|
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے عالم دین کے بارے میں متعدد اہم باتوں پر زور دیا ہے۔ ان کے افکار کے مطابق، ایک عالم دین کی ذمہ داری صرف مذہبی علوم تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی امور میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ امام خمینی کے نزدیک عالم دین کی صفات: 1. *علم اور تقویٰ کا امتزاج*: امام خمینی کے مطابق، ایک عالم دین کو صرف علم ہی نہیں بلکہ تقویٰ اور پرہیزگاری بھی اختیار کرنی چاہیے۔ علم بغیر عمل کے بے فائدہ ہے۔ 2. *ظلم کے خلاف آواز اٹھانا*: ان کا کہنا تھا کہ عالم دین کو ہر قسم کے ظلم اور استحصال کے خلاف بولنا چاہیے، چاہے وہ سیاسی ہو، معاشی ہو یا سماجی۔ 3. *امت مسلمہ کی رہنمائی*: امام خمینی کے نزدیک، عالم دین کا فرض ہے کہ وہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کرے اور ان کا حل پیش کرے۔ 4. *استعمار اور غاصب قوتوں کے خلاف جدوجہد*: انہوں نے زور دیا کہ علماء کو استعماری طاقتوں اور غاصب حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کی تحریک میں علماء کا کردار مرکزی تھا۔ 5. *وحدت امت کی ترویج*: امام خمینی عالم اسلام کی وحدت پر بہت زور دیتے تھے اور کہتے تھے کہ علماء کو فرقہ واریت اور تفرقے کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک مشہور اقتباس: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: *"عالم دین وہ ہے جو صرف مسجد اور مدرسے تک محدود نہ رہے، بلکہ معاشرے کی اصلاح کے لیے میدان عمل میں اترے۔"* ان کے نزدیک، ایک حقیقی عالم دین وہ ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرے اور معاشرے کی رہنمائی کرے۔ غزہ کے حامی امریکی اسٹوڈنٹس سے اظہار یکجہتی کے خط میں امام خامنہ ای: تاریخ اپنا ورق پلٹ رہی ہے اور آپ اس کی صحیح سمت میں کھڑے ہیں2024/05/29 بسم اللہ الرحمن الرحیم میں یہ خط ان جوانوں کو لکھ رہا ہوں جن کے بیدار ضمیر نے انھیں غزہ کے مظلوم بچوں اور عورتوں کے دفاع کی ترغیب دلائي ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکا کے عزیز نوجوان اسٹوڈنٹس! یہ آپ سے ہماری ہمدلی اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ اس وقت آپ تاریخ کی صحیح سمت میں، جو اپنا ورق پلٹ رہی ہے، کھڑے ہوئے ہیں۔ آج آپ نے مزاحمتی محاذ کا ایک حصہ تشکیل دیا ہے اور اپنی حکومت کے بے رحمانہ دباؤ کے باوجود، جو کھل کر غاصب اور بے رحم صیہونی حکومت کا دفاع کر رہی ہے، ایک شرافت مندانہ جدوجہد شروع کی ہے۔ مزاحمت کا بڑا محاذ آپ سے دور ایک علاقے میں، آپ کے آج کے انہی احساسات و جذبات کے ساتھ، برسوں سے جدوجہد کر رہا ہے۔ اس جدوجہد کا ہدف اُس کھلے ہوئے ظلم کو رکوانا ہے جو صیہونی کہے جانے والے ایک دہشت گرد اور سفاک نیٹ ورک نے برسوں پہلے فلسطینی قوم پر شروع کیا اور اُس کے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد اُسے سخت ترین دباؤ اور ایذا رسانیوں کا شکار بنا دیا۔ آج اپارتھائيڈ صیہونی حکومت کے ہاتھوں جاری نسل کشی، پچھلے دسیوں سال سے چلے آ رہے شدید ظالمانہ برتاؤ کا ہی تسلسل ہے۔ فلسطین ایک خود مختار سرزمین ہے جو طویل تاریخ رکھنے والی اس قوم کی ہے جس میں مسلمان، عیسائي اور یہودی سب شامل ہیں۔ صیہونی نیٹ ورک کے سرمایہ داروں نے عالمی جنگ کے بعد برطانوی حکومت کی مدد سے کئي ہزار دہشت گردوں کو تدریجی طور پر اس سرزمین میں پہنچا دیا، جنھوں نے فلسطین کے شہروں اور دیہاتوں پر حملے کیے، دسیوں ہزار لوگوں کو قتل کر دیا یا انھیں پڑوسی ممالک کی طرف بھگا دیا، ان کے گھروں، بازاروں اور کھیتوں کو ان سے چھین لیا اور غصب کی گئي فلسطین کی سرزمین پر اسرائيل نام کی ایک حکومت تشکیل دے دی۔ اس غاصب حکومت کی سب سے بڑی حامی، انگریزوں کی ابتدائي مدد کے بعد، ریاستہائے متحدہ امریکا کی حکومت ہے جس نے اس حکومت کی سیاسی، معاشی اور اسلحہ جاتی مدد لگاتار جاری رکھی ہے، یہاں تک کہ ناقابل معافی بے احتیاطی کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ بھی اس کے لیے کھول دی اور اس سلسلے میں اس کی مدد کی ہے۔ صیہونی حکومت نے پہلے ہی دن سے نہتے فلسطینی عوام کے خلاف جابرانہ روش اختیار کی اور تمام انسانی و دینی اقدار اور قلبی احساس کو پامال کرتے ہوئے اس نے روز بروز اپنی سفاکیت، قاتلانہ حملوں اور سرکوبی میں شدت پیدا کی۔ امریکی حکومت اور اس کے حلیفوں نے اس ریاستی دہشت گردی اور لگاتار جاری ظلم پر معمولی سی ناگواری تک کا اظہار نہیں کیا۔ آج بھی غزہ کے ہولناک جرائم کے سلسلے میں امریکی حکومت کے بعض بیانات، حقیقت سے زیادہ ریاکارانہ ہوتے ہیں۔ مزاحمتی محاذ نے اس تاریک اور مایوس کن ماحول میں سر بلند کیا اور ایران میں اسلامی جمہوری حکومت کی تشکیل نے اسے فروغ اور طاقت عطا کی۔ بین الاقوامی صیہونزم کے سرغناؤں نے، جو امریکا اور یورپ کے زیادہ تر ذرائع ابلاغ کے یا تو مالک ہیں یا یہ میڈیا ہاؤسز ان کے پیسوں اور رشوت کے زیر اثر ہیں، اس انسانی اور شجاعانہ مزاحمت کو دہشت گردی بتا دیا۔ کیا وہ قوم، جو غاصب صیہونیوں کے جرائم کے مقابلے اپنی سرزمین میں اپنا دفاع کر رہی ہے، دہشت گرد ہے؟ کیا اس قوم کی انسانی مدد اور اس کے بازوؤں کی تقویت، دہشت گردی کی مدد ہے؟ جابرانہ عالمی تسلط کے سرغنا، انسانی اقدار تک پر رحم نہیں کرتے۔ وہ اسرائيل کی دہشت گرد اور سفاک حکومت کو، اپنا دفاع کرنے والا ظاہر کرتے ہیں اور فلسطین کی مزاحمت کو جو اپنی آزادی، سلامتی اور مستقبل کے تعین کے حق کا دفاع کر رہی ہے، دہشت گرد بتاتے ہیں۔ میں آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آج صورتحال بدل رہی ہے۔ ایک دوسرا مستقبل، مغربی ایشیا کے حساس خطے کے انتظار میں ہے۔ عالمی سطح پر بہت سے ضمیر بیدار ہو چکے ہیں اور حقیقت، آشکار ہو رہی ہے۔ مزاحمتی محاذ بھی طاقتور ہو گيا اور مزید طاقتور ہوگا۔ تاریخ بھی اپنا ورق پلٹ رہی ہے۔ ریاستہائے متحدہ کی دسیوں یونیورسٹیوں کے آپ اسٹوڈنٹس کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی یونیورسٹیاں اور عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پروفیسروں کی جانب سے آپ اسٹوڈنٹس کا ساتھ اور آپ کی پشت پناہی ایک اہم اور فیصلہ کن واقعہ ہے۔ یہ چیز، حکومت کے جابرانہ رویے اور آپ پر ڈالے جانے والے دباؤ کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔ میں بھی آپ جوانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور آپ کی استقامت کی قدردانی کرتا ہوں۔ ہم مسلمانوں اور دنیا کے تمام لوگوں کو قرآن مجید کا درس ہے، حق کی راہ میں استقامت: فاستقم کما اُمرت۔ اور انسانی روابط کے بارے میں قرآن کا درس یہ ہے: نہ ظلم کرو اور نہ ظلم سہو: لاتَظلمون و لاتُظلمون۔ مزاحمتی محاذ ان احکام اور ایسی ہی سیکڑوں تعلیمات کو سیکھ کر اور ان پر عمل کر کے آگے بڑھ رہا ہے اور اللہ کے اذن سے فتحیاب ہوگا۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ قرآن سے آشنائي حاصل کیجیے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم انا للہ و انا الیہ راجعون بزرگ اور خدمتگزار عالم دین حجت الاسلام و المسلمین جناب الحاج شیخ محسن علی نجفی طاب ثراہ کے انتقال کی خبر سے دکھ اور افسوس ہوا۔میں محترم عالم دین کے انتقال پر پاکستان کے علمائے دین، حوزہ ہائے علمیہ، مرحوم کے اہل خانہ اور ان کے چاہنے والوں خاص طور پر بلتستان کے محترم شیعوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور خداوند شکور سے اس آزاد منش عالم دین کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی نیز تمام محترم پسماندگان کے لیے صبر و اجر کی دعا کرتا ہوں۔ سید علی خامنہ ای 10 جنوری 2024 یاد رہے کہ آيت اللہ محسن علی نجفی پاکستان کے بزرگ شیعہ علمائے دین اور قرآن مجید کے مفسرین میں سے ایک تھے جنھوں نے نجف اشرف میں مرحوم آيت اللہ خوئي اور شہید آيت اللہ محمد باقر الصدر جیسے اساتذہ سے کسب علم کیا۔ مرحوم 'جامعۂ اہل البیت' اور 'جامعۂ الکوثر' جیسے بڑے دینی مدارس کے بانی، پاکستان میں اہل البیت علیہم السلام اسمبلی کی اعلی کونسل کے سربراہ، اسوہ تعلیمی سسٹم کے بانی اور اسی طرح کئی پرائيویٹ کالجوں کے بانی تھے۔ برچسبها: محمد عسکری, ممتاز 4. روشها و راهبردهای كشف غرض سورهتوجه به آثار ارزشمند پیوستگی آیات در پرتو روح حاكم بر سوره، اشتیاق به شناسایی غرض سوره ها را افزون می كند؛ اما باید توجه داشت كه كشف غرض مشكل ترین بخش از كار در این زمینه است. 1. سیاق سورهرایج ترین و مطمئن ترین روش برای كشف غرض یك سوره بررسی سیاق سوره و تكیه به معنای منطوقی آن است. سیاق در اصطلاح اهل ادب به طرز جمله بندی كه برگرفته از چینش و نظم خاص كلمات است گفته می شود، به گونه ای كه گاهی افزون بر معنای هر یك از كلمه ها و سپس معنای جمله، معنای دیگر را نیز برای جمله به همراه آورد. البته در بحث وحدت هدف در سوره ها، سیاق مجموع جملاتِ سوره مد نظر است و چه بسا اگر آن را روند كلی سوره بنامیم بهتر باشد. 2. نام سورهیكی از نشانه هایی كه مفسران را به كشف غرض سوره ها راهنمایی می كند، اسم سوره است. برخی از مفسران تأكید دارند كه اسامی سوره های قرآن ارتباط عمیق و محكمی با مقصود و غرض اصلی سوره داشته و اصولاً اسم سوره آیینه تمام نمای اغراض آن است.45 و یا دست كم نام سوره درباره مسئله ای است كه بیشتر آیات آن سوره درباره آن سخن می گویند. چنان كه بیشتر آیات سوره برائت درباره بیزاری جستن از مشركان و منافقان است.46 3. آیات آغازین و پایانی سوره هاتردیدی نیست كه زیبایی و بلاغت سخن تا اندازه زیادی به عبارات آغازین و پایانی آن بستگی دارد. سخنگو و نویسنده زبردست در ورود و خروج به مقصود از خود حسن سلیقه و هنر نشان می دهد. به علاوه عالمان بلاغت از دیرزمان «حسن مطلع» و «حسن ختام» در هر سوره را از جمله محسنات بدیعی قرآن دانسته اند. بدین ترتیب كه هر سوره با مقدمه ای ظریف آغاز می شود و با خاتمه ای لطیف پایان می یابد. 4. شأن نزول آیات و سوره هاشناخت شأن نزول آیات و سوره ها، نقش بسیار مهمی در فهم و درك معانی قرآن و كشف اغراض و اهداف سوره ها ایفا می نماید. به همین جهت است كه مفسران اولین چیزی را كه در تفسیر هر آیه در نظر گرفته بررسی می كنند، شأن نزول آن است و تفسیری را بیشتر دارای ارزش می دانند كه مفسر بیش از دیگران، آگاه به شأن نزول آیات بوده باشد. یكی از دلایلی كه امیرالمؤمنین علی(ع) در بین شیعه و سنی آگاه ترین و تواناترین فرد در تفسیر قرآن نامیده شده است آن است كه آن حضرت پس از پیامبر بیش از همه از اسباب نزول آیات مطلع بوده است. خود آن حضرت می فرماید: 5. مكی یا مدنی بودن سورهیكی ازمباحث سودمند و پرفایده علوم قرآنی، بازشناسی سوره های مكی از مدنی است. مكی یا مدنی بودن سوره ها نه تنها در فهم تاریخ و مكان نزول سوره تأثیر دارد، بلكه در استنباط فقهی و استدلالات كلامی نیز مؤثر است و فصل الخطاب برخی از مباحث جنجالی در حوزه علوم قرآنی به شمار می رود. یكی از دستاوردهای مهم این علم كه تا كنون از آن غفلت شده است تأثیر مكی یا مدنی بودن سوره در كشف غرض آن است. 6. اسماء الحسنییكی دیگر از ابزارها و اسباب شناخت غرض سوره ها، چگونگی كاربرد نامهای الهی و نسبت آماری مربوط به آن می باشد. این نامها كه در ارتباط با محتوا و مضمون محوری هر سوره و تأثیرات تربیتی و ارشادی آنها به كار رفته اند، راهنمای بسیار مفیدی برای شناخت بهتر سوره ها هستند. مثلاً كاربرد فراوان نام جلاله «الله» یا نام «رب» در یك سوره و بالا بودن نسبت آماری آن، جهت گیری سوره را در زمینه «الوهیت» یا «ربوبیت» نشان می دهد. مخاطب سوره هایی كه نام «الله» در آنها به فراوانی به كار رفته، به طور عمده مؤمنان هستند و آنها را از لغزشگاه های اخلاقی و عملی متوجه عظمت مقام خداوند می نماید. اما در سوره هایی كه نام «رب» در آنها بیشتر به كار رفته مشركان مخاطب هستند و محور سوره در جهت شرك زدایی و توحید است؛ مانند سوره ملك. همچنین نامهای غفور و رحیم، عزیز و حكیم، علیم، بصیر، هر یك زمینه ای از بخشش و مغفرت، قانونمندی حكیمانه هستی و آ گاهی خدا را بر جزئیات امور اعمال انسانها نشان می دهد.57 اكنون به چند نمونه اشاره می كنیم: 7. حروف مقطعه و اغراض سوره ها29 سوره قرآن كریم با حروف مقطعه آغاز می شوند. درباره مدلول حروف مقطعه و حكمت افتتاح سوره به آنها، آرای متفاوتی از سوی مفسران ابراز شده است. برخی آنها را عبارت از حروف ساده ای می دانند كه خداوند متعال با افتتاح بعضی از سوره با آنها خواسته است بفهماند كه قرآن از همین حروف تشكیل شده اند و اگر شما نیز می توانید با كمك این حروف چیزی مانند قرآن بیاورید، برخی دیگر این حروف را درك ناشدنی دانسته و آنها را اسرار ناگشودنی قرآن به شمار آورده اند. عده ای دیگر آنها را نامهای قرآن یا اسامی برخی از سور می دانند و گروه دیگری، این حروف را رمزی از اسماء اعظم الهی دانسته و می گویند خداوند با این حروف به نام خود سوگند خورده است.61 8. قصص قرآنی و اغراض سوره هایكی از ابزارهای مؤثر قرآن برای تفهیم مقاصد و اهداف متعالی اش، بیان و بازگویی واقعیتها و رخدادهای تاریخی است. ویكی از ویژگیهای قصص قرآنی، هم سو و هم جهت بودن آنها با مطالب سوره و هدف اصلی آن است. اگر محور اصلی سوره ای اثبات یگانگی خداوند باشد واقعیتهای تاریخی كه در آن مطرح می شوند بر مسئله توحید تكیه دارند. اگر مطلب اصلی سوره نجات مؤمنان از چنگال مشركان و كفار است رخدادهایی كه پایان آنها نجات ایمان آورندگان را در پی دارد ارائه می گردد و اگر سوره در صدد تقویت قلب پیامبر یا به هراس افكندن مشركان از آزار و اذیت مسلمانان باشد، سرگذشت مبارزه انبیا با دشمنان را می آورد كه سرانجام با پیروزی پیامبران به همراه بوده است. اگر سوره ای معاد را محور اصلی خود قرار داده نمونه های عینی تاریخی كه نمایانگر قدرت بی پایان الهی بر احیای اموات است به خواننده ارائه می شود و سرانجام اگر سوره ای بر جهاد با مشركان تأكید دارد، مقاومت و پایداری جبهه حق در رویارویی با دشمنان شان را یادآور می شود.
5. گزارشی از سبكهای نمایشی ساختار سوره هایكی از جنبه هایی كه مورد توجه مفسران قرار گرفته است، روش سبك نمایشی ساختار سوره هاست، بدین معنی كه پس از بازشناسی غرض سوره و تعیین چگونگی ارتباط آیات با آن، ساختار نهایی سوره را با چه الگویی در معرض دید خوانندگان قرار دهند تا وی بتواند با مفاهیم سوره ارتباط برقرار كرده بر وجود هماهنگی منطقی میان آیات و غرض پی ببرد؟ یك. سبك نمودار محتواییروش نمودار محتوایی یكی از روشهای پذیرفته شده است كه در سالهای اخیر برای انتقال مفاهیم علوم و نشان دادن رابطه میان مباحث پراكنده آنها به كار می رود، كه به لحاظ كارآیی و تأثیری كه این روش در انتقال سریع مفاهیم به مخاطبان دارد بسیار مورد استقبال واقع شد و به تدریج جای خود را در میان همه علوم باز كرد. دو. سبك گزارش محتواییروش دیگری كه برای نمایش ساختار سوره ها به كار می رود «سبك گزارش محتوایی» است. این سبك كه در برخی از كتب تفسیری رایج است بر پایه معرفی سوره و گزارش محتوای آن در فصول و بخشهای جداگانه استوار است. سه. سبك نمودار درختیروش دیگری كه قرآن پژوهان معاصر برای نشان دادن ساختار سوره ها به كار برده اند «سبك نمودار درختی» است. دراین سبك به جای ارتباط آیات همجوار با یكدیگر و با غرض اصلی سوره به ارتباط مفاهیم و موضوعات مطرح شده با غرض می پردازند. این سبك بر این مبنا استوار شده است كه هر سوره دارای روح خاصی است كه در همه اجزای آن دمیده شده و مطالب پراكنده و موضوعات جداگانه را زیر یك سقف جمع كرده و آنها را به سوی یك غرض مشخص هدایت نموده است. و به عبارتی دیگر هر سوره قرآن همچون درختی است كه شاخه هایی پراكنده دارد و بر هر شاخه ای میوه ای و هدفی نشسته است، همه شاخه ها و میوه ها از یك منشأ ارتزاق می كنند كه همان ریشه درخت باشد. بنابراین آنچه در هر سوره ضروری است ارتباط آیات مختلف با هدف اصلی است، از این رو ممكن است سوره درباره مباحث و موضوعات مختلفی كه هر یك به گونه ای با هدف اصلی مرتبط است سخن بگوید؛ اما آیات مربوط به آن موضوع در كنار هم مجتمع نبوده بلكه در تمام سوره پراكنده باشد. مثلاً سوره رعد كه درباره حقانیت قرآن سخن می گوید سه موضوع فرعی را بررسی می نماید؛ یكی از آنها حقانیت پیامبر اكرم است. آیاتی كه درباره این موضوع در سوره رعد قرار دارند در بخشهای مختلف سوره از آغاز تا انجام آن پراكنده شده اند. و حتی ممكن است صدر یك آیه درباره موضوعی و ذیل آن درباره موضوع دیگری باشد، اما در هر حال همه مطلب ذكر شده در آیات به نحوی با موضوعات فرعی مرتبط می باشند و آنها نیز به نوبه خود به غرض اصلی سوره وصل می شوند. چهار. سبك استدلالییكی از روشهای نمایش ساختار سوره ها سبك استدلالی است. در سبك استدلالی به دلائل كشف غرض اصلی سوره توجه وافری شده است و علت گزینش یك غرض به عنوان غرض اصلی و موضوع محوری سوره به تفصیل بیان می شود. پنج. سبك گزارش اجمالیعلامه طباطبایی یكی از طرفداران ساختار سوره هاست و اصولاً حكمت سوره سوره شدن آیات قرآن را در وحدت غرضی می داند كه بین چند آیه وجود دارد. وی برای نمایش دادن وحدت غرض در سوره ها از روش گزارش اجمالی استفاده می كند. بر پایه این روش در ابتدای هر سوره ذیل عنوان «بیان» غرض سوره را با دلائل مربوطه بیان می كند، آن گاه آیات را در دسته های مختلف از یكدیگر جدا می سازد. معیار علامه در دسته بندی آیات، هماهنگی آنها در یك موضوع فرعی است. وی مجموعه آیاتی را كه حول یك محور می چرخند با یكدیگر ذكر كرده و در ابتدای آنها نیز عنوان «بیان» را گشوده و نحوه ارتباط آنها را با هم و با غرض اصلی سوره ذكر می كند. بدین ترتیب در ابتدای سوره گزارشی اجمالی از غرض سوره و در ابتدای هر دسته از آیات گزارشی اجمالی از غرض آن آیات و گاه چگونگی ارتباط آنها با غرض اصلی سوره را بیان می كند. پس از آن كه گزارش اجمالی به پایان رسید، بخش تفسیر آیات آغاز می شود و با ذكر یك یك آیات، نكات تفسیری آنها را مطرح كرده و به طور كامل مفاهیم و مطالب مرتبط با آیه را بیان می دارد. گاهی نیز به كیفیت ارتباط آیه با آیات قبل و بعد اشاره می كند. شش. سبك تفصیلیسبكها و اسلوبهایی كه تاكنون برای نمایش ساختار سوره ها معرفی كردیم هر یك دارای مزایا و كاستی هایی بود. امتیازات و ویژگیهای هر سبكی آن را برای شرایط و موقعیت خاصی مفید و كارامد نمود. اما اگر بخواهیم به همه فوائد و نتایج مثبت ترسیم ساختار سوره ها دست یابیم به ناچار باید از سبك و اسلوبی پیروی كنیم كه بیشترین مزایا و كمترین نقص را داراست؛ چنین سبكی باید دارای ویژگیهای زیر باشد: 6. معرفی سوره قلمسوره قلم كه شصت و هشتمین سوره در ترتیب مصحف است از سوره هایی است كه در سالهای نخستین دعوت پیامبر در مكه نازل شده است. گرچه برخی از مفسران با استناد به روایات ترتیب مصاحف خواسته اند آن را دومین سوره پس از علق بدانند، اما این ادعا با سیاق آیات و شواهد موجود در سوره سازگار نیست؛ از جمله آن كه در آیه 15 از قول مشركان نقل می كند كه آنها آیات قرآن را داستانهای پیشینیان (اساطیرالاولین) می نامیده اند و طبیعی است كه این سخن زمانی مصداق می یابد كه دست كم در سخنان قبلی پیامبر یكی از سرگذشتهای و نقلهای تاریخی امتهای گذشته نقل شده باشد. غرض سورهاین سوره رسول خدا را به دنبال تهمتهای ناروایی كه مشركان به وی زده بودند و او را دیوانه خوانده بودند تسلیت داده و ضمن دعوت او به صبر، برناكامی و شكست مشركان در دنیا و خواری و ذلت آنها در آخرت تأكید می كند. و در یك جمله «بیان ناكامی تهمت زنندگان به پیامبر» محور اصلی و مركز ثقل سوره مباركه قلم است. كه از این طریق پیروزی نهایی حق بر باطل نشان داده شود. تفسیر سوره قلمسوره مباركه «قلم» به منظور نشان دادن ناكامی و سرافكندگی دشمنان پیامبر مطالب خود را در چند فصل بیان می كند، و در هر فصل با گشودن بابی جدید چهره تازه ای از فلاكت و گمراهی مشركان را به تصویر كشیده به این وسیله پیامبر و مؤمنان را تسلیت و دلداری می دهد. ٭ فصل اول: دلایل نفی جنون از پیامبر(آیات 1 تا 9) ٭ فصل دوم: ویژگیهای اخلاقی و شخصیتی تهمت زنندگان (آیات 10 تا 15) ٭ فصل سوم: عاقبت شوم تهمت زنندگان (آیات 16 تا 34) ٭ فصل چهارم: وظیفه پیامبر در برابر مشركان و تهمتهای آنان (آیات 48 ـ 50) ٭ نتیجه گیری: تهمت جنون؛ اوج درماندگی مشركان (آیات 51 ـ 52) مقدمه؛یكی از دلایلی كه می تواند پشتوانه این باور باشد كه «قرآن در همه اعصار پاسخگوی نیازهای بشری است و می تواند جایگاه مؤثر خود را در جامعه انسانی حفظ نماید»، تفسیرپذیری بی نهایت آن است. قرآن كتاب محكمی است كه چینش و گزینش حروف، كلمات، عبارتها، آهنگ و معانی آن به اراده خداوند حكیم و آگاه انجام پذیرفته و درجای جای آن نكته های نهفته، بسیار است. نظریه تناسب آیات هر سوره همچون سایر مباحث قرآنی با مخالفتها و موافقتهای بسیاری روبرو شده و جنجالهای فراوانی را برانگیخته است؛ آن چنان كه برخی مقتضای اعجاز قرآن را از هم گسیختگی آیات آن دانسته1 و برخی وحدت و یكپارچگی منطقی و ادبی سوره های قرآن كریم را معجزه همه معجزه های دیگر2 شمرده اند.
1. مفهوم «وحدت غرض سوره ها»نظریه «وحدت غرض آیات سوره های قرآن» از مباحثی است كه در سالهای اخیر مورد توجه خاص برخی قرآن پژوهان و علاقه مندان به معارف اسلامی قرار گرفته است؛ اما از آنجا كه چارچوب و مرزهای آن به درستی تبیین نشده مخالفتهای بسیاری را برانگیخته است. از سوی دیگر موافقان و طرفداران وحدت غرض سوره ها نیز هر كدام یكی از ابعاد این فرضیه را در نظر گرفته و به نفی و اثبات جوانب گوناگون آن پرداخته اند. بنابراین تبیین معنای دقیق «وحدت غرض سوره ها» به عنوان یكی از مقدمات تصوری این نظریه باید مورد توجه و عنایت قرار گیرد.
2. پیامدها وكاركردهای كشف اهداف سوره هاتوجه به ارتباط آیات ومجموعه نگری در تفسیر قرآن، فوائد و نتائج ارزنده ای را در بردارد و می تواند افق جدیدی در درك و دریافت معانی قرآن و جلوه های تازه ای از اعجاز آن را به نمایش گذارد و بسیاری از شبهات را پاسخ گفته و باب دیگری در مباحث علوم قرآنی بگشاید. مهم ترین پیامدها و كاركردهای بررسی جامع گرایانه سوره های قرآن عبارتند از: یك. مقابله با شبهه افكنی های خاورشناسانشماری از خاورشناسان كه در زمینه های علوم قرآنی تحقیقاتی انجام داده اما با دیدی سطحی و ساده اندیشانه درباره قرآن كریم به داوری نشسته اند، پراكندگی آیات سوره ها را یكی از كاستی های قرآن بر شمرده اند. آنان با دیدن نشانه هایی چون بیگانگی سبك بیان قرآن با معیارهای غربی و با فرض دخیل بودن صحابه در نظم و ترتیب آیات و سوره های قرآن به این نتیجه رسیده اند كه محتوای قرآن از هم گسیخته و بدون ارتباط منطقی است. «ریچارد بل» یكی از قرآن پژوهان اروپایی در مقدمه ترجمه معتبری كه از قرآن به انگلیسی ارائه كرده می نویسد: دو. آشنایی سریع و آسان با مفاهیم قرآنتهیه تفسیری بر اساس ساختار سوره ها می تواند بستر مناسبی برای آشنا نمودن نسل جوان با مفاهیم قرآنی باشد. با كمك این طرح می توان مفاهیم اساسی و كلیدی همه سوره را به صورت نمودار درختی در آورد و طی 40 الی 50 جلسه مفاهیم قرآن را به طور كامل به علاقه مندان آموزش داد. سه. غرض سوره، معیاری برای حل اختلافات تفسیریاگر بپذیریم كه هر سوره دارای غرض واحدی است كه مجموع آیات سوره برای تبیین و تشریح آن غرض گرد آمده اند، می توانیم در پرتو آن بسیاری از ابهامات تفسیری و اختلاف نظر مفسران را در فهم آیات حل كنیم. غرض اصلی و محور اساسی در فهم هر آیه همانند تراز و شاخص دقیق عمل می كند كه بر اساس آن می توان هرگونه انحراف تفسیری و خطا در برداشت را تشخیص داد. از طریق غرض اصلی سوره می توان سیاق و روح كلی حاكم بر آن را به دست آورد و از رهگذر آن به تفسیر و تبیین آیات پرداخت. چهار. آشنایی با روش طرح معارف دینی در قرآناز آنجا كه در بررسی موضوعی سوره ها برای هر سوره یك غرض و محور مشخص تعیین می شود می توان برای ترسیم روش قرآن در موضوعات گوناگون به سوره های مربوطه مراجعه كرد و سرفصلهای هر مبحث و راه ورود و خروج در مباحث را استخراج كرد و آن را به صورت «طرح درس» تنظیم نمود؛ مثلاً اگر بخواهیم طرح درس برای مبحث «ربوبیت الهی» بنویسیم به سوره ملك مراجعه می كنیم. دراین سوره برای اینكه فضای روشنی از ربوبیت الهی در ذهن خواننده ایجاد شود و مخاطب به گستردگی ربوبیت الهی در سرتاسر گیتی پی ببرد از روش بسیار جالبی استفاده می كند و با طرح چند پرسش از نعمتهای پراكنده در اطراف انسانها به عنوان نشانه هایی از ربوبیت الهی نام می برد و در سه محور اساسی به طرح این غرض می پردازد كه عبارتند از: پنج. فهرست بندی سوره هایكی از اقدامات بایسته كه برای تسهیل ارتباط نسل جوان با قرآن و مفاهیم آن بایسته به نظر می رسد، تهیه فهرست مطالب برای هر سوره است؛ به گونه ای كه خواننده قرآن پیش از مطالعه هر سوره نمایی كلی از مباحث را دریافته هدف و غرض اصلی سوره را درك كند. فهرست مطالب با ارائه اجمالی مباحث، خواننده را به خواندن سوره تشویق كرده و در او انگیزه درك نكات بیشتر را به وجود می آورد. به علاوه وجود فهرستی از مطالب سوره ها در انتهای قرآن كریم، امكان دستیابی به موضوعات و مطالب مورد نیاز پژوهشگران را فراهم آورده و راهنمایی لازم را به آنان ارائه می دهد. شش. غرض سوره، معیاری برای شناخت اسباب نزول های جعلیشناخت شأن نزول آیات، نقش مهمی در فهم و درك معانی بسیاری از آیات و حل مشكلات تفسیری دارد و ما را از حكمتی كه باعث تشریع حكم شده آگاه می سازد. به همین جهت اولین چیزی كه مفسران در تفسیر هر آیه مدّ نظر قرار می دهند، شأن نزول آن است. این اهمیت تا بدان پایه است كه واحدی در «اسباب النزول» می گوید «شناخت تفسیر آیات قرآن بدون آگاهی یافتن از چگونگی نزول آنها امكان ندارد».16 هفت. غرض سوره ها و تعیین معنای «بسم الله» در هر سورهبرخی از عرفا و مفسرانی كه با دیده خاص عرفانی به حقائق قرآن و ژرفای معارف آن نگریسته اند بر این باورند كه لفظ «بسم الله الرحمن الرحیم» گرچه در ابتدای هر سوره تكرار شده است؛ اما این عبارت شریف درهر جا به مقتضای معانی سوره مربوطه، معنی و مفهومی خاص به خود می گیرد. و به همین دلیل، بسم الله هر سوره بخشی از آن است و باید در كتابت و قراءت سوره منظور شود، و شاید علت آن كه در نماز، پیش از قراءت بسم الله، باید سوره را در نیت خود مشخص نماییم همین نكته باشد. هشت. وحدت غرض سوره ها و ترجمه «پیوسته» قرآنیكی از عواملی كه مانع گرایش گسترده نسل امروز به درك مفاهیم و معارف قرآنی می شود، ترجمه های نارسا و مبهمی است كه از قرآن كریم ارائه می گردد. این ترجمه ها با ترسیم چهره ای نازیبا و گسسته از مفاهیم قرآنی و ایجاد تشویق در ذهن خواننده باعث می شود كه خواننده ناآشنا به زبان عربی به تدریج از معارف قرآن فاصله گیرد. به اعتقاد قرآن پژوهان معاصر «بی توجهی اغلب مترجمان و مفسران به نظم و ارتباط و تناسب آیات باعث شده است كه ترجمه و تفسیرها ـ به خصوص ترجمه های تحت اللفظی قرآن ـ گسسته شوند».19 و خواننده با مطالعه آنها از درك منطقی مفاهیم سوره محروم بماند.
3. وحدت غرض سوره ها در بوته نقد و نظراز زمانی كه شیخ ابوبكر نیشابوری (م 325 ) بحث تناسب آیات و سوره ها را در محافل علمی زمان خود طرح نمود، تاكنون كه بیش از ده قرن از آن می گذرد همیشه مسئله ارتباط و تناسب آیات با مخالفتها و موافقتهای بسیاری روبرو بوده و محبتها و بی مهری های فراوانی را در پیشینه خود ثبت كرده است. شیخ ابوبكر نیشابوری عالمان بغداد را به خاطر اینكه علم تناسب را نمی دانستند عیب می كرد و شیخ عزالدین بن عبدالسلام تلاشهای موافقان علم تناسب را تكلف آمیز و ایجاد ارتباط بین آیات را ركیك و نامربوط می خواند. زمانی بقاعی شرایط را مناسب می یافت و تفسیر «نظم الدرر فی تناسب الآیات و السور» را می نگاشت و روزگاری نیز اوضاع چنان وخیم می شد كه ابن عربی چون افراد لایقی برای درك و پذیرش این علم نیافت بر آن مهر زده و با حزن و اندوه فراوان آن را به خدای خود بازگردانید.20 توقیفی بودن ترتیب آیاتیكی از پایه های اساسی نظریه وحدت غرض سوره ها، توقیفی بودن ترتیب آیات قرآن است.21 از دیرباز دانشمندان علوم قرآنی بر سر چگونگی پیوند آیات با یكدیگر اختلاف داشته اند كه آیا چینش كنونی آنها دستاورد عمل و اجتهاد صحابه است و یا در كار تنظیم آیات تنها دستی از وحی نقش آفرین بوده و حتی اجتهاد و نظر شخصی پیامبر(ص) نیز در این میان جایی نداشته است؟ در صورتی كه توقیفی و وحیانی بودن چینش آیات ثابت گردد می توان با استناد به حكیمانه بودن افعال الهی و اقتضای بلاغت و حكمت در سخنگویی، بر وجود هدف جامع در هر سوره استدلال كرد و با تكیه بر این استدلال به دنبال غرض اصلی و محورهای ارتباطی هر سوره به جست وجو پرداخت. دلایل موافقان وحدت غرض سوره هامهم ترین دلایلی كه می توان برای اثبات نظریه وحدت غرض سوره اقامه نمود عبارتند از: 1. آیات قرآنقرآن بهترین گواه و استوارترین مرجع برای سنجش عقاید و احكام دینی است و همه فرقه های اسلامی ـ به رغم اختلاف گسترده ـ بر حجیت قرآن و جایگاه آن در داوری میان عقائد هم باورند. بدیهی است در چنین شرایطی برای شناخت ویژگیها و اسلوب قرآن هیچ دلیلی محكم تر و اطمینان بخش تر از خود قرآن نیست. 2. احادیث اهل بیت(ع) و وحدت غرض سوره هاسیره تفسیری و سنت رسول اكرم(ص) و ائمه اطهار(ع) به عنوان مفسران حقیقی قرآن كه وظیفه تبیین و تشریح قرآن را به عهده داشته اند، پس از خود قرآن، مطمئن ترین منبع شناخت قرآن و روشهای فهم و درك معانی آن است. درموارد زیادی از كلام معصومین(ع) شواهدی را می یابیم كه حكایت از نگرش جامع گرایانه ائمه(ع) به قرآن دارد. دراین روایات از پاره پاره كردن قرآن و پراكندن آیات به سختی نهی شده و با تأكید بر این كه قرآن مفسر خود است بر ارتباط و هماهنگی آیات و انسجام درونی آنها به عنوان یك اصل اساسی در فهم قرآن صحه گذاشته شده است. 3. وحدت غرض؛ مقتضای بلاغت و سخنهر كلامی كه منعقد می گردد و هر شعری كه خوانده می شود و هر مقاله و متنی كه انشا یا تدوین می شود برای این است كه پیامی را به خواننده منتقل كند و تأثیری را در فكر و جان او بر جای نهد. این سخن اگر با عباراتی زیبا و دلنشین و با رعایت اصول فصاحت و بلاغت ادا شود و از سستی و ناموزونی به دور باشد تأثیری دوچندان خواهد داشت. دانشمندان علم بلاغت آن را چنین تعریف كرده اند: دلائل مخالفان وحدت غرض سوره هابا این كه دلائل وجود ارتباط و همبستگی بین آیات یك سوره قانع كننده به نظر می رسد، اما از دیرباز با انكار گروهی از محققان علوم قرآنی مواجه بوده است. علاوه بر این، خاورشناسان نیز بر این نكته پای فشرده اند كه «قرآن كریم جز پیامها و نظرات پراكنده و پریشانی كه ازمطالب متنوع متشكل شده است چیزی دیگر نیست و محتوای قرآن عبارت از مطالبی است كه با سبكی پریشان و گسیخته و بیگانه از یكدیگر فراهم آمده است»،31 چنانكه «آرتور جان بری» در بخشی از مقدمه خود بر ترجمه قرآن می نویسد: الف. نزول تدریجی قرآن، و در مناسبتهای گوناگوناین اشكال رایج ترین اشكالی است كه بر ارتباط آیات و وحدت جامع گرایانه سوره ها وارد شده است. در این شبهه با اشاره به نزول تدریجی قرآن و با توجه به اسباب نزول آیات نتیجه می گیرد كه اصولاً آیات قرآن بر اساس عدم ارتباط نازل شده اند و گرنه بدون شك قرآن به روش دیگری نازل می شد. شوكانی در تفسیر «فتح القدیر» در پاسخ به كسانی كه در پی یافتن ارتباطی بین آیات هستند می نویسد: ب. غرض محوری؛ از ویژگیهای كتابهای بشری و نه قرآنبرخی از اندیشمندان معاصر با تكیه بر جنبه هدایتی قرآن به مخالفت با نظریه وحدت غرض سوره ها برخاسته اند، آنان معتقدند كه مهم ترین رسالت و ویژگی قرآن هدایتگری آن است و اصولاً قرآن برای هدایت و نشان دادن راه سعادت نازل شده است. «ذلك الكتاب لاریب فیه هدی للمتقین»(بقره2). بنابراین هر چه به قرآن مربوط باشد باید به نحوی به جنبه هدایتی آن باز گردد. اسلوب و سبك و بیان قرآن نیز از این قاعده كلی جدا نیست. از سوی دیگر نظم مطالب كتابی كه از هدایت انسانها و سعادت فرد و جامعه بحث می كند با نظم كتب عادی بشری فرق دارد؛ در كتب بشری كه به طور معمول، یك رشته خاص مورد بحث قرار می گیرد نظمی پیوسته و یكنواخت رعایت می شود و كاری به سایر مطالب یا نیازهای دیگر انسانی ندارد. حتی رشته های علوم انسانی چون جامعه شناسی و روان شناسی نیز همین گونه هستند، ولی هدایتگر با همه ابعاد وجودی انسان كار دارد. ازاین رو گاهی در اوج مطالب عقلی به یكباره نرمشی عاطفی نشان می دهد تا عواطف نادیده گرفته نشود و گاه در اوج مسائل احساسی بحثی عقلی مطرح می شود تا احساسات به افراط كشیده نشود. قاعده خطابات ارشادی یكسره چنین است و با خطابات تعلیمی فرق دارد. و قرآن به سبك خطابات ارشادی نزدیك است، زیرا اهداف آن ارشاد به راه درست است.35 ج. تلاش در جهت ایجاد ارتباط میان آیات یك سوره؛ تلاشی تكلّف آمیزاز دیگر ایرادهایی كه به وحدت غرض سوره ها شده، شبهه تكلّف آمیز بودن است. برخی از دانشمندان و مفسران بر این باورند كه اصولاً سبك و اسلوب قرآن به گونه ای است كه برقراری ارتباط بین آیات آن مشكل، بلكه ناممكن است. از این رو هرگونه تلاشی دراین زمینه نوعی تحمیل بر اسلوب قرآن به شمار می رود. به همین دلیل كسانی كه در این وادی گام نهاده اند خود را به زحمت و تكلف بی ثمر انداخته اند. شیخ عزالدین بن عبدالسلام گفته است: د. انتقال از موضوعی به موضوع دیگر، اسلوب ویژه قرآنمخالفان تناسب آیات می گویند قرآن عربی است و روش عرب را در سخن گفتن پیموده است كه مطالب گونه گون و ناهمگونی را در كنار هم چیده كه بی هیچ مقدمه و زمینه سازی از یك غرض به غرض دیگر منتقل می شوند. به این روش «اقتضاب» گویند.39 از این دست می توان به آیه شریفه «و إن للطاغین شرّ مآب. جهنّم یصلونها فبئس المهاد» اشاره كرد كه پس از وصف جنات عدن و لذتهای آن به یكباره و بی هیچ مقدمه ای به وصف جهنم و عذاب آن پرداخته است. ادامه دارد.....
نوسنده: محمد خامه گر ___________________________________ پی نوشت: 1. حجازی، محمد محمد، الوحدة الموضوعیة فی القرآن الكریم، مصر، دارالكتب الحدیثة، 1970م، 14 (به نقل از فرید وجدی).
