|
.[1] معجم البلدان، یاقوت حمومی، ج 5و6، ص 417 . [2] . دانشنامه امام علی (ع)، ج 8، ص 355 [3] . همان، ص 351 . [4] . تاریخ الطبری، محمدبن جریر طبری، ج 2، ص 302و303; فتوح البلدان، ابوالحسن بلاذری، ص 42; السقیفة و فدک، ابوبکر احمدبن عبدالعزیز جوهری، ص 97 . [5] . الاحکام السلطانیة، ابوالحسن ماوردی، ص 139 . [6] . تاریخ الطبری، ج 2، ص 302 . [7] . حشر (59) : 6. [8] . تاریخ الطبری، ج 2، ص 302 . [9] . بحارالانوار، مجلسی، ج 29، ص 123 . [10] . همان، ص 116 [11] . شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج 16، ص 236. [12] . السقیفة و فدک، ص 98. .[13] النص و الاجتهاد، سید عبدالحسین شرف الدین، ص 61. .[14] اسرا (17) 26 . [15] . شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 268و275 .. .[16] همان، ص 214و220; فتوح البلدان . ص 44 . [17] . احزاب (33) : 33 . [18] . فدک فی التاریخ، شهید سیدمحمدباقر صدر، ص 189 . [19] . برای اطلاع از مصادر این حدیث در کتب اهل سنت مراجعه شود به: فدک فی التاریخ، ص 118 . [20] . مائده (5) : 55 . [21] . بحارالانوار، مجلسی، ج 29، ص 123 . [22] . موسوعة الامام علی بن ابی طالب (ع)، ج 2، ص 237 - 243 [23] . شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 273 . [24] . الاحتجاج، طبرسی، ج 1، ص 121 . .[25] شهید صدر احتمالاتی چون دوری فدک از مدینه و امکان عدم اطلاع مدنیان و نیز احتمال کشته شدن شاهدان ا حتمالی را ابراز می دارد . فدک فی التاریخ، ص 187. .[26] شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 217 . .[27] نساء (4) : 11 . [28] . شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 218و251 .. [29] . واضح است، با توجه به بیمناکی حضرت زکریا از وارثان فعلی خود، مراد او از ارث در این جا ارث در امور مالی است نه ارث نبوت و حکمت که این دو قابل ارث نیستند و خدا به هر کس بخواهد عطا می کند . [30] . الاحتجاج، طبرسی، ج 1، ص 144 . [31] . نساء (4) : 12 . [32] . شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 216و219و225 .. .[33] شرح نهج البلاغه، ج 16، ص 268و.275 . .[34] همان، ص 221 - 223 . [35] . همان، ص 218 . .[36] همان، ص 221 - 227 . .[37] فدک فی التاریخ، ص 149 . کلونجی کے فوائد
کلونجی کے متعلق ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے اور زمانہ قدیم سے یہ اطباء کے زیر استعمال بھی رہی ہے مگر فی زمانہ اب اس کے استعمال میں کمی کی وجہ اس سے متعلق معلومات کا مفقودہونا ہےآج ہم کلونجی پر بات کریں گے یہ ایک خودرو پودا ہے جو تقریبا 35 سے 40 سنیٹی میٹر تک ہوتا ہے، ایک طرح کی گھاس سے مشابہت رکھتا ہے اسکا پھول زردی مائل ہوتا ہے، اور اسکے بیچوں کا رنگ سیاہ ہوتا ہے ہمارے یہاں یہ اچار اور چٹنی میں استعمال ہوتا ہے اس کی خوشبو تیز اور تاثیر ایک محتاط اندازے کے مطابق 7 سے 9 سال تک قائم رہتی ہے یہ بہت سریع الاثر ادویات کے زمرے میں آتی ہےقدیم یونانی اور عرب حکما نے اس کو رومیوں سے حاصل کیا کیونکہ رومی اس کے استعمال سے بخوبی واقف تھے پھر یہ ساری دنیا میں کاشت ہونے لگا۔کلونجی کے بیج معدہ اورپیٹ کےامراض مثلا پیٹ میں ریاح گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، کثرت ایام، استقاء، یادداشت میں کمی رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے رہے ہیںٍ،ہیں۔ رسول اللہ ۖ کے حوالے سے کتب سیرت میں ملتا ہے کہ آپ ۖ شہد کے شربت کے ساتھ کلونجی کا استعمال فرماتے تھے۔ حضرت سالم بن عبداللہ (رض) اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا تم ان کالے دانوں کو اپنے اوپرلازم کرلو ان میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے۔کلونجی کی یہ اہم خاصیت ہےکہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے۔ جبکہ اسکا اپنا مزاج گرم ہے اورسردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے۔کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لیے اکسیرکا درجہ رکھتی ہے، ریاح گیس اور قبص میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کےبعد پیٹ میں بھاری پن گیس ریاح بھرجانے اور اپھارہ کی شکایت محسوس ہوتی ہو ایسےحضرات کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کےبعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدہ کی اصلاح بھی ہوگی۔ کلونجی کو سرکہ کے ساتھ ملا کر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں جب تھوڑی سی سردی لگنے سے زکام ہونے لگتاہے تو ایسی صورت میں کلونجی کو بھون کر باریک پیس لیں اور کپڑے میں باندھ کر پوٹلی بنا کر باربار سونگھنے سے زکام دور ہوجاتا ہے۔ اگر چھینکیں آرہی ہوں تو کلونجی بھونکر باریک پیس کر روغنِ زیتون میں ملا کر اس کے تین چار قطرے ناک میں ٹپکانے سےچھینکیں جاتی رہتی ہیں۔کلونجی مدر بول( پیشاب آور) بھی ہے اس کا جوشاندہ شہد ملا کرپینےسے گردہ و مثانہ کی پتھری بھی خارج ہوجاتی ہے۔ اگر دانتوں میں ٹھنڈا پانی لگنےکی شکایت ہوتو کلونجی کو سرکہ میں ملا کر کلیاں کرانے سے فائدہ ہوتا ہے۔چہرے کی رنگت میں نکھار پیداکرنے کے لیے باریک پیس کر گھی میں ملا کر چہرے پر لیپ کرنے سےفائدہ ہوتا ہے۔ آج کل نوجوان لڑکے لڑکیوں میں کیل دانوں اورمہاسوں کی شکایت عام ہےاور مختلف بازاری کریمیں استعمال کرکے چہرے کی جلد کو خراب کرلیتے ہیں۔ ایسے نوجوان کلونجی باریک پیس کر سرکہ میں ملا کر سونےسے قبل چہرے پر لیپ کر لیا کریں اور صبح اٹھ کر چہرہ دھولیا کریں۔ چند دنوں میں ہی اچھے اثرات سامنے آئیں گے۔اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرہ کی رنگت صاف اور مہاسے ختم ہونگے بلکہ جلد میں نکھار بھی آئےگا۔جلدی امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے۔جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کوتوے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانےسے نہ صرف زخم مندمل ہوجائیں گے بلکہ نشان بھی جاتے رہیں گے۔ جو خواتین ایام رضاعت میں ہوں اور چھوٹے بچوں کو اپنا دودھ پلا رہی ہوں اور ان کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو جس سے ان کا بچہ بھوکارہ جاتا ہوںتو ایسی خواتین کلونجی کو چھ دانے صبح نہار منہ و رات سونے سے قبل دودھ کے ساتھاستعمال کرلیا کریں تو ان کے دودھ کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا البتہ حاملہ خواتین کوکلونجی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔جن خواتین کو ماہانہ ایام کم آتے ہوںیا درد کے ساتھ آتے ہوں، پیشاب کم یا تکلیف کے ساتھ آتا ہو، وہ کلونجی کا سفوف تین گرام روزانہ استعمال کرلیا کریں ماہانہ ایام کا نظام درست ہوجائے گا۔اعصابی دباؤ اور تناؤ میں مبتلا لوگ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کرلیاکریں۔چند دنوں میں بہتر محسوس کریں گے۔پیٹ اور معدہ کے امراض، پھیپھڑوں کی تکالیف اور خصوصًا دمہ کے مرض میں کلونجی بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل شہد کے ساتھ استعمال کر لیاجائے تو بہت مفید ہے۔ بعض اوقات کلونجی اور قسط شیری برابر وزن کا سفوف بنا کر صبح نہار منہ و رات سونے سے قبل استعمال کروایا جاتا ہے۔یہ نسخہ پرانی پیچش اور جنسی امراض میں بھی مفید ہے۔جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کا سفوف تین گرام مکھن ایک چمچ میں ملا کر کر استعمال کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔کلونجی کا تیل دو قسم کا ہوتاہے ایک سیاہ رنگ میں خوشبودار جو ہوا میں اٹھنے سے اڑنے لگتا ہے اور دوسری قسم انٹروی کے تیل جیسا جس کے دوائی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں، یہ تیل بیرونی طورپر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے جلدی امراض میں مفید ہے۔ یہ تیل بال خورہ کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے ۔ بال خورہ میں بال اڑ جاتے ہیں اور دائرے کی صورت میں نشان بن جاتا ہے پھر دائرہ دن بدن بڑھتا ہے اور عجیب سی ناخوشگواری کا احساس ہوتاہے۔یہ تیل سر کے گنج کو دور کرنے اور بال اگانے میں بھی مفید ہے ۔ مزید یہ کہ اس تیل کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے اور اس تیل کو مختلف طریقوں سے داد،اگزیما میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اگر جسم کو کوئی حصہ بے حس ہوجائے تو یہ تیل مفید ہے۔ کان کے ورم اور نسیان میں بھی یہ تیل مفید ہے۔ ماہرین طب و سائنس کلونجی پر تحقیقی کام کر رہے ہیں جنھوں نے اسے مختلف امراض میں مفید پاتا اور مزید تحقیق کا عمل جاری ہے۔کیمیا دانوں نے کلونجی پر تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ اسمیں ضروری روغن پائے جاتے ہیںِ اس کے علاوہ ونگشلین، الیوسن، ٹے نین، رال دار مادے،گلوکوز، ساپونین اور نامیاتی تیزاب بھی پائے جاتے ہیں جو کئی امراض میں موثر ہیں۔پاکستان کے ایک ممتاز سائنسدان نے جامعہ کراچی کے شعبہ کیمیاء میں کلونجی پر جوتحقیق کی اس کے مطابق کلونجی سے جو اسکائڈز حاصل ہوئے ہیں کسی اور شے سے نہیں مل سکے۔ حکماء نے کلونجی کو ہمیشہ موضوعِ تحقیق و علاج بنایا ہے اور اس کو مختلف طریقوں سے مختلف امراض کے علاج میں استعمال کرایا ہے۔ کلونجی سے طب یونانی کی معروف مرکب ادویہ میں حب حلیت، جوارش شونیز اور معجون کلکلانج شامل ہیں۔ کلونجی کےاستعمال سے لبلبہ (پانقراس) کے افرازات( لبلبہ سے خصوصی رطوبت) بڑھ جاتی ہے۔جس سےمرض ذیابیطس میں فائدہ ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے سات دانے روزانہ صبح نگل لیا کریں۔ذیابیظس میں بھی اس کے اچھے نتائج سامنے ائے ہیں، ذیابیطس کے مریضکلونجی کے سات دانے روزانہ صبح نگل لیا کریں۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے بیج تین حصے اور کانسی کے بیج ایک حصہ ملا کر استعمال کریں تو اس کے مفید نتائج سامنے اتےہیں کلونجی میں ورموں کو تحلیل کرنے اور گلٹیوں کو گھلانے کی بھی صفت ہے۔برص بڑا ہٹیلا مرض ہے۔ اس کے سفید داغ جسم کو بدصورت بنا دیتے ہیں۔ اگر برص کے مریض کلونجی اور ہالوں برابر برابر وزن لے کر توے پر بھون کر تھوڑا سرکہ ملا کر مرہم بناکر مسلسل تین چار ماہ برص کے نشانوں پر لگاتے رہیں اور کلونجی اور ہالون کاباریک سفوف شہد کے ساتھ روزانہ نہار منہ استعمال کیا کریں توجلد فائدہ ہوگا۔ کلونجی کی دھونی سے گھر میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔اسی خصوصیت کے سبب کلونجی کو گھروں میں قیمتی کپڑوں میں رکھا جاتا ہے تاہم کلونجی کے استعمال میں یہ امر پیش نظر رہے کہ یہ طویل عرصہ اور زیادہ مقدار میں استعمال نہ کی جائے کیونکہ اسمیں کچھ مادے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہوسکتے ہیں۔لہذا احتیاط ضروری ہے طب نبویؐ اوریونانی (ہربل )سسٹم آف میڈیسن میں صدیوں سے استعمال ہونے والی دواکلونجی پردنیا بھر میں ہزاروںمطالعے اور لاکھوں کلینکل ٹرائلزجاری ہیں۔کلونجی کےسلسلے میں رسول اللہؐ کا فرمان ہے کہ اس میں موت کے سوا ہربیماری سے شفا ہے یہ بات جدید تحقیقات نے بھی ثابت کردی ہے ۔اب تک کی گئی تحقیق کے مطابق کلونجی کےبیج کینسر‘لیوکیمیا‘ ایچ آئی وی ایڈز‘ذیا بیطس بلڈ پریشرہائپر کولیسٹرول ایمیااورمیٹا بولک ڈیزیززکے علاج میں انتہائی موثر پائی گئی ہے۔اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کینسر آگہی مہم کے آغاز کے موقع پر ہیلتھ پاک کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیا انہوں نے کہا کہ فلو ریڈا میں کی گئیایک تحقیق کے مطابق کلونجی کینسر اور لیوکیمیا میں بھی مفیدہے نیز اینٹی کینسرکیمیو تھراپی کےمضراثرات و مضمرات کے ازالہ میں بھی فائدہ مند ثابت ہوئیہے۔ علاوہازیں کلونجی کے استعمال سے مریضوں کی قوت مدافعت میں زبردستاضافہ دیکھاگیا۔جن سنگ جنکوبلوبااور کلونجی کے مرکب کے استعمال سے ایمیون سسٹم کی کارکردگی میں انتہائی بہتری پیدا ہوجاتی ہے تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق سرطان کے حوالے سے کلونجی کے حوصلہ بخش نتائج میں یقینی پیشرفت ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کلونجی پر آغا خان یونیورسٹی کراچی میں بھی تحقیق ہورہی ہے اورکلینکل ٹرائلز واسٹڈی نمبرNCT00327054کے مطابق کلونجی کوذیابیطس بلڈ پریشرہائپر کولیسٹرول ایمیا اورمیٹا بولک ڈیزیزمیں فائدہ مندقرار دیا گیا ہے۔ کلونجی کے کینسرکے حوالے سے مثبت نتائج پرعربی پریس میں بے شمار تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔میگزین ’’السرطان الوربی ‘‘کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق کلونجی آئل کو چوہوں میں معدہ کے کینسر پر مفید پایاگیا۔جبکہ میگزین ’’بحاث مضادات السرطان‘‘ میں کلونجی کے تیل سے کینسر کےورمکوختم کرنے کے متعلق ایک مصدقہ تحقیق شائع ہوئی ہے۔اسی طرح میگزین’’الاثن والدوائی‘‘ کے شمارہ میں کلونجی کے تیل سے انسانی دفاعی نظام میں بہتریاورسرطانی زہریلے اثرات میں کمی سے متعلق تحقیق شائع ہوئی ہے۔’’ النباتات الطبی‘‘ نامی میگزین میں کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کےسفیدگلوب پر ثیم وکینون کے مجموعہ کے اثرات پر کامیاب تجربہ شائع کیا گیاہے بسم اللہ الرحمن الرحیم
کلونجی کے فوائد اٍستھما۔ اٍستھما کیلئے دس قطرے کلونجی کا تیل اور ایک چائے کا چمچ شہد کو ایک گلاس نیم گرم پانی میں مکس کرکے دن میں دو بار پئیں۔ ایک مرتبہ صبح نہار منہ اور رات کھانے کے بعد۔ چالیسں دن تک اِسے پینے سے مثبت نتائج آئیں گے۔ ناک سے خون نکلنا۔ عام طور پر گرمیوں کے موسم میں بچوں کے ناک سے خون نکلنے لگ جاتا ہے اْسے روکنے کیلئے ایک سفید کاغذ کو جلا کے راکھ بنا لیں اور اس راکھ میں دو قطرے کلونجی تیل کے مکس کریں اور اسے ناک میں لگائیں۔ جسم کا جلا ہوا حصہ۔ اگر جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اس پر یہ مرہم لگائیں۔ پانچ گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل، پندرہ گرام Calamus اَسّی گرام مہندی کے پتے باہم ملا کے مرہم بنا لیں اور اِسے متاثرہ جلے ہوئے حصے پر لگائیں۔ سینے کی جلن اور معدے کی گرانی۔ آدھا چائے کا چمچ کلونجی کے تیل کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں ڈال کے دن میں دو مرتبہ پئیں۔ تین دن تک پینے سے سینے کی جلن اور معدے کی گرانی میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔ کھانسی اور ریشہ۔ کھانسی اور ریشہ کو کنٹرول کرنے کیلئے تھوڑے سے کلونجی کے تیل میں دیسی گھی اور تھوڑا سا نمک مکس کریں اس سے گلے اور سینے پر دن میں ایک بار مالش کریں۔ آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل روزانہ صبح کے وقت لینا بھی فائدہ مند ہے۔ قبض۔ قبض کے خاتمے کیلئے دس قطرے کلونجی کے تیل، ایک چائے کا چمچ کسٹر آئل کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں ملا کے پئیں۔ سر میں خشکی۔ دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام مہندی پاؤڈر مکس کریں۔ اِسے ہلکا سا گرم کریں اور جب ٹھنڈا ہو جائے تو سر کی جلد پر لگائیں۔ ایک گھنٹہ بعد شمپو سے اچھی طرح دھو لیں۔ ذیابیطس۔ ایک کپ کالی چائے میں ایک چائے کا چمچ کلونجی کا تیل ڈالیں اور اِسے دن میں دو بار استعمال کریں صبح کے وقت اور رات سونے سے پہلے۔ اِسے چالیسں دن تک مسلسل استعمال کرنے کے بعد تھوڑی مقدار میں میٹھا کھا کے شوگر لیول چیک کریں۔ اگر نارمل ہو تو اس نسخہ کا استعمال بند کر دیں۔ کان کا انفیکشن۔ کان کا انفیکشن کیلئے کلونجی کا تیل اور زیتون کا تیل برابر مقدار میں لیں اور اِسے نیم گرم کرکے کان میں چند قطرے ڈالیں۔ اس سے درد میں افاقہ ہو گا۔ بخار کا علاج۔ بخار کے علاج کیلئے آدھا کپ پانی میں آدھا لیموں کا رس، آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل شامل کرکے دن میں دو بار پئیں۔ اِس کا استعمال اْس وقت تک جاری رکھیں جب تک بخار ٹھیک نہ ہو جائے۔ تروتازہ چہرہ۔ چہرے کی تروتازگی کیلئے یہ ٹوٹکہ بہت کارآمد ہے۔ ایک بوتل میں تین کھانے کے چمچ شہد، آدھا کھانے کا چمچ کلونجی کا تیل اور آدھا چائے کا چمچ زیتون کا تیل مکس کریں اور اِسے دن میں دو بار اپنے چہرے پر لگائیں۔ چالیسں دن تک استعمال جاری رکھیں۔ بالوں کا گِرنا اور عمر سے پہلے سفید ہونا۔ آجکل بہت سے لوگوں کو بالوں کا گِرنا اور عمر سے پہلے سفید ہونا جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کا ایک مؤثر حل کلونجی کا تیل ہے۔ پہلے لیموں کا رس سر کی کھال پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد بالوں کو شیمپو کر لیں۔ جب بال خشک ہو جائیں تو کلونجی کا تیل بالوں کی جڑوں میں لگا لیں۔ چھ ہفتے تک یہ عمل جاری رکھیں۔ سر کا درد۔ سر کے درد سے نجات کیلئے جس وقت درد ہو رہا ہو کلونجی کے تیل سے پیشانی اور کان کے اطراف مساج کریں۔ اگر آپ پھر بھی بہتر محسوس نہ کریں تو آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل دن میں دو بار لیں۔ ہارٹ اٹیک۔ ہارٹ اٹیک سے بچاؤ کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کے تیل کو ایک کپ بکری کے دودھ میں شامل کرکے دن میں دو بار استعمال کریں۔ یہ نسخہ چربی کو پگھلا کے دل کی شریانیں کھولنے میں مدد کر تا ہے۔ بہتر نتائج کیلئے چکنائی سے پرہیز کریں۔ دس دن تک دن میں دو بار لیں اور پھر استعمال ایک بار کر دیں۔ جوڑوں کا درد۔ جوڑوں کا درد نا قابلِ برداشت درد ہوتا ہے۔ اس کیلئے یہ نسخہ تیار کریں۔ ایک چائے کا چمچ سفید سرکہ، دو چائے کے چمچ شہد اور آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل باہم ملائیں۔ دن میں دو بار ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں اور اِسی تیل سے جوڑوں پر مساج بھی کریں۔ گیس پیدا کرنے والے اجزاء سے اکیس دن تک پرہیز کریں۔ یاداشت بڑھانا۔ یاداشت کم ہونا اور بھول جانا بڑھتی عمر کے اہم مسائل ہیں۔ اپنی یاداشت کو بہتر بنانے کیلئے دس گرام پودینہ کو آدھا کپ پانی میں اْبال کے چھان لیں اور اس میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل شامل کرکے دن میں دو بار پئیں۔ بیس دن تک استعمال کریں۔ میگرین۔ کلونجی کے تیل کا ایک قطرہ سر کے جس طرف درد ہو اْس کی مخالف سمت ناک میں ڈالیں۔ سر کا مساج کریں اور دن میں دس قطرے کلونجی کے تیل کو میگرین سے نجات کیلئے پئیں۔ اوبیسٹی۔ اوبیسٹی پر قابو پانے کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور دو چائے کے چمچ شہد کو اپک کپ نیم گرم پانی میں مکس کرکے استعمال کریں۔ فرائی اور بیکری کی چیزوں سے پرہیز کریں۔ رات کی نیند۔ رات کو اچھی نیند کیلئے رات کے کھانے کے بعد آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور ایک چائے کا چمچ شہد لیں اور پْرسکون نیند سوئیں۔ بواسیر کا علاج۔ بواسیر کے علاج کیلئے آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل، ایک کپ چائے کے قہوے میں ڈال کے دن میں دو بار ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ گرم تاثیر اور تیز مصالحے والی غذاؤں سے پرہیز کریں۔ چہرے کے دانے اور دھبے۔ ایک کپ پائن ایپل جوس میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل ملا کے دن میں دو بار لیں۔ اسے ناشتے سے پہلے اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ زْکام۔ شدید زْکام کے علاج کیلئے آدھا کپ پانی میں آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل اور چوتھائی چائے کا چمچ زیتون کا تیل مکس کرکے اِسے چھان لیں۔ اس مکسچر کے دو قطرے ناک میں ڈالیں۔ جلد افاقہ کیلئے دن میں دو بار استعمال کریں۔ دانت کا درد اور مسوڑوں کا پھولنا۔ آدھا چائے کا چمچ کلونجی کا تیل نیم گرم پانی میں مکس کرکے غرارے کریں۔ اس کے علاوہ متاثرہ دانتوں پر کلونجی کا تیل لگائیں یہ درد کم کرنے میں مدد دے گا۔ دماغی کمزوری۔ دماغی کمزوری دور کرنے کیلئے ایک چائے کا چمچ دیسی گھی یا دو چائے کے چمچ کریم کو دو قطرے کلونجی کے تیل میں مکس کریں ساتھ ہی ذائقے کیلئے تھوڑی سی چینی بھی ڈال لیں اور اِسے روزانہ ناشتے سے پہلے استعمال کریں۔ جلد پر سیاہ اور سفید نشانات۔ اِن کو ختم کرنے کیلئے ایک کپ سفید سرکہ میں ایک چائے کا چمچ کلونجی کا تیل مکس کریں اور رات کو سونے سے پہلے متاثرہ حصے پر لگائیں اور صبح دھو لیں۔ یہ عمل اْس وقت تک دْہرائیں جب تک چہرہ صاف اور شفاف نہیں ہو جاتا۔ برچسبها: کلونجی کے فوائد ادامه مطلب
گفتم ...گفتی گفتم: خستهام. گفتي: لاتقنطوا من رحمة الله از رحمت خدا نا اميد نشيد (زمر/53) گفتم: هيشكي نميدونه تو دلم چي ميگذره. گفتي: ان الله يحول بين المرء و قلبه خدا حائل هست بين انسان و قلبش! (انفال/24) گفتم: غير از تو كسي رو ندارم. گفتي: نحن اقرب اليه من حبل الوريد ما از رگ گردن به انسان نزديكتريم (ق/16) گفتم: ولي انگار اصلا منو فراموش كردي! گفتي: فاذكروني اذكركم منو ياد كنيد تا ياد شما باشم (بقره/152) گفتم: تا كي بايد صبر كرد؟ گفتي: و ما يدريك لعل الساعة تكون قريبا تو چه ميدوني! شايد موعدش نزديك باشه (احزاب/63) گفتم: تو بزرگي و نزديكت براي منِ كوچيك خيلي دوره! تا اون موقع چيكار كنم؟ گفتي: واتبع ما يوحي اليك واصبر حتي يحكم الله. كارايي كه بهت گفتم انجام بده و صبر كن تا خدا خودش حكم كنه (يونس/109) گفتم: خيلي خونسردي! تو خدايي و صبور! من بندهات هستم و ظرف صبرم كوچيك... يه اشاره كني تمومه! گفتي: عسي ان تحبوا شيئا و هو شر لكم شايد چيزي كه تو دوست داري، به صلاحت نباشه (بقره/216) گفتم: انا عبدك الضعيف الذليل... اصلا چطور دلت مياد؟ گفتي: ان الله بالناس لرئوف رحيم خدا نسبت به همهي مردم - نسبت به همه - مهربونه (بقره/143) گفتم: دلم گرفته. گفتي: بفضل الله و برحمته فبذلك فليفرحوا مردم به چي دلخوش كردن؟!) بايد به فضل و رحمت خدا شاد باشن (يونس/58) گفتم: اصلا بيخيال! توكلت علي الله. گفتي: ان الله يحب المتوكلين خدا اونايي رو كه توكل ميكنن دوست داره (آل عمران/159) گفتم: خيلي چاكريم! ولي اين بار، انگار گفتي: حواست رو خوب جمع كن! يادت باشه كه: و من الناس من يعبد الله علي حرف فان اصابه خير اطمأن به و ان اصابته فتنة انقلب علي وجهه خسر الدنيا و الآخره بعضي از مردم خدا رو فقط به زبون عبادت ميكنن. اگه خيري بهشون برسه، امن و آرامش پيدا ميكنن و اگه بلايي سرشون بياد تا امتحان شن، رو گردون ميشن. خودشون تو دنيا و آخرت ضرر ميكنن (حج/11) گفتم: چقدر احساس تنهايي ميكنم. گفتي: فاني قريب من كه نزديكم (بقره/186) گفتم: تو هميشه نزديكي؛ من دورم... كاش ميشد بهت نزديك شم. گفتي: و اذكر ربك في نفسك تضرعا و خيفة و دون الجهر من القول بالغدو و الأصال هر صبح و عصر، پروردگارت رو پيش خودت، با خوف و تضرع، و با صداي آهسته ياد كن (اعراف/205) گفتم: اين هم توفيق ميخواهد! گفتي: ألا تحبون ان يغفرالله لكم دوست نداريد خدا ببخشدتون؟! (نور/22). گفتم: معلومه كه دوست دارم منو ببخشي. گفتي: و استغفروا ربكم ثم توبوا اليه پس از خدا بخوايد ببخشدتون و بعد توبه كنيد (هود/90) گفتم: با اين همه گناه... آخه چيكار ميتونم بكنم؟ گفتي: الم يعلموا ان الله هو يقبل التوبة عن عباده مگه نميدونيد خداست كه توبه رو از بندههاش قبول ميكنه؟! (توبه/104) گفتم: ديگه روي توبه ندارم. گفتي: الله العزيز العليم غافر الذنب و قابل التوب ولي خدا عزيزه و دانا، او آمرزندهي گناه هست و پذيرندهي توبه (غافر/2-3) گفتم: با اين همه گناه، براي كدوم گناهم توبه كنم؟ گفتي: ان الله يغفر الذنوب جميعا خدا همهي گناهها رو ميبخشه (زمر/53) گفتم: يعني بازم بيام؟ بازم منو ميبخشي؟ گفتي: و من يغفر الذنوب الا الله به جز خدا كيه كه گناهان رو ببخشه؟ (آل عمران/135) گفتم: نميدونم چرا هميشه در مقابل اين كلامت كم ميارم! آتيشم ميزنه؛ ذوبم ميكنه؛ عاشق ميشم! ... توبه ميكنم: يا غافر الذنب، اغفر ذنوبي جميعا گفتي: ان الله يحب التوابين و يحب المتطهرين خدا هم توبهكنندهها و هم اونايي كه پاك هستند رو دوست داره (بقره/222) ناخواسته گفتم: الهي و ربي من لي غيرك گفتي: اليس الله بكاف عبده خدا براي بندهاش كافي نيست؟ (زمر/36) گفتم: در برابر اين همه مهربونيت چيكار ميتونم بكنم؟ گفتي: يا ايها الذين آمنوا اذكروا الله ذكرا كثيرا و سبحوه بكرة و اصيلا هو الذي يصلي عليكم و ملائكته ليخرجكم من الظلمت الي النور و كان بالمؤمنين رحيما اي مؤمنين! خدا رو زياد ياد كنيد و صبح و شب تسبيحش كنيد. او كسي هست كه خودش و فرشتههاش بر شما درود و رحمت ميفرستن تا شما رو از تاريكيها به سوي روشنايي بيرون بيارن. خدا نسبت به مؤمنين مهربونه (احزاب/42-43) (1) نظر چرا ما با وجود اين كه نماز ميخوانيم، آثار آن را در وجود خود مشاهده نميكنيم؟ - كلاه بزرگي كه سر همه مسلمان ها رفته است!
