نمک مکس کریں اس سے گلے اور سینے پر دن میں ایک بار مالش کریں۔ آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل روزانہ صبح کے وقت لینا بھی فائدہ مند ہے۔ قبض۔ قبض کے خاتمے کیلئے دس قطرے کلونجی کے تیل، ایک چائے کا چمچ کسٹر آئل کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں ملا کے پئیں۔ سر میں خشکی۔ دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام مہندی پاؤڈر مکس کریں۔ اِسے ہلکا سا گرم کریں اور جب ٹھنڈا ہو جائے تو سر کی جلد پر لگائیں۔ ایک گھنٹہ بعد شمپو سے اچھی طرح دھو لیں۔ ذیابیطس۔ ایک کپ کالی چائے میں ایک چائے کا چمچ کلونجی کا تیل ڈالیں اور اِسے دن میں دو بار استعمال کریں صبح کے وقت اور رات سونے سے پہلے۔ اِسے چالیسں دن تک مسلسل استعمال کرنے کے بعد تھوڑی مقدار میں میٹھا کھا کے شوگر لیول چیک کریں۔ اگر نارمل ہو تو اس نسخہ کا استعمال بند کر دیں۔ کان کا انفیکشن۔ کان کا انفیکشن کیلئے کلونجی کا تیل اور زیتون کا تیل برابر مقدار میں لیں اور اِسے نیم گرم کرکے کان میں چند قطرے ڈالیں۔ اس سے درد میں افاقہ ہو گا۔ بخار کا علاج۔ بخار کے علاج کیلئے آدھا کپ پانی میں آدھا لیموں کا رس، آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل شامل کرکے دن میں دو بار پئیں۔ اِس کا استعمال اْس وقت تک جاری رکھیں جب تک بخار ٹھیک نہ ہو جائے۔ تروتازہ چہرہ۔ چہرے کی تروتازگی کیلئے یہ ٹوٹکہ بہت کارآمد ہے۔ ایک بوتل میں تین کھانے کے چمچ شہد، آدھا کھانے کا چمچ کلونجی کا تیل اور آدھا چائے کا چمچ زیتون کا تیل مکس کریں اور اِسے دن میں دو بار اپنے چہرے پر لگائیں۔ چالیسں دن تک استعمال جاری رکھیں۔ بالوں کا گِرنا اور عمر سے پہلے سفید ہونا۔ آجکل بہت سے لوگوں کو بالوں کا گِرنا اور عمر سے پہلے سفید ہونا جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کا ایک مؤثر حل کلونجی کا تیل ہے۔ پہلے لیموں کا رس سر کی کھال پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد بالوں کو شیمپو کر لیں۔ جب بال خشک ہو جائیں تو کلونجی کا تیل بالوں کی جڑوں میں لگا لیں۔ چھ ہفتے تک یہ عمل جاری رکھیں۔ سر کا درد۔ سر کے درد سے نجات کیلئے جس وقت درد ہو رہا ہو کلونجی کے تیل سے پیشانی اور کان کے اطراف مساج کریں۔ اگر آپ پھر بھی بہتر محسوس نہ کریں تو آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل دن میں دو بار لیں۔ ہارٹ اٹیک۔ ہارٹ اٹیک سے بچاؤ کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کے تیل کو ایک کپ بکری کے دودھ میں شامل کرکے دن میں دو بار استعمال کریں۔ یہ نسخہ چربی کو پگھلا کے دل کی شریانیں کھولنے میں مدد کر تا ہے۔ بہتر نتائج کیلئے چکنائی سے پرہیز کریں۔ دس دن تک دن میں دو بار لیں اور پھر استعمال ایک بار کر دیں۔ جوڑوں کا درد۔ جوڑوں کا درد نا قابلِ برداشت درد ہوتا ہے۔ اس کیلئے یہ نسخہ تیار کریں۔ ایک چائے کا چمچ سفید سرکہ، دو چائے کے چمچ شہد اور آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل باہم ملائیں۔ دن میں دو بار ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں اور اِسی تیل سے جوڑوں پر مساج بھی کریں۔ گیس پیدا کرنے والے اجزاء سے اکیس دن تک پرہیز کریں۔ یاداشت بڑھانا۔ یاداشت کم ہونا اور بھول جانا بڑھتی عمر کے اہم مسائل ہیں۔ اپنی یاداشت کو بہتر بنانے کیلئے دس گرام پودینہ کو آدھا کپ پانی میں اْبال کے چھان لیں اور اس میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل شامل کرکے دن میں دو بار پئیں۔ بیس دن تک استعمال کریں۔ میگرین۔ کلونجی کے تیل کا ایک قطرہ سر کے جس طرف درد ہو اْس کی مخالف سمت ناک میں ڈالیں۔ سر کا مساج کریں اور دن میں دس قطرے کلونجی کے تیل کو میگرین سے نجات کیلئے پئیں۔ اوبیسٹی۔ اوبیسٹی پر قابو پانے کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور دو چائے کے چمچ شہد کو اپک کپ نیم گرم پانی میں مکس کرکے استعمال کریں۔ فرائی اور بیکری کی چیزوں سے پرہیز کریں۔ رات کی نیند۔ رات کو اچھی نیند کیلئے رات کے کھانے کے بعد آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور ایک چائے کا چمچ شہد لیں اور پْرسکون نیند سوئیں۔ بواسیر کا علاج۔ بواسیر کے علاج کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل، ایک کپ چائے کے قہوے میں ڈال کے دن میں دو بار ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ گرم تاثیر اور تیز مصالحے والی غذاؤں سے پرہیز کریں۔ چہرے کے دانے اور دھبے۔ ایک کپ پائن ایپل جوس میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل ملا کے دن میں دو بار لیں۔ اسے ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ زْکام۔ شدید زْکام کے علاج کیلئے آدھا کپ پانی میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور چوتھائی چائے کا چمچ زیتون کا تیل مکس کرکے اِسے چھان لیں۔ اس مکسچر کے دو قطرے ناک میں ڈالیں۔ جلد افاقہ کیلئے دن میں دو بار استعمال کریں۔ دانت کا درد اور مسوڑوں کا پھولنا۔ آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل نیم گرم پانی میں مکس کرکے غرارے کریں۔ اس کے علاوہ متاثرہ دانتوں پر کلونجی کا تیل لگائیں یہ درد کم کرنے میں مدد دے گا۔ دماغی کمزوری۔ دماغی کمزوری دور کرنے کیلئے ایک چائے کا چمچ دیسی گھی یا دو چائے کے چمچ کریم کو دو قطرے کلونجی کے تیل میں مکس کریں ساتھ ہی ذائقے کیلئے تھوڑی سی چینی بھی ڈال لیں اور اِسے روزانہ ناشتے سے پہلے استعمال کریں۔ جلد پر سیاہ اور سفید نشانات۔ اِن کو ختم کرنے کیلئے ایک کپ سفید سرکہ میں ایک چائے کا چمچ کلونجی کا تیل مکس کریں اور رات کو سونے سے پہلے متاثرہ حصے پر لگائیں اور صبح دھو لیں۔ یہ عمل اْس وقت تک دْہرائیں جب تک چہرہ صاف اور شفاف نہیں ہو جاتا۔ برچسبها: کلونجی کے فوائد ادامه مطلب |