منبع اصلی: قرآن در بيان ديگرانگرچه محتواى زيبا و سرشار از لطافت و معاني آيات قرآني، اين كتابِ مقدس را بينياز از تعريف ديگران ميكند، امّا از آنجا كه نگاه بيروني و قضاوت ديگران نيز خود شيريني و تأثيري ديگر دارد نمونههايي چند را بر ميشماريم: رودويل، نويسنده انگليسياروپا نبايد فراموش كند كه مديون قرآن محمدي است، زيرا قرآن بود كه آفتاب علم و دانش را در اروپا طلوع داد. گوته، شاعر و نويسنده بزرگ آلمانيوی نيز در مقابل عظمت قرآن سر تعظيم فرود آورده است: ساليان دراز كشيشان از خدا بي خبر ما را از پي بردن به حقايق قرآن مقدس و عظمتِ آورنده آن دور نگه داشتهاند، اما هر قدر كه ما قدم در جاده علم و دانش به پيش گذارده و پردههاي جهل و تعصب نا بجا را دريدهايم، عظمت احكام مقدس اسلام كه قرآن مجموعه آن است، بهت و حيرت عجيبي در ما ايجاد نموده است و عنقريب است كه اين كتابِ توصيف ناپذير، عالم را به خود جلب نموده و تأثير عميقي در علم و دانش گذارده و در نتيجه جهانمدار ميگردد. دكتر ماردريل فرانسوياسلوب قرآن، اسلوبي ملكوتي و آسماني است و مولود فكر بشر و مخلوق زميني نيست. آنچه را كه قرآن دارد، هيچ كتاب ديگري نخواهد داشت. پروفسور مونتگمري واتمحقق انگليسي مينويسد: اين اولين و آخرين كتابي است كه موجب بروز انواع هنرها ميگردد. مهاتما گانديرهبر اسبق هند قايل به اين بود كه: از راه آموختن دانشِ قرآن، همه كس به اسرار روحي و حكمتهاي دين، بدون داشتن خصوصيات مصنوعي نايل ميشود. دكتر موريس فرانسويقرآن بهترين و برترين كتاب است كه دست هنر ازلي براي بشر در آن ظاهر گشته است. گييون كاناداييقرآن را بزرگترين دليل بر يگانگي خداوند عالم دانسته است. سنت هيلر مستشرق فرانسويقرآن را سرود مذهبي، ستايش ايزدي، قانون مدني، دعا و مناجات، وعظ و ارشاد، راه و رسم جنگ آوري، قصص و تواريخ ميداند. ويليام مورخ انگليسياو قرآن را كتابي پر از دلائل سرشار منطقي و مسائل بي شمار علمي ميداند كه قوانين قضائي، حقوقي، دستورات زندگي و مقررات مذهبي و ديني، با عبارات سَليس و روان به شكلي بيان شده كه خواننده را تحت تأثير خود قرار ميدهد. پروفسورهانري كربن فرانسوياو می گوید: هيچ بشري و هيچ كتابي به اندازه قرآن و محمد(صلی الله علیه و آله و سلم) انسانها را به دانش دعوت نكردهاند. تا آنجا كه در قرآن 950 بار از علم، فكر و عقل، سخن به ميان آمده است. خانم واگليريدانشمند ايتاليايي نيز در اين مورد ميگويد: ما در اين قرآن ذخائر و اندوختههائي از علوم ميبينيم كه ما فوق استعداد و ظرفيت با هوشترين و متفكرترين اشخاص است و بزرگترين فيلسوفان و قويترين رجال سياست، بايد در مقابل قرآن زانوي عجز و ناتواني بزنند. وُلتر، فيلسوف و نويسنده فرانسويقوانين قرآن درباره طلاق كاملترين قوانين است. تولستويفيلسوف بزرگ روسي، قرآن را مشتمل بر تعليمات و حقايق روشن و آشكار و سهل ميداند كه عموم افراد بشر از هر طبقهاي ميتوانند از آن بهرهمند گردند. ادموند بوركسخنور سياسي معتقد است: قرآن بر محكمترين نظام قضايي و بالاترين قضاوت علمي و بزرگترين قانونگذار، شكل گرفته است و مانند آن هرگز در اين عالم به وجود نيامده است. دكتر گوستاولوبون فرانسويمينويسد: قرآن كه كتاب آسماني مسلمانان است تنها منحصر به تعاليم و دستورات مذهبي نيست، بلكه دستورات سياسي و اجتماعي مسلمانان نيز در آن درج است. نویسنده: محمد رسول كيانى
منابع: 1. قرآن و ديگران، علياكبر صداقت. منبع اصلی: مجله بشارت ، مرداد و شهريور 1379، شماره 18 Koran
English Translation by Dr. T.B.Irving first American translation
89. Daybreak
In the name of God, the Mercy-giving, the Merciful!
1. By the Daybreak and ten nights and the even and the odd, and night as it journeys on, does that not contain an oath for someone who is mindful?
6. Have you not seen how your Lord dealt with 'Ad, [the people of] Iram, possessing columns whose like had never been created in the land? And Thamud who carved rock out of the valley; and Pharaoh wielding kingpins who were (all) so arrogant in the land and increased corruption there? Your Lord unleashed the scourge of torment on them.
14. Your Lord is ever on the lookout! Yet everyman says, whenever his Lord tests him by honoring and favoring him: "My Lord has honored me!"; while whenever He tests him by rationing His sustenance for him, he says: "My Lord has disgraced me."
17. Rather you are not generous with the orphan nor do you promote feeding the needy, and greedily use up anything you inherit. You love money till it's brimming over!
21. Indeed when the earth has been completely flattened out and your Lord comes with the angels, row upon row, and brings up Hell on that day; on that day everyman will remember, as if remembrance even matters to him! He will say: "It's too bad for me! What did I send on ahead during my lifetime?"
25. On that day, no one will torment [anyone] with torment like His, and no one will hold to any agreement as he will hold to His!
27. O Tranquil soul, return to your Lord well pleased and pleasing [Him]! Enter among My servants, and enter My garden.
نويسنده:دكتر جواد منصوری*
چكيدهپديدهی بيداری اسلامی كه با عبارات احيای اسلام، جنبش اسلامی و بينادگرايی مطرح میشود، حدود يك قرن است كه يكی از مسائل خاورميانه میباشد. پيروزی انقلاب اسلامی در ايران ابعاد بيداری اسلامی را بينالمللی و شتاب و تأثیر شگرفی بر تحولات سياسی و فرهنگی داشته است. دولت آمريكا برای تسلط خاورميانه به عنوان اولين گام در راستای تسلط بر جهان و اجرای استراتژی تكقطبی كردن جهان و خود را «قلدر محله كردن»؛ با سه هدف مشخص، اقدامات خود را آغاز كرده است: 1.تسلط بر مراكز نفتی و دولتهای صاحب نفت برای تأمین هزينههای سلطهی جهانی خود و جلوگيری از قدرت گرفتن دولتهای صادركننده نفت. 2. تأمين امنيت و سلطهی اسرائيل و صهيونيسم بر خاورميانه كه بخشی از سياست مشترك جهانی آمريكا میباشد. 3. مهار و يا انحراف اسلام سیاسی و كنترل جنبشهای اسلامی برای جلوگيری از نفوذ اين جريان به خارج از منطقه خاورميانه. اگرچه اقدامات انجام شده برای سركوب موج گرايش به اسلام سياسی ـ انقلابی موفقيتی نداشته اما استحاله فرهنگی، غلبهی تفكر سكولاريسم، نفوذ عوامل خود در مراكز آموزشی، فرهنگی و رسانهها و به راه انداختن جنگ روانی ـ تبليغاتی بر ضد اسلامو مسلمانان، تحت عناوين مبارزه با تروريسم، دفاع از حقوق بشر، نابودی سلاحهای كشتار جمعی و هستهای، برقراری دموكراسی، برنامه راهبردی آمريكا در قرن 21 میباشد كه تلاشهای زيادی در جهت اجرای آنها در جريان است و به اين دليل چالشهای گسترده در منطقه وجود دارد. مقدمه ابتدای قرن چهاردهم نقطهی آغاز تحول و حركت جديدی در جهان اسلام بود. اگرچه حركت مزبور كندوتا حدودی نامحسوس بود ولی به تدريج احيای حيات سياسی و اجتماعی مسلمانان و حضور آنان در صحنههای مبارزاتی و طرح گفتمانهای حكومت دينی، عدالتخواهی، استقلالطلبی، اصطلاح بيداری اسلامی را در فرهنگ سياسی و بينالمللی وارد كرد. بيداری اسلامی كه در ابتدا بيشتر جنبه داخلی و مرتبط با مسائل اجتماعی مسلمانان داشت، پس از چند حركت سياسی بر ضد سلطه نيروهای خارجی و استعماری به موضوع مهم و حياتی دولتهای بزرگ تبديل شد. با اجرای طرحهای كوتاهمدت و بلندمدت توسط قدرتهای بزرگ استعماری، جريان بيداريو جنبشهای اسلامی حدود يك قرن مبارزات و مشكلات بسياری را پشت سر گذاشت و سرانجام در آخرين سال قرن چهاردهم هجری با پيروزی انقلاب اسلامی در ايران، اوضاع و احوال جديدی شكل گرفت كه در ادامهی خود تحولات و دستاوردهای فرهنگی، اقتصادی، سياسی و بينالمللی زيادی داشته است. به گونهای كه بازتاب و پيامدهای اين پديده، موضوع مستقلی است كه در غالب مراكز تحقيقات استراتژيك جهان اكنون مورد پژوهش درگفتگو و كتابها و مقالات بسياری در اين زمينه چاپ و منتشر شده است. آنچه در اين نوشتار مورد بررسی قرار میگيرد، سياست راهبردی سلطهی استكباری سرمايهداری و به ويژه ايالات متحده آمريكا به عنوان بزرگترين دولت استكباری و رهبر جهان سرمايهداری، در قبال بيداری اسلامی و استراتژی مقابله با حركتهای مبارزات ناشی از آن میباشد. انقلاب اسلامی و پيامدهای آن انقلاب اسلامی در ايران از نظر تحليلگران سياسيو اجتماعی و قدرتهای بزرگ نه تنها پديدهای مهم و فوقالعاده بلكه عجيب و باورنكردنی بود. انقلابی كه عليرغم حاكميت نظام دوقطبی در جهان، شعار استقلال و نفی سلطهی شرق و غرب، و با وجود دو قرن مبارزه با دين، خواستار حضور دين در صحنههای اجتماعی،سياسی و بينالمللی شده وشعار حكومت دينی میدهد. بيداری اسلامی در واقع جريان ناشناخته و نيرومندی بر ضد سلطهی فكری، سياسی و اقتصادی شرق و غرب بود كه انقلاب اسلامی در ايران يكی از ثمرات و آثار برجسته و توسعهدهندهی آن بوده است. «مايكل برانت» يكی از معاونان سابق سازمان اطلاعت مركزی آمريكا (سيا) در مصاحبهای گفت: «جهان اسلام از قرنها پيش تحت سيطرهی دول غربی بوده است و اگرچه در يك قرن اخير اغلب كشورهای اسلامی به ظاهر استقلال خود را به دست آوردهاند ولی نظامهای سياسی و اقتصادی و به خصوص فرهنگ اين جوامع، هنوز در كنترل غربیهاست و از آنها پيروی میكنند. در سال 1357 با وقوع انقلاب اسلامی در ايران، آمريكاييها متحمل خسارات سنگينی شدند. ابتدا ما فكر میكرديم اين انقلاب خواست طبيعی جامعه مذهبی ايران است كه رهبران مذهبی آن قصد بهرهگيری از شرايط را دارند، و با كناره رفتن شاه ما میتوانيم به مرور افراد مطلوب خود را [نظير ساير كشورها و انقلابها] بر روی كار بياوريم و سياستهای خود را در ايران تداوم بخشيم. اما با گذشت زمان و گسترش فرهنگ انقلاب اسلامی در كشورهای منطقه به خصوص در عراق، پاكستان، لبنان و كويت و ديگر كشورها، متوجه شديم كه در تحليلهای خود اشتباه كرديم. در يك گردهمايی كه با حضور مقامات سازمان «سيا» برگزار شد و در آن نمايندهای از سرويس اطلاعاتی انگليس ـ به علت تجارت زياد اين كشور در جوامع اسلامی ـ نيز حضور داشت، به اين نتيجه رسيديم كه پيروزی انقلاب اسلامی ايران فقط نتيجهی سياستهای اشتباه شاه در مقابله با اين انقلاب نبوده است؛ بلكه عوامل ديگری مانند قدرت رهبر مذهبی آن و استفاده از فرهنگ شهادت دخيل بودند كه اين فرهنگ از هزار و چهارصد سال پيش توسط نوه پيامبر اسلام (امام حسين(ع)) به وجود آمده و هر ساله با عزاداری در ايام محرم اين فرهنگ ترويج و گسترش میيابد. ما همچنين به اين نتيجه دست يافتيم كه شيعيان بيشتر از ديگر مذاهب فعال و پويا هستند. در اين گردهمايی تصويب شد كه بر روی مذهب شيعه تحقيقات بيشتری صورت گيرد و طبق اين تحقيقات برنامهريزی داشته باشيم. به همين منظور 40 ميليون دلار بودجه برای آن اختصاص داديم. اين پروژه در سه مرحله به ترتيب زير انجام شد: 1ـ جمعآوری اطلاعات و آمار 2ـ اجرای اهداف كوتاهمدت با انجام تبليغات عليه شيعيان و راهاندازی اختلافات مذهبی ميان شيعيان با ديگر مذاهب اسلامی 3ـ اجرای اهداف بلندمدت جهت از بين بردن اين مذهب.» (1) بيداری اسلامی كه در واقع بازگشت به اسلام (و به تعبيری ديگر «احيای اسلام») پس از يك دوره سكون و سكوت است، عامل ظهور جنبشهای اسلامی میباشد و شرايط جديدی را شكل داد كه نه تنها غيرمنتظره بود، بلكه با وجود بيش از يك قرن از آغاز آن و ربع قرن پس از پيروزی مرحلهای آن، هنوز هم برای شناخت و برای مقابله با آن با معضلات پيچيده و متعددی روبرو هستند. زيرا فرهنگ و ارزشهای درونی اين حركت علاوه بر انطباق با فطرت الهی انسان، برتر و نيرومندتر از فرهنگ و ارزشهای مادی است و برای ديگران كه فقط در سطح تئوری و نظری مسائل را میبينند تا حدودی قابل درك و محسوس نمیباشد. از اين رو برداشتهای متفاوت و در نتيجه شيوههای مختلفی برای برخورد با اين پديده تبيين و تحليل شده است. طبعا در اين نوشته برخوردهای مجموعهی قدرتهای سرمايهداری و به ويژه آمريكا مورد بررسی خواهد بود زيرا بلوك كمونيسم كه ديگر موجوديتی ندارد و ديگر كشورها يا از خود توان ندارند و يا تابع و از اقمار غرب میباشند. شيوههای مقابله با بيداری اسلامی « از منظر اين گروه، اسلام به عنوان يك تهديد راهبردی عمده در دورهی پس از جنگ سرد جانشين كمونيسم شده است... «دانيل پايپتس» ـاز مشاوران شورای امنيت آمريكا در دوران نومحافظهكارانـ بر اين نكته تأكید میورزد كه چالش بنيادگرايان اسلامی نسبت به غرب ژرفتر از چالش كمونيستها است. كمونيستها صرفا با سياستهای ما مخالف بودند و نه با كل جهانبينی، شيوهی لباس پوشيدن، شيوهی عبادت و شيوهی همسرگزينی ما! از نظر او اسلام ذاتاً با غرب مخالف است. آمريكايیها به اسلام به عنوان يك دشمن مینگرند و همانند كمونيسم دوران جنگ سرد، اسلام را تهديدی عليه غرب میدانند. اين خط فكری توسط معاون پيشين «ريچارد نيكسون»، «واتر مك دوگال» ايجاد شد كه روسيهی شوروی را به اتحاد با جبههی مسيحيت عليه دشمن مشتركشان يعنی اسلام دعوت كرد. تقابلگرايان با توجه به اين باور كه دموكراسی با اسلام ناسازگار است، از ايالات متحده میخواهند به متحدين خاورميانهای خود برای تحقق حقوق بشر و اصلاحات دموكراتيك فشار نياورد. فشار برای دموكراتيزاسيون زودرس میتواند باعث تضعيف چشمگير رژيمهای طرفدار ايالات متحده و ظهور نظامهای ديكتاتوری، تئوكراتيك و متعصبتر گردد. در اين ديدگاه دموكراسی در خاورمیانه كالايی است كه راه رژيمهای ضددموكراتيك را برای كسب قدرت هموار میسازد.» (3) طرفداران درگيری فيزيكی و همهجانبه برای نابودی جريان بيداری اسلامی و حركتهای مردم اسلامگرا به دلایل متعددی علاوه بر موارد اشاره شده، نگران آيندهای میباشند كه اوضاع از كنترل آنان خارج و گسترش موج گرايش به اسلام به حدينيرومند و نافذ باشند كه نظام فكری، اقتصادی و حتی امنيتی و سياسی آنان را تحت تأثیر قرار دهد. «ساموئل هانتينگتون» از نظريهپردازان معروف تقابلگرا با بيداری و جنبشهای اسلامی، میگويد: «در جهان جديد منبع اصلی تعارض، ايدئولوژی يا اقتصاد نخواهد بود. شكافهای بزرگ ميان بشريت و منبع اصلی تعارض، فرهنگی خواهد بود. رويارويی تمدنها، سياست جهانی را تحتالشعاع قرار خواهد داد! در هر دو سوی، تعامل اسلام و غرب با عنوان برخورد تمدنها تلقی میشود.» (4) وی پيشبينی میكند كه جنگ جهانی آينده جنگ تمدنها است.» اهداف سلطه بر خاورميانه 1ـ مقابله با بيداری اسلامی امروز اصطلاحاتی نظير «اسلام سياسی»، «اسلام انقلابی»، «اسلام خمينی» و «اسلام ايرانی»را نظام استكبار سرمايهداری جايگزين اصطلاحاتی نظير «غول كمونيسم»، «بلوك شرق»، «دنيای پشت پردهی آهنين» كرده است. فلسفهی اصلی رويكرد به جايگزينی تهديد بيداری اسلامی بلافاصله پس از فروپاشی شوروی به دو سياست استراتژيك بلندمدت غرب برمیگردد. 1ـ 1ـ دشمن نيرومند خارجی «دولت بوش بعد از حوادث 11 سپتامبر 2001 (20 شهريور 1380) به گونهای عمل كرد كه نشان دهد جهان اسلام در قالب تروريسم به جنگ آمريكا آمده است. ابتدا از ورود به جنگ صليبی خبر دادو آنگاه انگشت اتهام را متوجه مسلمانان و گروههای اسلامی كرد. اما عملكرد بعدی آن در سه بخش نظامی، سياسی و تبليغاتی نشان داد كه اتخاذ سياست نظامیگری فصلی تنظيم شده از پروندهی تغيير در نظم جهانی برای ارتقای نقش و موقيعت آمريكا به عنوان تنها ابرقدرت باقيمانده از جنگ سرد است.» (6) آنچه كه در چند سال انجام شد و همچنان ادامه دارد ـكه خسارات و مصائب بسياری بر امت اسلام بر جای گذاشت ـدر راستای اجرای اين سياست بوده است. مقاومت مسلمانان در مقابل سلطهی غرب و حمايت استكبار سرمايهداری از دولتهای دستنشانده و احتمال قطع منافع آنان در جهان اسلام، از جمله دلايل رويكرد به اين سياست استراتژيك میباشد. منافع غرب در اين منطقه به اندازهای گسترده و استراتژيك میباشد كه تصور نمیكنند بدون سلطهی كامل بر جهان اسلام و متوقف كردن روند بيداری اسلامی بتوانند به حيات سياسی و اقتصادی خود ادامه دهند. 1ـ 2ـ ضديت با اسلام كوشش برای شكل دادن و بنيانگذاری نظامی جديد كه با جهانبينی مادی و سلطهگرا در تضاد است و تلاش برای تحقق نظام ديگری متفاوت از نظام تحميلی «دولت ـملت» به عبارت ديگر حركت در جهت همگرايی و در نهايت وحدت جهان اسلام به منظور مقابله با سلطهی فرهنگی و ارزشی غرب و احيای فرهنگ و ارزشهای دينی ـ توحيدی، نگرانی ديگر است كه علت بسيج امكانات و جنگ بر ضد بيداری اسلامی شده است. زيرا اسلام انقلابی مستقيما فهم رايج از نقش خنثی و خاموش مذهب در سياست و اخلاق را هدف قرار میدهد. تغيير برنامههای آموزشی، ايجاد شبكههای ماهوارهای ويژهی مسلمانان، اعراب و ايرانيان به زبانهای فارسی و عربی، تغيير اسامی اسلامی، حذف مفاهيمی همچون جهاد، امر به معروف و نهی از منكر و شهادت، ترويج سكولاريسم و لائيسم، رواج گستردهی فساد و فحشا بخشی از اقدامات در حال اجرا در راستای استراتژی بلندمدت غرب برای «استحالهی فرهنگی جهان اسلام و جلوگيری از گسترش بيداری جنبشهای اسلامی»میباشد. «مايكل برانت» معاون سابق سيا در اين زمينه میگويد: «مراجع شيعه در طول تاريخ هيچگاه از حاكم غيراسلامی و ظالم تبعيت نكردهاند. در ايران با فتوای آيتالله شيرازی سياستهای انگليس با شكست مواجه شد و حكومت شاه كه همپيمان با آمريكا بود توسط آيتالله خمينی برچيده شد. در عراق صدام با تمام توان نتوانست حوزهی علميهی نجف را مجبور به تبعيت از خود كند، و به همين منظور موسی صدر ارتشهای انگليس، فرانسه و اسرائيل را مجبور به فرار از اين كشور كرد و حزبالله لبنان نيز صدمات سنگينی را به ارتش اسرائيل در جنوب اين كشور وارد كرد. اين تحقيقات ما را به اين نتيجه رساند كه به طور مستقيم نمیتوان با مذهب شيعه رودرو شد و امكان پيروزی بر آن بسيار سخت است و بايد پشت پرده كار كنيم. ما به جای ضربالمثل انگليسی «اختلاف بينداز و حكومت كن» از سياست «اختلاف بينداز و نابود كن» استفاده میكنيم. در همين راستا برنامهريزیهای گستردهای را برای سياستهای بلندمدت خود طرح كرديم. حمايت از افرادی كه با مذهب شيعه اختلاف دارند، ترويج كافر بودن شيعيان به گونهای كه در زمان مناسب عليه آنان توسط ديگر مذاهب اعلام جهاد شود. همچنين بايد تبليغات گستردهای را عليه مراجع و رهبران دينی شيعه صورت دهيم تا آنان مقبوليت خود را در ميان مردم از دست بدهند. يكی ديگر از مواردی كه بايد روی آن كار میكرديم، موضوع فرهنگ عاشورا و شهادتطلبی بود كه هر ساله شيعيان با برگزاری مراسمی اين فرهنگ را زنده نگاه میدارند. ما تصميم گرفتيم با حمايتهای مالی از برخی سخنرانان و مداحان و برگزاركنندگان اصلی اينگونه مراسم كه افرادی سودجو و شهرتطلب هستند، عقايد و بنيانهای شيعه و فرهنگ شهادتطلبی را سست و متزلزل كنيم و مسائلی انحرافی در آن به وجود آوريم، به گونهای كه شيعه يك گروه جاهل و خرافاتی در نظرآيد. در مرحلهی بعد، بايد مطالب فراوانی عليه مراجع شيعه جمعآوری شده و به وسيلهی مداحان و نويسندگان سودجو انتشار دهيم و تا سال 1389 (2010 ميلادی) مرجعيت را كه سد راه اصلی اهداف ما میباشند تضعيف كرده و آنان را با دست خود شيعيان و ديگر مذاهب اسلامی نابود كنيمو در نهايت تير خلاص را بر اين فرهنگ و مذهب بزنيم. (7) 2ـتسلط بر نفت و بازار منطقه استخراج و صدور نفت و سودهای حاصل از آن به اندازهای از اهميت و وضعيت مناطق نفتخير و دولتهای صادركنندهی نفتدارد. هرگونه تحول مهمی در خاورميانه و به ويژه در خليج فارس تأثیر زيادی بر وضعيت بازار نفت، اعم قيمت آن، قيمت سهام در بازارهای بورس، وضعيت اقتصادی و تراز بازرگانی بسياری از كشورها خواهد داشت. از اين رو منطقهی خاورميانه به دليل برخورداری از حدود دو سوم ذخاير شناخته شدهی نفتی، توليدو صدور روزانه بيش از نيمی از نفت مصرفی جهان در مراكز ثقل سياستهای نظام سرمايهداری به ويژه آمريكا و اروپا قرار دارد. در ارتباط با اين جريان موضوع ديگری كه اهميت نفت را مضاعف میكند، بازگرداندان دلارهای حاصل از فروش نفت به غرب، برای به گردش درآوردن چرخهای نظام سرمايهداری است. به عبارت ديكر دلارهای نفتی برای توليد كالا و ايجاد اشتغال و فروش محصولات غرب به قيمتهای تحميلی به كشورهای صادركننده كه در واقع استثمار مضاعف میباشد. به همين دليل بخش عمدهای از سياستها و اقدامات دولتهای بزرگ در خاورميانه به سياستهای نفتی معروف است. اكنون در صحنهی بينالمللی سه مقولهی بيداری اسلامی، نفت و خاورميانه آن چنان به يكديگر وابسته شدهاند كه مسائل و جريانهای فكری، اقتصادی و ژئوپلتيكی جهان را تحتالشعاع خود قرار داده و به گونهای است كه امكان جدا كردن آنها از يكديگر غيرممكن شده است. ارائه طرح «خاورميانه بزرگ» در راستای تحقق دو هدف مهم و حل دو معضل جدی استكبار غرب در منطقه میباشد. تسلط بر خاورميانه به منزلهی اولين مرحلهی اجرای تك قطبی كردن جهان، و بهرهگيری از نفت و دلارهای حاصل از فروش آن برای تأمین هزينههای اجرای پروژه قلدر محله شدن است. مهار و يا انحراف بيداری اسلامی و پياده كردن فرهنگ و ارزشهای آمريكايی دو هدف راهبردی ديگر برای پيروزی در اولين مرحله اجرای طرح استراتژيك قرن 21 آمريكا و سياست منزوی كردن رقبا و انحصاری كردن قدرت ايالات متحده میباشد. در واقع آمريكا باتسلط بر نفت و بازار خاورميانه، از كليهی دولتهای ديگر باج ارزانفروشی نفت و دريافت مابهالتفاوت با قيمت واقعی، و دريافت بخشی از سود حاصل از فروش كالاها را در اين منطقه، به عنوان ژاندارم و حافظ و حاكم منطقه خواهد گرفت. اگرچه تاكنون عليرغم تلاشها و هزينههای بسيار و از دست دادن حيثيت و آبرو نتوانسته كاملا به خواستههای خود برسد ولی از آنجا كه طرح بلندمدت میباشد، لذا ممكن است كه با وجود تهديدات و معضلات پيچيده اين تلاشها ادامه پيدا كند. ميزان و چگونگی موفقيت يا شكست طرح بستگی به قدرت جنبشهای اسلامی و مقاومت آنها و گسترش و تعميق بيداری اسلامی دارد. (8) 3ـ براندازی جمهوری اسلامی ايران انقلاب اسلامی در ايران به دلايل متعدد نمیتوانست برای غرب به ويژه آمريكا قابل قبول و قابل تحمل باشد. لذا از همان اولين روزهای پس از پيروزی انقلاب تلاشهای گسترده در اشكال گوناگون برای براندازی و يا حداقل تغيير رفتار و استحالهی فرهنگی آغاز شد. مجموعهی اقدامات و چالشهای آمريكا و ايران و دلايل هريك از آنها خود به تنهايی تحقير جداگانهای را میطلبد. «... آمريكا ايران را نيروی هدايتكننده در پشت خيلی از ستيرهجويیهای اسلامگرايان در جهان میبيند. اين دغدغه و عطف توجه به ايران تحت حاكميت روحانيون نه تنها ناشی از تجربهی تلخ اين كشور درطول بحران گروگانها، بلكه به دلايل هراس اين كشور از ايدئولوژی اسلام انقلاب ايران نيز هست... از اين رو، تمايز نظری كه مقامات ايالات متحده بين اسلامگرايان ميانهرو و جنگ سالار قائل میشوند در مورد ايران كاربرد ندارد. ... مسأله ايران رويكردی را كه ايالات متحده به اسلامگرايان داشته است روشن میسازد. سردرگمی فكری ايالات متحده دربارهی بيداری اسلامی و سوءظن اين كشور به اسلامگرايان را نمیتوان بدون رمزگشايی از علل هراس عميق دستگاه سياست خارجی آمريكا از ايران فهميد. چنين به نظر میرسد كه واشنگتن از انقلاب ايران به عنوان معيار اوليه برای سنجش اسلامگرای احيا شده در سراسر خاورميانه و شمال آفريقا، استفاده میكند. در اين زمينه، سياست آمريكا در قبال ايران، پيامدهای گستردهتری برای روابط آمريكا با اسلامگرايان در همه مناطق جهان دارد.» (10) چالشهای سياسی، اقتصادی و امنيتی آمريكا با ايران در 25 سال گذشته به اعتراف بعضی از مقامات ايالات متحده نتوانست از گسترش بيداری اسلامی حتی در داخل اروپا و آمريكا جلوگيری كند. به گونهای كه امروز يكياز مباحث و عناوين همايشها و تحقيقات پيرامون راههای مقابله بااين پديده به ويژه آمريكا و اروپاست. وزارت خارجهی انگليس در يك تحقيق راهبردی برای دولت، روند تحولات آينده را چنين تحليل میكند: «رويارويی احتمالی ايدههای مذهبی و فرهنگی به احتمال قوی انگلستان و دموكراسیهای غربی را تحت تأثیر قرار خواهد داد. عقايد مذهبی مجددا به نيروهای محرك روابط بينالملل بدل خواهد شد. در پارهای از موارد اين نيرو با اهداف و انگيزههای سياسی درهم میآميزد. به نظر میرسد مسائلی در روابط ميان دموكراسی غربی و پارهای از كشورهاو گروههای اسلامی بروز خواهد كرد. علل تنش در روابط بسيار پيچيدهاند. مسالهی اسرائيل ـفلسطين اگر حل نشود به قوت خود باقی خواهد ماند. تنشهای مذهبی خارجی میتوانند به صورت مستقيم و غيرمستقيم اوضاع انگلستان را تحت تأثیر قرار دهد. مديريت روابط با كشورهای اسلامی و ملل مسلمان يكی از چالشهای مهم و استراتژيك جهان غرب طی دههی آينده و پس از آن خواهد بود. جهان بايد شناخت مذهبی و انگيزههای سياسی ناشی از آن را تقويت كند. علیرغم اشتراكات ارزشی موجود در مذاهب، اهميت پاسخ دادن به تعامل ميان دموكراسیهای غربی با كشورهای اسلامی به سرعت رو به افزايش است.به همين دليل تنظيم روابطبا كشورهاياسلامی و مسلمانان يكی از مهمترين چالشهای راهبردی انگليس و جهان غرب در آينده خواهد بود...» (11) برخوردهای غيرقانونی و غيردموكراتيك با گروهها و مراكز و مظاهر اسلامی ـ از جمله غيرقانونی اعلام كردن حجاب در چند كشور اروپايی و محدوديتهای فوقالعاده برای تمامی مسلمان و مراكز آنان در آمريكا ـ نمودی از نگرانیهای غرب در اين زمينه میباشد. اگرچه تاكنون نتوانستهاند در كنترل اين جريان توفيق داشته باشند، اما همچنان به تشديد تبليغات بر ضد اسلام، مسلمانان و ايران میپردازند. از اين رو قرن 21 را بعضی دوران ظهور قدرت فكری و معنوی اسلام و مقابله با سلطهی فرهنگی و ارزشی غرب میدانند. سرانجام پيام قرآن كريم است كه فرمود: يريدون ليطفئوا بافواهمم والله متم نوره ولو كره الكافرون. خواست دائمی كفار اين است كه نور خدا را با تبليغات و فريبهايشان خاموش كنند.در حالی كه ارادهی پرودگار اين است كه نور حق را گسترده و كامل كند، اگرچه كفار ناراحت و مخالف باشند. (12) پي نوشت ها : *مشاور سابق وزیر امور خارجه 1.قرآن كريم 2. آمريكا و اسلام سياسی، نوشتهی جرجييس فؤاز،ای؛ ترجمهی سيدمحمدكمال سروريان 2. نقشهای برای جدايی مكاتب الهی، به نقل از روزنامهی جمهوری اسلامی، 4/3/83 4. استراتژی نظامی آمريكا بعد از 11 سپتامبر، نوشتهی دكتر منوچهر محمدی 5. شكست شاهانه، نوشتهی ماروين زونيس، ترجمهی عباس مخبر 6. جهان يك دههی آينده، ديدگاه بلندمدت و استراتژيك انگلستان 7. نهضتهای اسلامی معاصر، نوشتهی كليم صديقی، ترجمهی سيدهادی خسروشاهی. فصلنامه انقلاب اسلامی . شماره 10
بیداری اسلامی و موانع آن در اندیشه امام خمینی (ره) نویسنده: دكتر محمدحسن شیبانیفر