ادامه مطلب خطر از بین رفتن بیداری! شنبه 22 مهر 1391 ساعت 21:32
کسانیکه گمان می کنند انقلابهای بهار عربی بدون دخالت بیگانه سرنوشت ملل عرب را تعیین می کند در اشتباه هستند . این اشتباه زمانی افزایش می یابد اگر کسی نتواند روند " کیمیای تحول " در جهان عرب را درک نماید بویژه اینکه درآمدهای نفتی نقش برجسته ای در
کسانیکه گمان می کنند انقلابهای بهار عربی بدون دخالت بیگانه سرنوشت ملل عرب را تعیین می کند در اشتباه هستند . این اشتباه زمانی افزایش می یابد اگر کسی نتواند روند " کیمیای تحول " در جهان عرب را درک نماید بویژه اینکه درآمدهای نفتی نقش برجسته ای در آن بر عهده دارد که اهمیت آن از دخالتهای خارجی کمتر نیست و در حقیقت این دو مکمل یکدیگر هستند . هرچه درباره اوضاع کنونی گفته شود باید اقرار کرد که روند این انقلابها از سوی ضد انقلاب تحت کنترل درآمده است و تنها یکی دو انقلاب همچنان به روند خود ادامه می دهند. این یکی دو انقلاب نیز در عین حال ، با دخالتها و حملات ضد انقلاب روبرو هستند و این ضد انقلاب تمامی امکانات خود را بکار میگیرد تا آرمانهای مردم انقلابی و نقش نخبگان سیاسی و اندیشمند را به گونه بیسابقه سرکوب نماید . احساس غرب در به کنترل در آوردن این انقلابها را می توان از دستور مقامات غربی به رژیمهای عربی در مورد خودداری از هرگونه حمله به رژیم صهیونیستی طی اجلاس اخیر مجمع عمومی سازمان ملل متحد در نیویورکبدست می آید. البته اگر انقلابهای عربی همگی به بار می نشستند امکان نداشت چنین تقاضائی مطرح گردد . چگونه می توان باور کرد که بی شرمی غرب بدانجا برسد که چنین دستوری به کشورهای عربی بدهد که حتى در اجلاس سالانه آژانس بین المللی انرژی اتمی در وین ، رژیم اشغالگر قدس را مورد حمله قرار ندهند. این موضعگیری با توجه به پشتیبانی گسترده و همه جانبه غرب از رژیم صهیونیستی در این آژانس صورت میگیرد . با این همه ، چنین اوضاعی با تحولات چند روز اخیر روبرو شده که طی آن سفارتخانه های امریکا مورد حمله قرار گرفتند و در یکی از آنها سفیر واشنگتن در لیبی و سه از دیپلماتها بقتل رسیدند . البته این رویداد با توجه به همسوئی امریکا و تسلط آن بر انقلابهای عربی قابل پیش بینی نبود . شاید زودهنگام باشد که بخواهیم درباره آینده موازنه سیاسی در کشورهای عربی در حال تحول ، پیش بینی نمائیم بخصوص پس از رویدادهای مربوط به اهانت به رسول اکرم (ص) ولی در عین حال نشان دهنده خشم گسترده گروههای مردمی دربرابر ایالات متحده امریکاست . غرب و بویژه واشنگتن از آن بیم داشت که انقلابهای عربی احساسات ضد امریکائی در جهان عرب را گسترش دهد که البته در وضعیت انقلابها قابل پیش بینی بود اما انقلاب واقعی نمی تواند با منطق دوستی با امریکا که خود مخالف منطق انقلابی است همسو شود . بهار عربی برای عده ای غیر قابل پیش بینی بود ولی در واقع نتیجه و پیامد طبیعی چندین دهه از بی توجهی غرب درباره اوضاع جهان عرب بشمار می آید . این بی توجهی در سه زمینه صورت گرفته است : آزادیهای عمومی و مسائل حقوق بشری ، رویاروئی با اشغالگران صهیونیست در فلسطین ، وموضعگیری در برابر تسلط غرب و بخصوص امریکا در زمینه های سیاسی و اقتصادی جهان عرب . پیش بینی نمی شد که گستاخی واشنگتن و هم پیمانان غرب آن تا بدانجا برسد که از کشورهای عربی بخواهند رژیم صهیونیستی را در اجلاس سالیانه مجمع عمومی سازمان ملل مورد حمله و انتقاد قرار ندهند. اینان هیچگاه چنین تقاضائی را مطرح نمی کردند اگر اطمینان نداشتند که این درخواست مورد قبول قرار نمیگیرد و اینکه رژیمهای عربی برای سرکوب انقلابها نیازمند پشتیبانی و کمک غرب و بویژه امریکا هستند . دولت اوباما به این رژیمها ثابت کرده است تا چه اندازه می تواند از گسترش دامنه انقلابها جلوگیری نماید . امریکا در دهه 1950 و 1960 برای جلوگیری از گسترش کمونیسم و طی سه دهه پس از پیروزی انقلاب اسلامی ایران ، نیز دست به چنین اقداماتی زده بود. سیاستهای غرب برهبری امریکا همواره نقش اصلی را در جلوگیری از وقوع انقلابهای علیه رژیمهای استبدادگر عرب بر عهده داشته است و در کنار آن ایالات متحده توانست با تضعیف سیاستهای رژیمهای عربی و مطرح کردن طرحهائی درباره " صلح" با تل آویو ، فشارها را بر رژیم صهیونیستی کاهش دهد . اما برانگیختن انقلابها در کشورهای عرب که از دوسال پیش آغاز گردید ، غرب را دچار ترس و وحشت شدیدی نمود. البته طبیعی بود که سیاستمداران غربی و بر اساس تجربه خود در برابر انقلاب اسلامی ایران که پیش از سه دهه گذشته بوقوع پیوست چنین احساسی را داشته باشند . در نتیجه انقلاب ایران در سال 1979 غربی ها معنی انقلاب را چنین دانسته اند : برهم زدن موازنه قوا به گونه ای غیر قابل پیش بینی . در عین حال طرح اسلام سیاسی در سال 1979پس از پیروزی انقلاب ایران مطرح گردید و سیاستهای غربی در خاورمیانه با ضربات هولناک و دردناکی روبروشد از جمله اینکه رژیم صهیونیستی بزرگترین هم پیمان خود در خاورمیانه را از دست داد که همانا شاه ایران بود ، و با قطع روابط تل آویو تهران ، مقاومت فلسطین یک گام بسوی شناسائی آن بعنوان نماینده ملت فلسطین و برقراری روابط دیپلماتیک با آن پیش رفت که همانا گشایش سفارت فلسطین در تهران بجای سفارت اسرائیل بود و نخستین سفارت فلسطین در جهان فعالیت خود را آغاز کرد. این موضوع همانند توفانی بود که همواره سیاستمداران غربی را نگران می کرد و در عین حال سردمداران عرب ناراحت بودند چون در زمینه بهبود روابط با اسرائیل وبرقرار صلح با تل آویو همه گونه سرمایه گذاری کرده بودند . با وجود امکانات غرب در زمینه برنامه ریزیهای استراتژیک ، اینان نتوانستند درک کنند که قوانین و سنتهای ما را نمی توانند تغییر دهند . از جمله این موارد و سنتها اینکه بهنگام اتخاذ مواضع سیاسی سرنوشت ساز و استراتژیک ، نمی توان مردم را نادیده گرفت و یا آنها را به اتخاذ موضعگیریهای بیطرفانه وادار کرد تا سیاستهای غرب تا پایان جهان از رژیمهای استبدادگر عرب پشتیبانی نماید . البته موضعگیری خردمندانه ، چنین حکم می کرد که دیپلماسی غربی همسوئی را بر گزید و دست به اصلاحات سیاسی و امنیتی در جهان عرب بزند ، از جمله ، اصلاحاتی که از خود کامگی سردمداران می کاست و اوضاع حقوق بشری را بهبود می بخشید و به مردم اطمینان می داد که دارای نقشی در مدیریت جامعه خود هستند . اما غربی ها چنین نکردند وانقلابهای کنونی ، نتیجه طبیعی عملکردهای انان بود که هیچ نیروئی در جهان نمی تواند از وقوع آن جلوگیری نماید . این درست است که بخش بزرگی از انقلابها وادار به اتخاذ موضعگیری بیطرفانه گردیدند اما علت اصلی همانا سقوط نخبگان عرب در دام نیروهای ضد انقلاب بود که در نتیجه نتوانستند بدرستی بکارگیری درآمدهای نفتی در توطئه علیه انقلاب را درک کنند. عملکرد تحول وبازسازی انقلابهای عربی بسیار دیر صورت گرفت و در نتیجه برای مردم رسوا گردید . روند بازنگری و بازسازی انقلابهای مردمی و تغییر سیستم های حکومتی سیاسی و سرنگون کردن رژیمها و برقراری حکومتهای منتخب مردمی در چندین کشور عربی طی بیست ماه اخیر دیر بوقوع پیوست. با توجه به اینکه سیاستهای غربی از دوران استعمار براساس تسلط غرب صورت گرفت ، در این دوران نیز غرب ناگزیر گردید از سلطه گران داخلی طرفداری نماید تا تسلط خود را در کشورهای عربی همچنان پایدار نگهدارد و از برقراری رژیمهای مردمی که مشروعیت خود را از خواست مردم بدست بدست می آورند جلوگیری کند. هدف از انقلابهای عربی دستیابی به حکومت مردمی بود اما با عملیات ومانورهای انگلو ـ امریکائی وبازنگری در سیستم های سیاسی بعضی تغییرات در رأس قدرت صورت گرفت اما سیستمهای حکومتی همانگونه باقی ماندند . و اینچنین کوششهای انقلابیون با تغییر رأس قدرت پایان یافت و سیاستهای خارجی بر اساس واقع گرائی و همسوئی ادامه یافت وخون شهداء پایمال گردید اما گفته شد که تغییراتی در آینده صورت خواهد گرفت. این سیاستهائی است که نمی تواند قدرت خود را در تحقق خواسته های مردم به اثبات برساند . از سوئی واقعیتهای دیگری وجود دارد که به حمله غرب علیه انقلابهای عربی انجامیده است و بعضی از آنها را بصورت وابسته به غرب در آورده است . غرب همچنان و طبق معمول خود روند برگزیدن رژیمها جدید و سرنگون کردن رژیمهای موجود در کشورهای عربی را ادامه می دهد . البته در این میان تحولات و تغییرهای جزئی نیز بوجود می آورد . از جمله تغییرات مذکور ، موضوع پایبندی به امنیت اسرائیل و پذیرفتن برتری نظامی و استراتژیک آنست . در عین حال انقلابی که دخالت غرب را نپذیرد ، از سوی هم پیمانهای غربی حکومتهای استبدادی عرب مورد محاصره قرار میگیرد وهمچنان تهمتهای طایفه گرائی و مذهبی درباره آن مطرح می شود تا آنکه از هواداری اعراب و مسلمانان محروم گردد. چه کسی مسئولیت دگرگونی وتحول در کشورهای عربی را به امریکا و هم پیمانانش واگذار کرده است ؟ آیا انقلابیون عرب خرد را از دست داده اند به گونه ای که اینچنین در دام غربی ها گرفتار شوند ؟ عواملی وجود دارند که به تضعیف رهبریهای انقلابیون و برتری ضد انقلاب انجامیده است و این روند همچنان ادامه خواهد یافت مگر اینکه انقلابیون در عملکردهای خود تجدید نظر نمایند و با بیداری در برابر دشمنان موضعگیری کنند . از جمله این عملکردها جدی نبودن جنبشهای سیاسی سنتی در برابر روند تغییر و تحول و بیم آنها از تحویل قدرت به مردم است . این واقعیت هنگامی بروشنی عیان گردید که بعضی از جنبشهای انقلابی در برابر فشارهای ضد انقلاب کوتاه آمدند و در نتیجه روند انقلاب از هم گسیخت بخصوص که ضد انقلابیون از اهرمهای دین و مذهب و نژادبهره برداری کردند. در اینجا بهتر بود خردمندان و رهبران جنبشهای اسلامی تمامی آن ادعاها را رد می کردند و نمی پذیرفتند و بعکس آن عمل می کردند و از آسیب پذیری انقلاب و میهن خود جلوگیری می نمودند . واقعیت دیگری که رهبریهای انقلابهای عربی باید از آن آگاه می شدند همانا اینکه حکومتهای قبیله ای و یا شخصی ، علت اصلی عقب ماندگی ملتهای عرب هستند و اصلاح چنین حکومتهائی محال می باشد. رهبریهای انقلابها باید از احساساتی برخوردار باشند که تحول سیاسی را در مقدمه هدفهای خود قرار دهند و بدانند رژیمهای استبدادگر بدترین و وقیحانه ترین فساد و انحراف را در بر دارند. و بجای برخورد منفی با اختلافهای دینی وذهبی و نژادی ، آنرا پیامد رشد اندیشه وتمدن بشمار آورند همچنانکه در کشورهای غربی با آن برخورد می شود . علت دیگر در سقوط نقش نخبگان همانا روند به ثمر رسیدن کوششهای غرب در سیاستهای پرورش اندیشمندان و نویسندگان و ازادیخواهان وابسته به درآمدهای نفتی است به گونه ای که بصورت حربه اساسی ضد انقلاب در برابر انقلابیون در آیند. خاموشی این اندیشمندان و خودداری از همسوئی آنان با انقلابهای مردمی در برابر دریافت پول نفت اکنون بصورت ننگی بر پیشانی اندیشمندان عرب در آمده است و در عین حال سردمداران و دیکتاتورها از آن بعنوان اسلحه ای علیه مخالفان خود استفاده می کنند . بعد سوم این روند همانا امپراتوریهای رسانه ای هستند که در برابر انقلابها ایستادگی کردند و در آغاز خود را بصورت پشتیبان انقلاب معرفی نمودند اما در عین حال برای منحرف کردن این انقلابها کوشش کردند. این رسانه ها با پول نفت اقدام به گمراه کردن افکار عمومی و برپائی اشوبهای مذهبی و افراطی و تکفیری وقبیله گرائی کردند و تمامی این کوششها در حقیقت جزو عملکردهای رژیمهای استبدادی علیه مردم ستمدیده ماست . بعد چهارم همانا پشتیبانی امنیتی و سیاسی غرب از رژیمهای هم پیمان آنهاست که در نتیجه از هرگونه آسیب رسانی به این رژیمها جلوگیری می نماید وبرای غربی ها اهمیتی ندارد که جویهای خون در منطقه براه بیفتد چون موضوع اصلی ادامه نفت رسانی به صنایع غربی است . از نتایج این دخالتهای آشکارغربی ، اقدام مسئولان غربی برای تحمیل برنامه های خود بر روند سیاسی و اندیشه ای منطقه است . فشارهای کنونی بر هیئتهای عربی شرکت کننده در اجلاس آژانس بین المللی انرژی هسته ای و نیز اجلاس شصت وهفتم مجمع عمومی سازمان ملل نشان از آن روش و سیاست دارد . دیپلماتها می گویند که فرستادگان غربی کوشش کردند کشورهای عربی را از موضعگیری خشونت بار علیه اسرائیل بعلت داشتن زرادخانه هسته ای باز دارند به این بهانه که چنین عملکردی ممکن است کوششهای بعمل آمده برای پاکسازی منطقه خاورمیانه از سلاحهای هسته ای را با ناکامی روبرو سازد ، که البته این ادعا بسیار گمراه کننده است . پیش بینی می شود که بعضی کشورهای عرب در این زمینه اسرائیل را مورد انتقاد قرار دهند اما درباره مطرح کردن پیشنهادی در این زمینه اتفاق نظر ندارند . در اجلاس سال گذشته کشورهای عربی از مطرح کردن لایحه ای در این زمینه علیه رژیم صهیونیستی و زرادخانه هسته ای آن خودداری کردند . گزارشهای رسیده حاکیست که همان کشورهای غربی اقدام به وارد کردن فشارهائی بر روسیه وچین برای پیوستن به طرح محکوم کردن برنامه هسته ای ایران نمودند . این دو موضعگیری نشان دهنده دو گانگی موضعگیری کشورهای غربی از یکسو و آمادگی بعضی رژیمهای عربی برای همسوئی با فشارهای غرب مقابل دریافت پشتیبانی وکمک برای سرکوب انقلابهای عربی است . پس چگونه می توان به خاورمیانه خالی از سلاحهای هسته ای دست یافت در حالیکه رژیم صهیونیستی همچنان از امضای قرارداد ان پی تی خودداری می کند و از بازرسی تأسیسات هسته ای خود جلوگیری می نماید؟ چگونه می توان به این دو موضوع تحقق بخشید درحالیکه امریکائیان به برتری استراتژیک اسرائیل بعنوان یک سیاست استوار پایبند هستند ؟ سیاست تغییر وتحول غربی ها برای جلوگیری از پیروزی انقلابهای عربی از همین جا سرچشمه میگیرد وبهمین علت است که اهمیت وقوع بیداری مجدد در افکار عمومی عرب ضروری بنظر می رسد تا از کوششهای ضد انقلاب عربی جلوگیری شود . چگونه انقلابیون عرب همچنان انقلابی خواهند ماند اما از پشتیبانی از روند ازادی فلسطین و رویاروئی با اشغالگران حتى با سخن خالی خودداری می کنند ؟ انقلاب یک ضرورت تاریخی است در منطقه ای که نخست با استعمار روبرو شد و پس از آن با اشغالگری و سپس با رژیمهای استبدادی مواجه گردید . در اینجاست که انقلابها فقط با استواری و پایبندی انقلابیون و بیداری نخبگان اندیشمندان و مسئولان رسانه ها و دانستن روشهای وعملکردهای ضد انقلاب و اصرار وتأکید بر موضعگریهای اصولی و سیاستهای استوار بدور از هرگونه ترس و بیم از عکس العملهای غرب و دخالتهای آن برای پشتیبانی از اشغالگران صهیونیست از یکسو و شکافتن جبهه عربی ـ اسلامی از سوی دیگراست. شاید بعضی ها این تحلیل را به پذیرند اما اگر سیاستها و موضعگیریها در برابر روند تغییر و تحول بر اساس این تحول صورت نگیرد ، روند تغییر وتحول همچنان درجا بزند وهدفهای انقلاب برباد برود و خونهای شهدا پایمال شود. بدور از این ، پذیرفتن این تحول ، برنامه های تغییر و تحول در منطقه را وارد دوران آشوب و توفان خواهد کرد وآنرا وارد یک روند پوچ و توخالی می نماید همچنانکه یمن و بحرین وسوریه با آن روبرو هستند .
شہیدمطہری: اسلامی بیداری کے علم بردار
2012اکتوبر7 عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹرعلی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ آيت اللہ شہید مرتضی مطہری نے عالم اسلام میں بالخصوص ایران قوموں کوبیدارکرنےمیں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر ولایتی نے آيت اللہ شہید مطہری کی شہادت کی مناسبت سے منعقدہ مجلس میں کہا کہ شہید مطہری اسلامی بیداری کے پرچم دار تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور دیگر ممالک بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں شہید مطہری کی کتابوں کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئي ہے اور ان کتابوں نے ملت اسلامی کو بیدار کرنےمیں اہم کردار ادا کیا ہے۔ڈاکٹر ولایتی نے کہا کہ انیس سو اکسٹھ سے لیکر اسلامی انقلاب کی کامیابی تک شہید مطہری اسلامی تحریک کے ستونوں میں سے ایک تھے اور انہوں نے معاشرے کی مختلف سطوح پر عملی طورپر اپنےعلم سے فائدہ پہنچایا اور خواص و عوام کی ھدایت کی۔ رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے کہا کہ شہید مطہری نے اسلامی تعلیمات کی خرافات سے تنقیح کی اور انہیں صحیح طرح سےبیان کیا نیز ملک کی رائےعامہ کو اسلامی انقلاب کے لئےآمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہیدمطہری اصولوں کےپابند تھےاور اسلامی اصولوں کے تعلق سے کسی کے ساتھ نرمی نہيں برتتے تھے۔ڈاکٹر ولایتی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل شہید مطہری کے بعض اقدامات اور کچھ گروہوں بالخصوص کیمیونسٹوں کے خلاف ان کی روشوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ شہید مطہری نے بڑے ٹھوس طریقے سے اسلامی عقائد کا دفاع کیا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی کے مشیر نے عالم اسلام میں اسلامی بیداری کی دوسوبرسوں پرمشتمل تاریخ کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ وہ پہلے شخص جس نے سب سےپہلے اسلامی تحریکوں کی بات کی تھی وہ شہید مطہری تھے ۔انہوں نے سادہ الفاظ اور سلیس طریقے سے ان امور کو بیان کیا۔ برچسبها: عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹرعلی
اسلامی بیداری
اسلامی قوموں کی بیداری علماء اور مصلحین کی انتھک کوششوں کا مبارک ثمرہ ہے۔ آج جس اسلامی بیداری کا مشاہدہ کیاجارہا ہے وہ عراق اور ایران کے بزرگ علماء مصلحین اور اسلامی تحریکوں کے جہاد کا نتیجہ ہے۔ اسی موضوع پر ہم نے عالمی مجلس برائے تقریب مذاہب اسلامی کے ثقافتی شعبے کےسربراہ حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر اوحدی سے انٹرویو کلیا ہے جو نذر قارئين ہے۔ عالمی مجلس: آج تیونس اور مصر سمیت خلیج فارس کے بعض ممالک میں عوامی تحریکیں شروع ہوچکی ہیں ان تحریکوں کو وجود بخشنے میں علماء اسلام نے کیسا کردار ادا کیا ہے؟ جناب اوحدی : علاقے کے موجودہ حالات کو ہم اسلامی بیداری کے بہم پیوستہ حلقے قراردےسکتےہیں۔ یعنی اسلامی بیداری جو ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل اسلامی تحریک کی صورت میں شروع ہوچکی تھی اور انقلاب کی کامیابی سے اپنے عروج پرپہنچی علاقے کے آج کے حالات کی اساس ہے۔ اسلامی بیداری سب پہلے علماء کی کوششوں کی مرھون منت ہے جنہوں نے گھٹن کے ماحول میں اور جبکہ عالمی سامراج اسلامی ممالک پرمسلط تھا اسلام کوبچانے اور اسکی تبلیغ کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ انہوں نےکبھی بھی ظالموں ستمگروں اور سامراج اور اس کے ایجنٹوں کا دباو قبول کرکے گھنٹنے ٹیکنے پررضا مندی ظاہرنہیں کی بلکہ طرح طرح کے ظلم سہے، ملک بدر ہوئے اور نہ جانے کیسے کیسے ستم اٹھائےلیکن اپنے عزم محکم کے ساتھ اسلام کی خدمت کرتےرہے۔ بنابریں یہ علماء ہی تھے جنہوں نے امر بالمعروف اور نہی از منکر کے اصول پرعمل کرتےہوئے اسلام کے حیات بخش پیغام کو عام کیا اور دشمنوں کی سازشیں ناکام بناتےہوئے دین کو تحریف و انحراف سے محفوظ رکھا۔ علماء کے اسی جہاد کی بناپر گذشتہ سوبرسوں میں علماء دین کو شدید ترین حملوں اور سازشوں کا نشانہ بنایا گيا، اسکی ایک اہم وجہ یہ بھی ہےکہ دشمن علماء کو ہی اپنے اھداف کی راہ میں سب سےبڑی روکاٹ سمجھتا تھا اور آج بھی سمجھتا ہے۔ لھذا اس نے اپنی وسیع پروپگينڈا مشینری اور بکے ہوئےقلموں کے سہارے مختلف میدانوں اور مختلف روشوں سے علماء کے خلاف زہر گھولنا اور پروپگينڈا شروع کیا۔ اس طرح کے زہریلے پروپگينڈوں کا مقصد علماء اور قوموں کے درمیاں فاصلہ پیدا کرنا ہے۔ سامراج نے مختلف طریقوں سے علماء کے خلاف پروپگینڈے کئےہیں جنمیں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ 1۔ دشمنوں نے اسلام، بغیر علما کے نظریے کی ترویج کرنے کی کوشش کی۔سامراج نے یہ پروپگينڈا کیا کہ اسلام کو سمجھنے کے لئے علما کی ضرورت نہیں ہے پڑھے لکھے لوگوں اور جوانوں میں اس انحرافی نظريے کو رائج کرنے کےلئے بڑی کوششیں کی ہیں، سامراج کے پٹھو اور وابستہ عناصر نے یہ بھی پروپگينڈا کرنا شروع کردیا کہ قرآن اور احادیث عربی زبان میں ہیں اور سب لوگ انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں لھذا علماکی کوئي ضرورت نہیں ہے ۔بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رح نے اس سازش کو بخوبی درک کرلیاتھا اور اس کو مسترد کرتےہوئے فرمایا تھاکہ سامراج کی یہ بات اسی طرح سے ہے جیسے ہم کہیں کہ معاشرے کے لوگ بغیر طبیب کے اپنی طبی ضرورتیں پوری کرسکتےہیں۔سامراج علماء کے خلاف پروپگينڈے کرکے عوام کے نزدیک علماء کی پوزیشن کمزور بنانا چاہتاتھا۔ سامراج نے اس کےعلاوہ علماء پر طرح طرح کی تہمتیں بھی لگانے کی کوشش کی۔ان تہمتوں میں پسماندہ ہونا، ماڈرن ازم کے خلاف ہونا، ترقی و پیشرفت کا مخالف ہوناشامل ہے۔ ان پروپگينڈوں کےزیر اثر بعض سادہ لوح افراد ان باتوں کا یقین بھی کربیٹھے ۔ ان باتوں کا ان لوگوں پربھی خاص طورسے اثر ہوا جو اسلام کے تمدن ساز کردار سے ناآشناتھے۔ حضرت امام خمینی رح نے بارہا فرمایا ہےکہ اسلام علمی اور سائنسی ترقی اور تہذیب و تمدن میں فروغ کا ہرگز مخالف نہيں ہے بلکہ بے راہ روی اورسامراجی ملکوں سے وابستگي کا مخالف ہے اور اسلام میں ہرطرح کی آزادی پائي جاتی ہے۔ آپ نے فرمایاکہ اسلام ترقی و پیشرفت اور جدت طرازی کا مخالف نہیں ہے اور نہ ہم مغرب کی علمی وسائنسی ترقی کے مخالف ہیں بلکہ مغرب سےدرآمد کی جانےوالی اس ثقافت کے مخالف ہیں جس سے ہمارے عقائد اور ثفافت کو نشانہ بناکرختم کیا جارہا ہے۔ علما کو زورزبردستی معاشروں سے دور کرنے کی کوششیں کوئي نئي نہیں ہیں۔ انہیں جلاوطن کرکے، قید میں ڈال کراور شہید کرکےعوام سے دورکرنے کی کوشش کی گئيں بالخصوص عالم اسلام کے مرکزی علاقوں جیسے عراق، ایران، ترکی ، افغانستان میں یہ کوئي نئي بات نہیں ہے ۔ ایران میں بزرگ علماء جیسے آيت اللہ شہید مدرس، مصر میں سید قطب اور حسن البناء اور عراق میں آیت اللہ سید محمد باقرالصدر جیسی بزرگ ہستی کو پٹھو حکومتوں نے شہید کیا ہے۔ البتہ یہ نام ہم نے نمونے کے طورپر ذکرکئےہیں ورنہ اسلام کی راہ میں قربانی دینےوالے علماء کی تعداد بے شمار ہے۔ تاريخ میں تین بڑے واقعات ایسے ہیں جس سے سامراج کو علماءکی عظمت اور عوام میں ان کے اثر ورسوخ کااندازہ ہوا۔ سب سے پہلے مصر پرنپیولین کے حملے کے موقع پر علماء نے عوام کی قیادت کی جس سے فرانس کے اس سامراجی بادشاہ کو شکست ہوئي دوسرا واقعہ انیس سوبیس میں عراق میں عوامی انقلاب کا ہے جسمیں علماء کی مجاھدت سے بوڑھے سامراج کو عراق سے نکلنا پڑا اور تیسرا بڑا واقعہ ایران میں تحریک تنباکو کا ہے جس کی بناپر ایران میں برطانیہ کی سامراجی کمپنیوں کو منہ کی کھانی پڑی جو عوام کی دولت وثروت لوٹنے آئيں تھیں۔دراصل دشمن نے عثمانی سلطنت کے سقوط کے بعد یہ تصور کرلیاتھا کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت ختم ہوگئي ہے لیکن کچھ ہی عرصے بعد اسے دوبارہ امت اسلامی کی مزاحمت کا سامناکرنا پڑا۔ سامراجی دشمن نے مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے لئے سیاسی ہتھکنڈوں کے علاوہ دوطرح سے ثفاقتی سطح پر کام کرنا شروع کیا۔ ایک طرف تو اس نے مغربی اقدار کو رائج کرنا شروع کیا تو دوسری طرف اسلامی اصول و موازین میں شکوک وشبہات پیدا کرنا اور اسلامی تعلیمات میں تحریف کرنا شروع کیا۔ علماء نے دشمن کے ان اسلام مخالف اقدامات کا بھرپور طرح سے مقابلہ کیا۔ علماء نے دشمن کے سیاسی اثر ورسوخ، اور تسلط کے خلاف جدوجہدکی، اسلامی تشخص کو مٹانے کی اس کی کوششوں اور مغربی اقدار رائج کرنے کی سازشوں کا مقابلہ کیا شاید اسی بناپر دشمن اور اس کے پٹھوسب سے پہلے علماء کو نشانہ بناتاہے۔ عالمی مجلس: اسکی کیا وجہ ہےکہ مغربی ممالک اور ان سے وابستہ پٹھو ممالک کے ذرائع ابلاغ مشرق وسطی کے عوام کے قیاموں کو اسلامی ظاہر کرنے ڈرتےہیں اور اس خصوصیت کو چھپارہےہیں؟ جناب اوحدی: دراصل مسئلہ یہ ہےکہ مغربی ممالک کو سیاسی اسلام سے خوف لاحق ہے۔ اسی وجہ سے وہ مشرق وسطی میں جاری قیاموں کے تشخص کو ظاہرکرنے سے گھبراتےہیں انہیں یہ خوف ہے کہ ان قیاموں کا اثر دیگر قوموں پرنہ ہوجائے ۔ مغرب نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کےتیس برسوں تک یہی کوشش کی کہ وہ دنیا پریہ ظاہر کرسکے کہ اسلام حکومت نہیں چلاسکتا۔ مغرب نے اپنے اس ھدف کے حصول کےلئے تین محوروں پرکام کیا۔ پہلا محور اسلام کے چہرے کو مسخ کرکے پیش کرنا اور اسلام کا نعرے لگانےوالے دہشتگردوں کو وجود بخشنا تھا۔ اس طرح ہم دیکھتےہیں کہ القاعدہ اور طالبان جیسی انتھا پسند تنظیموں نے سراٹھایا اور دل کھول کر اسلام کو بدنام کیا۔ ان انتھا پسند گروہوں کی مدد سے حقیقی اسلامی تحریکیں اور اسلام پسندی کو بدنام کیا گيااور اسلام اور مسلمان دہشتگرد کہلانے لگے۔ مغرب کی دوسری مہم دنیا کے اہم علاقوں میں دہشتگردانہ حملے کرکے اس کا الزام مسلمانوں پرڈالنا ہے۔اس کی مثال گيارہ ستمبر کے واقعات ہیں۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے گيارہ ستمبر اور مختلف موقعوں پردیگر ملکوں میں ہشتگردی کرواکر مسلمانوں اور اسلام کوخوب خوب بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ مغرب کا اسلام کےخلاف تیسرا محور یہ تھا کہ اس نے سامراجی اھل قلم اور پٹھو مفکریں کے ذریعے اسلام کو ایک ناکام اور ناکارہ نظام فکر ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اس نظریے کا پروپگينڈا نہایت وسیع پیمانے پرکیا گیا۔ اس طرح کفر صیہونیزم اور صلیبیت نےدین اسلام اوراس کے نتیجےمیں اسلامی انقلاب کو ناکارہ اور ناکام ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔ اسی وجہ سے سامراج علاقے کی تحریکوں کو اسلامی ظاہرکرنے سےگریز کررہا ہے اور علاقائي قوموں کے اسلامی مطالبات کو چھپانے کی کوشش کرتاہے۔ عالمی مجلس: موجودہ زمانہ اسلامی بیداری کا زمانہ قراردیا جاتاہے۔ اسلامی بیداری سے کیا مراد ہے؟ جناب اوحدی: اسلامی بیداری سے مراد وہ مرحلے ہیں جنمیں عوام نے اسلامی حاکمیت کی طرف لوٹنے کامطالبہ کیا ہے۔ ان مرحلوں میں عوام نے اپنی زندگي میں اسلام کے نفاد کا بھرپور مطالبہ کیا ہے۔ اسلامی بیداری یعنی مغرب اور مشرق کے نظاموں کی نفی، اور سامراج کے سیاسی اقتصادی اور میڈیا تسلط کی نفی کیونکہ قرآن مجید فرماتاہےکہ اللہ نے ہرگز مومنین پرکافروں کومسلط نہيں کیا ہے۔ اسلامی بیداری کے یہ معنی ہیں کہ مسلمان اپنی تہذیب وتمدن کو اسلامی اصولوں کے مطابق دوبارہ زندہ کرنا چاہتےہیں اور اسلامی تعلیمات کےمطابق عزت و سربلندی سے زندگي گذارنا چاہتےہیں، اور ایسے حکام و سربراہوں سے نجات حاصل کرناچاہتےہیں جنہوں نے انہیں عزت دلانے کےبجائے دشمنوں کا آلہ کار بننا پسند کیا۔ ایسے حالات کےخلاف ملت مسلمہ کے قیام کو اسلامی بیداری کہاجاتاہے اور یہ بیداری کی لہر اسلامی دنیا کے علاوہ مغربی ممالک کو بھی متاثر کرکے رہےگي۔ قک آخری تازہ کاری برچسبها: اسلامی بیداری غزل ۱ ای پادشه خوبان داد از غم تنهایی ای پادشه خوبان داد از غم تنهایی دل بی تو به جان آمد وقت است که بازآیی ۲ دایم گل این بستان شاداب نمیماند دریاب ضعیفان را در وقت توانایی ۳ دیشب گله زلفش با باد همیکردم گفتا غلطی بگذر زین فکرت سودایی ۴ صد باد صبا این جا با سلسله میرقصند این است حریف ای دل تا باد نپیمایی ۵ مشتاقی و مهجوری دور از تو چنانم کرد کز دست بخواهد شد پایاب شکیبایی ۶ یا رب به که شاید گفت این نکته که در عالم رخساره به کس ننمود آن شاهد هرجایی ۷ ساقی چمن گل را بی روی تو رنگی نیست شمشاد خرامان کن تا باغ بیارایی ۸ ای درد توام درمان در بستر ناکامی و ای یاد توام مونس در گوشه تنهایی ۹ در دایره قسمت ما نقطه تسلیمیم لطف آن چه تو اندیشی حکم آن چه تو فرمایی ۱۰ فکر خود و رای خود در عالم رندی نیست کفر است در این مذهب خودبینی و خودرایی ۱۱ زین دایره مینا خونین جگرم می ده تا حل کنم این مشکل در ساغر مینایی ۱۲ حافظ شب هجران شد بوی خوش وصل آمد شادیت مبارک باد ای عاشق شیدایی شرح توضیحات لازم و معنی لغات مشکل: وزن غزل: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن بحر هزج مثمن اخرب ۱ ای سرور زیبایان، فریاد از دست تنهایی؛ دل بی تو به ستوه آمد، وقت آن است که بازگردی. به جان آمدن: به تنگ آمدن، به ستوه آمدن. ۲ گل این باغ همیشه باطراوت نمی ماند؛ هنگام توانایی به ضعیفان یاری کن. مخاطب همچنان پادشه زیبایان در بیت پیشین است. به او میگوید جوانی گذراست و گل روی تو همیشه شاداب نخواهد ماند. حالا که توانایی داری به من ضعیف التفاتی کن. ۳ دیشب از زلفت با باد گله میکردم؛ باد گفت به راه خطا میروی، از این فکر جنون آمیز در گذر. باد صبا گفت در فکر غلطی هستی، رسیدن به وصال زلف او فکری مالیخولیایی است از این فکر بگذر. ۴ صد باد صبا آنجا در حالیکه مقید به زنجیرند میرقصند؛ حریف چنین است، بر حذر باش که کار باطل و بیهوده نکنی. باد پیمودن: کار بیحاصل کردن.
مضمون دنباله بیت پیشین است و گله از زلف یار با باد. باد در جواب میگوید آنجا، در زلف او، صد باد صبا در حالیکه به زنجیر کشیده شدهاند، به رقص آمدهاند -معشوق چنان عیار و زیرک است که باد را با زلف خود به زنجیر میکشد و همچنان اسیر خود را در زیر زنجیر میرقصاند، تو تصور نکن که میتوانی به او دست یابی. البته به زنجیر کشیدن باد امر محالی است و پیچیدن باد را در سلسله زلف معشوق، به زنجیر کشیدن آن تعبیر کرده است. ۵ آرزومندی و دوری، دور از تو، مرا به حالی در آورده است؛ که تحمل صبر و شکیبایی من از دست خواهد رفت. دور از تو: جمله دعایی است یعنی از تو دور باد. پایاب آبی را گویند که پا به زمین آن برسد و مجازا به معنی تاب و طافت و مقاومت است. ۶ خدایا این نکته را به چه کسی میشود گفت که آن معشوق هرجایی روی خود را به کسی در جهان نشان نداد. هرجایی یعنی آنکه در یک جا قرار نگیرد، زن بدکاره، روسپی. این بیت نمودار کامل پانتئیسم هندی (همه خدایی و هیچ خدایی) است که از مبانی عرفان شیخ اکبر محیی الدین ابن عربی و مولانای رومی و نیز مجموعا از مبانی عرفان ایرانی به حساب میآید و میتوان گفت پایه عقیدتی حافظ است. خدای عرفان هتدی نیرویی است پراکنده در سراسر کائنات، عاری از صفات و مشخصات انسانی. خواجه میگوید معبود که درهمه جا هست و در ذرات کائنات وجود دارد، چگونه بر کسی مکشوف نمیشود. آیا میتوان به کسی گفت که یک معشوقه هرجایی با همه عشقبازی میکند بیآنکه روی خود را نشان دهد. پس عارفان چگونه میخواهند به وصال این معشوق برسند؟ ۷ ساقی چمنی که گل سرخ در آن رسته بدون روی تو رنگ و جلایی ندارد؛ ب ا قد مانند شمشادت بخرام تا باغ را آرایش دهی. ۸ ای کسی که هنگامی که در بستر ناکامی افتادهام درد تو درمان من است -هنگام ناکامی با درد تو دلخوشم- و ای کسی که وقتی در گوشه تنهایی هستم یاد تو با من رفیق و همراه است- یاد تو رفیق تنهایی من است. ۹ در دایره سرنوشت ما مثل نقطه مرکز دایره، بیحرکت و تسلیم حوادث هستیم؛ هر فکری که درباره ما داشتهباشی عین لطف است و هر حکمی که بکنی آن را پذیرا هستیم. تسلیم از اصطلاحات صوفیه است به معنی گردن نهادن به مقدرات خدا و این مقام بعد از توکل و رضا میآید. دنباله مضمون بیت قبلی است. میگوید اگر قسمت را دایرهای فرض کنیم، ما مثل نقطه در مرکز این دایره قرار داریم. تسلیم محض هستیم. هر تصمیمی که درباره ما بگیری از آن گله نداریم و هر حکمی بکنی مطیعیم. ۱۰ مطابق فکر و رای خود عمل کردن در عالم رندی و آزادگی معنی ندارد؛ خودبینی و استبداد رای خلاف احکام مذهب رندی است. از عالم رندی معنی عرفان عاشقانه خواسته و بر این مبنا گوید، مرید باید تابع مطلق پیر باشد، از گروه تبعیت کند و تمایلات شخصی را بکشد. ۱۱ از این دایره آبی رنگ خون به دل شدهام، شراب بده؛ تا این مشکل را در ساغر مینایی حل کنم. مینا به معنی آبگینه الوان، و مینایی شیئی که روی آن میناکاری شده باشد، و دایره مینا کنایه از آسمان آبی رنگ است. حل کردن: گشودن، مخلوط کردن چیزی با مایعی، مثل نمک و شکر در آب. میگوید از حوادثی که گردش آسمان به سرم آورده متاثر و خون به دل هستم، شراب بده تا مشکل مسئله را در جام میناکاری شراب حل کنم. و به هر دو معنی حل کردن توجه داشته است یعنی به تعبیری گره مشکلات را با نوشیدن شراب باز کنم و به تعبیری آنها را در ظرف شراب بریزم، و چنانکه جسمی را در مایع حل میکنند، آن را حل کنم و از میان ببرم. ۱۲ حافظ، شب هجران رفت، آثار خوب روزگاروصل پیدا شد؛ خوشی و شادی بر تو مبارک باد، ای عاشق شوریده حال.