چكيدهمطالعه بيداری اسلامی و بررسی و تجزيه و تحليل آن از مدتها پيش در دستور كار قدرتهايی قرار گرفته كه از آن احساس بيم و هراس داشتهاند و هم اينان برای فهم و شناساسی بيداری اسلامی و يافتن راههای مقابله و انهدام و يا به انزوا كشاندن اين موج، تلاشهای گستردهای را شروع كردهاند. بسياری از صاحبنظران در پديدهی جنبشهای اسلامی معاصر معتقدند كه انقلاب اسلامی ايران، يكی از عوامل مهم و تأثیرگذار در پيشبرد روند بيداری و آگاهی مسلمانان و ازدياد فعاليتهای مؤثر در جوامع عربی و اسلامی بوده است. حديث اين ماجرا را رهبر معظم انقلاب، اينگونه ترسيم كردهاند: «قبل از انقلاب اسلامی در بسياری از كشورها و از جمله كشورهای اسلامی، گروهها و جوانها و ناراضیها و آزادیطلبها يا ايدئولوژیهای چپ وارد ميدان میشدند اما بعد از انقلاب اسلامی، پايه و مبنای حركتها و نهضتهای آزادیبخش، اسلام شد. امروز در هر نقطهای از دنيای وسيع اسلام ـ كه جمعيت يا گروهی، به انگيزه آزادیخواهی و ضديت با استكبار حركت میكندـمبنا و قاعده كار و اميد و ركنشان تفكر اسلامی است.» برخی از موانع بيداری اسلامی از ديدگاه امام خمينی(ره) عبارت است از: 2ـ حكام كشورهای اسلامی 3ـتفرق 4ـ تحجر و جمود مقدسنماها 5ـ روشنفكرنماها 6ـ آخوندهای وابسته به قدرتها و دنياطلب مقدمه بيداری اسلامی در دهههای اخير در كشورهای اسلامی و در بين مسلمانان ساير كشورها پديدهای است كه شگفتی آفريده است. مطالعه اين پديده و بررسی و تجزيه و تحليل آن از مدتها پيش در دستور كار قدرتهايی قرار گرفته كه از آن احساس بيم و هراس داشتهاند و هم اينان برای فهم و شناسايی بيداری اسلامی و يافتن راههای مقابله و انهدام و يا به انزوا كشاندن اين موج؛ تلاشهای گستردهای را شروع كردهاند. نشست، كنفرانس، ميزگرد، مصاحبه و سمينارهای علمی با شركت صاحبنظران و انديشمندان در جهت شناسايی هر چه بيشتر گرايشات فزاينده دينی تنها بخشی از اين تلاش را نشان میدهد. سفارش كتاب، پاياننامه و فراخوان مقالات، بخش علنی ديگر اين كوشش است. در بخش پنهان اين ماجرا، قطعا صدها پروژه مطالعاتی امنيتی و عملياتی در دستوركار سرويسهای اطلاعاتی ـ امنيتی قدرتهای مخالف اسلام بوده و در حال اجرا میباشد كه احيانا برخی از اين عمليات به دلايلی آشكار شده است. اين تلاش گسترده همپای پيروزی انقلاب اسلامی ايران، در راستای محدود كردن اين تحول و جلوگيری از گسترش بيشتر بيداری اسلامی با حساسيت بيشتر و شدت مضاعفی پيگيری گرديد. در همان سالهای نخست پيروزی انقلاب، سران كشورهای سلطهگر به موضعگيری و تهاجم عليه انقلاب پرداخته و راه مقابله با آن را در پيش گرفتند. زيرا كارشناسان و نظريهپردازان اين كشورها دريافته بودندكه انقلاب اسلامی ايران نقش اساسی در دامن زدن به شعله آزادیخواهی، استقلالطلبی، هويتجويی اسلامی و گسترش و تعميق آن در كشورهای ديگر دارد. تأثیر انقلاب اسلامی دربيداری اسلامی خودآگاهی مسلمانان به ويژه در كشورهای اسلامی از قدرت خويش، بازگشت به قرآن، تكيه به فرهنگ غنی اسلامی و الهامگيری از انقلاب ايران مسألهای نبود كه هضم آن برای صاحبان قدرت آسان باشد. الكساندر هيك میگويد: «به نظر من خطرناكتر از اين (مشكلات بينالمللی) عواقب گسترش بنيادگرايی اسلامی است كه در ايران پا گرفته و اكنون عراق و ثبات تمام رژيمهای عرب ميانهرو را در منطقه تهديد میكند. اين پديده اگر از كنترل خارج شود منافع ابرقدرتها را به خطرناكترين وجه به مخاطره خواهد انداخت.» (3) الهامگيری مسلمانان از ايران همچنان در تدوين كتابها و تيراژ و حجم فروش اين دست از كتابها، و نيز در رسانهها و مطبوعات چشمگير بوده است. مجيبالرحمان شامی ـ روزنامهنگار حسن سليمان ـ امام مسجد كيپ تاون آفريقای جنوبی وی تأثیرگذاری امام را بر كشورها، ناشی از اسلام میداند: «منشأ تفكرات انقلاب امام دين مبين اسلام بود. بدون شك اين تفكرات و همچنين رهبری امام به مسلمانان خصوصا جوانان انگيزه مبارزه بخشيد...» (7) دكتر شقاقی در كتاب «امام خمينی راهحل جديد جهان اسلام» روش انقلاب ايران را مؤثر دانسته و برای تداوم مبارزه، انقلاب اسلامی ايران را شايسته پيروی، معرفی میكند. وی در بخشی از كتاب، امام را اينگونه معرفی میكند: «مظهر جريانی نو بود كه اسلام را به عنوان يك ايدئولوژی مطرح میكرد تا از طريق برپايی حكومت اسلامی، همه ابعاد زندگی و مشكلات آن را حل و فصل نمايد.» آنگاه كه روشنفكران و مبارزين برای تداوم كار خود و توجيه پيروان خويش به ناسيوناليسم و مكاتب فكری چپگرايانه روی میآوردند، انقلاب اسلامی را نمونهای جديد از تمدن بشری دانسته كه: «پايان كار انديشههای لائيك و همه ديگر انواع انديشههايی را كهمیخواستند جايگزين اسلام شوند اعلام كرد.» (8) حديث اين ماجرا را رهبر معظم انقلاب اينگونه ترسيم كردهاند: «قبل از انقلاب اسلامی در بسياری از كشورها و از جمله كشورهای اسلامی، گروهها و جوانها و ناراضیها و آزادیطلبها با ايدئولوژیهای چپ وارد ميدان میشدند، اما بعد از انقلاب اسلامی پايه و مبنای حركتها و نهضتیهای آزادیبخش اسلام شد. امروز درهر نقطهای از دنيای وسيع اسلام كه جمعيت يا گروهی به انگيزه آزادیخواهی و ضديت با استكبار حركت میكنند، مبنا و قاعده كار و اميد و ركنشان، تفكر اسلامی است.» (9) امام بنيان ارزشهای مادی را در دنیا لرزانيده است. رهبر كمونيست كشوری دوردست،با قدرت مادی بالا و دارای پيشرفتهای زياد، میگويد: خواهش میكنم كتابی درباره اسلام بدهيدتا مطالعه كنم.» ... امروز نماينده مجلس يك كشور مادی كه هفتاد سال بر مبنای ماترياليسم ديالكتيك اداره شده است به من میگويد: «به بركت امام شما، در پارلمان كشورم، سخنرانیها با «بسمالله الرحمن الرحيم» شروع میشود.» (10) امام عزم آن داشتند كه تجربههای به دست آمده از انقلاب را به جهان صادر كنند و با اطمينان بر اين عقيده بودند كه اسلام سنگرهای كليدی جهان را فتح خواهد كرد: «ما به تمام جهان تجربههايمان را صادر میكنيم و نتيجه مبارزه و دفاع با ستمگران را بدون كوچكترين چشمداشتی به مبارزان راه حق انتقال میدهيم و مسلماً محصول صدور اين تجربهها جز شكوفههای پيروزی و استقلال و پياده شدن احكام اسلامی برای ملتهای دربند نيست. روشنفكران اسلامی همگی با علم و آگاهی بايد راه پرفراز و نشيب دگرگون كردن جهان سرمايهداری و كمونيزم را بپيمايند و تمام آزاديخواهان بايد با روشنبينی و روشنگری، راه سیلی زدن بر گونه ابرقدرتها خصوصا آمريكا را بر مردم سيلیخورده كشورهای اسلامی و جهان سومی ترسيم كنند. من با اطمينان میگويم اسلام ابرقدرت را به خاك مذلت مینشاند. اسلام موانع بزرگ داخل و خارج محدودهی خود را يكيپس از ديگری برطرف و سنگرهای كليدی جهان را فتح خواهد كرد.» (11) بيداری اسلامی هر چند پيش از انقلاب در ايران، و در دو سدهی اخير در كشورهای مختلف شكل گرفته بوداما اگر بيداری اسلامی را در يك منحنی رسم كنيم، امام را در طی اين 200 سال در قلهی اين منحنی میتوان ترسيم نمود. با توجه به رهبری بینظير امام در رويارويی با قدرتها و به پيروزی نشاندن يك انقلاب و راهبری موج بيداری اسلامی و مواجهه با مسائل آن، بررسی مشكلات و موانع اين پديده از ديدگاه آن بزرگمرد تاريخ، از اهميت زيادی برخورداراست. تحليل و بررسی اين موانع، مبتنی بر يافتههای امام، بايد دستاوردی گرانسنگ برای اسلامخواهان، صاحبنظران و رهبران جنبشهای اسلامی تلقی شود. موانع بيداری اسلامی با دور شدن تدریجی جوامع اسلامی از مفاهيم و آموزههای اصلی و اصيل اسلامی و دگرگون شدن پيام اوليه عدالتخواهانه اسلام، اين مكتب به آرامی از بالندگی افتاد، دچار انحراف گشت و به خمودی گراييد. مفاهيم ارزشمندی از قبيل عدالت، قسط، جهاد، حج ابراهيمی، شهادت، امر معروف و.... به دليل خطرآفرين بودن برای قدرتمداران، يا به آفت تحريف دچار گشت و يا به بوته فراموشی سپرده شد؛ و به جای آن مباحثی از قبيل تقدير و جبر، حدوث و يا قديم بودن قرآن و مسائلی از اين دست، سالها مهمترين موضوع تفكر دينی و اسلامی میگردد،؛ توسط اينگونه مباحث دغدغههای دينی مردم كنترل شده و محوری برای مشغول كردن انديشمندان گرديده است. از طرف ديگر، تمايلات فرقهای و عربی، ورود افكار و انديشههای يونانی و فرهنگ غيراسلامی، الهامگيری از آموزش و جهانبينی غربی، آرمانهای اسلامی را به انزوا كشانيد. بعدها اين مسائل، موجب اين پندار شدكه اسلام با دورهی معاصر، سنخيت ندارد. بيشتر تحصيلكردهها، غافل از داشتهها و اندوختههای غنی فرهنگ اسلامی خويش، كليد توسعه و حتی نجات جامعه را در اتخاذ علوم، ارزشها و فلسفه غربی ديدند. امام در ديداری كه با برخی مسئولين دارد به اين نكته اشاره میكنند كه دشمنان راه نجات خود را در اين ديدهاند كه يا اسلام در اين كشورها نباشد و يا لااقل محتوا نداشته باشد. هرچند در بخش اول توفيقی نداشتهاند، اما نسبت به بیمحتوا كردن اسلام موفق بودهاند. (12) از اين رو بسياری از افراد كه به دنبال احيای دينو تفكر دينی در جامعه بودهاند از بازنگری در برخی از مفاهيم كليدی انديشه اسلامی كه پيش از آن به دليل تعبيرهای غلط موجب ابهام و ركود شده بود شروع كردند. افرادی از قبيل سيدجمال، محمد عبده، محمد اقبال، دكتر علی شريعتی، و.... به دليل همين دريافت، چنان روشی را در سرلوحهی فعاليتهای خويش برگزيدند. امام در پاسخ به سؤال چيستی ريشههای انقلاب، به محتوای اصيل تشيع اشاره دارند: «سؤال: تصور میكنم كه آنچه امروز در حيات يك جنبش تودهای در ايران اتفاق میافتد، ريشههايش در يك نوع رنسانس شيعه يافت میشود. ممكن است شرح دهيد كه چه فعاليتها و بحثها و مبارزاتی در سی سال اخير فعاليت شما را تشكيل داده است؟ جواب: يكی از خصلتهای ذاتی تشيع از آغاز تاكنون مقاومت و قيام در برابر ديكتاتوری و ظلم است كه در تمامی تاريخ شيعه به چشم میخورد، هر چند كه اوج اين مبارزات در بعضی از مقطعهای زمانی بوده است. در صد سال اخير حوادثی اتفاق افتاده است كه هركدام در جنبش امروز ملت ايران تأثیری داشته است. انقلاب مشروطيت، جنبش تنباكو و.... قابل اهميت فراوان است....» (13) «... اسلام دين افراد مجاهدی است كه به دنبا حق و عدالتند، دين كسانی است كه آزادی و استقلال میخواهند، مكتب مبارزان و مردم ضد استعمار است. اما اينها اسلام را طور ديگری معرفی كردهاند... برای اين منظور كه خاصيت انقلابی و حياتی اسلام را از آن بگيرند و نگذارند مسلمانان در كوشش و جنبش و نهضت باشند... تبليغ كردهاند كه اسلام دين جامعی نيست، دين زندگی نيست، برای جامعه نظامات و قوانين ندارد. طرز حكومت و قوانين حكومتی نياورده است. اسلام فقط احكام حيض و نفاس است، اخلاقياتی هم دارد، اما راجع به زندگی و اداره جامعه چيزی ندارد....» (14) همه كوشش امام در مردمی بودن حكومت و ايجاد يك نظام جمهوری از جايگاه يك اسلامشناس و مجتهدی انديشهور، برای بسياری تازگی داشته و شگفتآور بود. آنچه او در مورد زنان و نقش آنان در جامعه، فقه حكومتی و اجتهاد، نفی تحجر و واپسگرايان و مقدسمآبان، اسلام پابرهنگان و... میانديشيد موجب طرح دوباره اسلام در صحنه حيات بشری به ويژه در جهان اسلام شدودر آن روحی تازه دميد. «همه توطئههای جهان خواران عليه ما از جنگ تحميلی گرفته تا حصر اقتصادی و غيره برای اين بوده است كه ما نگوييم: اسلام، جوابگوی جامعه است و حتما در مسائل و اقدامات خود از آنان مجوز بگيريم.» (15) 2ـ حكام كشورهای اسلامی يكی از موانع در فراروی نهضت بيداری، حاكمان و سران كشورهای اسلامی است. اينان استقرار اسلام ناب را مغاير با منافع شخصی و حكومتی خود میپندارند. «مشكل مسلمين حكومتهای مسلمين است. اين حكومتها هستند كه مسلمين را به اين روز رساندهاند....» (16) «كارنامه سياه و ننگين حاكمان بیدرد كشورهای اسلامی، حكايت از افزودن درد و مصيبت بر پيكره نيمه جان اسلام و مسلمين دارد.» «ما اميد اين را داريم كه اين نهضت ايران روشن كند مسائل را به همه ملتها وروشن كرده است... ملتها الان با ما هستند، اگر سر نيزه را از اين ملتها بردارند از عراق بردارند از ـ نمیدانم ـ تركيه بردارند ، همه يكصدا با ما موافقند. سرنيزه جلو را گرفته است، منتها ايران سر نيزه را شكست، ايران ايستاد....» 17 امام حكومتهای منحرف اسلامی را عامل قدرتهای شيطانی دانسته كه برای اغفال مردم از راه اسلام وارد میشوند. 3ـتفرقه برخلاف تصور برخی از سطحینگران، امام وحدت را يك تاكتيك يا ابزار مصلحتی برای پيشبرد اهداف و مقاصد سياسی انقلاب نمیبيند. وحدت را يك اصل اسلامی تعريف كرده و لازمهی توفيق در مبارزه با دشمن اصلی و موفقيت در رهايی از وضعيت اسفبار كنونی مسلمين را در گرو همبستگی دانسته است. وی با تمام ارادتی كه به اهل بيت دارد، حاضر نيست در مجالس تفرقهافكنانهای كه به عنوان حمايت از اهل بيت تشكيل میشود، شركت كند.بالاتر از آن امام در پی ايجاد جبهه متحد اسلامی بود: «من به صراحت اعلام میكنم كه جمهوری اسلامی ايران، با تمام وجود برای احيای هويت اسلامی مسلمانان در سراسر جهان سرمايهگذاری میكند و دليلی هم ندارد كه مسلمانان جهان را به پيروی از اصول تصاحب قدرت در جهان دعوت نكند و جلوی جاهطلبی و فزونطلبی صاحبان قدرت و پول و فريب را نگيرد. ما بايد برای پيشبرد اهداف و منافع ملت مردم ايران برنامهريزی كنيم. ما بايد در ارتباط با مردم جهان و رسيدگی به مشكلات و مسائل مسلمانان و حمايت از مبارزانوگرسنگان و محرومان، با تمام وجود تلاش كنيم...ما بايد خود را آماده كنيم تا در برابر جبهه متحد شرق و غرب، جبهه قدرتمند اسلامی انسانی، با همان نام و نشان اسلام و انقلاب ما تشكيل شود وآقايی و سروری محرومين و پابرهنگان جهان جشن گرفته شود.» (18) دستهای ناپاكی كه به ايجاد اختلاف ميان شيعه و سنی میپردازند درصدد «محدود كردن تأثیر انقلاب اسلامی و جلوگيری از گسترش آثار آن در مناطق سنی مذهب (هم بخشهای نفتخير آن و هم كشورهای در حال نبرد با اسرائيل) بوده است.» (19) امام برای تحقق آرمان وحدت مسلمين از امكانات موجود بهره میجستند و در اين راستا مسأله فلسطين، روز قدس و حج ابراهيمی و... را مطرح كردهاند. 4ـ تحجر و جمود مقدسنماها امام از مقدسنماها به عنوان يكی از موانع شناخت و بيداری اسلامی نام میبرد و برای گسترش اسلام ناب محمدی، شناخت اين مشعلداران تحجر و حماقت و مبارزه با آنان را ضروری میدانند. «... آمريكا و استكبار، در تمامی زمينهها افرادی را در آستين دارند. در حوزهها و در دانشگاهها، مقدسنماها را كه خطر آنان را بارها و بارها گوشزد كردهام، اينان با تزويرشان،از درون محتوای انقلاب و اسلام را نابود میكنند. اينها با قيافه حق به جانب و طرفدار دين و ولايت همه را بیدين معرفی میكنند. بايد از شر اينها به خدا پناه ببريم... امروز جهان تشنه اسلام ناب محمدی است....» (20) اين عده با تظاهر به تعبد و زهد كه از ويژگیهای اين گروه است، بزرگترين ضربه را درطول تاريخ بر پيكره دين وارد آوردهاند. نمونه بزرگ اين گروه را مارقين، در زمان حكومت حضرت علی(ع)تشكيل میدادند. چهرههايی آراسته و متظاهر به ديانت و زهد كه ضربهای بزرگ بر پيكر عدلگستر حكومت علی وارد آوردند. خطر اين گروه را نبايد كوچك شمرد. اينان به راحتی ابزار دست دشمنان اسلام واقع میشوند. بزرگترين ضربهها را اسلام درطول تاريخ حيات خود، از اين مقدسنماها خورده است. اينان زود فريب میخورند و زود تحريك میشوند و شايعه را به زودی قبول میكنند و پس از آن احساس تكليف میكنند! «... امروز جامعه مسلمين طوری شده كه مقدسين ساختگی جلو نفوذ اسلام و مسلمين را میگيرند و به اسم اسلام به اسلام ضربه میزنند... روحيه و افكار خود را به نام اسلام در جامعه سرايت میدهند....» (21) 5ـ روشنفكرنماها همانگونه كه تحجر و جمود از ديدگاه امام مانع بيداری است، دلبستگی به شرق و غرب و خودباختگی در برابر آنان ملتها را از نزديك شدن به اسلام باز میدارد. ... امروز زمانی است كه ملتها چراغ راه روشنفكرانشان شوند و آنان را از خوباختگی و زبونی در مقابل شرق و غرب نجات دهند كه امروز روز حركت ملتهاست. (22) اما در مواردی به روشنفكران توصيه میكنند، معيار روشنفكری را، پيروی از دادههای غربی ندانند. معرفی درست اسلام را وظيفه آنان دانسته و در استمرار يك حكومت عدل برای روشنفكران نقش اساسی قائلند. و از طرف ديگر انتقادهايی از روشنفكران دارند؛ بیتفاوتی نسبت به اسلام، غربگرايی، خودباختگی، بیاطلاعی از اسلام، بريدن از مردم از جمله مسائلی است كه امام به اين قشر گوشزد میكنند. 6ـ آخوندهای وابسته امام در عين حمايت كامل از روحانيت اصيل و متعهد، انتقادهای بسيار تندی از روحانینماهای وابسته به دربار و قدرت دارند. امام ضمن ابراز تنفر از روحانيت غيرمهذّب و متعهد، آنان را از ساواكیها هم بدتر میدانند. اينها بهترين ابزاری هستند كه خواسته يا ناخواسته مجری اهداف قرار میگيرند: «طرح اختلاف بين مذاهب اسلامی از جنايانی است كه به دست قدرتمندان كه از اختلاف بين مسلمانان سود میبرند و عمّال از خدا بیخبر آنان از آن جمله وعاظالسلاطين كه از سلاطين جور سياهرویترند، ريخته شده و هر روز بر آن دامن میزنند و گريبان چاك میكنند و در هر مقطع به اميد آنكه اساس وحدت بين مسلمين را از پايه ويران نمايند طرحی برای ايجاد اختلاف عرضه میدارند.» (23) «... ما گرفتار بعضی اشخاص كه دعوی اسلامی میكنند، بعضیها كه در راس روحانيت بعضی ممالك واقع هستند... ما را تكفير میكنند... متاسفانه در لباس مفتی هستند.... اين كارها بر ضد اسلام و بر وفاق ميل ابرقدرتهاست... اگر چنانچه وعاظالسلاطين بگذارند و اتحاد ما را به هم نزنند، انشاءالله پيروز خواهيم شد.» (24) پي نوشت ها : 1.امام خمينی،1/9/57
بیداری اسلامی از منظر مقام معظم رهبری(1) بیانات در مراسم بيعت وزير آموزش و پرورش و معلمان و جمعى از دانش آموزان استان تهران، 26/3/68 پيام به حجاج بيتاللَّه الحرام، 14/4/68 بیانات در مراسم چهلمين روز ارتحال امام(ره)، 22/4/68 ... دولتهاى استكبارى تصور مىكنند با تحميل جنگ هشتساله بر ما و محاصرهى اقتصادى و تبليغاتى و شايعهپراكنى و تهمت در سطح عالم، خواهند توانست به ما ضربه زنند؛ غافل از آنكه اسلام و بيدارى مسلمانان، تختهاى قدرت آنها را به لرزه درآورده است، و هر روز كه بگذرد، امواج سهمگين بيدارى اسلامى، تختهاى قدرت فرعونهاى عالم را بيشتر خواهد لرزاند. بيانات در ديدار جمعى از مسؤولان نهادها و سازمانهاى خدماتى و حمايتكننده از مستضعفان و محرومان، 12/7/68 بیانات مقام معظم رهبری در خطبههاى نماز جمعهى تهران، 20/11/68 بیانات در ديدار جمع كثيرى از علما و طلاب حوزهى علميهى قم و مدارس علميهى تهران، 2/12/68 بیانات در ديدار جمع كثيرى از پاسداران در سالروز ميلاد امام حسين(ع)، 10/12/68 بیانات مقام معظم رهبری در خطبههاى نماز جمعهى تهران، 10/1/69 پيام به مناسبت روزجهانى قدس، 24/1/69 بیانات مقام معظم رهبری در خطبههاى نماز عيد فطر، 7/2/69 بیانات در ديدار ميهمانان و شركتكنندگان كنفرانس جهانى اهلبيت(ع)، 4/3/69 شما ببينيد، در هر گوشهى عالم كه مجموعهى مسلمانى هست، از يك طرف احساس هويت اسلامى مىكند، و از طرف ديگر سختگيرى نسبت به آنها، بيش از ديگران است. نمونهى ديروزى آن، مناطق آذربايجان شوروى و بعضى مناطق ديگر، و نمونهى امروزى آن، كشمير است. مسلمانان در آنجا، حرف حق خودشان را مىزنند. آن كسى كه از قضايا و سرگذشت كشمير مطلع باشد، مىداند كه آنچه مسلمانان بيچارهى كشمير مىگويند، يك سر سوزن از حق دور نيست. كسانى كه آنها را خاموش مىكنند، ناحق مىگويند. كسانى كه به آنها حمله مىكنند، عمل ناحق انجام مىدهند. متأسفانه دنيا هم به اين قضايا، با خونسردى نگاه مىكند. پيام به مناسبت اولين سالگرد ارتحال حضرت امام خمينى(ره)، 10/3/69 پيام به حجاج بيتاللَّهالحرام، 7/4/69 ... امروز هم كه روز بيدارى مسلمانان و طرح شعارهاى اساسى اسلام است، حج - اين فريضهى بزرگ امتساز و دشمنشكن - از مضمون واقعى خود بركنار بماند و قالبى به اين عظمت و شكوه، معنايى به تناسب خود نداشته باشد. بیانات در ديدار با فرزندان ممتاز شاهد، جانبازان شهرهاى مشهد و تهران و استان كردستان، 21/6/69 اين خصومت از طرف كيست؟ از طرف قدرتها؛ كسانى كه مىخواستند دنيا و ملتها را بچاپند؛ ولى اسلام و بيدارى اسلامى و حركت اسلامى را مزاحم خودشان به حساب مىآوردند؛ حقيقت هم همين است. اسلام و بيدارى اسلامى، در مقابل هرگونه سلطهگرى ايستاده است و خواهد ايستاد. هر حركت اسلامى كه صادقانه باشد، مسلمانان دنيا را كه جمعيت كثيرى هستند، به خود جلب خواهد كرد و اين براى قدرتهاى بزرگ، يك خطر است. براى همين است كه استكبار جهانى، از انقلابهاى ديگر در ساير نقاط عالم، به قدر انقلاب متكى به اسلام واهمه نداشته است. امروز بخش عظيمى از حساسترين نقاط دنيا به لحاظ اقتصادى، منابع، سوقالجيشى و وضعيت اجتماعى، در اختيار مسلمانان است. نقاط التقاى سه قارهى بزرگ و مهم عالم - يعنى آسيا و آفريقا و اروپا - در اختيار مسلمانان است. مهمترين منابع نفت و بسيارى از منابع ديگر عالم، در اختيار مسلمانان است. امروز دنياى استكبارى و امپراتوريهاى زر و زور مىدانند كه اگر اسلام در دل مسلمانان و جوامع اسلامى حيات دوباره پيدا بكند، منافع آنها - منافع متكى به سلطه و زورگويى و دو قطبى بودن عالم - به خطر خواهد افتاد. بیانات در ديدار با روحانيون و طلاب آزاده، 5/8/69 بیامات در سمينار «تبيين حكم تاريخى حضرت امام خمينى(ره)»، در سالروز ميلاد امام عصر(عج)، 11/12/69 بیانات در ديدار با جمعى از روحانيون، ائمهى جماعات و وعاظ در آستانهى ماه مبارك رمضان، 22/12/69 پيام به حجاج بيتاللَّهالحرام، 26/3/70 ... امروز كه ملتهاى مسلمان، پس از چند قرن انحطاط و ركود و ذلت، در چهارگوشهى جهان اسلام، به بيدارى و قيام لله گراييدهاند و عطر آزادى و استقلال و بازگشت به اسلام و قرآن، در فضاى بسيارى از كشورهاى اسلامى منتشر گشته است، بيش از هميشه مسلمانان نياز دارند كه پيوند خود را با آن گذشتهى نورانى و معجزنشان، با دوران قيام لله و مبارزهى اسلامى دوران نخستين اسلام مستحكم كنند. خاطرات اسلامى در اين سرزمين، براى هر مسلمان متدبر، در حكم داروى شفابخشى است كه او را از ضعف و زبونى و يأس و بدبينى نجات مىدهد و راه دستيابى به هدفهاى اسلام را - كه هميشه براى هر انسان برخوردار از عمق و حكمت، هدف زندگى و تلاش است - نشان مىدهد. بیانات در ديدار با مسؤولان و كارگزاران نظام جمهورى اسلامى ايران، 23/5/70 بیانات در ديدار با خانوادههاى شهدا، جانبازان و آزادگان، 17/7/70 پیام در پی برگزاری كنفرانس صلح خاورمیانه، 25/7/70 بیانات در جمع روحانيون و طلاب حوزهى علميه و ائمهى جمعه و جماعات استان بوشهر، 11/10/70 بیانات در ديدار با مسؤولان و كارگزاران نظام جمهورى اسلامى در سالروز عيد سعيد مبعث، 13/11/70 ... ملتهاى اسلامى بايد به اسلام برگردند. البته دروازهها گشوده شده است. قرن گذشته - يعنى قرن سيزدهم هجرى - قرن فريادگرى فريادگران اسلام بود. از اوايل قرن كه ميرزاى شيرازى - مرجع تقليد بزرگ اسلام - در برخورد با كمپانى انگليسى، آن فتواى قاطع را داد و يك ملت را به حركت درآورد، تا واقعهى مشروطيت در ايران، تا حركتهاى اسلامى در هند، تا بيدارى اسلامى در غرب دنياى اسلام - در خاورميانه و در منطقهى شمال آفريقا - و بزرگانى كه سخن گفتند و سيد جمالالدينها و ديگران و ديگران، تقريبا قرن فرياد و قرن مبارزات بود، و قرن بعد، قرن تجربه است. اين قرنى كه ما امروز در آن قرار داريم، قرن تجربه است. قرن چهاردهم هجرى، قرن فرياد و بيدارگرى و اعلام بود، و اين قرن پانزدهم - از آغاز و از افتتاح آن - قرن تجربه و عملكرد است. مىبينيم كه ملتهاى اسلامى مجرب شدهاند و دارند عمل مىكنند؛ يك نمونه، جمهورى اسلامى بود؛ و اين نمونهى اول بود. ما به خاطر اينكه اولين نمونه بوديم، مشكلات بسيارى را گذرانديم. مسلمانان بايد از اين نمونه، تجربه بيندوزند. آن ملتهايى كه امروز بخواهند در كشورهاى خودشان حركت اسلامى را تحقق ببخشند، مىتوانند كار جامعترى از ملت ايران نشان بدهند و به منصهى ظهور بياورند؛ اگر خدا كمك كند و اگر آنها همت كنند. گفت و شنود مقام معظم رهبری با ميهمانان خارجى شركت كننده در مراسم دههى فجر، 14/11/70 پيام به كنفرانس انديشهى اسلامى، 15/11/70 بحمداللَّه ملتها بيدار شده و در راه اسلام قدم گذاشتهاند؛ نمونهى زنده، ملتهاى شمال آفريقا، مخصوصاً سودان و الجزايرند. مقاومت اين ملتها و پذيرفتن ابتلائاتى كه خداوند در قرآن فرموده است، سرنوشت قطعى آنان را پيروزى خواهد ساخت؛ «و لنبلونّكم بشىء من الخوف و الجوع ونقص من الأموال و الأنفس و الثّمرات و بشّر الصّابرين». مسلمانان بايد آگاه باشند و بمانند؛ فريب دشمن و تبليغات ترفندآميز او را نخورند. وحدت و همدلى ما، نخستين آماج آنهاست. بايد اجازه نداد كه بهانههاى فرقهيى و مذهبى و طايفهيى، بهانههاى اختلاف شود. بايد اجازه نداد كه فشارهاى توأم با وعده از سوى استكبار، ارادهها را ضعيف كند. بايد اجازه نداد كه بىخبران از اسلام و دشمنان خصلتى آن، دربارهى حلال و حرام خدا و تفسير آيات خدا، به لاطائلات بپردازند و اسلام را به ميل خود و در خلاف جهت پيام و رسالت اسلام و قرآن، تحريف و معنى كنند. اگر اين كارها بشود - كه البته نيز خواهد شد - اسلام پرچم نجات بشر را در بخش عظيمى از جهان خواهد گسترانيد. به اميد آن روز و با تكيه و اعتماد به وعدهى الهى، شما را به خدا مىسپارم. بیانات در اجتماع بزرگ مردم قم، در سالروز ميلاد حضرت مهدى (عج)، 30/11/70 اگر قدرتهاى استكبارى عالم مىتوانستند، مىخواستند به ملتها اينطور وانمود كنند كه به مقدسات و دين و عقايد آنها احترام مىگذارند؛ براى اينكه ملتها را فريب بدهند! اما پيشرفت كارها، بيدارى ملتها و مبارزات پيگير ملتهاى مسلمان موجب شده است كه آنها ديگر نتوانند مافىالضمير خودشان را كتمان كنند؛ حالا صريح مىگويند كه ما با حكومت اسلامى، با نظام اسلامى، با جمهورى اسلامى، با روى كار آمدن اسلامگرايان و به قدرت رسيدن طرفداران اسلام مخالفيم؛ اين را صريح بيان مىكنند! چهرهى آنها در مقابل ملتها بايد روزبهروز بيشتر افشاء بشود؛ يعنى آن سرانجام تلخى كه در انتظار مستكبران است، بايد نزديكتر بشود و نزديكتر خواهد شد. منبع:www. khamenei.ir
بیداری اسلامی از منظر مقام معظم رهبری(2) پيام به سمينار در پاكستان، 20/2/71 انقلاب اسلامى به رهبرى حضرت امام خمينى قدساللهنفسهالزكيه احياگر اسلام ناب محمدى(ص) و سرآغاز تحولات عميق و سريع در جهان و مبشر سقوط و اضمحلال قدرتها و امپراتورىهاى بزرگ شد. بيدارى و خوديابى و ايستادگى مسلمانان موجب شد كه ما جلوههائى از قدرت و حكمت الهى را شاهد باشيم و وعدهى حتمى خداوند در ظهور دين و مكنت مسلمين و وراثت صالحين و خلافت مستضعفين را در آينهى تجارب زمانه، به يقين دريابيم و قيام مهدى موعود ارواحنافداه و استقرار دولت الهى جهانى آن حضرت را به حقيقت منتظر باشيم.بيانات در ديدار مهمانان خارجى شركت كننده در مراسم سالگرد ارتحال حضرت امام(ره)، 13/3/71 پيام به حجاج بيتاللَّه الحرام، 13/3/71 ... سال گذشتهى ما، سرشار از چنين حوادث كمنظير و شگفتآورى بود و به جز آن، رشد حركتهاى اسلامى و بيدارى مسلمين و اصرار آنان بر بازيافتن هويت اسلامى و مبارزه با قدرتهاى قلدر و معارض در بسيارى از مناطق عالم، بخصوص در فلسطين عزيز و برخى كشورهاى شمال آفريقا و خاورميانه نيز، از مميزات برجستهى اين سال بود. بيانات مقام معظم رهبرى در مراسم سالگرد ارتحال حضرتامام(ره)، 14/3/71 بيانات مقام معظم رهبرى در ديدار علما و روحانيان، 7/5/71 ... جهت حركت جامعه اسلامى، امروز بايد همان جهت ضد استكبارى و ضد سلطه جهانى باشد كه متأسفانه پنجه بر همه دنياى اسلام افكنده است. با اسلام دشمنند؛ با بيدارى مسلمين دشمنند؛ باايران اسلامى، به خاطر اسلامى بودنش دشمنند. همه تلاش آنها اين است كه حركت اسلامى در دنيا زنده نشود. در رأس اين خصومت - البته - دولت متجبر و متجاوز امريكاست و پشت سر او، همه قدرتهاى كوچك وبزرگى كه نسبت به اسلام، خصومت ديرين دارند، يا اصطكاك منافع دارند، يا از اسلام مىترسند. با ايران اسلامى هم كه دشمنند، به سبب همين است كه بيدارى اسلامى، از اينجا جوشيد و امروز ملتهاى مسلمان در هرجاى دنيا كه هستند، اميدشان را از اين حركت و اين انقلاب پيروز مىگيرند و گامهايشان را محكم مىكنند و به پيش مىروند. اگر بتوانند، اسلام را در اين نقطه، العياذبالله، شكست دهند، بزرگترين پيروزى خود را در مقابل موج اسلامى در سرتاسر عالم به دست آوردهاند. اين، آن حقيقتى است كه امروز وجود دارد. انتصاب نماينده ولىفقيه در بنياد شهيد، 9/8/71 پيام به كنگرهى جهانى هزارهى شيخ مفيد، 28/1/72 بيانات مقام معظم رهبرى در ديدار مسؤولان و كارگزاران حج، 8/2/72 پيام به حجاج بيتاللَّه الحرام، 28/2/72 نكتهى مهم ديگرى كه بايد مورد تكيد قرار گيرد آن است كه استكبار با همهى تدابير شيطانىاش و با وجود بكارگيرى زور و ترفند سياسى و تبليغات دروغ، نتوانسته و هرگز نخواهد توانست، جريان رو به رشد بيدارى اسلامى و نهضت گرايش به اسلام را متوقف سازد. فعاليت همه جانبهى سياسى و امنيتى و بيش از همه، تبليغاتى امريكا و ديگر كشورهاى استكبارى و ايادى منطقهيى آنان بر ضد نهضت اسلامى در كشورهاى مختلف و از جمله بر ضد نظام مقدس جمهورى اسلامى در ايران، در سالهاى اخير، بىسابقه و بسيار وسيع بوده است. بيانات مقام معظم رهبرى در خطبههاى نماز جمعه تهران، 14/3/72 در باب علل دشمنى استكبار جهانى با ما، حقيقت چيز ديگرى است كه مىتوانيم آن را بهطور روشن بيان كنيم. ما مىدانيم چرا امريكا با جمهورى اسلامى در ايران دشمن است. مىدانيم چرا با نهضت بيدارى اسلامى در هر كشور از كشورهاى اسلامى كه اتفاق بيفتد دشمن است. مىدانيم چرا كشورهاى استكبارى، اگر ببينند در كشورى، اسلام پيروز مىشود ولو با شيوههاى دمكراسى براى مقابله با آن، هرچه بتوانند انجام مىدهند. ... جريان دوم عبارت است از جريان گسترش نهضت گرايش به اسلام و پيوستن نسلهاى جوان در بسيارى از كشورهاى اسلامى به نهضت امام رضواناللهتعالىعليه كه اين جريان هم در زمان امام، با وسعت و گسترش و سرعت بسيار وجود داشت و امروز هم كه چهارسال از در گذشت امام مىگذرد، باز همين جريان ادامه دارد. وقتى شما به سطح عالم نگاه كنيد، مىبينيد هر روز كه مىگذرد، در كشورهاى اسلامى، جمعى به نهضت بيدارى اسلامى، كه امام بزرگوار ما برانگيزانندهى آن بود، مىپيوندند و آن را توسعه مىدهند. در باب خصومت دشمنان استكبارى ما و شيوههاى دشمنى آنها با جمهورى اسلامى و انقلاب، سخن زياد گفتهايم و مطالب براى مردم خود ما و شايد بسيارى از ملتهاى علاقهمند به انقلاب و جمهورى اسلامى، روشن است. فقط همين اندازه لازم است تأكيد كنيم كه در رأس اين خصومت و دشمنى با اسلام، بيدارى اسلامى و نيز جمهورى اسلامى، رژيم امريكا و كسانى كه به آن رژيم چه در كشورهاى پيشرفتهى دنيا و چه در ميان كشورهاى عقبافتادهى عالم وابستهاند، قرار دارند. علت اين خصومت هم روشن است: چون انقلاب اسلامى، جمهورى مستقلى را بر پايهى اسلام بنيان گذاشت، به نفوذ امريكا در اين كشور پايان داد و شايد در بسيارى از مناطق جهان، چنان نفوذى را به خطر انداخت. بيانات مقام معظم رهبرى در ديدار روحانيان و مبلّغان اعزامى به مناسبت فرارسيدن ماه مبارك رمضان، 17/11/72 بيانات مقام معظم رهبرى در خطبههاى نماز «عيد فطر»، 22/12/72 منبع:www. khamenei.ir
بيداري اسلامي و معادلات جهاني
نويسنده: علي حسن حيدري
تحولات سياسي اخير منطقه استراتژيك خاورميانه بار ديگر
اين منطقه را به كانون خبرساز منطقهاي و جهاني تبديل كرده است. بحث
ارزيابي سفر دكتر احمدينژاد رئيسجمهور ايران به عراق و تحليل چرايي و
چگونگي استقبال مردم عراق از اين سفر و مقايسه آن با نتايج و واكنشهاي
مردمي به سفر بوش كه به صورت مخفيانه و در حصاري از امنيت انجام ميگيرد،
يكي از تحولات مهم است.
توجه به مسائل لبنان و فلسطين و ارتباط آن با قدرتهاي مختلف از ديگر موضوعات با اهميت تلقي ميشود. دليل توجه بسياري از قدرتهاي جهاني به تحولات خاورميانه اين است كه معادلات آتي منطقه و به تبع آن معادلات جهان از اين شاهراه رقم خواهد خورد. معاون وزير خارجه آمريكا در خصوص رئيسجمهور آينده لبنان ميگويد: «بايد وي مخالف سوريه، ايران و مقاومت باشد. » حلقهاي ديگر از اين سلسله تحولات طرح مشترك عربستان و آمريكا در خصوص حزبالله و استقرار كشتي آمريكائي در ساحل لبنان است. بن بست استراتژيك غرب و رژيم صهيونيستي در بحران و فاجعه انساني غزه و كشتار وحشيانه فلسطينيان نيز از جمله تحولاتي است كه توجه افكار عمومي دنيا را به همراهي با آنها عليه مسببان اين واقعه، يعني آمريكا و رژيم صهيونيستي و حاميان غربي آن تحريك مينمايد. اين تحولات در كنار اقدامات تروئيكاي عربي (عربستان، مصر و اردن) كه تحت مديريت ديپلماتيك آمريكا و با تكيه بر بازيگران داخلي لبنان از جمله گروه 14 مارس و سعدحريري با تقويت و گسترش تفكر مقاومت مخالفت ميكنند و در صدد ممانعت از تبديل مقاومت از سطح يك جنبش به سطح يك نهاد سياسي هستند، نشان ميدهد كه قدرتهاي غربي خطر آينده منافع خود را از بازيگران منطقهاي ميدانند. اما فصل مشترك ويژگي اين بازيگران كه موجبات ترس و واهمه غرب و آمريكا را برميانگيزد و آنها را وادار به مقاومت و مقابله با تفكر اسلامي در منطقه مينمايد، «بيداري اسلامي» و خيزش اسلامي ملل مسلمان منطقه است كه به تأسي از انقلاب اسلامي و الگوي موفق نظامسازي اسلامي در جمهوري اسلامي ايران به منصه ظهور رسيده است. از اين رو اين مطلب در صدد تبيين بيداري اسلامي در منطقه، تاثيرات فرا منطقهاي آن و نمودهاي اين بيداري كه طليعه قرني اسلامي را نويد ميدهد، ميباشد. چيستي و گستره بيداي اسلامي حركت «بيداري اسلامي» يا خيزش اسلامي پديده عظيم و فراگيري است كه حدود دو قرن از پيدايش آن ميگذرد. در اين دو قرن فراز و نشيبهاي فراواني فرا روي اين حركت بوده و با ضعف وقوتهايي همراه شده است. اين حركت در ابتدا در مناطق جغرافيايي خاص و محدودي ظهور يافت، سپس در طول دهههاي گذشته دامنه آن گسترش يافت و به تدريج به سراسر دنياي اسلام از شرق آسيا تا جنوب و غرب آفريقا و حتي در بين اقليتهاي مسلمان در ساير كشورها توسعه يافت. در آغاز، فعالان آن جمعي از علماي دين، نخبگان و انديشمندان بودند، اما امروزه تودههاي مسلمان، اعم از عالم و عامي، در سراسر جهان به حركت در آمدهاند.با پيروزي انقلاب اسلامي ايران، جنبش بيداري اسلامي، وارد مرحلهاي جديد شد و جهش توأم با عمق فكري را در جغرافياي اسلام بويژه در ميان تودهها و لايههاي خفته جوامع اسلامي بوجود آورد. به گونهاي كه بيداري اسلامي از حالت دفاع انفعالي خارج و در موضع تهاجم فكري و رفتاري قرار گرفت و در اشكال جريانها ونهادهاي سياسي و حتي جنبشهاي مقاومت رخ عيان نمود. بيداري منتج از انرژي آزاد شده از انقلاب اسلامي كه براي اولين بار در شكل يك نظام سياسي ظاهر شد، به زودي به حوزه مديريت سياسي و ديپلماتيك وارد شد و ساير نظامهاي سياسي جهان اسلام را متأثر كرد. در شرايط كنوني حضور قدرتمند حركت بيداري اسلامي با محوريت نظام جمهوري اسلامي ايران و كاركرد آن در شكل مردم سالاري ديني و تحت مديريت جنبشها و جريانهاي سياسي و مقاومت، معادلات قدرت در روابط بينالملل را دچار تحول كرده است و در حال سامان دادن معادله جديدي است كه معارض با معادلات تعريف شده از سوي ليبرال دموكراسي به محوريت غرب است. اين وضعيت به وضوح قدرتهاي بزرگ و مدعي هژمون جهان را به وحشت انداخته است، بطوريكه تمام امكان خود را بسيج كردهاند كه از تكميل سيكل معادله جديد قدرت در منطقه با مديريت «اسلام سياسي» تحت نفوذ و هدايتگري ايران جلوگيري بعمل آورند، چرا كه آنها اين بيداري اسلامي را كه هم اكنون در چهره جنبشهاي مقاومت در لبنان، فلسطين، عراق با قدرت رخ نموده است، بزرگترين چالش براي مديريت سياسي و ديپلماتيك غرب به محوريت آمريكا و جديترين تهديد براي مباني و پايههاي ليبرال دموكراسي ميدانند و از اين رو آن را بزرگترين هدف سياستهاي خصمانه غرب در شرايط فعلي به حساب ميآورند. بردن مقاومت در قالب تروريسم و تلاش مبرهن غرب براي پيشگيري از مبدل شدن اين جريان فكري به نظام سياسي وظهور آن در قالب يك هژمون منطقهاي و هشدار نسبت به هلال شيعه در واقع همان نگراني آمريكا و متحدان منطقهاي آن است كه بدليل احتياط به جاي زنجير خيزش اسلامي از آن استفاده ميكنند تا ضمن تقسيم جريانهاي ليدر بيداري اسلامي از مواجه آشكار با بيداري اسلامي در امان بمانند. نقش ايران در بيداري اسلامي ايران به عنوان يك كشور بدليل موقعيت ژئوپليتيك، ژئواستراتژيك و ژئوكالچر بر تحولات بينالمللي اثر گذار بوده است. اين ويژگيها باعث شده كه كشورمان منطقهگرايي را محور سياست خود قرار دهد. ايران توانست در زمينههاي تاثيرگذاري فكري، صدور تفكر مقاومت و مبارزه با استعمار نوين و استبداد و بازگشت به اسلام در ادوار مختلف به نوعي اعمال مديريت كند. مديريت كشورهاي تازه استقلال يافته عربي و اسلامي، به ترتيب در جريان مشروطه، ملي شدن صعنت نفت و نهضت 15 خرداد 42 از نمونه هاي تاريخي نقش هدايتگري ايران است. در اين مقاطع جريان تاثيرگذار جدايي از سياستهاي دولت و حاكمان بود، كه از ناحيه علماي دين و روشنفكران مذهبي و بعضاً ملي مديريت ميشد. چرا كه در اين مقاطع بويژه در عصر پهلوي دولت بيشتر از بيرون (پيروي از مدل آتاتورك در تركيه) الگو ميگرفت. از اين رو تاثيرگذاري در اين دوره تاريخي محدود به منطقه و عليالخصوص كشورهاي اسلامي بود.انقلاب اسلامي، به عنوان پديدهاي كه بر بنياد ارزشهاي دين با تكيه به روشها و شيوهاي نوين دموكراسي، شكل گرفت والگوي جديد از مقاومت و مبارزه با استبداد و استعمار را به نمايش گذاشت، الگوي جديدي از مديريت در عرصه قدرت، سياست و حاكميت را متجلي و شكل جديدي از تاثيرگذاري و متفاوت از كاركرد تاريخي مزبور را بنا نهاد و نوعي از جريان احياگري، بيداري فكري و ايدئولوژيك را سامان داد و هدايت كرد. جمهوري اسلامي، براي اولين بار اصطلاح «امت اسلامي» به عنوان يك مفهوم انقلابي را وارد ادبيات سياسي جهان كرد. در همين چارچوب تفكر منطقهگرايي به شكل نوين را در دستور كار قرار داد و فرايند تبديل شدن به يك قدرت هژمون را پيشه كرد كه امروز پس از سه دهه توانسته است به عنوان الگوي مسلط منطقه جايگاه خود را تعريف كند. الگويي كه با وجود هژمونهاي برونزا و مداخلهگر مزاحم توانست به تقويت موقعيت و توسعه نفوذ خود ادامه دهد و حوزه نفوذ منطقهاي خود را به حوزه جهاني اسلام ارتقا دهد. ايران نوين در شرايط فعلي نظم نويني را نويد ميدهد كه بنيادهاي معادلات سياسي و امنيتي موجود را در اشكال نرم و سخت با چالشها جدي و بيسابقه مواجه كرده است. بيداري اسلامي به عنوان يك پديده متاثر از نهضت فكري جمهوري اسلامي در عصر حال در قالب يك جنبش اجتماعي، سازماني و نهادهاي نظامي مدعي رخ نموده است. اين جريان در عرصه منازعات سياسي و امنيتي علاوه بر اينكه موجوديت و نفوذ خود را به اثبات رسانيده است، ميرود تا به قدرت بلامنازع نقش آفرين در سطح جهاني تبديل شود. در ظهور، قوام و توسعه پديده بيداري اسلامي زمينهها و عواملي چند دخيل بوده است كه اهم آنها باختصار مورد اشاره قرار ميگيرد: ريشهها و عوامل بيداري اسلامي 1- ورود نسل جديد با ويژگيهاي انقلابي به عرصه منازعات كه فهم ريشهاي و واقعيتري از علل عقب افتادگيهاي علمي، اقتصادي و اجتماعي جوامع خود بويژه در حوزه فكر و فرهنگي دارند.2- توجه به وحدت ديني و بن مايههاي انسجام ايدئولوژيك و درك درست از راهبردهاي قدرتهاي خصم و استكبار براي ايجاد گسست در جهان اسلام. 3- حوادث بيدار كننده منطقهاي و جهاني از جمله بحران فلسطين، 11 سپتامبر، اشغال عراق و افغانستان و راهبرد نبرد ايدئولوژيك غرب به محوريت آمريكا كه با هدف تسلط بر جهان اسلام انجام ميشود، آثار چشمگيري بر بيداري اسلامي دارد. 4- رشد و توسعه وسايل ارتباط جمعي و تكامل شيوههاي تبليغ اسلام. 5- انقلاب اسلامي عامل عمده بيداري اسلامي مطرح است، نقش ويژهاي در حركت بيداري ملل مسلمان ايفا كرده است. عوامل ذكر شده در مرتبه كاركرد خود معلول علهالعللي به عنوان انقلاب اسلامي هستند كه در دهه 1979 در يك حركت متكي به اراده عمومي، تمامي زير ساختهاي سياسي، اجتماعي، فكري و حتي امنيتي كشورهاي هژمون و عوامل مستبد وابسته به آنها را دگرگون كرد و در يك زايش تاريخي الگويي مقتدر، هوشمند با مديريت كار آمد را به جريانها و اذهان منتظر ارائه كرد. پديده انقلاب اسلامي، پس از چند سده به شكل عملي و عيني، اسلام و جوامع اسلامي را از انزوا و سكون خارج كرد. انرژي آزاد شده از آن به عنوان موتور محركه همه تحركات و خيزش جريانها و جنبشهاي اسلامي از يكسو مردم مسلمان منطقه را نسبت به حق و حقوق و تواناييهاي خود آگاه كرد و از سوي ديگر طلسم شكست ناپذير بودن غول استبداد و اختاپوس استعمار و امپرياليسم را ابطال كرد و اين مسئله خود «جسارت و اعتماد به نفس» را به ملتهاي مسلمان برگرداند. در چنين وضعيتي بود كه به تعبير اقبال لاهوري، تهران قرارگاه مسلمانان شد و جمهوري اسلامي در فرايند ظهور، تثبيت و توسعه خود در داخل به عامل منحصر به فردي در احياء، پايداري و توسعه بيداري اسلامي و در شرايط كنوني به مركز سازماندهي تمدن نوين اسلامي تبديل شد. اينكه انقلاب اسلامي كه خود از دل مذهب بيرون آمده است، به احياء دين و تجدد حيات اسلامي در ايران و جهان مدد رسانده است، در تولد، تجديد حيات و تداوم جريانها و جريان سياسي اسلامي معاصر در سه دهه اخير نقش كليدي داشته است، مورد اتفاق نظر تمام محافل سياسي جهان اعم از دوستداران ايران، رقيبان و كشورهاي خصم است. اما پرسش اين است، كه چرا انقلاب اسلامي بر جريانها و جنبشهاي پيش برنده پديده بيداري اسلامي و حتي حركتهاي سياسي معاصر تاثير گذاشته است؟ و ميزان اين تاثيرگذاري چقدر بوده است؟ زمينهها و علل تاثيرپذيري جنبشهاي اسلامي از انقلاب اسلامي در پاسخ به چرايي تاثيرگذاري انقلاب اسلامي بر فرايند تكاملي بيداري اسلامي، بايد به اشتراكات فراوان سياسي و فرهنگي ميان ايران به عنوان عامل و جنبشهاي سياسي به عنوان محركهاي متأثر توجه داشت، از جمله اين اشتراكات:1- ايدئولوژي و عقيده مشترك: انقلاب اسلامي گر چه يك انقلاب شيعي بود اما در اصول دين، توحيد، نبوت، معاد، قبله و قرآن با ديگر هستهها و جنبشهاي اسلامي وحدت ماهوي داشت و رفتار و عملكرد چند دههي انقلاب نيز جديت و توانمندي ايران در دفاع از حدود و ثغور انديشه اسلامي را به نمايش گذاشت و مواضع روشن، مستقل و مبتني بر احياي دين ايران اسلامي اعتماد و تعميق اعتقاد آنها به صداقت ديني انقلاب اسلامي را تقويت كرد. 2- دشمن مشترك: انقلاب اسلامي به عنوان سكاندار جبهه اسلام و مسلمانان و جنبشهاي اسلامي در مواجهه با جبهه غرب به محوريت آمريكا داراي دشمن مشتركي هستند كه در صدد تسلط بر حدود جغرافيايي و به حاشيه راندن ايدئولوژي دين اسلام است. انقلاب اسلامي از همان اوان شكلگيري سياست خارجي خود را با محوريت شعار نه شرقي و نه غربي براي جنبشهاي آزادي بخش تعريف كرد و با اعلام رسمي حمايت از نهضتهاي رهايي بخش و تبديل آن به اصل قانوني، خود را به عنوان هدايتگر صادق معرفي كرد. رهبران جنبشهاي اسلامي با الگو پذيري از اين تعبير امام(ره) كه فرمودند: «دشمن مشترك ما امروز اسرائيل و آمريكا و امثال اينهاست كه ميخواهند حيثيت ما را از بين ببرند و ما را تحت ستم دوباره قرار بدهند. اين دشمن مشترك را دفع كنيد. »، همنوايي خود را با اهداف ضد استعماري و ضد استكباري رهبر انقلاب اسلامي اعلام كردند. 3- طرح ايده وحدت اسلامي: طرح وحدت مسلمانان به عنوان رمز پيروزي انقلاب، تداوم و توسعه آن به جهان اسلام عامل مؤثر درگرايش نهضتهاي اسلامي به ايران بود. وحدت در ابتدا به عنوان يك رمز پيروزي از انقلاب اسلامي الگوي كاري جريانها شد، آنها دريافتند كه اراده واحد و منسجم ميتواند حلال مشكلات باشد، ايران همواره به عنوان خاستگاه و منادي وحدت محل رجوع جريانها براي مديريت فرايند وحدت بوده است. 4- مديريت بحرانهاي خاورميانهاي مثل فلسطين، لبنان و عراق از سوي ايران بود: جمهوري اسلامي ايران همواره با اقتدار و استقلال و با پذيرش هزينههاي سياسي بسيار، همچنان از جبهه مقاومت و مردم فلسطين و مصالح جهان اسلام دفاع كرده است، در سختترين شرايط فارغ از مذهب و عقيده آنها مدافع و حامي آنها بوده است. مديريت جمهوري اسلامي ايران در لبنان در هيأت حزبالله و در فلسطين در قالب حماس و جهاد اسلامي به عنوان جبهه مقاومت موفق عمل كرده است و تحت درايت هنرمندانه جمهوري اسلامي و عملكرد جريانهاي مقاومت، جهان اسلام و جغرافياي عرب پس از 6 دهه در حال خروج از انزوا و انفعال است، در حالي كه جبهه رعبآور صهيونيزم مسيحي به محوريت آمريكا و اسرائيل در دشوارترين شرايط سياسي خود در تاريخ هدايت منطقه بسر ميبرند. كاركرد منطقي و نتيجه بخش جمهوري اسلامي باعث اعتماد بيشتر جنبشها به ايران به عنوان كانون مديريت و الگوي كارآمد شده است. به گونهاي كه جنبشها، حركت خود را با افتخار متأثر و ملهم از الگوي ايران ميدانند. 5- الگوي مردم سالاري ديني: عامل ديگر، به نمايش گذاشتن الگوي مديريت جديد سياسي با عنوان مردمسالاري ديني و مديريت ديني در ايران است. ايران در دوران مديريت نظام سياسي متأثر از دين اسلام، توانسته است به قدرت برتر علمي منطقه تبديل شود. استقلال و اقتدار خود را در مديريت بحرانهاي داخلي، منطقهاي و جهاني به اثبات برساند و پس از قرنها به عنوان يك كشور جهان سومي نوعي نظم نوين در موضع هژموني به جهانيان ارائه كند و تمامي معادلات سياسي و امنيتي را به چالش بكشد. ابعاد تاثير (چيستي تاثير) انقلاب اسلامي چه تاثيري بر جنبشهاي سياسي اسلامي و بيداري بخشي به مسلمانان داشته است، در پاسخ به اين پرسش ميتوان به آثار متعدد و متنوع با ابعاد سياسي، فرهنگي و امنيتي اشاره داشت:الف- تاثيرات سياسي: يكي از دستاوردهاي انقلاب اسلامي ايران تجديد حيات سياسي اسلام در گستره جغرافياي اسلام بودكه جريانها و جنبشهاي سياسي محور آن بود اما عمق اين پديده را بايد در متن توده مسلمان جستوجو كرد كه در سه شكل در شرايط فعلي نمود عيني پيدا كرده است. 1- انتخاب اسلام به عنوان ايدئولوژي مبارزه و مقاومت 2- تلاش براي دستيابي به حكومت اسلامي (ارائه طرح حكومت اسلامي) 3- نقش انقلاب بر جنبشهاي سياسي و جريانهاي فكري در لايههاي مختلف جوامع اسلامي. ب- تاثيرات فرهنگي: نهضتهاي اسلامي و جريانهاي فعال متاثر از متن مردم جوامع اسلامي، شعائر وشعارهاي انقلابي ايران مانند، جهاد، شهادت و ايثار را به عنوان اصول اساسي مبارزاتي خود پذيرفتهاند. به تعبير سخنگوي جهاد اسلامي فلسطين در ديدار حضرت امام(ره)، با ظهور انقلاب شما (اسلامي) ملت مسلمان و بزرگ ما فهميد كه راهش جهاد و مبارزه است. انتفاضه بارقهاي از نور و بازتابي از پيروزيهاي بزرگ انقلاب شماست، انقلابي كه بزرگترين تحول را در عصر ما به وجود آورد. شعارهاي لاشرقيه و لاغربيه، اللهاكبر، هيهات منالذلة، الموتالامريكا و اسرائيل،... و ديگر شعارهاي با صبغه مذهبي از جمله شعارهاي صادراتي انقلاب اسلامي است كه جنبشها و جريانها در تحركات و راهپيمايهاي خود همواره به آن تكيه ميكنند، اين مضامين كه خود هر يك محتوايي به فراخي يك مدل و الگوي سياسي و مقاومتي در برخورد با رخدادها و عوامل آن دارد، در ميان نسل جوان مسلمانان نيز رسوخ پيدا كرده و تاثير مثبت و كارآمدي خود را به اثبات رسانده است. انقلاب اسلامي ايران به عنوان يك پديده حائز خصلت فراملي، مرزهاي جغرافيايي را در نورديد و در سطح كلان، فرهنگ، سياست و نظام حاكم بر روابط بينالمللي را دستخوش تغييرات بنيادين كرد. در اين ميان جغرافياي اسلام بطور ويژه متأثر شد. از نمودهاي اين تاثيرات: 1- حيات مجدد اسلام بر عرصه جهاني و گرايش روز افزون مردمي براي تشرف به دين اسلام. 2- زنده كردن احساسات آزادي خواهانه و استقلال طلبانه در مستضعفان و محرومان جهان. 3- گرايش به مذهب، فروپاشي افكار و انديشههاي بلوك شرق و به چالش كشيده شدن انديشههاي ليبراليسم، اومانيسم و بلوك غرب. 4- گرايش شديد و پررنگ به حجاب و ظهور آن در هيأت يك جنبش فعال و چالشزا براي كشورهاي غربي، ليبرال و لائيك. 5- بهم ريختن معادلات سياسي و امنيتي قديمي و به اثبات رساندن ناكار آمدي راهبردها و طرحهاي نرم و سخت ليبرال دموكراسي و سرمايه داري به محوريت قدرتهاي هژمون تاريخي در منطقه و جهان. تاثير انقلاب اسلامي بر راهبردهاي امنيتي آمريكا آمريكاييها يا بهتر بگويم جبهه صهيونيزم مسيحي به بهانه رخداد يازده سپتامبر به منظور تثبيت و استمرار هژموني سياسي و امنيتي و اقتصادي بر منطقه و حفظ وضع موجود در روابط بينالملل، طرح خاورميانه بزرگ (خاورميانه جديد) را با چند هدف مشخص تعريف و ارائه كرد؛ مركز ثقل اين طرح جغرافياي اسلام بود كه خاورميانه نقطه آغازين براي استقرار اين طرح با اهداف ذيل بود:1- تسلط بر مراكز نفتي و دولتهاي منطقه براي تامين فرايند ارزان، مطمئن و مستمر انرژي 2- تامين امنيت و سلطه رژيم صهيونيستي بر منطقه خاورميانه 3- مهار و يا انحراف جنبشهاي اسلامي براي جلوگيري از توسعه نفوذ آنها 4- براندازي و يا مهار و محدودسازي جمهوري اسلامي ايران به عنوان موتور محرك جريان بيداري اسلامي اما اين اهداف خود تابع عوامل ديگر بودند؛ 1- درك و آگاهي از عمق بيداري اسلامي و نگراني از تبديل شدن اين جنبش فكري به كارگردانان قدرت و مديران و سياستمداران آينده. 2- نگراني از تسلط عوامل بيداري اسلامي به عنوان قدرتهاي هژمون سياسي و امنيتي در منطقه خاورميانه به عنوان هارتلند جهان اسلام و نقطه رقم زننده معادلات آينده. 3- نقش برخي از سران منطقه و رژيمهاي و ابسته در جهان اسلام در تقويت نگراني از رشد اسلامگرايي. 4- نقش رسانهها و بنگاههاي غربي و صهيونيستي در معرفي بيداري اسلامي به عنوان تروريسم و نماد خشونت. 5- مهمترين دليل، ظهور ايده صهيونيزم مسيحي به عنوان يك الگوي عقيدتي و ايدئولوژي با ويژگيهاي افراطيگري، تصلب فكري و سياسي است كه پيگير يك جنگ ايدئولوژيك و صليبي است. آمريكا كه با راهبردها و طرحهاي استراتژيك از پيش طراحي شده به دنبال مديريت بحران و چالشهاي خاورميانه بود، با ناكامي بيسابقهاي مواجه شد. راهبرد آمريكا در دو چهره سياست مشت آهنين و جنگ نرم يا نبرد فرهنگي با تكيه به ابزار رسانه و انتخابات نمود يافت. در هر دو شكل با چالش جدي مواجه و كاملاً بينتيجه بود، تجربه افغانستان و ظهور مجدد طالبان، تجربه عراق و روي آمدن اكثريت شيعه با گرايش اسلامي، تجربه فلسطين و تقويت موقعيت سياسي و اجتماعي جنبش سياسي اسلامي حماس و جهاد اسلامي و بالاخره تجربه جنگ 33 روزه و شكست تاريخي رژيم صهيونيستي و ايدههاي آمريكا از جمله شواهد عيني شكستهاي استراتژيك آمريكا در نيل به اهداف از پيش تعريف شده بود. پيامدهاي بيداري اسلامي براي آمريكا 1- آمريكاييها با شعار حقوق بشر و دموكراسيسازي، طرحهاي خود را براي منطقه خاورميانه معرفي ميكردند و در تحقق آن به دنبال تقويت جايگاه خود در ميان افكار عمومي جهان اسلام بودند اما در دست يابي به اين هدف ناكام ماندند.2- آمريكا در چارچوب سياست تثبيت هژموني منطقهاي خود به دنبال سركوب جريانهاي اصيل بيداري اسلامي بود اما امروز جريانهاي اصيل اسلامي در تمام كشورهاي اسلامي و عربي بويژه كشورهاي هدف «لبنان، فلسطين و عراق» به مهمترين نيروهاي سياسي و اجتماعي جهان عرب مبدل شدهاند، جريانهاي شيعه و سني اصيل با تكيه به تاكتيكها و روشهاي عقلايي و كارساز جهان تشيع به محوريت ايران جبهه مقاومت در برابر هژمون طلبي آمريكا را شكل دادهاند. 3- نكته سوم، اينكه بيداري اسلامي باعث بحران مشروعيت و مقبوليت سياسي براي پايگاههاي سياسي و فرهنگي و حتي امنيتي آمريكا و عوامل آن در منطقه شده است. 4- نكته مهمتر اينكه؛ ظهور بيداري اسلامي باعث بهم خوردن ثبات و دوام و كار آمدي راهبردهاي غرب در سطح بينالمللي و مديريت بحرانها از ناحيه آمريكا و متحدانش شده است. به همين دليل است كه جبهه صهيونيزم مسيحي تمام امكانات خود را بسيج كرده است تا منازعه خود با جهان اسلام و جبهه مقاومت راكه در نقطه سرنوشتساز خود قرار دارد به نفع خود تغيير دهد. مقاومت نيز با علم به اين مقاصد غرب، چشمانداز آينده را در نتيجه فينال تقابل با غرب تصور ميكند. آسيبشناسي بيداري اسلامي حدود بيش از سه دهه است كه گروههاي منسجم و سازمان يافته كوچك و بزرگ تحت عنوان جنبشهاي اسلامي با استناد و با اعتقاد به اسلام، در سطح محلي، ملي، منطقهاي و بينالمللي ظاهر شدهاند. اين جنبش كه از حمايت و آگاهي جمعي در ميان توده جوامع خود نيز بهرهمند هستند، به سبب اقداماتشان كه آثار عميق و گستردهاي را به جاگذاشتهاند، به شدت در كانون توجه كشورها و متفكران قرار گرفتهاند. يكي از مسايل مطرح و حائز تامل در خصوص بيداري اسلامي، آسيبها و آفتهاي پيش روي آنها ميباشد كه چالشهاي بسياري را براي جريان اصيل بيداري اسلامي بوجود آورده است.بنيانگذار انقلاب اسلامي در بررسي آسيبها و آفتهاي بيداري اسلامي و جنبشهاي سياسي اسلامي به عنوان مصداق عيني آن به چند آسيب كليدي اشاره دارند: 1- تحريف اسلام و وارونه جلوه دادن مفاهيم ديني از سوي رهبران 2- گرايش سياسي حاكمان كشورهاي اسلامي (لائيك، ملي مذهبي، پادشاهي، دنباله رو قدرتهاي بزرگ) 3- تحجر و جمود فكري مقدس نماها 4- نخبگان و روشنفكر نماهاي مذهبي و ملي 5- تفرقه و اختلافات فرقهاي و قومي 6- آخوندهاي دنياطلب وابسته به قدرتها 7- تكيه به راديكاليسم و تملك به شيوههاي غير حقوقي و غير شرعي و طرفداري از شيوههاي تندروانه در پوشش عنوان جهاد كه موجبات تخريب چهره جريانهاي اصيل را فراهم آورده و هزينههاي بسياري بر جهان اسلام تحميل كرده است. 8- بيبرنامگي عمده جريانهاي اسلامي و نداشتن يك راهبرد و استراتژي تئوريزه شده، البته در مواردي شاهد حضور فكر راهبردي در ميان جريانهاي بيداري بودهايم كه حزبالله لبنان و جنبش مقاومت فلسطين از جمله آنها است كه فوائد بسياري را عايد خود و جهان اسلام كرده و تاثير بيسابقهاي بر شكلگيري معادلات سيال بينالمللي كه در حال گذار به نظم نوين داشته است. نتيجه: بيداري اسلامي به عنوان يك آگاهي جمعي با تكيه به اراده عمومي و متاثر از اسلام اصيل تحت مديريت جمهوري اسلامي در شرايط كنوني تبديل به رفتار سياسي شده و در شكل يك ايده سياسي سامان داده شده است. تئوريزه شدن اين نهضت فكري مرحله فرموليتهاي را پشت سر گذاشته و به عنوان يك مدل سياسي رخ نموده است. بطوريكه، شرايط كاملاً نسبت به يك دهه گذشته متحول شده است. وضعيت معادلات منطقه در حركت رو به پيش خود همسو با منافع و مصالح اسلام و جنبشهاي اسلامي و كاملاً به ضرر غرب در حال رقم خوردن است. اين موج فزاينده نهضتي، در صدد شكستن موانع نهضتي غرب براي رسيدن به يك جامعه دين محور است. اين مسئله خود باعث تغيير موازنه قدرت در ميان جنبشهاي اسلامگرا به نفع جنبش هاي شيعه با پشتوانه فرهنگي انقلاب اسلامي شده است.نكته پاياني اين كه جبههبندي فكري و رفتار سياسي جديدي ميان جريانها و جنبشهاي اصيل اسلامي با آمريكا و جريانهاي وابسته به آن شكل گرفته است و يك نوع نبرد فرهنگي و عقيدتي و سياسي با آمريكا رخ عيان كرده است. جهان اسلام با غرب در مرحله فينال نبرد به سر ميبرد، مرحلهاي سرنوشت ساز كه نياز به درايت و مديريت هنرمندانه و خود محور دارد. غرب به عنوان نماد جبهه ليبراليسم در مرحله نهايي كاركرد سياسي و مديريتياش قرار دارد و در نقطه اوج منحني رشد خود، دوران افول را آغاز كرده است. به همين دليل در موضع دفاع انفعالي قرار دارد اما نهضت بيداري، در آغاز خيزش انقلابي، به سرعت حركت تكاملي را تجربه ميكند، حركتي كه هر چه پيش ميرود به چشمانداز آرماني خود نزديك ميشود و به همين دليل بر عكس ليبراليسم و جبهه غرب كه در تمام ابعاد سياسي، فكري و حتي نظامي در موضع نقد و تهاجم مدبرانه قرار دارد، بيداري اسلامي با اعتماد به نفس تام در حال ويران سازي بنيادهاي سياسي و حقوقي دستساز غرب در منطقه است.
انقلاب اسلامي و بيداري اسلامي: تأثير گذاري و نمونه ها
نويسنده:مرتضي شيرودي چکيده هم اينک گروه هاي اسلامي، فعال ترين جريان هاي سياسي جهان اند. علت اين فعاليت که جدي و فراگير است، آگاه شدن مسلمانان از عقب ماندگي ها، توسعه نيافتگي ها و کاستي هاي موجود در جهان اسلام است. اين آگاهي ها، آنان را به جنبش و تلاش بيشتر در يک صدساله اخير، واداشت. اين تلاش، همان پديده ايي است که جنبش بيداري اسلامي اش مي نامند. حاصل اين جنبش، قيام ها، شورش ها و انقلاب هاي مختلف در سراسر جهان اسلام بود که گسترده ترين انقلاب برآمده از آن، انقلاب اسلامي است و البته انقلاب اسلامي خود نيز در يک گستره جهاني، به افزايش آگاهي و بيداري اسلامي دامن زد. ابعاد تأثير انقلاب اسلامي بر بيداري عميق و گسترده است. اين تأثيرات در دو بخش تأثيرات کلي (جهاني) و تأثير بنيادي بر برخي گروه هاي اسلامي چون حزب الله و حماس پديد آمد: واژه گان کليدي: انقلاب اسلامي، بيداري اسلامي، امام خميني (ره)، ايران، جهان اسلام، مسلمانان و جنبش هاي اسلامي. تعريف واژه بيداري اسلامي بيداري، ضد خواب است، پس بيداري به معناي حيات و زندگي است و نيز، به معناي فعال شدن هوش (آگاهي) به کار مي رود و اسلامي به مفهوم تبعيت و پيروي از آموزه هاي برترين دين الهي است در نتيجه، بيداري اسلامي به معني حيات برتر (برين) و يا تلاش براي دستيابي به آن است و اين حيات، تنها از دين، قابل دريافت است زيرا، خدا به انسان و جهان حيات بخشيده و پيامبرش ما را به آنچه زنده مي کند، فرامي خواند. به بيان ديگر، بيداري اسلامي زنده شدن دوباره در پرتو اسلام اصيل و تجديدحيات اسلام، معنا مي دهد که در پناه آن، استقلال، عدالت و همه آموزه ها و ارزش هاي متعالي الهي، بار ديگر زنده مي شود و يا حيات مي يابد. بيداري يا احياگري اسلامي نوعي اصلاح گري ديني است. البته نه آن اصلاح ديني اتفاق افتاده در غرب. در اصلاح ديني به معنا غربي، دين، به گونه ايي دستخوش تغيير و تبديل قرار مي گيرد و در پي آن، جامعه، ديني نمي شود بلکه دين به قلمرو شخصي رانده مي شود و در اين صورت، دين از عرصه حيات اجتماعي بيرون مي رود، اما بيداري و احياگري اسلامي، زنده داشتن انسان و حيات اجتماعي بر مبناي دين و به شيوه ديني است و به همين دليل، بايد غبار از سيماي دين زدوده شود و صورت و سيرت دين هويدا گردد که در نتيجه اين اقدام، دين به عرصه حيات آدمي باز مي گردد. به سخني ديگر، بيداري اسلامي مهجوريت زدايي از دين يا بازپيرايي و واخواني گزاره ها و آموزه هاي اسلامي از اجمال و ابهاماتي است که بر سيماي دين نشسته است. (1)بيداري اسلامي علي رغم تنوع گرايش ها و زيرمجموعه هاي متفاوت، پيام واحدي به تاريخ، مخابره مي کند که مضمون آن، اين است که: ما دوباره برگشتيم تا دين را به عرصه زندگي فردي و بيشتر اجتماعي انسان بازگردانيم. اين احساس و خودآگاهي، ترکيبي از دو حالت شرمندگي و عزم بازگشت به ارزش هاي ناب و راستين گذشته دارد. شرمندگي در برابر عزتي که زماني آن را در اختيار داشته و امروز مسلمين، فاقد آن اند و دوم، بازگشت به اسلام به اين معنا که عقب افتادگي ما ناشي از دور شدن از اسلام است. اگر بخواهيم دو عنصر شرمندگي و بازگشت را در يک عبارت، جمع بندي کنيم، مي گوييم معنا و پيام بيداري اسلامي اين است که به اسلام با همه جامعيت آن و با همه ابعادش بازگرديم تا عزت گذشته خويش را باز يابيم و يا به عزت بر بادرفته خويش دست يابيم. همان گونه که از معنايي که از بيداري اسلامي کرديم، هويداست، مراد از کلمه بازگشت، سيرارتجاعي و معکوس در تاريخ نيست. يعني مراد از بازگشت، بازگشت به گذشته و سير قهقرايي در تاريخ نخواهد بود بلکه منظور، بازگشت به اسلام، و توبه از کم توجهي به اسلام و يا جبران عمل نکردن کامل به دين نبوي است. يعني بيداري اسلامي مترادف است با اين سخن که ما فاصله عظيمي در عقيده، اخلاق و عمل اجتماعي از مفاهيم و ارزش هاي اسلامي گرفته ايم و براي جبران کوتاهي هاي چند قرن اخير، بايد تلاش کنيم. هدف از اين بازگشت، ساختن يک تمدن جديد اسلامي با به کارگيري ارزش هاي خالص اسلامي و تجربه انساني تمدن بشري است. نهضت بيداري اسلامي هدفش تشکيل يک تمدن محمدي جهاني است که در آن، عقلانيت با معنويت، قدرت با اخلاق، دانش با ارش و علم با عمل، جمع شود. (2) تاريخچه بيداري اسلامي از شرح گذشته آشکار است که پديده بيداري اسلامي، گرچه ريشه در تاريخ دارد ولي در دهه هاي اخير به دلايل مختلفي چون هجوم استعمار غربي به کشورهاي اسلامي، توسعه يافته است. با مرور تاريخ بيداري اسلامي، هم مي توان به ريشه هاي تاريخي بيداري اسلامي پي برد و هم علت توسعه اش را در دهه هاي اخير دريافت:با ظهور اسلام، تحولي عظيم در تاريخ بشريت اتفاق افتاد به آن علت که: اسلام، مرزهاي نژادي، جغرافيايي و قومي را در نور ديد و برپايه کلمه الله، جوامع مختلف را به يکديگر نزديک کرد و قدرت مادي و معنوي شگرف و شگفت در ايمان آورندگان، به وجود آورد. به ديگر بيان، در ميان اقوامي که نه بهره اي از فرهنگ و تمدن آن زمان برده بودند و نه داراي قدرت مادي بودند، هم عزت دنيوي پديد آورد و هم آنان را به اوج معنويت برد و نيز، در شرايطي که هم تمدن يونان در اوج شهرت بود و هم قدرت هايي مانند امپراتوري ايران و روم، ابر قدرت هاي زمان بودند، اسلام ظهور کرد و اولا، آن دو قدرت بزرگ را شکست داد و ثانيا، به سرعت در جغرافياي زمين گسترش يافت و ديري نپاييد که بخش بزرگي از دنياي آن زمان را در اختيار گرفت. اين گسترش تنها ارضي و مرزي نبود بلکه دنياي فکر و انديشه اسلامي به موازات قدرت نظامي و اقتصادي جهان اسلام توسعه پيدا کرد و اين زماني بود که اروپاي آن دوران، دوران افول خود را طي مي کرد ولي فرهنگ و تمدن اسلامي همچنان رو به توسعه بود و حتي زماني که تمدن اسلامي در اوج شهرت و معروفيت خود قرار گرفت، تمدن غرب در خواب فرو رفت به گونه اي که بعدها غربي ها آن دوران را «عصر تاريکي در غرب»، نام نهادند زيرا در برابر اسلام، آنان چيزي براي ارائه کردن به جهان بشريت نداشتند. جنگ هاي صليبي در حقيقت، پاتکي بودکه غرب به جهان اسلام زد، البته اگرچه در طول دو قرن نتوانست آنچه را که از نظر نظامي مي خواست به دست آورد اما با فرهنگ و ادبيات و پيشرفت هاي فکري جهان اسلام به تدريج آشنا شد و اين خودزمينه اي براي بيداري غرب شد. به همين دليل، دوره رنسانس به معني پشت سرگذاشتن عصرتاريکي و آغاز دوره اي بود که به آن، عصر روشنايي يا روشنگري گفته اند و بدين ترتيب، غربي ها تحت تأثير جهان اسلام و با الگوگيري از آن، کم کم توانستند پيشرفت هاي شگرفي در قرون هفده، هيجده و نوزده به وجود آورند. (3) در اين دوران به آهستگي جهان اسلام، تحت تأثير دو عامل به خواب فرو رفت و عقب افتاد: يکي استعمار و استثماري بود که غرب در اين منطقه مهم جغرافيايي و فکري انجام داد و دوم استبداد و انحرافي که حکام مسلمان به آن روي آوردند و اين دو، موجب دور افتادن مسلمانان از افکار و انديشه هاي ناب اسلامي گرديد و لذا ضربه مهمي بر پيکر جهان ا سلام وارد آمد و اين ضربه، در جنگ جهاني اول به اوج خود رسيد چون که امپراتوري عثماني عمدتا به همان دو دليل مهم، منقرض شد و مسلمانان پناهگاه اندکي که عثماني ها فراهم آورده بودند، از دست دادند و لذا تهاجمي دهشتناک از لحاظ نظامي و از لحاظ فکري از ناحيه غرب برجهان اسلام آغاز گرديد به طوري که مسلمانان بسياري از خودبيگانه شده، اسلام را عامل عقب ماندگي ديده و در نتيجه، نگاه به دست غرب کرده و اميدوار بودند که شايد با الگو گرفتن از غرب بتوانند عقب افتادگي خود را جبران کنند. البته در اين دوران، کساني هم بودند که با هوشياري و درک عميق از اوضاع و شرايط به اين نتيجه دست يافتند: علت عقب افتادگي و به خواب رفتن جهان اسلام، از اسلام نيست بلکه بدان خاطر است که مسلمانان از اسلام، دور شده و از انديشه هاي اسلامي فاصله گرفته اند. شخصيت هايي مانند سيدجمال الدين اسدآبادي، سيد قطب، حسن البنا و امثالهم در اين دوره و در اين راستا، تلاش زيادي کردند تا مسلمانان را از خواب سنگين بيدار و به آنها بفهمانند که علت شکست و عقب افتادگي آنها چيست و چه بايد کرد؟ (4) آخرين ضربه اساسي که جهان غرب برجهان اسلام زد شکل دادن و تحميل، صهيونيسم بود که بذر آن را در سرزمين مقدس فلسطين کاشت. در اين زمان، آرنولد توين بي-مورخ معروف انگليسي- در بررسي تمدن ها و در کتاب تمدن در بوته آزمايش، جمله بسيار مهم و تاريخي زير را مطرح ساخت: پان اسلاميزم خوابيده است اما اگر مستضعفين جهان بر ضدسلطه غرب، شورش کنند و تحت يک رهبري قرار گيرند، اين خفته، بيدار خواهد شد و بانگ اين شورش، ممکن است در برانگيختن روح نظامي اسلام مؤثر افتاد و اسلام بار ديگر براي ايفاي نقش تاريخي خود، قيام کند. (5) پيش بيني توين بي در 1979 با انقلاب اسلامي ايران که انفجار نور بود، به وقوع پيوست. انقلابي که با دست خالي و با تکيه بر شعار الله اکبر و بازگشت به ارزش هاي اسلامي در مقابل همه قدرت هاي بزرگ و ابر قدرت ها ايستاد و توانست نه تنها نقطه عطفي در تاريخ تحولات ايران بلکه نقطه عطفي در جهان اسلام و بلکه در کل تاريخ بشري گردد. با اين حرکت، آن خفته، بيدار شد و به سرعت در سراسر جهان اسلام گسترش پيدا کرد و لذا هنوز دو سالي از انقلاب نگذشته بود که در لبنان، عده اي جوان با ايمان، پنج قدرت بزرگ آن زمان را که در آن کشور پايگاه داشتند، يعني آمريکا، انگليس، فرانسه، ايتاليا و اسرائيل را به زانو درآورند و بدون دادن کوچک ترين امتيازي، آن ها را وادار به فرار کردند. در افغانستان، امپراتوري انگليس و روسيه به زانو درآمده و اينک مي رود که امپراتوري آمريکا را از حمله و اشغال افغانستان پشيمان نمايد و به شکست آن کشور در اين بخش از جهان منجر شود. در ترکيه، الجزاير و ساير کشورهاي اسلامي، تنها بانگي که امروز بلند مي شود نداي اسلام است و در فلسطين اشغالي، انتفاضه، امان را از صهيونيسم و امپرياليسم گرفته است. بنابراين بايد گفت: اگر آمريکا امروز به فکر تداوم اشغال عراق است، هدف واقعي اش ضربه زدن به بيداري و آگاهي اسلامي است. در واقع، مسلمان ها بيدار شده اند و بر پايه سه اصل مهم، کار بزرگ خويش آغاز کرده اند: يکي، «بازگشت به اسلام ناب» که همين اسلام، در دوره هاي اوليه اسلامي توانست بر قدرت هاي بزرگ آن زمان غلبه کند، دوم، «وحدت جهان اسلام» است که امپرياليسم و استعمار، ساليان دراز سعي کرد با تکيه براصولي چون تفرقه بينداز و حکومت کن، بين فرقه هاي مختلف اسلامي فاصله بيشتر بيندازد. سوم، «استکبار ستيزي» و مقابله با کفر و الحاد و طاغوت و طاغوتيان زمان است. اين حرکت يقينا به پيروزي اسلام و شکست استکبار ختم خواهد شد. (6) دليل تأثير گذاري انقلاب اسلامي بر بيداري اسلامي آن گاه که معمار انقلاب اسلامي مي کوشيد بر بيدارسازي مستضعفان و مسلمانان، تأثير بگذارد شايد اين سئوال به ذهن مي آمد که دليل يا دلايل اين تأثيرگذاري چيست؟ بخشي از پاسخ هايي که مي توان به اين پرسش داد عبارت است از:1. تأثير حضرت امام خميني از جنبه ديني و اسلامي بر مسلمانان، کم نظير است. در واقع، از قرن پانزدهم در دنياي غرب و شايد کمي پس از صدر اسلام، شخصيتي را نمي بينيم که اين همه، نهضت، افکار و عملکرد و راهبردهايش در سطح جهان اعم از جهان غرب (ليبراليسم)، جهان شرق(کمونيسم) و جهان اسلام تأثير گذاشته باشد. 2. حضرت امام خميني، مفهوم و معناي قدرت را در سطح جهاني و نيز، در جهان اسلام، تغيير داد. معناي قدرت قبل از او بر منابع مادي تکيه داشت ولي پس از انقلاب اسلامي ايران و تأثير گفتمان حضرت امام بر جهان، معنا و تعريف قدرت از تکيه بر منابع ملموس (مادي) به غيرملموس (معنوي) از قبيل عقايد، پرورش افکار و اطلاع رساني، تغيير پيدا کرد. 3. در شش و هفت قرن گذشته، يک شخصيت ديني و علمي که انقلابي کند، ملتي را رهبري نمايد، همه و حتي مخالفينش، مشروعيت و مقبوليت او را کاملا تصديق کنند، پيدا نمي شود. به واقع، مي توان گفت: مشروعيت سياسي و ديني امام در سطح جهان و در قرون اخير، بي نظير بود. 4. با مطالعه زندگي رهبران انقلاب هاي گذشته در مي يابيم، هيچ يک از آن ها به توانايي امام خميني در برقراري ارتباط صميمانه و مردمي با مستضعفين و ديگر طبقات اجتماعي در ايران نمي رسند. ايشان بيش از هر قائد ديگري موفق شد پيام هاي قرآني را به زبان بسيار ساده به توده هاي مسلمان برسانند و اين از اسرار بزرگ پيروزي انقلاب اسلامي به شمار مي رود. 5. زندگي بي تجمل وي، صلاحيت رهبري مستضعفان و توده هاي مسلمان را به او عطا کرد. درواقع، زندگي او همواره بي تجمل بود، چه موقعي که يک طلبه ساده بود و چه زماني که مرجع تقليد انسان هاي زيادي قرار گرفت و چه هنگامي که خود را در رأس هرم قدرت يافت. به علاوه، تقوا و اخلاق اسلامي امام خميني تأثيرات فراوان و شاياني بر مردم گذاشت و اين تأثير، انسان هاي زيادي را به حرکت و قيامي واداشت که امام منادي آن بود. 6. امام خميني، تنها به امت و تمدن اسلامي و نجات آن از گمراهي و عقب ماندگي مادي و معنوي نمي انديشيد بلکه در فکر نجات همه ملت ها و تمدن ها بود. پيامش به گورباچوف و پاپ، گوياي دغدغه انساني و الهي وي در نجات انسان ها و فرهنگ هايي بوده که از جاده هدايت انسان به سوي سعادت دنيا خارج شده بودند. اين دلسوزي، ارتباط و تأثير انقلاب اسلامي ايران را با ساير بخش هاي جهان برقرار کرد. 7. امام خميني هم بر جهان شمولي نهضت اسلامي مردم ايران تأکيد مي کرد و آن را تنها مختص مسلمانان جهان نمي ديد و هم، جهان شمولي الگوهاي غربي را رد مي نمود و توانايي الگوهاي غربي را براي هدايت و نجات انسان ها نمي پذيرفت در حالي که در ميان خيلي از متفکرين مسلمان، اين اصرار (جهان شمولي اسلام) و اين نوع نظريه پردازي (ناتواني غرب در اداره جهان) به چشم نمي آيد. 8 . امام خميني تنها متفکري است که در پنج يا شش قرن گذشته، هم به نظريه پردازي انقلاب پرداخته و هم خود آن را به عرصه عمل آورد. در تاريخ، کمتر مي يابيم انسان هايي را که هم بنويسند که چرا بايد انقلاب کرد و بعد خودشان، به ميدان آيند و انقلابي که از آن سخن مي گفتند را پديد آورند. در حقيقت، پيوندنظر و عمل، از دلايل مهم موفقيت امام در برپايي انقلاب اسلامي است. بهره گيري از دين در ايجاد تحول اجتماعي مطلوب، مهم ترين تأثير امام خميني و انقلاب اسلامي بر جنبش گران مسلمان و جنبش بيداري اسلامي است در حالي که قبل از آن و در فضاي جهاني آلوده به ليبراليسم و کمونيسم، کمتر کسي به توانايي دين در پديدآوري انقلاب ايمان داشت. برپايه تکيه بر دين به مفهوم فوق، مفاهيم قدرت دگرگون شد و مسلمانان دريافتند، قدرت واقعي تکيه بر قدرت الهي است و به کمک چنين قدرتي مي توانند به حقوق از بر بادرفته خويش دست يابند. امام خميني به همه مسلمانان و مستضعفان نشان داد، تنها راه دست يابي به: مشروعيت و مقبوليت، زندگي ساده و بي آلايش، نجات انسان ها و تمدن ها و ترکيب سازي نظر و عمل برپايه آخرين دين الهي يعني اسلام است. ديني که براي همه جهان، برنامه و سخن دارد. به ديگر سخن، امام و انقلاب اسلامي ايران به خوبي نشان دادند که تنها راه نجات، اسلام است و اين رمز بيدارشدن جهان خسته از گمراهي مسلک ها و مکتب هاي ديگر است. (7) مصداق هايي از تأثير انقلاب اسلامي بر مسلمانان تأثير انقلاب اسلامي بر بيداري اسلامي را مي توان در دوبخش کلي و نشانه هاي عيني اين تأثير، پي گرفت. در بخش نخست، تنها به اثرات کلي انقلاب اسلامي بر هوشياري مسلمان ها اشاره مي شود و در بخشي که در پي آن مي آيد، به دو نمونه عيني، ملموس و پراهميت از آثار انقلاب اسلامي بر جهان اسلام مي پردازيم:هوشياري سياسي: مردان و زنان ايراني از فرداي پيروزي انقلاب اسلامي، با ايجاد تشکل هاي متعدد انقلابي و خودجوش، باب ارتباط و تبادل آراء و تجارب با مردان و زنان در اقصي نقاط جهان را گشودند که اين مسأله خشم و عکس العمل هاي تند بسياري از محافل غربي را که در شعار و به دروغ، زن ومرد را فعال و حاضر درصحنه مي خواهند، برانگيخت، ولي مردان و زنان ايراني بدون توجه به برآشفتگي غرب، به صدور معنوي بيداري اسلامي ادامه دادند تا حدي که به برکت الگويي که انقلاب اسلامي براي حضور سياسي اجتماعي مرد و زن ارائه داد، زنان لبناني به تدريج به آن چه از دست داده بودند، آگاه شدند و آن را بار ديگر به دست آوردند. جنبش بيداري، زنان لبناني را به کلاشينفک و بمب هاي مولوتوف مجهز کرد. زنان ترکيه هم برپايه بيداري اسلامي، هم حجاب را مي خواهند و هم حضور در اجتماع را، يعني اين که زنان نمي خواهند با پذيرفتن حجاب از جامعه قطع رابطه نمايند و اين همان الگويي است که زنان انقلابي ايران به آن عمل مي کنند. به همين روي، يک زن بنگالي بر آن بود: زنان مسلمان چيزي بيشتر از برابري مورد نظر قوانين غربي مي خواهند و آن، اين که خواهان ايفاي نقش فعال تري در زندگي مذهبي و اسلامي هستند. (8) تنها زنان مسلمان نبودند که هويت اسلامي خود را در پرتو بيدارگري زنان انقلابي ايران بدست آوردند، بلکه ده هاهزار زن غربي در نهضت اخلاقي واسلامي، ارزش هاي الهي اسلام را کشف کردند و به دين اسلام مشرف شدند. مثلاً نزديک به صدهزار نفر آلماني به اسلام گرويدند که بيش از نيمي از آنان را زنان تشکيل مي دهند، اين زنان همانند زنان تازه مسلمان شده آمريکايي، نه تنها مراقب پوشش اسلامي خود هستند، در خورد و خوراک خود براساس اسلام هم دقت بسيار دارند، آن ها حتي در انتخاب برنامه هاي تلويزيوني، دقت زياد به خرج مي دهند، و اغلب از تماشاي سريال هاي ضداسلامي يا ضداخلاقي اجتناب مي کنند. فعاليت اجتماعي اين دسته از زنان، معمولاً با گرد آمدن در خانه هاي همديگر شکل مي گيرد و گاه هم در بيرون از خانه، به دور هم جمع مي شوند و به فعاليت هاي اجتماعي مي پردازند. (9) برخي در تأثير بيداري زنان ايراني بر بيداري اسلامي شک دارند! اما يک روزنامه آلماني در اين باره توضيح قابل قبولي ارائه مي کند و آن که نخست مي پرسد چرا بيداري اسلامي و جنبش حمايت از حجاب در دهه 1340/1960 اتفاق نيفتاد؟ سپس پاسخ مي دهد: مگر اين که بگوييم: حجاب زنان ايران پس از انقلاب اسلامي در اين امر دخالت دارد. در واقع، در تمام دنيا به ويژه در دنياي اسلام، زنان در عرصه زنده کردن ارزش هاي اسلامي، در حال ايجاد و اداره جنبشي هستند که قبل از انقلاب 1357/1979 ايران وجود نداشت. (10) پوشش اسلامي: تصويري که انقلاب اسلامي از زن ارائه کرده دو تأثير مهم برجاي گذاشته است: اول-جهان دريافته که زن مسلمان ايراني خانه نشين و منفعل نيست. خانم دانيل کشار، مدير جشنواره مونتران کانادا معتقد است: تصويري غلط از حضور زنان در ايران، در ذهن خارجي ها وجود دارد، غربي ها فکر مي کنند که زنان ايراني فعاليت هاي اجتماعي چنداني ندارند و در خانه نشسته اند و تنها به خانه داري مشغولند. (11) دوم- نگرش هاي منفي درباره زنان مسلمان کاهش يافته است. روزنامه نيويورک تايمز، جنبش احياي حقوق اسلامي زنان در کنفرانس جهاني پکن را جالب ترين پديده کنفرانس معرفي مي کند که همه جهانيان را سخت تأثير قرار داد، زيرا سخنراناني که از دنياي اسلام آمده بودند، حرف هاي مهمي درباره زنان داشتند. (12) در اين کنفرانس، سخنراني يک زن محجبه ايراني، تأثير خوبي در تبليغ حجاب اسلامي برجاي گذاشت. قضاوت ها هم نشان مي دهد که حضور جهاني زنان مسلمان ايران، توأم بامؤفقيت بوده است. به اين جهت مي توان گفت: تلاش زن ايراني ارائه يک الگوي مشارکت سياسي- اجتماعي براي زن مسلمان به جهانيان مؤفق بوده است. در واقع، آنچه در ايران پس از انقلاب اسلامي درباره زنان رخ داده، در همه جاي جهان تأثير گذارده است.(13) دنياي اسلام تأثير بيشتري از الگوي حجاب اسلامي زنان پس از انقلاب ايران پذيرفته است از جمله: ليز مارکوس از فعالان جنبش هاي زنان در اندونزي، بي پرده اعتراف مي کند که به دليل اثرمستقيم پخش تصاوير زنان ايراني در رسانه هاي گروهي کشورش، رويکرد به حجاب اسلامي در اندونزي بيشتر شده، و به تدريج تقليد از حجاب بانوان ايراني در آن کشور به يک مد تبديل گرديده و اينک در ميان دانشجويان دانشگاه ها هواداران بسيار يافته است. زنان انقلاب اسلامي، الگويي براي زنان ترک شده و آنان را به شعارگويي در خيابان ها و رعايت پوشش اسلامي واداشته و پوشش زنان انقلابي و مسلمان ايران، برلباس و به ويژه روسري در بعضي از کشورهاي خليج فارس، به طرزعميقي تأثير گذاشته است. در سال هاي اخير، تعداد دانشجويان با حجاب در دانشگاه هاي اردن افزايش يافته. در ليبي، گرايش به حجاب اسلامي بالا رفته، بنابراين، ترديدي نيست که حجاب اسلامي ايراني به اقصي نقاط جهان و به ويژه به کشورهاي اسلامي سرايت کرده است. (14) حجاب زنان جمهوري اسلامي به شيوه هاي مختلفي به وراي مرزهاي ايران رفته است مثلا، بخشي از اشاعه حجاب ايران اسلامي از طريق فيلم هاي ايراني اتفاق افتاده. رويکرد به حجاب اسلامي ايراني به استثناي تبديل آن به نماد مخالفت با دولت ها، دلايل ديگري هم دارد. از جمله: 1.پوشش اسلامي به عنوان اظهار وجود فردي يا مذهبي به کار مي رود. 2. توجه به حجاب، پاسخي به جنبش افسار گسيخته فمينيسم است. 3. مهم تر از همه، دليل گرايش و تشرف به دين مبين اسلام است. (15) اتحاد دين و دولت: هم اينک جريان هاي اسلامي در ميان مهم ترين گروه هاي سياسي جهان قرار دارند. اين جريان هاي مذهبي بر اين اعتقادند که سياست و مذهب ارتباط تنگاتنگ دارند. اين باور متأثر از انقلاب اسلامي و نظريه جهان گرايي (تلفيق دين و سياست در عرصه جهان) آن است. به بيان ديگر، از همان روزهاي نخستين پس از پيروزي انقلاب اسلامي، امام خميني (ره) نظريه جهان گرايي انقلاب اسلامي را به عنوان عالي ترين و وسيع ترين مظهر پيوند دين و دولت مطرح ساخت، وي براساس آموزه هاي ديني بر اين باور بود: اراده مستضعفان سرانجام رهبري جهان را از آن خود خواهد کرد و حتي نويد مي داد وعده خداوند بزودي تحقق خواهد يافت و محرومان جايگزين ثروتمندان خواهند شد. البته پي بردن به همراهي اسلام گرايي (دين) و جهان گرايي (سياست) در انديشه انقلاب اسلامي دشوار نيست، زيرا تأسيس امت اسلامي که مي تواند مسلمانان را صرف نظر از مليت هاي مختلف و نيز موانع قومي و سياسي موجود به هم پيوند دهد، از ارزش ها و شعارهاي انقلاب اسلامي است. به علاوه، تأکيد شديد انقلاب اسلامي به لزوم پيروي از کتاب مقدس (قرآن) و احکام اسلامي، شکي باقي نمي گذارد که اين انقلاب در پي تحکيم جهاني اصول بنيادين اسلام در جهان است. اين پديده همان چيزي است که برخي از انديشمندان مغرب زمين و از جمله هنيز در سال 1372/1993 آن را تجديد حيات جهاني مذهب (اسلام) خواند. (16) به همين دليل (پيوند خوردن مذهب و سياست اسلامي ناشي از انقلاب اسلامي) دولت آمريکا را بر آن داشت که اسلام گرايي را از عوامل نابودي جهان بخواند و فعالان مسلمان را به عنوان رزمندگان شرکت کننده در جنگ اسلام و غرب نام ببرد. رهبران اتحاد جماهير شوروي سابق نيز، ترس خويش از اسلام انقلابي الهام يافته از انقلاب اسلامي و خطرات آن براي شوروي را کتمان نمي کردند. بعدها يک تحليل گر آمريکايي از اين پديده به عنوان انتفاضه جهاني يادکرد. نتيجه اين که هم شرق و هم غرب، اسلام سياسي (اسلام معتقد به پيونددين و سياست (ناشي از انقلاب اسلامي را خطر عمده اي براي منافع خود تلقي مي کردند، و هر کدام تلاش بسياري انجام دادند تا از دشمنان جنبش هاي اسلامي سياسي حمايت نمايند. (17) هانتينگتون در سال 1372/1993 و در راستاي تعميق بخشي به دشمني غرب با اسلام سياسي ملهم از انقلاب اسلامي، گفت: بلوک اسلامي که خود را رقيب کهن غرب مي داند، خطر اصلي فرا روي نظم جهاني آمريکايي است که آن، دين و سياست را جدا از هم مي خواهد. در واقع بعد از مرگ کمونيسم، اسلام شخصيت اصلي سناريوي موردنظر آمريکاست. توجه شديد غرب به اين مسأله، ظاهراً پاسخي است به آنچه که يک انديشمند غربي (لارونس) در 1369/19990 آن را ضربه انقلاب 1357/1979 ايران، شگفتي پديده امام خميني (ره) و دشواري کنار آمدن با اسلام گرايي ايراني مي خواند. از اين رو، پس از انقلاب اسلامي مطالعات وسيعي براي شناخت رابطه بين دين و دولت الهام گرفته از انقلاب اسلامي در آمريکا به مرکزيت دانشگاه شيکاگو آغاز گشته است، ولي با هم ديدن و با هم خواستن دين و سياست در دنيا (مانند جنبش الهيات رهايي بخش آمريکاي لاتين) و به ويژه دنياي اسلام (مانند حماس و حزب الله) به يک ارزش نهادينه تبديل شده است. (18) اسلام مبارز: انتخاب اسلام براي مبارزه با استبداد و استکبار تحول نويني است که پس از انقلاب اسلامي روي داده، قبل از آن حتي گروه هاي سياسي ايراني چون مجاهدين ديروز و منافقين امروز هم اعتقاد راسخي به توانا بودن اسلام در مبارزه عليه بيداد و ستم نداشتند، ولي انقلاب اسلامي ايران نشان داد که اگر اسلام به خوبي تفسير شود مي تواند مقتدرترين رژيم هاي سياسي را براندازد و خود بر جاي آن، حکومت تشکيل دهد. اين حادثه مورد توجه گروه ها و جنبش هايي قرار گرفت که سال ها به دليل انتخاب ناسيوناليسم، کمونيسم و غيره توفيقي در نيل به آرمان هاي سياسي خود نداشتند. در اين ميان، تبديل مسأله فلسطين از يک مسأله ناسيوناليستي و کمونيستي به يک مسأله اسلامي يکي از برجسته ترين ارزش هايي است که از انقلاب اسلامي به عاريت گرفته شد. بنابراين، جنبش فلسطين براي خارج شدن از بن بست مبارزه بي فرجام خود، اسلام را تنها ابزار کارآمد يافته است. (19) نشانه هايي بسيار از تغيير ماهيت جنبش فلسطيني در دست است که انتفاضه و شيوه و ويژگي هايش، يکي از آن هاست. وابسته نبودن انتفاضه به گروه هاي داخلي و کشورهاي خارجي و جايگزيني يک روش همه جانبه سياسي، نظامي و فرهنگي به جاي روش هاي صرفاً مسلحانه يا مسالمت آميز، تبديل مساجد به منابع الهام بخش روحيه جهاد اسلامي، ثبات و پيوستگي مبارزان، گسترش شمار مساجد به عنوان پايگاه مجاهدان، توسعه حضور مردم در نمازهاي جمعه و جماعات، انتشار مجله هاي انقلابي چون الطليعه الاسلاميه و حمله مکرر به مشروب فروشي ها در دو دهه اخير، از نشانه هاي رويکرد جنبش فلسطين به اسلام و به کارگيري شيوه هاي اسلامي انقلاب اسلامي ايران در مبارزه عليه اسرائيل است. (20) در واقع و همان گونه که يکي از رهبران فلسطيني گفته است، انقلاب ايران بود که عصر جديدي را پيش روي جنبش فلسطين گشود و باعث شد که مسأله فلسطين تنها از زوايه اسلام نگاه شود. (21) بنابراين، انقلاب اسلامي برداشتي نوين از اسلام و قرآن در جهان، جوامع اسلامي و نيز در جامعه سنّي مذهب فلسطين پديدآورد؛ چنان که روند مخالفت با دولت هاي فاسد و سرکوب گر را تشديد کرد، به مبارزه آشکار عليه آموزه هاي تحميلي ضدديني دامن زد، تلاش براي تحقق برابري و عدالت اجتماعي را شدت بخشيد، واکنش مسلمانان در برابر غرب و غرب زدگي را توسعه داد و يأس و نااميدي سال هاي پاياني دهه 1350/1970را از عرصه مبارزه حذف کرد. در واقع انقلاب اسلامي ايران، اين حقيقت را که اسلام راه حل و جهاد وسيله اصلي است، به سرزمين هاي در حال مبارزه بااستکبار به ويژه کشورهاي مسلمان برد. (22) گرايش به حکومت الله: نظام اسلامي که پس از پيروزي انقلاب اسلامي در ايران شکل گرفت. به صورت بهترين الگو و مهم ترين خواسته سياسي مبارزان مسلمان درآمد. يکي از رهبراي مجلس اعلاي انقلاب اسلامي عراق در اين باره گفت: «ما در آن موقع مي گفتيم، اسلام در ايران پيروز شده است. و به زودي و به دنبال آن در عراق نيز پيروز خواهد شد. بنابراين، بايد از آن درس بگيريم و آن را سرمشق خود قرار دهيم. (23) به بيان ديگر، انقلاب اسلامي، حدود 5/1 ميليارد مسلمان را برانگيخته و آنان را براي تشکيل حکومت الله در کره زمين به حرکت درآورد اين رويکرد، در اساس نامه، گفتار وعمل سياسي جنبش هاي اسلامي سياسي معاصر به شکل هاي مختلفي مشاهده مي شود. علاقه جنبش گران مسلمانان به ايجاد حکومت اسلامي به صورت هاي مختلف ابراز شده است، از جمله: بعضي از گروه هاي اسلامي با ترجمه کتاب حکومت اسلامي امام خميني (ره) (مانند اليسار الاسلامي مصر) و يا با تأکيد بر جمهوري اسلامي ايران به عنوان تنها راه حلّ (مانندجبهه نجات اسلامي الجزاير) علاقه مندي خود را براي برپاکردن يک حکومت اسلامي ابراز کرده اند. آيت الله محمدباقر صدر هم قبل از شروع جنگ تحميلي در تلاش بود، رژيم عراق را سرنگون و يک حکومت اسلامي به شيوه حکومت ايران يعني جمهوري اسلامي برپايه ولايت فقيه به وجود آورد. (24) برخي از حرکت هاي ديگر اسلامي براساس اصل ولايت فقيه و قبول آن، از رهبري انقلاب اسلامي ايران پيروي مي کنند. اين دسته از گروه ها، دو گونه اند. دسته اي که از لحاظ عقيدتي و مذهبي خود را مقلد رهبري انقلاب اسلامي ايران مي دانند (مانند جنبش امل در لبنان)، و دسته اي که هم از لحاظ سياسي و هم مذهبي، از رهبري انقلاب اسلامي ايران تبعيت مي کنند (مانند جنبش حزب الله لبنان) (25) گروه ها و سازمان هاي اسلامي مذکور، براي نيل به يک نظام مبتني بر اسلام، شيوه و روش هاي مختلفي را در پيش گرفته اند.برخي تنها از طريق اقدام قهرآميز و مسلحانه (مانند حزب الله حجاز) و کودتا (مانند جنبش آزادي بخش بحرين) درصدد نابود کردن رژيم حاکم بوده اند. در نقطه مقابل، گروه هايي قرار دارند که شرايط فعلي را براي دست زدن به اقدامات مسلحانه مساعد نمي دانند، و با توسل به شيوه هاي مسالمت آميز از قبيل شرکت در انتخابات پارلماني در پي تغيير نظام موجود هستند (مانند حزب اسلام گراي رفاه)، اما گروه هاي ديگر هم وجود دارند که به هر دو روش پايبندند، جنبش حزب الله نمونه اي از اين گروه هاست که در مصاف با اسرائيل و حکومت ماروني لبنان و به منظور استقرار حکومت اسلامي به دو روش متمايز و در عين حال مکمل هم، يعني جنگ با اسرائيل و شرکت در انتخابات مجلس لبنان روي آورده است. (26) ساختار شکني: انقلاب اسلامي به صور مختلف به شکستن ساختارهاي پذيرفته شده جهاني دست زد و البته ساختارهاي ارزشي جديدي را جايگزين ساختارهاي پيشين ساخت از جمله: 1. در انديشه مدرنيته براي انتقال جامعه سنتي به مدرن، نياز به يک الگوي جهاني توسعه است، آن هم الگويي برگرفته از غرب پيشرفته، چرا که عقيده بر اين است که دنياي غيرعربي توسعه نيافته، بايد همان مسير توسعه در اروپا و آمريکا را بپيمايد.در اين ديدگاه، نوسازي با دنيا گرايي مفرط همراه است، و ليکن انقلاب اسلامي ايران مباني توسعه غرب را زير سؤال برد و فرياد زد که دين جهت گيري هاي اساسي درخصوص اداره دنيا دارد، البته دنيا گرايي افراطي را هم نفي مي کند. به اين صورت، انقلاب اسلامي ارزش نويني در توسعه آفريد و آن که در توسعه اجتماعي نيازي به توسل به الگوهاي غربي نيست. (27) 2. انقلاب اسلامي در ايران در دوره اي به وقع پيوست که جريان پست مدرنيسم در ربع آخر قرن بيستم وارد مرحله جديدتر و جدي تر شده بود. از اين رو، انقلاب اسلامي ايران به عقيده بسياري از انديمشندان غرب، انقلابي است پست مدرنيسمي و لذا در روايت و تفسير مدرنيته جاي نمي گيرد، و به همين دليل انقلاب اسلامي ايران مورد توجه افرادي چون ميشل فوکو، دريدا، ادوارد سعيد و... قرار گرفت. فوکو از جمله اشخاصي بود که يافته هاي نظري خود را در انقلاب اسلامي پيدا کرد و با چاپ مقالاتي، حمايت خود را نسبت به مردم ايران نشان داد، اگرچه با حملات شديد و تند هم کيشان خود مواجه شد. به نظر او، انقلاب اسلامي در ايران در قالب معنويت گرايي سياسي جاي مي گيرد، در حالي که عنصر معنويت قرن ها در غرب به فراموشي سپرده شده بود. بنابراين، انقلاب اسلامي نظريه و ديدگاه انقلاب، توسعه و زندگي بدون معنويت را طرد کرد و فضاي ارزشي تازه اي را به روي جهانيان گشود که در آن هم به نيازهاي مادي و هم به نيازهاي معنوي پاسخ داده مي شود. (28) 3. تا پيش از پيدايش انقلاب اسلامي، عمده نظريه پردازان انقلاب در عرصه جامعه شناسي گرايش هاي ساختار گرايانه داشتند يعني سعي مي کردند با بررسي گزينشي انقلاب ها به يک تئوري دست يابند تا بتوانند هر انقلاب جديدي راکه در جهان رخ مي دهد با آن تبيين و حتي وقوع آن را پيش بيني کنند. خانم اسکاچپول از جمله اين نظريه پردازان بود که انقلاب ها را عملي اتفاقي و خارج از اراده مي دانست و بر آن بود که انقلاب ها مي آيند نه اين که ساخته شوند، ولي با پيروزي انقلاب اسلامي ايران که با نوعي ساخته شدن و معماري همراه بود، اسکاچپول تئوري خود را به اين صورت تغيير داد: انقلاب ها مي آيند نه اين که ساخته شوند الا انقلاب اسلامي ايران. بنابراين، انقلاب اسلامي نشان داد که مي توان يک پديده عظيم اجتماعي را ساخت و اين ارزش و مفهوم جديدي است که انقلاب اسلامي به عرصه تئوري پردازي جهاني عرضه کرده است. (29) توجه به مردم: مردمي بودن که يکي از ويژگي ها و ارزش هاي انقلاب اسلامي ايران است، در جنبش ها و گروه هاي سياسي متعددي راه يافته است. به عبارت ديگر، اين جنبش ها و گروه ها دريافته اند که اسلام توانايي بسيج توده هاي مردم را دارد. بر اين اساس، آن ها از اتکاء به قشر روشنفکر به سوي اتکاء به مردم گرايش يافته اند و در نتيجه، پايگاه مردمي خود را گسترش داده اند. به عقيده دکتر حسن الترابي رهبر جبهه اسلامي سودان، انقلاب اسلامي انديشه کار مردمي و استفاده از توده هاي مردم را به عنوان هديه اي گران بها به تجارب دعوت اسلامي در جهان اسلام عطاء کرد. گرايش به انديشه کار مردمي، جنبش هاي اسلامي را به سوي وحدت طلبي مذهبي و قومي سوق داده، اين امر، جنبش هاي اسلامي سياسي را از اختلاف و تفرقه دورتر ساخته و آن ها را از تشکيلات قوي تر، امکانات وسيع تر، حمايت گسترده تر و پايداري بيشتر برخوردار ساخته است. (30) نمونه هاي فراواني از رويکرد به مردم در حرکت هاي سياسي ديده مي شوند از جمله: مردم مسلمان ترکيه قبل از کودتاي 1359 آن کشور، به خيابان ها مي ريزند و شعار استقلال، آزادي و جمهوري اسلامي سرمي دهند. مردم کشمير در راهپيمايي دويست هزار نفري 1369 شعار الله اکبر و خميني رهبر را مطرح کردند. جنبش جهاد اسلامي فلسطين بر آن است که فلسطيني ها همان شعارهايي را سر مي دهند که انقلاب اسلامي منادي آن بود. آن ها فرياد مي زنند، لا اله الا الله، الله اکبر، پيروزي از آن اسلام است. در واقع، آن ها شعارهاي قوم گرايي و الحادي را به دور انداختند، و شعارهاي انقلاب اسلامي را برگزيدند. در سال هاي 1369 تا 1379 در خيابان هاي کيپ تاون آفريقاي جنوبي شعار و نداي الله اکبر، بسيار شنيده شد. اين يادآور و مؤيد اين کلام رهبري انقلاب است که فرياد الله اکبر مردم الجزاير بر پشت بام ها درس گرفته از ملت انقلابي ايران است. (31) انقلاب اسلامي به جهانيان آموخت که مشروعيت نظام سياسي بايد بر آراي واقعي مردم استوار باشد و به همين دليل بودکه اصل خود را به رفراندوم گذاشت، به رفراندوم گذاشتن يک نظام نه فقط عملي شگفت، شجاعانه و سخني نو، بلکه انديشه اي بود که فراتر از دموکراسي غربي است، و از اين رو، به عنوان بديلي براي جهان خسته از ليبرال دموکراسي مطرح شد. در اين انقلاب، حتي مردم خبرگاني را انتخاب مي کنند تا تدوين قانون اساسي براساس رأي مردم باشد. پس از تدوين نيز، مراجعه به آراي عمومي صورت مي گيرد. در اوج جنگ، امام اجازه نداد مجلس از حق قانوني خود براي استيضاح اولين رييس جمهور بگذرد. اجازه نداد پيشنهاد دولت نظامي به بهانه بهتر اداره شدن جنگ، طرح گردد، حتي اجازه نداد، مخارج انتخابات در دوران جنگ و تحريم، صرف جبهه ها شود، بلکه برعکس توصيه مي کردکه حتي يک روز، انتخابات مجلس شورا، مجلس خبرگان، و رياست جمهوري عقب نيفتد. (32) اشاعه دين گرايي: در قرن بيستم کمونيسم و فاشيسم به عنوان ايدئولوژ هاي سکولار در جهان مسيحيت سر برآورند. با شکست فاشيسم (1324/1945) و کمونيسم (1370/1991) نظام دموکراسي ليبرال خود را بي رقيب مي ديد اما انقلاب اسلامي نظام ليبرال دموکراسي را به چالش طلبيد، زيرا رويداد انقلاب اسلامي، نظريه و تئوري پردازان ليبرال را که معتقد بودند با دين نمي توان به اداره حکومت پرداخت، و دين به تدريج اهميت سياسي اجتماعي خود را از دست مي دهد باطل ساخت. به بيان ديگر، مدت ها در رابطه با توسعه اجتماعي اعتقاد بر اين بود که ملت ها به طور اجتناب ناپذير، همزمان با مدرن شدن، سکولار مي شوند، ولي انقلاب اسلامي پيام و ارزش ديگري را به جهان عرضه کرد و اين که: اجتماعاتي که به دين روي مي آورند لزوماً همگام با مدرن شدن سکولار نمي شوند. به همين دليل، هم در کشورهاي پيشرفته، و هم در جهان در حال توسعه، تعداد کثيري از مردم معتقد شدند که مي توانند با عضويت در گروه ها و يا جنبش هاي ديني، به طور مؤثرتري هدف هاي مادي و معنوي خود را دنبال کنند. (33) بعد از جنگ سرد، ارزش هاي دين گرايانه و دين مدارانه انقلاب اسلامي گسترش يافت زيرا وسايل ارتباط جمعي چون تلگراف، تلفن و به ويژه، اينترنت، فاکس و ايميل توسعه بيشتري پيدا کرد. به ديگر بيان، توسعه وسايل ارتباط جمعي موجب شد ارتباط بين جوامع ديني و غيرديني و همکاري فعالان مذهبي و سياسي، بيش از گذشته، در زمينه هاي مختلف افزايش يابد. همچنين پس از جنگ سرد مسائل جديدي در روابط بين المللي پديد آمد از جمله محيط زيست، داروهاي غير مجاز، ايدز، تروريسم، مهاجرت، پناهندگان و حقوق بشر، که مي طلبيد براي حل و فصل آن ها، حضور فعالان ديني با هدف هاي سياسي تشديد گردد، در حالي که دموکراسي آمريکايي توانايي خود را در حل آن ها نشان نداده است. (34) به هر روي، اکنون دين در ابعاد ملي، فراملي (منطقه اي و جهان) تأثير قدرتمندي بر روي سياست دارد. مهم ترين جلوه اين تأثير را بايد در بنيادگرايي ديني ديد. بنيادگرايي ديني، دلالت بر نوعي استراتژي ويژه دارد که مي کوشد هويت دين داران را به عنوان يک جمعيت و يک گروه در مقابل کساني که مي خواهند آنان را به محيط غيرديني بکشانند، حفظ کند. گاهي اوقات يک چنين حالت تدافعي ممکن است تغيير يابد و منجر به نوعي تهاجم سياسي شود که در جست و جوي تغيير نظام هاي سياسي يا اجتماعي و اقتصادي موجود است. البته مجدداً بايد تأکيد کرد که پديدار شدن دوباره دين، يا بنياد گرايي ديني به عنوان يک اصل در سياست جهاني، بيش از آن که به فروپاشي کمونيسم مربوط باشد، به پيروزي انقلاب اسلامي برمي گردد. از اين رو، به راه انداختن جنگ عليه ايران که از حمايت کشورهاي قدرتمند جهان برخوردار بود را مي توان اقدامي براي سرکوب يا متوقف کردن بنيادگرايي اسلامي برآمده از انقلاب اسلامي تلقي کرد. (35) الگوي جديد جهاني: انقلاب اسلامي در پي ايجاد يک نظم جهاني برپايه دين در جهان است. براي تحقق اين هدف، دو استراتژي (راهبرد) را در پيش گرفته است. نخست از يک برنامه کوتاه مدت پيروي مي کند که در اين برنامه کوتاه مدت، مي کوشد به مقابله با جهاني سازي به مفهوم غربي بپردازد و در اين راه، در تلاش است از به ثمر نشستن يک نظام جهاني مبتني برآموزه ها و ارزش هاي غربي جلوگيري نمايد. دوم، انقلاب اسلامي در مواجهه با جهاني شدن غربي و يا تضعيف آن، از يک برنامه درازمدت تبعيت مي کند و اين برنامه عبارت است از اين که: ارائه تصويري از نظام مطلوب و آرماني اسلامي تا ميل به آن را در مسلمانان و مستضعفان جهان برانگيزد. انقلاب اسلامي اميدوار است با برانگيختن اشتياق به حکومت جهاني مطلوب (اسلامي) انگيزه و حرکت در مشتاقان براي دسترسي به آن آغاز شود. (36) نظام جهاني مطلوب از ديدگاه انقلاب اسلامي نظامي است که برپايه موارد زير شکل مي گيرد:1. اين نظام که از آن مي توان به نظام امامت و امت يادکرد، به زعامت امام معصوم تشکيل مي شود و امام با بهره گيري از علم لدني، معصوميت و امدادهاي الهي، نظام عادلانه اي را پايه ريزي مي کند، و تمام ملت ها، دولت ها و سرزمين هارا تحت عنوان امت واحد به سوي کمال انساني و اسلامي سوق مي دهد. نتيجه اين که رهبري و امامت در نظام جهاني اسلام، از سه ويژگي برخوردار است: اولاً، رهبري، مرکز و قطب ايدئولوژيک، عقيدتي، معنوي و سياسي به شمار مي رود. ثانياً، رهبر، منتخب پيامبر و يا منتخب مستقيم (نواب خاص) و غيرمستقيم (نايبان عام) امام معصوم است. ثالثاً، تحقق امامت و به دست گرفتن حکومت، به پذيرش مردم مرتبط است. (37) 2. جامعه جهاني اسلامي، جامعه اي همگون و متکامل، شکوفا کننده استعدادها و ارزش هاي انساني و واجد استقلال کامل است و نيازهاي بنيادين و اساسي فطري و روحي انساني در آن برآورده مي گردد. در اين نظام از تعلقات ملي و ناسيوناليستي، رهبري هاي چندگانه و مزورانه، قانون هاي خطاپذير بشري، حاکميت شيطان و انسان که ريشه منازعات، مخاصمات، مشاجرات و مجادلات جهان است، خبري نيست. (38) 3. انسان ها در جامعه جهاني مطلوب اسلامي، اعمال حاکميت و قانون خدا بر روي زميني را به رهبر برگزيده و الهي وا مي گذارند. در واقع، حاکميت الهي به صورت اراده امام تجلي مي يابد و مرزهاي اعتباري و قراردادي موجود و حاکم بر دنياي کنوني، زايل مي شود. (39) ويژگي هاي نظام جهاني مطلوب اسلامي با ويژگي هاي نظام هاي گذشته، حال و حتي نظام هاي احتمالي آينده قابل مقايسه نيست. ممکن است، ويژگي هاي اين نظام ها، شباهت هاي ظاهري، لفظي و شکلي داشته باشد، ولي از لحاظ محتوايي هيچ شباهتي با هم ندارند. اين نظامي است که انقلاب اسلامي مروج و منادي آن در جهان است و به علت ويژگي هاي الهي و انساني اش به بديل جهاني شدن مزورانه و فريب کارانه غربي درآمده است و به همين علت سردمداران جهاني شدن غربي، انقلاب اسلامي را تنها رقيب خود معرفي کرده اند زيرا اين انقلاب درصدد است ارزش هاي جديدي را در پهنه اداره جهان، جايگزين ارزش هاي قبلي غربي نمايد. ستيز با استکبار: انقلاب اسلامي استقلال را از مهم ترين اصول توسعه و وابستگي را از اساسي ترين علت عقب ماندگي معرفي کرد و بارها در اين باره به ملت ها و دولت هاي دربند جهان سوم و جهان اسلام هشدار داد. امام خميني (ره) بر اين باور بود که اسلام مخالف و منکر وابستگي صنعتي، زراعتي (کشاورزي)، اداري، اقتصادي و فرهنگي است و البته وابستگي فکري را مهم تر از ساير وابستگي ها مي دانست و آن را مبداء ديگر وابستگي ها مي شمارد، و هشدار مي داد که استقلال با وابستگي قابل جمع نيست و تا زماني که استقلال در همه ابعاد اجتماعي اتفاق نيفتد نمي توان کشوري را مستقل ناميد. (40) مواضع و تلاش امام خميني (ره) که با استقلال ايران از سلطه آمريکا همراه شد، به پيدايش جرأت و اعتماد به نفس ملت ها در برابر زورگويي ابرقدرت ها و شکستن بت هاي ظالمانه و بالندگي نهال قدرت واقعي انسان ها و سربرآوردن ارزش هاي معنوي و الهي گرديد. (41) به اعتقاد مقام معظم رهبري، استقلال خواهي انقلاب اسلامي چنان تأثير گذاشته که برخي را وادار به اعتراف کرده به عنوان مثال، يکي از رهبران کشورهاي واقع در شرق آسيا در جريان اجلاس سران کشورهاي اسلامي در خطاب به معظم له، علت فقر کشورش را وابستگي سرمايه هاي موجود در کشورش به سرمايه دارهاي صهيونيستي و آمريکايي دانست. مقام معظم رهبري نتيجه مي گيرد که استکبار وقتي منافعش ايجاب کند نه به ملتي، نه به اقتصادي، نه به فرهنگي، نه به مردمي و نه به کسي رحم نمي کند. (42) امروز ديگر شکي باقي نمانده که ايستادگي هاي دولت و ملت ونزوئلا در مقابل آمريکا، متأثر از انقلاب اسلامي است. کاسترو به پشت گرمي حمايت هاي جمهوري اسلامي (نظام برآمده از انقلاب اسلامي) به رويارويي انقلاب و کشورش با آمريکا ادامه مي دهد. حزب الله لبنان با درس گيري از استقلال طلبي انقلاب مردم ايران مي کوشد استقلال لنبان را در مقابل رژيم صهيونيستي حفظ کند، مسئولان سوريه بارها اعلام کرده اند درس ايستادگي در برابر اسرائيل غاصب را از انقلاب ايران آموخته اند. رزمندگان افغان بااتکاي به درس هاي انقلاب 1357 ايران توانستند روس ها را از سرزمني خود بيرون نمايند و به استقلال خود دست يابند. دستيابي ايران به استقلال سياسي، اقتصادي، فرهنگي و نظامي شيوه ايران انقلابي، به الگويي براي رزمندگاني تبديل شده که هم اينک در عراق، سودان، فلسطين و... با سلطه گران بر آب و خاک خود مي جنگند. جالب آن که آن ها در جنگ با متجاوزين با کشورشان با همان شعارها (مرگ بر آمريکا) شيوه ها (بسيج مردمي)، سلاح ها (تسليحات سبک و متعارف) و سمبل ها (توسل و توکل به خدا) انقلاب اسلامي مي رزمند، و همين هاست که استکبار را نگران وقوع يک يا چند پيروزي ديگر مشابه به پيروزي انقلاب اسلامي ايران مي کند. (43) نتايجي که بايد از رابطه و يا تعامل انقلاب اسلامي با بيداري اسلامي دريافت، فراوان و متعدد است، از جمله: 1. بيداري اسلامي اگرچه قدمتي طولاني يا حداقل قدمتي صدساله دارد، ولي انقلاب اسلامي در گسترش و تعميق آن نقش تعيين کننده داشته است. 2. اثرگذاري انقلاب اسلامي بر بيداري اسلامي از جهات مختلف تأييد مي شود، مثلا از سخنان امام خميني و نيز از، مواضع مقام معظم رهبري و هم چنين از رشد تحولات اسلامي در دهه هاي اخير، تأثير انقلاب ايران بر جنبش بيدارگري اسلامي هويداست. اين در حالي که انقلاب اسلامي بارها اعلام کرده که هيچ تلاشي براي صدور انقلاب در دستور کار ندارد بلکه بر اين باور است که پيام هاي انقلاب اسلامي به جهت ارتباط با فطرت انساني و وحي الهي، نيازي به صدور به مفهوم فيزيکي ندارد. نتيجه انقلاب اسلامي و بيداري اسلامي، بررسي دو نمونه انقلاب اسلامي ارزش هايي چون حجاب، پيوند دين و سياست، اسلام به عنوان تنها راه مبارزه و ميل به حکومت اسلامي را در جهان زنده و يا خلق کرد، بدون آن که ناچار شود و يا نيازي ببيند در اين راه به اقدام فيزيکي (نظامي) متوسل گردد. اين مسأله نشان مي دهد که ارزش هاي اسلامي به دليل انطباق با فطرت انساني، در توسعه و تعميق تنها به يک احياءکننده نياز دارد، البته ارزش هاي ناشي از انقلاب اسلامي در سرزمين هاي اسلامي بيش از ممالک اثر گذاشت و گسترش يافت، بي شک يکي از مهم ترين علل آن، وجود عنصر اسلام و وجوه مشترک فراوان بين اسلام کشورهاي اسلامي و اسلام در ايران انقلابي است از جمله در لبنان و فلسطين.الف- حزب الله به شدت تحت تأثير امام خميني (ره) و رهنمودهاي مقام معظم رهبري قرار دارد. در واقع برجسته ترين تأثير خارجي انقلاب اسلامي را مي توان در چهره و وجود حزب الله ديد. چرا انقلاب اسلامي به اين ميزان بر جنبش اسلامي حزب الله تأثير گذاشته است؟ در پاسخ به اين سئوال، مباحث زير را مرور مي کنيم: بين ايرانيان و لبناني ها، علقه هاي فراواني چون پيوندهاي تاريخي علما و مردم جبل عامل با ايران دوران صفويه، فعاليت هاي سياسي، فرهنگي و اقتصادي روحاني بلند آوازه ايراني امام موسي صدر به عنوان رهبر شيعيان لبنان، تشکيلات برجاي مانده از او يعني جنبش امل،حضور شيعيان بسيار در لبنان، وجود دشمن مشترک (اسرائيل) حمله اسرائيل به جنوب لبنان، کمک هاي انسان دوستانه جمهوري اسلامي ايران به محرومان لبناني، مهاجرت و سکونت دائم تعدادي از اتباع لبنان در ايران و... وجود دارد. اين پيوندها باعث شده است که انقلاب اسلامي ايران بيش از هر جاي ديگر، در لبنان تأثير بگذارد. اين تأثير، در زمينه هاي متعددي مشاهده مي شود. در زمينه فرهنگي، تعداد زيادي از تصاويربزرگ امام خميني (ره) و مقام معظم رهبري در نقاط مختلف لبنان به چشم مي خورد. بر روي ديوارهاي آن کشور، عکس شهدايي ديده مي شود که جان خود را در راه مبارزه عليه آمريکا و رژيم صهيونيستي (دشمن شماره يک ايران) از دست داده اند. مردان با ظواهر اسلامي در خيابان ها در رفت و آمد هستند. زنان ملبس به حجاب اسلامي اند و در اجتماعات عمومي، جايگاه نشست و برخاست زنان از مردان جداست، و مردم لبنان از ايران به عنوان يک دولت انقلابي و اسلامي حمايت مي کنند. (44) در لبنان، حزب الله بيش از هر گروه سياسي اسلامي ديگر، تحت تأثير انقلاب اسلامي ايران قرار دارد. علاو بر زمينه هاي مشترک موجود بين ايران و لبنان، انگيزه هاي ديگري موجب چنين تأثير شگرف شده است. اين انگيزه ها را مي توان در پذيرش رهبري انقلاب اسلامي به عنوان رهبر ديني و سياسي از سوي حزب الله و کمک هاي ايران به حزب الله ديد. هم چنين، حزب الله از لحاظ اقتصادي و اجتماعي بااعطاي کمک هاي تحصيلي به مستضعفان، توزيع داروي رايگان بين بيماران، تقسيم آب بين نيازمندان، ارائه خدمات درماني به محرومان، البته در پرتو حمايت ايران، به شدت فعال است. در عين حال، از لحاظ نظامي از اسلحه و جنگ جدا نيست. بلکه برپايه اصل جهاد، همواره آماده پاسخ گويي به حمله احتمالي دشمن صهيونيستي است، و در اين باره، اعضاي حزب الله لبنان براساس شعار اسلامي امام خميني (ره) يعني اسرائيل بايد از بين برود، قسم ياد کرده اند که جنگ با اسرائيل را تا آخرين لحظه ادامه دهند. در بعد فرهنگي، حزب الله شعارهايي را از انقلاب اسلامي به عاريت گرفته و سمبل هاي انقلاب اسلامي را سمبل خود مي داند. پيروزي حزب الله در دودهه از فعاليتش عليه اسرائيل، در مقايسه با فعاليت 40 و 50 ساله ساف، نشان از سودمندي استفاده از شعارهاي اسلامي و به کارگيري جهاد مقدس عليه اشغال گران و عدم اتکاء به کشورهاي ديگر در مبارزه ضداسرائيلي دارد. (45) حزب الله لبنان در بعد سياسي هم به شدت از انقلاب اسلامي ايران تأثير پذيرفته است، رهبري انقلاب ايران را در دو بعد سياسي و مذهبي و برپايه اصل ولايت مطلقه فقيه پذيرفته. به همين جهت از مواضع منطقه اي و جهاني جمهوري اسلامي ايران حمايت به عمل مي آورد، و در پي تأسيس حکومت اسلامي مشابه جمهوري اسلامي در لبنان است. يکي از رهبران جنبش اسلامي لبنان برعقيده است: «ما به جهان اعلام مي کنيم که جمهوري اسلامي مادر ماست. دين ما، ملکه ما، خون ما و شريان حيات ماست. (46) اولاً، به مبارزه رنگ اسلامي زد، شعارهاي اسلامي برگزيد، جهاد عليه اشغال گران را اعلام و ادامه داد. ثانياً، بدون اتکاء به کشورهاي ديگر، مبارزه خود را اداره کرد و آن را به انجام رسانيد. که هر که يک از اين دو علت توفيق نيز، برگرفته از انقلاب اسلامي ايران است. ب- بيداري اسلامي در فلسطين نيز، مرهون انقلاب اسلامي است. همچنين، سهمي قابل توجه از بيداري اسلامي در فلسطين، متأثر از اقدامات جمهوري اسلامي ايران درباره فلسطين است که پذيرش مقامات بلندپايه فلسطيني در روزهاي آغازين پيروزي انقلاب اسلامي، تبديل کنسول گري اسرائيل به سفارت فلسطين، اعطاي لقب سفير به نماينده ساف در ايران، اعلام آخرين جمعه ماه مبارک رمضان به عنوان روز جهاني قدس، ارائه کمک هاي مالي و انسان دوستانه، حمايت ها و پشتيباني هاي ديپلماتيک و سياسي از جنبش فلسطين، مخالفت با طرح هاي سازش و صلح خاورميانه و تأسيس صندوق حمايت از مردم فلسطين، بخشي از اين اقدامات به شمار مي رود. (47) انقلاب اسلامي ايران انگيزه اصلي خيزش و رستاخيز اسلامي در فلسطين اشغالي، به ويژه در نوارغزّه و کرانه باختري رود اردن محسوب مي شود. شيخ عبدالعزيز عوده، رهبر معنوي جنبش جهاد اسلامي، مي گويد: «انقلاب امام خميني، مهم ترين و جديدترين تلاش در بيدارسازي اسلامي براي اتحاد ملت هاي مسلمان بود.» و نيز برژينسکي، مشاور امنيت ملي دولت کارتر مي نويسد: «تجديد حيات اسلام بنيادگرا در سراسر منطقه با سقوط شاه و تشنجات ناشي از ايران امام خميني، يک مخاطره مستمر براي منافع ما در منطقه اي که حيات جهان غرب کاملاً به آن وابسته است، ايجاد کرده است. (48) بنابراين، انقلاب اسلامي برداشتي نوين از اسلام و قرآن در جوامع اسلامي و نيز در جامعه سنّي مذهب فلسطين پديد آورد؛ چنان که روند مخالفت با دولت هاي فاسد و سرکوب گر را تشديد کرد، به مبارزه آشکار عليه آموزه هاي تحميلي ضدديني دامن زد، تلاش برا ي تحقق برابري و عدالت اجتماعي را شدت بخشيد، واکنش مسلمانان در برابر غرب و غرب زدگي را توسعه داد و يأس و نااميدي سال هاي پاياني دهه 50 تا 70 را از ميان برد. يکي از مهم ترين علت هاي ناکامي ساف در مبارزات ضداسرائيلي نيز، برخوردار نبودن از درک شرايط نويني بوده است که انقلاب اسلامي در جهان آفريد. ولي به عکس ساف، حرکت اسلامي نوين فلسطين، شيوه هاي انقلاب اسلامي را مبناي مبارزات ضد صهيونيستي خويش قرار داده است. شيخ اسعد تميمي، از رهبران جنبش فلسطيني، بر آن است که تا زمان انقلاب ايران، اسلام از عرصه نبرد اعراب عليه اسرائيل غايب بود وحتي مسلمانان در عرصه واژگان، مثلاً به جاي واژه جهاد از واژه هايي همچون نضال (مبارزه) و کفاح(پيکار) بهره مي جستند و انقلاب ايران، اين حقيقت را که اسلام راه حل و جهاد وسيله اصلي است، به سرزمين فلسطين برد. شيخ عبدالله شامي، چهره برجسته اصول گراي فلسطيني مي گويد، پيروزي انقلاب اسلامي در ايران اثري ژرف بر انقلاب و بر مردم فلسطين داشته است و پس از آن مردم فلسطين دريافتند که براي آزادي فلسطين به قرآن و سلاح نيازمندند. اين انديشه، نخست در حرکت جهاد اسلامي فلسطين راه يافت و سپس همين سازمان بذر آن را در سرزمين فلسطين افشاند. (49) پي نوشتها: 1. مفهوم شناسي بنيادگرايي اسلامي اثر غلامرضا بهروز لک منتشره در سايت باشگاه.