نمايشگاه بين المللي فرهنگ عاشورايي بستري براي ترويج الگوسازي عزاداري در جهان
بوي ماه محرم به مشام مي رسد و پرچم هاي سياه عزاي امام حسين(ع) بر بالاي پشت بام ها در كوچه پس كوچه هاي شهر بانگ عزا مي زنند. به گزارش روابط عمومي اداره کل تبليغات اسلامي زنجان،يكهزار و چهار صد سال گذشت و هنوز جهان در عزاي امام حسين(ع) سياه پوش است و داغدار، هر سال رخت سياه بر تن مي كند و زنجير ندامت بر سينه بي وفايش مي كوبد. گويي كه اين غم را پاياني نيست هر سال پرشور تر از سال گذشته و غمگين تر از روزهاي واپسين، اين مردم تا چه اندازه مي توانند عزادار مرگ عزيزي همچون امام حسين(ع) باشند؟ دسته جات در كوچه پس كوچه ها و خيابانها يكي پس از ديگري به راه مي افتند و در رساي غم از دست دادن امام خويش سينه زني مي كنند، شايد اندكي از غم و اندوه بي وفايي اين بشر كاسته شود. هيات ها علم عزا برپا مي كنند و فرياد و نوحه سرايي عزاداران به آسمان مي رسد، گويي كه قرار است ستارگان نيز در عزاي امام حسين(ع) سيه پوش و اشك ريزان باشند. و اين سوال مدام در ذهن تمامي شيعيان و دوست داران اهل(ع) تكرار مي شود، غفلت تا كي؟ تا آن زمان كه امام خويش را در قيام عليه ظلم و جور يزيديان تنها رها كنيم؟ تا آنجا كه فراموش كنيم، پيامبر(ص) چندي پيش از مرگ خويش امانتي را به ما مسلمانان سپرد و خيانت در برابر امانت دريافت كرد؟ و شايد تا آنجا كه بگوييم هنوز خون حسين(ع) زنده است و تا زماني كه اين عزاداري هست، هيچ شيعه و هيچ مسلماني دست از مبارزه با ظلم و جور برنخواهند داشت تا آنجا كه غفلت سالهاي دور خود را جبران كنند. در اين ميان زنجانيان عزاداري را به اوج خود رساندند و هر سال با حضور صدها هزار نفري در عزاداري سرور و سالار شهيدان در عصر تاسوعا و فرداي عاشورا حماسه اي آفريدند از اشك و خون و عزا، دست هاي خويش بالا بردند و بارها بر سينه هاي ستبر خويش كوباندند كه ما با قلبي مالامال از غم و اندوه پيش مي تازيم، هنوز بيداريم، آگاهتر شده ايم، بصيرت يافته ايم، دشمن را از خانه بيرون كرده ايم و امروز آمده ايم فرياد لبيك يا حسين(ع) را به گوش تمام جهانيان برسانيم و خوب مي دانيم كه اين فرياد ها و يا ابوالفضل ها هر سال گوش استكباري را كه چشم ديدن شيعه را ندارد، پاره خواهد كرد. خوب مي دانيم اين همان چيزي است كه دشمنان خدا از آن هرايش دارند، خوب متوجه شده ايم تا زماني كه حسين(ع) و حسينيان هستند، هيچ بمب و موشكي ياراي پاسخ گويي ياران جان بر كف امام عصر(عج) و ولي فقيه را نخواهد داشت. عزاداري زنجانيان با همين معنا و فرياد و اشك بود كه الگو شد، الگويي از بصيرت و بيداري، الگويي از پاسداشت شهادت بزرگ مرداني كه در راه حمايت از ولي و امام خود سر و جان نمي شناختند و مشتاق به ديدار معبود ابدي خود مي شتافتند. از اين رو مسوولان استان زنجان نيز به فكر افتادند تا به اين طريق اين عزاداري با شكوه و بزرگ جهان اسلام را صادر كنند، همان موضوعي كه دشمن از آن هراس داشت و دارد و درچهارمين سال برگزاري نمايشگاه فرهنگ عاشورايي، از تمامي كشورهاي اسلامي براي حضور در اين همايش بزرگ حسيني دعوت كردند. مدير كل تبليغات اسلامي استان زنجان، به حضور 13 كشور در اولين نمايشگاه بين المللي فرهنگ عاشورايي زنجان اشاره كرد و گفت: آستان مقدس حضرت امام حسين (ع) نيز به صورت ويژه و جدا گانه در اين نمايشگاه حضور خواهد داشت. حجت الاسلام 'علي دشتكي'، حضور نمايندگان و مبلغان ديني ساير كشورها در اين نمايشگاه را موجب انتقال فرهنگ درست عزاداري زنجانيان به ملت هاي مسلمان دانست و افزود: اين موضوع به ويژه در زماني كه خيزشهاي جهان اسلام با الگو گرفتن از نظام اسلامي به پيروزي دست يافته اند اهميت مي يابد. وي، يادآورشد: تا زمان حاضر ايران با ساير كشورهاي تعاملات فرهنگي بسياري داشته اما هيچ تعامل فرهنگي ديني صورت نگرفته است كه نمايشگاه بين المللي فرهنگ عاشورايي اولين گام را در اين راستا برخواهد داشت. حجت الاسلام دشتكي به حضور ساير استانها در اين نمايشگاه اشاره و اظهار كرد: تا زمان حاضر برنامه هاي بسياري از استانهاي داوطلب براي حضور در اين نمايشگاه به دست دبيرخانه رسيده و براي حضور در نمايشگاه به تاييد رسيده است. مدير كل تبليغات اسلامي استان زنجان، برنامه هاي ويژه نمايشگاه در سال جاري را حضور افراد تازه مسلمان شده در نمايشگاه و در سطح مساجد اين استان دانست و گفت: برنامه ويژه اي نيز مركز پژوهشي مهدويت استان قم براي اين نمايشگاه تدارك ديده است. حجت الاسلام دشتكي، بر لزوم انجام كار فرهنگي براي تعميق باورها و تفكرات توحيدي در جامعه و در ميان مسلمانان تاكيد كرد و افزود: لازمه به سرانجام رسيدن هر حركت و اقدامي در جامعه آميختن آن با برنامه ريزي هاي فرهنگي است. به گفته وي، اگر امروز جمهوري اسلامي ايران پرچم استقلال، عزت و سربلندي دين مبين اسلام را در دست گرفته و به عنوان يك الگو در دنيا معرفي شده بعلت اعتقادات و باورهاي ديني عميقي است كه در ميان مردم وجود داشته و پافشاري كه مردم براي پاسداري و حفظ آن داشته اند، است. حجت الاسلام دشتكي، با بيان اينكه قطعا مردم نظام اسلامي براي پاسداري از اين ارزشها و اعتقادات هزينه داده اند، اظهاركرد: جبهه حق همواره بر حاكميت ارزشهاي ديني تاكيد داشته و به همين دليل، متوليان فرهنگي وظيفه و تكليفي مشخص براي حفظ و پاسداري آن داشته و هيچ بهانه و عذري در اين زمينه از آنان پذيرفته نيست. مديركل تبليغات اسلامي استان زنجان، اين استان را در كانون توجه مسولان فرهنگي كشور دانست و گفت: بايد زنجان در نظام اسلامي كه امروز به عنوان يك الگوي اسلامي به جهان معرفي شده است، بعنوان يك الگو از فرهنگ عاشورايي و ديني مطرح و معرفي شود. وي، بر لزوم الگو سازي عزاداري زنجانيان در كانون توجهات جهاني تاكيد و خاطر نشان كرد: لازمه تحقق اين موضوع برنامه ريزي تخصصي و كارشناسي براي طرح برنامه هاي قابل ارائه به ساير استانها و كشورهاي اسلامي است. حجت الاسلام دشتكي، الگو سازي فرهنگي در زمينه فرهنگ عاشورايي را وظيفه سنگين و خطيري توصيف كرد و افزود: زماني كه نگاه هاي ملي و جهاني به زنجان به عنوان پايتخت شور و شعور حسيني منعطف است، رسالت تدوين برنامه هاي فرهنگي در زمينه فرهنگ عاشورايي را بايد به گونه اي انجام داد كه مخاطبان ملي و جهاني اغنا شود. معاون فرهنگي تبليغات اسلامي استان زنجان و مسول دبيرخانه جشنواره بين المللي فرهنگ عاشورايي، نيز به برگزاري چهارمين دوره نمايشگاه فرهنگ عاشورايي از هفت الي 12 آذر ماه سال جاري در محل دائمي نمايشگاه هاي كاسپين اشاره كرد و افزود: اين جشنواره فرهنگ عاشورايي يكي از نمايشگاه هاي منحصر به فرد در حوزه فرهنگ عاشورايي است. يوسف اماملو با بيان اينكه نمايشگاه فرهنگ عاشورايي در سال جاري بايد از نظر گروه هاي شركت كننده و عوامل دخيل در حجم وسيع تري برگزار شود، يادآورشد: ايجاد فضاي مناسب براي تفكر و تعمق در ارزشهاي عاشورا و كربلا و فلسفه قيام امام حسين(ع) از جمله اهدافي است كه اين نمايشگاه در صدد دست يابي به آن است. وي، آشنا سازي مردم با حجم گسترده اي از فعاليت هاي مردمي در استان زنجان و ساير كشورهاي اسلامي شركت كننده در اين نمايشگاه را از ديگر اهداف اين نمايشگاه دانست و اظهار كرد: به عبارت دقيقتر در نمايشگاه فرهنگ عاشورايي سال جاري اقتدار جبهه اسلام و تشيع در مقابل جبهه كفر و استكبار به نمايش در خواهد آمد. معاون فرهنگي ، آموزشي وپژوهشي اداره کل تبليغات اسلامي استان زنجان، نگاه ويژه به موضوعات روز جهان اسلام با محوريت بيداري اسلامي را از ديگر اهداف اين نمايشگاه توصيف كرد و گفت: تمامي حركت هاي مسلمانان در جهان امروز به نوعي الگو گرفته شده از قيام امام حسين(ع) است. وي، به راه اندازي بزرگترين هيات مجازي جهان اسلامي همزمان با برگزاري اين نمايشگاه اشاره و خاطر نشان كرد: اين سايت در زمان حاضر با تلاش شبانه روزي سايت تبيان و با محتوا و مباحث ديني براي ايجاد حساسيت در ميان عموم جوانان در دست طراحي قرار دارد. اماملو، به حضور ساير استانهاي كشور در نمايشگاه فرهنگ عاشورايي اشاره كرد و افزود: محتواي غرفه هاي استانهاي متقاضي براي شركت در اين نمايشگاه بايد به تاييد دبيرخانه رسيده و با محتواي خوب و مناسب در داير شوند. مسول دبيرخانه دائمي نمايشگاه فرهنگ عاشورايي، هدف از اين تاييد را پرداختن به محتواي مطالب و موضوعات ارائه شده در نمايشگاه دانست و يادآورشد: بايد سطح تمامي اين مباحث بالا بوده و زمينه تفكر و تعمق بازديد كنندگان از نمايشگاه را ايجاد كند. وي، ساعات برگزاري اين نمايشگاه را صبح ها از ساعت 9 و 30 دقيقه الي 12 ظهر مختص دانش آموزان دانست و اظهار كرد: براي دانش آموزان برنامه هاي ويژه گفتمان ديني و پاسخ گويي به پرسش هاي آنان در زمينه عاشورا و امام حسين(ع) تدارك ديده شده است. اماملو، با بيان اينكه بعد از ظهر ها اين نمايشگاه از ساعت سه و 30 دقيقه الي هشت شب داير مي باشد، گفت: دبيرخانه دائمي اين نمايشگاه در طول سال داير بوده به بررسي روشهاي ارائه محتواي مناسب و تفكر برانگيز به مخاطبان مي پردازد. در ماه سوگواري سيد و سالار شهيدان، شيعيان پاكستان با رسم و سنت ديرينه خود به سوگ مينشينند. با آغاز ماه محرم، شور حسيني، تمامي مناطق اعم از شيعي و حتي غيرشيعي در سراسر جهان را فرا مي گيرد و شيعيان در جاي جاي جهان با آداب و رسوم مخصوص به خود، در سوگ و ماتم شقايقهاي كربلا به عزاداري مي پردازند.
براساس آمارهاي غيررسمي، 20 درصد مردم كشور پاكستان را شيعيان تشكيل ميدهند. سه فرقه شيعه اثنيعشري، اسماعيلي (آقاخاني) و شش امامي (بُهريها) شيعيان اين كشور را تشكيل ميدهند. شيعيان اثني عشري بيشترين تعداد را دارند و عنوان تشيع بيشتر ناظر بر آنها است. شيعيان پاكستان در مناطق «بلتستان» و «گلگت» و همچنين در مناطق قبيلهنشين و آزاد «اورگزيچ» و «كرم اجنسي» كه متعلق به اين كشور هستند، تجمع بيشتري دارند. در پاكستان مرسوم است، دولتمردان اين كشور به مناسبت شهادت امام حسين (ع) و ياران باوفاي آن حضرت پيامهاي تسليتي خطاب به مردم ارسال ميكنند. اكثر شيعيان با شروع ماه محرم جامه سياه بر تن ميكنند، چراغهاي منازل خود را خاموش ميكنند و هنگام خواب از رختخواب استفاده نميكنند. شيوههاي عزاداري در شهرها و مناطق مختلف پاكستان متفاوت است و مردم هر منطقه طبق آداب و رسوم ديرينه خود به عزاداري ميپردازند. مجالس سخنراني، روضهخواني، سينهزني، زنجيرزني، تاسوعا و عاشورا از جمله مراسم اين روزها در پاكستان است. * شيوههاي مختلف عزاداري در پاكستان در سالهاي اخير در مناطق مختلف اين كشور شيوههاي مختلفي متداول شده است. به عنوان مثال در لاهور، جوانان هنگام سينهزني يك پا را عقب گذاشته، پاي ديگر را جلو ميآورند، برخي به هوا ميپرند، عدهاي پيراهن را از تن بيرون ميآورند و يا برخي ديگر با تنپوش زيرين سينهزني ميكنند. در اكثر مناطق شيعهنشين مردم به صورت گروهي و يا دستههاي 5 تا 10 نفري نوحه ميخوانند و عدهاي از عزاداران، در اطراف آنها حلقه ميزنند و با تكرار نوحه، ابيات و مرثيه در سوگ سالار شهيدان سينه ميزنند. هيأت زنان به دنبال دستههاي سينهزني مردها (در شهرهاي كراچي، لاهور، مولتان و ديگر شهرهاي بزرگ پاكستان) در خيابانها در حال سوگواري، راهپيمايي و سينهزني ميكنند. * سينهزني ـ سينهزني و مراسم زنانه كه فقط زنان در آن حضور دارند: در اين برنامهها كه اغلب در حسينيهها برگزار ميشود زنان نوحه ميخوانند و گروهي سينه ميزنند. ـ سينهزني هنگام عبور از آتش: سينه زني در روي بستري از آتش در چند شهر پاكستان از جمله شهرهاي جهنگ، فيصلآباد، لاهور، مولتان و پاراچنار مرسوم است. مردم ابتدا آتش فراواني مهيا ميكنند، پس از اينكه هيزمها خوب بر افروخته شدند و شعله آتش فروكش كرد، هيأت سينهزنان با پاي برهنه از روي آنها عبور ميكنند. ـ سينهزني با طبل: هيأتهاي عزاداري در برنامههاي خود از طبل و سنج استفاده ميكنند، شيعيان در شهرهاي كراچي، مولتان و پاراچنار بيشتر به اين شيوه به سوگواري ميپردازند. ـ سينهزني با سكوت: در اين نوع سينهزني تمام شركتكنندگان در حاليكه آثار حزن و اندوه بر چهره دارند، ضمن رعايت سكوت، سينه ميزنند و پيشاپيش صف عزاداران، علمهاي بزرگي را حمل ميكنند. اين مراسم در شهرهاي مولتان، كراچي و دير اسماعيل خان مرسوم است. ـ سينه زني با يك دست: اين نوع سينه زني فقط بين شيعيان اردوزبان اين كشور رايج است. گروه نوحهخوان، نوحه ميخوانند و عزاداران ضمن پاسخ به آنها، با يك دست سينه ميزنند. ـ ملنگي: نوعي سينهزني پرشور و خروش است كه تمام عزاداران بدون پيراهن سينهزني ميكنند. اين شيوه سينهزني در كليه شهرها و مناطق شيعهنشين پاكستان رايج است. همچنين به قشري از مردم كه در حسينيهها جمع شده و يك نفر ضمن طبل و فلوت زدن، مصائب اهل بيت (ع ) را ميخواند و مردم گريه و شيون ميكنند، «ملنگ» ميگويند. * زنجيرزني مراسم زنجيرزني با ورود اسلام به هند و پاكستان، وارد اين كشورها شد. اين مراسم، در گذشته به همان شيوهاي كه در ايران رواج داشت، برگزار ميشد. بعدها مردم پاكستان و هند با اضافه كردن تيغ و چاقو به انتهاي زنجير، در شيوه زنجيرزني تغييراتي ايجاد كردند. اغلب جوانان شيعه مذهب پس از برآورده شدن نذرشان به اين شيوه زنجير ميزنند. مرسوم است، خانوادههايي كه صاحب فرزند نميشوند، در صورت پسردار شدن، وي را همه ساله در هياتِ زنجيرزنان ابا عبدالله حسين (ع) شركت دهند. زنجيرزني كه منجر به جراحات جسمي سوگواران ميشود، مخالفيني نيز دارد كه اين شيوه عزاداري را به دليل آسيب رساندن فرد به خودش حرام ميدانند. مراسم زنجيرزني در تمام شهرهاي پاكستان برپا ميشود. حتي برخي جوانان اهل سنت و مسيحي نيز در مجالس عزاداري سيدالشهدا (ع) زنجيرزني ميكنند. * محتواي سوگواري سالار شهيدان از روز اول ماه محرم تا روز دهم اين ماه، مراسم و مجالس عزاداري در حسينيههاي اين كشور داير است. علما و ذاكرين در طول اين مدت، هر شب گوشهاي از برنامههاي سفر شهادتطلبانه امام حسين(ع) و يارانش را به ترتيب زير براي مردم بيان ميكنند: شب اول: حركت امام حسين(ع) براي شركت در مراسم حج و ناتمام گذاشتن آن. شب دوم: حركت امام حسين(ع) و يارانش از مكه به سوي كربلا. شب سوم: جدا شدن فاطمه صغري (س) دختر امام حسين (ع) از خانواده. شب چهارم: شهادت پسران مسلم بن عقيل (ع). شب پنجم: برخورد حر با امام حسين (ع) و شهادت حر و قاسم بن الحسن(ع). شب ششم: زندگي و شهادت حضرت علي اكبر (ع). شب هفتم: زندگي و شهادت ابوالفضل العباس(ع). شب هشتم: زندگي و شهادت علي اصغر(ع). شب نهم: (تاسوعا) پيوستن حر رياحي به ياران امام حسين (ع). شب دهم: (عاشورا) شهادت امام حسين(ع). تمام اين مراسم مخصوص مردان است و زنان، روزها در حسينيهها به عزاداري ميپردازند. a عشق به امام حسین (ع) در ایران اسلامی جای تعجب ندارد. چون اکثر مردم ما شیعه و به عشق امام حسین (ع) زنده اند ، لذا در نگاه اول انتظار نمی رود که عزاداری امام حسین (ع) در پاکستان به صورت یک امر همگانی وملی تلقی شود. در صورتی که آنچه من شاهد آن بودم حکایت از این مطلب دارد که امام حسین (ع) در میان همه مردم آن کشور – اعم از سنی و شیعه – از مقبولیت و محبوبیت بالایی برخوردار است. و مردم برای ایشان احترام خاصی قائلند. به طوریکه در ایام عاشورا و محرم ، جامعه پاکستان حالت سوگوارانه ای به خود می گیرد از اینجا یکی از رموز همدلی و قرابت دو ملت پاکستان و ایران نیز روشن می شود زیرا همدلی و نزدیکی و احساس همدردی که بین این دو ملت است و بر رفتار دولتها و حکومتهای آنها نیز اثر گذاشته و آنها را در امور بین المللی به ویژه مسائل دنیای اسلام از رفتار و مواضع هماهنگ برخوردار کرده است بر پایه عوامل و رموزی قرار دارد که عامل باور و علاقه و شوق نسبتاً یکنواخت دو ملت به امام حسین می تواند سهم عمده ای را در این مورد داشته باشد. همچنین در پاکستان اکثر اهل تسنن نیز احترام خاصی برای حضرت فاطمه قائل اند ، و این عامل می تواند سهم بزرگی در نزدیکی دو ملت مسلمان ایران و پاکستان داشته باشد. البته از این مطلب نباید غافل ماند که دشمنان اسلام و مسلمانان از چنین علاقه ای بین مذاهب اسلامی خشنود نیستند و اساساً درهر جامعه ای اقلیتی مزاحم و ناخشنود از یکدیگر پیدا می شو ند و هیتها ابزا ری دردست دشمنان اسلام برای تو سعه اختلاف دربین مسلمانانند.که هوشیاری و بیداری و اخوت مسلمانان می تواند این سیاست دشمنان را خنثی نماید درهمین خصوص گاهی مزاحمتهایی در ایام سوگواری امام حسین (ع) در پاکستان نیز پیش می آید. که اهمیت چندانی نداشته و فراگیر نیست و تنها رسانه های خبری با پخش آن به بزرگ شدنش کمک می کنند. در محرم 73 پاکستان ، مسلمانان و شیعیان این کشور خود را آماده استقبال از محرم می کردند و در شهرهای مختلف و مراکز ایالتها توسط گروهها و اشخاص ، کنفرانسهای استقبال با عناوین مختلف حتی پیش از فرا رسیدن محرم ، برگزار می شد تا بر اساس سنت هر ساله ، فرهنگ عزاداری امام حسین در جامعه زنده شود. (امام بارگاهها) و (ذوالجناحها) که نقش عمده ای در فرهنگ عزاداری عاشورای پاکستان دارند فعال می شدند. دولت پاکستان نیز خود را برای برگزاری مراسم عزاداری در فضایی امن آماده می کرد تا ناامنیتهای موردی و موضعی سالهای قبل تکرار نشود. دولت پاکستان حرکت فعالی رابرای جلب همکاری ومشارکت گروهها وشخصییت های مذهبی ودینی انجام داد وبا رایزینهاوتشکیل جلسات، توانست در این راه موفق شده ، همکاری آنها را جلب نمایند. همچنین باتشکیل کمیته ویژه ، تدابیر امنیتی و انتظامی مؤثر و خوبی را اتخاذ نمود. مجموعه این همکاریها و تلاشها و تدابیر توانست فضای امنی را برای برگزاری باشکوه مراسم عزاداری عاشورای حسینی فراهم آورد. مقامات سیاسی و شخصیتهای برجسته پاکستان هر یک پیامها و دیدگاههای خود را که ظاهراً سنت نیز هست ، درباره ی عاشورا و امام حسین (ع) ارائه دادند که توسط رسانه ها و روزنامه های پاکستان منتشر شد که به عنوان نمونه بعضی از آنها را نقل می کنیم. - رئیس جمهور پاکستان آقای (فاروق احمد خان لغاری) اظهار داشت : زندگانی مبارک حضرت امام حسین (ع) برای ما راه هدایت است با پیروی از این راه ما می توانیم توطئه های دشمنان را خنثی کنیم. (روزنامه جنگ) آقای (اقبال خان) رئیس شورای ایدئولوژیک اسلامی پاکستان گفت در دهه اول ماه محرم یاد شهدای کربلا را گرامی می داریم و این بر همه فرقه های اسلامی لازم است که طبق عقیده خود مراسم قرآن خوانی ، سینه زنی راه پیمایی مجالس بزرگداشت برگزار کنند. در ذهن مسلمانان باشد که اگر امام حسین (ع) با یزید بیعت می کرد اسلام حقیقی نابود می شد و در دنیا ظلمت حاکم می گردید. حضرت امام حسین (ع) بیعت را رد کرد و اسلام را حفظ نمود. (مجله ندای شیعه لاهور) در محرم این سال حتی رهبر گروه مخالف شیعیان در پاکستان نیز در سخنرانی عمومی خود در شهر (جنگ) با احترام ، نقش و سیرت امام حسین (ع) را توصیف نمود. صدور پیامها و سخنرانیها و بیان دیدگاهها از مقامات و شخصیتهای پاکستان ، نشانه ای بر تلقی شدن عزاداری عاشورا به عنوان یک امر ملی و عمومی است. شاخص دیگر ملی تلقی شدن عزاداری – تعطیل رسمی در سراسر پاکستان در روزهای تاسوعا و عاشورای حسینی است. این دو روز جزو تعطیلات رسمی کشور است. و مردم نیز فرصت خوبی برای شرکت در مراسم عزاداری دارند. شاخص دیگر ، اختصاص یافتن برنامه های صدا و سیمای پاکستان در روزهای تاسوعا و عاشورا برای پخش اخبار وگزارشها و نیز اجرای مراسم عزاداری و نوحه خوانی است که اولا اخبار عزاداری به نحو گسترده و در سطح بسیار خوبی منتشر شد. ثانیا برنامه های متعدد عزاداری و نوحه خوانی و ذکر مصیبت و تشریح ابعاد واقعه عاشورا در روزهای یاد شده از تلویزیون پاکستان پخش گردید. حتی علاوه بر شبکه سراسری تلویزیون ، شبکه s.t.n که برنامه های خبری خود صرف نظر نموده و یکسره برنامه های ویژه عاشورا و عزاداری را پخش می نمود. البته ذکر این نکته ضروری است که برنامه های عزاداری در رسانه های پاکستان تقریباً از همان اوایل ماه محرم پخش می گردید. روزنامه ها نیز نقش خوبی ایفا نمودند. آنها ضمن درج اخبار و تصاویر مربوط به مراسم عزاداری و سوگواری سرور شهیدان حضرت امام حسین (ع) در کشور اسلامی پاکستان است و مؤید این نکته است که آن بزرگوار ، محبوبیت و مقبولیت خاصی در جامعه پاکستان دارد و مردم پاکستان از این حیث با مردم ایران وجه مشترک دارند. بنابراین عامل مهمی در پیوند و یکدلی و نزدیکی هر جامعه مسلمان ایران و پاکستان به حساب می آید. (پاسدار اسلام سال چهاردهم ص 161 و 162) منبع:مداحی
پاکستانپاکستان اولین کشور جمهوری اسلامی است که در جنوب غربی آسیا قرار گرفتهاست و پایتخت آن اسلامآباد است. طبق آمار تخمینی سال ۱۳۸۷ (۲۰۰۸) کشور پاکستان با جمعیتی در حدود ۱۷۲ میلیون تن، ششمین کشور پر جمعیت دنیا به شمار میرود و دارای نرخ رشد جمعیت بالایی است.
پاکستان که رسماً به عنوان «جمهوری اسلامی پاکستان» (به اردو: اسلامی جمهوری پاکستان) شناخته میشود کشوری در آسیای جنوبی است و قسمتی از آن نیز در خاورمیانه است. این کشور مرز آبی هزار کیلومتری با دریای عرب یابه عبارت دیگر دریای مکران در قسمت جنوب دارد و از غرب با ایران، از شمال با افغانستان، از شرق با هندوستان، و از شمال شرق با جمهوری خلق چین هممرز است. ناحیه کشمیر مورد ادعای هندوستان و پاکستان است. هر دو کشور هند و پاکستان به طور جداگانه بخشهایی از این منطقه را اداره میکنند و این مناطق توسط خط کنترل از هم جدا شدهاند. مرز چین اکنون توسط هند به رسمیت شناخته نمیشود. پاکستان ششمین کشور پرجمعیت دنیا و دومین کشور دارنده جمعیت مسلمان است. این کشور در سال ۱۳۲۶ (۱۹۴۷ ) به عنوان یک دولت و کشور جدید و به عنوان یکی از دو قسمت هند و بریتانیایی شناخته و تأسیس شد. این منطقه تاریخچه کهنی از زندگی و تمدن را دار است که شامل تمدن دره سند میشود.از زمان استقلال، پاکستان دورههای رشد نظامی و اقتصادی و همچنین بیثباتی را همگام با جدا شدن از بنگلادش از خود، تجربه کردهاست. پاکستان از لحاظ بزرگی نیروهای مسلح در رده هفتم جهان است و تنها کشو ر اسلامی دارنده جنگافزار هستهای میباشد. نام پاکستان (paːkɪst̪aːn) (پاک + ستان) به زبانهای اردو و فارسی یعنی سرزمین پاکی. این نام نخستین بار در سال ۱۳۱۲ (۱۹۳۳) توسط چودهاری رحمت علی که آن را در نشریه «امروز» یا «هرگز» منتشر کرد، به کار برده شد.[۱] این نام به عنوان سرواژه از نامهای سرزمینهای اصلی اسلامی مربوط به هند غربی ساخته شدهاست. به طور رسمی این کشور به عنوان قلمرو پاکستان در سال ۱۳۲۶ (۱۹۴۷) بنا نهاده شد و در سال ۱۳۳۶ (۱۹۵۷) به «جمهوری اسلامی پاکستان» تغییر نام داد. پاکستان را بخصوص در شبه قاره هند معمولاً با نام مخفف «پاک» میشناسند. تاسیس پاکستان در هنگام قیام علیه استعمار انگلیس، پاکستان به رهبری محمدعلی جناح (از یاران گاندی) پیش از استقلال هند، استقلال خود را بازیافت. پاکستان دارای تمدن آسیایی بودهاست و یکی از تمدنها بزرگ جهان به حساب میآید که پس از میانرودان و مصر تمدن دوره سِند (۲۵۰۰ تا ۱۵۰۰ قبل از میلاد) است. کشور کنونی پاکستان در تاریخ ۱۲ اوت (۱۹۴۷) تأسیس شد. اما ناحیهای که دربرمی گیرد تاریخچه گستردهای دارد که با تاریخ هندوستان، اشتراک دارد. این منطقه محل تقاطع راههای تجاری تاریخی مانند راه ابریشم بودهاست و در هزاران سال توسط گروههای مختلفی به عنوان سرزمین سکونت به کار برده شد. این گروهها دراویدیها، هندواروپایی، مصریها، سکاها، پارتها، کوشانها، افغانها، ترکتباران، مغولها و اعراب بودند. این منطقه را بیشتر به نام موزه اقوام و نژادها میشناسند. مورخ و جغرافی دان دو بلیج مولر هنگامی که گفت: «اگر آنگونه که میگویند مصر موهبتی از سوی نیل است، پاکستان نیز موهبتی از سند است.» اهمیت تاریخی این منطقه را آشکار ساخت. نخستین نشانه وجود آدمیان در این منطقه ابزارهای سنگی هستند که در استان پنجاب از فرهنگ سوان برجای ماندهاند و مربوط به ۱۰۰ هزار تا ۵۰۰ هزار سال پیش هستند. رود سند (ایندوس) محل فرهنگهای باستانی متعددی از قبیل مهرگره (یکی از اولین شهرهای شناخته شده جهانی) و تمدن دره سند در هاراپا و موهنجودارو است. تمدن دره سند در اواسط هزاره دوم پیش از میلاد دچار انحطاط شد و پس از آن تمدن ودابی پدید آمد که در بیشتر شمال هند و پاکستان گسترده شد. پادشاهی هندویونانی که توسط دمتریوس اول باختری تأسیس شد، شامل دانهدار و ناحیه پنجاب از ۱۸۴ قبل از میلاد میشد و در زمان حکومت من اندر اول که با پیشرفتهای تجاری و فرهنگی دوره یونانی بودائیسم همراه بود را بنا نهاد و به بیشترین رشد و پیشرفت خود رسید. شهر تاکسیلا مرکز مهم آموزشی در دوران باستانی شد. بقایای شهر که در غرب اسلام آباد واقع هستند، یکی از مکانهای باستانشناسی عمده کشور است. در سال ۷۱۲ میلادی، فرمانده عرب به نام محمد بن قاسم، سند و مولتان در جنوب پنجاب (پاکستان) را فتح کرد و بنای حکومتهای بعدی مسلمانان را که شامل حکومت غزنویان پادشاهی محمد غر پادشاهی (سلطان نشین) دهلی و حکومت موغال میشدند ایجاد کردند. در طول این دوره مروجان دینی صوفی نقش محوری را در تغییر دین اکثریت جمعیت منطقه به اسلام ایفا نمودند. انحطاط تدریجی حکومت مغول در اوایل سده هیجدهم موقعیتهایی را برای جمعیت افغانستان، بلوچها و سیکها برای اعمال قدرت و کنترل خود بر نواحی گستردهای را فراهم نهاد تا زمانی که کمپانی هند شرقی بریتانیا سلطه خود را بر جنوب آسیا گسترانید. جنگ استقلال هند در ۱۲۳۶ هجری خورشیدی (۱۸۵۷) آخرین نبرد مسلحانه منطقه برضد راج بریتانیا بود و زمینههای نبرد آزادی خواهانه غیرمسلحانه که توسط مجلس ملی هند رهبری میشد را بنا نهاد. با این وجود لیگ مسلمانان هند در نیمه دوم دهه ۱۹۳۰ در میان ارسی از نادیده گرفتن مسلمانان در سیاست به محبوبیت رسید در ۲۹ دسامبر ۱۹۳۰ خطابه مربوط به ریاست جمهوری علامه اقبال لاهوری خواهان ایجاد یک کشور مسلمان مجزا در شمال غربی و آسیای جنوب شرقی شد. محمد علی جناح تئوری دو ملت را حمایت کرد و لیگ مسلمانان را به سوی پذیرش «قطعنامه لاهور» مربوط به ۱۹۴۰ هدایت کرد که سرانجام به ایجاد کشور پاکستان انجامید. پاکستان در ۱۴ اوت ۱۹۴۷ با دو جناح دارای اکثریت مسلمان در قسمت شرقی و شمال غربی مناطق آسیای جنوبی تشکیل شد که توسط هند که اکثریت آن هندو بودند ازهم جدا شد و از استانهای بلوچستان (پاکستان)، بنگلادش شرقی، استان مرزی شمال غرب، پنجاب غربی، و سند تشکیل میشد. تقسیم تقسیم هند تحت کنترل بریتانیا به شورشهای فرقهای منجر گردید. اختلافات هند و پاکستان به جام و کشمیر بالا گرفت و به اولین جنگ کشمیر (۱۹۴۸) منتهی شد همچنین در دوره جنگ ۱۹۶۵ هند–پاکستان که ایوب خان رئیس جمهور بود رخ داد. جانشین او یحیی خان (۷۱-۱۹۶۹) با طوفان - بهولا ۱۹۷۰ در پاکستان شمالی(بنگال) - مواجه شد که باعث مرگ ۵۰۰ هزار تن شد. دو کشور پاكستان شرقی و غربی در ۱۳۴۹ (۱۹۷۰) تفرقههای اقتصادی و سیاسی در پاکستان شرقی (بنگلادش امروزی) منجر به سرکوبیها و تنشهای شدید سیاسی گردید، که نهایتاً به جنگ آزادسازی بنگلادش و جنگ ۱۹۷۱ هند و پاکستان و نهایتاً جدا شدن پاکستان شرقی به عنوان کشور مستقل بنگلادش انجامید. حکومت غیر نظامی از سال ۱۹۷۲ تا ۱۹۷۷ توسط ذوالفقار علی بوتو تا زمانی که خلع شد و توسط یک جنایت قضایی در سال ۱۹۷۹ به دست ژنرال محمد ضیا الحق اعدام شد، از سرگرفته شد. ضیاء الحق سومین رئیس جمهور نظامی شد. سیاستهای سکولار (غیر دینی) پاکستان با معرفی قوانین اسلامی شریعت توسط ضیاء از بین رفتند و این روند تأثیرات مذهبی و دینی بر جامعه شهریب، و همچنین نظامی را افزایش داد. با مرگ ژنرال ضیاء در حادثه سقوط هواپیما در سال ۱۳۶۷ (۱۹۸۸)، بی نظیر بوتو دختر ذوالفقار علی بوتو به عنوان اولین نخستوزیر زن پاکستانی انتخاب شد. در طول دهه بعد با خرابتر شدن اوضاع سیاسی و اقتصادی کشور، او قدرت را به نواز شریف واگذار کرد.