بيداري اسلامي و نيازهاي فكري معاصر آن
نويسنده: عدنان بن عبدالله القحطان
اگر بخواهيم با نگاهي همهجانبه به چشماندازهاي آيندهي
امت اسلامي بنگريم، [بايد بدانيم كه] اين چشماندازهاي آينده در گرو
بيداري اسلامي معاصر و توسعه و رشد تمدني آن ميباشد. بنابراين براي اينكه
بتوانيم با يك نگاه واقعي و متد علمي سنجيده در مسير آينده گام برداريم و
به نقش بزرگي كه مؤسسات ديني، كميتههاي علمي و علماي اسلام در اين ساختار
تمدني برعهده دارند، پيببريم، لازم است مفهوم بيداري اسلامي را شناخته و
عوامل دروني و بيروني آن را مورد بررسي قرار دهيم.بيداري اسلامي پديدهيي اجتماعي است كه به معناي بازگشت بيداري و هوشياري امت اسلامي است تا به خودباوري رسيده و به دين و كرامت و استقلال سياسي، اقتصادي و فكري خود مباهات كرده، و در راستاي ايفاي نقش طبيعي خود به عنوان «بهترين امت براي مردم» تلاش كند. اين بيداري فرخنده عوامل و ريشههاي تاريخي دارد كه بايستي آنها را مورد بررسي قرار دهيم. 1- عوامل دروني: منظور از عوامل دروني، برخورداري امت اسلامي از عناصر تمدني گنجينههاي فرهنگي و فكري و آراء اجتهادي تكامل يافتهيي است كه در قالب دين مبين اسلام تبلور يافتهاند. ديني كه با دربرگرفتن ارزشها، افكار، عقيده، شريعت و اخلاق در ابعاد دنيوي و اخروي، [از ديگر اديان] متمايز است.دين اسلام مشكلات رواني، جسماني، دنيوي و اخروي انسان را حل كرده است بطوري كه انسان مسلماني كه سلوك و نحوهي زندگي او برگرفته از اسلام است در آرامش و آسايش بسر ميبرد. اسلام با تربيت دروني انسان و [ايفاي] نقش در حفظ انسان از بيماريهاي اخلاقي و رفتاري، و كسب فضائل و صفات نيكو، و تقويت ارتباط با خدا (سبحانه و تعالي) و توكل بر او، و ايجاد انسجام در روابط اجتماعي، چشماندازهاي كلي اخلاق را براي وي ترسيم مينمايد. همچنين اسلام با احياي بعد روحي و معنوي در انسان، از وي فردي اجتماعي ميسازد كه ميتواند در تربيت جامعه مشاركت جويد. اسلام توانسته تمام نيازهاي انساني را پوشش دهد و نقش طبيعي او را در جانشيني خدا در زمين به وي عطا كند. اين بعد سرنوشت انسان كه اسلام براي فرد و جامعه چه در بعد جهانبيني و چه در بعد تشريع و قانونگذاري تكامل يافته، و چه در بعد اخلاق نيك، منادي آن بوده سرآغازي براي بيداري [اسلامي] گرديده است. 2- عوامل بروني: امت اسلامي در گرداب تمدن مادي وارد شده از شرق و غرب گرفتار شده و مورد تهاجم فكري قرار گرفته است كه فروكش كردن اسلام از صحنه، بر اثر عوامل متعدد و براي مدت زمان طولاني و عدم حضور رهبري امانت دار، پرداختن حاكمان مسلمان به امور شخصي و ضعف روحيهي امر به معروف و نهي از منكر، خود در اين فرآيند سهيم بودهاند. چرا كه اين عوامل، و شعارهاي فريبندهيي كه استعمارگران در مورد آزاد ساختن و پيشرفته كردن مسلمانان سر ميدادند، و همزماني اين شعارها با پيشرفت تكنولوژيي كه استعمارگران به عنوان دليلي براي اثبات پيشرفت تمدني خود بدان استناد مينمودند، همه و همه موجب دوچندان شدن جهل و ناداني امت نسبت به حقيقت اسلام گرديدهاند.اين ضعف، ناداني و آميختگي بين تمدن، فرهنگ و علم منجر شد به اين كه امت اسلامي تحت سيطرهي تمدن جديد قرار گيرد. تا جايي كه نويسندگان و روشنفكران [مسلمان] نيز فريفتهي آن شده و براي آن به نظريهپردازي پرداختند. بعد از مدتي نه چندان كوتاه سرپوشها كنار رفته و چهرهي دروغين تمدن معاصر و كذب داعيان آن برملا شد و بعد از مصيبتها و بحرانهايي كه دامنگير امت اسلامي شده بود [تازه به خود آمد] و احساس كرد مغلوب و مورد استثمار قدرتهايي قرار گرفته كه ثروتها و امكانات آن را به غارت بردهاند. و براي امت اسلامي روشن شد كه همگان ميخواهند منافع آن را ربوده، و آن را استعمار كنند و آن را به ذلت بكشانند، و از ارزشها، عقيده و فكر اسلامياش دور سازند. همانطور كه روشن شد برخورد تمدني كنوني، درگيري بر سر منافع است كه مسلمانان به جز شكست و پس رفت نصيبي از آن نبردهاند. اين حقايق چشم [بصيرت] بسياري از قربانيان مغلوب اين قدرتها را گشوده و آنان را به سوي يافتن يك نجاتدهنده داده است. در نتيجه بعضي از علما و انديشمندان اصلاحگر به مقابله با اين تهديد و برخورد تمدني معاصر پرداختند. پيآمد عكسالعملهاي ناشي از برخورد تمدني و درگيري شديد ميان اسلام و تمدن ماترياليستي در مقابله با سلطهي فكري و سيطرهي بيگانگان به نام اسلام و احساس مسئوليت امربه معروف و نهي از منكر و جهاد در راه خدا، سرآغاز ديگري براي بيداري اسلامي در عصر حاضر شده است. و از عوامل بيروني بيداري اسلامي ميتوان به برخورد تمدنهاي نوين جهت سيطره بر جهان سوم و نتايج تلخي كه از اين درگيريها عايد بشريت شده و ستم آشكارا و صريحي كه از آن رنج برده است، اشاره كرد. دراين شرايط ملتها به اين فكر افتادند كه انتقام كرامت از دست رفتهي خود را گرفته، و وحدت فكري، سياسي و اقتصادي خود را حفظ كنند. باشد كه بتوانند جايگزيني بيابند تا ايشان را از تجارب [تلخ و] تاريكي كه زير سلطهي قدرتهاي مستكبري كه شعار تمدن و پيشرفت سر ميدادند، برهاند. پس ملتهاي مسلمان، اسلام را بزرگترين نجاتدهنده و آرمان خود يافتند و بر آن شدند كه انتقام اسلام را [از دشمنانش] بگيرند، و به دفاع از آن و مطالبهي آن برخيزند. و نيز انتقام كرامت از دسته رفتهي خود تحت سلطهي بيگانه را بگيرند. از اين روي در جاي جاي قلمرو اسلامي شاهد انقلابهايي هستيم كه خواستار آزادي، استقلال و بناي تمدن اسلامي در سرزمينهاي اسلامي هستند. اين بود فرآيند شكلگيري بيداري اسلامي و برخي از عوامل پيدايش آن. بيداري اسلامي پديدهاي ناگهاني نبوده بلكه بياني است از رنج و آلام ملتهاي اسلامي، از آن روزي كه كشورهايشان تحت سلطهي بيگانگان قرار گرفت و فرامين غيراسلامي و حاكمان ناتوان به منظور پاشيدن بذر زهرآگين تمدن وارداتي در جوامع اسلامي، بر آنها تحميل شدند. بدينصورت ملتهاي مسلمان بين ايمان به رسالت و عقيدهي خود كه نوعي حيات ديني و التزامات شرعي ناشي از شريعت اسلامي را به آنان القاء ميكند از يك سو، و رشد فزايندهي تمدني جديد كه در تلاش است آنها را از هويت، عقيده و التزام به شريعت جدا كند، از ديگر سو، نوعي تناقض و دوگانگي بزرگ احساس كردند. در نتيجه، تمدن غربي در مقابل بيداري اسلامي كه در درون امت جاي گرفته بود، در لايههاي سطحي جامعه [اسلامي] باقي ماند و هرگز نتوانست به اعماق آن نفوذ كند. فرزندان بيدار و مخلص و دعوتگرا است اسلامي در مقابل هرآنچه از پيكرهي امت، انديشه و ارزشهاي تمدني جاويدانش بيگانه بود، در جايجاي جهان اسلام نداي مخالفت سردادند. جامعهشناسان، سياستمداران، مصلحان و انديشمندان، اين بيداري را پيشبيني كرده بودند. به عنوان نمونه، انديشمند شهيد سيدقطب در كتاب خود تحت عنوان «المستقبل لهذا الدين»(1) و نيز حامد ربيع، استاد علوم سياسي بشارت اين بيداري را دادهاند. بلكه تمام رهبران فكري و سياسي جهان، از شصت سال پيش انتظار چنين بيداري را ميكشيدند. اسميت، استاد دانشگاه مونتريال، كتابي با عنوان «اسلام امروزين» دارد كه در دههي پنجاه ميلادي به چاپ رسيده و در آن توجه مسئولان كشور متبوعش را به اين بيداري جلب كرده است. همچنين خاورشناس انگليسي «مونتوكوملي وات» در سال 1964م كتابي را منتشر كرد و در آن اسلام قرون وسطي را مورد كنكاش قرار داده و انتظار بيداري اسلامي را داشته است و در توصيف آن ميگويد: «بيداري اسلامي ايدئولوژي چهارمي خواهد شد كه در پايان قرن بيستم بر جهان معاصر حاكم ميشود.» البته مهمترين مدرك در اين زمينه مربوط به دانشمند روسي «ژوگانوفسكي» است كه به دنبال انقلاب سوسياليستي كتابي را نوشت و به ارزيابي آن پرداخت و با اشاره به دو انقلاب فرانسه و سوسياليستي شوروي و شكست آن دو از يك جهت مشخص و نياز جهان به انقلاب ديگري كه بتواند اشتباهات مسير حركتي انسان را تصحيح كند، اين سؤال را مطرح ميكند كه انقلاب جهاني سوم كي و از كجا ميآيد؟ سپس پيشبيني كرده كه خيزش اين انقلاب [سومي] تنها از جهان اسلام خواهد بود. اين پيشبيني متعلق به سال 1919 ميباشد. بعد از ارائه اين شرح كوتاه دربارهي عوامل بيداري اسلامي، محافظت از اين بيداري و هدايت رشد آن لازم است تا ضمن ايفاي نقش آتي خود دستاوردهاي خود را در نشر تمدن اسلامي در اقصي نقاط جهان بدور از ترور، خشونت و تندروي ارائه دهد. تا از اين راه، به آيندهي درخشاني براي اسلام و ملتهاي محروم از كمترين حقوق انساني، آزادي و استقلال، بشارت دهد. بنابراين بايد مشكلات و موانعي كه بر سر راه اين بيداري نوين و مهد تمدن اسلامي وجود دارند، به درستي شناسايي شوند تا از آنها حذر كرده و آنها را از ريشه بخشكانيم و تا عناصري باقي نماند كه مانع تأثيرگذاري اين بيداري و رشد آن و در نتيجه ركود امت اسلامي گردد. از اين رو ميتوان موانع بيداري اسلامي را در دو بخش عوامل دروني و بروني مطرح كرد. اما موانع دروني فكري را ميتوان به صورت زير خلاصه كرد. 1- عدم فهم و دركي عميق معتدل و متوازن مسلمانان از انديشهي اسلامي؛ 2- ظروف و شرايطي كه قبلاً بدانها اشاره شد؛ 3- عدم حضور رهبران رباني در تطبيق صحيح اسلام و فهم درست از شرايط و تحولات عصر حاضر و عواملي كه آنها را به اتخاذ مواضع استثنائي واداشته و مكتب اسلام را از لحاظ تطبيقي، سياسي و اجتماعي در هالهيي از ابهام قرار داده است. مطالعه و بررسي اين موضوع به تلاش و تأمل نياز دارد. اين وضعيت، براي مدتي طولاني، باعث عدم فهم و درك حقيقي و درست [از اسلام] گرديد. در نتيجه نظريه اسلامي در بعد تطبيقي اجتماعي- سياسي در ذهن بسياري از علماي مسلمان، به جز اندكي از ايشان، به صورت مبهم باقي ماند و [اين ابهام] در آراء اجتهادي آنان منعكس گرديد. و اين عدم فهم درست، در قالب توجه زياد آنان به مسائل عبادي و امور فردي و ناديده گرفتن مسائل مهم امت اسلامي نمايان شد. علاوه بر اين، اقدام برخي توطئهگران به تشويش چهرهي واقعي اسلام و تأثيرپذيري بعضي از سادهلوحان [مسلمان] از افكار انحرافي، همه و همه منجر به تندروي در فهم اسلام و عقايد آن مانند ترور، غلو و رفتار افراطگرايانه مثل كنارهگيري از جامعه بمنظور حفظ هويت شخصيت اسلامي گرديد. همچنان كه فهم نادرست برخورد با دشمنان اسلام، و اينكه همگي ايشان را در زمرهي [كفار] دارالحرب به حساب آوريم و برخورد خود را با آنها برخوردي مسلحانه قلمداد كنيم، در طول تاريخ، نه تنها فرصتهاي زيادي را در راستاي نزديك كردن بسياري از ملتها به اسلام و ملحق نمودن آنها به صف مسلمانان، از ما سلب كرده، بلكه فرصت استفاده از بسياري از افكار و انديشههاي متسامح اسلام را نيز از ما گرفته است. بنابراين براي رسيدن به يك برنامهي متكامل، بايد اسلام را بهصورت موضوعي مورد مداقه و بررسي قرار دهيم تا به كمك آن يك تمدن اسلامي متسامح پايهريزي كنيم كه با نيازهاي روز و دستاوردهاي دنياي واقع معاصر، همگام و هماهنگ بوده و از سطحينگري بدور باشد و در عين حال با در برگرفتن روح شريعت و تكيه بر متون صحيح، بر جوهر دين حريص باشد تا ضمن برداشتن گامهاي زير، به راهحلهاي موفقيتآميز دست يابيم. 1- اهتمام به عقل و نقش و تأثير آن در تعيين بعد شرعي در پرتو مقاصد و اهداف احكام و به وسيلهي عقل و اجتهاد ميتوان وضعيت رو به رشد و ميزان انطباق آن در قواعد كلي با شريعت عزا را با در نظر گرفتن عناصر متغير موجود در عالم واقع، مورد بررسي قرار داد تا با استفاده از سنتهاي تغيير، متدهاي خود را دگرگون سازيم و در نتيجه با دنياي واقع منسجم و هماهنگ شويم. همانگونه كه خداي متعال ميفرمايد: «ان الله لايغير مابقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم»(2) «بي گمان خدا وضعيت هيچ قومي را تغيير نميدهد مگر اينكه درونهاي خود را دگرگون سازند». 2- علماي مسلمان بايد با توجه به نصوص صحيح و قابل اعتماد و بعد از مطالعهي موضوعي ظروف و شرايط نص و مقتضيات مرحلهي جاري، حقيقت و احكام را در شريعت جستجو نمايند. 3- مطالعه و بررسي افكار و انديشهها به دور از اختلافات انباشته شده در ذهن و افكار گذشتگان و جستجوي دليل براي اثبات آنها بدون تقليد از آراء فقهاي گذشته، تقليدي كه راه نتيجهگيري سالم و درست را بر ما ميبندد. مانند استناد به روايات ضعيف و استدلال به دليلي كه در قوت ديگر ادلهي قطعي نباشد يا چشمپوشي از دليلي كه بايد در صدر ادله قرار گيرد كه به منظور تحميل نظر شخصي بر اسلام انجام ميگيرند. در فقه اسلامي نمونههاي زيادي از اين قبيل وجود دارند. بنابراين، بايد اجتهاد شكل تخصصي به خود بگيرد، چرا كه اجتهاد مطلق موضوعي، در شرايط فعلي نزديك به محال است. 4- گذر از حالت روتيني فقه فردي مثل بخش عبادات كه بحث در آن تقريباً به تكامل رسيده است، و تأكيد بر بررسي فقه اولويات يعني فقه زندگي اجتماعي، سياسي و اقتصادي جهت ترسيم متدي متكامل در تمام اين زمينهها. 5- تلاش در جهت بررسي تطبيقي موضوعات [فقهي] بدور از تعصب و تقليد كوركورانه اي كه روحيهي ابداع و نوآوري را به تعطيلي ميكشاند و با حركت به سوي چشماندازهاي گسترده و همهجانبه، چرا كه پژوهشهاي اسلامي مبتني بر يك مذهب معين و ناديده گرفتن مذاهب ديگر ما را از نتايج عقلي، اجتهادات و نوآوريهاي مجتهدين در عرصههاي مهم زندگي محروم ميگرداند. 6- بررسي موضوعي وضعيت موجود و تلاش جهت تفكيك مسائل علمي و متدهايي كه ميتوان آنها را به مصلحت اسلام به كار گرفت از مسائلي كه داراي ريشههاي تمدني مخالف اسلام ميباشند. 7- تأكيد بر متد عقلي و تجربي و پذيرش نقد در برنامه و روش، و دوري از توجيه غيبي مواضع و روشهاي نادرستي كه ارتباطي با غيب ندارند. و اين بدان خاطر است كه غيب در اذهان مردم از قداست برخوردار است و از طريق ايجاد اميدواري، ارتقاي زندگي انساني و مرتبط ساختن آن با روز قيامت و تعميق رضايت از قضا و قدرالهي در درون انسان، در مداواي بسياري از مشكلات رواني فرد و جامعه تأثير بسزايي دارد. پس غيب منبع قدرت انسان در پيمودن درست مسير پر پيچوخم زندگي به شمار ميرود. آنچه ما منكر آن هستيم دور كردن انسان از سنتهاي اجتماعي كه خداوند آنها را ترسيم نموده، و نينديشيدن در مورد آنهاست كه با آنچه خدا براي روند زندگي انسان در نظر گرفته مخالفت دارد. با اين وصف، شناخت سنتها و قوانين الهي ما را از موضعگيريهاي نادرست زيادي در پيمودن مسير زندگي، وا ميدارد و با استفاده از تجارت موفقيتآميز و منسجم با سنتهاي الهي، راه رسيدن به آرمانها براي ما كوتاه ميشود. 8- بررسي مثبتگرايانه و هوشيارانه تاريخ تا سنتهاي زندگي را از آن استخراج نموده، و آن را ميداني براي بررسي طرحهاي اسلامي و عوامل موفقيت و شكست آنها قرار دهيم و از نقاط منفي و عوامل شكست، در برخي از برنامه ها و نقشههاي مسلمانان در اين مسير دوري جوييم. بيماريهاي بيداري اسلامي امراض و گرفتاريهايي كه مانع سرزندگي و نشاط بيداري اسلامي بوده، و لازم است كه كارگزاران (امور) از آثار منفي آن دوري جسته و بپرهيز اند، عبارت اند از:1- اختلاف: مرضي است كه به درازاي سير زندگي انسان بر روي زمين وجود داشته و ناشي از فهم نادرست، خودخواهي، پيروي از هواي نفس، سطحينگري و يا عدم تفكيك امور مهم و مهمتر از يكديگر و… ميباشد.پديدهي اختلاف در اين دوران به اوج خود رسيده است تا جايي كه اختلافات فكري به درگيريهاي خونيني تبديل شده كه پيكرهي امت را از هم متلاشي نمود و مسلمانان را به تكفير همديگر وا داشته است. همهي اين اختلافات در چارچوب مسائل جزئي و سطحي روي ميدهد حال آنكه مسائل حياتي مرتبط با سرنوشت و آيندهي امت اسلامي به حاشيه رانده شدهاند. به ديگر سخن، تعدد مكاتب و مذاهب فكري كه بايد وسيلهيي براي پيشرفت فكر انساني، نوآوري در دنياي انديشه، كار كردن در زمينههاي مشترك، و پذيرش عذر ديگران در مسائل اختلافي و منحصر كردن اختلاف در زمينههاي مشخصي باشد همانطور كه قرآن بدان تصريح كرده است: «قل يا أهل الكتاب تعالوا إلي كلمة سواء بيننا و بينكم أن لا نعبد إلا الله»(3) «بگو: اي اهل كتاب! بياييد به سوي سخن دادگرانهاي كه ميان ما و شما مشترك است، كه جز خداي يگانه را نپرستيم». با اين وجود، اين مكاتب و مذاهب فكري وسيلهاي براي اختلاف و فتنهانگيزي در محافل اسلامي و حتي در اساليب و روشهاي كاري گرديده است. هنوز هم امت اسلامي، عليرغم شعارها و فريادهايي كه مصلحان از قرنها پيش براي وحدت سر دادهاند، ناتوان است از اينكه اختلاف بين مذاهب اسلامي و مكاتب فكري را كاهش دهد. همهي اينها از جهل و ناداني، پيروي از هواي نفس، عدم اخلاص و نبود فرهنگ برخورد با اختلاف و به ويژه سياست فتنهانگيزي دشمنان اسلام، نشأت گرفته است. ما خواهان بستن باب اختلاف نيستيم، چرا كه اختلاف از لوازم طبيعت بشري انسان است بلكه ميخواهيم بدانيم چگونه با اختلاف آراء برخورد كرده و نتايجي به سود امت اسلامي از آن بدست آوريم. 2- غرور و خودخواهي: و اين گذرگاه شيطان به درون انسان است كه كارهاي وي را برايش آراسته و كار ديگران را در نگاه او ناچيز جلوه ميدهد. در نتيجه به يك نوع خودپسندي ميرسد تا جايي كه ديگر هيچ نقد و نصيحتي را از ديگران نميپذيرد و با توجيه عملكرد خود از نقد و مواظبت بر نفس خود خودداري ميكند.غرور، مسألهاي است كه گاهي افراد، جماعتها و گروهها بدان مبتلا گشته و موجب انزواي آنها و بيتوجهي به ديگران ميشود. و در نتيجه پذيراي هيچگونه انتقادي نخواهند بود، چرا كه نقد را متوجه انديشه، ارزشها و اصول خود ميداند. موضوعيت قضيه ميطلبد كه انسان مسلماني كه خواستار اصلاح است و نيز جماعتها و گروههايي كه ميخواهند در مسير تكامل عملي و ميداني روند خدمترساني به اسلام گام بردارند، زندگي را عرصهي كسب تجارب قلمداد كنند تا از تجربهها و اشتباهات و آموختههاي ديگران استفاده نمايند. گروهها بايد در تعامل با افراد خود صريح بوده و بهطور واضح پيروزيها و شكستهايشان را بدانها اعلان كنند و به منظور علاج شكستها و برطرف نمودن آنها توسط گروه و اعضاي آن، عوامل شكست را تشريح نمايند. و اين كار با شروط زير شدني است: 1- هوشياري گروه و نااميد نشدن آن به سبب صراحتگويي؛ 2 - افراد، خود، مسئوليت علاج را برعهده بگيرند و مسئوليت را به گردن ديگران نيندازند و تنها به صورت منتقد باقي نمانند. چون ماندن در سطح زندگي منتقدانه نوعي بيماري و توجيهي براي بازماندگان از كار و تلاش ميباشد. به اين ترتيب، پيروان گروه موضوعيت قضيه را درك كرده و شخصيت آنها براساس اين تفكر و به دور از مغالطه و اصرار بر خطا شكل ميگيرد. و اين از بارزترين نمادهاي جامعهيي اسلامي است كه به دور از نخوت و غرور و براي خدا زندگي ميكند. نخوت و غروري كه از خطرناكترين بيماريهاي اخلاقي فرا روي دعوتگران اسلامي به حساب ميآيند. تشكل اسلامي كه از مواجه با اشتباهات خود واصلاح آنها سرباز ميزند با خطر ركود و انزوا از امت اسلامي و رضايت دادن به آنچه كه در اختيار دارد، دچار ميشود، در نتيجه از نوآوري و توسعه باز مانده و در جا ميزند و بدنبال آن اعضايش ريزش كرده و دشمنان بر آن چيره ميشوند. برخي تلاش كردهاند تا با فهمي نادرست اين شكست و درجازني را بنام قضا و قدر، محنت و راه پر مخاطره و دشوار پيامبران توجيه كنند. چرا كه قضا و قدر مستلزم تسليم در برابر شرايط و شانه خالي كردن از مسئوليت نبوده و محنت نتيجهي طبيعي تلاش و جهاد مؤمنان برضد ظلم و فساد است نه رضايت دادن به ستم موجود و وضعيت منفي كارگزاران و عدم بررسي اشتباهات و استفاده نكردن از تجارب ديگران، و عدم شناخت شرايط موضوعي محيط كار و كارگزاران و حتي عدم برداشت درست از سنتها و اسباب طبيعي كار. 3- سطحي نگري: فهم سطحي و كوركورانه ي بسياري از مسلمانان امروزي از اسلام، و عكسالعملهاي هيجاني و ارتجالي كه مسلمانان در قبال وضعيت أسفبار و تحت فشار بسياري از ملتهاي مسلمان در فلسطين، قدس، چچن، فيليپين، كشمير وافغانستان گرفته تا عراق و… يكي ديگر از بيماريهاي بيداري اسلامي است. اگر چه نوع مقاومت و عمليات شهادتطلبانه عامل مهمي براي حفظ آبرو و بقاي بيداري اسلامي و برانگيختن روحيهي جهاد در آنها و پيدايش نداي بازگشت به اسلام است، لكن بدون برنامهريزي عميق و انجام بررسيهاي متناسب با دستاوردهاي روز و نيازمنديهاي دنياي واقع، براي ايجاد پروسهي تغيير و رهايي از جمود فكري و اجتماعي فراگير، كافي نيست.مشكل ما اين است كه از نياز شديد خود به اين مطالعات و هر چند بررسيهاي مدرن آگاهي نداريم و متكي به اصول و ثوابتي هستيم كه آنها را در اختيار داريم، ولي نميتوانيم آنها را در ظروف و شرايطي كه جامعهي اسلامي امروزه در آن به سر ميبرد جامهي عمل بپوشانيم. قرآن، سنت نبوي و ديگر منابع قانون گذاري اسلامي خطوطي كلي فراروي ما قرار ميدهند كه ميتوان به وسيله آنها برنامه اي را ترسيم نمود كه موتور جامعهي اسلامي را در پرتو اسلام و مطابق با نيازهاي نوين و پيشرفتهي جامعهي امروزي به حركت در آورد. لازمهي اين امر فهم عميق و درك صحيح اين نيازها و استقبال از آنها با آغوش باز ميباشد. و اين چيزي است كه امروز بدان نيازمند هستيم. ما امروز، نيازمند يك برنامهي اخلاقي هستيم كه با زباني قابل فهم براي همه، حركت فرد و جامعهي امروزين را پوشش دهد. بايد مفاهيم خويش را در قالبي متناسب با ذهنيت مسلمان امروزي ارائه دهيم. و تمام تلاش خود را به خرج دهيم تا انديشهي اسلامي و كتابهاي عقيدتي را از بدعتها، كجروي و غلو پاكسازي كنيم. و بر پژوهشگران عقيدتي و فقهي است كه بدانند كه بايد با برنامهيي جديد و زباني متناسب با ذهنيت انسان معاصر و چالشهاي فرا روي آن به ارزيابي مسائل فكري بپردازند. اين برنامهي پيشرفتهي نوين بايد در چارچوب قانونگذاري اسلامي تدوين شود و بايد مفاهيم و موضوعات متنوعي كه نسل امروزي جامعهي اسلامي در جوانب مختلف زندگي ديني، فرهنگي، اقتصادي، اجتماعي و سياسي به آنها نياز دارد، همراه با احكام شرعي آنها كه نمايانگر ديدگاه و قوانين اسلامي است و ميتوانند جامعه را اداره و تمام نيازهاي قانونگذاري آنرا بخوبي پوشش دهند، مشخص گردند. از نشانههاي سطحينگري اين است كه اموري كه در هرم اولويات فعاليت اصلاح اجتماعي و فكري قرار دارند مشخص نگردند و به امور بياهميت و حاشيهيي كه فرصتهاي زيادي را در راه رسيدن به اهداف و حاكم كردن اسلام از ما ميگيرند، بپردازيم. 4- ارتجالي و بيبرنامه بودن: مقصود از آن نداشتن برنامهريزي و عدم بررسي مسائل، حوادث و موضعگيريها و برخورد واكنشي و عاطفي، نه برخورد معتدل و برنامهريزي شده با آنها است، چون اقدامات ارتجالي و هيجاني در هدر دادن تلاشها، نيروها و فرصتها و نيز ضايع كردن عمر و مال و بدنبال آن نابودي امت اسلامي تأثير بسزايي دارند. و همهي اين آفات، ناشي از موضعگيريهاي خام و خودسرانه است. ارتجالي بودن، آفت بزرگي است كه ريشهي آن جهل، عقبماندگي، عدم تعقل و نبود حكمت و دورانديشي در امور ميباشد.دشمن با انجام تحقيقات و ارائهي راهكارهاي علمي و تدوين نقشهها در صدد مبارزه با اسلام و مسلمانان است. پس ما نيز بايد با تحقيقات و شگردهاي مبتني بر برنامهريزي عقلي، عملي و موضوعي به مقابله با توطئههاي آنان بپردازيم. «أدع إلي سبيل ربّك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي أحسن»(4) «مردم را با حكمت و موعظهي نيكو به راه پروردگارت بخوان و با آنچه بهتر است با آنها مجادله كن.» راههاي معالجه اولاً: خروج از اين بحران بزرگي كه امت اسلامي در آن بسر ميبرد، جز با اعادهي عقل به حوزهي پژوهش و تحقيق و استنتاج افكار و ديدگاههاي عملي درست و متناسب با نيازهاي فرآيند اصلاحي، پيشبردي و مدرنيتهي امروزي و بدور از تقليد كوركورانه و پيروي از افكار ديگران و بدون دقتنظر و پالايش عملي آنها امكانپذير نيست. بنابراين، براي انجام پژوهشهاي علمي و مطالعات نوين اسلامي نيازمند ايجاد مؤسسات و بكارگيري تكنولوژي مدرن در خدمت دعوت اسلامي، هستيم.مسلمانان ثروتمند و داراي توان مالي ميتوانند با مشاركت و حمايت از اين پروژههاي سازنده، به اسلام، دعوت اسلامي، محافظت بر آيندهي امت اسلامي، تلاش علما جهت تبلور انديشهي اسلامي و تربيت نخبگان علمي خدمت كنند تا از اين راه به بهرهي دنيا و آخرت دست يابند و آيندهي تمدني شكوفايي را براي جامعهي خودتضمين كنند. ثانياً: بر علماي اسلام، دعوتگران و مصلحان روشنفكر است كه با طرح موضوعات مفيد و بررسي مسائل مربوط به انسان مسلمان امروزي با ساختاري نو و جذاب و روشي تشويقكننده نه ترساننده و متناسب با وضعيت متحول اجتماعي، مسئوليت خود را ادا كنند. ثالثاً: مسئوليت گروهها و مذاهب اسلامي اقتضا ميكند كه با هم متحد و يكپارچه شوند و بر آنهاست كه مطابق با وضعيت موجود امت اسلامي و با روحيهي تفاهم فكري و گفتگوي موضوعي زندگي مسالمتآميز با هم داشته باشند. همچنين بايد روشهاي جذاب و گيراي مبتني بر فهم عميق اسلامي بكار گيرند و همواره در راستاي به روز كردن اين متدها، تعميق افكار، تربيت نسل نوين اسلامي و نجات دادن مسلمانان از چنگال تفرقه، جهل و فساد تلاش كنند. فِرَق اسلامي بايد با در نظر گرفتن آرمانهاي بزرگ، آمادگي براي تفاهم، گفتگو با ديگران و هماهنگي با يكديگر، بطور جدي، از تفرقه و جدايي دوري جويند. و با اين كار ميتوانند يك استراتژي پيشرفته را ترسيم كنند كه با تقسيم وظايف در آن، زمينهي وحدت امت اسلامي، شكوفايي و حفظ آن از تفرقه و نابودي، فراهم ميگردد. دشمن در تلاش است كه تمام فرصتها را جهت نابودي جامعهي اسلامي بكارگيرد. گاهي از اختلافات ما سود ميجويد و تاريخ اين كار را براي ما ثابت كرده است، چرا كه استكبار درصدد بوده با بهرهبرداري از اختلافات مذهبي و سياسي بين گروههاي اسلامي، مسلمانان را از هم جدا كرده و آنها را به جوامعي كوچكتر تبديل كند تا به آساني بتواند ايشان را شكار كرده و بر آنها چيره شود. مسئوليت ما در مواظبت از وحدت امت اسلامي از طريق ايجاد وحدت فكري و تفاهم بين كارگزاران و حفظ اهداف با روشهاي متناسب با روز، خلاصه ميشود. و با اين كار، از آيندهي امت اسلامي پاسداري ميكنيم. در غير اينصورت نميتوان انتظار خير و نيكي كشيد و همه بايد مسئوليت نابودي، هدر رفتن تلاشها و توانمنديها و سودجويي دشمن از ضعف و تفرقهي ما را برعهده بگيرند. بنابراين، جا دارد كه مسئوليت خطير علما، انديشمندان، دعوتگران و اصلاحگران در قبال ايفاي بجا و مقتدرانه، نقشي كه از آنها انتظار ميرود، يادآور شويم، تا امت اسلامي را از وضعيت تلخ موجود نجات دهند و در مقابل چالشهاي خطرناكي كه فراروي آن قرار دارد، از آن محافظت نمايند. پی نوشت: (1)
اين كتاب توسط رهبر انقلاب اسلامی ایران، آية الله سيدعلي خامنهاي تحت
عنوان «آينده در قلمرو اسلام» به فارسي ترجمه شده و بارها به چاپ رسيده
است.(مترجم)
تكاپو براي بيداري و وحدت اسلامي
انقلاب شکوهمند مردم ایران در فبروری سال 1979 با اهداف و شعارهای اسلامی به پیروزی رسید . این انقلاب ابعاد مختلف زندگی مردم ایران را تحت تأثير قرار داد و متحول ساخت . اما از آرمانهاي فراگير آن مشخص بود که دستاوردهاي انقلاب ، از سرحدات ايران فراتر خواهد رفت و بر مردم جهان به ویژه مسلمانان تأثير خواهد گذاشت . بازگشت به خویشتن ، اسلام خواهی و اتحاد ، ازجمله دستاوردها و آرمانهاي مهم انقلاب اسلامی ایران برای امت اسلامی بود. کشور ایران به لحاظ تمدن کهن ، وسعت و جمعیت فراوان ، غنای فرهنگی و پیشرو بودن در تحولات سیاسی و اجتماعی ، همواره کشوری تاثیرگذار در محيط پيرامون خود و منطقه خاورميانه بوده است . به همین دليل انقلاب مشروطیت در سال 1906 و نهضت ملی شدن صنعت نفت ایران در سال 1951 ، تاثیرات قابل توجهی بر دیگر کشورهای منطقه گذاشت . پيروزي انقلاب اسلامی در سال 1979 نيز حادثه اي بود كه باتوجه به گستره شعارها و پیامهای فراملي آن ، به نحو قابل توجهی کشورهای منطقه و جهان اسلام را تحت تاثير قرار داد . برخی از این تاثیرات ، کوتاه مدت و برخی بلند مدت بوده اند . بی شک دعوت انقلاب ایران به اسلام و احیای فرهنگ و تمدن اسلامی ، مهمترین پیام انقلاب اسلامي برای مسلمانان بوده است . قبل از پيروزي انقلاب اسلامي ، در كشورهاي اسلامي نيز همسو با جهان غرب ، کوشش می شد تا مظاهر بی دینی و فساد تبلیغ شود . به همین دلیل ، فساد و غرب زدگی در اين كشورها رو به گسترش بود . در كشورهاي اسلامي اگر هم از اسلام سخني گفته می شد ، غالباً احکام فردی و شخصي دين ، مورد نظر بود . اما انقلاب بزرگ ایران ، مسلمانان را به سوی اسلام راستين فرا خواند كه در تمام شئون فردی و اجتماعی زندگی تاثیرگذار است . اگرچه قبل از انقلاب اسلامي نیز برخی شخصیتهای دینی ، مردم را به بازگشت به دین دعوت می کردند و روند بیداری اسلامی آغاز شده بود ، اما انقلاب اسلامی ایران ، موجی سرشار از انرژي بود كه خيزش اسلامي و حركت آگاهانه را درميان مسلمانان برانگيخت . موجی که با گذشت زمان ، عظیم تر مي شود و جمع بیشتری از مردم را فرا می گیرد . آیت الله خامنه ای رهبر معظم انقلاب در این زمینه می فرماید : « انقلاب اسلامی در حقیقت دو کار بزرگ را انجام داده است : یکی تشکیل نظام اسلامی و دیگری زنده کردن هویت اسلامی در دنیا است . » این انقلاب برای تحقق بیداری اسلامی در جهان ، چند اقدام مهم انجام داده است . توجه دادن امت اسلامي به عنصر آگاهی و ضرورت توجه به سرنوشت خود و جهان پيراموني ، از گامهاي نخست در روند بیداری اسلامی است . در طول سه دهه گذشته ، انقلاب کوشیده است غنا و جامعیت اسلام را به مسلمانان نشان دهد و ثابت کند که اين دین متعالي از هر مکتب دیگر شرقي يا غربی ، برتر و پویاتر است . در اثر رشد بيداري اسلامي ، امروزه اسلام با جمعیت عظیم پیرو آن ، به مهمترین رقیب لیبرالیزم غربی تبدیل شده است و مسلمانان خلاف گذشته ، به دین و هویت دینی خود افتخار و از آن صيانت می کنند . بعد دیگر آگاهی بخشی به امت اسلامی ، شناخت دشمنان واقعی اين امت است. انقلاب اسلامی ایران و رهبران آن از ابتدا تاکید کردند که امروزه دولتهای غربی بویژه امریکا ، دشمن اصلی مسلمانان هستند و مي خواهند آنها را تحقير و منابعشان را چپاول كنند . با گسترش دامنه بيداري اسلامي، اکنون غالب مسلمانان ، امريكا و صهيونيزم را دشمن مشترک امت اسلامي مي دانند. نظرسنجیهای متعدد در کشورهای اسلامی نشان داده است که مسلمانان از دولت امریکا به شدت متنفر و با سیاستهای سلطه جویانه و ظالمانه قصر سفيد مخالف هستند . اما واقعيت اين است كه آگاهی از وضع موجود بدون تلاش برای تغییر آن ، كافي نيست . در همین راستا ، مردم انقلابی ایران به مسلمانان جهان نشان دادند که حتی با دست خالی ، می توان اوضاع نابسامان و مفسده انگیز را به وضعیت مطلوب تغییر داد . انقلاب اسلامی ایران ، نيروي اعتماد به نفس و استقامت يك ملت را در مبارزه با ظلم و تعدی به نمايش گذاشت . مردم ایران نه تنها رژيم شاه مستبد و بی رحم را سرنگون کردند ، بلکه دست غارتگر امریکا را نیز از ايران كوتاه كردند و حکومتی مستقل ، آزاد و اسلامی را با نتخاب خود ، برپا داشتند . تاثیر این حرکت دليرانه مردم ایران را می توان در فلسطین ، لبنان ، عراق ، افغانستان و برخی دیگر از کشورهای اسلامی و حتی غیر اسلامی مشاهده کرد . امام خمینی (ره) بنیانگذار جمهوری اسلامی ایران در این زمینه می فرماید : « ما در ایران به پا خاستیم که به امید خداوند متعال ، مسلمانان جهان را در زیر بیرق توحید و متعهد به احکام مترقی اسلام جمع کنیم ، دست ابرقدرتها را از ممالک اسلامی کوتاه نماییم و مجد مسلمین صدر اسلام را باز گردانیم . سلطه ظالمانه کفار را از بلاد مسلمانان برچينيم و آزادی و استقلال را به مسلمین باز گردانیم . » طرح اسلام اصیل و راستین ، از راهبردهاي اصلي انقلاب اسلامی است . متاسفانه برخی از علماي جهان اسلام ، برداشت همه جانبه و روشن بينانه اي از فرهنگ و ارزشهاي اسلام ندارند . آنها دين را از حوزه سياست جدا مي دانند و اسلام را به گونه ای متحجرانه ، راكد و يك بعدي معرفی می کنند . دولتهای غربی نیز براي تخريب چهره اسلام ، از روي عمد ، چنین برداشتی از اسلام را تبلیغ می كنند . اما انقلاب اسلامی ایران به رهبری امام خمینی (ره) از همان ابتدا اعلام کرد که اسلام ، دین سیاست و اجتماع است و مسلمانان باید فعالانه در مسایل سیاسی و اجتماعی كشورشان شرکت کنند . این واقعیت با استقرار جمهوری اسلامی در ایران ثابت شد و نظامی مبتنی بر ارزشها و تعالیم اسلام ، بوجود آمد . موج پرقدرت اسلامگرایی در جهان و شكل گيري احزاب و گروههای متعدد اسلامگرا در کشورهایی چون لبنان ، ترکیه ، عراق و الجزایر و همچنين در سرزمين فلسطين ، حاکی از ظهور و گسترش چشمگير پدیده بیداری اسلامی در جهان اسلام است . تحقق بیداری اسلامی در میان مسلمانان ، قطعاً بسیار ارزشمند است ، اما این پدیده هنگامی مؤثر و كارآمد خواهد بود که با اتحاد و انسجام امت اسلام همراه باشد . چرا که دشمنان امت اسلامی تاکنون با سوء استفاده از تفرقه موجود در اين امت ، آسيبهاي فراواني را بر پيكره جهان اسلام وارد ساخته اند . دولتهای غربی با بهره گیری از تفرقه و تشتت درميان مسلمانان ، همچنان درصدد تداوم سياستهاي استعماري خود و اشغال كشورها و غارت منابع آنها هستند . آنچه امروز در فلسطین ، عراق ، افغانستان و برخي نقاط ديگر می گذرد ، در همین رابطه قابل تفسير است . به همین دلیل امام خمینی (ره) مسلمانان را به وحدت و برادری و کمک به یکدیگر فرا مي خواند . ایشان بویژه از مهمترین دستاوردهای این انقلاب را برقراري پیوند و ارتباط هرچه مستحكمتر ميان شیعه و سنی و تشکل آنها به عنوان یک نیروی منسجم و قدرتمند دربرابر دیگر قدرتها می دانست . البته ندای وحدت طلبي انقلاب اسلامی علاوه بر امریکا و دیگر دولتهای غربی، مخالفین دیگری نیز دارد . برخی از حاکمان مستبد کشورهای اسلامي ، اتحاد و همدلی امت اسلام را به نفع خود و حکومتشان نمی دانند . همچنین تعدادی از عالمان جاهل و کج انديش و احتمالاً سرسپرده ، به جای مقابله با دشمنان مشترک مسلمانان ، مردم را به مخالفت با دیگر برادران دینی خود ، تشویق و حتی فتوای قتل دیگر مسلمانان را صادر می کنند . فجایعی که امروزه در برخي كشورهاي اسلامي رخ می دهد ، حاصل همین تفکر متعصبانه و تفرقه افکنانه است . با وجود این به موازات رشد آگاهی و بیداری اسلامی ، مسلمانان از زیانهای تفرقه آگاه شده و لزوم وحدت را بيش از پيش دریافته اند . دستاوردهاي مبارک این همبستگی و برادری را علاوه بر ایران در برخی کشورهای اسلامی دیگر نيز می توان مشاهده كرد . البته همانطور که آیت ا... خامنه ای می فرماید : « دشمنان جهانی اسلام از وحدت اسلامی و آشنایی ملتهای مسلمان با یکدیگر ، دچار وحشت شده اند . » به همین دلیل ، استکبار جهانی به سرکردگی امریکا ، همزمان با افزایش اسلام گرایی و اتحاد مسلمانان ، اقدامات خصمانه سیاسی ، اقتصادی و تبلیغی خود علیه آنان را شدت می بخشد و از طرف دیگر ، تمامی توان خود را برای مهار چشمه جوشان بیداری و اتحاد اسلامی یعنی انقلاب ایران ، بکار مي گيرد . منبع: دستاوردهای انقلاب
چند پيش بيني محتمل درمورد آينده بيداري اسلامي نویسنده : احمدرضا هدایت
تحولات رخ داده در این سال ها و بخصوص ماه های اخیر، چنان
سریع و درعین حال شگرف می نمود که به یکباره نظر انبوهی از تحلیلگران سیاسی
و غیرسیاسی را به سوی خود جلب و تحلیل های متفاوتی را از تغییرات مذکور
ارائه کرد. درحالی که گروهی رخدادهای موردنظر را ناگهانی و غیرمنتظره تلقی
می کردند، متقابلا گروهی دیگر، این تحولات را نتیجه بدیهی بی عدالتی و
رفتار غیرانسانی کشورهای سلطه گر و رژیم های دیکتاتوری در جهان می دانستند و
اگرچه بعضا قادر نبودند که زمان رخداد، گستره جغرافیایی و میزان تغییرات