تنشهای نظامی در جنگ کارگیل که پاکستان و هند در سال ۱۹۹۹ با آن مواجه بودند، با یک کودتای نظامی دنبال شد که در این کودتا ژنرال پرویز مشرف توانست قدرت اجرایی را به دست گیرد. در سال ۲۰۰۱ مشرف توانست با استعفای رفیق ترار، رئیس جمهور پاکستان شود. پس از انتخابات مجلس ۲۰۰۲، مشرف قدرتهای اجرایی را به نخست وزیر تازه منتخب ظفرالله خان جمالی واگذار کرد که او نیز در انتخابات نخست وزیری ۲۰۰۴ پاکستان، جای خود را به شوکت عزیز داد. نقشهٔ سیاسی پاکستان پاکستان از پنج ایالت، یک منطقهٔ خودمختار قبایلی، یک منطقه فدرال پایتخت(اسلام آباد) و دو منطقه مربوط به جامو و کشمیر تشکیل شدهاست. منطقه زرد رنگ (شماره ۱) ایالت بلوچستان به مرکزیت کویته منطقه بنفش رنگ (شماره ۲) ایالت خیبر پختونخوا به مرکزیت پیشاور منطقه آبی زنگ (شماره ۳) ایالت پنجاب به مرکزیت لاهور منطقه سرخ رنگ (شماره ۴) ایالت سند به مرکزیت بندر کراچی منطقه سفید رنگ (شماره ۵) منطقه فدرال پایتخت (ناحیه پایتختی اسلامآباد) (IST) منطقه سبز رنگ (شماره ۶) منطقه خودمختار قبایلی به مرکزیت میران شاه (FATA) منطقه فیروزهای رنگ (شماره ۷) منطقه کشمیر پاکستان (جامو و کشمیر آزاد) به مرکزیت مظفرآباد (AJK) منطقه سیاه رنگ (شماره ۸) ایالت گلگت بلتستان مناطق شیعه نشین ایالت بلوچستان و ایالت خیبر پختونخوا (سرحد شمال غربی)، خود نیز دارای مناطق خودمختار قبایلی هستند . جغرافیا و آب و هوا دومین كوه بلند جهان، کی ۲ در منطقه شیگر بلتستان شمال پاکستان پهناوری پاکستان معادل ۸۰۳، ۹۴۰ کیلومتر مربع است که حدوداً معادل مجموع پهناوری کشورهای فرانسه و انگلستان است. نواحی شرق آن بر روی فلات هند و نواحی غربی و شمالی بر روی فلات ایران و سرزمین اوراسیا قرار گرفتهاست. ۱۰۴۶ کیلومتر (۶۵۰ مایل) مرز آبی با دریای عرب از طرف شمال دارد و از سوی غرب با افغانستان ۵۲۳ کیلومتر (۳۲۵ مایل) و از طرف شمال شرق با چین ۲۹۱۲ کیلومتر (۱۸۰۹ مایل) از طرف شرق با هند و ۹۰۹ کیلومتر (۵۶۵ مایل) از طرف جنوب غرب با ایران مرز دارد. در این کشور انواع ویژگیهای طبیعی از سواحل شنی مردابی و باتلاقهای دارای حرا در ساحل جنوبی گرفته تا جنگلهای معتدل و مرطوب حفاظت شده و قلمروهای یخی کوههای (هیمالیا) قراقوروم، هندوکش در شمال همگی به چشم میخورند. به طور تقریبی ۱۰۸ قله با بلندی بیش از ۷۰۰۰ متر (۲۳۰۰۰ فوت) وجود دارد که با برف و یخچال پوشیده شدهاند. پنج کوه در پاکستان ازجمله کی۲ (در بلتستان) و نانگا پاربات بیش از ۸۰۰۰ متر (۲۶۰۰۰ فوت) ارتفاع دارند. در قسمتی از کشمیر که توسط هند اداره میشود تا نواحی شمالی پاکستان رودخانه سند در طول کشور جریان دارد. هر ساله قسمتهای شمالی پاکستان شمار زیادی جهانگرد خارجی را به خود جلب میکنند. کوهنوردان از سراسر دنیا بلتستان در پاکستان را به عنوان مقصد نهایی خود میدانند. در غرب رود سند بیابانهای خشک و تپهای بلوچستان پاکستان وجود دارند؛ در قسمت شرق هم شنهای روان بیابان تار وجود دارد. بیشتر نواحی پنجاب و قسمتهایی از سند دشتهای حاصلخیزی هستند که کشاورزی در آنجا از اهمیت زیادی برخوردار است. آب وهوا نیز به همین روال متفاوت است؛ زمستانهای سرد و تابستانهای گرم در شمال و آب و هوای معتدل درجنوب که متأثر از تأثیر اقیانوس هند است. نواحی مرکزی تابستانهای بسیار گرم دارند و دمای آنها به بیش از ۴۵ درجه سانتی گراد (۱۱۳ درجه فارنهایت) میرسد و زمستانهای سردی که دمای هوا کمتر از دمای انجماد میرسد. میزان بارش باران نیز کم است و از ۲۵۰ میلی متر و تا ۱۲۵۰ میلی متر که بیشتر با دمای موسم (مونسون) غیر قابل اطمینان جنوب غربی در اواخر تابستان همراه هستند در نوسان است. مسئله کمبود آب نیز توسط ساخت سدها بر روی رودخانهها و استفاده از آب چاهها در مناطق خشکتر تا حدی حل شدهاست. فرهنگ پاکستان مسجد شاه فیصل در اسلام آباد که از بزرگترین مسجدهای جهان است. آرامگاه اقبال لاهوری پاکستان دارای فرهنگ منحصر به فرد و غنی است که سنتهای خود را در طول تاریخ حفظ کردهاست. واقعیت پیش از ورود اسلام بسیاری از پنجابیها و سندیها، هندو و بودایی بودند؛ اما این روند در طول دوره توسعه اسلام، توسط حاکمان اموی، محمد بن قاسم، سلطان محمود غزنوی و دیگران تغییر یافت. بسیاری از فعالیتها، غذاها بقایای تاریخی و مکانهای مقدس از حکومت موغل مسلمان و فرمانروایان افغانها برجای مانده که شامل لباس ملی شلوار کمیز (تمیز) میشود. زنان نیز شلوار قمیز با رنگهای شاد میپوشند. در حالی که مردان شلوارهایی با رنگهای تیره تر میپوشند و معمولاً شیروانی یا اچکان (نوعی کت بلند) که برروی لباسها میآید برتن میکنند. انواع موسیقی پاکستانی متنوع است؛ موسیقی محلی و گونههای سنتی مانند قوالی و غزل گایاکی و گونههای جدید که موسیقی سنتی و غربی را در هم میآمیزند مانند اجرای همزمان قوالی و موسیقی غربی که توسط نصرت فتح علی خان مشهور انجام میشود. دیگر خوانندگان عمده غزل، مهدی حسن، غلام علی و فریده خانم طاهره، سید عبید پروین و اقبال بانو هستند. ورود مهاجران افغان در استانهای غربی، موسیقی پشتو و فارسی را مجدداً زنده کردهاست و پیشاور را به عنوان محلی برای موسیقی دانای افغان و محلی برای گسترش موسیقی افغان به خارج از کشور مبدل ساختهاست. تا دهه ۱۹۹۰ شرکت تلویزیون پاکستان که توسط دولت اداره میشد (PTV) و شرکت خبرگزاری پاکستان رسانههای عمده کشور بودند. اما اکنون کانالهای تلویزیونی شخصی متعددی از قبیل Geo TV، تلویزیون ایندوس، Hum TV و گروه ARY نیز وجود دارند. کانالها و فیلمهای متعدد آمریکایی، اروپایی و آسیایی نیز برای اکثریت جمعیت پاکستان از طریق Cask TV و ماهواره قابل دسترسی هستند. همچنین صنایع فیلمسازی بومی کوچکی نیز در لاهور و پیشاور (که اغلب با نام لالی وود و پولی وود آنها را میشناسند) وجود دارند. با وجود اینکه فیلمهای بالیوود امروزه ممنوع هستند ستارههای سینمای هند در پاکستان بسیار محبوب هستند. ساختمان موهاتا کراچی جامعه پاکستان عمدتاً چند زبانه و مسلمان است، و اغلب آنها احترام خاصی را به ارزشهای خانوادگی سنتی دارند. با وجود اینکه خانوادههای شهری به سیستم خانواده هستهای تغییر یافتهاند و این به دلیل محدودیتهای اجتماعی–اقتصادی است که توسط سیستم سنتی خانواده مشترک بر آن تحمیل میشود. دهههای اخیر حضور طبقه متوسط را در شهرهایی نظیر کراچی، لاهور، راولپندی، حیدرآباد پاکستان، فیصل آباد، سوکور و پیشاور شاهد بودهاست که خواهان حرکت در سوی یک جهت آزادی خواهانه تر هستند و این در مقابل نواحی قبیلهای شمال غربی است که با افغانستان هم مرز هستند و سنتهای دیرینه و روش محافظه کارانه را پیش میگیرند. افزایش فرایند جهانی شدن تأثیر فرهنگ غربی را افزایش داده و اکنون پاکستان رتبه ۴۶ را در ایندکس جهانی شدن دارا است. در حدود ۴ میلیون پاکستانی در خارج از کشور زندگی میکنند و حدود نیم میلیون نفر مقیم خارج نیز در ایالات متحده آمریکا زندگی میکنند. دانشگاه پنجاب گردشگری یک صنعت در حال رشد در پاکستان است و بر فرهنگها و ملل و مناظر متنوع آن استوار است. یازماندههای تمدن باستانی از قبیل موهنجودارو و هاراپا و تاکسیلا تا بخشهای تپهای هیمالیا همه جهانگردانی را به خود جذب میکنند. پاکستان چندین رشته کوه با ارتفاع بیش از ۷۰۰۰ متر دارد که ماجراجویان و کوهنوردانی را از سراسر دنیا به خود جذب میکند، بهویژه کی۲. قسمتهای شمالی پاکستان دژها و برجها و دیگر آثار معماری کهن و همچنین دره هونزا و درههای چیترال را دارا است. درههای چیترال محل جامعه کوچک پیش از اسلام آنیمیست کلشه است که از تباری هندوایرانی هستند. شهر لاهور دارای نمونههای بسیاری از معماری مغول مانند مسجد بدشاهی، باغهای شالیمار (لاهور)، مقبره جهانگیر و دژ لاهور است. مردم گروههای قومی اصلی پاکستان؛ بلوچ(صورتی)، پشتون(سبز)، پنجابی(قهوهای)، سندی(زرد) بلتی و گلگیتی کشمیری( سفید)پاکستان بر اساس آمار تخمینی ۱۳۸۷ (۲۰۰۸)، جمعیتی حدود ۱۷۲٬۸۰۰٬۰۰۰ تن دارد. پاکستان ششمین جمعیت بزرگ جهان را داراست که بیشتر از روسیه و کمتر از برزیل است. به علت نرخ رشد بالای جمعیت پاکستان انتظار میرود جمعیت آن در سال ۲۰۲۰ از جمعیت برزیل فراتر رود. نشان دادن جمعیت پاکستان نسبتاً مشکل است و این به علت تفاوتهای آشکار در دقت هر سرشماری و عدم هماهنگی بین بررسیهای گوناگون مربوط به نرخ رشد جمعیت است اما احتمالاً بتوان گفت نرخ رشد جمعیت در دهه ۱۹۸۰ به اوج خود رسید. جمعیت این کشور تاریخ ۱ ژوئیه ۲۰۰۵ حدود ۱۶۲، ۴۰۰، ۰۰۰ تن و نرخ رشد جمعیت نیز ۳۴ در هزار و نرخ مرگ و میر حدود ۱۰ در هزار و نرخ رشد طبیعی جمعیت حدود ٪۴/۲ تخمین زده شد. منابع غیر دولتی و بینالمللی گزارش میدهند که جمعیت کنونی پاکستان حدود ۱۷۰ تا ۱۹۰ میلیون تخمین زده میشود. زبان اردو زبان پاکستانی و زبان مشترک این کشور است، اما زبان انگلیسی زبان رسمی است که در قانون اساسی پاکستان و در تجارت و همچنین طبقه خاص و تحصیل کرده و شهری و بسیاری از دانشگاهها به کار برده میشود. زبان پنجابی نیز زبان بیش از ۶۰ میلیون نفر است، اما رسمیتی از سوی کشور ندارد. پاکستانیها از نژادها و گروههای قومی متعددی تشکیل یافتهاند که بیشتر آنها از نوع مردم هندواروپایی هستند و به همین دلیل بسیار متفاوت از افراد بومی ساکن این بخش از شبه قاره هند هستند. اکثریت پاکستانیها به گروه قومی هندوآریایی تعلق دارند. در حالی که تعداد قابل توجهی از نژادهای ایرانی و تعداد کمتری از دراویدیانها نیز به چشم میخوردند. این گروههای قومی عمده به گروههای قومی کوچکتری تقسیم میشوند. پنجابیها ۴۴٫۶۸٪، سندیها ۱۷٫۳۶٪، پشتونها ۱۲٫۳۶٪، سرائیکیها ۸٫۳۸٪، مهاجر اردو ۷٫۵۷٪، بلوچها ۳٫۵۷٪ و سایر اقوام ۶٫۰۸٪ جمعیت را تشکیل میدهند. دادههای سرشماری نشان میدهند که ٪۹۶ جمعیت کشور مسلمان هستند که ٪۸۰ آنها سنی و ٪۱۹ آنها شیعه هستند. پاکستان پس از ایران دومین کشور دارای جمعیت شیعه در جهان است. بقیه جمعیت پاکستان را مسیحیت، هندوئیسم، یهودیها، سیکها، پارسیها، احمدیها و آنیمیستها (که عمدتاً کلشه چیترال هستند) تشکیل میدهند. تعداد کمی بودایی نیر در آمار پاکستان وجود دارند؛ با این وجود این افراد در قسمت لدخ که توسط هند اداره میشود و پاکستان ادعای مالکیت آن را دارد زندگی میکنند. ساختار جمعیتی پاکستان در سال ۱۹۴۷ با ورود مسلمانان به پاکستان و هندوها و سیکها به هندوستان بهشدت تحت تأثیر قرار گرفت. از سال ۲۰۰۵ به بعد بیش از ۳ میلیون مهاجر (که تقریباً ٪۸۱ آنها را پشتونها تشکیل میدهند) به علت جنگهای جاری در افغانستان در پاکستان باقی ماندهاند و براساس کمیسیون عالی مهاجران سازمان ملل، ٪۸۳ مهاجران هدف خود را اقامت دائم در پاکستان میدانند. ۹۶٪ از جمعیت پاکستان مسلمان هستند (۷۷٪ سنی و ۱۹٪ شیعه). به علاوه ۱٫۸۵٪ هندو، ۱٫۶٪ مسیحی و ۰٫۰۴٪ سیک نیز در کشور میزیند. سیاست پاکستان بر سر خط دیورند با افغانستان اختلاف دارد در زمانی که بریتانیا در هند حضور داشت قسمتهای زیادی از جنوب افغانستان را با کشیدن خط دیورند جدا کرد که عبارت بودند از بخش عظیمی از پاکستان کنونی بعد از تجزیه هندوستان و به وجود امدن پاکستان افغانستان خواستار استقلال بلوچستان و ایالت سرحد (پشتونستان)از پاکستان شد و حتی تا سر حد جنگ با پاکستان پیش رفت که با وساطت بعضی کشورها از مخاصمه خودداری کرد با کودتای کمونیستی در افغانستان پاکستان از این فرصت استفاده کرد و با اردوگاه غرب متحد شد و از مجاهدین افغان حمایت کرد و با پول و سلاحهایی که غرب برای کمک به مجاهدین داده بود ارتش و سازمان اطلاعاتی خود را مجهز کرد و با اجیر کردن مزدور بسیاری از زیرساختها و همچنین شخصیتهای سیاسی افغانستان را از بین برد. پاکستان عضو سازمان ملل متحد، سازمان کنفرانس اسلامی، سازمان همکاری منطقهای جنوب آسیا (سارک)، و سازمان اکو میباشد. همچنین از دوران استقلال پاکستان و هند از بریتانیای کبیر، این کشور عضوی از اتحادیه کشورهای همسود (مشترکالمنافع) بودهاست. گرچه عضویت پاکستان در این اتحادیه سه بار لغو شدهاست؛ نخستین بار در سال ۱۳۵۱ (۱۹۷۲) پس از آنکه اتحادیه کشورهای همسود استقلال بنگلادش (پاکستان شرقی) را از پاکستان به رسمیت شناخت، دولت پاکستان به نشانهٔ اعتراض این اتحادیه را ترک کرد، که البته مجدداً در سال ۱۹۸۹ به اتحادیه بازگشت. عضویت پاکستان از سال ۱۹۹۹ تا ۲۰۰۴ به دلیل کودتای غیرقانونی ژنرال پرویز مشرف از طرف اتحادیه لغو شد. سومین بار در نوامبر ۲۰۰۷، عضویت پاکستان به دلیل اعلام وضعیت فوقالعاده توسط پرویز مشرف از طرف اتحادیه لغو شدهاست. مسلم لیگ، اولین دولت پاکستان را به رهبری محمد علی جناح و لیاقت علی خان تشکیل داد. رهبری سیاست پاکستان به دست مسلم لیگ با ظهور احزاب سیاسی دیگر و با ظهور حزب مردم پاکستان در غرب پاکستان و عوامی لیگ در شرق پاکستان که نهایتاً به ایجاد بنگلادش منجر شد، به میزان زیادی رو به افول گذاشت. اولین قانون اساسی پاکستان در سال ۱۳۳۵ (۱۹۵۶) اتخاذ شد، اما در سال ۱۹۵۸ توسط ایوب خان به حال تعلیق در آمد. قانون اساسی مصوب ۱۹۷۳ توسط ضیاءالحق در سال ۱۹۷۷ به تعلیق درآمد و دگربار در سال ۱۹۹۱ به تصویب رسید و این مهمترین سندی است که پایههای دولت و حکومت را بنا مینهد. پاکستان یک جمهوری فدرال است و اسلام به عنوان دین رسمی کشور محسوب میشود. سیستم نیمه–رئیس جمهوری شامل قوه مقننهای متشکل از دو مجلس است که خود شامل سنای پاکستان که شامل ۱۰۰ عضو است و مجمع ملی پاکستان که دارای ۳۴۲ عضو است، میشود. رئیس جمهور پاکستان، رئیس دولت و همچنین فرمانده کل نیروهای مسلح است و توسط کالج الکترولال پاکستان انتخاب میشود. نخست وزیر معمولاً رهبر بزرگترین حزب در مجمع ملی است. هر ایالت، سیستم حکومتی مشابهی دارد و دارای یک مجمع اسالتی است که مستقیما انتخاب میشود؛ در مجمع ایالتی، رهبر بزرگترین حزب یا ائتلاف به عنوان وزیر انتخاب میشود. رؤسای ایالت نیز توسط مجامع ایالتی و به پیشنهاد وزراء انتخاب میشوند. ارتش پاکستان نقش مؤثری را در سیاستهای عمده کشور در طول تاریخ این کشور ایفا کرده است؛ رؤسای جمهور نظامی از ۱۹۵۸ و ۷۱، ۱۹۷۷ و ۸۸ و از ۱۹۹۹ تا به امروز رهبری کشور را به عهده داشتند. حزب چپ گرای مردم پاکستان (PPP) که توسط ذوالفقار علی بوتو رهبری میشد، به عنوان یک بازیگر سیاسی مهم در دهه ۱۹۷۰ ظهور کرد. تحت رهبری نظامی محمد ضیاءالحق پاکستان سیاست خود را از سیاست سکولار بریتانیایی جدا کرد و به سوی شریعت و دیگر قوانین اسلام پایه تغییر موضع داد. در طول دهه ۱۹۸۰ جنبش متحد قومی (MQM) که ضد فئودالی و طرفدار مهاجر اردو |مهاجر بود توسط ساکنان شهری تحصیل کرده و غیرسنتی ایالت سند و بهویژه کراچی آغاز به کار کرد. سالهای دهه ۱۹۹۰ شاهد سیاستهای ائتلافی که توسط حزب مردم و مسلم لیگ احیا شده رهبری میشد بود.در انتخابات عمومی اکتبر ۲۰۰۲، مسلم لیگ پاکستان (PML –Q) تعداد زیادی از کرسیهای مجلس ملی را با قرار گرفتن در رده دوم از میان دیگر گروهها از آن خود کرد و به عنوان حزب مجلس ملت پاکستان که شاخهای از حزب PPP بود شناخته شد. ظفراللّه خان جمالی از PML –Q به عنوان نخست وزیر شناخته شد، اما درتاریخ ۲۶ ژوئن ۲۰۰۴ استعفا داد و رهبر PML –Q چادهری مبثوجات (شجاعت) حسین به عنوان نخست وزیر موقت جایگزین او شد. در ۲۸ اوت ۲۰۰۴ مجمع ملی به وزیر اقتصاد پاکستان و قائم مقام پیشین سیتی بانک، شوکت عزیز رای داد و او را به عنوان نخست وزیر انتخاب کرد. مجلس متحده عمل که ائتلاف احزاب مذهبی اسلامی بود درانتخابات ایالت مرزی شمال غرب پیروز شد و حضور خود را در مجمع ملی پاکستان افزایش داد. پاکستان عضو فعالی از سازمان ملل و سازمان کنفرانس اسلامی است و OIC را به عنوان محلی برای گروه اعتدال روشنفکران به کار برده است؛ که برنامهای برای ایجاد یک رنسانس و عنصر روشنگری در دنیای اسلام است. پاکستان همچنین یکی از اعضا سازمانهای مهم منطقهای سازمانهای همکاریهای منطقهای جنوب آسیا (سارک) و سازمان همکاریهای اقتصادی (اکو) است. پاکستان در گذشته روابط گوناگونی را با آمریکا به خصوص در اوایل دهه ۱۹۵۰ هنگامی که پاکستان مهمترین متحد آسیایی بود رقم زدهاست. پاکستان همچنین عضو سازمان پیمان مرکزی (سنتو) و سازمان پیمان جنوب شرقی آسیا (SEATO) بود. در طول جنگ شوروی–افغانستان در دهه ۱۹۸۰ پاکستان یکی از متحدان اصلی آمریکا بود. اما روابط آنها هنگامی که آمریکا بهخاطر سوءظنهایی نسبت به استفاده پاکستان از فعالیتهای هستهای تحریمهایی را بر او اعمال کرد، روبه سردی گذاشت. پس از حملات ۱۱ سپتامبر وجنگ بر سر تروریسم روابط آمریکا و پاکستان بهویژه پس از اینکه پاکستان حمایت خود را از رژیم طالبان در کابل ظاهراً متوقف نمود، بهبود یافتهاست. در ژانویه ۲۰۰۴، مؤسس برنامه هستهای پاکستان A.Q خان به موضوع گسترش نیروی هستهای به لیبی، ایران و کره شمالی اعتراف کرد. در ۵ فوریه ۲۰۰۴ پرزیدنت پرویز مشرف اعلام کرد که او A.Q خان را بخشودهاست. پاکستان مدتهای زیادی روابط ناآرامی را با همسایه اش هند داشتهاست. اختلاف بلندمدت بر سر کشمیر به جنگهای تمام عیاری در جنگ هند – پاکستان در ۱۹۴۷ و جنگ هند و پاکستان در ۱۹۶۵ انجامید. جنگ داخلی در ۱۹۷۱ به جنگ آزادی خواهانه بنگلادش که خودجوش بود و جنگ ۱۹۷۱ هند– پاکستان تبدیل شد. پاکستان برای نشان دادن برابری خود با آزمایشهای هستهای Pokhran-II هند در سال ۱۹۹۸ آزمایشهای سلاحهای هستهای را انجام داد و تنها کشور مسلمان دارای سلاحهای هستهای به طور رسمی گردید. روابط این کشور با هند پس از آغاز مذاکرات صلح در ۲۰۰۲ رو به بهبودی است. پاکستان روابط نزدیک اقتصادی نظامی و سیاسی را با جمهوری خلق چین دارا میباشد. پاکستان همچنین در نواحی قبیلهای که به صورت فدرال اداره میشوند و رهبران قبیلهای از طالبان حمایت میکنند با بی ثباتیهایی روبهرو است. پاکستان برای سرکوبی ناآرامیهای محلی مجبور به استقرار نیروهای ارتش خود در این نواحی شدهاست. این در حالی است که آتش بس اعلام شده بین رهبران قبیلهای و دولت پاکستان ثبات لازم را به منطقه باز نگرداندهاست. اضافه بر این، پاکستان مدت زیادی است که در بزرگترین ایالت خود، بلوچستان (پاکستان) دچار بی ثباتی است. ارتش برای جنگ با شورش جدی در این استان از سال ۱۹۷۳ تا سال ۱۹۷۶ مستقر شد. ثبات اجتماعی پس از اینکه رحیم الدین خان به عنوان مجری حکومت نظامی که آغاز آن در سال ۱۹۷۷ بود منصوب شد. در پاکستان ازسرگرفته شد. پس از صلح و آرامش نسبی در طول دهههای ۱۹۸۰ و ۱۹۹۰ برخی از رهبران قبیلهای بانفوذ بلوچ بازهم یک جنبش جدایی طلبانه را پس از اینکه پرویز مشرف در ۱۹۹۹ به قدرت رسید آغاز کردند. اقتصاد پاکستان کشوری در حال توسعهاست که در جبهههای سیاسی و اقتصادی با چالشهایی روبهرو بودهاست. با وجود اینکه در سال ۱۹۴۷ این کشور بسیار فقیر بود نرخ رشد اقتصادی پاکستان در طول ۴ دهه بعد از آن بهتر از میانگین جهانی بودهاست. اما سیاستهای ناآگاهانه به پایین آمدن این نرخ در دهه ۱۹۹۰ منجر شد. اخیراً تغییرات گسترده اقتصادی به اقتصادی قدرتمندتر منجر شدهاند و به نرخ رشد بهویژه در زمینههای ساخت و تولید و بخشهای خدمات مالی (اقتصادی) سرعت بخشیدهاند. پیشرفتهای بزرگی نیز در موقعیت ارز خارجی و رشد سریع در منابع ارز ثابت در سالهای اخیر شاهد بودهایم. تخمین بدهی خارجی در سال ۲۰۰۵ در حدود ۴۰ میلیارد دلار آمریکا بود. با این حال این بدهی با کمکهای صندوق بینالمللی پول و بخشودگی بدهی از طرف ایالات متحده آمریکا کاهش یافتهاست. تولید ناخالص داخلی در سال ۲۰۰۵ حدود ۶/۴۰۴ میلیارد دلار برآورد شد و تولید سرانه ناخالص ملی آن ۲۴۰۰ دلار آمریکا بود. نرخهای رشد تولید ناخالص ملی پاکستان در ۵ سال اخیر شاهد یک افزایش ثابت بودهاند. در سال ۲۰۰۱ نرخ رشد تولید ناخالص داخلی کشور ٪۸/۱ بود ولی در سال مالی که ۳۰ ژوئن ۲۰۰۵ پایان یافت، نرخ رشد تولید ناخالص داخلی اسمی به حدود ٪۴/۸ رسید. این نرخ رشد پاکستان را پس از چین دارنده دومین نرخ رشد اقتصادی در میان پرچمعیتترین کشورهای جهان قرار داد. با این حال فشارهای تورمی و میزان ذخیره کمتر از مقدار لازم و همچنین عوامل اقتصادی دخیل دیگر امر نگه داشتن نرخ رشد به این میزان را مشکل میسازد. رشد بخشهای غیرکشاورزی ساختار اقتصاد را تغییر دادهاست و اکنون اقتصاد تنها ٪۲۰ تولید ناخالص داخلی را تشکیل میدهد. بخش خدماتی حدود ٪۵۳ تولید ناخالص داخلی کشور که تجارت عمده و خرد کشور حدود ۳۰٪ این بخش را تشکیل میدهد. اخیراً بازار بورس کراچی همراه با دیگر بازارهای در حال ایجاد دنیا اوج گرفتهاست. مقادیر هنگفتی از سرمایه گذاریهای خارجی در صنایع متعددی به کار گرفته شدهاند. با این حال سرانه بازار بورس همچنان مخابرات، نرمافزار، خودرو، نساجی، سیمان، کود، فولاد و ساخت کشتی هستند. صنعت مهم دیگری که در گذشته از دسترسی خارجی محروم ماندهاست، هوافضا است. تیپهای مختلف توپخانه در ارتش از پیش به گسترده شدن میزان مهمات نظامی پاکستان کمک کردهاند. خبرهایی از احتمال مشارکت عمومی یا خصوصی در برنامههای آینده موشکی به گوش میخورد که میتواند با برنامه فضایی پاکستان همراه شود؛ زیرا تواناییهای کنونی این کشور شامل موشکهای بالستیک میان برد و تحقیقاتی بر روی موشکهای بالستیک قارهپیما میشوند. رویکرد ساختاری برای استفاده از این تواناییهای هوافضایی ممکن است باعث رونق سریعتر اقتصادی پاکستان شود زیرا صنعت هوانوردی پیش تر هم شاهد رشد چشمگیری در سالهای گذشته بودهاست که با حضور فرهنگ عاشورائی در کشور پاکستان عاش امام حسين (ع)در ميان همه مردم كشور پاكستان اعم از سني و شيعه از مقبوليت و محبوبيت بالايي برخوردار است و مردم براي ايشان احترام خاصي قائلاند به طوري كه در ايام عاشورا و محرم جامعه پاكستان حالت سوگوارانهاي به خود ميگيرد . مسلمانان و شيعيان پاكستان خود را آمادهي استقبال از محرم ميكنند و در شهرهاي مختلف و مراكز ايالتها ، توسط گروهها و اشخاص ، كنفرانسهاي استقبال با عناوين مختلف ، حتي بيش از فرا رسيدن محرم برگزار ميشود تا براساس سنت هر ساله فرهنگ عزاداري امام حسين( ع) در جامعه زنده شود « امام بارگاهها » و « ذوالجناحها » كه نقش عمدهاي در فرهنگ عزاداري عاشوراي پاكستان دارند فعال ميشوند. دولت پاكستان نيز براي برگزاري مراسم عزاداري، فضايي امن آماده ميكند . شاخص ديگر ملي تلقي شدن عزاداري، تعطيلي رسمي در سراسر پاكستان در روزهاي تاسوعا و عاشوراي حسيني است . اين دو روز تعطيلي جزو تعطيلات رسمي كشور است و مردم نيز فرصت خوبي براي شركت در مراسم عزاداري دارند . شاخص ديگر اختصاص يافتن برنامههاي صدا و سيماي پاكستان در روز تاسوعا و عاشورا است ، روزنامهها نيز نقش خوبي را ايفا ميكنند ، آنها ضمن درج اخبار و تصاوير مربوط به مراسم عزاداري و سوگواري اقدام به چاپ مقالات و ويژهنامههاي خاص عاشورا ميكنند.ورا در پاكستان قبل از تشكيل پاكستان تمام مسلمانان شبه قاره دارای ميراث تاريخي مشتركی بودند. مراكز آموزشي مسلمانان در سراسر هند گسترده بود. ايالات و مناطق مسلمان نشين مانند بهوپال، حيدرآباد دكن، رامپور، محمودآباد وغیره جهت فعاليتهاي مذهبي و آموزشي مسلمانان تلاش زیادی ارائه كردند و زماني شهرهاي لكهنو، دهلي، ديوبند، علي گر، اعظم گر، پتنه و مرشدآباد مركز و سرچشمه ي علوم اسلامي بودند لذا ما نمي توانيم از سهمی که خود در ساختن اين فرهنگ داشته ايم، صرف نظر نمائیم. از دوران حضرت علي(ع) گرفته تا عصر بني عباس، فاتحين، هيئتها، علماء، فقها و محدثين مسلمان به سرزمین سند رفت و آمد داشتند. در سال ۱۹۵۴ ميلادي در محل مكلي تته حفاري شد و سكه هاي نقره ای مربوط به سالهاي ۱۳۳ هجري (۷۵۰ ميلادي) و ۱۳۴ هجري (۷۵۱ ميلادي) کشف شد كه نام حضرت امام جعفر صادق(ع) روي آن حك شده بود و از سال سکه ها معلوم گردید که در آنجا حكومتي برقرار بود كه به امام جعفر صادق(ع) ارادت داشته است. منطقۀ غور در ايالت سرحد در عهد علوی تحت سیطرۀ "آل شنسب" در آمد. "آل شنسب" علوي بودند و تا زمان محمود غزنوي (۴۲۱ هجري) نه تنها در سرزمین غوریان بلكه تا منطقه سند و مولتان، فرقه هاي علوي به ويژه اسماعيليان بر سر حكومت بودند. تاريخ سيصد، چهارصد ساله سند و مولتان در پرده هاي ابهام باقی مانده است. شيخ محمد اكرام در کتاب خود تحت عنوان: "آب كوثر" روابط معزالدوله ی آل بويه را با مولتان بیان داشته است. مولتان نه تنها یکی از شهرهای معروف و تاريخي پنجاب بلكه شهر مهم پاكستان می باشد و بخشی از اهميت آن به واسطه ی خاندان "گرديزي" است كه پاسدار سنت هاي باستاني و روايات كهن بوده اند. سيد جمال الدين، ابوالفضل، محمد يوسف، بهرام شاه در عصر غزنوي (۵۱۲ هجري، ۱۱۱۸ ميلادي تا ۵۴۷ هجري، ۱۱۵۷ ميلادي) به مولتان رسيدند و به واسطۀ برکت و فيض روحاني خود، اسلام را در این منطقه گسترش دادند. سيد جمال الدين، اکنون به نام "شاه گرديز" مشهور می باشد و حرم وي، قدیمی ترین مركز عزاداري به حساب می آید كه در روزهاي محرم از صبح تا شام در آن، مجلس عزاداری و صداي گريه و زاری برپاست. روضه خواني مولتان در سراسر پاكستان معروف است. تعزيه هاي اين شهر از لحاظ ارزش و ساخت بي نظير و دارای ویژگیهای منحصر به فرد می باشد. بسياري از افراد اهل سنت نه تنها تعزیه دارند بلكه دسته های عزاداری نيز تشكيل مي دهند. به این علت که اينجا سرزمين صوفيان است، امنیت، دوستي، برادري، تحمل مذهبی و مردم داري در بین مسلمانان رواج بسیار دارد. علماى مهاجر شيعه ايرانى علماى مهاجر شيعه ايرانى از قرن ششم با انگيزه تبليغ و ترويج تشيع در هند فعاليتهاى گسترده مذهبى را آغاز كردند كه تأثيرى عميق در ترويج عزادارى شهيدان كربلا در هند داشته است ترويج عزادارى شهيدان كربلا در هند داشته است. در اين دوران يك شخص فاضل از ايران به نام ملا محمّد على مقيم كهمبات ( Khambhat ) گجرات كه به عنوان «پير پرواز» معروف بود، در ميان تجار هندى اين منطقه تشيع اثنا عشرى را ترويج نمود (7) . در اين زمان علاوه بر تجار هند و گجرات، راجه (حاكم) سند به نام راى جئى سنگه( Rai Jai Singh ) كه از طبقه راجپوت ( Rajput ) بود تشيع را پذيرفت و اين امر به ترويج سنتهاى عزادارى در منطقه گجرات و راجستان انجاميد. تعداد زيادى از شيعيان اثنا عشرى در اين دوران هم از ايران به هند مهاجرت كرده بودند و همراه خود آثار و تأليفاتى از علامه حلّى و ديگر علماى شيعه را كه در زمان سلطان اولجايتو خدابنده (713-703 ق / 1317-1304 م) به رشته تحرير درآمده بود و نيز آثار علماى متقدمين را با خود به هندوستان بردند و براى ترويج تشيع كوششهاى فراوانى نمودند و اين باعث برگزارى مراسم مذهبى شيعه مانند عزادارى شهيدان در اين زمان گرديد. يكى از كتابهايى كه تأثير بسزايى در ترويج عزادارى و نحوه برگزارى آن در ايران صفوى و به تبع آن در هند داشته است، كتاب روضة الشهداى ملا حسين واعظ كاشفى است. در حكومت سلطان محمّد بن تغلق (752-725 ق / 1351-1325 م) مهاجرت سادات شيعه از ايران و آسياى مركزى به هند صورت گرفت و آنها مورد حمايت سلطان قرار گرفتند و اين امر به افزايش مهاجرت ايرانيان به شمال هند انجاميد. در اين دوران سلطان محمّد بن تغلق پايتخت خود را از دهلى به دولت آباد در جنوب هند منتقل نمود و از اين رو مراسم عزادارى شهيدان كربلا توسط شيعيان كه بيشتر آنان مهاجران ايرانى بودند، براى اولين بار در جنوب هند هم رايج گرديد (8) . براى جلوگيرى از نفوذ تشيع در هند، به دستور فيروز شاه تغلق (790-752 ق/ 1388-1351 م) حاكم متعصب سنى در دهلى، تعداد زيادى از شيعيان هند دستگير و رهبران آنان اعدام و بقيه به سختى مجازات شدند. حتى اجساد اعدام شده آنان در خيابانهاى شهرهاى هند به نمايش درآمده، كتابهاى شيعيان در انظار عمومى سوزانده شد و از برگزارى مراسم عزادارى جلوگيرى گرديد و بدين سان فيروز شاه كوشيد كه تشيع را از هند ريشه كن نمايد(9). عالم برجسته سيد على همدانى كه در كشمير به «شاه همدان» معروف است در سال 774 ق / 1372 م همراه هفتصد تن از سادات شيعه و ايرانى براى تبليغ اسلام وارد كشمير شد و اكثريت مطلق جمعيت كشمير كه بتپرست بودند به دست سيد على همدانى به اسلام مشرف شدند. فرهنگ و صنايع ايرانى به وسيله سيد على همدانى در كشمير رواج پيدا كرد و وى زبان فارسى را در ناحيه كشمير گسترش بىسابقه داد و از اين رو كشمير به عنوان «ايران صغير» هم معروف مىباشد. مير شمس الدين عراقى يكى از علماى برجسته شيعه و ايرانى توسط شاه اسماعيل صفوى در سال 908 ق / 1502 م از خراسان به منطقه لداخ ( Ladakh ) اعزام شد و اكثريت جمعيت اين منطقه را كه بودائى بودند شيعه نمود كه تاكنون هم اكثريت منطقه لداخ و بلتستان را شيعيان تشكيل مىدهند. در دوران حكومت صفوى در ايران، شيعيان لداخ و بلتستان به نام دوازده امام عليهمالسلام و سلاطين صفوى ايران خطبه مىخواندند (10) . بعد از ورود مير سيد على همدانى و نفوذ مريدان وى در سراسر كشمير، مسلمانان به اهل بيت اطهار عليهمالسلام ارادت خاصى يافتند و در روز عاشورا در مساجد و خانقاهها نسبت به شهداى كربلا اداى احترام مىكردند، ولى بعد از ورود مير شمس الدين عراقى و تشكيل حكومت شيعه چك در كشمير در سال 968 ق / 1561 م مراسم عزادارى به سبك سنتهاى عزادارى متداول در ايران عصر صفوى در كشمير و لداخ رايج گرديد. امروز شيعيان 90 درصد جمعيت لداخ و 25 درصد جمعيت كشمير را تشكيل مىدهند و مراسم عزادارى را مطابق سنتهاى ديرينه كه از دوران صفوى در اين منطقه رايج گرديده، با شكوه خاصى برگزار مىنمايند.