را به طور دقیق پیش بینی کنند، اما تردیدی در وقوع و بروز آن نداشتند.اما با فراگیرشدن تدریجی بیداری اسلامی و انقلاب های رخ داده درسطح جهان، اینک این سؤال ها مطرح است که؛ آیا به راستی می توان حد مرز و پایانی قطعی برای این تحولات متصورشد؟ آیا نظام استکباری می تواند بار دیگر امواج خروشان این دریای متلاطم را کنترل و بر آن مدیریت کند؟ آیا دامنه این تحولات محدود به همین اندازه بوده و دیگران می توانند نتایج آن را تغییر داده و به نفع خود مصادره کنند؟ حال این سؤال مطرح خواهدشد که مهم ترین تحولات آینده جهان معاصر کدامند؟ نابودی رژیم اشغالگر قدس دراین میان شاید بتوان از احتمال تغییرات اساسی در ساختار و ماهیت وجودی رژیم صهیونیستی به عنوان یکی از بزرگ ترین این تحولات نام برد، تحولاتی که تداوم حیات این رژیم جعلی را به چالش کشیده و به یاری خدا روند نابودی آن را تسریع خواهدکرد. شواهد و قرائن حکایت از آن دارد که علاوه بر هزاران تهدید و مشکل قبلی مطرح برای رژیم خودساخته اسراییل، اینک بحران هویت، آشکارا و به طور جدی تداوم حیات این رژیم برای تحقق سرزمین یهودی از نیل تا فرات را ممکن ساخته است، رژیمی که با توسل به هزاران ترفند، تمام تلاش خود را به کار برد تا با جذب و کوچاندن معدود صهیونیست های متعصب و پراکنده در سطح جهان، کشوری مجعول را بنا کند، هم اکنون چنان از اصول اعتقادی دین یهود فاصله گرفته و در بحران بی هویتی ناشی از بی دینی و تنوع قومیت ها و نژادهای متفاوت گرفتارشده که خود به معضلی جدی و جدید در داخل تبدیل شده است.اینک شواهد نشان می دهد که پس از سالها حضور تجاوزکارانه این رژیم در سرزمین فلسطین، اصول و مبانی شیطانی این فرقه ضاله نتوانسته است بر گرایش های قومیتی و سرزمینی افراد حاضر در آن که از اقصی نقاط دنیا گردهم آمده اند غلبه کند. به رغم شعارهای فریبکارانه، تبعیض نژادی و ایجاد طبقات برتر در واگذاری مناصب دولتی و توزیع تسهیلات و امکانات و همچنین اختلاف نظرهای شدید سیاسیون و حاکمان این رژیم، براین اوضاع آشفته دامن زده و برنامه های تدوین شده حول محور مبانی فرقه ای و حزبی که برای مسخ افکار و تربیت انسان هایی کاملا مطیع و گوش به فرمان اجرا شده نیز نتوانسته است از سهم خواهی طیف های مختلف ممانعت به عمل آورد. از سوی دیگر همزمان با مشکلات اقتصادی و اجتماعی فراوان داخلی، انعکاس ابعاد مختلف رفتارهای خشونت بار صهیونیست ها برعلیه مردم مظلوم و بی دفاع فلسطین از یکسو و نزدیک شدن دامنه امواج نهضت بیداری اسلامی به نقاط مرزی این کشور جعلی، از سوی دیگر، چنان وحشتی را در دل ساکنین غاصب و فریب خورده آن ایجاد کرده است که نه تنها مهاجرت معکوس را تشدید کرده بلکه حتی مدافعان غربی و شرقی و سازشکاران و حامیان منطقه ای آنها را نیز نگران کرده و باعث شده تا برای در امان ماندن از آثار مخرب این امواج خروشان، تاحدممکن خود را از مواجهه با آن دور کنند و همین مسئله باعث شده تا مظلوم نمایی های رژیم اشغالگرقدس نیز کارایی خود را از دست داده و ماهیت واقعی این رژیم را هر روز بیش از پیش نزد مردم دنیا برملا شود. مجموعه این عوامل و دهها عامل پنهان و آشکار دیگر کافی است تا به رغم اصلاحات ظاهری که احتمالا به زودی از سوی دولت اسراییل برای همراهی مجدد ساکنین غاصب فلسطین اشغالی و فریب افکار عمومی جهان انجام خواهدشد، حداقل انزوای شدید رژیم صهیونیستی در جریان یک همراهی گسترده درسطح دنیا و با یک اتحاد فراگیر در جهان اسلام (حتی در حد بروز جنگی مانند جنگ شش روزه اعراب و اسراییل)، به یکی از پیش بینی های قریب الوقوع مبدل شود. طبیعی است که در این فرآیند، بروز هرگونه عمل جنایتکارانه توسط رژیم ضدبشری اسراییل برای برون رفت از این اوضاع آشفته، دور از انتظار نخواهدبود؛ اما بی تردید هر اقدامی برای رهایی از غرق شدن در گردابی خودساخته نتیجه بخش نبوده و تنها، اجماع جهانی برای محکومیت و منزوی ساختن این رژیم موثر واقع خواهدشد. فراگیری موج بیداری اسلامی در این میان شاید دولتمردان عربستان با اتکاء به ثروت های بادآورده و حمایت های مصلحت طلبانه غرب، خود را از بروز چنین حوادثی مصون بدانند، اما در مورد این کشور علاوه بر مشکلات فوق باید به نارضایتی های مردم ناشی از خفقان حاکم بر جامعه شیعیان و حتی سنی های غیر وهابی، آثار سوء دخالت های چندساله حکام در امور دیگر کشورهای منطقه و نقش طولانی وهابیون افراطی برای تسلط بر ارکان حکومتی و تاثیر حضور آنان بر تشدید بحران هایی که به مثابه آتش زیر خاکستر، آماده اشتعال است نیز اشاره کرد. بنابراین پیامدها و آثار رو به گسترش موج بیداری اسلامی حکایت از آن دارد که در صورت تداوم این وضعیت در کشورهای درگیر، نه تنها تسلیحات و تجهیزاتی که برای حفظ تاج و تخت آنها در اختیارشان قرار گرفته کارساز نخواهد بود بلکه حمایت های سیاسی و مشورتی اروپا و آمریکا نیز، نتیجه ای برای نجات آنها از موج عدالت خواهی و آتش خشم ملت های انقلابی دربرنخواهد داشت و چه بسا همین اقدامات با تاثیرگذاری بر چرخه تحولات بتواند به ابزاری برای سرعت بخشیدن به مبارزه علیه خود آنها و اربابانشان تبدیل و حکومتی مانند آل سعود را با شدت بیشتری سرنگون کند. تاثیر انقلاب های مردمی غالباً ارتباط دولت های سلطه گر و سلطه پذیر، محدود به روابط بین حاکمان بوده و از پایگاه و جایگاه مردم بی بهره است؛ به همین دلیل شاید در گذشته دولت های استکباری توانسته باشند در تعاملات سیاسی، اقتصادی و یا نظامی با سایر دولت های سرسپرده، منافع و موقعیت خود را حفظ کنند، اما از آنجا که حضور آنها در نقاط مختلف جهان همواره با جنگ افروزی و حمایت از دولت های غربگرا و دیکتاتور برای چپاول و غارت منابع و امکانات این کشورها و تحمیل و ترویج فرهنگ منحط غربی همراه بوده است، این حضور نمی تواند در دراز مدت با ثبات و پایدار باشد. این عملکرد وضعیتی را ایجاد کرده که علاوه بر مردم کشورهای مستضعف و محروم اقصی نقاط دنیا، مردم کشورهای غربی و اروپایی نیز با تأسی از فریاد عدالت طلبی مردم سایر کشورها، از ظلم و ستمی که سال ها از سوی حاکمان بر آنها روا داشته شده ، به خشم آمده و نابودی و تغییر حکومت های خود را فریاد بزنند. به این ترتیب، احتمال فراگیر شدن بیداری عموم ملت های تحت ستم در مخالفت با استثمار و استکبار و نظام سست و در عین حال پرزرق و برق و فریبکارانه سرمایه داری در سراسر دنیا و تبدیل این حرکت مردمی و خودجوش به یک نهضت جهانی و عمومی، سخن گزافی نخواهد بود، اگرچه در مورد کشورهایی که فاقد شرایط لازم از جمله وحدت رهبری در انقلاب باشند، احتمال تداوم حرکت های قهر آمیز در قالب جنگ های داخلی نیز وجود دارد. منزوی شدن دنیای غرب صرف نظر از اطلاعات و آمار مورد اشاره، تسلط بی چون و چرای صهیونیست ها بر ارکان نظام حکومتی غرب و بخصوص آمریکا و کارکردهای اقلیت نگرانه و ظالمانه نظام سرمایه داری که منجر به پیدایش نظام برده داری نوین و ایجاد یک طبقه محدود فوق العاده متمول و ثروتمند و متقابلا اکثریتی برخوردار از درآمد و امکاناتی محدود و نسبی و بعضاً درحد فقر در این کشورها گردید، باعث شده تا به تدریج نقاط ضعف آن برای مردم این ممالک و سایر جهانیان اثبات و با ایجاد تزلزل در پایه و اساس این نظام، شرایط برای طغیان جوامع غربی و متلاشی شدن غده چرکینی که سال ها راه تنفس ملت های مسخ شده و تحت استثمار این بخش از کره خاکی را سد کرده بود، فراهم شود. امروزه سؤال مشترک شهروندان آمریکایی و اروپایی این است که؛ با چه منطقی و تا چه زمانی باید هزینه سیاست های جنگ افروزانه سردمداران و حضور غیرقانونی و غیرمنطقی ارتش های خود در نقاط مختلف دنیا را بپردازند؟ چه کسی به آنها اجازه داده تا برای فروش بیشتر تسلیحات و تأمین منافع صاحبان شرکت ها، شهروندان خود را قربانی کنند؟ چرا باید مالیات شهروندان اروپایی صرف برنامه های غیرانسانی رژیم غاصبی شود که حمایت از او، دستاوردی غیر از تصاحب مناصب کلیدی کشورهایشان و استثمار شهروندان درجه دو سه اروپایی و آمریکایی و تحمیل هزینه های سنگین و در نهایت کاهش محبوبیت غرب در نزد افکار عمومی جهان را برای آنها درپی نداشته باشد؟ اگرچه جنبه های مثبت قابل توجهی از زندگی مدرن را نیز می توان در این کشورها ملاحظه کرد، اما اینک مردم کشورهایی که همواره به دروغ سرزمینشان برای دیگران به عنوان الگویی نوین از تمدن و آزادی و مدینه فاضله ای عاری از هرگونه مشکل برای یک زندگی عادلانه و ایده آل معرفی می شد، به ناکارآمدی این نظام در ایجاد یک زندگی انسانی و مطلوب پی برده و به همین دلیل با هر بهانه ای تلاش می کنند تا نارضایتی خود را از انبوه تبعیض ها، نژادپرستی ها و فریب کاری های دولتمردان خود بروز دهند. به همین دلیل و با گسترش دامنه بیداری مسلمانان و محرومین و مستضعفین جهان که روزبه روز بر شدت آن افزوده می شود، بتدریج امکان حضور غرب در خاورمیانه و سایر کشورهای جهان کاهش و شمارش معکوس برای انزوا و در نهایت فروپاشی نظام سلطه نیز رقم خواهد خورد. جنگ سرد جدید بین غرب و شرق ضعف ساختار حکومتی، آشکار شدن ناکارآمدی نظام سرمایه داری، بروز مشکلات عظیم اقتصادی، تشدید بحران های اجتماعی، جنگ افروزی و آثار نامطلوب حضور آمریکا در نقاط مختلف جهان، از یک طرف و دخالت در امور مختلف کشورها، تحقیر ملت ها و تنزل شدید جایگاه بین المللی آمریکا در میان افکار عمومی جهان، تحریک و حمایت مستقیم و غیرمستقیم از مخالفان زیاده خواهی و تداوم رفتار مستکبرانه دولتمردان آمریکایی برای اعمال نفوذ بر تصمیم های بخش های مختلف سازمان ملل، بیداری ملت ها و دهها دلیل دیگر، از طرف دیگر سبب شده تا این کشور به تدریج موقعیت استراتژیک خود به عنوان یک شریک مطمئن برای حکومت های وابسته را از دست داده و واقعیت امکان تقابل در ابعاد مختلف سیاسی، اقتصادی و حتی نظامی را بیش از پیش برای جهانیان و بخصوص رقبای قدر او فراهم کند. هم اکنون رقبای شرقی آمریکا و همپیمانان او نیز بخوبی دریافته اند که معدود همراهی های صورت گرفته از سوی آمریکا و غرب در چالش های جهانی، تنها رفتاری کذب برای کسب فرصت های بهتر در جهت سلطه بیشتر بر جهان بوده و این وضعیت سبب شده تا بار دیگر زمینه ها برای احیاء مجدد جنگ سرد که سال ها بر روابط آمریکا و شوروی سابق حاکم بود، فراهم شود. اما آنچه درمورد آینده جهان معاصر قطعی به نظر می رسد این که، دنیا دیگر شاهد جهانی تک قطبی یا دو قطبی نخواهد بود. منبع : روزنامه کیهان
قرآن و بيداري اسلامي خداوند تبارك و تعالي در آيه 55 سوره مباركه نور حكومت بر جهان را به مستضعفان وعده داده و صالحان و مؤمنان را جانشين و خليفه خود بر زمين معرفي ميكند. همچنين، دين آييني استوار، محكم، ريشهدار و دين و جهاني ديگر وعده الهي در اين آيه است. برداشتن خوف و ترس از مستضعفان جهان و جايگزين كردن آن با آرامش، ديگر وعده الهي است. البته بايد مسير اصلي مؤمنان، عبادت خالص براي خداوند و تلاش براي ريشهكن كردن شرك باشد. اسلام به عنوان آخرين، اكمل و اتم اديان الهي براي كسب سعادت در هردو جهان آمده و در صدر اسلام رسالت پيامبر (ص) و نزول قرآن سرافرازي مسلمانان را فراهم كرده است. به گونهاي كه تمامي جهان مجذوب و مقهور اين مكتب شدند و اين دليلي جز نفوذ نورانيت قرآن در قلبها ندارد. آنچنان كه اقبال لاهوري گفته است: نقش قرآن چون در اين عالم نشست نقشهاي پاپ و كاهن را شكست فاش گويم آنچه در دل مضمر است اين كتابي نيست چيزي ديگر است چون كه در جان رفت جان ديگر شود جان چو ديگر شد جهان ديگر شود انديشمندان ديگر اديان نيز به اثرگذاري آيات الهي بر رشد و تعالي زندگي در جهان اسلام تأكيد داشتهاند. اين مهم در آثار و انديشه متفكران غربي به خوبي ديده شده تا جايي كه گوستاولوبون ميگويد: «قابليت فنون در هيچ ملتي كه تازه حركت در مسير ترقي را آغاز كردهاند به كمال نميرسد مگر با عبور سه نسل از آن، چراكه نسل اول دوره تقليد، نسل دوم دوره تكوين و نسل سوم دوره استقلال را طي ميكنند اما در اين ميان تنها مسلمانان اين سه دوره را توسط نسل اول خود طي كردند و اين تنها به دليل روشنگريهاي اسلام و قرآن است». غرب در پيشرفتهاي علمي خود جيرهخوار اسلام و قرآن است البته تنها لوبون فرانسوي اين اعتراف را نكرده بلكه در تاريخ مشاهده ميكنيم زماني كه مسيحيت، خرافه و انحرافات فكري را كنار گذاشت و به علوم و دستاوردهاي مسلمين نظر كرد توانست رشد را تجربه كند و اين گواهي است بر اينكه در واقع غرب جيرهخوار اسلام است. حتي در جنگهاي صليبي مسيحيان با مشاهده دستاوردها و پيشرفتهاي مسلمانان به ويژه مداواي مجروحين جنگي متعجب ميشدند، از طرف ديگر مسلمان هم از عقبماندگي مسيحيان شگفتزده بودند و اين نشان ميدهد كه مسلمانان به بركت تمسك به قرآن و سنت رسول الله در آن گامهاي بزرگ علمي را برداشته بودند و اين ادعاي ما نيست بلكه اذعان خود غربيان عليرغم علاقه به رشد جهان اسلام است. با اين وجود به دليل غفلت مسلمانان از اسلام، قرآن و معارف ناب آن، دوران سرشكستگي و خفتشان آغاز شد كه مهمترين دليل اين غفلت، اعتماد به يهود و نصارا بر خلاف تأكيدات صريح قرآن بر عدم دوستي با اين دو قوم بود و قرآن كريم در مورد زيادهخواهيهاي آنان ميفرمايد: اي پيامبر يهود و نصاري هيچگاه از تو راضي نميشوند مگر اينكه از آيين آنها پيروي كني. (بقره آيه 120). قرآن بارها تأكيد كرده است كه با يهود و نصارا دوستي نكنيد چراكه آنها زماني احساس آرامش ميكنند كه مسلمانان تحت اختيار كامل آنها باشند. متأسفانه در شرايط كنوني و در ميان كشورهاي اسلامي تنها ايران اسلامي است كه به بركت انقلاب و رهبريهاي هوشمندانه و مدبرانه مبتني بر اسلام ناب محمدي، توانسته در برابر جهان استكبار بايستد و ديگر كشورهاي مسلمان متأسفانه ايادي و ابزار انتفاعي آناناند. ريشه كني حكومت جور آيات متعددي در قرآن مسلمانان را به صراحت مخاطب قرار داده و آنان را به مبارزه با ظالمان، البته بر مبناي انديشهاي خدايي و پاك دعوت ميكند. از سوي ديگر آنها را به توكل و صبر در راه خدا و تلاش براي كسب رضايت الهي در مسير نبرد با ظالمان زمان تشويق ميكند. اين يعني كه در هر مبارزهاي عليه ظالمان بايد تسلط جهاني دين الهي، جانشيني صالحان بر زمين و براندازي حكومتهاي ظالمانه هدف اصلي باشد البته دوري از سستي و رخوت هم در كنار الگوگيري از روش قرآن در اين مسير بايد اصلي اساسي باشد: «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَ الَّذِينَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» (آيه 29 سوره مباركه فتح). براين اساس بايد نسبت به كفار و مشركان سخت بر خورد كرده و با يكديگر بر مواضع لطف و مهرباني بود. سرنوشت حكومتهاي ستمگر قرآن انظلام يعني پذيرفتن ظلم را نهي كرده و مظلومين مقصر را حتي بعد از مرگ معذب ميداند، چرا كه انسان به عنوان خليفه الهي بر زمين نبايد زيربار ظلم و ستم برود و خداوند در قرآن چه زيبا نتيجه چنين مبارزهاي را ترسيم كرده وقتي ميفرمايد: «اگر خداوند بعضي را به وسيله بعضي ديگر دفع نميكرد زمين از فساد و تباهي انباشته ميشد.» از اين رو ميتوان فهميد كه خداوند اراده كرده است تا ظالمان زمان به دست خود مردم دفع شوند: «إنَّ اللهَ لَايُغَيِّرُ مَا بِقَومِ حَتّي يُغَيِّرُوا ما بِاَنْفُسِهِمْ». البته در اين ميان رضايت الهي و سلطه دين الهي بر زمين با پرهيز از سستي در اين مسير هم بسيار مهم است. روشهاي قرآن در اين مسير بايد مدنظر باشد. «وَ قاتِلُوهُمْ حَتّي لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّهِ»0يعني بجنگيد با دشمنان تا فتنه نباشد و از روي زمين برداشته و دين خدا جايگزين شود كه اين هدف بالاتر از سلامت موجودات و رفاه آنان است و آخرين دين ابلاغي از سوي خدا بايد بر همه اديان تفوق پيدا كند و دين و روش غالب باشد و اين وظيفه همگاني است و هدف از اين مبارزات هم اين است. قرآنكريم در آيات متعدد بر مجاهده و جنگ با ظالمان به منظور ريشه كن كردن فتنهها و تثبيت حكومت حق تأكيد ميكند. پرهيز از بروز انحراف جنبشهاي آزادي خواهانه جهان اسلام براي حركت در مسير صحيح بايد رهبران ظالم را پيروي نكنند و نبايد پا جاي پاي گذشتگان گذاشت. متأسفانه سابقه اين اتفاقات در جهان اسلام بسيار است يعني در بسياري از موارد به هدر رفت خون شهداي انقلابها و نهضتها انجاميده است. خداوند در آيه 8 سوره مباركه مائده ميفرمايد: «يا اَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُونُو قَوّامِينَ لِلّهَ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَ لَايَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَي اَلَّاتَعْدِلُوا اعْدِلُوا هَوُ اَقْرَبُ لِلتَّقْوي وَ اتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِما تَعْلَمُونَ». خداوند در اين آيه بر عطوفت، عدالت، برادري و حفظ كرامت نساني در جهاد با محور قرار دادن رضاي الهي تأكيد ميكند؛ يعني بايد از تجاوز به حقوق ديگران پرهيز شود، بايد رحمت و مهرورزي جايگزين شود تلاش و كوشش و جهاد براي اصلاح و رشد جامعه اولويت داشته باشد، البته در مسير رضاي الهي. در عين حال نبايد به افراد ستمگر، يعني كساني كه اسلام و مسلمين را به خفت و زبوني كشيدهاند تمايل داشت وگرنه دچار عذاب ميشويد. در مراحل بعدي بايد كساني حكومت را بر عهده بگيرند كه آلوده به ظلم و ستم نباشند. البته مسائل مختلفي مثل دوري از قوميتگرايي، توجه به تلاش دشمنان داخلي و خارجي براي سركوب و انحراف جنبشهاي اسلامي بايد مدنظر باشد چون استكبار به راحتي از ميدان خارج نميشود بلكه نقشههاي بسيار ميكشد و وقتي از پس ملتها بر نميآيند نقشه ميكشند تا مهرههاي دست نشانده خود را در رأس قرار بدهند، كه اگر چنين شود انگار نه انگار كه نهضت و انقلابي آزادي خواهانه رخ داده باشد. استكبار براي تحقق اهداف خود از چهرههاي دست نشانده و مقبول در ميان مردم استفاده ميكند. خنثي سازي توطئههاي دشمنان بايد از به كار گرفتن اسلام ستيزان و ايادي كفر و شرك و استكبار پرهيز كرد و گرنه عذاب الهي اتفاق ميافتد. از سوي ديگر بايد با انتخاب رهبري عادل و آگاه فتنههاي خارجي را در كنار گمراهيهاي داخلي كنترل كرد چرا كه استكبار خارجي به راحتي و با استفاده از مهرههاي دستنشانده خود در داخل كشورهاي اسلامي كه عمدتاً از چهرهاي مقبول نيز برخوردارند براي تحقق اهداف خود استفاده ميكند و در بعضي موارد آنچه را ميخواهد با پوشش مقبول اسلامي به اسلام و مسلمين تحميل ميكند. اين مسأله به خوبي در جريان انقلاب الجزاير پس از بيرون راندن فرانسويان مشهود است يا در انقلاب مصر كه انور سادات و حسني مبارك ياران عبدالناصر رهبر انقلاب مصر بودند كه مهره هاي آمريكا از آب درآمدند كه زمام امور را در دست گرفتند و اهداف استكبار را به بهترين وجه تأمين نمودند و همان خفتهاي گذشته را به جامعه اسلامي تحميل كردند و اينچنين مهرههاي استكبار جايگزين چهرههاي قبلي ميشوند يا به عبارتي «آش همان آش و كاسه همان». با كمي عقبتر رفتن و مطالعه تاريخ امويان و عباسيان نيز همين اتفاق مشاهده ميشود پس از رحلت پيامبر(ص) در مدتي كوتاه بني اميه در لباس خليفه مسلمين و در باطن با اهداف و رويكردهاي دوران جاهليت روي كار آمدند يعني تجملگرايي، ظلم و ستم و تضييع حقوق مسلمين تجديد شد و دوباره كسريها و قيصرها احيا شدند و اين همان اسلام اموي و به تعبير امام خميني(ره) در زمان ما اسلام آمريكايي است. خوشبختانه مهرهچيني اسكتبار در انقلاب شكوهمند اسلامي ايران با بهرهگيري از آموزههاي قرآن و اهل بيت عصمت و طهارت(ع) و زيركي و تدبير امام خميني(ره) شكست خورد و به بار ننشت. اسلام اموي يعني نوكري كردن و تبعيت از دستورات ظالمان زمان. از اين رو مبارزان اسلامي بايد دقت كنند كه مستكبران با نقشههاي خود مسلمين را دور نزده و همان روشهاي قبلي را پياده نكنند. در اين ميان ميتوان با اتخاذ تدابير ويژه توطئههاي دشمنان داخلي و خارجي را دفع كرد آنچنان كه خواجهنصيرالدين طوسي در زمان شكست آخرين خليفه عباسي از هلاكوخان مغول، اين تدبير را به كار برد كه جريان آن در تاريخ آمده است و نشان ميدهد بعضي افراد حتي با فروپاشي حكومتهاي خودكامه باز هم آنها را بحق ميدانند و خليفه ظالم و مستبد را خليفه خدا و مجازات و قتل او را مقدمه خشم خدا و نزول عذاب الهي ميدانستند. خوشبختانه الان جهان اسلام شفابخشي فرمول جمهوري اسلامي ايران براي رهايي از دست ظالمان را دريافته و در پي ايجاد علوي به جاي نوع اموي آن است. رسالت مسلمانان آيات متعددي در قرآن بر اتحاد و همبستگي مسلمانان و حمايت از يكديگر در برابر ظالمان تأكيد دارد يعني حمايت از يكديگر از مسائل اصولي و حياتي در اسلام است. «يَا اَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَاتَمُوتُنَّ إِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ» «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا...» اي كساني كه ايمان آوردهايد حق تقواي خدا را به جاي آوريد...» و در ادامه بر تقوا و تمسك به ريسمان الهي تكليف شده است كه اسلام، قرآن و عترت(ع) تعابير در نظر گرفته شده براي ريسمان الهي است. تأكيد بر پيامبر اسلام بر همكاري مسلمانان با يكديگر به عنوان يك روح در قالب چندين پيكر كه در شعر سعدي «بني آدم اعضاي يك پيكرند كه در آفرينش زيك گوهرند...» به خوبي نظم يافته، بايد مورد توجه قرار گيرد نگاه قرآن و سنت در اين زمينه به خوبي واضح و روشن است و ريشه كن كردن فتنهها از زمين ممكن نميشود مگر با همدلي و همكاري و همياري مسلمانان. وظايف مسلمانان نسبت به يكديگر «وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ» يعني گسترش فتنه روي زمين از قتل و كشتار هم بدتر است از اين رو در اين مسير بايد به دو نكته اساسي توجه داشت نخست افشاي توطئههاي دشمنان از طريق آگاهيدهي به مسلمانان و مستضعفان جهان، از سوي ديگر بنابر نص صريح قرآنكريم بايد از جهادگران حمايتهاي مختلف مادي و معنوي كرد تا آنها از ادامه مسير خود دلسرد نشده و با جديت پيش بروند. بايد با تبليغات گسترده، توطئههاي دشمنان براي سركوبي مظلومان و مسلمين و مستضعفان را آشكار و نقشههاي پليد آنها را رو كرد. همچنين انفاق براي حمايت مالي از جهادگران از دستورات صريح قرآن است. در قرآن آيهاي به طور خاص براي انفاق در مسير جهاد عليه دشمنان وجود دارد. ايران به عنوان يك كشور مستقل و مطرح در جهان كه كمتر كشوري از اين ويژگي ها برخوردار است و به ارزشهاي اسلامي توجه و تأكيد دارد، در كنار حمايت از مسلمين و مستضعفان، با اين نگاه قرآني و برگرفته از عترت(ع) همچون وصيتنامه اميرالمؤمنين(ع) خطاب به حسنين(ع) ميفرمايند: «كونالظالم خصما و للمظلوم عونا» يار مظلوم وخصم ظالم باشيد يعني صرف نظر از قرآن در سنت ائمه معصومين (ع) تكليف ما كاملاًمشخص شده است. در جهان امروزِ اهل سنت، فرمول شيعي است كه برادران اهل سنت در عمل به كار گرفته اند و نگاههاي سرسپردگي و نوكرمآبانه جايي در اين سنت ندارد. تنها از اين طريق مي تـوان دامنه مبارزات عليه استكبار را گسترش داد كه خوشبختانه جمهوري اسلامي ايران به عنوان كشوري مسلمان و مستقل در اين مسير گامهاي مؤثري برداشته است. نگاه اهل بيت(ع) به ياري مظلومان و دشمني با ظالمان معطوف است و در مقابل برخي مسلمان نماها با اعتقاد به اين مسأله كه مسلمانان نبايد بر حاكمان خود حتي در صورت اعمال ظلم بشورند در راستاي خدمت به صهيونيست و استكبار جهاني حركت ميكنند و خروج بر حاكم فاسق ، فاسد و ظالم را از وظايف مسلمانان نميدانند. بلكه مذموم و ناپسند ميشمرند و چه بسا در بازار انگ مشرك زدنشان، اين حق خواهان امروز جهان اسلام را مشرك بدانند و اين نگاه همان نگاه وهابيت و در راستاي نگاه امويان و عباسيان در صدر اسلام است. نبايد به اسم تقيه و به بهانه عدم دخالت، از ياري مسلمانان مظلوم سرباز زد. بايد توجه داشت كه در حال حاضر مسلمانان جهان بيشترين انتظار را از نظام اسلامي ايران دارند. الان مسلمانان در نقاط مختلف به ويژه در بحرين كه اعتراضات مسالمت آميز مردم به خاك و خون كشيده ميشود نيازمند همكاري، همراهي و همفكري ما هستند. اگر مصالح ايجاب ميكند كه صريح وارد ميدان عمل نشويم بايد مدبرانه و هوشمندانه فراتر از چيزي كه هست عمل كنيم و با در نظر گرفتن همه جوانب امر همه جانبه مساعدت و كمك كنيم. همان طور كه شجاعت زياد تهور خوانده ميشود، احتياط زياد، به ترس تعبير شده و عوارض سوئي را در پي خواهد داشت. بيان اين جمله از سوي مقام محترم ديپلماسي كشور در وقايع اخير جهان اسلام كه ما تا كنون در كشوري دخالت نكردهايم، نميكنيم و نخواهيم كرد مبتني بر انديشههاي اسلام ناب محمدي و در شأن ايران اسلامي نيست. چگونه است كه جهانخواران با همه عِده وعُده در كشورهاي اسلامي دخالت ميكنند و براي براندازي حكومت اسلامي علني بودجه تخصيص ميدهند و آن را اعلام ميكنند اما ما با اين همه تأكيدات قرآنكريم بايد اين گونه سخن بگوييم؟ البته بايد تدبير و احتياط را در نظر داشت و با صراحت هر حرفي را نزنيم. بعيد نيست با بيان اين گونهاي و به اين صراحت رعب و وحشت كفار و مشركان از مؤمنان – كه وعده خداوند در قرآنكريم است – را به آرامش تبديل كنيم و چه بسا مسلمين و مستضعفين جهان با تلقي از دست دادن ستون و پشتيباني چون ايران اسلامي ، احساس نگراني و ترس كنند و در پيگيري و استمرار مطالباتشان كوتاهي و سستي نمايند. بعضي راهكارها براي مقابله با دشمنان را ميتوان از خودشان ياد گرفت. به لقمان گفتند «ادب از كه آموختي *** گفت از بي ادبان» آنها طي 32 سال عداوت و ستيزه با انقلاب اسلامي هيچ وقت بياني نداشتهاند كه ما را آسوده خاطر كند. همواره با علم به اينكه ميدانند توان مبارزه با ايران اسلامي را ندارند و جنگ افروزي عليه انقلاب اسلامي مقدور نيست سياست چماق و هويج را رها نكردند و با گفتن اينكه گزينه جنگ روي ميز است، گزينه كذا در كشوي ميز است و گزينه بهمان زير ميز است و ... مسلمين و حق پرستان را در ترديد و دو دلي و حالت برزخي نگه داشتهاند. تقيه و مصلحتانديشي كه از اصول اسلامي است و برگرفته از آيات قرآنكريم و روايات اهل بيت عصمت و طهارت (ع) است بايد در مرتبه مصلحت مسلمين باشد و تا در مراتب بالاتر تقيه ممكن است نبايد مرتبه پايينتر و احياناً كف تقيه را برگزيد. چقدر خوب و پسنديده است كه اعضاء محترم شوراي عالي امنيت ملي و مسئوولان محترم ديپلماسي كشور كه تلاشهاي شبانه روزيشان بركسي پوشيده نيست به منظور دستيابي به اهداف مقدسشان همواره قران را بخوانند و با آن مأنوس باشند و بهرهگيري از كلام الهي را در كارهاي حساس و خطيرشان همواره مدنظر داشته باشند كه پيامبر مكرم اسلام (ص) فرمود: «اذا التبست عليكم الفتن كقطع الليل المظلم فعليكم بالقرآن». آن هنگام كه فتنهها مانند شب تار شما را در برگرفت بر شماست كه به قرآن پناه ببريد. منبع : http://www.telavat.co m نوشته : استاد محمد خواجوی صحبت از بیداری اسلامی است. پدیدهای که در عرصه اندیشه و عمل، بخش عظیمی از پویش اندیشه اسلامی را به خود اختصاص داده است. این امر باعث شده است بیداری اسلامی از لحاظ عناوین که در صحنه دامن زده، مشکلاتی که ایجاد کرده، چالشهایی که فراروی آن قرار دارد یا دستاوردهایی که بدست آورده است، سؤالهای بسیاری پیرامون آن در دنیای بشری ایجاد شود. سؤال این است که آیا این بیداری توانسته است انسان را وارد دنیای جدیدی نماید که دادههای فکری و سیاسی و اقتصادی آن با گذشته فرق مینماید و در باب آزادی و عدالت مسائل اساسی او را تبلور ببخشد و در حرکت به سوی توازن، به او اصالت ببخشد؟ آیا بیداری اسلامی توانسته است که به مسأله ظلم بپردازد که در سراسر زمین پراکنده است تا اینکه از نحوه رویایی با آن سخن بگوید، مسأله بندگی را مطرح نماید و نحوه فائق آمدن بر آن را بیان نماید و به مساله جهل و راه حلهای آن و عقب ماندگی و امکانات خروج از آن بپردازد و اینکه آیا بیداری اسلامی در حد و اندازه چالشهای مطرح شده از سوی اندیشه دیگر و واقعیتهای مخالف میباشد یا نه؟ آیا بیداری اسلامی توانسته است به اهداف خود برسد یا نه؟ آیا توانسته است خود را به عنوان جایگزین وضعیت حاکم بر دنیا مطرح نماید یا نه؟
بیداری اسلامی، آغاز و شکلگیری سیمای بیداری اسلامی و ابعاد فکری آن برای روبرو شدن با این نوع سؤالات، ابتدا باید ماهیت بیداری اسلامی و میزان حضور آن را در عرصه واقعیت درک کنیم تا بتوانیم سیما و ابعاد فکری و نتایج و دستاوردهای آن را تشخیص دهیم. از این رو باید پرسید که ماهیت و میزان حضور بیداری اسلامی چیست؟ وقتی که به دنیای اسلام نگاه میکنیم میبینیم که در نوعی رکود به سر میبرد و اندیشه غرق در مسائل حاشیهای و جزئیات است که بالندگی آن را از بین میبرد. زیرا توجه آن فقط به میراث است و نه حرکت و پویایی. پرداخت اندیشه به مسائل و مشکلات ذهنی نیز غرق در ذهن گرایی است که حاصل اندیشههای جدالی میباشد. اندیشه¬هایی که اگر در جایی چشم انداز روشنی برای آن وجود دارد، در جایی دیگر گرفتار ابهام و تاریکی و ظلمت میباشد. همین امر باعث شده است که بعضیها اسلام را در چارچوب عبادات و اخلاق عمومی و احکام فردی، آن هم به دور از مسؤولیتهای سیاسی و جهادی مطرح کنند. همین طور بعضی دیگر با اینکه به فراگیری اسلام عقیده دارند، اما پویایی آن را محدود کنند و در انتظار آخر الزمان بنشینند. آن هم به این دلیل که شرایط زمانی اجازه اجرای احکام آن را نمیدهند. گروه سوم نیز بر این عقیده هستند که دوره اسلام همه جانبه گذشته است. زیرا دورانهایی که انسان طی کرده است، او را با اوضاع تازهای روبرو کرده است که اسلام درعصر شکلگیری و حرکت گذشته خود با آن روبرو نبوده است. از این رو اسلام باید از نقش خود به نفع اندیشه تازهای دست بردارد که در بردارنده مشکلات تازه انسان هستند. در این صورت به جای اینکه اسلام منبع اعتقادات و قوانین شود، صرفاً به منبعی برای اندیشهها و ارزشهای کلی انسان تبدیل میگردد. علاوه بر این، اندیشه اسلامی از غیب گریزان میشود. به این ترتیب انسان میتواند بین اندیشه اسلامی و اندیشه غربی که به واسطه ضعف و قوتهای موجود، خود را بر عرصه سیاسی تحمیل کرده است، وفاق ایجاد نماید تا این مسأله مطرح شود که اسلام با دستاوردهای تازه اندیشه انسانی و پیشرفتهای علمی همخوانی دارد و برای انسان مسلمان معاصر این مسأله به یک معیار تبدیل میشود. این گرایش نشان دهنده عدم اخلاص اینان به اسلام نیست بلکه به خاطر ذهنیت حاصل از شیفتگی در برابر تمدن غرب است و خواستشان این است که اسلام در عرصه تفسیر قرآن و جهت دادن به شریعت، از دستاوردهای جدید استفاده نماید. همزمان با شکلگیری این اندیشه تلفیقی، اندیشه انقلابی دیگری نیز شکل گرفت که هدف آن از بین بردن اندیشه عقب ماندهای بود که اسلام را از عرصه زندگی و رویارویی دور کرده بودند. در این رویارویی به خاطر یورش همه جانبه استکبار غربی مبتنی بر کفر و الحاد بر پایههای سیاسی اسلام، اسلام از عرصه حکومت و قانونگذاری بیرون شده بود تا اندیشه مسلمین از اسلام دور شده و به سوی ملی¬گرایی و قوم¬گرایی سوق یابد. به این ترتیب مسلمانان آگاه برای ایجاد یک حرکت اسلامی سیاسی برنامه ریزی کردند که سعی دارد اسلام را به عرصه عام زندگی در جنبههای اندیشه و قانونگذاری و جهاد بازگرداند. این حرکت اسلامی توانست در کشورهای اسلامی، زمینه فعالیتهای سیاسی و فکری را فراهم آورد تا این حرکت به حرکتهای گوناگونی که از نظر ذهنیت و جزئیات تشریعی و نگرش سیاسی تفاوت داشتند، تبدیل شود. ولی همه اینها نیز نتوانست جامعه اسلامی تحت سیطره استکبار را به حرکت وادارد تا اینکه بر اساس قواعد فکری و سیاسی اسلامی به آزادی و استقلال دست یابد. زیرا این حرکتها بر اندیشههای جدید غربی در عرصه سیاسی متکی بودند. به همین دلیل شاهد بروز انقلابهای قومی و ملی و مارکسیستی در جاهای گوناگون بودیم. اما جنبش اسلامی بیش از اینکه در درگیریهای سیاسی حضور داشته باشد، گرفتار درگیریهای فکری بود. در این بین اگر به بعضی از نقاط قوت نیز دست یافت، رسانههای تابع غرب سعی کردند که آن را از صحنه دور کنند و دستگاههای جاسوسی نیز کوشیدند که با دامن زدن به نابسامانی داخلی، اسباب تضعیف آن را فراهم کنند و آن را از تأثیرگذاری بیندازند. در چنین فضای متزلزلی، جنبش اسلامی دچار بعضی مشکلات و ضعفهایی مانند انقلاب زدگی و سیاست زدگی گردید و این باعث شد که از سوی دستگاههای حاکم وابسته به غرب و ذهنتیهای غربزده که قائل به جدایی دین از سیاست و جلوی دخالت اسلام در سیاست را میگرفتند یا ذهنیتهای عقب افتادهای که اسلام به دائره عبادات محدود دانسته و آن را از عرصه عمومی زندگی دور میدانستند، به محاصره در آمد.
تولد بیداری اسلامی اما انقلاب اسلامی به رهبری امام خمینی، توانست که در تحقق هدف مرحلهای خود به صورتی گسترده با امت اسلامی وارد تعامل شود و حکومت شاهنشاهی را که نماینده استکبار آمریکایی در ایران به شمار میرفت و میخواست روح اسلامگرایی را به سود روح کفرگرایی که با دوران مجوسیگری و زردشتیگری پیوند داشت، ساقط نماید. سقوط این دولت به عنوان پایگاه قوی کفر و استکبار، توسط اسلام انقلابی برخاسته از مرجعیت دینی که از جایگاه مسؤولیت به همه زندگی نظر دارد، صدمه قوی بود که توانست زلزله ایجاد نماید و علامت سؤال بزرگی را برای همه دنیا در باره توان انقلاب آفرینی اسلام و انسان سازی و مقابله با چالش آفرینی دیگران و توان رویارویی، تحریکگری و تداوم ایجاد نماید. این انقلاب باعث شد که مسلمانان توان انقلاب آفرینی و پاسخگویی به چالشها و چالش آفرینی و دولت سازی به خاطر خودکفایی در قانونگذاری اسلام بر اساس خط اجتهاد را درک کنند. این امر اعتماد مسلمانان به توان رهبری اسلام را زنده کرد و حس سیاسی متبلور در حس اسلامی آغازیدن گرفت. مسلمانان به این فکر افتادند که انقلاب ممکن است نزدیکترین راه برای برپایی دولت اسلامی باشد و در باره فرایند اصلاحات در برابر فرایند تغییر همه جانبه که عنوان انقلاب و شورش در برابر منافع استکباری در کشورهای اسلامی را برگزیده است، به گونهای منفی صحبت کردند. به این ترتیب بیداری اسلامی متولد شد که چشم مسلمانان را از خواب بیدار کرد. از این رو نوری را دیدند که اندیشه و خیزش اسلام را فراگرفته است. همین طور مسلمانان را از غفلتی که بر خردها و دلهایشان سایه افکنده بود دور نماید و آنان را واداشت که به سوی با تمام توان به سوی مواجهه با چالشها بشتابند. توانی که به مصاف خطرها میرفت، جراحتها را به جان میخرید، دردها را تحمل میکرد و با صبر و اخلاص مشکلات جهاد را پذیرا میشدند. مسلمانان به فکر ناگواریهای جامعه اسلامی در باب آزادی و عدالت افتادند که تابع برنامه ریزیهای اندیشه غربی غیر اسلامی بود. میگفتند که ضرورت دارد بر اساس مفاهیم اسلامی حرکتهای انقلابی صورت گیرد تا اینکه انسان مسلمان، اندیشه و عمل و نظریه و اجرایش یکی شود. طوری نباشد که در عبادت مسلمان و در سیاست کافر باشد و از راه منحرف باشد. با توجه به این تلاشها، پرده از باورهای فکری و معنوی مسلمانان برداشته شد و مسلمانان نسبت به اندیشههایی که مطرح میشد، تبلیغاتی که در جوامعشان جریان داشت، بیمها و هراسهایی که دامن زده میشد و طرحهایی که برایشان طراحی میشد، هوشیار شدند تا اینکه به صورت آگاهانهای فکر کنند و همه آنها را در چارچوب اندیشههای اسلامی و احکام دینی مورد مناقشه قرار دهند و در وابستگی و موقعیت و حرکت و تداوم، از استواری برخوردار شوند. به گونهای که در اندیشه و موضعگیریشان هیچ انحراف و خللی وارد نیاید. با این روح تازه که به دور از چارچوبهای حزبی تنگ و حرکات سیاسی محدود، اسلام را به جریانی خروشان و موجی پر سر و صدا تبدیل کرد، این دوائر پراکنده در دنیای اسلام توسعه یافتند و آغازیدن گرفتند و پویش حاصل کردند. به گونهای که عموم امت اسلامی حرکت کردند و رهبران خود را مجبور کردند که به صورتی عمیقتر و گستردهتر به آنها توجه کنند. زیرا نیازهای آن خیلی گسترده از گذشته شده بود. چه بسان مردم توانستند که در موضعگیری و حرکت از رهبران خود نیز پیشتر بروند. وضعیت به گونهای شد به جای اینکه مردم به رهبران بپیوندند این رهبران بودند که به مردم ملحق شدند. انقلاب اسلامی ایران خاستگاهی برای حرکت و کارامدی و تأثیرگذاری مستقیم و غیر مستقیم این بیداری روی دنیای اسلام شد. خصوصاً بعد از اینکه انقلاب به دولت تبدیل شد باز هم از خط انقلاب فاصله نگرفت و در چالشهای بین آگاهی و عقب ماندگی به جایگاه مهمی را از آن خود کرد.