س مزارحضرت عبدالله شاه غازی بارگاه مرجع خلایق در کراچی: نام گرامی او سید عبدالله، کنیۀ وي ابومحمد و لقب ايشان "الاشتر" بود. او پسر سید محمد نفس زکیه و نبیرۀ حضرت حسن مثنی بود. با پنج نسل واسطه، نسبش به حضرت علی(ع) می رسد. او وارث نجابت حضرت امام حسن(ع) و حضرت امام حسین(ع) است بنا بر اين او را حسنی و حسینی می خوانند. در سال 98 هجری در مدینه به دنیا آمد. مراحل تعليم و تربيت را در سايۀ پدر يعني سید محمد نفس زکیه طي کرد و در شمار محدثین آن دوران قرار گرفت. اين زماني بود كه حکومت امویان آخرين نفسهاي خود را مي كشيد و سراسر مملكت دستخوش تفرقه و بي نظمي عجيبي شده بود و سرانجام در آغاز قرن دوم هجری، حکومت اموی ساقط و دورۀ قدرت عباسیان شروع گرديد. حضرت نفس زکیه در سال 138 هجری علیه عباسیان عَلَمِ اعتراض بر افراشت و نهضت خلافتِ خود را از مدینۀ منوّره آغاز کرد. مولوی سید محمد عون نقوی می نویسد: "امام ابوحنیفه و امام مالک نیز از اين نهضت حمايت كردند و در نتيجۀ آن، حاکم عباسی، امام مالك را با شلاق تنبیه کرد، در اين رابطه "محمد نفس زكيه"، برادرش ابراهیم را به بصره اعزام کرد و به پسرش حضرت عبدالله شاه غازی دستور داد تا رهسپار سند گردد." طبق نقل مولوی سید محمد عون نقوی: او بعد از فوت پدرش به سند روانه شد. (روزنامه جنگ ژوئن 1994) حادثۀ جاري شدن چشمۀ آب از دامنه تپه ای که حرم حضرت عبدالله شاه غازی در آن واقع است؛ به شرح زير مي باشد: مریدان آنحضرت بعد از دفن وی نخواستند از آن محل دور شوند و به عشق آن بزرگوار درکنار آن مکان ساکن شدند، امّا به علت نبودن آب شيرين و خوردنی در آن اطراف، زندگي آنها با مشكلات سختي رو برو بود. بالاخره روزی در كمال تشنگي، با نا اميدي براي دستيابي به آب شيرين، دست به دعا برداشتند و حضرت عبدالله شاه غازی را به درگاه خداوند تبارك و تعالي واسطه قرار دادند. همان شب آنحضرت در خواب به پير مرد ضعيفي از مریدان خود بشارت داد كه خداوند مشکل شما را حل كرد و در دامنۀ تپه، چشمۀ آب شیریني را جاری نموده است. ارادتمندان بعد از نماز فجر، وقتي به پایین تپه كوه آمدند، فوران يك چشمۀ آب شیرین را مشاهده کردند. هر سال در 20 و 21 ذیحجه، مراسم سه روزۀ سالگرد ارتحال (عرس) آن بزرگوار، دركنار مزارش برگزار مي گردد و صدها هزار نفر از کراچی، سند و مناطق دیگر با ارادت و اعتقاد خاصی در آن شرکت می کنند. عاشورا اسد در کشور پاکستان در ايالات چهارگانه ي پاكستان يعني پنجاب، سند، سرحد و بلوچستان به علاوه در مناطق شمالی و کشمیر آزاد، شهر، قريه، روستا و آبادي وجود ندارد که در آن مراسم عزاداري برپا نباشد. بعد از استقلال پاكستان در مناطق مختلف، عزاداري به طور عموم رایج شد. حسينيه های جدید احداث گرديد. مجالس و محافل منعقد مي شود و در دهه ي اول محرم غير از مجالس سوگواری، دستجات عزاداری نيز برپا می باشد. در منطقه بلتستان در شمال پاکستان که جمعيت قريب به اتفاق آن را شيعيان تشکيل می دهد و مهمترين مرکز شيعه در پاکستان می باشد ماه محرم جايگاه ويژه ای از دير باز در ميان مردم دارد ، مراسم عزاداری در ماه های محرم و صفر به صورت با شکوه همه ساله بر گزار می شود همچنين علاوه بر برگزاری عزاداری دهه محرم در ماه محرم مردم اين منطقه يک دهه ديگر بانام دهه ( اسد – عاشورا ) برگزار می کنند که اين دهه در گرم ترين ماه سال ( غالباٌ مرداد ماه ) برگزار می شود به علت اينکه منطقه بلتستان از مناطق سردسير به شمار می رود لذا روحانيان و مبلغان دينی شيعه برای درک و حس واقعه عاشورا تصميم به برگزاری دهه عزاداری برای امام حسين (ع) در گرمترين ماه سال گرفتند , نیز برخی دانشمندان و علمای منطقه بر این باورند همانند اینکه تاریخ شمسی و قمری عید غدیر در سال حجته الوداع مقارن با هم بوده و عید نوروز را به این جهت هم اهمیت می دهند می گویند دهم محرم سال 60 هجری هم همزمان با روز سیم ماه هفتم میلادی بوده است لذا این ایام ایام عاشورا از لحاز شمسی بوده و ثابت البته در این میان اختلاف بین مورخین وجود دارد که اين سنت حسنه تا کنون ادامه دارد و اهميت آن همانند اهميت دهه محرم است و مثل دهه محرم با شکوه فراوان بر گزار می شود در استان سرحد در شهرهاي پيشاور، كوهات، مردان، بنون، پاراچنار، درگئي، صوابي، جهانگيره، نوشهره و در ایالت بلوچستان در شهرهاي كويته، خضدار، نوشكي، چمن و قلات وغیره، در حسینیه ها، مجالس عزاداري بطور مستمر منعقد است و در روزهاي مختلف دهه ي اول محرم دسته های عزاداري تشكيل مي گردد. درشهرهاي مركزي ايالات يعني پيشاور و كويته دستجات راهپيمائي عاشورا به راه مي افتد كه مسلمانان جهت عرض تسليت به سيدالشهداء و ياران وي گروه گروه در آن شرکت مي کنند. در مظفرآباد كشمير آزاد نيز حسينيه هاي بزرگي وجود دارد كه ذكر شهادت در آنجا به عمل مي آيد و در روز عاشورا دسته های بزرگي برپا مي گردد. مساجد عظیم الشان، معابد با شکوه، کلیساهای مجلّل، حسینیه های بزرگ و معابد پيروان ادیان مختلف از امتیازات پاکستان است. اين منطقه مسکن و مأوایِ "بودایی ها"، "هندوها"، "مسیحیان"، "زرتشتیان"، "بهایی ها"، "پارسیان" و "مسلمانها" می باشد در واقع محرم در پاکستان آينۀ تمام نماي محرم یک کشور از كشورهاي جهان است. گويي در اين کشور، افراد چندین کشور، سرزمین و اقوام مختلف غم سوگواری سالار شهیدان را به نمايش مي گذارند و اين حقيقت را با يك نگاه، در مراسم محرم شهر های پاکستان به آساني مي توان ديد. قریب به اتفاق همئه شهر های بزرگ و مناطق شیعه نشین شمال و کشمیر و...هرجا که نگاه کنید مناظر متنوع می بینید، یک جا جمع ایرانیان به فارسی روضه خوانی، مرثیه و نوحه برپا مي دارند، طرف دیگر حسینیه های خوجه ها به زبان گجراتی به فضایل و مصایب اهل بيت(ع) می پردازند. جایی مجالس را به روش لکهنو و دهلی مشاهده می کنید، گاهی عزاداری به سنت ویژۀ امروهه و در برخي محافل، به زبان های کشمیری، شينا و پشتو برگزار است. بعضاً صداهای سوزناک روضه خوانان مولتانی، سرائیکی بلتستانی شنا و پنجابی به گوش مي رسد، خلاصه، چنين احساس مي شود كه: هر ملت خواهد گفت حسین از آنِ ماست (جوش مليح آبادي) با رویت هلال ماه محرم، سیلِ اندوه، شهرها را فرا مي گيرد. در هر کوچه و بازار، در هر قریه و مکان مجالسی به یاد نوۀ رسول اعظم(ص) منعقد می گردد. از حسینیۀ های قدیمی تا جدید ترین عزاخانه ها، سلسله مجالس تمام نشدني از ماتم و آه و ناله، آغاز می شود. محافل عاشورايي این شهر ها در سراسر پاکستان بي نظیر است. علاوه بر عزاداران مسلمان، دسته هاي سوگوار غیر مسلمانان نیز مشاهده مي شوند. موقع غروب آفتاب و پايانِ روزِ عاشورا، عزادارانِ حسیني، سينه چاک، خاک بر سر، در برنامه شام غریبان عزاخانه ها، شرکت می کنند. تمام محیط غرق در رنج و غم است و همانندِ چنين روزي را هیچوقت نخواهید دید. در اين شهر مسلمانان با یکرنگی و وحدت کلمه به تسلیت سالار شهیدان و یارانش می آیند و کراچی، در این زمینه از امتیاز خاصی برخوردار است. غیر از شيعيان اثناء عشری، مسلمانان اهل سنت نیز در دهۀ اول محرم، مجالس منظمي برپا می کنند. رسانه های گروهی و مطبوعات در این روزها برنامه های ویژه اي دارند. در دهۀ اول محرم معمولاً تمام برنامه های تفریحی، رقص و موسیقی متوقف می شود و مناظر احترام و اهميت ابراز عقیده و ارادت جمعي عزاداران حسيني را در سراسر کشور می توان مشاهده کرد. مجالس شب عاشورا و شام غریبان نیز از شبکه های سراسری راديو و تلویزیون پخش می شود. سینماهای کشور در روزهای تاسوعا و عاشورا بسته و در تمام کشور تعطیل عمومی اعلام مي شود. مراسم عروسي و جشن نيز متوقف می گردد. در حسینیۀ های بزرگ يك مجلس سوگواري در ايام روز و مجلس دیگر، در ساعت ده شب و به همين ترتيب در حسینیه کوچک، مجالس عزا در موقع عصرها برپا می گردید. بعد از عاشورا تا ماه صفر در چهار روز هفته، مجلس ها در روز و شب در حسینیۀ بزرگ و سه روزِ دیگرِ هفته، در حسينيه كوچك برگزار مي شدند. در روز پنجشنبه، در اتاقهای کوچک حسینیه، تبرکاتی مانند ضریح، عَلَم وغیره می گذاشتند و در شب عاشورا این تبرکات را همراه دسته هاي عزاداري در شهر مي گرداندند. در کنار حسینیه هاعَلَمِ بسیار بلندی نصب است که با وجود ساختمانهای بلند، از مسافت دور دیده می شود و اين چنين جايي را به زبان نیشان عباس می نامند. در روز های اول محرم به بعد دستجات عزاداري از مسیر های راه می افتد و تا محل را، یک راست طي مي نمايد. پس از عبور از مسیر مقرر، وقتی به منزل می رسد، سينه زنان، همراه ديگر شرکت کنندگان، نماز ظهر و عصر را با جماعت اقامه می كنند و بعد از خواندن نماز، این راهپیمایی پس از عبور از مسیر سنتی خود در حوالي غروب در محل پایان می پذیرد. به هنگام اربعین حسینی نیز همین صحنه مشاهده مي شود. از اول صبح پر از عزاداران می گردد. همۀ انجمن ها و هیئت های عزاداری ديگر، تبركات و وسايل سوگواري را همانند عاشورا گرد می آورند و بعد از تشکیل راهپیمایی مرکزی، این سازمانها و تبرکات با آن به راه می افتند.. شرکت کنندگان در این راهپیمایی "روبان سیاه" به سر می بندند و کفن پوش، با صداهای غمناكِ "حسین، وای حسینِ" خود، صحنۀ بسيار سوزناكي ایجاد می کنند. تابوتهای امام حسین(ع) و حضرت عباس علمدار و ضريح هاي ديگر نیز همراه این راهپیمایی می باشد. اين كاروان با پيمودن چند قدم، مرتب توقف و به سينه زني مي پردازد. وسط حلقۀ مردم، روضه خوانان مصایب امام را بازگو می کنند. سپس مسیر خود را ادامه می دهند. برادران اهلسنت به عنوان عزاداران امام مظلومان حسين(ع): شهر کراچی این افتخار را دارد که برادران اهل سنت ساكن درآن، نيز همراه با شیعیان با جوش و خروش تمام به عزاداری پرداخته و مراسم سوگواري دهۀ محرم را برگزار نمايند. مجالس عزاداري اهل سنت در دهۀ اول محرم از جهت كيفيت کمتر از محافل شیعیان نمی باشد و سخنرانان معروف در آن به ايراد سخن مي پردازند. "مرحوم مولانا شفیع اوکاروی" در طول زندگی با تمام روح و روان خود، در این مجالس فعال بود. اکنون نیز در اغلب مساجد اهل سنت، عزاداري ايام شهادت امام حسين(ع) با عقیده و احترام خاصی برگزار می گردد كه ما به این مظاهر عملي وحدت اسلامی، یکرنگی مذهبی و اتحاد کشوري هر اندازه افتخار کنیم بازهم کم مي باشد. به طور مثال، "مولانا صدیق مولتانی" و "مولانا عرفان چشتی" در "مسجد بازاریان پان گهانچی پاره"، "حضرت ابونصر علامه مفتی فرید چشتی" در "مسجد الله والي درخیابان کالا جادو در منطقۀ بوهره پیر"، "مولانا صاحبزاده کوکب نورانی" در "محفل گلزار حبیب" و "علامه جیلانی چاندپوری" در "مراقبۀ غم حسین"، در دهۀ اول محرم، سخنرانی می کنند و هزاران نفر عزادار در آن شرکت می نمايند. دستجات عزاداری با ويژگي منحصر به فرد: علاوه بر شيعيان حيدركرّار، گروه خاصي از برادران اهل سنت شامل افرادِ قومِ "کاتهیاواری" و "مارواری" به روش ویژه ای از اول تا دهم محرم، مراسم عزاداری را انجام می دهند. اینها در طی سال روی طبل و دهل ها را با زحمتِ بسيار و ارادتِ خاصِ خود با پوست می پوشانند و به اين نحو با مهارت كامل، بهترين انواع طبل و دهل ویژۀ اين مراسم را آماده می سازند. این افراد كه در اطراف و اکناف کراچی ساکن هستند فرا رسيدنِ ماهِ محرم را با به صدا در آوردن دهل ها و طبل ها اعلام مي كنند. از اول ماه محرم، همه شب، بر دهل ها مي نوازند و علاوه بر آن، طبل ها نیز آهنگهای غمناک می زنند. علاوه بر طبل و دهل ها، تعزيه سازان ماهر با تمام تلاش و مهارت خود، تا هشتم محرم، تعزيه هاي خود را آماده مي سازند و براي ديدن مؤمنين به نمايش مي گذارند و اكثر تعزيه ها را بر روي چرخ گذاشته، در مناطق مختلف شهر مي گردانند. از نظر زيبائي و طرّاحي، این تعزیه ها از سايرين ممتاز هستند و به وسیلۀ لامپهاي رنگي كوچك، تصاویر مختلف، میوه های تازه و گلها، تزيين مي شوند. مردم نيز تعزيه ها را با ذوق و شوق زياد می بینند و هنر سازندگان آن را ستایش می کنند. در تاسوعا و عاشورا گروه های طبل و دهل هايِ اهلِ مناطقِ مختلف، در کنار مزار قائد اعظم جمع می شوند و پس از رد شدن دستجات راهپیمایی مرکزی شیعیان حیدر کرّار از خیابان محمد علی جناح، دستجات راهپیمایی برادران اهلسنت نیز از همان مسیر می گذرند و به "پل نیتی جیتی" رسیده، تعزیه های خود را در آب، رها مي كنند و به اين ترتيب پایان راهپیمایی را اعلام می نمایند. این راهپیمایی برادران اهلسنت از چندین نظر مورد توجه خاصِ عامۀ مردم مي باشد. پارچۀ عَلَم های بسيار بزرگ اين راهپيمايي، نگاه هركس را به خود جلب و جذب مي نمايد. اين عَلَم ها كه با پنجه هاي فلزي مزّين شده اند، توسط متخصصان هنر و استادان فن با مهارت خاصي حمل مي گردد زيرا كه اين توانمندي در انحصارِ خود آنها می باشد و افراد عادي قدرت حمل آنرا ندارند. عَلَم برداران براي نشان دادن مهارت و تخصص خود، كارهاي مختلفي انجام مي دهند از جمله اينكه: گاهي علم ها را روي يك دست مي گردانند و بعضاً چوب آن را بر روي دندانهاي خود قرار مي دهند و مردم از این حركات نمايشي بسيار لذّت مي برند. در اينگونه محافل، علاوه بر نمايش شلاق بازي و چوب بازي، نوحه و مرثيه خوانان، بدون سينه زني به شاه مظلومان(ع) اظهار ارادت مي نمايند. فضاي مجالس به وسیله آهنگهای دردناکِ طبل و دهل؛ بسيار حزن انگیز می گردد و مردم به سبب غمِ نوۀ رسول خدا(ص)، از حال می روند. در مناطقي از کراچی که شیعه و سنی با هم زندگی می کنند، آماده سازي تعزیه ها و ايجاد صداي طبل و دهل به گونه اي است كه به نظر مي آيد همۀ اين فعاليتها جزء مهمي از عزاداری است و واقعیت نيز همین است زيرا مختلف بودن روشهاي برگزاري مراسم عزا، نفيِ عزاداري نمي شود. در خانه های شیعیان از شب اول محرم، تزیین عزاخانه ها آغاز می گردد بلکه اگر چنين بگويم غلط نخواهد بود كه از همان شب اول، مجالس در عزاخانه ها شروع می شود و در آن هنگام، آهنگهای جانسوزِ طبل و دهل، غم سوگواری شهداي كربلا را در عمق جان می نشاند و از حادثۀ كربلا، تصوير دلخراشي مجسم مي سازد. اینک این طبل و دهل زني جزئي از عزاداری شده است و اگر صدای اینها به گوش نرسد، كمبودي را احساس خواهیم کرد كه جبران آن ممكن نخواهد بود. اغلبِ برادرانِ اهل سنت که جهت کار و شغل در خارج از کشور هستند، در ايام محرم به پاکستان بر می گردند و با اخلاص تمام به برگزاري مراسم به روش موروثی خود مشغول می شوند. بيشتر اوقات افرادي که طبل و دهل می زنند چنان به وجد می آیند که حتی از هوش رفته، به زمین می افتند و این مظاهر عقيدۀ آنها، هر سال رو به افزایش است. در مراسم راهپيمايي عزاداري در شهرهای مختلف شبه قاره، اكنون نيز رسم نمايش هنر طبل و دهل زنی، شلاق بازي، علمبرداري، چوب بازی و غيره ادامه دارد. عزاداری - فرهنگ، صنعت، حرفه و علوم و فنون جامعه ما را به طور گسترده تحت تأثیر خود قرار داده است و افرادِ مربوط به حرفه های مختلف، مستقيم يا غير مستقيم به عزاداري وابسته شده و بدون آن نمي توانند زندگي كنند. از اينرو محرم در کراچی از جنبه هاي مختلف داراي مرتبه و اعتبار محوري و اساسي مي باشد و نظير آن به سختي يافت مي شود. در مراسم عزاداري كراچي، جلوه اي از رسومات عزاداري كل كشور مشهود است و از اين جهت كراچي مستحق آن است كه بگوئيم: محرمِ كراچي، محرمِ يك كشور است. در گذشته علاوه بر مسلمانان، هندوها نیز در رابطه با برگزاري مراسم عزاداری نقش فعالانه اي ايفا نموده اند و اكنون نیز در "رامسوامی"، "رنچورلاین" و "معبد هنومان جی" واقع در منطقۀ کلیفتن، یک روز را به ذکر حسین(ع) اختصاص می دهند.براساس اسناد رسمی، چهار مجوز براي عزاداری هندوهاي مقيم كراچي، صادر شده است. تاثیر انقلاب اسلامی ایران بر فرهنگ عاشورا بعد از پیروزی انقلاب اسلامی ایران فرهنگ عزاداری در پاکستان هم به طبع آن مسیر تازهای به خود گرفت و دیگر این مراسم باشکوه فقط عزاداری امام مظلوم نبود بلکه به کلی تبدیل به سیلی های محکم به استکبار جهانی مبدل شد مردم مسلمان پاکستان با الگو گیری از فرمایشات امام راحل که مردم شیعه و سنی پاکستان به ایشان عشق می ورزید و بعد از ایشان طبق فرمایشات گهربار خلف صالح آن امام آیته الله خامنه ای آئین های که موجب وهن دین مکتب بوده که به نام دین انجام می گرفت خیلی کم شده است در محرم مساجد حسینیه ها و مسیر های دسته های عزاداری از پلاک کارد ها بنر ها دیوارنوشته های بیانات امام و رهبری و عکس های آنان مزین می گردد شعار علیه آمریکه و اسرائیل الان لازمه عزاداری می باشد به همین خاطر است که استکبار جهانی همه ساله از طریق نوکران شان حدودا 1000نفر را شهید یا مجروح می کنند این حملات به طرق مختلف به جاهای مختلف مخصوصا در ایام محرم و صفر شدت می یابد و در طول سال این روش متفاوت از حمله ها به جمع حمله به علماء سرشناس افراد خاص با شناسائی پزشکان مهندسان تجار دارندگان پست های دولتی وکلا شیعی را نشانه شوم شان قرار می دهند در این خصوص باوجود چنین هجمه هجوم دشمنان بر علیه مراسم عزاداری عزاداری های پاکستان هر سال بیشتر و پر رنگ تر از قبل برگزار می شود و حمله های انتهاری بم گزاری و شلیک ها ی مستقیم روی عزاداران اراده و عزم عزاداران را استوار تر کرده است. دانش آموختگان جامعه المصطفی و فرهنگ عاشورا را استوار تر کرده است بعد از پیروزی انقلاب اسلامی و با رونق گرفتن حوزه دینی در ایران تشنگان علوم دینی به این دیار از مناطق گوناگون دنیا سرازیر شد و کسانیکه در این سفر پیش رو بودند طلاب پاکستان بودند که تحت نظر شورای نظارت طلاب خارجی اداره می شدند بعدا مرکز جهانی علوم اسلامی تاسیس شد و تحت نظر مستقیم رهبر معظم ادامه یافت تا اینکه در سال 1387 این مرکز تبدیل به دانشگاهی بزرگ بین المللی بنام جامعه المصطفی العالمیه شد که در آن از جای جای جهان طلاب مشغول به تحصیل هستند از این دانشگاه هر ساله محرم و صفر و در ماه مبارک تعداد زیاد یاز طلاب به کشور رفته با وعظ موعظه همراه با تبیین پیام امام انقلاب و رهبری بیداری مسلمانان را پای ریزی می کنند چون ساست جامعه بر آن است اینکه تربیت عالمان، محققان، متخصصان، مدرسان، مبلغان، مترجمان، مربیان و مدیران پارسا، متعهد و زمان شناس؛ تبیین، تولید و تعمیق اندیشه دینی و قرآنی و توسعه نظریه های اسلامی در زمینه های گوناگون و نشر و ترویج اسلام ناب محمدی(ص) مبتنی بر معارف قرآن و اهل بیت(ع) است که از جمله اهداف اصلی جامعة المصطفی العالمیه برشمرد. حاکمیت اسلام و قرآن از منظر اهل بیت عصمت و طهارت(ع) با تأکید بر اصول معنویت و عقلانیت؛ محوریت اندیشه های حضرت امام خمینی(ره) و رهنمودهای رهبر معظم انقلاب و آرمان های انقلاب اسلامی؛ توجه به اصول اخلاقی اسلام و دمیدن روح تربیت دینی در کالبد همه ارکان و عناصر؛ حفظ، ترمیم و بالندگی ارزش های حوزه ای همچون «تفقه دینی»، «تهذیب و اخلاق» و «بینش و بصیرت اجتماعی سیاسی»؛ همگرایی و اخوت اسلامی و اعتلای امت واحده، تقریب مذاهب و دوری از فرقه گرایی و نوآوری، رشد علمی و بهره گیری از تجارب بشری می باشد. منابع 1- محمّد مهدی شمس الدین، ثورة الحسین، ص 274. 2- عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 23-22. 3- ذبیح اللّه صفا، تاریخ ادبیات در ایران، ج 3، ص 183. 4- ابن اثیر، الکامل، ج 3، ص 46-45؛ منهاج، سراج جوزجانی، طبقات ناصری، کلکته، 1864 م، ص 29. 5- منهاج سراج جوزجانی در سال 658 ق طبقات ناصری را تألیف نمود. 6- طبقات ناصری، ص 175-174 و 249. 7- صمصام الدوله شاهنواز خان، مأثر الامراء، طبع جامعه آسیایی بنگال (Asiatic Society Bengal)، 1888 م، ج 1، ص 240. 8- Rizvi, S.A.A: Isna Ashari Shi'is in India, Vol II, P. 292. 9- فتوحات فیروزشاهی، علی گره، 1954 م، ص 6. 10- گلشن ابراهیمی (تاریخ فرشته)، ج 1، ص 337. 11- برنی، تاریخ فیروزشاهی، ص 351-348. 12- Isna' Ashari Shi'is in India, Vol II, pp. 291-292. 13- سید محمّد عزیز الدین حسین، هندوستان میل عزاداری امام حسین(ع) کی ابتدا، ماهنامه الجواد، بنارس، شماره آوریل و می1998 م، ص 20. 14- لطایف اشرفی، ج 2، ص 268. 15- History of Isna Ashari Shi'is in India, Vol II. p. 296. 16- عبدالقادر بدایونی، منتخب التواریخ، کلکته، 69-1864 م، ج 1، ص 445. 17- تذکره همایون و اکبر، ص 55-51؛ اکبرنامه، ج 1، ص 224-221. 18- The Cambridge History of Islam, Vol 2A, pp. 40-41. 19- منتخب التواریخ، ص 130. 20- عبدالباقی نهاوندی، مآثر رحیمی، کلکته، 1924 م، ج 1، ص 65-64. 21- منتخب التواریخ، ج 1، ص 481. 22- Isna' Ashari Shi'is in India, Vol II, p 297. 23- صادق نقوی، تاریخ اور ادب کاباهمی ربط (اردو)، حیدرآباد، 1996 م، ص 62. 24- محی الدین قادری زور، حیات علامه میر مؤمن استرآبادی، ص 46. 25- مراسم هدیه نذورات در حسینیه ها و توزیع غذا در میان حاضران در مجلس عزاداری. 26- غلام امام خان، تاریخ رشید الدین خانی، حیدرآباد، 1965 م، ص 413 جنون در آموزه های قرآن
جنون در آموزه های قرآن
بیماری تماس با شیطان آنچه درباره جنون باید بدانیم
اشاره : در جهان امروز افراد بی شماری را می توان یافت که دچار بیماری افسردگی هستند. برخی از اندیشمندان غربی و روان شناسان بر این باورند که در جهان امروز بیش از 75 درصد مردم به نوعی از بیماری افسردگی و به سخن دیگر از دیوانگی رنج می برند. این بدان معناست که بیماری روحی و روانی بیشترین شمار مردمان را دربر می گیرد و انسان بیش از آن که دچار بیماری های جسمی و بدنی باشد از بیماری های روحی و روانی رنج می برد.
به نظر می رسد که برخلاف باورهای روان شناسان، این بیماری ها تنها به حوزه روان مرتبط نباشد و ارتباط تنگاتنگی با حوزه بیماری های روحی داشته باشد. به این معنا که می بایست میان بیماری های روحی و بیماری های روانی تفاوت و تمایزی محسوس قائل شد؛ چنان که میان بیماری های جسمی و روانی این دسته بندی انجام شده است .
بیماری های روانی به آن دسته از بیماری هایی گفته می شود که با روان یعنی نفس مرتبط با جسم مرتبط می باشد و متاثر از عالم فیزیک و طبیعت بشری است و می توان آن را در حوزه نرم افزاری جسم جست وجو کرد. به سخن دیگر روان عبارت است از عالم برزخ میان جسم و روح. در این عالم و نشاه که برخی از خصوصیات روح و برخی از خصوصیات جسم در آن دیده می شود، نشانه هایی از هر دو بعد انسانی را می توان یافت. از این روست که می توان با ابزارهای فیزیکی ولی نرم همانند تعبیر قدرت نرم از آن آگاه شد و به شناخت و آگاهی نسبی آن دست یافت.
به سخن دیگر روان نرم افزاری فیزیکی و جسمی است که در عالم برزخ قرار می گیرد و روان شناسان می توانند آن را با ابزارهای نرمی بررسی و بیماری های آن را معالجه و درمان کند.
اما روح مقامی برتر و از حوزه فرامادی است و چنان که قرآن تعبیر می کند از عالم خلق بیرون در مجموعه عوامل امر داخل می باشد. از این روست که خداوند می فرماید: و یسالونک عن الروح قل الروح من امر ربی؛ از تو درباره روح می پرسند بگو آن از امر پروردگار من است.
بیماری های انسانی از این رو به دو دسته بیماری های روحی و بیماری های روانی دسته بندی می شود. بیماری روحی بیماری هایی است که روح را از سلامت فطری بیرون می برد و وضعیت کلی بشر را از حوزه بشریت و ماهیت بشری بودن خارج می سازد. گاه از آن به پلیدی ذاتی نیز یاد می شود. این دسته از بیماری ها در این مقاله و نوشتار مورد نظر نیست و مجال دیگری را می طلبد.
اما بیماری های روانی را می توان به دو دسته تقسیم کرد؛ زیرا عوامل موثر در آن می تواند عواملی در حوزه بیماری های مرتبط با جسم و فیزیک باشد و یا مرتبط به عقاید و بینش و نگرش. به این معنا که عوامل موثر آن می تواند برخاسته از وضعیت جسمی فرد و متاثر از آن باشد که با درمان های غذایی و دارویی قابل درمان است و یا می تواند برخاسته از بینش و نگرش فردی باشد که در حوزه روان شخص اثر گذاشته و امکان درمان از راه دارو نیست و می بایست تنها با استفاده از درمان های عقیدتی آن را بازسازی کرد.
از این روست که به نظر می رسد که میان افسردگی برخاسته از جسم و یا دیوانگی برخاسته از جنون و جن زدگی تفاوت گذاشت. به این معنا که اسکیزوفرنی و یا شیزوفرنی بیماری های روانی هستند که می تواند برخاسته از عوامل جسمی و یا اعتقادی باشد.
قرآن به هر دو دسته از عوامل جسمی و اعتقادی توجه داشته است. در ادبیات اسلامی و فرهنگ قرآنی با بیماری هایی مواجه هستیم که از آن به بیماری جنون یاد می شود. هر چند که این تعبیر فراگیر است و به گونه ای با آن رفتار شده که گویی بیماری های روانی برخاسته از عوامل جسمی را نیز شامل می شود ولی در حقیقت در گذشته تنها به بیماری هایی اطلاق می شد که برخاسته از عوامل اعتقادی بوده است؛ زیرا در طب و پزشکی کهن از بیماری های روانی با خاستگاه جسم به مالیخولیا یاد می کردند.
جنون از ماده جن در اصل به معنای پنهان ماندن چیزی از حس است. (مفردات راغب ص 203) به انسان دیوانه ازاین جهت مجنون می گویند که چیزی میان عقل و نفس او مانع می شود و عقل او را می پوشاند.(همان ص205)
مقصود از جنون و دیوانگی در این نوشتار معنای دوم آن است که در آیات قرآنی به شکل جنه و مس الشیاطین و سعر و مجنون و مفتون و جملاتی چون یتخطبه الشیطان و استهوته الشیاطین بدان اشاره شده است.
عوامل جنون
قرآن عامل این بیماری روانی را تماس با شیطان می داند و براین نکته تأکید می ورزد که کسانی که از آموزه های وحیانی قرآن دوری می ورزند و خود را تحت مدیریت شیطان و ابلیس قرار می دهند درمدتی زمانی گرفتار وی می شوند و شیطان مدیریت روان وی را به عهده گرفته و او را به جنون دچار می سازد. قرآن برخی از عواملی که موجب می شود تا شیطان امکان و قدرت چنین تصرفی را در انسان بیابد مورد تأکید و توجه قرار می دهد تا انسان با دوری از آن ها خود را از شر شیطان و جنون رها سازد. از مهم ترین عوامل می توان به رباخواری اشاره کرد که زمینه تصرف شیطان را فراهم می آورد. درحقیقت حرام خواری و رباخواری زمینه بسیار مساعدی برای جنون است. (بقره آیه 275) در حقیقت اندیشه و بینش خاص موجب می شود تا این گونه درمعرض خطر جنون قرار گیرد.
شیطان با نفوذ بر عقاید واندیشه های افراد و وسوسه کردن آنان زمینه تحیر و جنون افراد را فراهم می آورد و نمی گذارد تا شخص در سلامت شخصیت خود باقی بماند. (انعام آیه 71)
نشانه های جنون
برای جنون نشانه هایی است که افسردگی یکی از آن هاست. شخصی که دچار جنون است در حالت عادی به سر نمی برد. تحیر و سرگردانی در کارها و انتخاب ها از نشانه های دیگر آن است (انعام آیه 71) و پریشانی خاطر وی را رنج می دهد (همان) گفتن سخنان یاوه و بیهوده و انتساب و ارتباط با موجودات فرابشری از نشانه های دیگری است که قرآن بیان می دارد. البته برخی از این نشانه ها را قرآن خود به مجانین نسبت می دهد و برخی دیگر را کافران به پیامبران نسبت می دهند و براین باورند که پیامبران نیز دچار جنون شده و رفتارهای انسان های روان پریش و یا مجنون را درپیش می گیرند. بنابراین از جهت تشابهی که میان رفتارهای پیامبران و مجانین وجود دارد آنان نیز متهم به جنون می شوند.
به هرحال باتوجه به این دو دسته آیات می توان به نشانه هایی که برای مجانین گفته شده است دست یافت که به برخی از آنان اشاره شده است.
البته تفاوت هایی میان سفیه (نادان) و مجنون وجود دارد که برخی آن را نادیده گرفته و اهل سفیه و یا سفیهان را همان مجانین دانسته اند. درحالی تفاوت میان مجانین و سفیهان به روشنی در رفتار آنان مشخص و معلوم است. شخص سفیه می تواند به بیماری خاصی دچار شده و یا به ارث بیماری را از والدین خود بگیرد ولی جنون این گونه نیست و شخص به جهاتی که گفته شد تحت تأثیر عواملی خاص به آن دچار می شود. از این رو میان احکام مجنون و سفیه در برخی موارد می توان تفاوت های محسوسی را جست و جو کرد هرچند در برخی دیگر از احکام مشترک می باشند.
همواره دشمنان برای گمراه کردن دیگران با اتهام جنون می کوشند عقاید و اندیشه های ناسازوار با اندیشه های خویش را از میدان به در کنند. این گونه است که همواره پیامبران متهم به جنون می شدند و به جهت اختلاف عقایدی با مشرکان و کافران از جامعه طرد می شدند.
توجه به آیات قرآن و اتهام هایی که به پیامبران از سوی مشرکان و کافران زده می شد می توان به این نکته توجه داد که جنون ارتباط تنگاتنگی با حوزه بینش و نگرش اعتقادات انسانی دارد و بیان گفته ها و اندیشه هایی که بیرون از ساختار عادی فکر بشر است می تواند به عنوان مهم ترین نشانه جنون از آن یاد کرد. جنون و دیوانگی امری در حوزه عقاید و بینش و نگرش است که در برخی از رفتارها نیز نمود می یابد. این رامی توان از اتهام کافران و مشرکان به دست آورد. به این معنا که شخص مجنون می بایست کسی باشد که باورها و عقایدهای خاصی را مطرح می سازد که به نظر تحت تأثیر موجودات جنی است.
درحقیقت انسان هرگاه تحت تأثیر موجودات جنی و فرابشری قرارگیرد از عقاید وافکار و بینش های خاصی برخوردار می شود که بیرون از اندیشه ها و باورهای عادی بشر است. مشرکان از آن جایی که پیامبران را با عقاید و باورهای بیرون بشری می دیدند به این باور رسیده بودند که پیامبران تحت تأثیر موجودات جنی بوده و مجنون می باشند.
قرآن بیان می دارد که علت اختلاف عقایدی همین طور که ممکن است تحت تأثیر موجودات جنی به ویژه شیطان باشد می تواند تحت تأثیر آموزه های وحیانی خداوند باشد و تفاوت میان پیامبران و مجانین در این است که رفتارها و گفتارهای پیامبران از و یژگی عقل پسندی و هنجاری برخوردار می باشد و بیرون از دایره تحیر و سرگردانی و اختلاف و تضاد است. اما کسانی که دچار جنون می شوند سخنان یاوه و بیهوده و رفتارهای نابهنجار و غیرعادی دارند و از تعادل شخصیتی و روحی و روانی نیز برخوردار نمی باشند.
راه درمان جنون
جنون به جهت آن که بیماری است که در طول مدت و در یک فرآیند پیچیده پدیدار می شود به سادگی قابل درمان نیست؛ زیرا عواملی چون رفتارهای ضدآموزه های وحیانی مانند رباخواری و ارتباط با عقاید فساد و ضدبشری موجب می شود تا شخص در تماس با شیطان و عوامل وی قرار گیرد و مجنون شود. برای رهایی این اشخاص می بایست نخست عقاید و بینش های آنان تغییر یابد و نگرش سالمی جایگزین نگرش فاسد شود. ازاین روست که نمی توان به سادگی به درمان آنان پرداخت. البته کسانی را که از جنون ساده برخوردار می باشند می توان به کمک برخی از راه هایی که در روایات بیان شده درمان کرد.
به هرحال میان اقسام و انواع بیماری روانی و افسردگی می بایست تفاوت گذاشت و برای درمان هر بیماری خاص از روش خاصی استفاده کرد. از آن جایی که روان شناسان همه انواع و اقسام جنون و دیوانگی و افسردگی را یکسان تلقی می کنند تنها از روش خاصی سود می برند. از این روست که گاه درباره شخصی درمان سازنده و مفید واقع می شود و در شخص دیگر نه تنها سودی نداشته بلکه بر بیماری شخص می افزاید.
جنون در آموزه های قرآن
جنون در آموزه های قرآن
بیماری تماس با شیطان آنچه درباره جنون باید بدانیم
اشاره : در جهان امروز افراد بی شماری را می توان یافت که دچار بیماری افسردگی هستند. برخی از اندیشمندان غربی و روان شناسان بر این باورند که در جهان امروز بیش از 75 درصد مردم به نوعی از بیماری افسردگی و به سخن دیگر از دیوانگی رنج می برند. این بدان معناست که بیماری روحی و روانی بیشترین شمار مردمان را دربر می گیرد و انسان بیش از آن که دچار بیماری های جسمی و بدنی باشد از بیماری های روحی و روانی رنج می برد.
به نظر می رسد که برخلاف باورهای روان شناسان، این بیماری ها تنها به حوزه روان مرتبط نباشد و ارتباط تنگاتنگی با حوزه بیماری های روحی داشته باشد. به این معنا که می بایست میان بیماری های روحی و بیماری های روانی تفاوت و تمایزی محسوس قائل شد؛ چنان که میان بیماری های جسمی و روانی این دسته بندی انجام شده است .
بیماری های روانی به آن دسته از بیماری هایی گفته می شود که با روان یعنی نفس مرتبط با جسم مرتبط می باشد و متاثر از عالم فیزیک و طبیعت بشری است و می توان آن را در حوزه نرم افزاری جسم جست وجو کرد. به سخن دیگر روان عبارت است از عالم برزخ میان جسم و روح. در این عالم و نشاه که برخی از خصوصیات روح و برخی از خصوصیات جسم در آن دیده می شود، نشانه هایی از هر دو بعد انسانی را می توان یافت. از این روست که می توان با ابزارهای فیزیکی ولی نرم همانند تعبیر قدرت نرم از آن آگاه شد و به شناخت و آگاهی نسبی آن دست یافت.
به سخن دیگر روان نرم افزاری فیزیکی و جسمی است که در عالم برزخ قرار می گیرد و روان شناسان می توانند آن را با ابزارهای نرمی بررسی و بیماری های آن را معالجه و درمان کند.