تعصب مانع بزرگی است کم کم اندیشههای ارتجاعی و عقب ماندگی به سوی مراکز بیداری یورش آورد و استکبار شروع به برنامه ریزی برای به کنترل در آوردن این وضعیت نمود و اندیشههای مخالف نیز کوشیدند که در برابر این تحول استثنایی جدید، زمام امور را به دست بگیرند. تحولی که توانسته بود تودههای مردم را به سوی اسلام بازگشت دهد. البته به خاطر خلأی که در نبود اسلام انقلابی ایحاد شده بود، این اندیشههای اسلامی نیز توانستند بعضیها را به دور خود جمع کنند و به سرعت به بسیاری از علامتهای سؤال حاصل از مشکلات انسان معاصر پاسخ دهند. یکی از نشانههای واپسگرایی و عقب ماندگی، اندیشههای فرقه گرایی است که به صورت تعصب آمیزی ارائه میشوند و مجال گفتگوی منطقی در باره مسائل اختلافی مذاهب در باب عقیده و شریعت را نمیدهند. بلکه سعی میکنند تا مراکز مذهبی را به صورت متحجرانهای تحریک کنند و به هیچ جدال و مناقشهای مجال ندهند و هر کسی را که بخواهد در باره مسلمات مذهبی سؤالی را مطرح نماید یا به روش قرآنی که انسان را وامی دارد که در طرح قضیه و جدال با دیگران بهترین روش را برگزیند، رفتار نماید، سنگ باران کنند. در پرتو این شرایط بود که استکبار کوشید از ذهنیت عقب مانده متحجری که به لوازم و ابزارهای گفتگو باور نداشت استفاده برده و پیرامون انقلاب اسلامی دست به ابهام زایی بزند و آن را به مذهب گرایی متهم نماید. اینکه این انقلاب، اسلامی نیست بلکه انقلابی شیعی است که سایر مسلمانان هیچ نقشی در آن و مفاهیم آن و خاستگاههای آن ندارند. زیرا تشیع گرفتار غلوهای بسیاری است که از مبانی اساسی اسلام فاصله گرفته است. استکبار از طریق بعضی از همین دوائر تنگ و محدود مذهبی اسلامی کوشید که به محدود سازی انقلاب اسلامی بپردازد و آن را به جزئیاتی مشغول سازد که روحیه انقلابی را از بین میبرد و حرکت اسلامگرایان در خط تغییر را مصادره مینماید تا اینکه آنان نتوانند به مصاف کسانی بروند که مستکبران کافر آنان را پاسداران اندیشهها و امتیازها و منافع خود قرار دادهاند و در برابر این خدمت زمینه پادشاهی و امیری و ریاست بر کشورهای اسلامی را برایشان فراهم ساختهاند. هر چند که این امر به ضرر اهداف بزرگ اسلام در زندگی باشد.
مشکلات و موانع گفتمان سیاسی و فکری اما باید توجه داشت که گفتمان سیاسی بیداری اسلامی از حیث جزئیات گوناگونی داشته و در بردارنده اندیشههای متعددی بوده است و روش خشونت آمیزی را برای خود برگزیده بود. به گونهای که خشونت به یکی از ویژگیهای خط انقلابی بیداری تبدیل گردید و روش هجومی به امری درونی و بیرونی مبدل شد و وضعیت به گونهای شد که سخن گفتن آرام و منطقی در باره قضایای گوناگون نشان دهنده شکست بود که انقلاب آن را رد میکرد. کسانی که حرکت خیزش جوشان بیداری اسلامی را زیر نظر داشتند، توانستند برای محتوای فکری آنکه از اندیشه اسلامی یکپارچه یا سطح فکری معقولی نشأت نگرفته بود، نقاط ضعف بسیاری را برشمارند. چرا که برنامه ریزی انقلابی برای یکپارچه سازی ایدههای فکری یا حفاظت از برجستگی خاص سردمداران آن صورت نگرفته بود. همین امر باعث گردید که تصویر بیداری اسلامی در ذهن کسانی که جذب موضعگیریهای انقلاب شده بودند ولی در برابر اندیشه انقلاب دچار تحیر شده بودند، متزلزل گردد. زیرا نمیدانستند که این اندیشه از کجا نشأت گرفته است؟ مبنای غیبی دارد و یا حسی و یا هر دو؟ فرایند توزیع چگونه خواهد بود؟ مبنای دیگری که در آن دیگران استثنا به شمار میآیند، کدام است؟ غیر از اینها سؤالهای دیگری نیز وجود داشت که باعث تحیر عقلی میشد. خشونت نیز مشکل کسانی بود که سیمای انقلابی بیداری اسلامی را دوست داشتند و اصل آن را رد نمیکردند. زیرا میدیدند که زندگی نیازمند آن است. در چالشها، زبان مدارا در برابر زبان خشونت رنگ میباخت. از این رو چارهای غیر از خشونت وجود نداشت. این خشونت بود که مخالفان را تضعیف میکرد و آنها را به شکست وامی داشت. از سوی دیگر جنبش اسلامی نیز به این خشونت نیاز داشت تا به دیگران نشان دهد که نباید از قدرت دیگران هراس داشته باشند. چرا که اسلام نیز قدرت مقابله با آنها را دارد. هدف این بود که مردم در فرایند انتخاب خود، با توجه به قدرتی که در دیگران میدیدند، از موضعگیریهای اسلامی دور نشوند. آنان خشونتی را که در طبیعت وجود دارد، از قبل توفانها و خروش امواج و بالا آمدن آبها و زلزله را که هستی بدانها نیاز دارند، رد نمیکنند. ولی استفاده از خشونت در همه جا و با همه مردم را به عنوان یک قاعده فراگیر رد میکنند. زیرا ممکن است که مدارا در جایی کارایی داشته باشد که خشونت چنین کارایی را نداشته باشد. همین طور بعضی از مردم دلشان جز با کلمات آرام و عاقلانه و اندیشههای منطقی و متوازن باز نمیشود. آنان در فضایی آرام و منطقی بودن اندیشه پذیرای این حرفها میشوند. آنان میافزایند که اسلام مدارا را اساس روش و حرکت برگزیده است. مگر در جایی که انسان مجبور به استفاده از خشونت شود. این حقیقت در این حدیث مأثور نیز آمده است: «مدارا بر چیزی قرار نداده شد مگر اینکه بدان وزانت بخشید و از چیزی برداشته نشد مگر اینکه آن را سبک خواست.» و «خداوند مداراگر است و مدارا را دوست دارد و چیزی را که به واسطه مدارا میدهد به واسطه خشونت نمیدهد.» اینان تأکید میدارند که انقلابی بودن به معنای بیان کلمات درشت و اتخاذ روشهای خشن نیست بلکه باید از عناصری استفاده کرد که درتغییر دادن اندیشهها و موضعگیریها سهیم باشند. باید از روشهای حکیمانهای استفاده شود که شرایط عینی زندگی و انسان را مورد بررسی قرار دهد و نتیجه بخش باشد.
بیداری اسلامی حاصل اجتهادهای گوناگون است اما کسانی که از جایگاه رهبری روند بیداری اسلامی را پیگیری میکنند، با این منطق به این انتقادات پاسخ میدهند: ما نیز موافقیم که فقدان وحدت فکری در گفتمان اسلامی مشکل دشواری برای موافقان و مخالفان اسلام به شمار میآید. زیرا باعث میشود که موافقان نتوانند در باب وابستگی اعتقادی و التزام فکری، اندیشه اسلامی را به خوبی فرابگیرند و همین طور مخالفان نیز نتوانند این حرکت جدید را فهم کنند و اندیشهها و موضعگیریهای آن را مورد مناقشه قرار دهند. گاهی موضعگیریهایی مورد نقد قرار میگیرند که موضعگیریهای حقیقی آن به شمار نمیآیند. زیرا تصویرهایی که از این حرکت تبارز یافته است به رهبران آن مربوط میشوند. اسلامگرایان به خوبی این مشکل را درک کردهاند ولی به این نکته مهم نیز اشاره میدارند که بیداری اسلامی خاستگاه محدود و مشخصی ندارد که حرکت خود را در چارچوب وحدت اندیشه حزبی دارای نشانهها و گرایشها و روشهای بروز دهد. بلکه بیداری اسلامی یک حالت عام اسلامی است که نشان دهنده اجتهادها و برداشتهای مختلفی میباشد که مجتهدان در آن اختلاف نظر دارند. به این ترتیب مقلدان و نیز شعارهایی که مردم به تبع احساسات و اندیشهها و وضعیتشان در عرصه اسلامی گسترده بدان ملتزم میشوند نیز دچار گونه گونی میشوند. علاوه بر این باید بیفزاییم که انقلاب حاصل یک اندیشه کلی بود که پس از این با جزئیات سروکار نداشت و با چالشهای حاصل از انقلاب و حوادث گوناگون روبرو نشده بود و به صورت دقیق در باره آنها اندیشه نکرده بود. زیرا داشت برای پیروزی آمادگی میگرفت و باید برای رویارویی موضعگیری میکرد و توانمندیهای مردم را منفجر مینمود و اوضاع سکون و جمود را به حرکت وامی داشت. اگر این ملاحظات را در نظر بگیریم آنگاه در این باره بعضی عذرهای انقلاب را خواهیم پذیرفت. به ویژه اینکه رهبران انقلاب به مانند هر رهبر دیگری، این توان را نداشتند که در انفجارهای انقلابی و زلزلههای خشونتبار به صورت دقیق حرفها و موضعگیریها را مورد رصد قرار دهند و به کنترل و متحد کردن آنها بپردازند. زیرا فضای پرالتهاب چنین اجازهای را نمیدهد و نمیتواند به سهولت بدان دست یابد. چرا که مسأله یکپارچگی نیازمند فرصتهای مناسب است. اما با گذشت زمان میتوان برای این معایب نیز راه حلهایی را یافت. وقتی که رهبران فرص کافی بدست آورند، میتوانند به سؤالهای موافقان و مخالفان پاسخ دهند یا اینکه هرگاه اندیشههای گوناگون مشکلاتی را ایجاد کردند، اندیشمندان میتوانند به پالایش این میراث همت گمارند. زیرا این مسائل نتیجه اختلاف در ماهیت اندیشه انقلاب در موضعگیریهای رهبران نبوده بلکه حاصل اجتهادات گوناگون و تفاوت در ایدهها و نگرشها به اوضاع عمومی اسلامی میباشد. ما انقلابی را در دنیا نمیبینیم مگر اینکه آنها نیز دچاراختلاف در اندیشه و روش هستند که مردم نیز آن را در رفتارها و اندیشههای خود نشان میدهند. زیرا مسأله تعدد یا وحدت اندیشه نیست بلکه نوع واکنش عقلی و احساسی مردم بعد از فهم از اندیشه میباشد که در حال و هوای انقلاب، امکان کنترل آن وجود ندارد. اما باید یک ملاحظه مهم را مد نظر قرار داد که ماهیت اسلام در عرصه فکری و انقلابی تفاوتهای گوناگونی را دارد. از این رو اختلاف یک حالت طبیعی به شمار میآید و در شرایط غیر عادی که انقلاب نیز یکی از آنها به شمار میآید، این اختلاف طبیعیتر به نظر میآید. نکته مهم دیگری وجود دارد و باعث کاسته شدن از اختلافات میشود این است که اسلام منابع اصیلی به مانند کتاب خدا و سنت پیامبر دارد که در صورت بروز اختلاف میتوان به آنها مراجعه کرد بر خلاف بسیاری اندیشههای دیگر که تابع افراد هستند و این افراد خاستگاههای متنوعی دارند که رسیدن به نتیجه محدود و مشخص را دشوار مینماید.
ضرورتهای خشونت بیداری و زبان خشونت اما خشونت در روش و اندیشه، ممکن است برای آن دسته از کسانی که به روشهای آرام عادت کردهاند ناگوار باشد. زیرا آنان تاب تحمل درشتی و تعدی را ندارند. این امر ممکن است روی روند انقلاب تأثیر به جای بگذارد و به خاطر همین خشونت ممکن است بعضی از مردم از انقلاب دور شوند. زیرا خشونت را با برداشتی که از اسلام دارند و آن را دین رحمت میشمارند، متناسب نمیبینند. ولی مسألهای که ممکن است به صورت یک اشکال مطرح شود، موضوع جهاد در اسلام است. چه جهاد در دوران پیامبر گرامی اسلام و چه در دورانهای معاصر. کشتارها و دردها و پیامدهای ویرانگر حاصل از جنگها چیزهایی است که مردم را تکان میدهد. شاید مشکل همه اینها این باشد که وقتی شرایط منطقی و دشوار در نظر گرفته نشود، مردم متوجه پس زمینهها و ابعاد پنهان مسأله نمیشوند و فقط صحنههای ناگوار آن را میبینند. این همان چیزی است که بیداری اسلامی در حرکت انقلابی خود با آن روبرو میباشد. چالشهایی که بیداری اسلامی در عرصههای گوناگون با آن روبرو میباشند بسیار سخت و شدید است. حتی موجودیت و هویت بیداری اسلامی با چالش مواجه میباشد. از این رو بیداری اسلامی در وضعیت غیرعادی قرار دارد. وضعیتی که تابع هیچ یک از قوانین و معیارهای شناخته شده نمیباشد. بیداری اسلامی با خطراتی از همه جانبه روبرو میباشد مانند انسانی که در میدان نبرد از هر سوی توسط دشمن احاطه شده است. در این باره نکته قابل توجهی وجود دارد و آن این است که انقلاب دارای دو هدف اساسی میباشد. هدف اول مقابله با چالشهایی است که به صورتی خشن و توان فرسا، از سوی کافران و مستکبرات ضد انقلاب دامن زده میشوند. این امر باعث میشود که انقلابیوت تحت تأثیر فشارهای روحی و روانی قرار بگیرند و احساس کنند اسلامی که در برابر عملی خود این همه روی مدارا تأکید دارد، مانعی نمیبیند به مانند دیگرانی که دست به خشونت علیه اسلام میزنند، از بالاترین درجه خشونت سیاسی و جهادی استفاده کنند. هدف دوم بسیج انسانی در مسائل مهم سیاسی است. در این مسائل نیاز است که احساسات و عواطف تحریک شوند و هیمنه مستکبران از جان مستضعفان زدوده شود و خوف و هراس از باور امت اسلامی از بین برود و در برابر ستم و ستمگران، حماسه مردم تحریک شود. این امر ایجاب مینماید که امت اسلامی در مراحل ابتدایی انقلاب خود، مورد فرهنگ سازی قرار گیرد تا اینکه احساس قدرت نماید و این احساس قدرت به موضعگیری بینجامد و این همان چیزی است که در تربیت عاطفه و تقویت احساسات باید برای آن برنامه ریزی کرد. البته وقتی که انسان از خط تعادل خارج میشود، طبیعی است که این روش نیز از دچار بعضی آسیبها و معایبی شود و عواطف نیز در هنگام موضعگیری دچار فروپاشی گردد. ولی مزایای اسلامگرایی سیاسی در توان بسیج کردن آن است که عقل و باور و احساس و حرکت را سرشار از اسباب تنش و قدرت نماید. این مزایا بسیار بیشتر از میزان معایب آن است. بهترین مثال آن نیز شعار «مرگ بر آمریکا»، «مرگ بر شوروی»، «مرگ بر اسرائیل» یا «نه شرقی نه غربی جمهوری اسلامی» است. امتی که میخواهد برای بیداری اسلامی انقلابی برنامه ریزی نماید باید هر زمان این شعارها را تکرار کنند. همین طور باید برای پایمال کردن نمادهای استکبار نیز رفتارعملی صورت دهد، به نحوی که مردم از روی آنها عبور کنند و پا رویشان بگذارند. بعضی از مردم ممکن است این شعار و اقدامات را افراطی بدانند و معتقد باشند که این کارها رابطه انقلاب و دولتهای بزرگ را دچار خدشه مینماید. در حالی که نمیتوان در هیچ زمینهای از آنها بینیاز بود. زیرا مراکز اقتصادی و سیاسی و فرهنگی دست آنها قرار دارند و آنها میتوانند همه دنیا را تحت فشار خود قرار دهند. از این رو نمیتوان موضع منفی در قبال آنها گرفت یا با آنها قطع رابطه کرد. زیرا با این کار به جای اینکه کشورهای بزرگ در تنگنا و محاصره قرار گیرند، این دولتهای کوچک هستند که در تنگنا قرار میگیرند. لذا شعار نه شرقی و نه غربی شعاری غیر واقعی است. زیرا در بیشتر زمینهها ما به آنها نیاز داریم.
شعار سیاسی تغییری زبان قرآن است ولی کسانی که در عرصههای سیاسی اسلامی فعالیت دارند پاسخشان این است که انقلاب اسلامی شورش علیه حاکمیت نبود که وضعیت خود را بهبود ببخشد و بعد از آن فضای عمومی هم چنان تابع حرکت سیاسی دولتهای بزرگ باقی بماند بلکه عملی تغییری است. اینکه در راستای وابستگی حقیقی به خط اسلام، انسان از درون خود را تغییر دهد و به عنوان بخشی از رها شدن از شرک و بت پرستی، خود را از هیمنه معنوی و فکری مستکبران برهاند. خواست اسلام این است که انسان عقلانیت خود را از شرک به توحید تغییر دهد. آزادی درونی همان آزادی اندیشه و احساس و آزادی بیرونی همان آزادی حرکت و عمل است. از این رو اسلام حمله همه جانبهای علیه بتها صورت داد تا هیچ نوع بت پرستی حتی به صورت ظاهر نیز باقی نماند. به این ترتیب اسلام توانست علی رغم دشواریهایی که در آغاز دعوت دامنگیرش شد، انسان را به توحید ناب برساند. در آن زمان همه مشرکان در برابر اسلام ایستادند جلوی بسیاری از برنامههای آن را گرفتند و موانع بسیاری را در برابرش تراشیدند. آنچه امروز باید در جامعه اسلامی معاصر مطرح باشد، ایجاد تغییر در ذهنیت مسلمانان در قبال خضوع در برابر هیمنه استکبار کافر است. زیرا با توجه به قدرت مادی مستکبران در برابر مستضعفان، بعضی از مردم این هیمنه را قضا و قدر و غیر قابل تغییر میدانند. در حالی که در این باره باید برنامه ریزی کرد و به نقاط ضعف مستکبران در برابر مستضعفان نیز پرداخت. باید شعاری را که با سقوط هیمنه آنان در جان مردم میشود، را تکرار کرد. باید این تصور را نیز در مردم ایجاد کرد که مستکبران نیز در معرض نابودی و فروپاشی هستند و با دست زدن به بعضی اقدامات میتوان این حقیقت را مورد تأکید قرار داد. اگر این شعار اوهام سیاسی و خیالهای فکری باشد، همان واقعیتی که سیلی از شعارها را متوجه آن کردهاند همه شعارهای آنان را در هم خواهد ریخت و دور از واقعیت بودن آنان را ثابت خواهد کرد. اگر چه بعضی از مردم چنین حرفهایی را تکرار میکنند و این فکر را دامن میزنند که این موضعگیری خود به نوعی تکبر و خودبزرگ بینی تبدیل میشود که بعداً قابل از بین بردن نیست. در پاسخ باید گفت که یکی از اهداف اسلام آزاد کردن انسان از درون است. یعنی با تکانی معنوی و روحی او را به منبع قدرت پیوند دهد و قدرت نمایان الهی در هستی را به او نشان دهد. در این صورت از میزان تأثیر خداوندگاران [دروغینی] که بر قدرتهای مادی جاری در عالم حس، سیطره دارند کاسته خواهد شد. این خدایگانان تلاش میکنند که پایههای قدرت خود را بر روح و روان مردم تثبیت کنند تا هر گونه حرکت و فعالیت مخالف آنان را سست گردانند. این امر نیازمند مقابله قدرتمندانهای است که خوف و ترس از اینان از روح و جان انسان مسلمان زدوده شود تا اینکه هماهنگ با خط اسلامی خود، آزادانه تصمیم بگیرند. همان خطی که اراده الهی بر آن قرار گرفته است تا انسان مسلمان در آن حرکت نماید و به رضوان او نائل آید. روش قرآن نیز همین است. قرآن ضعف مستکبران را به نمایش میگذارد و عظمت الهی را که برتر از قدرت بندگان او میباشد و بر همه چیزی سیطره و هیمنه دارد و از همه بینیاز است و همه به او نیازمندند، مورد تأکید قرار میدهد. تأکید قرار بر این است که خداوند با پرهیزگاران و نیکوکاران است: «إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ» (اعراف/۱۹۴) و آنان «لَن یَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن یَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ» (حج/۷۳). غیر از اینها موارد دیگری نیز وجود دارد که از عظمت مطلق الهی سخن میگوید. در ادامه از موضعگیریهای عملی قدرت معنوی پیامبران سخن گفته میشود که تن دادن به خوف و هراس از مستکبران را نفی میکردند. خداوند متعال در باره موضع پیامبر اسلام در شب هجرت چنین میفرماید: «إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِینَ کَفَرُواْ ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ هُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَکِینَتَهُ عَلَیْهِ وَأَیَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ کَلِمَةَ الَّذِینَ کَفَرُواْ السُّفْلَى وَکَلِمَةُ اللّهِ هِیَ الْعُلْیَا» (توبه/۴۰). در جایی دیگر خداوند در باره مؤمنانی سخن میگوید که تبلیغات مخالف سعی داشتند اراده روانی آنان را در هم بشکنند و و قدرت مسلط بر وضعیت عمومی را به آنان خاطر نشان کنند: «الَّذِینَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَکُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِیمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ* فَانقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُواْ رِضْوَانَ اللّهِ وَاللّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ*إِنَّمَا ذَلِکُمُ الشَّیْطَانُ یُخَوِّفُ أَوْلِیَاءهُ فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ» (آل عمران/۱۷۳-۱۷۵). میبینیم که قرآن کریم این مسأله در زمینه عملی به عنوان تجربهای زنده و کارامد نیز به تصویر میکشد. تجربه زندهای که بر اساس اراده قوی برخاسته از ایمان، رویکرد به سوی خداوند، ثبات در موضعگیری، پرهیز از تزلزل و تن ندادن به ترسها و هراسها، پیامدهای مثبتی را به دست دهد. این امر باعث که پیامبر و مؤمنان از قدرت درونی خود استفاده کنند و به جایگاه پیشرفتهای از قدرت در زندگی تبدیل شوند و با این کار از کرامت الهی برخوردار شوند و به رضایت او دست یابند و از الطاف او قدرت بگیرند. این خط الهام بخش از مؤمنان میخواهد که از تجربیات کسانی که سابقه در ایمان داشتند و در عرصههای درگیری از حضوری فعال برخوردار بودند، درس بگیرند و با استفاده از این درس، به معنویتی که قدرت عملی را در پی دارد، بیندیشند. مجله المنطلق، شماره ۵۴، شوال ۱۴۰۹هـ برابر با ژوئن ۱۹۸۹م
محمد حاجی پور وقوع انقلاب اسلامی ایران با نگرانی جدی مقامات جنوب شرقی آسیا از جمله اندونزی روبه رو گردید. معهذا هیچیک از این دولتها مشخصاً به دنبال انتقاد علنی از پیروزی اسلام بر امپریالیسم غربی و مشی سکولار نبودند. واکنش رسمی اولیه دولت اندونزی سکوت بود. در دهه 1980 در سرتاسر جنوبشرقی آسیا علائمی به چشم میخورد و ادعاهایی در مورد تلاشهای ایران به منظور جلب حمایت جوامع مسلمان محلی نسبت به انقلاب اسلامی مطرح میشد؛ ولی هیچ مدرک قاطعی در مورد گروههای آشوبطلب خواستار جلب حمایت ایران ارائه نمیگردید. در مجموع با وجود تمام موانعی که توسط دولت اندونزی ایجاد شده بود به اجماع ناظران مسائل جنوبشرقی آسیا انقلاب اسلامی نفوذ مهمی بر آگاهی مذهبی در این منطقه داشته است. اندونزی بزرگترین مجمع الجزایر جهان است که بین قطعه خشکی جنوبشرق آسیا و استرالیا واقع شده و اقیانوس آرام و هند را به یکدیگر متصل میکند. اندونزی بعد از فروپاشی شوروی، چهارمین کشور پر جمعیت جهان و پر جمعیتترین کشور اسلامی میباشد. مسلمانان حدود 88% از جمعیت این کشور را تشکیل دادهاند. اسلام از طریق تجار مسلمان، عرب، ایرانی و هندی از همان قرون شوم هجری وارد این بلاد شد. در مجموع میتوان گفت یکی از عوامل پیروزی اسلام در بلادی چون اندونزی، روابط بازرگانی مسلمانان عرب، ایرانی و هندی از دریای سرخ، خلیج فارس و هندوستان با مردم این سرزمین بوده است. مسلمانان اندونزی از طریق افکار سید جمالالدین اسدآبادی و همچنین تعالیم شیخ محمد عبده و رشیدرضا با جریان اصلاح طلبی و احیای تفکر دینی در مصر و هند آشنا شدند و نهضتهای فرهنگی، اجتماعی و سیاسی متنوعی را از اواخر قرن 19 میلادی در برخورد با انحطاط داخلی و بیش از آن استعمار خارجی آغاز کردند. به طورکلی احزاب و گروههای اسلامی در گرایشهای مختلف اصلاحطلبانه، بنیادگرا، و سنت گرای محافظه کاربا تعدادی از رهبران سیاسی برجسته نظیر جریانهای ملی و ضداستعماری به رهبری احمدسوکارنو نقش ارزنده و بسیار مهمی در استقلال اندونزی ایفا کردند.
_ انقلاب اسلامی و اندونزی وقوع انقلاب اسلامی ایران با نگرانی جدی مقامات جنوبشرقی آسیا از جمله اندونزی روبه رو گردید. معهذا هیچیک از این دولتها مشخصاً به دنبال انتقاد علنی از پیروزی اسلام بر امپریالیسم غربی و مشی سکولار نبودند. واکنش رسمی اولیه دولت اندونزی سکوت بود. در دهه 1980 در سرتاسر جنوبشرقی آسیا علائمی به چشم میخورد و ادعاهایی در مورد تلاشهای ایران به منظور جلب حمایت جوامع مسلمان محلی نسبت به انقلاب اسلامی مطرح میشد؛ ولی هیچ مدرک قاطعی در مورد گروههای آشوبطلب خواستار جلب حمایت ایران ارائه نمیگردید. در مجموع با وجود تمام موانعی که توسط دولت اندونزی ایجاد شده بود به اجماع ناظران مسائل جنوبشرقی آسیا انقلاب اسلامی نفوذ مهمی بر آگاهی مذهبی در این منطقه داشته است. _ تاثیرات فکری انقلاب اسلامی انقلاب اسلامی تاثیرات عمیقی در حیات فکری مسلمانان در جنوبشرقی آسیا و از جمله اندونزی به جا گذارده است. ترجمه و انتشار آثار امام خمینی و دیگر متفکران ایرانی مثل شریعتی و مطهری باعث تغییر تدریجی گفتمان رایج اسلامی در منطقه شده است. آثار شریعتی به طور گسترده در اندونزی منتشر شده است، برای فهم شهرت شریعتی در میان نسل جوان اندونزی کافی است اشاره شود که عمادالدین عبدارحیم، یکی از روشنفکران مسلمان را شریعتی اندونزی نامیدهاند. از دیگر تاثیرات فکری میتوان به تغییر نگرش اسلامی اشاره کرد. متفکران مسلمان از طزح ایدئولوژی اسلامی به عنوان جایگزین نسخههای غربی- اعم از مارکسیستی و لیبرالیستی- استقبال کرده و تلاش نمودند تا از طریق تفسیر مجدد مفاهیم اسلامی راهحلهای جدیدی برای مسائل سیاسی و اقتصادی پیدا کنند. به طور کلی ما با یک رنسانس فکری از طریق ترجمه و نشر آثار متفکران ایرانی به همراه آثار دیگر متفکران جهان اسلام مواجهیم که باعث تحریک مباحث جدی فکری و غنای گفتمان رایج اسلامی شده و این پدیده به نوبه خود باعث تسریع فرآیند احیای اسلامی در اندونزی گردیده است.
_ جلوههای اجتماعی تاثیر انقلاب اسلامی مصادیقی از جلوههای تاثیر اجتماعی را میتوان در رفتارهای مذهبی از جمله گرایش به حجاب اسلامی در میان زنان و افزایش اقبال عمومی نسبت به فرائض دینی مشاهده کرد.
_ تاثیرات سیاسی انقلاب اسلامی در تقارن با بیستمین سال پیروزی انقلاب اسلامی، واقعه مهمی در کشور اندونزی رخ میدهد که در رابطه با اسلامگرایی و تاثیر انقلاب اسلامی با اهمیت هستند. سوهارتو حاکم نظامی این کشور پس از سه دهه حکومت بلامنازع در جریان فکری تنشهای اجتماعی و حزبی و در نهایت بروز بحران مالی آسیای شرقی و فشارهای اقتصادی و امواج اعتراضهای مردمی از سیاستها و شیوه کشورداری، سقوط میکند. جانشین او یوسف حبیبی در دولت 17ماهه خود نتوانست به مطالبات مردمی پاسخی شایسته دهد و سرانجام طی انتخابات 1999 کنار رفت. عبدالرحمن وحید رهبر حزب بیداری ملی با 33 رای مجلس به عنوان رئیس جمهور جدید انتخاب شد. او یکی از رهبران مسلمان و رئیس نهضه العلما به معنای تجدید حیات فقهای اسلام بود. وحید به دلیل ضعف مدیریت اکثریت نمایندگان مجلس را به جرگه مخالفان خود روانه ساخت. نهایتاً به دنبال عزل وحید مگاواتی سوکارنو معاون او مطابق قانون اساسی به ریاست جمهوری برگزیده شد. نکته جالب اینکه معاون مگاواتی سوکارنو ریاست یک حزب اسلامی را بر عهده دارد که به گفته خودش رهبری یک زن را بر یک کشور مسلمان نمیپذیرد. او حاج حمزه رهبر حزب اسلامی توسعه یکپارچه که آن را 26 سال پیش بنا نهاد و در حال حاضر 26 میلیون عضو دارد است. او از اعضای اصلی نهضه العلما به رهبری وحید بود که از آن جدا شد و حزب اسلامی "توسعه یکپارچه" را بنا نهاد.
_ روابط با جمهوری اسلامی ایران اندونزی در طول جنگ سیاست بیطرفی را اتخاذ و در سالهای آخر جنگ نیز از اجرای کامل قطعنامه 598 حمایت میکرد. در این مدت اندونزی تلاش نمود ضمن باز نگاه داشتن باب مراوده با ایران، به نحوی عمل کند که به روابط این کشور با کشورهای بزرگ لطمهای وارد نیاید، با اینحال با پایان یافتن جنگ تحمیلی و بروز تمایل و حسن نیت جمهوری اسلامی ایران مبنی بر توسعه روابط با کشورهای همسایه و دوست، رابطه دو کشور افزایش یافته است. _ چگونگی موضعگیری در سازمانهای بینالمللی بر له یا علیه جمهوری اسلامی ایران در مجموع ایران و اندونزی نسبت به درخواستهای حمایت از یکدیگر در سازمانهای بینالمللی جواب مثبت دادهاند. در بسیاری موارد شاهد بودهایم که دودولت با توافقات صورت داده از مواضع یکدیگر در سازمانهای بینالمللی حمایت کردهاند که مشخص ترین آن حمایتهای اندونزی از مواضع جمهوری اسلامی ایران در قبال مسئله فلسطین بوده است.
در خبرها آمده بود که ملک عبدالله، پادشاه عربستان، در جمع فرماندهان و مسئولان امنیتی این کشور گفت: «فتنه از همه طرف عربستان را احاطه کرده است و دشمنان عربستان در کمین نشستهاند تا امنیت کشور را برهم بزنند و وحدت موجود میان ملت عربستان را از بین ببرند و هیچ راهی برای مقابله با فتنه موجود جز رویارویی با آن وجود ندارد.» وی افزود: «دشمنان قصد دارند از تحولات منطقه سوءاستفاده کنند، اما باید در مقابل اینگونه اقدامات ایستاد»! آنچه پادشاه سعودی را به اعتراف دیرهنگام مبنی بر احاطه نارضایتیها(به گمان وی فتنه) واداشته، مسئلهای است که باید مورد موشکافی دقیق قرار گیرد و متن حاضر به اختصار به این مسئله میپردازد. بیداری اسلامی و مواضع آلسعود با وقوع تحولات موسوم به بیداری اسلامی در غرب آسیا(خاورمیانه) و شمال آفریقا، از همان ابتدا دو جبهه غرب و ارتجاع عرب که منافع خود را در خطر میدیدند، با همدستی یکدیگر، تمام تلاش خود را برای ناکام گذاشتن این انقلابها از طریق ایجاد انحراف در اهداف انقلابها و مهندسی هدفمند آن با استفاده از مهرهچینی نیروهای خود بهکار گرفتند. جبهه غرب و استعمار که ماهیت آن، قرنهاست برای آگاهان به مسائل سیاسی هویدا شده؛ اما ارتجاع عرب که گاه خود را در پس الفاظی چون امالقرا، خادمالحرمین و... پنهان کرده بودند، اکنون آشکارا به مقابله با این تحولات پرداختهاند تا مانع از سرایت بیداری اسلامی به کشورهای خود گردند ولی روند تحولات به گونهای بود که برخی تحلیلگران را بر آن داشت تا از احتمال سرایت این تحولات به کشورهای مرتجع نیز سخن به میان بیاورند که عربستان سعودی از جمله این کشورهاست.
عربستان از همان روزهای نخست تحولات منطقه با موضعگیری دلسوزانه و در ظاهر با حمایت نیمبند از اعتراضات مردمی، مواضع و عملکرد متناقض و منافقانه خود را نیز پیگیری میکرد، بهطوریکه پادشاه این کشور در اسفند 90 مدعی شد حوادثی که در جهان عرب روی میدهد، اسلام و اعراب را هدف قرار داده است؛ اما خداوند تمام کسانی را که این اقدامات را انجام میدهند، از بین برده و در آینده از بین خواهد برد! اهم مواضع متناقض حکام آلسعود در تحولات بیداری اسلامی در محورهای زیر قابل احصا است: 1- پناه دادن به زینالعابدین بنعلی، دیکتاتور فراری تونس و لیلی طرابلسی، همسر بنعلی؛ 2- پناه دادن به علی عبدالله صالح، دیکتاتور جنایتکار یمن و مداوای وی در عربستان؛ 3- حمایت مالی از جریانهای مشکوک در تونس برای انحراف در انقلاب تونس؛ 4- حمایت آشکار از حسنی مبارک، دیکتاتور مخلوع مصر؛ 5- دخالت آشکار از جریانهای سلفی و خطدهی سیاسی به آنها برای بهدست آوردن رأی در انتخابات ریاستجمهوری مصر؛ 6- سنگاندازی در روابط بین ایران و مصر، تونس و لیبی از طریق به میان کشیدن مباحث عربی – عجمی و شیعه – سنی کردن تحولات؛ 7- بسیج تمام امکانات تبلیغاتی (رسانهای و صدور فتواهای دینی)، مالی و تسلیحاتی خود در حمایت از دیکتاتورهایی مثل مبارک، بنعلی، عبدالله صالح و آلخلیفه؛ 8- لشکرکشی نظامی به بحرین و کشتار شیعیان مظلوم این کشور برای حفظ آلخلیفه بهعنوان یکی از متحدان راهبردی خود؛ 9- ایجاد یک جبهه مصنوعی در سوریه بهعنوان یکی از محورهای مقاومت برای سرگرم کردن ایران و جبهه مقاومت و ارسال سلاح برای گروههای معارض دولت سوریه و شیعه و سنی کردن تحولات این کشور برای یارگیری. آلسعود از چه میترسد؟ عربستان سعودی از جمله کشورهایی بود که با وزیدن نسیم بیداری اسلامی، احتمال سرایت تأثیرات این تحولات بر این کشور بهدلیل بسته بودن فضای سیاسی، متصور بود؛ اما این کشور به مدد دلارهای نفتی و چشمپوشی غرب از فساد سیاسی و اقتصادی خاندان آلسعود و حمایت بیقید و شرط غرب و دو شیوه تطمیع و خریدن وفاداری مردم، توانسته است تا حدودی سیر تحولات را به تأخیر بیندازد اما به عقیده ناظران، این کشور به دلایل زیر هرگز نخواهد توانست بر این مشکلات - که امروز ملک عبدالله از آن بهعنوان احاطه فتنهها یاد میکند - فائق آید: 1- به هم خوردن توازن قوا؛ بدون تردید یکی از پیامدهای آشکار بیداری اسلامی علاوه بر شعارها و نمادهای دینی مستتر در آن، روند ضد دیکتاتوری است که بیش از همه، تاج و تخت پادشاهان و سلاطین مادامالعمر عربی را هدف قرار داده است. با سقوط بنعلی، مبارک، قذافی، عبدالله صالح و تهدیدهای پیش روی آلخلیفه، عربستان متحدان منطقهای خود را از دست داده است و محور مصر - عربستان دیگر محلی از اعراب ندارد و این موضوع بیش از هر چیز، توازن قوا را در منطقه به ضرر جبهه ارتجاع عرب به سردمداری آلسعود تغییر داده است و سخنان اخیر ملک عبدالله در ابتدای مقاله، دال بر این موضوع است. حقیقت این است که روند بیداری اسلامی، تشکیل جبههای مردمی اسلامی علیه جبهه غربی - عربی را نشان میدهد و اگرچه کشورهای غربی سعی دارند مهندسی این تحولات را مدیریت کنند تا با موجسواری، روند حوادث را به نفع خود مصادره کنند؛ اما بهنظر میرسد نوع حوادث به وقوع پیوسته، چیز دیگری را نشان میدهد که همان تضعیف جبهه ضد مقاومت (غربی - عربی) است. 2- تعمیق اعتراضات و مطالبات عمومی؛ این اعتراضات که همزمان با اعتراضات در دیگر کشورهای دیکتاتور عرب آغاز شد، اکنون نهتنها مهار نشده، بلکه از منطقه شیعهنشین الشرقیه (قطیف، الاحساء و...) به دیگر مناطق مانند ریاض، عسیر، مدینه و شهرهای دیگر سرایت کرده و سرکوب شدید مطالبات مسالمتآمیز شهروندان ضمن اینکه تصویر شفافی از وحشیگری خاندان حاکم بر این کشور و بیتوجهیاش به قوانین بینالمللی و نقض آشکارحقوق بشر را به نمایش گذاشته، نتوانسته است معترضان را به عدم اعتراض متقاعد سازد و دستگیری علما و شهادت عده زیادی از شهروندان، به ادامه این روند شدت بخشیده است. 3- اختلافات داخلی خاندان آلسعود؛ خاندان قدرتطلب سعودی که از هیچ کوششی برای حفظ و توسعه قدرت دریغ نمیکنند، اکنون برای تقسیم قدرت دچار اختلافات عدیده داخلی شدهاند و تشدید تنشهای درون کاخها بهگونهای بوده که بهراحتی به بیرون درز کرده و دیگر گریزی از کتمان و پنهان کردن آنها نیست. این اختلافات در انتخاب نایف و سپس سلمان بنعبدالعزیز به ولیعهدی، بیشتر خودنمایی کرد.
4- پیر و فرتوت بودن سلاطین و امرا؛ پس از مرگ نایف و انتخاب سلمان به ولیعهدی اکنون دیگر فرزندان عبدالعزیز همه پیر و فرتوت شدهاند و از 36 پسر عبدالعزیز، اکنون 18 پسر آن زندهاند که همگی در سنین بالا و در نوبت مرگ هستند. از ملک عبدالله 88 ساله تا امرای استانها (محافظ) همگی با امراض مختلف جسمی دستوپنجه نرم میکنند و این موضوع میتواند بهعنوان یک تهدید تلقی شود چراکه علاوه بر تشدید اختلافات بر سر قدرت، بهدلیل عدم کادرسازی در سطوح بالا، میتواند کشور را با یک خلأ جدی مواجه کند و چهبسا کشور را به سوی هرج و مرج آشکار سوق دهد .
بهنظر میرسد علاوه بر موارد مذکور، اینکه امروز عربستان خود را در محاصره انقلابهای منطقه بهخصوص بحرین و یمن میبیند که عمدتاً این دو کشور از ایران تأثیرپذیری فراوانی دارند، بر وحشت خاندان آلسعود افزوده است؛ چراکه احتمال تسری این اعتراضات به عربستان نیز فراوان است و نشانههای قوی آن مدتهاست که در شرق عربستان و حتی در پایتخت آن پدیدار شده و خواب را از چشم خاندان فاسد آلسعود گرفته است. اگر این عوامل را در کنار هم گذاشته و تجزیه و تحلیل کنیم، بهخوبی به عمق سخنان پادشاه سعودی مبنی بر اینکه عربستان را فتنه احاطه کرده است، پی میبریم. باتشکر نویسنده: حسن احمدی
|