اما روح مقامی برتر و از حوزه فرامادی است و چنان که قرآن تعبیر می کند از عالم خلق بیرون در مجموعه عوامل امر داخل می باشد. از این روست که خداوند می فرماید: و یسالونک عن الروح قل الروح من امر ربی؛ از تو درباره روح می پرسند بگو آن از امر پروردگار من است.
بیماری های انسانی از این رو به دو دسته بیماری های روحی و بیماری های روانی دسته بندی می شود. بیماری روحی بیماری هایی است که روح را از سلامت فطری بیرون می برد و وضعیت کلی بشر را از حوزه بشریت و ماهیت بشری بودن خارج می سازد. گاه از آن به پلیدی ذاتی نیز یاد می شود. این دسته از بیماری ها در این مقاله و نوشتار مورد نظر نیست و مجال دیگری را می طلبد.
اما بیماری های روانی را می توان به دو دسته تقسیم کرد؛ زیرا عوامل موثر در آن می تواند عواملی در حوزه بیماری های مرتبط با جسم و فیزیک باشد و یا مرتبط به عقاید و بینش و نگرش. به این معنا که عوامل موثر آن می تواند برخاسته از وضعیت جسمی فرد و متاثر از آن باشد که با درمان های غذایی و دارویی قابل درمان است و یا می تواند برخاسته از بینش و نگرش فردی باشد که در حوزه روان شخص اثر گذاشته و امکان درمان از راه دارو نیست و می بایست تنها با استفاده از درمان های عقیدتی آن را بازسازی کرد.
از این روست که به نظر می رسد که میان افسردگی برخاسته از جسم و یا دیوانگی برخاسته از جنون و جن زدگی تفاوت گذاشت. به این معنا که اسکیزوفرنی و یا شیزوفرنی بیماری های روانی هستند که می تواند برخاسته از عوامل جسمی و یا اعتقادی باشد.
قرآن به هر دو دسته از عوامل جسمی و اعتقادی توجه داشته است. در ادبیات اسلامی و فرهنگ قرآنی با بیماری هایی مواجه هستیم که از آن به بیماری جنون یاد می شود. هر چند که این تعبیر فراگیر است و به گونه ای با آن رفتار شده که گویی بیماری های روانی برخاسته از عوامل جسمی را نیز شامل می شود ولی در حقیقت در گذشته تنها به بیماری هایی اطلاق می شد که برخاسته از عوامل اعتقادی بوده است؛ زیرا در طب و پزشکی کهن از بیماری های روانی با خاستگاه جسم به مالیخولیا یاد می کردند.
جنون از ماده جن در اصل به معنای پنهان ماندن چیزی از حس است. (مفردات راغب ص 203) به انسان دیوانه ازاین جهت مجنون می گویند که چیزی میان عقل و نفس او مانع می شود و عقل او را می پوشاند.(همان ص205)
مقصود از جنون و دیوانگی در این نوشتار معنای دوم آن است که در آیات قرآنی به شکل جنه و مس الشیاطین و سعر و مجنون و مفتون و جملاتی چون یتخطبه الشیطان و استهوته الشیاطین بدان اشاره شده است.
عوامل جنون
قرآن عامل این بیماری روانی را تماس با شیطان می داند و براین نکته تأکید می ورزد که کسانی که از آموزه های وحیانی قرآن دوری می ورزند و خود را تحت مدیریت شیطان و ابلیس قرار می دهند درمدتی زمانی گرفتار وی می شوند و شیطان مدیریت روان وی را به عهده گرفته و او را به جنون دچار می سازد. قرآن برخی از عواملی که موجب می شود تا شیطان امکان و قدرت چنین تصرفی را در انسان بیابد مورد تأکید و توجه قرار می دهد تا انسان با دوری از آن ها خود را از شر شیطان و جنون رها سازد. از مهم ترین عوامل می توان به رباخواری اشاره کرد که زمینه تصرف شیطان را فراهم می آورد. درحقیقت حرام خواری و رباخواری زمینه بسیار مساعدی برای جنون است. (بقره آیه 275) در حقیقت اندیشه و بینش خاص موجب می شود تا این گونه درمعرض خطر جنون قرار گیرد.
شیطان با نفوذ بر عقاید واندیشه های افراد و وسوسه کردن آنان زمینه تحیر و جنون افراد را فراهم می آورد و نمی گذارد تا شخص در سلامت شخصیت خود باقی بماند. (انعام آیه 71)
نشانه های جنون
برای جنون نشانه هایی است که افسردگی یکی از آن هاست. شخصی که دچار جنون است در حالت عادی به سر نمی برد. تحیر و سرگردانی در کارها و انتخاب ها از نشانه های دیگر آن است (انعام آیه 71) و پریشانی خاطر وی را رنج می دهد (همان) گفتن سخنان یاوه و بیهوده و انتساب و ارتباط با موجودات فرابشری از نشانه های دیگری است که قرآن بیان می دارد. البته برخی از این نشانه ها را قرآن خود به مجانین نسبت می دهد و برخی دیگر را کافران به پیامبران نسبت می دهند و براین باورند که پیامبران نیز دچار جنون شده و رفتارهای انسان های روان پریش و یا مجنون را درپیش می گیرند. بنابراین از جهت تشابهی که میان رفتارهای پیامبران و مجانین وجود دارد آنان نیز متهم به جنون می شوند.
به هرحال باتوجه به این دو دسته آیات می توان به نشانه هایی که برای مجانین گفته شده است دست یافت که به برخی از آنان اشاره شده است.
البته تفاوت هایی میان سفیه (نادان) و مجنون وجود دارد که برخی آن را نادیده گرفته و اهل سفیه و یا سفیهان را همان مجانین دانسته اند. درحالی تفاوت میان مجانین و سفیهان به روشنی در رفتار آنان مشخص و معلوم است. شخص سفیه می تواند به بیماری خاصی دچار شده و یا به ارث بیماری را از والدین خود بگیرد ولی جنون این گونه نیست و شخص به جهاتی که گفته شد تحت تأثیر عواملی خاص به آن دچار می شود. از این رو میان احکام مجنون و سفیه در برخی موارد می توان تفاوت های محسوسی را جست و جو کرد هرچند در برخی دیگر از احکام مشترک می باشند.
همواره دشمنان برای گمراه کردن دیگران با اتهام جنون می کوشند عقاید و اندیشه های ناسازوار با اندیشه های خویش را از میدان به در کنند. این گونه است که همواره پیامبران متهم به جنون می شدند و به جهت اختلاف عقایدی با مشرکان و کافران از جامعه طرد می شدند.
توجه به آیات قرآن و اتهام هایی که به پیامبران از سوی مشرکان و کافران زده می شد می توان به این نکته توجه داد که جنون ارتباط تنگاتنگی با حوزه بینش و نگرش اعتقادات انسانی دارد و بیان گفته ها و اندیشه هایی که بیرون از ساختار عادی فکر بشر است می تواند به عنوان مهم ترین نشانه جنون از آن یاد کرد. جنون و دیوانگی امری در حوزه عقاید و بینش و نگرش است که در برخی از رفتارها نیز نمود می یابد. این رامی توان از اتهام کافران و مشرکان به دست آورد. به این معنا که شخص مجنون می بایست کسی باشد که باورها و عقایدهای خاصی را مطرح می سازد که به نظر تحت تأثیر موجودات جنی است.
درحقیقت انسان هرگاه تحت تأثیر موجودات جنی و فرابشری قرارگیرد از عقاید وافکار و بینش های خاصی برخوردار می شود که بیرون از اندیشه ها و باورهای عادی بشر است. مشرکان از آن جایی که پیامبران را با عقاید و باورهای بیرون بشری می دیدند به این باور رسیده بودند که پیامبران تحت تأثیر موجودات جنی بوده و مجنون می باشند.
قرآن بیان می دارد که علت اختلاف عقایدی همین طور که ممکن است تحت تأثیر موجودات جنی به ویژه شیطان باشد می تواند تحت تأثیر آموزه های وحیانی خداوند باشد و تفاوت میان پیامبران و مجانین در این است که رفتارها و گفتارهای پیامبران از و یژگی عقل پسندی و هنجاری برخوردار می باشد و بیرون از دایره تحیر و سرگردانی و اختلاف و تضاد است. اما کسانی که دچار جنون می شوند سخنان یاوه و بیهوده و رفتارهای نابهنجار و غیرعادی دارند و از تعادل شخصیتی و روحی و روانی نیز برخوردار نمی باشند.
راه درمان جنون
جنون به جهت آن که بیماری است که در طول مدت و در یک فرآیند پیچیده پدیدار می شود به سادگی قابل درمان نیست؛ زیرا عواملی چون رفتارهای ضدآموزه های وحیانی مانند رباخواری و ارتباط با عقاید فساد و ضدبشری موجب می شود تا شخص در تماس با شیطان و عوامل وی قرار گیرد و مجنون شود. برای رهایی این اشخاص می بایست نخست عقاید و بینش های آنان تغییر یابد و نگرش سالمی جایگزین نگرش فاسد شود. ازاین روست که نمی توان به سادگی به درمان آنان پرداخت. البته کسانی را که از جنون ساده برخوردار می باشند می توان به کمک برخی از راه هایی که در روایات بیان شده درمان کرد.
به هرحال میان اقسام و انواع بیماری روانی و افسردگی می بایست تفاوت گذاشت و برای درمان هر بیماری خاص از روش خاصی استفاده کرد. از آن جایی که روان شناسان همه انواع و اقسام جنون و دیوانگی و افسردگی را یکسان تلقی می کنند تنها از روش خاصی سود می برند. از این روست که گاه درباره شخصی درمان سازنده و مفید واقع می شود و در شخص دیگر نه تنها سودی نداشته بلکه بر بیماری شخص می افزاید.
تقيّه در كتاب و سنّت
(1) دوّمين مسألهاى كه پيوسته «بهانهجويان» و «مخالفان متعصّب ما» بر پيروان مكتب اهلبيت (عليهم السلام) خرده مىگيرند، مسأله «تقيّه» است؛ مىگويند چرا شما تقيّه مىكنيد؟ آيا تقيّه نوعى نفاق نيست؟! آنها اين مسأله را به قدرى بزرگ مىكنند كه گويى تقيّه كار حرام يا گناه كبيره يا بالاتر از آن است. غافل از اين كه قرآن با صراحت در آيات متعدّد، تقيّه را با شرايط خاص مجاز شمرده، و روايات وارده در منابع خودِ آنها نيز اين معنا را تأييد مىكند، و از آن فراتر، تقيّه (با شرايطش) فرمان صريح عقل است، و بسيارى از آنها نيز در زندگى شخصى خود آن را تجربه كرده و به آن عمل مىكنند. براى توضيح اين سخن توجّه به چند نكته لازم است: 1- تقيّه چيست؟ تقيّه آن است كه انسان، عقيده دينى خود را در برابر مخالفان متعصّب و سرسخت كه ممكن است خطرى براى او بيافرينند، كتمان كند. (1) به عنوان مثال مسلمان موحّدى در چنگال گروهى بتپرست لجوج، گرفتار شده كه اگر اظهار توحيد و اسلام كند، خون او را مىريزند يا صدمه مهمّ جانى، مالى و عِرضى به او مىرسانند، او عقيده باطنى خود را مكتوم مىدارد تا از گزند آنها در امان بماند. يا يك مسلمان شيعى در بيابانى گرفتار يك فرد وهّابى تندرو مىشود كه ريختن خون مسلمان شيعه را مباح مىداند، در اين حالت براى حفظ جان و مال و ناموس خود، عقيده خود را از او مكتوم مىدارد. هر عاقلى تصديق مىكند كه اين كار كاملا منطقى است و عقل بر آن حاكم است، چرا كه نبايد جان خود را فداى تعصّب متعصّبان كرد. 2- فرق تقيّه با نفاق نفاق درست نقطه مقابل تقيّه است، منافق كسى است كه در باطن به مبانى اسلام اعتقاد ندارد يا در آن ترديد دارد و متزلزل است، ولى در ميان مسلمين اظهار اسلام مىكند. تقيّهاى كه ما مىگوييم اين است كه در باطن اعتقاد صحيح اسلامى دارد، منتها تابع نظر بعضى از تندروان وهّابى كه همه مسلمين را جز خودشان، كافر مىدانند و براى آنها خط و نشان مىكشند و تهديد مىكنند، نيست؛ هرگاه فرد با ايمانى عقيده خود را براى حفظ جان و مال و ناموس خود، از اين گروه متعصّب كتمان كند، تقيّه است و عكس آن نفاق. 3- تقيّه در ترازوى عقل تقيّه در واقع يك سپر دفاعى است و به همين جهت در روايات ما به عنوان «تُرس المُؤمن» يعنى «سپر افراد با ايمان» معرّفى شده است. هيچ عقلى اجازه نمىدهد كه انسان عقيده باطنى خود را در برابر افراد خطرناك و غيرمنطقى اظهار كند و جان يا مال يا ناموس خود را به خطر بيندازد، چرا كه هدر دادن نيروها و امكانات بدون فايده عاقلانه نيست. «تقيّه» شبيه روشى است كه همه سربازان در ميدان جنگ به كار مىگيرند، خود را در لابهلاى درختان، تونلها، خاكريزها مخفى مىكنند، لباس خود را به رنگ شاخههاى درختان انتخاب مىنمايند، تا بىجهت خون خود را هدر ندهند. تمام عقلاى دنيا براى حفظ جان خود در برابر دشمنان سرسخت، از روش تقيّه استفاده مىكنند، و هرگز كسى را بر استفاده كردن از اين روش، سرزنش نخواهند كرد. در تمام دنيا نمىتوانيد كسى را پيدا كنيد كه تقيّه را با شرايطش نپذيرفته باشد. 4- تقيّه در كتاب الله قرآن مجيد در آيات متعدّدى تقيّه را در برابر كفّار و مخالفان مجاز شمرده است، به عنوان نمونه: (2) الف) در داستان مؤمن آل فرعون مىخوانيم: « (وَ قالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمانَهُ أَ تَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَ قَدْ جاءَكُمْ بِالْبَيِّناتِ ...)؛ مرد با ايمانى از آل فرعون كه ايمان خود را (نسبت به آيين موسى) كتمان مىكرد گفت: آيا شما مىخواهيد كسى را كه مىگويد پروردگار من خداست، به قتل برسانيد در حالى كه معجزات و دلايل روشنى با خود دارد». «1» و در ادامه مىگويد: «او را به حال خود رها كنيد، اگر دروغ مىگويد آثار دروغ دامان او را مىگيرد، و اگر راست بگويد ممكن است بعضى از عذابهاى الهى را كه او نسبت به آن هشدار مىدهد، دامان شما را بگيرد». به اين ترتيب مؤمن آل فرعون در عين تقيّه و «كتمان ايمان خود» نصايح لازم را به آن گروه متعصّب لجوج كه تصميم گرفته بودند خون پيامبر الهى موسى را بريزند، مىكند. (3) ب) در يك دستور صريح ديگر قرآنى مىخوانيم: « (لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكافِرِينَ أَوْلِياءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَ مَنْ يَفْعَلْ ذلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً ...)؛ مؤمنان نبايد كفّار را دوست خود انتخاب كنند، هر كس چنين كند از خداوند، بيگانه است، مگر اين كه بخواهيد از آنها تقيّه كنيد». «1» اين آيه دوستى با دشمنان حق را به كلّى ممنوع كرده، جز در مواردى كه ترك دوستى، سبب اذيّت و آزار مسلمانى شود و به عنوان يك سپر دفاعى از دوستى با آنها به طور تقيّه استفاده شود. (1) ج) داستان عمّارياسر و پدر و مادرش را تمام مفسّران نقل كردهاند كه هر سه گرفتار چنگال مشركان عرب شدند و آنها را وادار به برائت از پيامبر اسلام (صلى الله عليه وآله) كردند، پدر و مادر عمّار خوددارى كرده و شهيد شدند، ولى عمّار از روى تقيّه مطابق ميل آنها سخن گفت و سپس گريهكنان به خدمت پيامبر اكرم (صلى الله عليه وآله) رسيد. در اين هنگام آيه شريفه « (مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمانِ ...)؛ كسانى كه بعد از ايمان كافر شوند ... عذاب سختى دارند، مگر آنها كه تحت فشار واقع شدهاند ...». «2» پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) پدر و مادر عمّار را جزء شهدا شمرد و اشك از چشمان عمّار سترد و فرمود: چيزى بر تو نيست، اگر باز تو را مجبور كردند تو نيز همان كلمات را تكرار كن! اتّفاق نظر همه مفسّران اسلام در مورد نزول آيه فوق درباره عمّار و پدر و مادرش و سخنانى كه پيامبر (صلى الله عليه وآله) بعد از آن فرمود، نشان مىدهد كه مسأله تقيّه مورد قبول همه است. راستى شگفتانگيز است كه با اين سندهاى محكم قرآنى و كلمات مفسّران اهل سنّت، باز هم بر شيعه به خاطر قبول تقيّه خردهگيرى مىكنند؟ آرى نه عمّار منافق بود و نه مؤمن آل فرعون، بلكه از دستور الهى تقيّه بهره گرفتند. 5- تقيّه در روايات اسلامى در روايات اسلامى نيز تقيّه بازتاب وسيعى دارد به عنوان نمونه: مسند أبى شيبة از مسانيد معروف اهل سنّت است. او در داستان «مسيلمه كذّاب» نقل مىكند كه مسيلمه كذّاب دو نفر از ياران رسول خدا (صلى الله عليه وآله) را در منطقه نفوذ خود دستگير كرد. از هر دو سؤال كرد، آيا شهادت مىدهيد كه من فرستاده خدا هستم؟! يكى شهادت داد و نجات يافت و دوّمى شهادت نداد و گردنش را زدند. هنگامى كه خبر به پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) رسيد، فرمود: آن كه كشته شد بر طريق صدق و راستى قدم برداشت و دوّمى رخصت الهى را پذيرا شد و گناهى بر او نيست. «1» در احاديث ائمّه اهلبيت (عليهم السلام) به خصوص امامانى كه در عصر قدرت بنىاميّه و بنىعبّاس مىزيستند و دوستان على (عليه السلام) را هر كجا مىيافتند به قتل مىرساندند، دستور تقيّه فراوان ديده مىشود، زيرا مأمور بودند براى حفظ جان خويش از شرّ آن جانيان آدمكش و بىرحم، از سپر تقيّه بهره جويند. 6- آيا تقيّه فقط در برابر كفّار است؟ بعضى از مخالفان ما هنگامى كه خود را در برابر آيات صريح و روايات بالا مىبينند، چارهاى جز پذيرش مسأله مشروعيّت تقيّه در اسلام نمىبينند، ولى مىگويند تقيّه تنها در برابر «كفّار» است و در برابر مسلمين تقيّه مشروع نيست. حال آن كه عدم تفاوت در ميان اين دو- با توجّه به دلايل فوق- بسيار روشن است، زيرا: 1- اگر مفهوم تقيّه حفظ جان و مال و عِرض در برابر متعصّبان وافراد خطرناك است- كه هست- چه تفاوتى ميان مسلمان ناآگاه و متعصّب و كافر وجود دارد؟ اگر عقل و خرد حاكم به حفظ اين امور و هدر ندادن بيهوده آنهاست، چه تفاوتى بين اين دو مورد وجود دارد؟ ما كسانى را سراغ داريم كه بر اثر شدّت ناآگاهى و تبليغات سوء مىگويند: ريختن خون شيعه مايه تقرّب به خداست، آيا اگر شيعه مخلص از پيروان اميرمؤمنان على (عليه السلام) و اهل بيت پيامبر (صلى الله عليه وآله) در ميان چنين گروهى گرفتار شد و از او پرسيدند مذهب تو چيست؟ با صراحت بگويد: شيعهام، و گلوى خود را به تيغ جهل وجنايت بسپارد؟! هيچ عاقل و خردمندى چنين حكم مىكند؟! (1) به تعبير ديگر اگر همان كارى را كه مشركان عرب، در برابر عمّار ياسر، يا پيروان مسيلمه كذّاب در برابر دو نفر از ياران پيامبر (صلى الله عليه وآله) انجام دادند، حاكمان بنىاميّه و خلفاى بنىعبّاس و مانند آنها از مسلمانان ناآگاه نسبت به شيعيان على (عليه السلام) انجام دادند، بايد حكم به حرمت تقيّه كنيم هر چند سبب نابودى صدها يا هزاران نفر پيروان مخلص اهلبيت (عليهم السلام) شود، به سبب اين كه اين حاكمان به ظاهر مسلمانند؟! اگر امامان اهلبيت (عليهم السلام) با تأكيد فراوان روى مسأله تقيّه تأكيد نكرده بودند، تا آنجا كه فرمودند: «تِسْعَةُ أعْشَارِ الدِّينِ التَّقِيَّةُ ؛ نه دهم دين تقيه است» «1»، شايد عدد كشتگان شيعه در عصر بنىاميّه و بنىعبّاس به صدها هزار يا ميليونها نفر مىرسيد، يعنى دهها برابر كشتارهاى بيرحمانه و وحشيانهاى كه داشتند انجام مىدادند. آيا كمترين ترديدى در مشروعيّت تقيّه در چنين شرايطى مىتوان داشت؟ ما فراموش نمىكنيم كه اهل سنّت هم سالها به خاطر اختلافات مذهبى، از جمله بر سر مسأله حادث يا قديم بودن قرآن، اختلافات شديدى داشتند و خونهاى زيادى در اين راه ريخته شد! (همان نزاعى كه امروز از نظر محقّقان يك نزاع كاملا بيهوده و بى معناست). آيا گروهى كه خود را بر حق مىدانستند، اگر در چنگال مخالفان گرفتار مىشدند و از عقيده آنها سؤال مىشد، بايد با صراحت مىگفتند ما فلان عقيده را داريم، هرچند خون آنها را بريزند، بى آن كه كمترين فايده و تأثيرى براى ريخته شدن خون آنها باشد؟! (1) 2- فخر رازى در تفسير آيه شريفه (إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً) «1» مىگويد: ظاهر آيه دلالت دارد بر اين كه تقيّه در برابر كفّار غالب مباح است، «إلّا أنّ مذهب الشافعى- رض- أنّ الحالة بين المسلمين إذا شاكلت الحالة بين المسلمين و المشركين حلّت التقيّة محاماة على النفس؛ مذهب شافعى اين است كه اگر وضع مسلمانان با يكديگر همانند وضع مسلمين و كفّار شود، تقيّه براى حفظ نفس، حلال است». سپس به بيان دليل جواز تقيّه براى حفظ مال مىپردازد و به حديث نبوى «حُرْمَة مَالِ الْمُسْلِمِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ ؛ احترام مال مسلمان مانند احترام خون اوست» و حديث «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ؛ كسى كه براى حفظ اموالش كشته شود شهيد است» «2» استدلال مىكند. در تفسير نيشابورى كه در حاشيه تفسير طبرى آمده نيز مىخوانيم: قال الامام الشافعى: «تجوز التقية بين المسلمين كما تجوز بين الكافرين محاماة عن النفس؛ تقيّه به خاطر حفظ جانها در ميان مسلمانان جايز است، همانگونه كه در ميان كفّار و مسلمين جايز است». «1» (1) 3- جالب اين است كه در دوران خلافت بنىعبّاس جمعى از محدّثان اهل سنّت به سبب اعتقاد به «قديم بودن قرآن» تحت فشار حاكمان بنىعبّاس قرار گرفتند و آنها از باب تقيّه اعتراف به حادث بودن قرآن كردند و نجات يافتند. «ابن سعد» مورّخ معروف، در كتاب طبقات و «طبرى» مورّخ معروف ديگر، در كتاب تاريخ خود به دو نامه اشاره مىكنند كه از سوى «مأمون» در اين رابطه به رييس شرطه بغداد «اسحاق بن ابراهيم» ارسال شد. در مورد نامه اوّل ابن سعد مىنويسد، مأمون به رييس شرطه نوشت، هفت نفر از محدّثين معروف (محمّد بن سعد كاتب واقدى- ابومسلم- يحيى بن معين- زهير بن حرب- اسماعيل بن داود- اسماعيل بن ابى مسعود و احمد بن الدورقى) را تحت الحفظ، نزد من بفرست. هنگامى كه نزد مأمون آمدند از آنها به عنوان آزمايش سؤال كرد، اعتقاد شما درباره قرآن چيست؟ همگى جواب دادند قرآن مخلوق است (با اين كه رأى مشهور ميان محدّثين عكس اين معنا يعنى قديم بودن قرآن بود و آنها نيز به آن معتقد بودند). «2» آرى آنها از ترس مجازاتهاى سنگين مأمون تقيّه كردند و اعتراف به مخلوق بودن قرآن نمودند و رهايى يافتند. (1) به دنبال نامه دوّم مأمون كه طبرى آن را نقل كرده و مخاطب در آن نيز رئيس شرطه بغداد است، چنين مىخوانيم: هنگامى كه نامه مأمون به او رسيد، جمعى از محدّثان را كه شايد عدد آنها به 26 نفر مىرسيد، احضار كرد و نامه مأمون را بر آنها خواند، سپس يك يك را صدا زد تا عقيده خود را درباره قرآن اظهار كنند، همه آنها به استثناى چهار نفر اعتراف كردند كه قرآن مخلوق است (و با تقيّه رهايى يافتند). آن چهارنفر كه اعتراف نكردند: احمد بن حنبل، سجادة، القواريرى، و محمّد بن نوح بودند. رييس شرطه دستور داد آنها را به زنجير بكشند و زندانى كنند، فردا همه آنها را فراخواند، همان سخن قبلى درباره قرآن را بر آنها تكرار كرد، سجادة اعتراف كرد كه قرآن مخلوق است و آزاد شد و بقيّه اصرار بر مخالفت كردند و آنها را به زندان بازگرداند. روز بعد آن سه نفر را فراخواند و «القواريرى» از گفته خود بازگشت و آزاد شد، ولى احمد بن حنبل و محمّد بن نوح همچنان بر گفتار خود اصرار ورزيدند، و رييس شرطه آنها را به شهر «طرطوس» «1» تبعيد كرد. هنگامى كه بعضى از افراد به گروهى كه تقيّه كردند اعتراض نمودند، آنها به عمل عمّار ياسر در برابر كفّار استناد جستند. «1» اينها همه به وضوح نشان مىدهد، در صورتى كه انسان تحت فشار شديد قرار گيرد و تنها راه نجات از چنگال ستمگران تقيّه باشد، مىتواند راه تقيّه را در پيش گيرد، خواه در مقابل كافر باشد يا در برابر مسلمان (دقّت كنيد). 7- تقيّه حرام در بعضى از موارد تقيّه حرام است، و آن زمانى است كه اگر فرد يا گروهى راه تقيّه را پيش گيرند و عقيده مذهبى خود را پنهان دارند، اصل اسلام به خطر افتد يا ضربه شديدى بر كيان مسلمين وارد گردد، در اين گونه موارد بايد عقيده واقعى خود را ظاهر كنند، هر چند خطر يا ضررى براى آنها داشته باشد. و آنها كه گمان مىكنند اينها از قبيل به هلاكت افكندن خويش (إلقاء النفس إلى التهلكة) است كه قرآن با صراحت از آن نهى كرده و فرموده (وَ لا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ) «2» سخت در اشتباهند، زيرا لازمه آن اين است كه حضور در ميدان جهاد نيز حرام باشد، در حالى كه هيچ عاقلى چنين سخنى نمىگويد، و از اينجا روشن مىشود كه قيام امام حسين بن على بن ابىطالب (عليهم السلام) در برابر يزيد، يك وظيفه قطعى دينى بوده، و امام حاضر نشد- حتّى به عنوان تقيّه- با يزيديان و بنىاميّه غاصب خلافت اسلامى كنار بيايد، زيرا مىدانست ضربه شديدى به كيان اسلام خواهد خورد و قيام و شهادت او مايه بيدارى مسلمين و نجات اسلام از چنگال تفالههاى جاهليّت است. 8- تقيّه مدارايى اين نوع ديگرى از تقيّه است كه صاحبان يك مذهب براى حفظ وحدت صفوف مسلمين در كارهايى كه لطمهاى به اساس دين و مذهب نمىزند، با ساير فرق مسلمين هماهنگى كنند. مثلا پيروان مكتب اهلبيت (عليهم السلام) عقيده دارند بر فرش نمىتوان سجده كرد و حتماً بايد بر سنگ يا ساير اجزاى زمين و مانند آن سجده نمود، و حديث معروف پيامبر (صلى الله عليه وآله) «جُعِلَتْ لِىَ الْارْضُ مَسْجِداً وَطَهُوراً ؛ زمين براى من محلّ سجده و وسيله تيمّم قرار داده شده است» «1» را دليل بر آن مىدانند. حال اگر بخواهند براى حفظ وحدت در صفوف ساير مسلمين در مساجد آنها، يا در مسجد الحرام و مسجد النبى (صلى الله عليه وآله) نماز بخوانند، ناگزير بر همان فرشها- مانند ديگران- سجده مىكنند. اين كار جايز و چنين نمازى به عقيده ما صحيح است و اين را تقيّه مدارايى مىگويند، زيرا مسأله ترس از جان و مال در آن مطرح نيست، بلكه مسأله مدارا كردن با ساير فرق اسلام در آن مطرح است. (1) بحث تقيّه را با سخنى از يكى از بزرگان پايان مىدهيم: يكى از بزرگان شيعه با يكى از شيوخ الازهر در مصر ملاقاتى داشت، او به عنوان سرزنش به اين عالم شيعى مىگويد: شنيدهايم شما تقيّه مىكنيد؟! عالم شيعى در پاسخ گفت: «لعن الله من حملنا على التقيّة؛ از رحمت خدا دور باد آن كس كه ما را مجبور به تقيّه كرد»! َ 3 عدالت صحابه (1) شكّى نيست كه ياران پيامبر اسلام (صلى الله عليه وآله) از امتيازات ويژهاى برخوردار بودند. آيات و وحى الهى را از زبان پيامبر مىشنيدند، معجزات آن حضرت را مىديدند، با سخنان گهربارش پرورش مىيافتند و از الگوهاى عملى و اسوه حسنه آن حضرت بهرهمند بودند. به همين دليل در ميان آنها بزرگان و شخصيّتهاى ممتازى پرورش يافتند كه جهان اسلام به وجود آنها افتخار و مباهات مىكند، ولى مسأله مهم اينجاست كه آيا همه صحابه بدون استثنا، افرادى مؤمن، صالح، راستگو، درستكار و عادل بودند يا در ميان آنها افراد ناصالحى نيز وجود داشتند. 1- دو عقيده متضاد درباره صحابه دو عقيده مختلف وجود دارد: نخست اين كه همه آنها بدون استثنا در هالهاى از قداست قرار دارند و افرادى صالح، صادق، با تقوى و عادل بودند. (1) به همين دليل هر كدام روايتى از پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) نقل كنند، صحيح و قابل قبول است، و كمترين ايرادى بر آنها نمىتوان گرفت، و اگر كارهاى خلافى از آنها سرزده، بايد به توجيهگرى پردازيم. اين عقيده گروه كثيرى از اهل سنّت است. عقيده ديگر اين كه گرچه در ميان آنها افرادى با شخصيّت، فداكار، پاك و با تقوا بودهاند، ولى افراد منافق و ناصالح نيز وجود داشته كه قرآن مجيد و پيامبر اسلام (صلى الله عليه وآله) از آنها بيزارى مىجستند. به تعبير ديگر، همان معيارهايى را كه براى شناخت افراد خوب از بد در همه جا به كار مىگيريم، بايد درباره آنها نيز اعمال كنيم، منتها چون صحابه پيامبر (صلى الله عليه وآله) بودند، اصل را بر خوبى آنها بگذاريم ولى هرگز چشم خود را بر حقايق نمىبنديم و صدور اعمال منافى عدالت و صدق و راستى را ناديده نمىگيريم، چرا كه اين كار ضربههاى سنگينى بر اسلام و مسلمين مىزند وسبب نفوذ منافقان در حوزه اسلام مىشود. شيعيان و گروهى از روشنفكران اهل سنّت اين عقيده را برگزيدهاند. 2- تندروان تنزيه گروهى از طرفداران تنزيه صحابه چنان تند رفتهاند كه هر كس لب به نقّادى از آنان بگشايد، او را فاسق و گاه ملحد و زنديق مىنامند و يا خون او را مباح مىشمرند!! (1) از جمله در كتاب «الاصابة» از ابوزرعه رازى چنين مىخوانيم: «هر گاه كسى را ديدى كه به يكى از اصحاب پيغمبر (صلى الله عليه وآله) خردهگيرى مىكند، بدان كه او زنديق است و اين به خاطر آن است كه رسول خدا (صلى الله عليه وآله) حق است و قرآن حق است، و آنچه او آورده حق است و تمام اينها را صحابه براى ما آوردند و اينها (مخالفان) مىخواهند، شهود ما را از اعتبار بيندازند تا كتاب و سنّت از دست برود!». «1» «عبدالله موصلى» در كتاب «حتّى لا ننخدع» مىگويد: آنها (صحابه) گروهى هستند كه خدا آنان را براى هم نشينى پيغمبرش و اقامه دين و شرع او برگزيده و آنها را وزيران پيامبرش قرار داده و حبّ آنها را دين و ايمان و بغض آنها را كفر و نفاق شمرده! و بر امّت واجب كرده، همه آنها را دوست بدارند و پيوسته از خوبىها و فضايل آنان سخن بگويند و در برابر جنگ و نزاعهايى كه آنها با هم داشتند سكوت كنند!». «2» در حالى كه خواهيم ديد اين سخن برخلاف كتاب و سنّت است. 3- پرسشهاى بى جواب در اينجا هر خردمند با انصافى كه سخنان بىدليل را چشم و گوش بسته نمىپذيرد، اين سؤالات را از خود مىكند: خداوند در قرآن مجيد درباره همسران پيامبر (صلى الله عليه وآله) مىفرمايد: « (يا نِساءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَ كانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً)؛ اى همسران پيامبر هر كس از شما گناه آشكارى كند مجازات او دو چندان است و اين كار براى خدا آسان است». «1» ما صحابه را به هر معنا تفسير كنيم (كه تفاسير گوناگون آن خواهد آمد) بى شك همسران پيامبر (صلى الله عليه وآله) آشكارترين مصداق آن هستند، قرآن مىگويد نه تنها از گناهان آنها صرف نظر نمىشود، بلكه مجازاتش دو چندان است. آيا اين آيه را باور كنيم يا سخنان طرفداران تنزيه بى قيد وشرط را؟ و نيز قرآن درباره فرزند نوح شيخ الانبياء به خاطر خطاهايش مىگويد: « (إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صالِحٍ)؛ او عملى ناصالح است» «2» و به نوح هشدار مىدهد كه درباره او شفاعت نكند! آيا فرزند پيامبر مهمتر است يا اصحاب و ياران او؟ و درباره همسر نوح و لوط (دو پيامبر بزرگ الهى) مىگويد: (1) « (فَخانَتاهُما فَلَمْ يُغْنِيا عَنْهُما مِنَ اللَّهِ شَيْئاً وَ قِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ)؛ آن دو نسبت به همسرشان (نوح و لوط) خيانت كردند (و با دشمنان همكارى داشتند) و آن دو پيامبر نتوانستند از آنها شفاعت كنند و به آن دو گفته شد، همراه دوزخيان وارد آتش شويد». «1» آيا اين آيات با صراحت نمىگويد: معيار خوبى و بدى افراد، ايمان و اعمال آنهاست و حتّى فرزند و همسر پيامبر بودن، در صورت فساد اعمال مانع از دوزخى شدن افراد نمىشود؟ با اين حال آيا صحيح است ما چشم بر هم بگذاريم و بگوييم فلان فرد چون زمانى از صحابه بوده، محبّت او دين و ايمان و مخالفتش كفر و نفاق است؟ هر چند بعداً به صف منافقين پيوسته و قلب پيامبر (صلى الله عليه وآله) را آزار داده و به مسلمين خيانت كرده باشد. آيا عقل و خرد اين سخن را باور مىكند؟ اگر كسى بگويد، طلحه و زبير در آغاز افراد خوبى بودند ولى آن گاه كه هواى حكومت بر سر آنها افتاد و همسر پيامبر (عايشه) را با خود همراه كردند و بيعت و پيمان خود را با على (عليه السلام) كه قاطبه مردم مسلمان دست بيعت به او داده بودند، شكستند و آتش جنگ جمل را برافروختند و حدود 17 هزار نفر از مسلمانان در اين آتش سوختند، آنها از راه راست منحرف شدند و خون اين گروه عظيم به گردن آنهاست، و در قيامت بايد جوابگو باشند. آيا اين سخن از حقيقت به دور است؟! (1) يا اگر كسى بگويد معاويه با تخلّف از بيعت با امام (عليه السلام) و عدم اعتراف به حقّى كه از سوى خاصّ و عامّ مسلمين مورد پذيرش بود و روشن ساختن آتش جنگ صفّين و ريخته شدن خون بيش از يكصد هزار نفر از مسلمانان، مردى ستمگر بوده، سخنى به ناحق گفته است؟! آيا مىتوان چشم بر اين حقايق تلخ تاريخ بست يا از طريق توجيهات نادرستى كه هيچ خردمندى آن را نمىپذيرد، از كنار اين حوادث بسيار اسفبار گذشت؟ آيا حبّ اين گونه افراد- به گفته عبدالله موصلى- دين و ايمان است و بغض آنها كفر و نفاق؟! آيا ما وظيفه داريم در برابر كارهاى خلافى كه انجام شده و سبب قتل هزاران نفر شده، سكوت كنيم؟ كدام عقل چنين حكم مىكند؟ قرآن مىگويد در ميان اطرافيان پيامبر (صلى الله عليه وآله) گروهى از منافقان بودند، آيا اين آيات قرآن را ناديده بگيريم؟ قرآن مجيد مىگويد: (وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرابِ مُنافِقُونَ وَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ...). «1» آيا انتظار داريم چنين منطقى را مردم خردمند جهان بپذيرند؟ 4- صحابه كيانند؟ نكته مهمّ ديگر در اينجا مفهوم «صحابه» است. در اين كه منظور از «صحابه» كه اين هاله قداست را به دور آنان كشيدهاند چه كسانى هستند، تعابير و تعاريف كاملا متفاوتى از سوى علماى اهل سنّت ارائه شده است. 1- بعضى آن قدر آن را توسعه دادهاند كه مىگويند هر كس از مسلمانان آن حضرت را ديده است، از اصحاب آن حضرت است! اين تعبير را «بخارى» ذكر كرده و مىگويد: «من صحب رسول الله (صلى الله عليه وآله) أو رآه من المسلمين فهو من أصحابه!». احمد بن حنبل عالم معروف اهل سنّت نيز آن را بسيار گسترده دانسته و مىگويد: «أصحاب رسول الله (صلى الله عليه وآله) كلّ من صحبه شهراً أو يوماً أو ساعة أو رآه؛ اصحاب رسول خدا (صلى الله عليه وآله) هر كسى است كه يك ماه يا يك روز يا حتّى يك ساعت با او مصاحبت داشته، يا او را ديده است!». 2- بعضى ديگر تعريف محدودترى براى صحابى برگزيدهاند به عنوان مثال قاضى ابوبكر محمّد بن الطيّب مىگويد: «گرچه مفهوم لغوى صحابى عام است، ولى عرف امّت اين واژه را تنها به كسانى اطلاق مىكنند كه مدّت قابل ملاحظهاى با آن حضرت مصاحبت داشتهاند؛ نه كسى كه تنها يك ساعت در خدمتش بوده، يا چند قدم با او گام برداشته، يا حديثى از آن حضرت شنيده است». (1) 3- بعضى مانند سعيد بن المسيّب دايره را از اين هم تنگتر كرده، و گفته است: «صحابى پيامبر (صلى الله عليه وآله) تنها كسانى هستند كه حدّاقل يك يا دو سال با آن حضرت بوده و در يك يا دو غزوه با رسول خدا شركت جستهاند». «1» اين تعاريف و تعاريف ديگرى كه براى عدم اطاله كلام از نقل آن پرهيز شد، نشان مىدهد كه دقيقاً روشن نيست مشمولان اين قداست چه كسانى هستند، ولى اغلب همان معناى وسيع و گسترده را انتخاب كردهاند، هر چند در بحثهاى مورد نظر ما تفاوت چندانى ايجاد نمىكند، زيرا بسيارى از موارد نقض كه در آينده از آن بحث خواهد شد، همانها هستند كه مدّت طولانى با آن حضرت بودهاند. 5- انگيزه اصلى عقيده تنزيه با اين كه اعتقاد به قداست فوق العاده صحابه كه از پارهاى جهات شبيه به عصمت است، نه در قرآن مجيد آمده و نه در سنّت، بلكه از كتاب و سنّت و تاريخ، ضدّ آن استفاده مىشود، و حتّى گفته مىشود در قرن اوّل چنين اعتقادى وجود نداشته، بايد ديد چرا و به چه دليل اين مسأله در قرون بعد مطرح شده است. به نظر مىرسد گزينش اين اعتقاد، چند دليل داشته است: 1- خوشبينانهترين فرض همان است كه در بعضى از بحثهاى گذشته آمد كه عدّهاى چنين مىپنداشتند كه اگر قداست كامل صحابه از دست آنها گرفته شود، حلقه اتّصال ميان آنها و پيامبر (صلى الله عليه وآله) بريده خواهد شد، زيرا كتاب الله و سنّت پيامبر (صلى الله عليه وآله) توسّط آنها به ما رسيده است. (1) ولى پاسخ اين سخن روشن است، زيرا هيچ كس همه صحابه را- خداى نكرده- نادرست و دروغگو نمىداند، چرا كه در ميان آنها افراد ثقه و مورد اعتماد فراوان بودند و همانها مىتوانند حلقه اتّصال ما با پيامبراكرم (صلى الله عليه وآله) باشند، همانگونه كه ما درباره ياران اهلبيت (عليهم السلام) مىگوييم. جالب اين كه در قرون بعد نيز همين مشكل وجود دارد، زيرا امروز ما با چندين واسطه خود را به عصر رسول خدا (صلى الله عليه وآله) مىرسانيم، ولى هيچ كس نمىگويد همه اين واسطهها ثقه و صادق القول هستند و همگى داراى قداستند و اگر غير از اين باشد، دين ما از بين مىرود. بلكه همه مىگويند بايد روايات را از افراد ثقه و عادل اخذ نمود، كتب رجال نيز براى همين مقصود يعنى شناخت ثقات از غير ثقات نگاشته شده است، حال چه مانعى دارد درباره صحابه همان گونه عمل كنيم كه در رابطه با ديگران عمل مىكنيم؟! 2- اين تصوّر كه «جرح» يعنى ايراد نقص بر بعضى از صحابه، مقام شامخ پيامبر اسلام (صلى الله عليه وآله) را پايين مىآورد، پس به اين دليل جايز نيست. بايد از كسانى كه به اين دليل تمسّك مىجويند پرسيد: آيا قرآن سختترين حملات را به منافقانى كه اطراف پيامبر را گرفته بودند نكرده است؟ آيا وجود منافقان در لابه لاى ياران صادق و خالص آن حضرت، از مقام والاى آن بزرگوار كاسته است؟ ابداً! خلاصه هميشه و در هر زمان، حتّى در عصر همه پيامبران بزرگ، خوب و بد بوده و به مقام شامخ آنها لطمه نمىزده است. (1) 3- اگر مسأله جرح و نقد اعمال صحابه پيش آيد، به موقعيّت خلفاى نخستين لطمه مىزند، بنابراين براى حفظ آنها بايد روى مسأله قداست صحابه تأكيد كرد، تا كسى نتواند مثلا كارهايى كه در زمان عثمان در مورد بيتالمال و غير آن انجام گرفت و امثال آن را زير سؤال ببرد و بر خليفه ايراد بگيرد كه چرا چنين كرد و چنان كرد! حتّى معاويه و كارهاى او مانند مخالفت با پيشواى مسلمين (على (عليه السلام)) و به راه انداختن جنگهاى خونين و كشتار مسلمانان، را مىتوان به اين وسيله توجيه كرد، و او را از دسترس نقد نقّادان دور نگه داشت. البتّه مفهوم اين سخن آن است كه اين قداست را سياستمداران قرون نخستين پايه ريزى كردند، همان گونه كه تفسير آيه «أولوا الأمر» به حاكمان هر زمان- به مفهوم وسيع كلمه- كه حتّى شامل حكّام ظالم بنىعبّاس و بنىاميّه مىشود، نيز زاييده برنامه ريزى سياسى حكّام بود، و تصوّر نمىكنم نتيجه اين سخن باب طبع طرفداران قداست تمام صحابه باشد. (1) 4- گروهى ديگر عقيده دارند، اعتقاد به قداست صحابه به خاطر دستورى است كه در بعضى از آيات قرآن و احاديث نبوى (صلى الله عليه وآله) وارد شده است. البتّه اين ظاهراً بهترين توجيه است، ولى هنگامى كه اين دليل را مورد نقد و بررسى قرار مىدهيم روشن مىشود كه در آيات و روايات مزبور چيزى كه آنها مىخواهند مطلقاً يافت نمىشود. مهمترين آيهاى كه بدان تمسّك جستهاند آيه زير است: « (وَ السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهاجِرِينَ وَ الْأَنْصارِ وَ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ وَ أَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهارُ خالِدِينَ فِيها أَبَداً ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ)؛ پيشگامان نخستين از مهاجرين و انصار و آنها كه به نيكى از آنان پيروى كردند، خداوند از آنان خشنود است و آنها (نيز) از خدا خشنودند، و باغهايى از بهشت براى آنان فراهم ساخته كه نهرها از زير درختانش جارى است، جاودانه در آن مىمانند، و اين پيروزى بزرگى است». «1» بسيارى از مفسّران اهل سنّت در ذيل اين آيه حديثى (از بعضى از صحابه، از پيامبر) نقل كردهاند كه مضمونش چنين است: «جميع أصحاب رسول الله فى الجنّة محسنهم و مسيئهم» و در آن به آيه فوق استناد شده است. «2» جالب اين كه آيه فوق مىگويد، تابعين در صورتى اهل نجاتند كه در نيكىها از صحابه پيروى كنند (نه در بدىها) و مفهومش اين مىشود كه بهشت براى صحابه تضمين شده است، آيا مفهوم اين سخن، آزاد بودن آنها در گناهان است؟! (1) آيا پيامبرى كه براى هدايت و اصلاح مردم آمده، ممكن است ياران خود را استثنا كند و گناه آنها را ناديده بگيرد، در حالى كه قرآن درباره زنان پيامبر (صلى الله عليه وآله) كه از نزديكترين صحابه بودند مىگويد: اگر گناه كنيد مجازات شما دو چندان است. «1» نكته قابل توجّه اين كه هرگونه ابهامى در اين آيه باشد، آيه 29 سوره فتح آن را برطرف مىكند، زيرا صفات ياران راستين پيامبر (صلى الله عليه وآله) را چنين شرح مىدهد: « (أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ تَراهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَ رِضْواناً سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ)؛ آنها در برابر كفّار سرسخت و شديد، و در ميان خود مهربانند، آنها را پيوسته در حال سجود و ركوع مىبينى، در حالى كه همواره فضل خدا و رضاى او را مىطلبند، آثار سجده در صورتشان نمايان است». آيا كسانى كه آتش جنگ جمل و صفّين را برافروختند و بر ضدّ امام وقت شوريدند و دهها هزار نفر از مسلمانان را به كشتن دادند، مصداق اين صفات هفت گانه بودند؟ آيا در ميان خود مهربان بودند؟ آيا شدّت عمل آنها در برابر كفّار بود يا در برابر مسلمين؟! (1) خداوند در ذيل همين آيه، جملهاى بيان فرموده كه مقصد و مقصود را روشنتر مىسازد، مىفرمايد: « (وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَ أَجْراً عَظِيماً)؛ خداوند به كسانى از آنها (ياران پيامبر) كه ايمان آورده و عمل صالح انجام دادهاند وعده آمرزش و پاداش عظيمى داده است». «1» بنابراين وعده مغفرت و اجر عظيم فقط براى كسانى است كه داراى ايمان و عمل صالح باشند و لا غير. آيا كسانى كه كشتار مسلمين را در جنگ جمل و مانند آن به راه انداختند يا بيت المال را در عهد عثمان حيف و ميل كردند، داراى عمل صالح بودند؟ جالب اين كه خداوند پيغمبران بزرگ خود را به خاطر يك ترك أولى مورد مؤاخذه قرار داد؛ آدم را به سبب يك ترك أولى از بهشت بيرون فرستاد. يونس را به دليل ترك أولى مدّتى در شكم ماهى، در ظلمات ثلاث زندانى كرد. نوح را به علّت شفاعت براى فرزند گنهكارش مورد مؤاخذه قرار داد؛ آيا باور كردنى است كه صحابه پيامبر اسلام را از اين قانون مستثنا كند. 6- آيا همه صحابه بدون استثنا عادل بودند؟ همان گونه كه گفتيم غالب برادران اهل سنّت مىگويند، همه صحابه يعنى كسانى كه در عصر پيامبر بودند يا آن حضرت را درك كردند و قسمتى از زمان را با آن حضرت بودند، بدون هيچ استثنايى داراى مقام عدالت بودند و قرآن گواه بر اين معناست. متأسّفانه اين برادران بعضى از آيات قرآن را كه به سود آنهاست پذيرفته و بقيّه آيات را به فراموشى سپردهاند. آياتى كه استثناهايى براى اين مطلب ارائه مىدهد، (مىدانيم همه عمومات معمولا استثناهايى دارد). ما عرض مىكنيم: (2) اين چه عدالتى است كه قرآن مجيد بارها خلاف آن را بيان كرده است، از جمله در آيه 155 سوره آل عمران مىخوانيم: (إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطانُ بِبَعْضِ ما كَسَبُوا وَ لَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ). آيه اشاره به كسانى است كه در روز جنگ احد پا به فرار گذاشتند و پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) را در مقابل دشمن تنها رها كردند. آيه مىگويد: «كسانى كه در روز روبهرو شدن دو جمعيّت با يكديگر (روز جنگ احد) فرار كردند، شيطان آنها را بر اثر بعضى از گناهانشان به لغزش افكند. خداوند آنها را بخشيد، خداوند آمرزنده و حليم است». از اين آيه به خوبى استفاده مىشود كه در آن روز، گروهى فرار كردند و در تواريخ عدد اين گروه بسيار زياد ذكر شده است و جالب اين كه مىگويد شيطان بر آنها غلبه كرد و غلبه شيطان هم به سبب گناهانى بود كه مرتكب شده بودند، پس گناهان پيشين باعث گناه بزرگ فرار از زحف يعنى پشت كردن به ميدان و دشمن شد، گرچه ذيل آيه مىگويد كه خداوند آنها را بخشيد، ولى بخشش پروردگار به سبب پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) مفهومش اين نيست كه آنها عادل بودند و مرتكب گناه نشدند، بلكه با صراحت قرآن مىگويد آنها مرتكب گناهان متعدّدى شدند. (1) اين چه عدالتى است كه قرآن مجيد در آيه 6 سوره حجرات بعضى را به عنوان «فاسق» معرّفى كرده است: « (يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلى ما فَعَلْتُمْ نادِمِينَ)؛ اى كسانى كه ايمان آوردهايد اگر شخص فاسقى خبرى براى شما بياورد، درباره آن تحقيق كنيد، مبادا از روى نادانى به گروهى آسيب برسانيد و از كرده خود پشيمان شويد». در ميان مفسّران، معروف است كه اين آيه مربوط به «وليد بن عُقبة» است كه پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) او را با گروهى براى جمع آورى زكات طايفه «بنى المصطلق» فرستاد، وليد برگشت و گفت اينها آماده زكات نيستند و بر ضدّ اسلام قيام كردهاند. گروهى از مسلمانان حرف وليد را باور كردند و آماده پيكار با آن طايفه سركش شدند، ولى آيه شريفه سوره حجرات نازل شد و به مسلمانان هشدار داد كه اگر يك فرد فاسق خبرى آورد، تحقيق كنيد، مبادا گروهى را به خاطر آن خبر فاسق گرفتار سازيد و ضربهاى بر آنها وارد كنيد و بعد هم پشيمان شويد. (1) اتّفاقاً بعد از تحقيق معلوم شد طايفه بنى المصطلق طايفه مؤمنى هستند و به استقبال وليد آمده بودند، نه براى قيام بر ضدّ اسلام و وليد، امّا چون وليد با آنها خصومتى داشت، همين را بهانه كرده و برگشت و آن خبر نادرست را خدمت پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) عرض كرد. وليد از صحابه پيغمبر (صلى الله عليه وآله) بود، يعنى جزء كسانى بود كه پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) را درك كرد و در خدمت پيغمبر بود. قرآن در اينجا او را فاسق مىداند، آيا با عدالت همه صحابه سازگار است؟ (2) اين چه عدالتى است كه بعضى از صحابه به هنگام تقسيم زكات به پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) اعتراض كردند. قرآن مجيد اعتراض آنها را در آيه 58 سوره توبه نقل كرده است: « (وَ مِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْها رَضُوا وَ إِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْها إِذا هُمْ يَسْخَطُونَ)؛ در ميان آنها كسانى هستند كه در تقسيم غنايم به تو خرده مىگيرند، اگر سهمى از آن به آنها داده شود، راضى مىشوند و اگر داده نشود، خشم مىگيرند». آيا اين گونه افراد عادلند؟ (1) اين چه عدالتى است كه قرآن مجيد درباره جنگ احزاب مطابق آيه 12 و 13 سوره احزاب مىفرمايد: گروهى از منافقان و بيماردلان كه در خدمت پيغمبر بودند و در آن جنگ شركت داشتند، پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) را به فريبكارى متّهم ساختند و گفتند: « (ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَ رَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً)؛ خدا و پيغمبرش جز وعدههاى دروغين به ما ندادند!»، بعضى از آنها فكر مىكردند كه در اين جنگ پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) شكست مىخورد و آنها احتمالا كشته مىشوند و اسلام پايان مىگيرد، و يا از رواياتى كه شيعه و اهل سنّت نقل كردهاند استفاده مىشود پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) به هنگام كندن خندق در داستان معروف پيدا شدن سنگ و شكستن آن سنگ به وسيله ايشان، زمانى كه وعده فتح شام و ايران و يمن را به آنها داد گروهى همه اينها را به استهزا گرفتند. آيا اينها از اصحاب نبودند؟ و از آن عجيبتر اينكه در آيه بعد مىفرمايد: «گروهى از آنها (خطاب به مردم مدينه كه در جنگ شركت داشتند) گفتند اينجا جاى توقّف شما نيست به خانههاى خود بازگرديد؛ (وَ إِذْ قالَتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ يا أَهْلَ يَثْرِبَ لا مُقامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا)». و باز گروهى خدمت پيغمبر آمده و براى فرار از ميدان احزاب عذر تراشى مىكردند كه قرآن در همين آيه مىگويد: « (وَ يَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنا عَوْرَةٌ وَ ما هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِراراً)؛ گروهى از آنان از پيغمبر اجازه بازگشت مىخواستند و مىگفتند خانههاى ما بدون حفاظ است، اجازه دهيد براى حفظ خانههايمان به مدينه بازگرديم. آنها دروغ مىگفتند، خانههاى آنها بدون حفاظ نبود، فقط مىخواستند فرار كنند». خوب، چگونه ممكن است ما همه اين اعمال را ناديده بگيريم و انتقادى را درباره آنها نپذيريم. (1) از همه اينها بدتر نسبت خيانت دادن به پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) از سوى بعضى از صحابه است كه در آيه 161 سوره آل عمران منعكس است. قرآن مىگويد: « (وَ ما كانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَ مَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِما غَلَّ يَوْمَ الْقِيامَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ وَ هُمْ لا يُظْلَمُونَ)؛ ممكن نيست هيچ پيامبرى خيانت كند و هر كس خيانت كند روز رستاخيز آن چه را در آن خيانت كرده با خود به صحنه محشر مىآورد، سپس به هر كس آن چه كسب كرده، داده مىشود و به آنها ستم نخواهد شد»، يعنى اگر مجازاتى مىبينند محصول اعمال خود آنهاست. دو شأن نزول براى اين آيه گفتهاند: بعضى گفتهاند آيه اشاره به برنامه ياران «عبدالله بن جبير» است كه در جنگ احد در سنگر كوه «عينين» بودند و هنگامى كه سپاه اسلام در آغاز جنگ بر دشمن پيروز شد، تيراندازانى كه همراه عبدالله بودند، با اين كه پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) فرموده بود از آنجا تكان نخوريد سنگر خود را رها كرده و براى جمعآورى غنايم حركت كردند و بدتر از اين عمل، گفتار آنها بود كه مىگفتند مىترسيم پيغمبر در تقسيم غنايم رعايت حال ما را نكند (تعبير به جملهاى كردند كه قلم از ذكر آن شرم دارد). (1) شأن نزول ديگرى كه «ابنكثير» و «طبرى» ذيل همين آيه در تفسير خود آوردهاند، اين است كه: پارچه سرخ رنگ گرانبهايى بعد از پيروزى در جنگ بدر گم شد. بعضى از نابخردان پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) را به خيانت متّهم كردند و چيزى نگذشت پيدا شد و معلوم شد يكى از افراد لشكر آن را برداشته بود. آيا همه اين نسبتهاى ناروا به پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) با عدالت مىسازد؟ اگر وجدان خود را قاضى كنيم، آيا مىپذيريم كه اينگونه اشخاص عادل بودند و پاك و پاكيزه، و هيچ كس حق ندارد نقدى به كارهاى آنها بكند؟ انكار نمىكنيم كه اكثر اصحاب و ياران پيامبر (صلى الله عليه وآله) افراد وارسته و پاكى بودند، ولى اينكه ما يك حكم كلّى كنيم و همه را با آب تقوا و عدالت شستشو دهيم و حقّ هرگونه انتقاد را نسبت به اعمال آنها از همه كس بگيريم، واقعاً بسيار حيرتانگيز است. (2) اين چه عدالتى است كه يكى از افرادى كه ظاهراً جزء صحابه پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) است، (منظورمان معاويه است) به خود اجازه مىدهد به صحابه والا مقامى همچو على (عليه السلام)، سالها سبّ و لعن كند و به همه مردم شهرها بدون استثنا دستور دهد، اين برنامه را اجرا كنند. به دو حديث زير توجّه كنيد: (1) 1- در صحيح مسلم كه از معتبرترين كتب اهل سنّت است مىخوانيم: «معاويه» به «سعد بن ابيوقاص» گفت: چرا از سبّ و لعن ابوتراب (على بن ابىطالب (عليه السلام)) خوددارى مىكنى؟ گفت: من از پيامبر سه فضيلت مهم درباره او شنيدم كه اگر يكى از آنها را من داشته باشم از ثروتهاى عظيم دنيا براى من مهمتر است و به اين دليل به خود اجازه نمىدهم آن حضرت را سب كنم. «1» (2) 2- در كتاب «العقد الفريد» نوشته يكى از دانشمندان اهل سنّت (ابن عبد ربّه اندلسى) چنين مىخوانيم: هنگامى كه حسن بن على (عليه السلام) ديده از جهان بربست، معاويه به زيارت خانه خدا آمد و وارد مدينه شد. تصميم داشت على (عليه السلام) را بر منبر رسول الله (صلى الله عليه وآله) سبّ و لعن كند! به معاويه گفتند: «سعد بن ابيوقاص» در مسجد حضور دارد و ما فكر نمىكنيم اين كار تو را تحمّل كند، ممكن است عكسالعمل شديدى از خود نشان دهد، كسى را بفرست و رأى او را جويا شو. معاويه كسى را نزد سعد فرستاد و مطلب را به او گفت، سعد در جواب گفت: اگر چنين كارى كنى، من از مسجد پيغمبر بيرون مىرومو ديگر هرگز به مسجد رسول الله (صلى الله عليه وآله) نخواهم آمد. (1) معاويه بعد از شنيدن اين پيام و عكسالعمل، از لعن على (عليه السلام) خوددارى كرد، تا زمانى كه سعد از دنيا رفت. بعد از وفات سعد معاويه بر منبر، على (عليه السلام) را سبّ و لعن كرد و به تمام عمّال و فرماندارانش نوشت كه آن حضرت را در منابر سبّ و لعن كنند؛ آنها هم چنين كردند. اين مطلب به گوش «امّ سلمه» همسر پيغمبر (صلى الله عليه وآله) رسيد. نامهاى به معاويه نوشت كه شما خدا و پيامبر را در منابر سب مىكنيد! مگر شما نمىگوييد لعن بر علىبنابىطالب و من أحبّه؛ يعنى هر كسى على را دوست دارد، من گواهى مىدهم كه خدا على را دوست مىدارد، رسول خدا على را دوست مىدارد، پس در واقع لعن خدا و پيغمبر (صلى الله عليه وآله) مىكنيد. معاويه نامه امّ سلمه را خواند ولى اعتنايى به سخنان او نكرد. «1» آيا اين اعمال زشت با عدالت سازگار است؟ هيچ انسان عاقل يا عادلى به خود چنين اجازهاى مىدهد كه چنين شخصيّت والا مقامى را، آن هم به آن صورت وحشتناك و گسترده سبّ و لعن كند. شاعر عرب مىگويد: اعلى المنابر تعلنون بسبّه و بسيفه نصبت لكم أعوادها؟! «آيا بر فراز منبرها سبّ و لعن آن حضرت مىكنيد، در حالى كه به بركت شمشير او اين منابر برپا شد!». 7- اصناف ياران پيامبر (صلى الله عليه وآله) صحابه رسول خدا را- به گواهى آيات قرآن مجيد- مىتوان به پنج گروه عمده تقسيم كرد: (2) 1- پاكان و صالحان: آنها گروههاى مؤمن و با اخلاص بودند كه ايمان، در عمق جانشان نفوذ كرده بود و از هيچ گونه ايثار و فداكارى در راه خدا و اعتلاى كلمه اسلام كوتاهى نمىكردند. همان گروهى كه در آيه 100 سوره توبه به آنها اشاره شده است. هم خدا از آنها راضى بود و هم آنها از الطاف پروردگار راضى بودند، (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ). (3) 2- مؤمنان خطاكار: همان گروهى كه در عين ايمان و عمل صالح، گاهى لغزشهايى داشتند و اعمال صالح و ناصالح را به هم آميختند كه به گناه خود معترف بودند و اميد عفو و بخشش درباره آنها مىرود، و در آيه 102 سوره توبه به دنبال گروه اوّل به آنها اشاره شده است: (وَ آخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَ آخَرَ سَيِّئاً عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ). (4) 3- افراد آلوده به گناه: كه قرآن نام فاسق بر آنها نهاده و فرموده اگر فاسقى خبرى براى شما آورد، بدون تحقيق نپذيريد كه در سوره حجرات آيه 6 به آنها اشاره شده است: (يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا)، كه مصداق آن در تفاسير شيعه و اهل سنّت ذكر شده است. (1) 4- مسلمانان ظاهرى: آنها كه ادّعاى اسلام داشتند ولى ايمان در اعماق قلبشان نفوذ نكرده بود، كه در آيه 14 سوره حجرات به آنها اشاره شده است: (قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَ لكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمانُ فِي قُلُوبِكُمْ). (2) 5- منافقان: افرادى كه با روح نفاق در لابهلاى مسلمانان، گاهى به صورت شناخته شده، و گاه ناشناخته به سر مىبردند و از كارشكنى در امر اسلام و پيشرفت مسلمين ابا نداشتند كه در همان سوره توبه به دنبال اشاره به گروه مؤمنان صالح، كه در آيه 101 به آنها اشاره شده است: (وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرابِ مُنافِقُونَ وَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ). بىشك همه اينها پيامبر (صلى الله عليه وآله) را ديده بودند و با او مصاحبت و معاشرت داشتند و بسيارى از آنها در غزوات شركت داشتند و هر تعريفى براى صحابه كنيم بر همه اين گروههاى پنجگانه تطبيق مىشود، آيا مىتوان همه را اهل بهشت و پاك دانست؟ آيا با صراحت آيات قرآنى، جاى اين نيست كه راه اعتدال را در پيش گيريم و صحابه را به گروههاى پنجگانه قرآنى تقسيم كنيم، به نيكان و پاكان آنها نهايت احترام را بگذاريم و هر يك از گروههاى ديگر را در جايگاه شايسته آنها بنشانيم، و از غلوّ و افراط و تعصّب بپرهيزيم؟ (از روى انصاف داورى كنيد). 8- شهادت تاريخ اعتقاد به قداست عموم صحابه مشكلات زيادى براى طرفداران اين عقيده به وجود آورده، كه از آن جمله مشكلات عظيم تاريخى است، زيرا در تواريخ معروف و مورد اعتماد آنها، حتّى در احاديث كتب صحاح، درگيرىهاى شديدى ميان بعضى از صحابه مىبينيم كه نمىتوانيم هر دو طرف را صالح و عادل و مقدّس بشمريم، چون از قبيل جمع در ميان ضدّين است، و عدم امكان اجتماع ضدّين از بديهيّات عقليّه است. گذشته از جنگهاى «جمل» و «صفّين» كه به وسيله «طلحه» و «زبير» و «معاويه» در برابر امام مسلمين على (عليه السلام) به راه افتاد و اگر چشم را به روى حقايق نبنديم، ناچاريم اعتراف به خطاها و جنايات آتشافروزان جنگ كنيم، شواهد زيادى در تاريخ براى اين امر داريم كه در اين مختصر تنها به سه نمونه آن قناعت مىكنيم: (2) 1- بخارى، محدّث معروف در صحيح خود در كتاب التفسير درباره مسأله افك (تهمتى كه به همسر پيامبر زدند) مىنويسد: روزى پيامبر (صلى الله عليه وآله) بر منبر بود، صدا زد: اى مسلمانان، چه كسى اين مرد را مجازات مىكند (منظور عبدالله بن سلول يكى از سران منافقان است) براى من نقل كردهاند كه به همسر من نسبت بد داده است، در حالى كه من از همسرم خلافى نديدهام ... سعد بن معاذ انصارى (صحابى معروف) برخاست و عرض كرد: من او را مجازات مىكنم، اگر از طايفه «اوس» باشد، او را گردن مىزنم و اگر از طايفه خزرج باشد، هر امرى بفرماييد انجام خواهيم داد. سعد بن عباده بزرگ طايفه خزرج كه پيش از آن مرد صالحى بود، به سبب تعصّب قبيلهاى به سعد بن معاذ گفت: به خدا دروغ گفتى، تو هرگز قدرت بر اين كار را ندارى، اسيد بن حضير (پسر عموى سعد بن معاذ) گفت: به خدا تو دروغ مىگويى، او از منافقان است و ما او را به قتل مىرسانيم، نزديك بود طايفه اوس و خزرج به هم بريزند كه رسول الله (صلى الله عليه وآله) آنها را خاموش كرد. «1» آيا همه اين چند نفر، صحابى صالح بودند؟ (1) 2- دانشمند معروف بلاذرى در «الأنساب» مىگويد: سعد بن ابى وقاص والى كوفه بود، عثمان او را عزل كرد و «وليد بن عقبه» را به جاى او قرار داد و عبدالله بن مسعود در آن زمان خزانهدار بيت المال بود. هنگامى كه وليد وارد كوفه شد، كليدهاى بيت المال را از عبدالله بن مسعود خواست، عبدالله كليدها را نزد او انداخت و گفت: خليفه سنّت (پيامبر) را تغيير داده است، آيا شخصى مثل سعد بن ابى وقاص را عزل مىكند و مثل وليد را جانشين او مىكند؟ وليد به عثمان نوشت، عبدالله بن مسعود از تو انتقاد مىكند، دستور داد او را تحت الحفظ نزد او بفرستند. هنگامى كه وارد مدينه شد خليفه بر منبر بود، چشمش به عبدالله بن مسعود افتاد و گفت: جنبنده بدى وارد شد! (و سخنان ديگرى كه عفّت قلم اجازه نقل آن را نمىدهد). عبدالله بن مسعود گفت: من چنين نيستم، من از ياران پيامبر (صلى الله عليه وآله) در جنگ بدر و روز بيعت رضوان هستم، عايشه به حمايت از عبدالله برخاست، ولى غلام عثمان به نام «يحموم» او را از مسجد بيرون برد و بر زمين زد و دنده او را شكست. «1» (1) 3- بلاذرى در همان كتاب أنساب الأشراف نقل مىكند كه در بيت المال مدينه جواهرات و زينت آلاتى بود، عثمان تعدادى از آن را در اختيار بعضى از خانوادهاش قرار داد، مردم ديدند و آشكارا بر او ايراد گرفتند و تعبيرات شديدى با او داشتند. عثمان خشمگين شد و بر منبر رفت و ضمن خطبهاى گفت: ما از غنايم آنچه مورد نيازمان باشد بر مىگيريم!، هر چند بينى افرادى به خاك ماليده شود!! على (عليه السلام) به او فرمود: «مسلمانان جلو تو را خواهند گرفت»! عمّار ياسر گفت: اوّلين كسى كه بينى او به خاك ماليده مىشود منم! (اشاره به اين كه من دست از انتقاد بر نمىدارم).عثمان خشمگين شد و گفت: تو نسبت به من جسارت مىكنى، او را بگيريد. او را گرفتند و به خانه عثمان آوردند. آن قدر او را زد كه بيهوش شد، بعد او را به خانه امّسلمه (همسر پيامبر) آوردند، او همچنان بيهوش بود كه نماز ظهر و عصر و مغرب او از دست رفت، هنگامى كه به هوش آمد، وضو گرفت و نماز خواند و گفت: اين نخستين بار نيست كه ما به خاطر خدا مورد ايذا و آزار واقع مىشويم. «1» (اشاره به داستانهايى است كه در عصر جاهليّت با كفّار داشت). (1) ما هرگز مايل نيستيم اينگونه حوادث ناگوار تاريخ اسلام را نقل كنيم، (ترسم آزرده شوى ورنه سخن بسيار است!) و اگر اصرار برادران در تقديس همه صحابه و همه كارهاى آنها نبود، شايد نقل اين مقدار هم مصلحت نبود. حال، سؤال اين است كه آيا فحّاشى و اذيّت و آزار جسمانى درباره سه نفر از پاكترين صحابه (سعد بن معاذ و عبدالله بن مسعود و عمّار ياسر) قابل توجيه است، آن قدر يك صحابى بزرگ را بزنند كه دندهاش بشكند، و ديگرى را بزنند تا بيهوش شود و نماز او از دست برود؟ آيا اين شواهد تاريخى كه نمونههاى آن كم نيست، به ما اجازه مىدهد كه چشم بر حقايق ببنديم و بگوييم همه صحابه خوب بودند و تمام اعمالشان صحيح بود، و سپاهى به نام «سپاه صحابه» تشكيل دهيم و از تمام كارهاى آنها بى قيد و شرط دفاع كنيم؟ آيا هيچ خردمندى چنين افكارى را مىپسندد؟ اينجاست كه بار ديگر اين سخن را براى چندمين بار تكرار مىكنيم كه در ميان صحابه رسول الله (صلى الله عليه وآله) افراد مؤمن و صالح و پارسا فراوان بودند، ولى افرادى هم بودند كه بايد اعمال آنها را مورد نقد و بررسى قرار داد و با ترازوى عقل سنجيد و درباره آنها حكم كرد. 9- اجراىحدّ بر بعضى از صحابه در عصر پيامبر (صلى الله عليه وآله) يا بعد از آن! در كتب صحاح يا ديگر كتب معروف برادران اهل سنّت مواردى ديده مىشود كه بعضى از صحابه در عهد رسول خدا (صلى الله عليه وآله) يا بعد از آن مرتكب گناهانى شدند كه مستوجب حد شد و حد را بر آنها اجرا كردند. آيا باز هم مىگوييد همه آنها عادل بودند؟ و هيچ خطايى از آنها سر نمىزند؟ اين چه عدالتى است كه اگر مرتكب كبيرهاى شوند كه حدّ شرعى دارد و حدّ بر آنها اجرا شود، باز هم عدالت بر سر جاى خود محكم ايستاده است؟ به چند مورد به عنوان نمونه ذيلا اشاره مىكنيم: الف) نعيمان صحابى شرب خمر كرد و پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) دستور داد او را با نعال زدند. «1» (1) ب) مردى از طايفه بنىاسلم زناى محصنه كرده بود، پيامبر (صلى الله عليه وآله) دستور داد او را رجم كردند. «1» ج) در داستان افك پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) دستور داد چند نفر را حدّ قذف زدند. «2» د) بعد از پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) عبدالرحمان بن «عمر» و عقبة بن حارث بدرى شرب خمر كردند و عمروبن عاص امير مصر حدّ شرعى بر آنها اجرا كرد. سپس عمر فرزندش را احضار كرد و بار ديگر حدّ بر او جارى ساخت. «3» ه-) داستان وليد بن عقبه معروف است كه شرب خمر كرد و نماز صبح را در حال مستى چهار ركعت خواند، به مدينه احضار شد و حدّ شرب خمر بر او اجرا شد. «4» و موارد ديگرى كه مصلحت ايجاب مىكند از ذكر آنها خوددارى كنيم. آيا باز هم چشم و گوش خود را بر واقعيات ببنيديم و بگوييم همه عادل بودند؟! 10- توجيهات غير وجيه! 1- طرفداران نظريّه تنزيه و قداست مطلق، هنگامى كه در برابر انبوه تضادها قرار مىگيرند، خود را با اين توجيه قانع مىكنند كه صحابه همه «مجتهد» بودند، و هر كس مطابق اجتهاد خود عمل مىكرد. (1) به يقين اين يك نوع فريب وجدان است كه اين برادران در برابر چنان تضادهاى آشكارى به آن متوسّل مىشوند. آيا زدن يك صحابى مؤمن به خاطر يك انتقاد «نازكتر از گل» و يك امر به معروف و نهى از منكر ساده، نسبت به حيف و ميل بيت المال تا آنجا كه بيهوش شود و نمازش از دست رود، اجتهاد است؟ آيا شكستن دنده يك صحابى معروف ديگر به خاطر اعتراض به نصب يك مرد شرابخوار (وليد) به عنوان فرماندار كوفه، نوعى اجتهاد محسوب مىشود؟ و از آنها مهمتر، افروختن آتش جنگ هايى كه دهها هزار نفر از مسلمين را به كشتن داد، آن هم به خاطر جاهطلبى و سيطره بر حكومت اسلامى، و در مقابل امام مسلمين كه علاوه بر مقامات الهى، از سوى قاطبه مردم برگزيده شده بود، اجتهاد است؟ اگر اينها- و مانند آن- از شعب و شاخههاى اجتهاد است، تمام جنايات را در طول تاريخ مىتوان با آن توجيه كرد. اضافه بر اين، آيا اجتهاد منحصر به صحابه بود يا لااقل در چند قرن بعد نيز مجتهدان در امّت اسلامى فراوان بودند و به اعتراف گروهى از انديشمندان اهل سنّت و تمام علماى شيعه، امروز هم باب اجتهاد به روى همه علماى آگاه باز است؟ آيا اگر كسانى مرتكب چنين اعمالى شوند، حاضر هستيد اعمال آنها را توجيه كنيد؟! به يقين، نه. (1) 2- گاه مىگويند ما وظيفه داريم درباره آنها سكوت كنيم، « (تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَها ما كَسَبَتْ وَ لَكُمْ ما كَسَبْتُمْ وَ لا تُسْئَلُونَ عَمَّا كانُوا يَعْمَلُونَ)*؛ آنها امّتى هستند كه درگذشتند، اعمال آنها براى خودشان است و اعمال شما هم براى خودتان و شما مسئول اعمال آنها نيستيد». «1» ولى سؤال اينجاست، اگر آنها در سرنوشت ما تأثيرى نداشتند، اين سخن خوب بود، ولى ما مىخواهيم روايات پيامبر را به وسيله آنها دريافت داريم و آنها را الگوى خود قرار دهيم، آيا نبايد ثقه را از غير ثقه و عادل را از فاسق بشناسيم تا به مضمون آيه شريفه « (إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا)؛ هر گاه شخص فاسقى خبرى براى شما بياورد بدون تحقيق نپذيريد» «2»، عمل كنيم. 11- مظلوميت على (عليه السلام) هر كس تاريخ اسلام را مطالعه كند، به اين نكته پى مىبرد كه با نهايت تأسف على (عليه السلام) كوه علم و تقوا نزديكترين افراد به پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) و بزرگترين مدافع اسلام چنان مورد هتك و سبّ و ناسزا قرار گرفت و چنان دوستانش تحت فشار و بدترين اذيت و آزار واقع شدند كه در تاريخ بىسابقه است آن هم از سوى كسانى كه خود را صحابه پيامبر (صلى الله عليه وآله) مىناميدند. به عنوان نمونه: (1) الف) على بن جهم خراسانى را ديدند كه پدر خودش را لعن مىكند، گفتند: چرا؟ گفت: براى اين كه نام مرا «على» گذارده است! «1» ب) معاويه در بخشنامهاى به تمام كارگزارانش نوشت: هر كس چيزى از فضايل ابوتراب (على (عليه السلام)) و اهلبيتش را نقل كند از امان ما خارج است (جان و مال او مباح است) و به دنبال اين بخشنامه خطبا در تمام نقاط بر منابر به صورت علنى سبّ على (عليه السلام) مىكردند و از او بيزارى مىجستند و نسبتهاى ناروا به او و خاندانش مىدادند. «2» ج) بنى اميّه هر گاه مىشنيدند نام نوزادى را على گذاشتهاند، فوراً او را به قتل مىرساندند، اين سخن را سلمة بن شبيب از ابوعبدالرحمان عقرى نقل مىكند. «3» د) زمخشرى و سيوطى نقل كردهاند كه در ايّام بنىاميّه بر فراز بيش از هفتاد هزار منبر، سبِّ على (عليه السلام) مىكردند و اين سنّتى بود كه معاويه گذارده بود. «1» (1) ه-) هنگامى كه عمربن عبدالعزيز دستور داد اين بدعت زشت را ترك كنند و در خطبههاى نماز جمعه به اميرمؤمنان على (عليه السلام) بدگويى نكنند و ناسزا نگويند ضجّه و فرياد از اهل مسجد برخاست و به عمربن عبدالعزيز گفتند: «تركت السنة تركت السنّة؛ سنّت را ترك كردى، سنّت را ترك كردى!». «2» اينها همه در صورتى است كه پيغمبر اكرم (صلى الله عليه وآله) طبق روايت صحيح در كتب معتبر آنها فرموده است: «من سبّ علياً فقد سبّنى و من سبّنى فقد سبّ الله؛ هر كس على را سبّ كند (و دشنام دهد) مرا سب كرده و هر كس مرا سب كند، خدا را سب كرده است!!». «3» 12- يك داستان شنيدنى بد نيست براى حُسن ختام، داستانى را كه براى خود ما در مسجدالحرام اتّفاق افتاد، براى خوانندگان عزيز در اينجا بياوريم و اين بحث را پايان دهيم: در يكى از سفرهاى عمره، شبى در مسجد الحرام در ميان نماز مغرب و عشا كه فرصتى براى بحث بود با جمعى از علماى حجاز بحثى درباره قداست عموم صحابه داشتيم، آنها طبق معمول معتقد بودند نبايد كمترين انتقادى از آنها كرد، و به اصطلاح نازكتر از گل هم نبايد گفت. (1) به يكى از آنها گفتيم فرض كنيد الآن ميدان جنگ صفّين برپا شده، شما به كداميك از اين دو صف ملحق مىشويد، صف على (عليه السلام) يا صف معاويه؟ گفت: مسلّماً به صف على (عليه السلام). گفتم: اگر على (عليه السلام) به تو بگويد: اين شمشير را بگير و معاويه را به قتل برسان، چه مىكنى؟ فكرى كرد و گفت معاويه را مىكشم ولى كمترين انتقادى از او نمىكنم!! آرى اين است نتيجه اصرار بر عقايد غير منطقى كه دفاع از آن هم غير منطقى خواهد بود و انسان را گرفتار سنگلاخها مىكند. حق اين است كه بگوييم به شهادت قرآن مجيد و تاريخ اسلام، صحابه و ياران پيامبر (صلى الله عليه وآله) از يك نظر چند گروه بودند: گروهى از صحابه و ياران پيامبر (صلى الله عليه وآله) بودند كه از آغاز پاك و صادق و صالح بودند و تا آخر نيز چنين زيستند، عاشوا، سعداء و ماتوا السعداء. گروهى ديگر در عصر آن حضرت در صف صالحان و پاكان بودند ولى بعداً به خاطر جاهطلبى و حبّ دنيا، مسير خود را عوض كردند و عاقبت كار آنها خير و سعادت نبود (مانند آتش افروزان جنگهاى جمل و صفّين). (1) و گروه سوّم از آغاز در صف منافقان و دنياپرستان بودند و براى مقاصد خاصّى خود را در صف مسلمين جاى داده بودند، مانند ابوسفيانها. و در اينجا به گروه اوّل اشاره مىكنيم و مىگوييم: (رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا وَ لِإِخْوانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونا بِالْإِيمانِ وَ لا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنا إِنَّكَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ). «1»
مقدمه از آنجا که ولایت علی (ع) براساس حکم عقل و شرع به ویژه پس از رحلت حضرت پیامبر (ص) امری ضروری است. و صرف نظر از آن ممکن نیست، و باید این مسئله را دنبال کرد و درباره آن تحقیق جستجو، کاوش، سعی و تلاش کرد. لذا نگارنده درصدد آن است که با استناد به آیه تبلیغ و با استفاده از تفاسیر فریقین (شیعه و سنی) به بررسی ابعاد و زوایای گوناگون ولایت بلافصل آن حضرت پس از رحلت رسول گرامی اسلام و مسئله را دنبال کند همچنان که در مقاله قبلی بنده به عنوان ولایت چیست ررسی لغوی واصطلاحی نیز اقسام و کارد ولایت بحس شده ذا از تکرار مباحس پرهیز می کنیم آیه مورد نظر طبق روایات وارده که مفسرین سیعه به ان اجماع کرده اند و د دیگران هم آورده اند و در مقاله به ان اشاره شده و منابع هم ذکر شده است ان اینکه این آیه در غدیر خم بر پیامبر اکرم(ع) وارد شد و واقه غدیر به دنبال آن رخ داد که حدیث غدیر از مشهور معروف ترین متواتر های حدیثی بین فرقین است که بی بدیل است و واقه غدیر را نتوانسته اند انکار کنند و به معنای ولایت سعی رخنه اندازی ناکام نموده اند و در این میان هرکسی که عقل سلیم و اندکی داشته باشد و عینک تعصب را کنار بگذارد نمی تواند از واقه غدیر بی تفاوت رد شود و توجیه بد تر از گناه را مرتکب بشود البته بنده انچه را به عهده گرفتم تطبیق آیه است از منظر مفسرین طرفین است که شعی کردم با حد توانم با امانت داری کامل انجام دهم پیش داوری نداشته باشم و نتیجه را به عهده خوانندگان واگذار کنم. ما توفیقی الا بالله العلی العظیم. محمد عسکری ممتاز بررسی آیه تبلیغ قرآن مجید در آیات متعددی موضوع ولایت را مطرح کرده است و از آیات روایات چنین برمیآید که همه انواع ولایت، اعم از تکوینی و تشریعی، به ذات اقدس پروردگار اختصاص دارد. چنانکه خداوند میفرماید (ام اتخذوا من دونه اولیاء فالله هوالولی)[1] مفاد آیۀ مذکور این است که ولایت از آن خداوند میباشد از آیات و روایاتی استفاده میشود که خداوند ولایت را برای پیامبر اکرم (ص) و ائمه معصومین (ع) به اثبات رسانده است. بنابراین پیامبران و امامان معصوم (ع) هم ولایت دارند و این ولایت آنها با اذن خداوند متعال میباشد چنانکه میفرماید (انّما ولیکم الله و رسوله والّذین آمنوالّذین یقیمون الصلاۀ و یؤتون الزکواۀ و هم راکعون)[2] در این آیه خدای متعال ولایت را بعد از اثبات برای خود و رسولش برای مومنانی که اقامه نماز میکنند و در حالت رکوع زکات میدهند نیز اثبات میکند که از روایات و شواهد تاریخی غیر از حضرت علی (ع) به هیچ کس اطلاق نمیشود. آیات دیگر و در رأس آیات این آیه شریفه ولایت که ولایت علی (ع) سلام را با تأیید روایات طرفین اثبات میکند که در مقاله ای تحقیق تحت عنوان بررسی تطبیقی آیه ولایت از نظر فریقین مورد بررسی قرار گرفته است و در این مقاله همان روش را سعی کردم در یکی از دیگر آیات بعد از ایه ولایت در اثبات ولایت امیرالمومنین علی (ع) برتری و صراحت دارد را اجرا کنم و در این راستا ولایت را دنبال کنم بنابر اینکه با توجه به روایات منابع فریقین و قرائن و شواهد موجود در خود آیه تبلیغ که در رأس آیات ولایت قرار دارد را باز گو و بررسی کنیم. آرای مفسران شیعی در ذیل آیه تبلیغ طبرسی از مفسران بزرگ شیعه در شأن نزول آیه ابلاغ مینویسد. و از ابن عباس آوردهاند: گروهی یهودیان نزد پیامبر گرامی آمدند و گفتند: ای پیامبر خدا! آیا نمیپذیری که (تورات) از سوی خدا بر موسی فرود آمده است؟ پیامبر پاسخ داد: چرا به این حقیقت گواهی میدهم. آنان گفتند: پس ما به (تورات) ایمان میآوریم و هیچ کتاب آسمانی دیگری را نمیپذیریم و اینجا بود که این آیه شریفه در هشدار از دجاّلگری آنان فرود آمد که: قل یا اهل الکتاب لستم علی شی[3] و او در تفسیر این آیه شریفه که در باره امامت و ولایت امیرمؤمنان میداند میگویند: در این آیه درباره که آفریدگار جهان پیامبر خدا را به رسانیدن پیام فرمان میدهد و به او وعده میدهد که آن حضرت را از شرارت دشمنان مصون و محفوظ نگهدارد. یا ایّها الرّسول بلّغ ما انزل الیک من ربّک و إن لم تفعل فما بلّغت رسالته[4] در تفسیر این آیه شریفه مفسران بسیاری بحث و گفتگو نمودهاند که به پرتوی از روایات در این مورد مینگریم: 1- (حسن) میگوید: خدا پیامبر خود را به رسانیدن پیام انسان ساز و بسیار بزرگی فرمان داده بود که خویشن را در برابر آن ناتوان میدید و از شرارت دشمن و مخالفت قریش بیمناک بود؛ از این رو آفریدگار هستی او را با فرود این آیه به شهامت و شجاعت و پایمردی در رساندن پیامبر فرا خواند و بیم حراس را از آن کران تا کران از جود او زدود. 2- (عائشه) در این مورد میگوید: این آیه شریفه، این پندار را که پیامبر گرامی به خاطر (تقیه) بخشی از وحی را پوشیده میدارد، برطرف میسازد. 3- (عیاشی) در تفسیر خویش در روایات رسیده از «ابن عباس» و «جابربن عبدالله» را آورده است که: خدا به پیامبر خود فرمان داد که علی (ع) را به جانشینی خویش برگزیند اما آنحضرت نگران این مطلب بود که مبادا بداندیشان به او خرده گیرند که عموزاده خویش را از سوی خود بر این کار برگزیده است. به همین دلیل این آیه شریفه فرود آمد و به آن حضرت تأکید فرمود که در این امر درنگ نکند که خدا نگهدار اوست و او را از شر بداندیشان حفظ میکند و آن حضرت نیز «علی (ع)» را در روز «غدیر» به امامت و پیشوائی مردم با ایمان معرّفی کرد. 4- «حاکم حسکانی» در کتاب خویش ضمن بیان روایات فوق با چند واسطه از «ابن عباس» نیز آورده است که: این آیه شریفه در مورد علی (ع) فرود آمد؛ به همین دلیل پیامبر (ص) آن حضرت را در بر گرفت و فرمود: «من کنت مولاه فعلیّ مولاه اللهم و ال من والاه و عاد من عاداه»[5] هرکس من پیشوای او هستم علی (ع) امام و پیشوای او است. بار خدایا، هرکس علی (ع) را دوست داشت تو نیز او را دوست داشته باش و هرکس با او دشمنی ورزید تو هم با او دشمنی کن. 5- روایات از صادقین(ع) در انبوهی از روایات مشهوری که از دو امام راستین باقر و صادق علیهما السلام رسیده این گونه آمده است که: خدا به پیامبرش وحی فرستاد که علی (ع) را پیشوای مردم و جانشین خود برگزیند، امّا آن حضرت نگران این بود که این کار بر گروهی گران آید، اینجا بود که خدا با فرو فرستادن این آیه شریفه، به پیامبرش اطمینان یاری داد و او را به این کار آرامش خاطر بخشید و منظور از آیه این است که ای پیامبر اگر از رساندن آنچه که خدا به تو فرستاده است خودداری ورزی، چنان است گویی هیچ یک از پیامهای خدا را نرساندهای و وظائف خود عمل نکردهاید و در خور کیفر خواهی بود. «ابن عباس» میگوید: منظور این است که اگر یکی از آیات را پوشیده داری، به مردم نرسانی، رسالت خود را به انجام نرساندهای و خدا را فرمان برداری نکردهای.[6] علامه طباطبائی بعد بحث مفصّل در سیاق قبلی بعد از آیه و خود آیه میگوید: از اینجا و از همۀ آنچه تاکنون گفته شد به خوبی استفاده میشود که در ایه شریفه رسول الله (ص) مأمور به تبلیغ حکمی شده بود که تبلیغ و اجرای آن مردم به این شبهه دچار میکردند که نکند رسول الله (ص) این حرف را به نفع خود میزند؛ چون جای چنین توهّمی بوده که رسول الله (ص) از آن اندیشناک بود از همین جهت بود که خداوند امر تأکید فرمود که بدون هیچ ترسی آنرا تبلیغ کند، او را وعده که اگر مخالفین، در صدد مخالفت برآیند آنها را هدایت نکند، و این مطلب روایتی را که هم از طرق عامه و هم از طرق امامیه وارد شده است تأکید میکند، چون مضمون آن روایت این است که آیه شریفه دربارۀ ولایت حضرت علی (ع) نازل شده، و خداوند رسول الله را مأمور به تبلیغ آن نموده و اینجانب از بین عمل بینی کربوده که مبادا مردم خیل کنند و مرا از پیش خود پسر عم خود را جانشین خود قرار داده است. و به همین ملاحظه انجام آن شبه انتظار موقع مناسب تأخیر انداخت تا اینکه آیه نازل شد ناچار در غدیرخم آن را عملی کرد و در انجا فرمود من کنت مولاه فهذا علی مولاه[7] امّا «ولایت» باید دانست همانطوری که در زمان رسول الله (ص) امور امت و رتق و فتق آن به دست آن جانب اداره میشد به طور مسلم و بدون هیچ ابهامی پس از درگذشت وی نیز شخصی صلاح است که این امر مهم را عهدهدار باشد. و قطعاً هیچ عاقلی به خود اجازه نمیدهد که توهم کند دینی چنین وسیع و عالم گیر دینی که از طرف خدا امر جهان جهانی و ابدی اعلام و معرّفی شده است، دینی که وسعت معارفش جمیع مسائل اعتقادی و همۀ اصول اخلاقی و احکام فرعی را که تمام قوانین مربوط به حرکات و سکنات فردی و اجتهادی انسان را متضمن است برخلاف سایر قوانین و استثنا احتیاج به حافظ و کسی که آن طور که شاید و باید آنرا نگهداری کند ندارد و یا توهم کند که مجتمع اسلامی استثنا و برخلاف همۀ مجتمعات انسانی بینیاز از حاکم و والی است که امور آن را اداره نماید. کیست که چنین توهمی بکند؟! و اگر کرد جواب کسی را که از سیره رسول الله (ص) بپرسد چه میگوید؟! زیرا رسول الله (ص) سیرهاش این بود او به مجْرد اینکه از شهر بیرون میرفتند کسی را به جانشینی خود در علانیه قرار میداد. کما اینکه حضرت علی (ع) در جنگ تبوک جانشین خود در مدینه قرار دادند؛ علی (ع) هم که عشق مفرطی به شهادت در راه خدا داشت عرض کرد آیا مرا جانشین و خلیفه خود در مدینه قرار میدهید؟ با اینکه در شهر جز زنان و کودکان کسی باقی نمانده؟! پیامبر (ص) فرمود: آیا راضی نیستی که نسبت تو به من نسبت هارون باشد به موسی. با این تفاوت که بعد از موسی (ع) پیغمبرانی آمدند و پس از من پیغمبری نخواهد آمد! علّامه در ذیل این آیت در بحث مدارکی میفرمایند: در تفسیر عیاشی از ابن صالح، ابن عباس و جابربن عبدالله روایت شده که گفتهاند: خدای تعالی نبی خود محمد (ص) را مأمور کرد که علی (ع) رابه عنوان علمیت دردین مبین نصب کرده ومردم رابه ولایت وی آگاهی دهند، وازهمین جهت رسول الله(ص)ترسید مردم بگویند: در بین همه مسلمانان علی (ع) را نامزد این منصب کرد است لذا خدای تعالی این آیه را فرو فرستاد: (یا ایها الرسول...) ناگزیر (رسول الله (ص)) در روز غدیرخم ولایت علی (ع) را اعلام نمود.[8] آیت الله مکارم شیرازی در ذیل تفسیر آیه شریفه میفرماید: این آیه لحن خاصّی به خود گرفته که آنرا از ایات قبل و بعد، مشخص میسازد، در این ایه دوری سخن، فقط به پیامبر است و تنها وظیفه او را بیان میکند، با خطاب به پیامبر (یا ایّها الرسول) شروع شده و با صراحت و تأکید دستور میدهد. که آنچه را از طرف پروردگار بر او نازل شده است به مردم برساند. (بلّغ ما انزل الیک من ربّک) به گفته راغب در مفرداتاش در ذیل کلمه بلّغ جمله بلّغ تأکید بیشتری را میرساند[9] سپس برای تأکید بیشتری به او خطاب میدهد که از این کار خودداری کنی (که هرگز خودداری نمیکرد) رسالت خدا را نکردهای! (و ان لم تفعل فما بلّغت رسالته) سپس به پیامبر (ص) که گویا از واقعه خاصی اضطراب و نگرانی داشته، دلداری و تأمین میدهد و به او میگوید: «از مردم در اوامر این رسالت وحشتی نداشته باش، زیرا خداوند تو را از خطرات آنها نگه خواهد داشت» «و الله یعصمک من النّاس» و در پایان آیه به عنوان یک تهدید و مجازات به آنهایی که این رسالت را انکار کنند، و در برابر آن از روی حاجت کفر ورزند میگوید: «خداوند کافران لجوج را هدایت نمیکند» (ان الله لا یهدی القوم الکافرین) جمله بندیهای آیه و لحن خاصّ و تاکیدهای پی در پی آن و همچنین شروع شدن با خطاب یا ایّها الرسول که آنها در دو مورد قرآن مجید آمده است و تهدید پیامبر (ص) به عدم تبلیغ رسالت در صورت کوتاهی کردن که منحصراً در این آیه از قرآن آمده است، نشان میدهد که سخن از حادثه مهمی در میان بوده است که عدم تبلیغ آن برابر بوده است با عدم تبلیغ رسالت. به علاوه این موضوع مخالفان سرسختی داشته که پیامبر (ص) از مخالفت آنها که ممکن بوده است مشکلاتی برای اسلام و مسلمین داشته باشد. نگران بوده و به همین جهت خداوند به او تأمین میدهد، اکنون این سوال پیش میآید که با توجه به تاریخ نزول سوره که مسلماً در اواخر عمر پیامبر (ص) نازل شده است، چه مطلبی مهم بوده که خداوند پیامبر (ص) را با این مأمور به ابلاغ آن میکند. آیا مسائل مربوط به شرک و توحید و بت شکنی بوده از سالها قبل برای پیامبر (ص) و مسلمانان حل شده بود؟ آیا مربوط به احکام و قوانین اسلامی بوده با اینکه مهمترین از آنها تا آن زمان بیان شده بود؟ و آیا مربوط به مبارزه بوده با اهل کتاب و یهود و نصاری یا اینکه میدانیم مساله اهل کتاب بعد از ماجرای «بنی النضیر» و «بنی قریظه» و «بنی قینقاع» و (خیبر و فدک)خطری برای مسلمانان محسوب نمیشد. و آیا مربوط به منافقان بوده در حالی که میدانیم پس از فتح مکه و سیطره و نفوذ اسلام در سراسر جزیره عربستان منافقان از صحنۀ اجتماع طرد شدند، و نیروهای آنها در هم شکسته شد و هرچه داشتند در باطن بود. راستی به مسئله مهمی در این آخرین ماههای عمر پیامبر (ص) برای شخص و جان خود نبوده بلکه برای کارشکنیهاو مخالفتهای احتمالی منافقان بوده که نتیجۀ آن برای مسلمانان خطرات یا زیانهای به بار میآورد. آیا مسئلهای جز تعیین و جانشین برای پیامبر (ص) و سرنوشت آیندۀ اسلام و مسلمین میتواند واجد این صفات بوده باشد.[10] وی در شأن نزول که آیه شریفه تبلیغ چنین فرمودهاند: گرچه متأسفانه پیشداوریها و تعصبهای مذهبی مانع از آن شده است که حقائق مربوط به این آیه بدون پرده پوشی در اختیار همۀ مسلمین قرار گیرد، ولی مدعین حال در کتابهای مختلفی که دانشمندان اهل تسنن، اعم از تفسیر و حدیث و تاریخ نوشتهاند. روایات متعددی دیده میشود که با صراحت میگوید آیه فوق دربارۀ حضرت علی (ع) نازل شده است. این روایات را جمع زیادی از اصحاب از جمله «زیدبن ارقم» و «ابوسعید خدری» و «ابن عباس» و «جابربن عبدالله انصاری» و «ابرهریره» و «برادبن عازب» و «حذیفه» و «عامرین لیلی بن خمره» و «ابن مسعود» نقل کردهاند و گفتهاند که آیه فوق دربارۀ حضرت علی (ع) و داستان روز غدیر نازل گردیده است. بعضی از احادیث فوق مانند حدیث زیدابن ارقم به یک طریق و بعضی از احادیث مانند حدیث ابوسعید خدری به یازده طریق. و بعضی از احادیث مانند حدیث ابن عباس به نیز یازده طریق. و بعضی دیگر مانند حدیث براءبن عازب، سه طریق نقل شده است. دانشمندانی که این احادیث در کتاب خود تصریح کردهاند، عدّه کثیری هستند که به عنوان نمونه از برخی از آنها نام میبریم: حافظ ابونعیم اصفهانی در کتاب ما نزل من القرآن فی علی (بنقل از خصائص ص 29) و ابو سعید سجستانی در کتاب الولایه (بنقل از کتاب طرائف). و ابوالحسن واحدی نیشابوری در اسباب نزول صفحه 150 و ابن عساکر شافعی (بنا بنقل درالمنثور ج2 ص 636) و ابو اسحاق حموینی در فرائد السبطین. و ابن صباغ مالکی در فصول المهمه صفحه 27 و جلال الدین سیوطی درالمنثور جلد 2 صفحه 298 و قاضی شوکانی در فتح الغدیر جلد 3 صفحه 57 و شهاب الدین آلوسی شافعی در روح المعانی جلد6 صفحه 172 و شیخ سلیمان قندوزی حنفی در ینابیع الموده صفحه 120 و بدرالدّین حنفی در عمده القاری فی شرح الصحیح البخاری جلد8 صفحه 584 و شیخ محمد عبدو در تفسیر المنّار جلد 6 صفحه 463 و حافظ ابن مردویه (م 416) بنا به نقل سیوطی درالمنثور) و جمع کثیری دیگر این شأن نزول را برای آیه مذکور نقل کردهاند وی بعد از بیان این مطالب به یک نکته اشاره میکند و میفرمایند: اشتباه نشود منظور این نیست که دانشمندان و مفسران (مذکور اهل سنّت) نزول این آیه را دربارۀ حضرت علی علیه السلام پذیرفتهاند، بلکه منظور این است که روایات مربوط به آیه را دربارۀ حضرت علی (ع) در کتب خود نقل کردهاند، اگرچه پس از نقل این روایات معروف آنها به خاطر ترس از شرائط خاص محیط خود، و یا به خاطر دشواریهای نادرستی که جلو قضاوت صحیح را در اینگونه مباحث میگیرد، از پذیرفتن آن خودداری کرده اند، بلکه گاهی هم کوشیدهاند تا آنجا که ممکن است آنرا کم رنگ کنند و کم اهمیّت جلوه دهند. مثلاً فخر رازی که تعصّب او در مسائل خاص مذهبی معروف و مشهور است برای کم اهمیّت دادن این شأن نزول آن را در دهمین احتمال آیه قرار داده است و نه احتمالات دیگر که غالباً بسیار سست و واهی و بیارزش است قبل از آن آورده است.[11] آراءمفسرین اهل سنْت درباره آیه ابلاغ شهاب الدین السید محمد آلوسی: در تفسیر این آیه و ضمن روایات وارده در این زمینه مینویسد: از ابن عباس از بریده الأسلمی: اوگفت من غزوهای در یمن همراه با علی (ع) بودم. رسیدیم به خدمت رسول الله (ص)داشتند از علی (ع) میگفتند:و دیدم رنگ صورت رسول الله (ص) تغییر کرده است . سپس فرمود پیامبر (ص): آیا من به جانهای شما اولی نیستم؟ گفتم بلی یا رسول الله یعنی بله اری رسول خدا شما از جانهای مااولی ترهستید بعد فرمود: من کنت مولاه فهذا علی مولاه هرکس که من مولای اویم این علی هم مولای اوست. و همین طور از فضائی که با اسناد قوی رجالش که همه انها ثقه هستند و اسناد دیگر که خبر واحد به شمار میآید این روایت را آورده است، و الذهبی میگوید: از صحیح از سیدبن ارقم نقل می کندکه وقتی رسول الله از حجه الوداع باز میگشتند و در غدیرخم رسیدند و در انجا فرود آمدند و امر کرد که مردم جمع شوندسپس فرمود: من به طرف خدا دعوت شدهام و من هم این دعوت را اجابت خواهم کردو بزودی شما را ترک خواهم کرد (از بین شما خواهم رفت) ومن در بین شما دو چیز گرانبهامی گذارم یکی قرآن و دیگری اهل بیت (ع) خودم، پس ببینید چگونه به این دو برخورد خواهید کرد این دو از یک دیگرجدا نمیشوند و حتی اینکه در روز قیامت بر حوض کوثر بر من وارد شوند، خداوند مولای من و من ولی تمام مؤمنان هستم. پس دست حضرت علی (ع) را گرفت سپس فرمود: من کنت مولاه فهذا ولیه اللهم و ال من والاه و عاد من عاده- هر کس که من مولای او هستم پس این (علی علیه السلام)هم مولای اوست و سپس دعا فرمود: خداوند هرکس علی را دوست داشت تو او را دوست بدار هرکس به دشمنی بااو برخاست او را دشمن بدار« فما کان فی الدوحات أحد إلا رآه بعینه و سمعه بأذنبه».[12] و او روایات دیگری هم در همین زمینه به طرق مختلف آورده است. و ما برای اختصار مطالب مذکور را از ان عاجز می باشیم عبدحسین بن الکمال جلال الدین سیوطی (911 هـ) که یکی از مفسر بزرگ اهل سنت به شمار میرود و تفسیر آیه تبلیغ مینویسد: «... عن ابی سعید خدری قال: انزلت هذه الآیه (یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) علی رسول الله (ص) یوم غدیرخم...». ابن مردویه عن ابی سعود قال: کنا نقرأ علی عهد رسول الله (ص) (یا ایّها الرسول بلّغ ما انزل الیک من ربّک) انّ علیاً مولی مؤمنین (و إن لم تفعل فما بلّغت رسالته و لله یعصمک من النّاس) سیوطی در ضمن تفسیر آیه روایات را در شأن آیه شریفه مذکور نقل میکند و مینویسد: از ابی سعید خدری گفت: این آیه شریفه که« یا ایها رسول بلّغ ما انزل الیک من ربک..» ای پیامبر آنچه را از طرف پروردگارت بر تو نازل شده است کاملاً (به مردم) برسان و اگر (این کار را) نکنی رسالت او را انجام ندادهای ، خداوند تو را از (خطرات احتمالی) مردم نگاه میدارد. و خداوند جمعیت کافران (لجوج) را هدایت نمیکند سوره مائده(آیه 67). بر رسول خدا نازل شد در روز 18 ذالحجه در مقام غدیر خم در شأن حضرت علی (ع). همین طور مینویسد: روایت ابن مردویه که از ابن سعود نقل کرده: ابن سعود گفت: ما در زمان رسول الله (ص) میخواندیم این آیه را به این سبک « ای پیامبر آنچه را از طرف پروردگارت بر تو نازل شده است» (اینکه علی (ع) مولای مومنان است.) و اگر نکنی رسالت او را انجام نداده ای یعنی طبق این روایت زمان مکان و موردی که درباره آن اشاره دارد. اعلان ولایت علی (ع) روز 18 ذالحجه در غدیر خم را اثبات میکند. محمدرازی فخر الدین (544- 604 هـ) یکی از دیگر مفسران بزرگ اهل سنت فخر رازی به تفسیر این آیه و در ذیل آن روایات نقل شده میآورد- واضحاً روشن که در این ایه دارد را میشمارد و یکی از احتمال را به اینگونه مینویسد: نزلت الایه فی فضل علی ابن ابی طالب علیه السلام، ... نزلت هذه الایه أخذ بیده و قال «من کنت مولاه فعلی مولاه اللهم و ال من والاه و عاد من عاده» فلقیه عمر رضی الله عنه فقال: هنیئا لک یا یا ابن أبی طالب أصبحت مولای و مولا کل مؤمن و مؤمنه، و هو قول ابن عباس و لبراء بن عاذب و محمد بن علی.[13] این ایه در شأن علی ابن ابی طالب علیه السلام نازل شده است و وقتی این ایت بر پیامبر گرامی رسیدم وارد شد او دست علی(ع)را گرفت و به بالا برد و گفت- هر کس من مولای او هستم این علی (ع) مولای اوست – بعد دعا فرمود:گفت- خداوند هر کس علی رادوست بداردتو هم او را دوست بدار و هر که با او دشمنی کندبااو دشمنی کن –پس عمربه طرف حضرت علی شتافت وبه حضرت علی علیه السلام گفت ای فرزند ابوطالب مبارک باد که مولای همه مومن و مومنات گشتهای محمد رشید رضا (1865-1935م) یکی از مفسران بزرگ قرن بیستم اهل سنت در ذیل تفسیر آیه مینویسد: در وقت نزول آیه در مفسران گذشته اختلاف وجود دارد و در هنگام نزول آیه روایت شده از ابن مردویه از ابن عباس، و ابوالشیخ از حسن، و عبدابن حمید و ابن جریر و ابن أبی حاتم و أبوشیخ از مجاهد آنچه روایت شده دلالت بر این است که آیه در اوایل اسلام نازل شده و روایاتی که از طریق ابن ابی حاتم و ابن مردویه و ابن عساکر از ابی سعید الخدری شده است گفتهاند که آیه شریفه در غدیرخم و در شأن ولایت حضرت علی (ع) وارد شده است. «از ابن عباس نقل کرده که گفت: خداوند به پیامبر (ص) امر کرده بود که ولایت حضرت علی (ع) را به مردم اعلام نماید ولی پیامبر خوف از اینکه چون علی (ع) پسرعموی من است نکند مردم شک کنند که مبادا من بخاطر خودم این کار را انجام داده ام لذا درابلاغ این امر تأخیر می فرمود:که ایه ابلاغ نازل شدوپیامبر هم درغدیرخم این امر را علنی اعلان کرد فرمودک هر کس من مولای او هستم این علی هم مولای اوست سپس دعا فرمود خداوند هر کس علی را دوست بدارد تو هم اورا دوست بدار هر کس او را دشمن بدارد او را دشمن بدار. فهرست منابع و مآخذ 1- القرآن الکریم، ترجمه آیه الله مکارم شیرازی 2- البصروی الدّمشقی، اسماعیل عمربن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دارحادر، 1999م، 1420هـ 3- الطبری، ابن حریر، جامع البیان عن تأویل القرآ، بیروت دارالکفر، 2001م، 1421هـ 4- آلوسی، سید محمود شهاب الدین، روح المعانی فی التفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی بیروت، دار احیاء التراث العربیه، 1420 5- ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، قم، دار احیاء الکتب العربیه، بیتا 6- ابن کثیر، اسماعیل ابن عمر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دارالصادر، 1420هـ 7- ابن منظور لسان العرب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1405هـ 8- اصفهانی راغب، مفردات الفاظ فی غریب القرآن، تهران، انتشارات مرتضوی 1376 9- امینی، عبدالحسین، احمد، الغدیر، بیروت، دارالکتب العربی 1379 10- انصاری جمال الدین، ابن هشام، معنی البیب، قم، مکتبه السید الشهداء 1406 هـ 11- الآلوسی، علی، روش تفسیر علامه طباطبایی دار المیزان، تهران، شر بین الملل 1381 هـ ش 10- النسائی، حسن بن شعیب، خصایص امیرالمؤمنین، مکتبه النبویه الحدیثه بیتا 11- بلاغی محمد جواد الاء الرحمن، قم مکتبه الوجدانی بیتا 12- ترمذی، محمدبن عیسی، سنن ترمذی، تحقیق: عبدالوهاب عبداللطیف، دارالفکر بیروت، 1403هـ 13- تفقازانی، مسعودبن عمر، مختصر المعانی، قم انتشارات مصطفوی، بیتا 14- ثعالبی، عبدرحمن الجواهر الاحسان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالکتب العملیه 1996م 15- جمعی از نویسندگان، ولایت در قرآن کریم، قم، انتشارات شهریار، 1376 ش 16- جوادی آملی، عبدالله، ولایت علوی، قم، مرکز نشر اسراء 1379ش 17- جوزی، عبدرحمن حسن علی، زادالمسیر، بیروت، دارالکتب العربی، 1422ق 18- حر عاملی، وسایل شیعه، قم، موسسه آل البیت، لأحیاء التراث 1414هـ 19- حسکانی، حاکم، شواهد التنزیل، تهران، مجمع احیاء معارف اسلامی 1411هـ 20- خرمشاهی، بهاءالدین، دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، تهران، انتشارات دوستان 1377 21- خوارزمی، موفق بن احمد، المناقب، تهران مکتب النبویه الحدیث، بیتا 22- دانشنامه امام علی (ع) زیر نظر علی اکبر ارشاد، تهران، مرکز نشر آثار پژوهشگاه فرهنگ و اندیشه اسلامی، 1308 هـ ش 23- دهخدا، علی اکبر، لغت نامه دهخدا، تهران، دانشگاه تهران، 1337ش 24- ذهبی، محمد حسین، التفسیر و المفسرون، قاهره، دارالکتب الحدیثه، 1396ق زرکشی، محمدبن احمد، البرهان فی علوم القرآن، قاهره، مکتبه دارالتراث، بیتا[2] - احزاب 4 [3] - سوره شماره 5 آیه 68 [4] - مائده- 67 [5] - شواهد النتزیل حاکم حسکانی ص 189 و 190 ح 245 [6] - تفسیر مجمع البیان، ج3، ص 295-296 [7] - مجمع البیان، ج3، ص 233 [8] - تفسیر عیاشی ج1، ص 331 ح 152 همان [9] - تفسیر نمونه ج5 ص 2 [10] - تفسیر نمونه ج5 ص 2-3-4 [11] - تفسیر نمونه ، ج5، ص 6 [12] - تفسیر روح المعانی ج6، ص 194 [13] - تفسیر فخر رازی (التفسیر الکبیر) ج6 ص 53 |